Haar | Part 2

88
پستول کا رخ طفیل اور شعیب کی جانب تھا۔ لڑکی کا انداز البتہ جارحانہ نہیں تھا۔ اس کی بجائے اس کے چہرے سے خوف اور معصومیت ٹپک رہی تھی۔ پستول پکڑنے کا انداز بھی غیر ماہرانہ تھا اور ہاتھ بری طرح کانپ رہا تھا۔ وہ چند لمحے ان دونوں کو گھورتی رہی پھر غصیلی آواز میں بولی۔ ’’خبردار…! کسی نے اندر آنے کی کوشش کی تو گولی مار دوں گی۔‘‘
شعیب اس نوخیز، ناتجربہ کار لڑکی کے ہاتھ میں پستول دیکھ کر مسکرا دیا۔ اس نے نرم لہجے میں سمجھاتے ہوئے کہا۔ ’’پستول رکھ دو لڑکی! اور کسی قسم کا خوف محسوس نہ کرو۔ ہم پولیس کے لوگ ہیں اور قتل کی تفتیش کے سلسلے میں تمہیں زحمت دی ہے۔‘‘
’’قتل…!‘‘ لڑکی کا پستول والا ہاتھ حیرت اور خوف کے ملے جلے جذبات تلے خودبخود نیچے گرگیا اور تب ہی بے اختیار اس کے منہ سے نکلا۔ ’’کیا وہ قتل کردی گئی…؟‘‘
’’کون…؟‘‘ شعیب نے پوچھا۔
’’وہی جس کی چیخ کی آواز کچھ دیر قبل سنائی دی تھی۔‘‘
’’کچھ دوسری قسم کی آوازیں بھی سنی تھیں آپ نے…؟‘‘ طفیل نے سوال کیا۔
’’کس قسم کی…؟‘‘ لڑکی نے پوچھا۔ ’’لیکن ٹھہرو… آج کل نقلی پولیس والے شہر میں بہت پھرتے ہیں۔ کیا پتا تم بھی مجرموں کے ساتھی ہو اور قانون سے بچنے کے لئے سوانگ بھر رکھا ہو اس لئے پہلے تم دونوں مجھے اپنے شناختی کارڈ دکھائو۔‘‘
’’تیز معلوم ہوتی ہے۔‘‘ طفیل نے دل میں سوچا اور شناختی کارڈ نکال کر اس کی طرف بڑھا دیا۔ لڑکی مطمئن ہوگئی اور پستول پیٹی کوٹ میں اڑس لیا۔
’’آپ کا نام پوچھ سکتا ہوں میں…؟‘‘ شعیب نے کہا۔
’’زرمینہ اشفاق!‘‘
’’مس زرمینہ! امید ہے آپ ہم سے تعاون کریں گی۔ ہم کچھ معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں، اگر گھر میں کوئی اور فرد ہو تو براہ کرم اسے بلا لیں۔‘‘
’’گھر میں کوئی نہیں ہے۔ والدین ایک عزیز کی میت میں شرکت کی غرض سے گئے ہوئے ہیں۔ میں ہوم اکنامکس کی طالبہ ہوں اور آج کل امتحان ہورہے ہیں۔ پولیس کو بیان دے کر میں کسی مصیبت میں نہیں پڑنا چاہتی۔‘‘ وہ بولی۔
’’آپ کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔‘‘ شعیب نے کہا۔ ’’ہم اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہیں۔ دراصل قتل کا معاملہ ہے اور آپ کا بیان نہایت ضروری ہے۔ تاہم آپ کو تمام پریشانیوں اور الجھنوں سے دور رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔‘‘
دونوں کی نظریں لڑکی کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں اور آثار سے وہ آمادہ نظر آرہی تھی۔ وہ بولی۔ ’’پوچھئے آپ کیا معلوم کرنا چاہتے ہیں؟‘‘
’’سردست آپ نے جو کچھ دیکھا یا سنا ہو، بلاکم و کاست بیان کردیں۔‘‘ طفیل نے کہا۔
زرمینہ نے ایک گہری سانس لی آنکھوں میں خوف کے آثار نمایاں ہوئے اور پھر وہ بتانے لگی تھی۔ ’’امتحان کی تیاری کے سلسلے میں آج کل میں رات گئے تک جاگتی ہوں، چنانچہ حسب معمول اسٹڈی میں مصروف تھی کہ یکایک ایک بج کر بیس منٹ پر ایک عورت کی چیخ کی آواز سنی۔ کچھ دیر بعد بھاگتے ہوئے قدموں کی آوازیں بھی آئیں۔ اس سے زیادہ مجھے کچھ نہیں معلوم!‘‘
’’آپ اس آواز کو پہچانتی ہیں؟‘‘ طفیل نے پوچھا۔
’’جی نہیں! دراصل وہ کربناک چیخ ایک ہی بار سنائی دی تھی اور دور سے سنی ہوئی کسی آواز کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔‘‘
’’آپ نے کسی کو بھاگتے ہوئے دیکھا…؟‘‘ طفیل نے پوچھا جبکہ شعیب کو طفیل کا یہ سوال بالکل بچکانہ اور بے تکا محسوس ہوا تھا۔
’’میں باہر ہی نہیں نکلی تھی، خطرناک حالات میں دروازہ کیسے کھول سکتی تھی۔‘‘
’’آپ فاخر کے بارے میں کچھ جانتی ہیں؟‘‘ شعیب نے کہا۔
’’جی نہیں!‘‘
’’کبھی دیکھا تو اسے ضرور ہوگا؟‘‘
’’کبھی نہیں، البتہ یہ سنا ہے کہ وہ اچھا آدمی نہیں ہے۔‘‘
’’جبکہ پڑوسی ایک دوسرے کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں بلکہ اپنے حالات سے کچھ زیادہ ہمسائیوں کے حالات سے باخبر ہوتے ہیں۔‘‘ شعیب کو انسپکٹر طفیل کا یہ سوال غیر شائستہ سا لگا۔
یہی وجہ تھی کہ اس بار لڑکی نے بھی کچھ ناگواری سے جواب دیا۔ ’’ہم ایسے لوگ نہیں ہیں۔‘‘
’’میرا یہ مطلب نہیں تھا۔‘‘ طفیل کو اپنے الفاظ کی چبھن کا احساس ہوا۔ ’’ممکن ہے کہ آپ کے گھر والے کسی حد تک اسے جانتے ہوں؟‘‘
