Haar | Part1

1252
اس کی مسکراہٹ بڑی معنی خیز تھی، جو اس کے ہونٹوں پر اس وقت ابھری تھی جب وہ اپنی پرانے ماڈل کی گاڑی سے اتر کے اپنے سامنے کھڑی پانچ منزلہ شاندار عمارت کو سر اٹھا کے چند ثانیے تک دیکھتا رہا۔ دل میں اسے اپنے کلائنٹ کی امارت کا اندازہ ہوا۔ یہ اس کے کام کا پہلا اصول تھا کہ اسامی موٹی ہونی چاہئے تاکہ کام کا مزہ آئے۔
’’ہوں…! تو گویا ہارون شاہ کا دفتر پانچ منزلوں پر محیط ہے… گڈ!‘‘ وہ ہولے سے بڑبڑایا اور شیشے کے گیٹ کے نزدیک پہنچا تو ایک وردی پوش محافظ نے فوراً شیشے کا دروازہ کھول دیا۔ اندر قدم رکھتے ہی ’’واک تھرو‘‘ گیٹ تھا۔ وہاں بائیں ہاتھ پر ایک میز اور ایک کرسی دھری تھی۔ یہاں دو وردی پوش افراد کھڑے تھے۔ ان میں ایک خاتون تھی۔ اسی نے ہی شعیب رضا کو ’’واک تھرو‘‘ گیٹ سے گزرتے ہی روک کر پوچھا۔ ’’ایکسیوزمی سر! آپ کو کس سے ملنا ہے؟‘‘
’’مجھے سیٹھ ہارون شاہ سے ملنا ہے۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’اوکے… ویل کم! آپ ففتھ فلور پر چلے جائیں۔ لفٹ سامنے ہے۔‘‘ اس خوبصورت خاتون نے پیشہ ورانہ خوش خلقی سے سامنے لفٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اور شعیب ’’شکریہ‘‘ کہتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔
اس کے سامنے دو لفٹ تھیں۔ اس کے سیدھے ہاتھ والی لفٹ کا دروازہ کھلا اور وہ اس میں داخل ہوگیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ آخری منزل پر تھا۔ سیٹھ ہارون شاہ کا آفس اسی منزل پر واقع تھا اور وہاں کی شان و شوکت اور ماحول کچھ ایسی تمکنت اور رعب و دبدے والا تھا کہ آدمی خواہ مخواہ احساس کمتری میں مبتلا ہوجائے۔ اگرچہ سیٹھ ہارون جائز اور قانونی کاروبار کرتا تھا لیکن ہوسکتا ہے کہ شان و شوکت کا اظہار کامیاب کاروبار کا اہم پہلو ہو۔
شعیب کچھ زیادہ متاثر نہیں ہوا۔ وہ استقبالیہ پر پہنچا تو حسین خدوخال کی ایک نازک اندام لڑکی نے سحر انگیز مسکراہٹ سے اس کا استقبال کیا۔ وہ غیر ملکی لگتی تھی۔ اس طرح کے ہائی فائی دفتروں میں غیر ملکی لڑکیاں رکھنا بھی ایک عام چلن ہو چلا تھا۔ اسی طرح یہاں کے فائیو اسٹار ہوٹلز میں بھی بیشتر اسٹاف میں غیر ملکی لڑکیاں دیکھنے کو ملتی تھیں۔ شعیب نے محسوس کیا کہ اس میں ایک مثالی ریسپشنسٹ ہونے کی تمام تر صلاحیتیں موجود ہیں۔
’’آپ کس سے ملنا چاہتے ہیں؟‘‘ لڑکی نے سوال کیا۔
شعیب اس کی آواز کی نغمگی میں ڈوب گیا۔ اس کا اندازتکلم انتہائی پرکشش تھا۔
’’میں آپ کے باس سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘ شعیب نے پروقار انداز میں کہا۔
لڑکی نے فوراً انٹرکام پر رابطہ کیا اور ذرا دیر بعد شگفتہ لہجے میں بولی۔ ’’پلیز آپ اندر چلے جایئے۔‘‘
