Good Girl nay Thikana Badal Liya

65
جب سے میں نے ہوش سنبھالا تو انہیں ایسا ہی پایا۔ وہ صبح سویرے ہمیں جگاتیں لیکن خود تو وہ بہت پہلے سے ہی جاگ رہی ہوتیں، تاکہ ہم سب کو ناشتا دے کر بروقت اسکول بھیج سکیں۔
ناشتا کرانے کے بعد وہ ہمیں تیار کرتیں اور تیار بھی بس واجبی سا نہیں، بہت اہتمام سے۔ مجھے یاد ہے وہ ہمیں پیار سے رخصت کرتیں اور جب تک ہم ان کی آنکھوں سے اوجھل نہ ہوجاتے وہ دروازے پر کھڑی اپنے خوب صورت ہاتھ ہلاتی رہتیں۔ شاید میں غلط کہہ گئی ہوں، ہم تو ان کی آنکھ سے ہاں بینا آنکھ سے کبھی اوجھل ہی نہیں ہوئے، اور ہاتھ تو ان کے کاموں کی وجہ سے تھمے ہی نہیں، تھکے ضرور ہوں گے، لیکن کبھی انہوں نے اس کا احساس نہیں ہونے دیا۔ ہاں ان کے نازک سے پھول کی پنکھڑی سے لب مسلسل کپکپاتے رہتے، نہ جانے کیا پڑھ کر ہم پر پھُوکتی رہتیں وہ۔ پھر ہم تو اسکول چلے جاتے لیکن وہ کاموں میں جُت جاتیں۔
آدھی چھٹی میں وہ ہمارا لنچ لے کر اسکول پہنچ جاتیں۔ اسکول بھر میں وہ اپنی ممتا میں مشہور تھیں۔ ہم انہیں منع بھی کرتے کہ مت تکلیف اٹھایا کریں جواب میں بس وہ مسکراتیں رہتیں۔ میں نے فرشتوں کو مسکراتے نہیں دیکھا، لیکن میں اتنا ضرور جانتی ہوں کہ فرشتے بھی ان کی مسکراہٹ پر رشک کرتے ہوں گے، وہ تھیں ہی ایسی۔
اتنی خوب صورت کہ بس، آواز ایسی کہ سماعتوں میں رس گھول دے۔ ایسا میں ہی نہیں کہتی اب تک لوگ کہتے ہیں۔ اپنی مدھر آواز میں جب وہ حمد بیان کرتیں تو سماں باندھ دیتیں اور نعت پڑھتیں تو سب وجد میں آجاتے، ہاں وہ خود بھی۔ لوگ انہیں میلاد کی محفلوں میں بہ اصرار بلاتے اور وہ بہت اہتمام، شوق اور عقیدت سے جاتیں۔ مجھے بہت اچھی طرح سے یاد ہے کہ میں ان کے ساتھ ان محافل میں کئی بار گئی ہوں، لوگ ان سے اتنی عقیدت رکھتے کہ ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیتے اور اتنی محبت کرتے کہ بس، وہ اس کے لائق تھیں، رب نے انہیں اس قابل بنایا تھا۔
محبت، اخلاص، ایثار، قربانی، صبر و رضا کو ان میں مجسّم دیکھا جاسکتا تھا، ہاں جیتا جاگتا، سانس لیتا ہوا، چلتا پھرتا۔ معصوم بچوں سے زیادہ معصوم تھیں وہ، اس لیے کہ بچے تو شرارت بھی کرتے ہیں ناں، وہ تو ہمیشہ شانت رہتیں۔ غصہ، نہیں نہیں میں نے انہیں کبھی غصے میں نہیں دیکھا، کبھی نہیں۔ ہاں افسردہ دیکھا ہے انہیں۔ کسی بات پر افسردہ اور خاموش۔ جب وہ خاموش ہوجاتیں تو لگتا تھا کائنات کی ہر شے ساکت و افسردہ ہوگئی ہے۔ لیکن ایسا بس کچھ دیر کے لیے ہوتا تھا۔ پھر ان کی عشق نبیؐ میں گندھی ہوئی مدھر آواز سنائی دیتی:
پیغام صبا لائی ہے گل زار نبی سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی سے
ایسا ہی لگتا تھا کہ ان کا بلاوا آگیا ہے۔ وہ ظاہر میں تو سامنے نظر آرہی ہوتیں، حقیقت میں تو وہ دربار نبیؐ میں ہی ہوتی تھیں۔ اپنے تو یہ سمجھتے ہی تھے کہ وہ سب سے زیادہ ان سے محبت کرتی ہیں، لیکن غیر بھی یہی سمجھتے تھے۔ شاید نہیں، یقیناً میں غلط کہہ گئی ہوں، ان کی لیے کوئی بھی غیر نہیں تھا، سب اپنے تھے۔ ہر ایک بس یہی سمجھتا تھا کہ وہ سب سے زیادہ اس سے وابستہ ہیں۔ وہ سراپا محبت تھیں، ہر ایک پر سلامتی بھیجنا ان کا طریق تھا، راہ چلتے لوگوں پر بھی۔ وہ ان لوگوں پر بھی سلامتی بھیجتیں جنہیں لوگ کسی قابل ہی نہیں سمجھتے۔ وہ نبی اکرمؐ کے فرمان ’’سب پر سلامتی بھیجو ہاں بچوں پر بھی‘‘ پر کامل عمل پیرا تھیں۔ گھر کے لوگ ان سے کہتے یہ آپ کیا کرتی رہتی ہیں، وہ جواب میں مسکراتیں بس۔ سخاوت ان کی گھٹی میں تھی، جیسے ہی کچھ بھی ان کے سامنے آیا بس اگلے لمحے ہی تقسیم کردیا، ہاں نقدی بھی۔ وہ اپنے پاس کچھ بچا کے رکھنے کی عادت بد میں مبتلا نہیں تھیں۔ کوئی بھی ہاں کوئی بھی تو ان کے پاس سے کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹا۔ کچھ نہ ہوا تو اسے دعا دی، حوصلہ دیا، پیار دیا اور اسے پھر سے تازہ دم کردیا۔ ایسی تھیں وہ۔ ان کی باتیں تو ختم نہیں ہوں گی، ہاں کبھی نہیں۔
ہاں اب مجھے اپنی بات کرنی ہے۔ میں جس کا نام انہوں نے غوثیہ رکھا تھا، اور پھر غوثیہ نہ جانے کون کون سی منزلیں طے کرتی ہوئی پہلے انیلا اور پھر سعدیہ بن گئی تھی۔ بس وہی تھیں جو مجھے کبھی غوثیہ، انیلا اور کبھی سعدیہ کہتی تھیں، پیار میں بسا ہوا ان کا دہن، شہد جیسا، معطر اور پاکیزہ۔ کیا بات تھی ان کی۔ عجیب بے نیازی تھی ان میں۔ سادگی کا پیکر، ریا، بناوٹ اور تصنع سے دور، کوسوں دور۔ سنا ہے اور حق ہے یہ بات اور سچ کہ رب تعالیٰ جو لامکانی ہے، لامحدور ہے، اپنی کارسازی میں یکتا و تنہا۔ جو کہیں نہیں سما سکتا، بس وہ دل میں سما سکتا ہے۔
کیا ہر دل میں۔۔۔۔؟
نہیں ہر دل میں نہیں۔ اس دل میں جو کدورت سے پاک ہو، بغض، کینہ، حسد نے جسے چھوا بھی نہ ہو، بدگمانی سے جو دور ہو، جو آلائش دنیا سے آلودہ نہ ہو، کھرا، خالص اور بے ریا ہو۔ ایسا دل جو دوسروں کے لیے دھڑکے اس کی دھک دھک میں رب کی مخلوق کا درد بسا ہو اور وہ جس کے ساز پر حمد و ثنائے رب جلیل ہو۔ ہاں ایسا دل جو کسی کی بھی تکلیف میں، پریشانی میں، دکھ اور درد میں مبتلا ہوجائے اور ایسا مبتلا کہ جب تک اسے وہ راحت میں نہ دیکھ لے جو تکلیف اور دکھ میں مبتلا تھا، سکون نہ پائے، ہاں ایسا دل مسکن خدا ہوتا ہے۔