’’ہمارے گھر میں اسے کوئی نہیں جانتا۔‘‘ زرمینہ نے جواب دیا۔ ’’اس اپارٹمنٹ میں چونکہ کوئی عورت نہیں ہے، اس لئے تعلقات استوار ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس کے علاوہ لوگ اس سے خائف ہیں۔ وہ یہاں پراسرار آدمی کے نام سے مشہور ہے۔‘‘
’’آپ کے والدین کی واپسی کب ہوگی؟‘‘
’’کل!‘‘ زرمینہ نے جواب دیا۔
’’اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ایک بار آپ کے والدین کو بھی زحمت دیں گے۔‘‘ اس بار شعیب نے کہا۔ ’’اس تعاون کا شکریہ…! اب آپ دروازہ بند کرسکتی ہیں۔‘‘
زرمینہ نے فوراً دروازہ بند کرلیا۔

شعیب بولا۔ ’’اس لڑکی کے بیان سے جواد مرزا کے بیان کی تائید ہوتی ہے لیکن کوئی خاص بات معلوم نہ ہوسکی۔‘‘
’’ابھی ایک گھر باقی ہے۔‘‘ طفیل نے کہا اور پھر وہ تیسرے اور آخری اپارٹمنٹ کی گھنٹی بجانے لگا۔
دروازہ کھلنے میں حسب معمول یہاں بھی تاخیر ہوئی لیکن زیادہ نہیں۔ تیسری یا چوتھی بیل پر دروازہ کھل گیا اور ایک قبول صورت اور پرکشش نوجوان جس کی عمر پچیس تیس کے درمیان رہی ہوگی، آنکھیں ملتا ہوا برآمد ہوا۔
دوسرے لوگوں کے مقابلے میں وہ خوشحال نظر نہیں آرہا تھا۔ اس کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی، سر کے بال بے ترتیب اور ناتراشیدہ تھے۔ اس کا لباس بھی زیادہ قیمتی نہیں تھا، تاہم چہرے سے سنجیدگی اور ذہانت ہویدا تھی۔ وہ دوسروں سے کچھ الگ ہی معلوم ہورہا تھا۔
پولیس کو دروازے پر دیکھ کر اس نے کسی قسم کی بوکھلاہٹ یا پریشانی کا اظہار نہیں کیا اور خشک لہجے میں پوچھا۔ ’’فرمایئے…! میں آپ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں؟‘‘
’’ہمیں افسوس ہے کہ ہماری آمد سے آپ کے آرام میں خلل واقع ہوا۔‘‘ شعیب نے منکسرالمزاجی کا مظاہرہ کیا۔ ’’میں آپ کا نام پوچھ سکتا ہوں؟‘‘
’’عابد نومی!‘‘ اس نے بتایا۔
’’خوب! غالباً آپ شاعر یا ادیب ہیں۔ یہ نام میں کہیں پڑھ چکا ہوں۔‘‘
’’میں شاعر ہوں۔‘‘ اس کے لہجے میں ناگواری تھی۔ ’’لیکن یہ معلوم کرنے کے لئے آپ دن میں تشریف لا سکتے تھے۔ یہ آدھی رات کے وقت…؟‘‘
’’ہم ایک اہم مسئلے پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ طفیل نے اس کا جملہ کاٹ دیا۔
’’اوہ…!‘‘ وہ عجیب سے انداز میں ہنسا۔ ’’کیا میری کسی نظم پر عریانی کا لیبل لگ گیا ہے؟‘‘
’’نہیں! ہم ایک قتل کے سلسلے میں سوال کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’قتل…! میں سمجھا نہیں؟‘‘ عابد نومی بوکھلا گیا۔
’’گھبرایئے نہیں۔‘‘ شعیب نے اسے تسلی دی۔ ’’اس فلور کے ایک اپارٹمنٹ میں ایک نوجوان لڑکی کو قتل کردیا گیا ہے۔‘‘
’’نوجوان لڑکی…! قتل…؟‘‘ وہ اس طرح چونکا جیسے اسے ہزار واٹ کا کرنٹ لگا دیا گیا ہو۔
’’کیا آپ اس لڑکی کو جانتے ہیں؟‘‘ طفیل نے سوال کیا۔
’’جی… جی بالکل نہیں…! میں کسی ایسی لڑکی سے واقف نہیں ہوں جس کے قتل ہونے کے امکانات ہوتے۔‘‘
’’مگر آپ چونکے اس طرح تھے جیسے اس سے آپ کے قریبی تعلقات ہوں؟‘‘ شعیب نے کہا۔
’’دراصل قتل کا نام ہی خوف و دہشت کا مظہر ہے۔ آدمی خواہ مخواہ خوف زدہ ہوجاتا ہے۔‘‘
’’ذرا سوچ کر بتایئے۔‘‘ شعیب نے اس کی جانب غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’کوئی گہرے برائون بالوں والی لڑکی فاخر کے فلیٹ میں آتی رہی ہے۔ کیا گزشتہ روز اسے اندر داخل ہوتے دیکھا گیا ہے؟‘‘
’’نہیں!‘‘ عابد نومی نے مختصر سا جواب دیا۔
’’سوچ کر بتایئے…؟‘‘ شعیب نے پوچھا۔
’’میں اپنے دیوان کی تکمیل کے سلسلے میں آج صبح سے شام تک گھر میں موجود رہا ہوں۔ اس لئے باہر کی سرگرمیوں کا مجھے کوئی علم نہیں۔‘‘
’’اگر آپ گھر میں رہے ہیں تو ایک اور دو بجے کے درمیان یقیناً کسی عورت کی چیخ کی آواز سنی ہوگی؟‘‘
’’میں جب کام میں مصروف ہوتا ہوں تو دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوجاتا ہوں۔‘‘
’’کیا مطلب…؟‘‘ شعیب نے تعجب خیز لہجے میں کہا۔ ’’آپ نے چیخ کی آواز سنی ہی نہیں؟‘‘
’’نہیں!‘‘ عابد نومی نے پرسکون لہجے میں کہا۔ ’’اور غالباً اس کی وجہ یہ رہی ہوگی کہ میں فاخر کے اپارٹمنٹ سے دور ہوں۔‘‘
’’ہوں!‘‘ طفیل نے پرسوچ انداز میں ہنکاری بھری اور ہونٹ سکیڑے پھر مستفسر ہوا۔ ’’راہداری میں دوڑتے ہوئے قدموں کی آواز کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جبکہ آپ کا اپارٹمنٹ زینے کے قریب ہے؟‘‘