اسی وقت ایک وجیہ نوجوان رہنمائی کے لئے آموجود ہوا اور شعیب اس کی معیت میں سیٹھ ہارون شاہ کے شاندار دفتر میں داخل ہوگیا۔ وہ ادھیڑ عمر کا گول مٹول اور با رعب شخص تھا۔ اس کی وسیع میز پر کئی رنگ برنگے ٹیلیفون موجود تھے اور ہر لمحہ کسی نہ کسی کا بزر چیخ رہا تھا۔ اس کے قریب ہی تیکھے نقوش والی ایک حسین لڑکی بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کی عمر پچیس برس سے زیادہ نہیں ہوگی تاہم چہرے کے نقوش اور ماہرانہ میک اَپ نے اسے اٹھارہ برس کی بنا دیا تھا۔ وہ بیزاری سے سیٹھ ہارون کی حرکات کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے چہرے سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ شدید بوریت کا شکار ہے۔
سیٹھ ہارون نے شعیب کو خوش آمدید کہنے کے لئے اٹھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، البتہ سر کو خفیف انداز میں پذیرائی کے طور پر ہلایا۔
’’میں پرائیویٹ سراغرساں شعیب رضا ہوں۔‘‘ اس نے اپنا تعارف کرایا اور آگے بولا۔ ’’غالباً فون پر آپ ہی نے مجھ سے رابطہ قائم کیا تھا؟‘‘
’’جی! تشریف رکھئے۔‘‘ سیٹھ ہارون کی آواز میں تحکمانہ انکساری تھی۔ ’’میں آج کل ایک مسئلے سے دوچار ہوں۔‘‘
’’بلاتکلف فرمایئے، رازداری میرے پیشے کا اہم ترین جزو ہے۔‘‘
’’خوب! ذرا یہ بتایئے کوئی چیز تلاش کرنے میں آپ کتنا وقت لیں گے؟‘‘
’’یہ بات تو چیز اور حالات پر منحصر ہے۔‘‘ شعیب نے جواب دیا۔ ’’بہتر ہوگا کہ آپ مجھے تفصیلات سے آگاہ کردیجئے۔‘‘
’’تفصیلات کوئی خاص نہیں ہیں۔‘‘ وہ قریب بیٹھی عورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ ’’میری بیگم کا ہار چوری ہوگیا ہے۔‘‘
’’کیا زیادہ قیمتی تھا…؟‘‘
’’خاصا قیمتی تھا۔‘‘ سیٹھ ہارون نے بتایا۔ ’’وہ ہار بیگم کی خواہش پر ایک فرانسیسی بیوہ سے میں نے پچاس ہزار ڈالر میں خریدا تھا اور اس کی موجودہ مالیت ایک کروڑ روپے سے کسی طرح کم نہیں ہوگی۔‘‘
’’ہار کن حالات میں چوری ہوا…؟‘‘
’’حالات بہت پراسرار ہیں، مسٹر شعیب! سمجھ میں نہیں آتا کہ…!‘‘
’’سمجھ میں نہ آنے والی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘ بیگم ہارون نے غصیلے انداز میں شوہر کی بات کاٹ دی۔ ’’اس حرافہ کے سوا یہ اور کسی کی حرکت نہیں ہوسکتی۔‘‘
شعیب فوراً بیگم ہارون کی طرف متوجہ ہوگیا۔ ’’آپ کسی خاتون کا ذکر کررہی ہیں شاید…؟‘‘
’’شاید نہیں… یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ میرا ہار ان کی چہیتی سیکرٹری نے چرایا ہے۔ اس نے بارہا اسے للچائی ہوئی نظروں سے دیکھا تھا۔ اس کی نیت پہلے ہی دن سے خراب ہوگئی تھی۔‘‘
’’مگر بیگم! تم نے ہار کی گمشدگی کے بارے میں جن حالات کا ذکر کیا تھا…!‘‘
’’وہ ڈرامہ بھی ہوسکتا ہے۔‘‘ بیگم ہارون نے تند لہجے میں کہا۔ ’’میں بچی نہیں ہوں سیٹھ صاحب!‘‘
شعیب نے اندازہ کرلیا کہ ادھیڑ عمر شوہر نوجوان بیوی سے بہت ڈرتا ہے، اس نے بیگم ہارون سے درخواست کی۔ ’’براہ کرم وہ واقعہ بیان کیجئے، جن حالات میں ہار گم ہوا۔ خواہ وہ ڈرامہ ہی کیوں نہ رہا ہو۔‘‘
