Gunnah Ka Garha | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2944
ایک روز میری بچپن کی سہیلی حرا نے اپنے شہر سے کال کی اور کہا۔ صائمہ! میرے بھائی فائز کو ایک محکمے میں ملازمت مل گئی ہے۔ اسے ٹریننگ کے لیے تمہارے شہر بھیجا جارہا ہے۔ کیا وہاں ٹھہرنے کا کوئی انتظام کرسکتی ہو؟
میں نے ابو سے بات کی۔ وہ بولے۔ بیٹی! ہمارا لڑکیوں والا گھر ہے۔ اپنے گھر میں کسی غیر نوجوان کو نہیں ٹھہرا سکتے، البتہ برابر میں زرینہ رہتی ہے۔ وہ اکیلی ہیں اور اچھی خاتون ہیں۔ میں ان سے بات کرتا ہوں۔ کچھ دن پہلے انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ انہیں ’’پے انگ گیسٹ‘‘ کی ضرورت ہے۔ ان کا پورا مکان خالی پڑا ہے۔ وہ خود ایک کمرے میں رہتی ہیں شاید بات بن جائے۔
زرینہ فرید ایک ادھیڑ عمر خاتون تھیں۔ کافی عرصے سے تنہا رہ رہی تھیں، مطلقہ تھیں، اولاد کوئی نہ تھی۔ صبح آفس چلی جاتیں اور دو تین بجے دوپہر تک لوٹ کر آجاتی تھیں۔ محلے میں دعا سلام سب سے تھی مگر کسی کو گھر میں نہیں بلاتی تھیں۔
ہمارا گھر چونکہ ان کی رہائش سے متصل تھا لہٰذا اکثر آفس جاتے ہوئے ان کا والد صاحب سے سامنا ہوتا تو دعا سلام کرلیتے تھے۔
والد نے زرینہ آنٹی سے بات کی۔ انہوں نے کہا۔ کیوں نہیں! آپ فائز صاحب کو میرے پاس بھیج دیں۔ اگر آپ کے مہمان مجھے مناسب لگے تو ’’پے انگ گیسٹ‘‘ کے طور پر ایک کمرہ انہیں دے دوں گی۔
میں نے فون پر حرا کو آگاہ کردیا اور پتا بھی لکھوا دیا۔ اگلے روز شام کو اس کے بھائی ہمارے گھر آگئے۔ والد میری سہیلی کے بھائی فائز کو لے کر آنٹی کے پاس گئے۔
انہوں نے والد صاحب اور فائز کو اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا اور چائے وغیرہ سے تواضع کی۔ والد نے فائز کا تعارف کرایا اور کہا کہ اس کے چال چلن کی میں ضمانت دیتا ہوں۔ اسے چھ ماہ کے لیے ایک کمرہ درکار ہے۔ زرینہ آنٹی نے دوچار باتیں فائز سے پوچھیں اور پھر دونوں کے درمیان والد صاحب کی موجودگی میں معاملات طے ہوگئے کہ ناشتہ اور رات کا کھانا وہ مہیا کریں گی اور رہائش کے لیے ایک کمرہ دیں گی جس کی صفائی ستھرائی بھی ان کے ذمے ہوگی۔ کرائے کے علاوہ ناشتے اور کھانے کے اخراجات البتہ علیحدہ ہوں گے۔ انہوں نے جو رقم بتائی، فائز نے فوراً تسلیم کرلی اور شام کو اپنا سامان لے کر ان کے گھر میں بطور ’’پے انگ گیسٹ‘‘ قیام پذیر ہوگیا۔
زرینہ آنٹی کی عمر چالیس کے لگ بھگ تھی۔ قدرے فربہ لیکن صورت شکل کی اچھی تھیں۔ بااخلاق اور شفیق خاتون تھیں۔ اپنے کام سے کام رکھتی تھیں۔ فائز کو ان کے یہاں کوئی مسئلہ درپیش نہ ہوا کیونکہ ٹریننگ سینٹر سے واپسی پر جب وہ تھکا ہارا آتا تو اسے دیکھنے کو ٹی وی اور کھانے کو گھر کا پکا صاف ستھرا کھانا مل جاتا تھا۔ زرینہ آنٹی کے یہاں مہمانوں کی آمد نہ ہونے کے برابر تھی۔ کبھی کبھار کوئی بھولا بھٹکا رشتے دار یا دوست عزیز آجاتا تھا ورنہ وہ دوپہر کے بعد گھر میں اکیلی ہوتیں۔ آفس سے واپس آکر تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد کھانا بناتیں۔ شام کو ایک ملازمہ دو گھنٹے کے لیے آتی تھی جو گھر کی صفائی اور برتن وغیرہ دھو کر چلی جاتی تھی۔