’’آخر آپ اس امر پر کیوں بضد ہیں کہ میں نے ضرور کسی کی آواز سنی تھی یا مجھے سننا چاہئے تھی؟‘‘ عابد نومی نے ناگواری سے کہا۔ ’’میں فنکار ہوں اور ایک فنکار جب اپنے فن میں ڈوب جاتا ہے تو اسے کسی بات کی خبر نہیں رہتی۔‘‘
طفیل اور شعیب الجھے ہوئے انداز میں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔
عابد نومی دیدہ و دانستہ غلط بیانی سے کام لے رہا تھا اور دو افراد کے بیان کو جھٹلانے کی کوشش کررہا تھا۔ انسپکٹر طفیل کی آنکھوں میں تشکیک کے سائے لہرانے لگے اور وہ اس کی طرف کچھ مشکوک نظروں سے گھورتا رہا اور پھر اسی انداز میں مستفسر ہوا۔ ’’عابد صاحب! ہمیں آپ کا تفصیلی بیان لینا ہوگا۔‘‘
’’لیکن… جناب!‘‘ اس کے لہجے میں کسی قدر گھبراہٹ عود کر آئی تھی۔ ’’میں ایک ادبی شخصیت ہوں۔ قتل و غارت سے کبھی میرا کوئی واسطہ نہیں رہا۔ غالباً میرے کسی مخالف نے شرارت کی ہے۔ یہ کوئی پبلشر بھی ہوسکتا ہے۔‘‘
’’کون پبلشر…؟‘‘
’’وہ میری رائلٹی دینے سے انکار کررہا ہے اور میں نے اسے مقدمہ دائر کرنے کی دھمکی دی تھی۔‘‘
’’جی نہیں!‘‘ طفیل نے کہا۔ ’’آپ کے پبلشر نے آپ کے خلاف کوئی سازش نہیں کی ہے۔ نہ ہی ہمیں اس معاملے سے کوئی دلچسپی ہے۔ ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ قتل کے سلسلے میں اگر آپ کو کسی قسم کی معلومات ہوں تو ہمیں آگاہ کیجئے۔ مسٹر فاخر سے آپ ضرور واقف ہوں گے؟‘‘
’’ہاں! لیکن کچھ زیادہ نہیں، سرراہ کبھی سلام دعا ہوجاتی ہے۔‘‘
’’آپ اس کے کسی دوست کو جانتے ہیں؟‘‘
’’عرض کرچکا ہوں، میں اس سے پوری طرح واقف نہیں ہوں۔‘‘
’’گویا آپ اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ آپ نے نسوانی چیخ اور بھاری قدموں کی
آوازیں نہیں سنیں، جبکہ اپنے بیان کے مطابق آپ جاگ رہے تھے؟‘‘
’’میں نے جو کہا ہے، اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے۔ آخر ایک اہم معاملے میں غلط بیانی کی مجھے کیا ضرورت ہے؟‘‘
’’یقیناً…!‘‘ شعیب نے تائید کی۔ ’’لیکن اپنے ذہن کو ذرا ٹٹولئے ممکن ہے ذہن کے کسی گوشے میں وہ آوازیں محفوظ ہوں۔ ہم دوبارہ فاخر کے اپارٹمنٹ میں جارہے ہیں، تقریباً نصف گھنٹے بعد واپسی ہوگی شاید اس وقت تک آپ کو کچھ یاد آجائے۔‘‘
اس کی بات سن کر عابد نومی حیران و فکرمند کھڑا رہ گیا جبکہ شعیب، طفیل کا بازو تھام کر فاخر کے اپارٹمنٹ کی طرف چل دیا۔
’’کیا حماقت ہے۔‘‘ طفیل بولا۔ ’’وہ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوجائے گا۔‘‘
’’کبھی عقل سے بھی کام لیا کرو۔‘‘ شعیب نے بیزاری سے کہا۔ ’’اگر وہ کسی طور ملوث ہے تو اتنا احمق نہیں ہے کہ خود کو مشکوک ثابت کرتے ہوئے راہ فرار اختیار کرے۔ درحقیقت میں اسے تنہائی میں ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ سوچنے کا موقع دینا چاہتا ہوں تاکہ وہ محسوس کرے کہ اس کے لئے کیا بہتر ہے اور کیا غیر مناسب! بہرطور وہ اس ضمن میں کچھ نہ کچھ جانتا ضرور ہے۔‘‘
وہ دونوں اندر داخل ہوئے تو کمرے کے ماحول میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی۔ شعیب بستر کا جائزہ لینے لگا جس پر سلوٹیں پڑی ہوئی تھیں اور یہ اس بات کی علامت تھی کہ وہ کافی دیر سے بے تکلفانہ انداز میں زیراستعمال رہا ہے۔ اچانک اسے تکیئے پر چند بال چپکے ہوئے نظر آئے۔
شعیب جھک کر بہت غور سے دیکھنے لگا۔ ان کا رنگ گہرا برائون تھا اور ان کی تعداد چار تھی۔ اس کے چہرے پر مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ وہ پرجوش لہجے میں بولا۔ ’’طفیل…! یہ دیکھو۔‘‘
طفیل فوراً اس کی طرف متوجہ ہوا اور بغور بالوں کو دیکھنے لگا۔ پھر خیال انگیز لہجے میں کہا۔ ’’اسی لڑکی کے معلوم ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے ان کے درمیان خاصی کشمکش رہی ہے جس کے سبب سر کے چند بال ٹوٹ گئے۔ بستر کی سلوٹیں بھی یہی ظاہر کرتی ہیں۔‘‘
’’ہاں! ان کے درمیان کوئی کشاکش رہی ہے۔ موتیوں کے ہار کا حصول یا کچھ اور…!‘‘ اس نے معنی خیز انداز میں کہا۔
’’تمہاری بات درست ہے۔‘‘ طفیل نے کہا۔ ’’ان کے درمیان یقیناً انڈر اسٹینڈنگ تھی۔‘‘
’’اب کیا ارادے ہیں؟‘‘ شعیب نے پوچھا۔
’’پولیس ہیڈ کوارٹر کو اس واردات کی اطلاع دینا ضروری ہے تاکہ فاخر کی گرفتاری کے لئے اہم علاقوں کی ناکہ بندی کردی جائے اور برائون بالوں والی لڑکی کی لاش بھی تلاش کی جائے۔‘‘