’’میں ایک تقریب میں شرکت کی تیاری کررہی تھی۔‘‘ بیگم ہارون بتانے لگی۔ ’’ہار اس وقت میرے ہاتھ میں تھا اور میں گلے میں ڈالنے کا ارادہ کررہی تھی کہ اچانک الماری کے عقب سے ایک مردانہ ہاتھ برآمد ہوا۔ اس کا رنگ سیاہ تھا غالباً اس نے چیک کی قمیض پہن رکھی تھی اور جسم پر کوٹ بھی موجود تھا کیونکہ آستین سے یہی ظاہر ہوتا تھا۔ اس خوفناک ہاتھ نے اس قدر سختی سے میرا ہاتھ پکڑا کہ تکلیف کے باعث ہار چھوٹ کر فرش پر گر پڑا۔ اس کے بعد کیا ہوا، مجھے نہیں معلوم! دہشت کے باعث میں نیم بے ہوش ہوگئی تھی۔‘‘
’’ہاتھ کے علاوہ جسم کا کوئی اور حصہ آپ کو دکھائی نہیں دیا؟‘‘
’’نہیں! وہ پوری طرح میرے سامنے نہیں آیا، صرف ہاتھ دیکھ سکی تھی میں بازو تک!‘‘
’’سیکرٹری اس وقت کہاں تھی؟‘‘
’’روزی میرے کمرے میں موجود تھی۔ اس وقت وہ ہار کی بے حد تعریف کررہی تھی اور حریص نظروں سے اسے گھورے جارہی تھی۔‘‘
’’روزی سے آپ کی مراد کہیں روزینہ تو نہیں؟‘‘ شعیب نے کسی خیال کے تحت کہا مگر بیگم ہارون خاموش رہی۔
شعیب نے کچھ سوچ کر اگلا سوال کیا۔ اس بار تخاطب سیٹھ ہارون تھا۔ ’’کیا روزی کی رہائش آپ کے یہاں ہے؟‘‘
’’نہیں! وہ ہمارے ساتھ نہیں رہتی۔‘‘ سیٹھ ہارون نظریں چرا کر بولا۔ ’’کبھی کبھار دفتری امور کے سلسلے میں گھر آجاتی ہے۔‘‘
بیگم ہارون نے قہر آلود نگاہوں سے شوہر کی طرف دیکھا۔ وہ بغلیں جھانکنے لگا۔ پھر دھیمے لہجے میں بولا۔ ’’بیگم! آپ خواہ مخواہ…!‘‘
’’خاموش رہئے جی آپ!‘‘ بیگم ہارون نے شوہر کو جھڑکا۔ ’’آخر آپ اس کی حمایت پر کیوں تلے ہوئے ہیں اور اگر وہ چور نہیں ہے تو اس روز فرار کیوں ہوگئی؟‘‘
’’وہ فرار ہوچکی ہے؟ آئی مین… ابھی تک روزی مفرور ہے؟‘‘
’’ہاں! آج وہ دفتر نہیں آئی۔ مجھے تو گہری چال معلوم ہوتی ہے۔‘‘ وہ شوہر کی طرف مشکوک نظروں سے دیکھنے لگی۔
’’یہ کب کا واقعہ ہے؟‘‘ شعیب نے پوچھا۔
’’کل شام کا۔‘‘ جواب ملا۔
شعیب، سیٹھ ہارون سے مخاطب ہوکر بولا۔ ’’میرے خیال میں آپ کو اپنی سیکرٹری پر شبہ نہیں ہے۔ کیا کوئی اور شخص ہے جسے آپ اپنی نگاہ میں مشکوک تصور کرتے ہوں؟‘‘
سیٹھ ہارون چند لمحے توقف کے بعد بولا۔ ’’میں اسے فرشتہ قرار نہیں دے رہا، لیکن مجھے اپنے لڑکے پر زیادہ شک ہے۔‘‘
’’لڑکے پر…؟‘‘ شعیب چونک کر سیٹھ ہارون کی طرف دیکھنے لگا۔ ’’اس کی کوئی خاص وجہ…؟‘‘
’’اسی روز فاخر نے مجھ سے دس لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔‘‘
’’اور آپ نے اسے رقم دینے سے انکار کردیا تھا؟‘‘
’’ہاں…!‘‘
’’وہ آپ کے کاروبار میں شریک نہیں ہے؟‘‘
’’میں نے اسے عاق کردیا ہے۔‘‘
’’معاف کیجئے گا۔ یہ ذاتی سوال ہے۔‘‘ شعیب نے محتاط لہجے میں کہا۔ ’’عاق کرنے کا کوئی خاص سبب؟‘‘
اس سوال پر سیٹھ ہارون کے چہرے پر رنج و الم کے آثار نمایاں ہوگئے۔ پھر وہ اداس لہجے میں بولا۔ ’’ہوسکتا ہے میری تربیت میں کوئی کمی رہ گئی ہو۔ وہ بداطوار اور نافرمان نکلا۔ شراب اور ہر قسم کی غلط روی اس کی فطرت بن چکی ہے۔ وہ ہر وقت نشے میں دھت آوارہ گردی اور بازاری عورتوں میں غرق رہتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل میں نے کاروبار اس کے سپرد کردیا تھا لیکن جلد ہی مجھے معلوم ہوگیا کہ اگر کاروبار کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں رہی تو میری زندگی بھر کی محنت ٹھکانے لگ جائے گی۔‘‘