وہ جو رب نے کہا ہے ناں کہ تم مومن بن ہی نہیں سکتے جب تک جو اپنے لیے پسند کرتے ہو وہی اپنے دوسرے بھائی کے لیے نہ پسند کرلو۔ ایک اور کلیہ بھی ہے اور وہ یہ کہ مال و زر کی طلب اور اسے جمع کرنے کا شوق، کیا جان لیوا شوق ہے یہ، پناہ مانگنی چاہیے اس سے۔ مخبر صادقؐ نے فرمایا انسان بوڑھا ہوتا جاتا ہے لیکن اس کے اندر دو خواہشات جوان ہوتی رہتی ہیں، ایک درازی عمر کی خواہش اور دوسری مال و منال جمع کرنے کی ہوس۔ لیکن سب اس کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ کسی بھی طرح کی ہوس میں مبتلا نہیں تھیں۔ میں نے انہیں دیکھا ایسا، ابھی تک بس انہیں۔ خالق نے انہیں اپنا قرب عطا کیا تھا ایسا قرب کہ اسے بیان کرنے کے لیے لفظ نہیں ہیں، ہاں آپ محسوس کرسکتے ہیں۔
اور میں نے محسوس کیا اور انہیں دیکھا بھی، اک بار نہیں، ہر بار ہر وقت، ہر گھڑی اور ہر ساعت۔ ایسی سکینت تھی ان پر۔ وہ جو فرمایا گیا ہے کہ مومن کی بصیرت سے ڈرو کہ وہ خدا کے نور سے دیکھتا ہے۔ اور وہ جو کہا گیا ہے کہ دل کی سماعت سے سنو، قلب کی آنکھ سے دیکھو۔ یہ شرف ایسے ہی نہیں ملتا، یہ تو بس انہیں ملتا ہے جنہیں توفیق ملے، قرب ملے، اذن ملے۔ ہاں یہ کوئی عام سی دولت نہیں کہ ہر کس و ناکس کو مل جائے، راہ میں پڑی ہوئی نہیں ہوتی یہ۔ کوئی بھی ان سے ملتا تو اسے مسکرا کر دیکھتیں اور پھر پیار سے اسے حیرت میں مبتلا کردیتیں۔ تمہارے ساتھ یہ حادثہ ہوا تھا اور پھر ایسا ہوا تمہارے ساتھ، لیکن تم تو بہت بہادر ہو، دیکھنا اﷲ سب صحیح کردے گا، بس حوصلے سے رہنا۔
اور سننے والا دانتوں میں انگلی دبائے حیرت سے انہیں دیکھتا اور پھر پوچھتا یہ ساری باتیں جو آپ بتا رہی ہیں یہ تو میں نے اپنے آپ سے بھی چھپا کر رکھی ہوئی تھیں، آپ کو کیسے معلوم ہوگئیں۔۔۔۔؟ اور پھر وہ ان کی مسکراہٹ دیکھتا اور خاموشی۔ ایسی وارداتیں ایک نہیں ان گنت ہیں اور وہ لوگ اب بھی جیتے ہیں جن کے ساتھ ایسا ہوا۔ عجیب سے باتیں ہے ناں یہ۔ ہاں بہت عجیب سی لیکن ذرا سا غور کریں تو اتنی عجیب بھی نہیں ہیں اور وہ اس لیے کہ وہ اپنے رب کے نور سے دیکھتی تھیں، مجھے یہ کہنے میں ذرا سا بھی تعامل نہیں ہے کہ وہ رب کی چہیتی تھیں، بہت لاڈلی۔ ان جیسا تو میں نے اب تک کوئی نہیں دیکھا۔