’’یہ کام آغاز میں ہی ہونا چاہئے تھا۔‘‘
’’کچھ زیادہ تاخیر نہیں ہوئی۔‘‘ طفیل نے کہا۔ ’’جواد مرزا کے بیان کے بعد حقیقت حال سامنے آئی ہے۔‘‘
’’ہاں!‘‘ شعیب نے سوچتے ہوئے کہا۔ ’’سنو… اگر روزی کے لواحقین کا پتا چل جائے تو فاخر کے بارے میں معلومات مہیا ہوسکتی ہیں۔ ممکن ہے وہ ان کے گھر آتا جاتا ہو اور وہ لوگ اس کے بارے میں کچھ جانتے ہوں۔‘‘
’’ضرور جانتے ہوں گے۔‘‘ طفیل بولا۔ ’’لیکن لواحقین کا سراغ کیونکر ملے۔ اگر اس کا موجودہ پتا معلوم ہوتا تو کوئی قباحت نہیں تھی۔‘‘
’’میرا خیال ہے عابد نومی، روزی کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہے۔ اگر کسی طرح اس کی زبان کھلوائی جائے تو کامیابی کی امید ہے۔‘‘
’’یہ کیا مشکل ہے، ابھی لو۔‘‘ طفیل، عابد نومی کے دروازے کی طرف بڑھا۔
’’ٹھہرو!‘‘ شعیب نے ہاتھ اٹھا کر کہا۔ ’’میرا مطلب تشدد نہیں ہے بلکہ یہ معاملہ تم مجھ پر چھوڑ دو۔ میرا طریقۂ کار مختلف ہے۔‘‘
’’مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ طفیل نے کہا۔ ’’آئو اس کے اپارٹمنٹ میں چلتے ہیں۔ ہیڈ کوارٹر فون بھی وہیں سے کرلوں گا۔‘‘
’’ذرا ٹھہرو…!‘‘ شعیب برائون بالوں کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے تجسس و حیرت مترشح تھی۔
’’کوئی خاص بات…؟‘‘ طفیل نے اس کے قریب پہنچ کر پوچھا۔
’’بہت ہی خاص!‘‘ شعیب رازدارانہ لہجے میں بولا۔ ’’میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ بال مقتولہ کے سر سے نہیں گرے۔‘‘
’’پھر کہاں سے آئے…؟‘‘ طفیل نے حیرت سے پوچھا۔ ’’اور تم نے کس بنیاد پر یہ رائے قائم کی ہے؟‘‘
’’اس بنیاد پر کہ بالوں کی جڑیں نہیں ہیں۔‘‘
’’بالوں کی جڑیں…! میں سمجھا نہیں؟‘‘
’’بات صاف ہے۔‘‘ شعیب بولا۔ ’’میرے اکھڑے ہوئے بالوں کی جڑ ضرور ہوگی۔ یوں سمجھ لو بال کے نچلے سرے پر جو کھوپڑی میں پیوست ہوتا ہے، ایک گومڑی سی نظر آتی ہے نیز جڑ کا وہ حصہ کسی قدر موٹا اور سفیدی مائل ہوتا ہے۔ تم ٹرائی کرسکتے ہو۔‘‘
طفیل نے فوراً سر سے چند بال توڑے۔ شعیب کا نظریہ درست ثابت ہوا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ وہ بولا۔ ’’تم اس سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہو…؟‘‘
’’دو باتیں سمجھ میں آئی ہیں۔‘‘ شعیب نے وضاحت کی۔ ’’پہلی یہ کہ تفتیش کا رخ موڑنے کی خاطر برائون بال کہیں اور سے حاصل کرکے بستر پر ڈال دیئے گئے۔ اس کے علاوہ یہ بھی امکان ہے کہ روزی کے بال قدرتی نہ ہوں۔‘‘
’’تمہارا مطلب ہے وہ برائون بالوں کی وگ استعمال کرتی تھی؟‘‘ طفیل نے کہا۔
’’یقیناً… اور اس نظریئے کو تقویت اس بات سے پہنچتی ہے کہ ہمارے یہاں عورتوں کے بال اتنے گہرے برائون نہیں ہوتے۔‘‘
’’ایکسیلنٹ…!‘‘ طفیل تعریف کے انداز میں بولا۔ ’’بہت اچھا پوائنٹ تلاش کیا ہے تم نے لیکن یہ پہلو کیس پر کس طرح اثرانداز ہوسکتا ہے؟‘‘
’’سنو…!‘‘ شعیب پرزور لہجے میں بولا۔ ’’اگر یہ بات طے کرلی جائے اور میرے خیال میں حقیقت بھی یہی ہے کہ روزی وگ استعمال کرتی تھی تو اس کے لواحقین کی تلاش بہت آسان ہوجائے گی۔‘‘
’’کس طرح…؟‘‘ طفیل نے سوال کیا۔
’’اس طرح کہ ہمارے یہاں وگ کا رواج اتنا عام نہیں ہے لہٰذا شہر میں وگ فروخت کرنے والی زیادہ سے زیادہ چار پانچ دکانیں ہوں گی اور چونکہ قلیل ڈیمانڈ والا آئٹم ہے اس لئے دکاندار ان گاہکوں کی تعداد انگلیوں پر گن سکتا ہے جنہوں نے سال چھ مہینے کے دوران وگ خریدی ہوگی۔ ممکن ہے ان کے پتے اور ٹیلیفون نمبر بھی موجود ہوں، کیونکہ اکثر و بیشتر وگ پسند کے مطابق آرڈر پر تیار کی جاتی ہیں اور دکاندار و گاہک کے درمیان مختلف ذرائع سے کافی دنوں تک رابطہ قائم رہتا ہے۔ شہر میں صرف ایک بازار ایسا ہے جہاں جدید آرائشی اشیاء فروخت ہوتی ہیں۔ اگر ہم ان دکانوں سے رابطہ قائم کریں تو روزی کی رہائش گاہ کا پتا چلنے کی قوی امید ہے۔‘‘
طفیل نے تائید کی اور برائون بال ایک کاغذ میں لپیٹ کر احتیاط سے جیب میں رکھ لئے۔ کچھ دیر بعد وہ پھر عابد نومی کے دروازے پر تھے۔
شعیب نے کال بیل کا بٹن دبایا۔ پہلی ہی گھنٹی پر دروازہ کھل گیا۔ اس وقت سورج طلوع ہورہا تھا اور دھوپ لمحہ بہ لمحہ پھیلتی جارہی تھی۔ طفیل نے غور سے دیکھا۔ عابد نومی کے چہرے پر کسی قسم کے تاثرات نہیں تھے۔