’’مجھے افسوس ہے۔‘‘ شعیب نے ہمدردی کا اظہار کیا۔ ’’آپ کے خیال میں اس نے مایوس ہوکر ضرورتاً اور انتقاماً ہار اڑایا ہے؟‘‘
’’میں کوئی حتمی بات نہیں کہہ سکتا۔‘‘ سیٹھ ہارون نے جواب دیا۔ ’’یہ سب کچھ معلوم کرنا آپ کا کام ہے۔‘‘
’’یقینا…!‘‘ شعیب نے اپنے سر کو اثبات میں جنبش دی۔ ’’ذرا یہ بتایئے کہ ان دونوں کا آپس میں کوئی تعلق تھا؟‘‘
’’کن دونوں کا…؟‘‘
’’میرا مطلب ہے آپ کا بیٹا فاخر اور آپ کی سیکرٹری مس روزی!‘‘
’’ہاں! کبھی کبھار انہیں ایک ساتھ دیکھا گیا ہے۔‘‘
’’روزی کا پتا تو ریکارڈ میں ضرور موجود ہوگا؟‘‘
’’اس کا سابقہ پتا فائل میں موجود ہے۔‘‘ سیٹھ ہارون نے کہا۔ ’’لیکن ایک ہفتہ قبل اس نے اپنی رہائش تبدیل کرلی تھی۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ اس کا نیا مکان کہاں ہے۔‘‘
’’فاخر سے کہاں رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے؟‘‘
’’وہ میرے پاس نہیں رہتا۔‘‘ سیٹھ ہارون نے جواب دیا۔ ’’بس! مجھے اتنا معلوم ہے کہ سٹی اسکوائر کے ایک فلیٹ میں اس نے رہائش اختیار کررکھی ہے۔‘‘
’’روزی کو آپ کے یہاں سیکرٹری کی حیثیت سے کام کرتے کتنا عرصہ ہوا ہے؟‘‘
’’لگ بھگ ڈھائی ماہ!‘‘
’’آپ نے
پولیس کو اس واقعہ کی اطلاع دی؟‘‘
’’میں نے مناسب نہیں سمجھا۔‘‘ سیٹھ ہارون نے جواب دیا۔ ’’ورنہ آپ کو زحمت کیوں دی جاتی۔ دراصل مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میری ذات سے کوئی اسکینڈل وابستہ ہو۔ میں کاروباری آدمی ہوں، اس طرح میری ساکھ پر اثر پڑ سکتا ہے۔‘‘
’’بالکل…!‘‘ شعیب نے تائیداً کہا۔ ’’آپ کے پاس روزی کی کوئی تصویر ہوگی؟‘‘
’’ہاں! لیکن اسے تو ہزاروں میں شناخت کیا جاسکتا ہے۔‘‘
’’کیسے…؟‘‘
’’اس کے بال گہرے برائون، اسٹائلش اور منفرد قسم کے ہیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے سیٹھ ہارون نے جیب سے ایک پاسپورٹ سائز تصویر نکال کر شعیب کی طرف بڑھا دی۔
وہ بہت غور سے تصویر دیکھنے لگا۔ بلاشبہ اس کے بال مختلف اور اسٹائلش تھے جو بہت کم ملکی خواتین کے ہوتے ہیں، البتہ چہرے کے نقوش مشرقی تھے مگر بالوں کی خاصیت سے وہ نیم یورپین معلوم ہوتی تھی۔
’’مجھے فاخر کی تصویر بھی درکار ہوگی۔‘‘ شعیب نے فوٹو جیب میں رکھتے ہوئے کہا۔
’’مل جائے گی… لیکن مجھے اپنے ناخلف بیٹے کی ضرورت نہیں ہے۔ میری طرف سے وہ جہنم میں جائے۔‘‘
بیگم ہارون جو بہت دیر سے خاموش بیٹھی تھی، اچانک بولی۔ ’’مسٹر شعیب! آپ صرف روزی کو تلاش کیجئے۔ میں پورے وثوق سے کہتی ہوں کہ ہار اسی کے پاس ہے۔‘‘
’’بہت خوب!‘‘ شعیب نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’میں دونوں کو تلاش کروں گا۔ میرا خیال یہی ہے کہ ہار فاخر اور روزی کے درمیان موجود ہے۔‘‘