شام کو جب فائز لوٹتا، اس کے کمرے میں میز پر کھانا رکھا ہوا ملتا۔ کھانا کھا کر وہ برتن باورچی خانے میں رکھ دیتا۔ اپنے کمرے میں موجود ٹی وی کو آن کرتا۔ تھوڑی دیر ٹی وی دیکھنے کے بعد سو جاتا۔
اتوار کے دن وہ اپنے کپڑے خود دھو لیتا اور دوپہر تک آرام کرتا۔ اکثر والد چھٹی کے دن اسے کھانے پر بلا لیتے۔ تب شام تک وہ میرے بھائی کے ساتھ ہمارے گھر کی بیٹھک میں گپ شپ کرتا اور رات کو سونے کے لیے زرینہ آنٹی کے عنایت کردہ کمرے میں چلا جاتا۔
وقت یونہی رساں رساں سے گزرتا رہا۔ یہاں تک کہ پانچ ماہ گزر گئے۔ صبح سے بادل چھائے ہوئے تھے، شام کو بوندا باندی ہونے لگی اور پھر رات تک موسلادھار بارش میں بدل گئی۔ زرینہ آنٹی اپنے بیڈ روم میں تھیں اور فائز بھی سونے کی تیاری کررہا تھا۔ وہ اپنے بستر پر دراز ہوچکا تھا کہ اچانک اس کے کانوں میں کراہنے کی آواز سنائی دی۔ جب غور کیا تو پتا چلا کہ زرینہ آنٹی کراہ رہی ہیں۔ اپنی محسنہ کی آواز سن کر وہ اپنے کمرے سے باہر نکلا۔ پتا چلا کہ زرینہ آنٹی باتھ روم میں سلپ ہوگئی ہیں۔ فائز نے پکارا۔ زرینہ آنٹی! آپ کہاں
یں، خیریت تو ہے۔
میں یہاں باتھ روم کے فرش پر پڑی ہوں، اٹھ نہیں سکتی۔ پلیز میری مدد کرو۔ جھجھکتے ہوئے فائز باتھ روم کی طرف بڑھا۔ وہ فرش پر پڑی تھیں۔ فائز نے سہارا دے کر اٹھایا اور ان کے بستر تک لے آیا۔ وہ شدید تکلیف میں تھیں۔ کیا آپ کو اسپتال لے چلوں۔ اتنی بارش میں یہ ممکن نہیں ہے فائز! تم ایسا کرو کہ الماری سے مجھے درد دور کرنے والی دوا اٹھا دو۔ میری کمر اور ٹانگ میں چوٹ آئی ہے، شدید درد ہے، میں ہل بھی نہیں سکتی۔
فائز نے الماری سے دوا کی شیشی نکال کر ان کو دی اور بولا۔ آنٹی! آپ اپنی ٹانگ پر دوا کا مساج کرلیں۔ کچھ دیر میں درد کم ہوجائے گا۔ یہ کہہ کر وہ باہر نکل گیا۔ رات گیارہ بجے کے قریب ہمارے گیٹ پر لگی گھنٹی بجنے لگی۔
اس وقت اتنی بارش میں کون آیا ہے۔ والد نے تشویش بھرے لہجے میں کہا اور برساتی سر پر ڈال کر گیٹ پر گئے۔ سامنے فائز کھڑا تھا۔ اتنی برسات میں تم؟ کیا بات ہے؟ خیر تو ہے۔
خیریت نہیں ہے۔ خالہ جی کو بلانے آیا ہوں۔ زرینہ آنٹی غسل خانے میں گر گئی ہیں۔ ان کی کمر اور ٹانگ میں شدید چوٹ آئی ہے۔ وہ درد کی شدت سے کراہ رہی ہیں۔ میں ابھی تمہاری خالہ کو کہتا ہوں بلکہ تم چلو، میں خود انہیں لے کر آتا ہوں۔ والد نے اندر آکر امی جان کو جگایا اور ان سے سارا ماجرا بیان کیا۔
امی جان نے جلدی جلدی دوپٹہ لپیٹا اور سلیپر پائوں میں ڈالے۔ والد صاحب نے مجھے چھتری لانے کو کہا اور خود برساتی پہن لی۔ وہ امی جان کے ہمراہ گیٹ تک گئے تھے کہ فائز دوبارہ آگیا اور اس نے گیٹ پر ہی والد صاحب کو روک دیا۔
انکل! اب آپ لوگوں کی ضرورت نہیں ہے۔ آنٹی سو گئی ہیں، ان کی آنکھ لگ گئی ہے، جگانا ٹھیک نہیں ہے۔ آپ سو جایئے۔ اگر ضرورت ہوگی تو فون کرلیں گی۔ میں فون ان کے پاس رکھ آیا ہوں۔ فی الحال میرے سونے کا بندوبست آپ کو کرنا ہوگا۔ میں آپ کے گھر میں ہی آج رات سونا چاہتا ہوں۔ اگر لوٹ کر گیا تو کھٹکے سے ان کی آنکھ کھل جائے گی۔