اس نے پوچھا۔ ’’آپ کے یہاں فون تو ہوگا؟‘‘
’’جی ہاں! اگر ضرورت ہے تو اندر تشریف لے آیئے۔‘‘ عابد دروازے سے ہٹ گیا۔
وہ دونوں اندر داخل ہوئے اور ایک ایسے اجاڑ کمرے میں پہنچ گئے جہاں بے شمار گرد آلود کتابوں، ایک میز اور چند کرسیوں کے سوا کوئی اور قابل ذکر چیز نہیں تھی۔
’’آپ خاصا علمی ذوق رکھتے ہیں۔‘‘ شعیب نے پرستائش لہجے میں کہا۔
’’یونہی سا…!‘‘ وہ انکساری سے بولا۔ ’’آپ تشریف رکھئے، میں ناشتے کا بندوبست کرتا ہوں۔‘‘
’’اس کی ضرورت نہیں۔‘‘ طفیل نے فوراً کہا۔ ’’ہم لوگ قریبی ریسٹورنٹ میں ناشتہ کرنے کا پروگرام بنا چکے ہیں۔ میں صرف فون کرنا چاہوں گا۔‘‘
’’ضرور… ضرور…!‘‘ عابد نومی اس کے پاس فون اٹھا لایا۔ ’’آپ فون کیجئے، میں اتنے میں ناشتہ لاتا ہوں۔ دیکھئے انکار نہ کیجئے گا۔‘‘ پھر جواب کا انتظار کئے بغیر وہ کمرے سے نکل گیا۔
طفیل نے پہلے اپنے پولیس اسٹیشن فون کیا اور ڈیوٹی آفیسر کو چند سپاہیوں کے ساتھ جائے واردات پر پہنچنے کی ہدایت کی۔ بعدازاں ہیڈ کوارٹر کا نمبر ملایا اور واردات کی تفصیلی رپورٹ دیتے ہوئے فنگر پرنٹس کے عملے کو بھیجنے کی درخواست کی۔
طفیل فارغ ہوا تو عابد نومی ناشتہ لے آیا جو مکھن، ٹوسٹ، ابلے ہوئے انڈوں اور چائے پر مشتمل تھا۔ انہوں نے لاکھ انکار کیا لیکن عابد بضد رہا اور اس کے خلوص نے انہیں ناشتہ کرنے پر مجبور کردیا۔
’’آپ کی بیگم شاید کہیں گئی ہوئی ہیں؟‘‘ شعیب نے پوچھا۔
’’بیگم…؟‘‘ وہ گڑبڑا گیا۔ ’’میں اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہوں۔‘‘
’’اوہ…!‘‘ شعیب نے اس موضوع کو وہیں ختم کردیا۔ ناشتے سے فارغ ہوکر انہوں نے سگریٹ جلائی۔
پھر طفیل، عابد نومی سے مخاطب ہوا۔ ’’ہمیں یقین ہے کہ اس وقفے میں آپ کو قتل سے متعلق کچھ واقعات ضرور یاد آگئے ہوں گے۔‘‘
عابد نومی نے فوری طور پر جواب نہیں دیا، تاہم کچھ دیر بعد دھیمے اور شرمسار لہجے میں بولا۔ ’’انسپکٹر! میں غلط بیانی کی معافی چاہتا ہوں۔ مجھے کچھ زیادہ معلوم نہیں لیکن جتنا جانتا ہوں، گوش گزار کئے دیتا ہوں۔‘‘
’’گویا آپ نے نسوانی چیخ سنی تھی؟‘‘
’’جی ہاں!‘‘
’’اور بھاگتے ہوئے قدموں کی دھمک بھی…؟‘‘
’’بہت واضح طور پر…!‘‘
’’پھر آپ صحیح واقعات بیان کرنے سے کیوں گریزاں تھے؟‘‘
’’دیکھئے جناب!‘‘ عابد نومی بولا۔ ’’ہماری پولیس اور عدالتوں کا طریقہ کار اس قدر پیچیدہ، طویل المیعاد اور بیزار کن ہوتا ہے کہ ایک شریف آدمی پولیس اور کورٹ کا نام سنتے ہی پریشان ہوجاتا ہے اور میں لکھنے پڑھنے والا ایک آزاد منش انسان ہوں، عدالتی کارروائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ محض میری بات نہیں ہے، عام لوگ بھی مقدمات سے گھبراتے ہیں اور شہادت دینے سے احتراز کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مجرم شک کا فائدہ اٹھا کر بری ہوجاتے ہیں یا کم سے کم سزا پاتے ہیں۔ میں ایسے کئی سماج دشمن عناصر کو جانتا ہوں جو قتل جیسے سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ لیکن مناسب شہادتیں نہ ملنے کی بنا پر بری کردیئے گئے۔‘‘
’’آپ نے درست فرمایا۔‘‘ شعیب نے تائید کی۔ ’’تاہم موجودہ دور میں عدالتی طریقۂ کار کا ازسرنو جائزہ لیا جارہا ہے اور اسے سہل اور مختصر بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔‘‘
’’اگر ایسا ہوجائے تو لوگ صحیح معنوں میں عدالتوں سے انصاف حاصل کرسکیں گے۔‘‘ عابد نومی نے کہا۔
جج صاحبان کو بھی فیصلہ کرنے میں دشواری نہیں ہوگی۔‘‘
’’یقیناً…!‘‘ طفیل اصل موضوع کی طرف آتا ہوا بولا۔ ’’بہرطور قتل کے سلسلے میں اگر آپ مزید کچھ جانتے ہوں تو براہ کرم بیان کردیں۔‘‘
’’مجھے اسی قدر معلوم تھا۔‘‘ عابد نے جواب دیا۔
طفیل اور شعیب اٹھ کھڑے ہوئے۔ اگرچہ عابد نومی نے دوٹوک باتیں کی تھیں لیکن شعیب اس کی جانب سے اب بھی مطمئن نہیں تھا۔ اس کی چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ وہ قتل کی واردات میں کسی نہ کسی طور ملوث ہے یا جو بیان کیا ہے، اس سے زیادہ جانتا ہے۔
وہ دونوں اس کے اپارٹمنٹ سے باہر آئے تو ڈیوٹی آفیسر دو سپاہیوں کے ساتھ نیچے پہنچ چکا تھا۔ کچھ دیر بعد فنگر پرنٹس کا عملہ بھی آگیا اور نشانات محفوظ کئے جانے لگے۔ لاش چونکہ موجود نہیں تھی جس کے پوسٹ مارٹم کا سوال پیدا ہوتا، چنانچہ خون کا نمونہ لیبارٹری روانہ کردیا گیا۔