سیٹھ ہارون نے فاخر کی تصویر بھی اس کی طرف بڑھا دی۔ شعیب نے دیکھا وہ ایک وجیہ نوجوان تھا۔ اس کی شخصیت عورتوں کے لئے بے پناہ کشش انگیز تھی۔
’’میں کیا توقع رکھوں؟‘‘ بیگم ہارون نے پوچھا۔ ’’وہ گمشدہ ہار آپ کب تک تلاش کرلیں گے؟‘‘
’’اس سلسلے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔‘‘ شعیب نے جواب دیا۔ ’’چند گھنٹوں میں بھی کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔ چند روز یا چند ہفتے بھی لگ سکتے ہیں، تاہم میری کوشش یہی ہوگی کہ کیس کو جلد ازجلد نمٹا دوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ سیٹھ ہارون نے کہا۔ ’’اگر آپ نے ہار تلاش کرلیا تو میں پانچ لاکھ روپے معاوضہ ادا کردوں گا۔‘‘
’’شکریہ…! لیکن میں کسی قسم کی گارنٹی نہیں دیتا۔‘‘ وہ متانت سے بولا۔ ’’البتہ میں اپنی فیس کا نصف ایڈوانس لیتا ہوں۔ اخراجات اس کے علاوہ ہوں گے جو کلائنٹ کے ذمے!‘‘
سیٹھ ہارون نے اس کی طرف دیکھا اور پھر چیک کاٹتے ہوئے بولا۔ ’’تین لاکھ کا چیک ہے۔ پچاس ہزار برائے اخراجات!‘‘
شعیب نے شکریئے کے ساتھ چیک جیب میں رکھا اور رخصت ہوگیا۔
٭…٭…٭
شعیب اپنے دفتر میں بہت دیر تک کیس کے تانے بانے بنتا رہا۔ آخر اس نے ایک خاکہ ترتیب دیا۔ سیٹھ ہارون ایک کروڑ پتی شخص ہے، جو ایک حسین عورت کا زن مرید شوہر ہے۔ اس نے برائون بالوں والی ایک خوبصورت سیکرٹری رکھی ہوئی تھی اور بیگم ہارون فطری طور پر اس سے حددرجہ رقابت رکھتی ہوگی اور اسے راستے سے ہٹانے کی متمنی ہوگی، چنانچہ اس نے ایک ڈرامہ رچایا یا فرضی واقعے کو حقیقت کا رنگ دینے کے لئے اس نے سیکرٹری کو اغواء کرا دیا، کیونکہ اس کی گمشدگی بھی خالی ازعلت نہیں ہے۔
یہ ایک خیال تھا۔ دوسرا خیال اس نے ان خطوط پر قائم کیا۔ فاخر اور سیکرٹری روزی ایک دوسرے کے شناسا تھے جیسا کہ اکثر انہیں یکجا دیکھا جاتا ہے۔ ظاہر ہے ان دونوں کے درمیان کوئی تعلق ضرور ہوگا۔ یہ تعلق ’’معنی خیز‘‘ بھی ہوسکتا ہے اور اس بنیاد پر بھی ہوسکتا ہے کہ ہار اڑا لینے کے بعد اس میں برابر کی حصے داری ہو۔ وہ سوچنے لگا۔ ہوسکتا ہے فاخر نے کسی اشتراک کے بغیر اپنے طور پر یہ کام کیا ہو۔ اسے رقم کی ضرورت تھی اور گھر میں اس کی آمدورفت پر کوئی پابندی بھی نہیں تھی۔ چنانچہ اس نے ایک پراسرار ڈرامہ رچایا اور ہار غائب کردیا۔ دوسری جانب روزی بھی اس پوزیشن میں ہے کہ کسی مدد و تعاون کے بغیر چوری کرسکے۔ مگر وہ ڈرامہ نہیں رچا سکتی تھی۔
شعیب نے جس قدر غور کیا، کیس کے نئے نئے پہلو ابھر کر سامنے آنے لگے۔ تاہم فاخر اور روزی نمایاں تھے۔ اس نے سب سے پہلے فاخر کو چیک کرنے کا فیصلہ کیا۔ سٹی اسکوائر اسے یاد تھا لیکن کارروائی وہ خفیہ طور پر کرنا چاہتا تھا۔ اس لئے رات کا وقت مقرر کیا۔
٭…٭…٭