ایک مرتبہ میں اور وہ خریداری کے لیے بازار گئے۔ واپسی میں ہم نے رکشہ لیا اور جب ہم گھر کے دروازے پر اترے تو میں نے رکشے والے کو پیسے دیے، دوسرے ہی لمحے وہ رکشے والے کو ایک تھیلا دینے لگیں تو رکشے والے نے حیرت سے کہا، ماں جی یہ میرا نہیں ہے، مسکرائیں اور کہنے لگیں، لو یہ میں نے تمہارے لیے ہی لیا تھا اپنے بچوں کو کھلانا اور فکر نہیں کیا کرو، بس محنت کرو کہ رب نے محنت کا حکم دیا ہے۔
میں ہاں مجھے یہ اعزاز اور سعادت حاصل ہے کہ میں ان کی بیٹی، دوست، رازدار تھی۔ ہم آپس میں ہر بات کرتے۔ میں انہیں ’’گُڈگرل‘‘ کہتی تھی، وہ تھیں ہی گُڈگرل۔ میں ان کی کیا خدمت کرتی، وہ کرنے دیتی تب ناں۔ میری شادی ہوگئی تو ان کا پیار اور سوا ہوگیا۔ ہم روزانہ رات گئے ایک گھنٹے سیل فون پر باتیں کرتے۔ وہ مجھے نعتیں سناتیں اور میں انہیں گیت، اور نہ جانے کیا کیا باتیں۔ میں اکثر انہیں چھیڑتی، میڈم کیا حال ہے بس کریں اب، جب وہ کال اٹینڈ کرنے میں تاخیر کرتیں تو میں ان سے کہتی آپ بہت گندی اماں ہیں، جائیں میں آپ سے نہیں بولتا اور پھر ان کی آواز آتی۔ تم کب آؤگی سعدیہ۔۔۔؟
میں پوچھتی کیوں کیا آپ میرا انتظار کرتی ہیں تو ہنس کر کہتیں ہاں تمہاری کال اور تمہارا انتظار۔ پھر وہ کہتیں اب تم سو جاؤ میں تمہیں لوری سناتی ہوں اور پھر وہ لوری سناتیں اور آخر میں ان کا پیار بھرا ہوائی بوسہ ملتا اور میں نیند کی وادی میں اتر جاتی، پرسکون اور میٹھی نیند کی وادی میں۔
میں ہر ویک اینڈ پر ان کے پاس ہوتی اور پھر تو ہم دونوں کی عید ہوجاتی، ہم ساتھ سوتے، بچوں کی طرح اٹکھیلیاں کرتے، کیا مزے مزے کی باتیں، رس بھری اور جاں فزا۔ جب میری واپسی کا وقت ہوتا تو کہتیں تم جا رہی ہو۔۔۔؟
اب کب آؤ گی۔۔۔؟
تب میں کہتی میں تو آپ کے ساتھ ہی ہوں، اور میں تمہارے ساتھ ہوتی ہوں سعدیہ۔ ہر بار میں نے یہی سنا اور ایسا ہی ہے، ہاں ایسا ہی ہے، ہاں اب تک۔
دنیا سے رخصتی سے تین ماہ پہلے سے انہوں نے مجھے کہنا شروع کیا سعدیہ مجھے جانا ہے بس اب۔ میں پوچھتی کہاں جانا ہے موٹی۔۔۔؟ وہ مسکراتیں اور کہتیں بس وہاں جانا ہے جو اصل ٹھکانا ہے انسان کا۔ اور میں انہیں کہتی۔ مشکل ہے ماں جی ابھی تو آپ جوان ہیں۔ جب انہوں ’’جانا ہے مجھے‘‘ کی تکرار کرنا شروع کی تو میں نے چڑ کر کہا، کیا مجھے چھوڑ کے جائیں گی گندی اماں۔