گیارہ بجے تک تمام کارروائی مکمل ہوگئی۔ فنگر پرنٹس کا عملہ اپنا کام ختم کرکے واپس جا چکا تھا۔ طفیل نے وہاں ایک سپاہی کو متعین کیا اور باقی اسٹاف کو واپس پولیس اسٹیشن بھیج دیا۔ جس سپاہی کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی، اسے یہ ہدایت بھی کردی گئی تھی کہ عابد نومی پر نظر رکھے۔
٭…٭…٭
شہر کے اس جدید شاپنگ مال میں وگ فروخت کرنے والی پانچ دکانیں تھیں۔ چاروں دکانوں کو چیک کیا جا چکا تھا اور وہاں سے کوئی قابل ذکر بات معلوم نہیں ہوئی۔ مالکان کا بیان تھا کہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران کوئی ڈارک برائون وگ فروخت نہیں کی گئی اور اس کی ایک ٹھوس وجہ یہ بتائی گئی کہ چونکہ انہی برسوں میں کاسمیٹکس مارکیٹ میں جو نئی غیر ملکی ڈائی متعارف کروائی گئی، وہ اسی کلر میں تھی، یعنی ڈارک برائون! لہٰذا جب خواتین کی میک اَپ کٹ میں یہ ڈائی ہر وقت موجود رہے گی تو وہ اتنی بھاری اور مصنوعی وگ کا سہارا لینے کی ضرورت کیوں محسوس کریں گی۔ اسی کلر سے اپنے اصل بالوں کو ڈائی کیا اور کام ہوگیا۔
اب پانچویں اور آخری دکان باقی رہ گئی تھی۔ یہ ایک بڑا ڈپارٹمنٹل اسٹور تھا۔ یہاں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔ اسٹور میں اس وقت چند گاہک خریداری کررہے تھے۔ طفیل اور شعیب ایک جانب کھڑے ہوکر انتظار کرنے لگے۔ دفعتاً شعیب کی نظر ایک شوکیس پر پڑی جس میں جدید وضع کی چند وگیں سجی ہوئی تھیں اور ان میں ایک سنہری تھی۔ شعیب سوچنے لگا یہاں کامیابی کی امید ہے۔
بھیڑ چھٹی تو ایک سیلزمین ان کی جانب متوجہ ہوا۔ ’’فرمایئے کیا پیش کیا جائے؟‘‘
’’ہم گاہک نہیں ہیں۔‘‘ طفیل نے جواب دیا۔ ’’اسٹور کے مالک سے ملنا چاہتے ہیں۔‘‘
وہ سیلزمین ان کی رہنمائی کرتا ہوا ایک ایئرکنڈیشن کمرے میں لے گیا۔ یہاں اسٹور کا پختہ عمر پروپرائٹر ایک بڑی میز کے پیچھے بیٹھا حساب کی کتابیں چیک کرنے میں مصروف تھا۔ پولیس انسپکٹر کو دیکھ کر وہ چونکا پھر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ ’’میرے لائق کوئی خدمت…؟‘‘
’’اگر زحمت نہ ہو تو ہم آپ سے کچھ معلومات حاصل کرنا چاہیں گے۔‘‘
’’کس سلسلے میں…؟‘‘
’’ایک عورت قتل کردی گئی ہے۔‘‘
’’قتل…!‘‘ اسٹور کا مالک اچھل پڑا۔ اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں ہوگئے تھے۔
’’گھبرایئے نہیں۔‘‘ شعیب نے حوصلہ دیا۔ ’’آپ کا واردات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ماضی قریب میں آپ کی دکان سے ڈارک برائون بالوں کی کوئی وگ فروخت کی گئی ہے؟‘‘
’’ڈارک برائون وگ…؟‘‘ وہ سوچتے ہوئے بولا۔ ’’جی ہاں! کوئی چار ماہ قبل ایک ڈارک برائون وگ کا آرڈر ملا تھا۔‘‘
’’حیرت ہے… آپ کو یہ بات ابھی تک یاد ہے، جبکہ اس رنگ کی آپ اب تک درجنوں وگیں فروخت کرچکے ہوں گے؟‘‘ شعیب نے مسکرا کر کہا۔
اسٹور مالک جس نے اپنا نام احسان خان بتایا تھا، پورے اعتماد سے بولا۔ ’’آپ کی بات بجا ہے۔ یہ مجھے اسی لئے یاد رہی کہ یہ ایک بہت کم چلنے والا کلر تھا اور اسی لئے اس رنگ کی وگ کو صرف آرڈر پر ہی تیار کیا جاتا تھا۔ باقی کلرز کی وگیں جو زیادہ چلنے والے آئٹم میں شمار ہوتی ہیں، ہم انہیں کافی تعداد میں بنا کر شوکیس میں سجا لیا کرتے تھے، مگر یہ وگ صرف آرڈر پر ہی تیار ہوتی تھی۔ یہ وگ صرف دو ہی بنائی گئی تھیں۔ ایک کسٹمر لے گیا تھا، دوسری ہنوز پڑی ہے۔‘‘
’’آپ کا گاہک کوئی مرد تھا یا عورت…‘‘
’’عورت… ایک نوجوان لڑکی!‘‘
’’نام بتا سکتے ہیں؟‘‘
’’نام تو یاد نہیں، البتہ آرڈر میں تمام تفصیلات درج ہوں گی۔ وہ بھی میں یقین سے نہیں کہہ سکتا اگرچہ ہم اپنے کسٹمر کا پرانا ریکارڈ رکھتے ہیں۔‘‘
’’اگر زحمت نہ ہو تو اس سلسلے میں ہماری مدد کریں۔‘‘
’’بہت بہتر…!‘‘ اس نے خندہ پیشانی سے جواب دیا پھر کلرک کو طلب کرکے سابقہ آرڈر بل لانے کی ہدایت کی۔
’’اگر اس لڑکی کی تصویر آپ کو دکھائی جائے تو پہچان لیں گے؟‘‘ شعیب نے پوچھا۔
’’ضرور پہچان لوں گا۔ دراصل وہ وگ کے حصول کے سلسلے میں کافی دنوں تک یہاں آتی رہی تھی۔‘‘