رات کے دو بجے وہ سٹی اسکوائر کی پہلی منزل پر فاخر کے فلیٹ کے دروازے پر تھا۔ یہ دیکھ کر اسے تعجب ہوا کہ اپارٹمنٹ کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ اندر ایک بلب روشن تھا اور یہ اس بات کی علامت تھی کہ فاخر ابھی تک جاگ رہا ہے۔ ایک سراغرساں کے لئے یہ معلوم کرنا ضروری تھا کہ اس کا مطلوبہ شخص رات کے دو بجے کس قسم کی سرگرمیوں میں مصروف ہے لہٰذا اس نے خود کو پوشیدہ رکھتے ہوئے احتیاط سے اندر جھانک کر دیکھا اور دوسرے ہی لمحے اچھل پڑا۔
کمرہ بھائیں بھائیں کررہا تھا اور دیوار کی جانب کائوچ اور نیچے فرش پر خون ہی خون نظر آرہا تھا۔ خون تازہ تھا اور یہ ظاہر ہوتا تھا کہ کچھ دیر قبل یہاں کسی کو قتل کیا گیا ہے۔ شعیب سوچنے لگا۔ آیا فاخر قتل ہوا ہے یا وہ خود اپنے اپارٹمنٹ میں کسی کو قتل کرکے فرار ہوگیا ہے۔ معاً اس کے ذہن میں ایک اور خیال ابھرا۔ اس نے سوچا ممکن ہے کہ کچھ اور لوگ بھی ہار سے دلچسپی رکھتے ہوں اور انہیں کسی طرح یہ بات معلوم ہوگئی ہو کہ موتیوں کا وہ قیمتی ہار فاخر کے قبضے میں ہے لہٰذا یہاں پہنچ کر انہوں نے فاخر کو قتل کردیا اور ہار لے اڑے۔ مگر اس نے سوچا ایسا ہوا بھی ہے تو پھر کسی نہ کسی کی لاش کو یہاں ہونا چاہئے تھا، وہ کدھر ہے؟
لاش کا عدم وجود ایک تعجب خیز بات تھی۔ شعیب کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ اندر کے حالات کا جائزہ لے، ممکن ہے لاش کہیں چھپا دی گئی ہو یا قاتل ابھی تک اپارٹمنٹ میں چھپا بیٹھا ہو۔ مگر ساتھ ہی اس خطرے اور قانونی ذمہ داری کا احساس بھی ہوا کہ یہ قتل کا کیس ہے اور کوئی کارروائی کئے بغیر پولیس کو مطلع کرنا ضروری ہے۔ اگر اس کی موجودگی میں پولیس آگئی تو وہ مفت میں دھر لیا جائے گا۔ یوں بھی علاقے کا انچارج انسپکٹر زمان خان اس کا جانی دشمن تھا اور اسے زک پہنچانے کی فکر میں لگا رہتا تھا۔ لہٰذا اس نے یہی مناسب سمجھا کہ ایک گمنام کال کرکے پولیس کو اس واردات کی اطلاع دے دے اور خود رفوچکر ہوجائے۔
یہ سوچ کر وہ نیچے آگیا اور کسی ٹیلیفون بوتھ کی تلاش میں چل پڑا۔ وہ اپنا نمبر استعمال نہیں کرنا چاہتا تھا۔ رات کے پرہول سناٹے میں ایک پبلک بوتھ ویران پڑا تھا۔ شعیب نے مطلوبہ سکے ڈال کر پولیس اسٹیشن رنگ کیا اور پہلی ہی گھنٹی پر جواب آیا۔ ’’یس! انسپکٹر طفیل اسپیکنگ۔‘‘
طفیل کا نام سن کر شعیب رضا حیران ہوا اور پھر دوسرے ہی لمحے اس کے چہرے پر مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ طفیل نہ صرف اس کا کلاس فیلو تھا بلکہ جگری دوست تھا اور ایک مضافاتی پولیس اسٹیشن میں تعینات تھا، جبکہ مقامی تھانے کا چارج اس کے حریف انسپکٹر زمان خان کے پاس تھا، چنانچہ اس نے پرجوش لہجے میں کہا۔ ’’ہیلو طفیل! تم یہاں کیسے…؟‘‘
’’اوہ…! شعیب بول رہے ہو؟‘‘ طفیل اس کی آواز پہچان کر پرمسرت لہجے میں بولا۔ ’’بھئی میرا یہاں ٹرانسفر ہوگیا ہے۔ آج ہی چارج لیا ہے۔‘‘
’’خوب! مگر یہ زمان خان کہاں گیا؟‘‘
’’وہ سسپنڈ ہوگیا ہے۔‘‘
’’کیوں… ایسا کیسے ہوا؟‘‘
’’ایک پولیس افسر پر دو صورتوں میں عتاب نازل ہوتا ہے۔ فرض ناشناسی اور رشوت!‘‘ طفیل نے جواب دیا۔
’’گویا اس نے لمبا ہاتھ مارا تھا؟‘‘ شعیب بولا۔