والد صاحب کی سمجھ میں نہ آیا کہ فائز کیا کہہ رہا ہے تاہم انہوں نے اسے اندر بلا لیا اور میرے بھائی نے اپنے کپڑے اسے دے دیئے کیونکہ وہ کافی بھیگ چکا تھا۔ اس رات فائز میرے بھائی کے کمرے میں سو گیا۔ صبح وہ دفتر نہ جاسکا کیونکہ رات بارش میں بھیگ جانے کی وجہ سے اسے بخار ہوگیا تھا۔ البتہ امی جان زرینہ آنٹی کے گھر خیریت دریافت کرنے چلی گئیں۔ وہ بستر پر لیٹی تھیں۔ کہا کہ میں اب ٹھیک ہوں، آپ لوگ زحمت نہ کریں، البتہ فائز کا سامان لے جائیں کیونکہ میں گھر بند کرکے ہفتہ بھر کے لیے اپنی ایک عزیز کے گھر جارہی ہوں تاکہ پوری طرح آرام کرسکوں۔ یوں بھی فائز کا معاہدہ ختم ہونے والا ہے۔ اب اس کو مزید میرے گھر پر رہائش کی ضرورت نہیں رہے گی۔
والدہ نے آکر والد کو بتایا۔ وہ بھائی کے ہمراہ گئے اور فائز کا سامان سمیٹ کر لے آئے۔ بھائی نے ابو سے کہا۔ چند دن کی بات ہے، بہتر ہوگا یہ چند دن فائز میرے کمرے میں رہ کر کاٹ لے۔ یوں بھی آج وہ بخار میں بے ہوش پڑا ہے۔ دفتر بھی نہیں جاسکا۔ دس روز فائز ہمارے گھر رہا اور پھر اپنے شہر چلا گیا۔ اس کی نوکری پکی ہوگئی اور پھر کچھ عرصے اس کا تبادلہ ہمارے شہر ہوگیا۔ تب ایک دن اس کے والدین آئے اور فائز کے لیے میرا رشتہ مانگا۔ امی، ابو کو وہ روزاوّل سے پسند تھا لہٰذا رشتہ قبول کرلیا گیا۔
میری شادی فائز سے ہوگئی۔ فائز کو شادی کے بعد سرکاری رہائش مل گئی تھی۔ ہم اپنے گھر میں چلے گئے۔ اس دوران زرینہ آنٹی کا کبھی ذکر نہیں آیا۔ ایک دن باتوں باتوں میں اچانک زرینہ آنٹی کا ذکر چل نکلا۔ میں نے کہا۔ وہ خاتون بہت نیک ہیں۔ انہوں نے آپ کو چھ ماہ اپنے گھر میں رکھا۔ اگر اس وقت وہ آپ کی رہائش کے لیے ہامی نہ بھرتیں تو آپ کو کتنی مشکل ہوتی؟ ایک دن ہم دونوں ان کے گھر چلیں گے شکریہ ادا کرنے…!
کوئی ضرورت نہیں ہے۔ فائز نے کہا۔ وہ اتنی نیک نہیں ہیں جتنی نظر آتی ہیں۔ پہلے میں بھی ان کو اچھا سمجھتا تھا اور اپنی محسنہ سمجھ کر عزت کرتا تھا لیکن اس رات جب سخت بارش ہورہی تھی، ان کی نیک چلنی کا پول کھل گیا۔ اگر اس دن میں ان کو اکیلا چھوڑ کر تمہارے گھر نہ آجاتا تو شاید آج تک پچھتا رہا ہوتا۔ خدا کا شکر ہے کہ میں نے عقل سے کام لیا۔
کیا کہہ رہے ہیں آپ فائز… کیا اس روز وہ گری نہیں تھیں؟ گری ضرور تھیں مگر
; چوٹ نہیں آئی تھی جس قدر انہوں نے ظاہر کیا تھا۔ جونہی مجھے احساس ہوا کہ یہ سب ڈرامہ ہے، میں فوراً تمہارے گھر آگیا اور رات تمہارے بھائی کے پاس سو گیا تھا۔ صبح خفگی کے باعث زرینہ آنٹی نے میرا سامان بھجوا دیا اور خود گھر کو تالا لگا کر چلی گئیں۔ میرا خیال ہے کبھی کسی خاتون کے ساتھ تنہا رہائش پذیر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ کسی لغزش کی وجہ سے وہ گناہ کے گڑھے میں گر سکتے ہیں۔ دیکھو شیطان ازل سے انسان کا دشمن ہے۔ اب سمجھ میں آیا کہ باوجود میرے والدین کے اصرار کے زرینہ آنٹی کیوں ہمارے یہاں میری شادی کی تقریب میں شرکت کرنے نہیں آئی تھیں۔ (ص… ملتان)