شعیب نے روزی کی تصویر اس کے سامنے رکھ دی۔ تصویر پر نظر پڑتے ہی اس نے شناخت کرلیا۔ بولا۔ ’’جی جناب! سوفیصد وہی لڑکی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس وقت سر پر اس کے سیاہ بال تھے اور تصویر میں ڈارک برائون وگ لگا رکھی ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہی وگ ہے جو اس نے ہماری دکان سے خریدی تھی۔‘‘
اسی اثناء میں کلرک آرڈر بک لے آیا۔ اسٹور کے مالک نے معمولی سی کوشش کے بعد مطلوبہ صفحہ تلاش کرلیا اور عینک درست کرتے ہوئے بولا۔ ’’اس کا نام شیلا تھا۔‘‘
احسان نے جیسے دھماکا کیا۔ طفیل اور شعیب دونوں ہی بیک وقت چونکے۔ ’’شیلا…؟‘‘
’’جی ہاں…! پتا اور ٹیلیفون نمبر بھی درج ہے۔‘‘
’’آپ کو مغالطہ تو نہیں ہوا؟ کہیں غلطی سے دوسرا صفحہ نہ کھول بیٹھے ہوں؟‘‘
’’ہرگز نہیں جناب! میں نے درست پیج کھولا ہے۔‘‘ اسٹور کا مالک احسان خان پورے وثوق سے بولا۔ ’’کیونکہ یہ خاتون ہماری مستقل گاہک ہیں۔‘‘
’’آپ کو یاد ہے وہ آخری بار کب دکان پر آئی تھیں؟‘‘ شعیب نے دریافت کیا۔
’’زیادہ عرصہ نہیں گزرا شاید پندرہ بیس دنوں کی بات ہے۔ انہوں نے سنگِ مرمر کے چار گلدان خریدے تھے۔‘‘
’’تعجب ہے۔‘‘ طفیل کے لہجے میں بے پناہ حیرت تھی۔ ’’خیر…! آپ شیلا کا پتا نوٹ کرا دیں۔‘‘
’’کوئی فائدہ نہیں۔‘‘ شعیب نے کہا۔ ’’ظاہر ہے اس آرڈر بک میں چار ماہ قبل کی رہائشگاہ کا پتا درج ہوگا، جبکہ سیٹھ ہارون کے مطابق روزی ایک ہفتہ قبل ہی مکان تبدیل کرچکی تھی۔‘‘
’’میرے پاس موجودہ ایڈریس بھی ہے۔‘‘ اسٹور کا مالک بھرپور تعاون کررہا تھا۔ ’’اس نے چند گلدان خریدے تھے اور ہم اکثر اوقات اپنے کرم فرمائوں کے گھروں پر ڈلیوری پہنچاتے ہیں چنانچہ ڈلیوری آرڈر پر موجودہ پتا ضرور درج ہوگا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ایک فائل کھولی اور پتا نوٹ کرانے لگا۔
طفیل نے پتا نوٹ کرلیا پھر انہوں نے اسٹور کے مالک کا شکریہ ادا کیا اور باہر آگئے۔
’’یہاں تو سارا معاملہ ہی الٹ گیا۔‘‘ شعیب تردد آمیز لہجے میں بولا۔ ’’یہ روزی اچانک شیلا کا روپ اختیار کرگئی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ روزی اور شیلا دو مختلف شخصیتیں ہیں یا ایک ہی عورت کے دو نام ہیں؟‘‘
’’صیغہ ماضی میں اس کا ذکر کرو۔‘‘ طفیل نے تصحیح کی۔ ’’وہ شیلا تھی یا روزی! بہرحال اب قتل ہوچکی ہے۔‘‘
’’بات صرف اتنی ہے کہ ان دو میں سے اس کا اصلی نام کون سا ہے؟‘‘
’’مسئلہ یہ ہے کہ اسے فرضی نام رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔‘‘ شعیب نے کہا۔
’’ممکن ہے محض موتیوں کا ہار چرانے کی غرض سے اس نے سیٹھ ہارون کے ہاں ملازمت اختیار کی۔ اس مقصد کے تحت نام تبدیل کرنا ضروری تھا۔‘‘
’’گویا روزی اس کا فرضی نام تھا؟‘‘
’’ہاں! بلکہ اپنی شخصیت کو تبدیل کرنے کے لئے اس نے وگ بھی استعمال کی۔‘‘
’’تمہارا استدلال ٹھیک ہے۔‘‘ شعیب نے کہا۔ ’’لیکن یہ عقدہ اسی وقت ہی کھل سکتا ہے جب ہم مقتولہ کے والدین، اس کے شوہر یا دیگر لواحقین سے ملیں۔‘‘
’’اس میں کیا قباحت ہے۔’’طفیل بولا۔ ’’پتا ہمارے پاس موجود ہے، ابھی چلتے ہیں۔‘‘
٭…٭…٭
مہران سوسائٹی کا ایک دیدہ زیب بنگلہ جس کی شان و شوکت سے ظاہر ہوتا تھا کہ مکین اونچے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ مین گیٹ بند تھا البتہ کال بیل کا بٹن نظر آرہا تھا۔ شعیب نے گھنٹی بجائی اور کچھ دیر بعد قدموں کی چاپ سنائی دی اور جب دروازہ کھلا تو وہ دونوں یوں اچھل پڑے گویا دہکتے ہوئے انگاروں پر پیر پڑگیا ہو۔ جو کچھ وہ اپنی پھیلی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے، وہ ان کے لئے ناقابل یقین تھا۔
شعیب باربار پلکیں جھپکا رہا تھا۔ طفیل اس سے زیادہ حیران و ششدر تھا لیکن یہ سوفیصد اٹل حقیقت تھی کہ دروازہ کھولنے والی عورت خود روزی یا شیلا تھی۔ فرق وہی تھا جو اسٹور کے مالک نے بیان کیا تھا۔ اس وقت اس کے سر پر برائون بالوں کی وگ نہیں تھی بلکہ بال قدرتی اور سیاہ تھے۔
’’آپ کس سے ملنا چاہتے ہیں؟‘‘ وہ پولیس انسپکٹر کو دیکھ کر چونک گئی۔
’’ہم شیلا کو زحمت دینا چاہیں گے۔‘‘ شعیب نے بغور اس کا جائزہ لیا۔
’’شیلا…!‘‘ وہ حیران ہوگئی۔ ’’اس نام کی کوئی عورت یہاں نہیں رہتی۔‘‘
شعیب اور طفیل ہونقوں کی طرح ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگے۔ پھر شعیب بولا۔ ’’پھر ہمیں روزی صاحبہ سے ملوا دیجئے۔‘‘