’’مجھے تفصیلات کا علم نہیں، مگر تم رات کے تین بجے کسی آسیب کی مانند کہاں سے بول رہے ہو؟‘‘
’’یار! ایک قتل ہوگیا ہے۔‘‘
’’تم سے…؟‘‘
’’کیا بات کرتے ہو۔‘‘ شعیب پریشان ہوکر بولا۔
’’بولو… مذاق کررہا تھا۔ کون اور کس کا قتل ہوا ہے؟‘‘ انسپکٹر طفیل ہنسا۔
’’کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ پورے کمرے میں خون پھیلا ہوا ہے۔‘‘
’’کیا مطلب! لاش موجود نہیں ہے؟‘‘
’’نہیں!‘‘ شعیب نے جواب دیا۔
’’اوہ…!‘‘ طفیل چونکا اور آگے مستفسر ہوا۔ ’’تمہیں اس واردات کا کیسے علم ہوا؟‘‘
’’میں ایک کیس کے سلسلے میں سٹی اسکوائر آیا تھا۔‘‘ شعیب بتانے لگا۔ ’’مجھے موتیوں کے ایک ہار کی تلاش ہے اور اس سلسلے میں فاخر نامی ایک نوجوان اور ڈارک برائون بالوں والی ایک لڑکی مطلوب ہے۔‘‘
’’کیا جائے واردات اس ڈارک برائون بالوں والی لڑکی کی رہائشگاہ ہے؟‘‘ طفیل نے سوال کیا۔
’’نہیں!‘‘ شعیب نے بتایا۔ ’’وہ سیٹھ ہارون کے عاق شدہ بیٹے فاخر کا اپارٹمنٹ ہے۔‘‘
’’اس کا لڑکی سے کیا تعلق ہے؟‘‘ سوال ہوا۔
’’وہ اس کی دوست سمجھی جاسکتی ہے۔‘‘
’’تمہارے خیال میں یہ قتل مسروقہ ہار کے سلسلے میں ہوا ہے؟‘‘
’’حالات سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے۔‘‘
’’موتیوں کا ہار کس کی ملکیت ہے؟‘‘
’’وہ بیگم ہارون کا تھا اور نہایت پراسرار حالات میں غائب ہوا ہے۔‘‘
’’پراسرار حالات سے تمہاری کیا مراد ہے؟‘‘
’’حماقت!‘‘ شعیب نے جل کر کہا۔ ’’بھلے آدمی! مزید سوالات بعد میں… فون پر اس قسم کی گفتگو مناسب نہیں ہے۔‘‘
’’تم کہاں سے فون کررہے ہو؟‘‘
’’سٹی اسکوائر اسٹریٹ کے ایک ٹیلیفون بوتھ سے جو قریب ہی واقع ہے۔‘‘
’’اوکے! میں فوراً پہنچ رہا ہوں، تم وہیں ٹھہرو۔‘‘ طفیل نے کہا۔
٭…٭…٭
انسپکٹر طفیل اپنی سرکاری جیپ میں جلد ہی مقررہ مقام پر پہنچ گیا۔ شعیب اسی کا منتظر تھا۔ انہوں نے مزید گفتگو سے احتراز کیا اور تیزی سے سٹی اسکوائر کی طرف چل دیئے۔
سیڑھیاں عبور کرکے وہ اوپر پہنچے تو دروازہ حسب سابق کھلا ہوا تھا۔ وہ اندر داخل ہوئے۔ نشست گاہ اور فرش پر خون پھیلا ہوا تھا اور کمرے کی فضا میں عجیب سی بو رچی ہوئی تھی۔
’’عجیب واردات ہے۔‘‘ طفیل نے متجسس انداز میں کہا۔ ’’قاتل کا پتا ہے، نہ ہی مقتول کا!‘‘
’’اتنی جلدی ناامید کیوں ہوتے ہو، ابھی رنگِ آسمان اور بھی ہیں۔‘‘ کہتے ہوئے شعیب نے متلاشی نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھا اور بولا۔ ’’ممکن ہے لاش چھپا دی گئی ہو یا قاتل خود پوشیدہ ہو، لہٰذا ہم پورے اپارٹمنٹ کا جائزہ لیں گے۔ ہوسکتا ہے موتیوں کا ہار کہیں سے دستیاب ہوجائے۔‘‘
’’ناممکن!‘‘ طفیل فیصلہ کن لہجے میں بولا۔ ’’حالات بتاتے ہیں کہ یہاں لاش موجود ہے، نہ قاتل اور نہ ہی
موتیوں کا مسروقہ ہار!‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ شعیب نے کہا۔ ’’مگر جائے واردات کو ہم کس طرح نظرانداز کرسکتے ہیں۔ پھر ایک سرسری نظر جائزہ لینے میں حرج ہی کیا ہے۔‘‘
’’کوئی مضائقہ نہیں۔‘‘ طفیل نے جواب دیا۔ ’’تم تلاشی لو، میں دروازے پر ٹھہرتا ہوں۔‘‘