ہاں تب میں نے سنا، ’’ نہیں میں تمہیں کبھی تنہا چھوڑ کر نہیں جاؤں گی لیکن مجھے اب جانا ہے، آگیا وہ وقت کہ اب جانا ہوگا مجھے‘‘۔
میں نے سمجھا اس عمر میں ایسا ہی سوچتے ہیں سب۔ اور بات آئی گئی ہوگئی۔ لیکن پھر اس جملے کی تکرار میں شدت آتی گئی، لیکن وہ اسی طرح ہنستیں مسکراتیں اور اپنے امور انجام دیتیں۔ اچانک ہی انہیں بخار ہوگیا میں نے کہا اماں معمولی سا بخار ہی تو ہے اﷲ جی صحیح کردے گا ناں ۔ وہ حسب معمول مسکرائیں اور بس۔ لیکن ۔۔۔۔ وہ صحیح کہتی تھیں انہوں نے کبھی غلط کہا ہی نہیں کہا تھا جو وہ اب کہتیں۔۔۔۔۔ بس دو دن وہ بیمار رہیں اور اپنا کہا سچ ثابت کرگئیں۔
وہ چلی گئیں وہاں جہاں ہم سب کو جانا ہی ہے۔ میں اپنے حواس کھو چکی تھی، مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے، وہ مجھے ایسے کیسے چھوڑ کے جاسکتی ہیں، وہ تو اپنے وعدے کی پاس داری کرنے والی تھیں، انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ میرے سنگ ہی رہیں گی، پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے، میں ان سے لڑتی رہی اور پھر ان کے اصل گھر جا پہنچی۔ کیا شان دار جگہ اپنا گھر بسایا میری ماں جی نے، میری ’’ گڈ گرل‘‘ نے۔ مسجد کے بیرونی گیٹ کے سامنے جہاں سے پنج وقتہ اذان کی آواز آتی اور بتاتی ہے کہ بس فلاح یہی ہے، جہاں سے حمد و نعت کی خوش بو آتی ہے، جہاں وہ ایک گھنے ہرے بھرے نیم کے پیڑ کے سائے میں آسودہ ہیں، ہاں آسودہ، جہاں کوئل کوکتی اور چڑیاں چہچہاتی ہیں، جہاں سکون ہے، اطمینان ہے، امن اور شانتی ہے، وہ بستی جہاں کوئی کسی کی برائی نہیں کرتا، کوئی کسی کو آزار نہیں پہنچاتا، جہاں سب اس کار جہاں کی نفسانفسی سے امان میں ہیں۔ مجھے ایسا لگا، میں پھر غلط کہہ گئی ہوں مجھے یقین ہوا کہ جب میں وہاں پہنچی تو ماں جی میری منتظر تھیں، ویسی ہی مسکراتی ہوئی، ہنستی ہوئی، کھل کھلاتی اور مطمٔن۔ ہاں ایسا ہی تھا۔ اب میں کہہ سکتی ہوں وہ مجھے چھوڑ کر جا ہی نہیں سکتیں ہاں وہ میرے ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گی۔ میں جانتی ہوں وہ وعدے کی پاس دار تھیں اور رہیں گی۔
چلیں میں آپ کو راز کی بات بتاؤں وہ اب بھی مجھے نعتیں حمد اور لوری سناتی ہیں، ہنستی مسکراتی ہیں، ہاں بس ’’گڈگرل‘‘ نے اپنا ٹھکانا بدل لیا اور اچھا ہی کیا، کیا بدلا کچھ بھی تو نہیں، بس ان کا پتا بدل گیا ہے۔
ارے آپ اتنا حیران کیوں ہیں!
جوہرِ انساں عدم سے آشنا ہوتا نہیں
آنکھ سے غائب تو ہوتا ہے فنا ہوتا نہیں
سعدیہ نعیم