’’آپ غلط جگہ پر آگئے ہیں۔‘‘ لڑکی نے قدرے ناگواری سے کہا۔ ’’اس نام کی عورت کو ہم قطعی نہیں جانتے۔‘‘
’’آپ کی تعریف…؟‘‘
’’میں شائستہ عمران ہوں۔‘‘
’’عمران صاحب آپ کے…؟‘‘ شعیب نے استفساریہ انداز میں دانستہ اپنا جملہ ادھورا چھوڑا۔
’’میرے ہزبینڈ ہیں۔‘‘
’’وہ گھر پر موجود ہیں؟‘‘
’’ہاں! مگر یہ سب آپ کس لئے پوچھ رہے ہیں؟‘‘
’’ہمیں ایک لڑکی کی تلاش ہے، جس کی شکل ہوبہو آپ سے ملتی ہے۔‘‘
’’مجھ سے ملتی ہے؟ میں آپ کا مطلب نہیں سمجھی…!‘‘
’’ہمیں روزی یا شیلا کی تلاش ہے جسے گزشتہ شب قتل کردیا گیا ہے۔‘‘
’’قتل کردیا گیا ہے؟‘‘ اس کی آنکھوں میں دہشت تیر گئی۔ ’’تعجب ہے ایک ایسی لڑکی کو جو قتل کردی گئی ہے، آپ ڈھونڈتے پھر رہے ہیں؟‘‘
’’ممکن ہے ہمیں مغالطہ ہوا ہو۔‘‘
’’یقیناً مغالطہ ہوا ہے۔
خیر آپ کو مجھ سے کیا کام ہے؟‘‘
’’ہم آپ سے چند سوالات کرنا چاہیں گے۔‘‘
’’کس سلسلے میں…؟‘‘
’’قتل کے سلسلے میں!‘‘
’’ہمارا کسی ایسی لڑکی سے کوئی واسطہ نہیں جو شیلا یا روزی ہو اور قتل بھی کردی گئی ہو۔‘‘ اس نے ٹھوس لہجے میں کہا۔
’’ہمیں آپ کی بات سے اتفاق ہے، لیکن چند اہم سوالات ضروری ہیں۔‘‘
’’معاف کیجئے گا، میں آپ کے کسی سوال کا جواب دینے کے لئے تیار نہیں ہوں، تاوقتیکہ اپنے قانونی مشیر کو طلب نہ کرلوں۔‘‘
اسی وقت ایک منحنی سا شخص اندر سے برآمد ہوا۔ وہ پچپن ساٹھ برس کا ایک گھاگ اور تجربہ کار بوڑھا تھا۔ اس کی آنکھیں گول، چھوٹی اور بہت چمکیلی تھیں۔ پولیس کو دیکھ کر وہ لمحے بھر کے لئے جھجکا اور استفہامیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھنے لگا۔
’’آپ مسٹر عمران ہیں؟‘‘ شعیب نے پوچھا۔
’’جی! مگر آپ کی آمد کا مقصد…؟‘‘
’’ہم ایک قتل کی تفتیش کے سلسلے میں آئے ہیں۔‘‘
’’ہم آپ کو قاتل نظر آتے ہیں؟‘‘ وہ طنزیہ لہجے میں بولا۔
’’ہمارا یہ مقصد نہیں ہے بلکہ ہم…!‘‘
’’آپ کا مقصد ہے قاتل ہمارے گھر چھپا بیٹھا ہے؟‘‘ اس کا موڈ بدستور آف تھا۔
’’آپ سمجھ نہیں رہے۔‘‘ شعیب نے کہا۔ ’’ہم چند سوالات کریں گے، زیادہ وقت نہیں لیں گے۔‘‘
’’کس قسم کے سوالات…؟‘‘
’’آپ کے یہاں ملاقات کا کوئی کمرہ ضرور ہوگا؟‘‘ طفیل نے الٹا سوال جڑ دیا۔
’’زبردستی گھسنا چاہتے ہیں آپ لوگ…؟‘‘
’’ہم درخواست کررہے ہیں۔‘‘
’’اگر آپ کی درخواست رد کردی جائے؟‘‘
’’میرے خیال میں آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے۔‘‘ شعیب نے کہا۔ ’’پولیس سے تعاون ایک اچھے شہری کی ذمہ داری ہے۔‘‘
بوڑھے نے چند لمحے غور کیا، پھر بے بسی کے انداز میں بولا۔ ’’آجائیں مگر ہم زیادہ وقت نہیں دے سکیں گے۔ اس وقت ہم کہیں جارہے ہیں۔‘‘
طفیل اور شعیب ڈرائنگ روم میں پہنچے تو بوڑھے عمران کی بات درست ثابت ہوئی۔ دو اٹیچی کیس اور کچھ سامان پیک کیا ہوا رکھا تھا۔ شعیب کو اس جانب متوجہ پا کر عمران بولا۔ ’’میں نے کہا نا ہم لوگ چند روز کے لئے دوسرے شہر جارہے ہیں۔ میری والدہ کی حالت نازک ہے۔‘‘
’’آپ نے سیٹھ ہارون کی ملازمت کیوں ترک کردی؟‘‘ شعیب نے اچانک شائستہ عمران سے سوال کیا۔
’’کون سیٹھ ہارون…؟‘‘ وہ چونکی۔
’’میں نیشنل ٹریڈنگ کمپنی کی بات کررہا ہوں۔‘‘
’’میرا اس کمپنی سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔‘‘ وہ بولی۔ ’’میں نے آج تک کسی کی ملازمت نہیں کی۔ ہم خوشحال لوگ ہیں۔‘‘
’’بڑی خوشی کی بات ہے۔‘‘ شعیب مسکرایا۔ ’’ویسے آپ کے بال کچھ زیادہ پرکشش نہیں ہیں اور چونکہ آپ خوشحال ہیں، اس لئے وگ ضرور استعمال کرتی ہوں گی۔‘‘
’’کیا مطلب…؟‘‘ وہ تیز لہجے میں بولی۔
’’میرا مطلب ہے سیاہ یا ڈارک برائون وگ…!‘‘
’’دیکھئے مسٹر!‘‘ اس بار عمران نے دخل اندازی کی۔ ’’آپ کو میری بیوی کے ذاتی معاملات سے دلچسپی نہیں ہونا چاہئے۔‘‘
’’سیٹھ ہارون کی سیکرٹری ڈارک برائون وگ استعمال کرتی تھی۔‘‘ شعیب نے اس کی تنبیہ کو نظرانداز کرکے معنی خیز انداز میں کہا۔
’’ضرور استعمال کرتی ہوگی۔‘‘ عمران نے جواب دیا۔ ’’عورتیں عموماً وگ پہنتی ہیں۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہونی چاہئے۔‘‘
’’اس کا نام روزی تھا۔‘‘ شعیب پھر اس کی بات نظرانداز کرکے بولا۔ ’’وہ آپ کی ہم شکل تھی اور موتیوں کے ہار کی چوری میں ملوث ہے۔‘‘
’’ہم اس سلسلے میں کچھ نہیں جانتے۔‘‘ شائستہ نے بات ختم کرنے کی کوشش کی۔
’’فاخر کو تو ضرور جانتی ہوں گی آپ؟‘‘ (جاری ہے)