شعیب نے کمرے، کچن، باتھ روم، الماریاں اور دیگر جگہیں چھان ماریں لیکن کہیں کسی ذی روح کا وجود نہیں ملا۔ دراصل خود وہ طفیل کے خیال سے متفق تھا لیکن شک رفع کرنا بہرحال ضروری تھا۔
’’میرا خیال غلط نہیں تھا۔‘‘ طفیل فخریہ لہجے میں بولا۔ ’’وہ اتنا بے وقوف نہیں ہوگا کہ قتل جیسا سنگین جرم کرنے کے بعد پولیس کے انتظار میں یہاں بیٹھا رہے اور موتیوں کا ہار بھی چھوڑ جائے۔ ویسے کیس پیچیدہ ہے۔‘‘
’’داخل دفتر کردو۔‘‘ شعیب نے چوٹ کی۔ ’’تم پولیس والوں کی سمجھ میں جب کوئی بات نہیں آتی تو یہی طریقہ اختیار کرتے ہو۔‘‘
’’بکواس مت کرو۔‘‘ طفیل ہنس کر بولا۔ ’’مجھے ذرا سیٹھ ہارون کے لڑکے کے بارے میں تفصیل سے بتائو، شاید کوئی کڑی ہاتھ آجائے۔‘‘
’’اس کا نام فاخر ہے اور یہ اسی کی رہائشگاہ ہے۔‘‘ شعیب نے بتایا۔ ’’وہ ایک سرمایہ دار کا بگڑا ہوا اوباش لڑکا ہے، جسے باپ نے عاق کردیا ہے اور یہ کہ سیٹھ ہارون کو اسی پر شک ہے۔‘‘
’’اس حساب سے تو وہی قاتل قرار پاتا ہے۔‘‘ طفیل نے سوچتے ہوئے کہا۔ ’’بشرطیکہ اس اپارٹمنٹ میں کوئی قتل ہوا ہو۔‘‘
’’تمہارے خیال میں یہاں کسی جانور کو ذبح کیا گیا ہے؟‘‘
’’اس بات کا بھی امکان ہے۔‘‘ طفیل بولا۔ ’’ممکن ہے کسی مقصد کے تحت پولیس کو غلط راہ پر ڈالنے کے لئے واردات کے مصنوعی حالات پیدا کردیئے گئے ہوں۔‘‘
’’فضول بات!‘‘ شعیب نے جھنجھلا کر کہا۔ ’’تم خواہ مخواہ واقعات کو پیچیدہ بنانے کی کوشش کررہے ہو۔ اس طرح اصل راستے سے ہٹ جائو گے۔‘‘
’’اصل راستہ کون سا ہے؟‘‘ طفیل نے پوچھا۔
’’فاخر کو تلاش کیا جائے۔‘‘ شعیب نے جواب دیا۔ ’’کیونکہ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی کو قتل کرکے فرار ہوگیا ہے۔‘‘
’’اور اگر خود اسی کا قتل ہوگیا ہو تو…؟‘‘
’’تو اس کی لاش دستیاب ہوگی۔‘‘ شعیب نے فوراً جواب دیا۔ ’’ایک مفروضہ ہے، غلط بھی ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد کوئی اور نظریہ قائم کریں گے۔ غیر واضح اور مبہم کیس کی بنیاد مفروضوں اور نظریوں پر ہی قائم کی جاتی ہے۔‘‘
’’فلسفہ مت بگھارو!‘‘ طفیل نے منہ بنا کر کہا۔ ’’کیا سیٹھ ہارون، فاخر کا متبادل پتا یا ٹھکانہ بتا سکتا ہے؟‘‘
’’نہیں! وہ اپنے بیٹے سے مکمل قطع تعلق کرچکا ہے، البتہ اس فلور کے دیگر افراد اس سلسلے میں ضرور کچھ جانتے ہوں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ طفیل نے تائید کی۔ ’’ہم باری باری سب سے معلومات حاصل کریں گے اور ضرورت پڑی تو باقاعدہ بیان لیا جائے گا۔ تم برابر والے دروازے پر دستک دو۔‘‘
دروازے پر کال بیل کا سوئچ موجود تھا اور جواد مرزا کے نام کی تختی لگی ہوئی تھی، مگر اس گھر کے مکین شاید تمام غموں سے آزاد ہوکر سوئے تھے۔ اندر گھنٹی کا بزر چیخ رہا تھا اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی تھی۔
آخر بڑی دیر بعد ایک فربہ اندام عورت نے دروازہ کھولا۔ اس کے چہرے پر دہشت کے آثار امڈ آئے۔ ایک پولیس انسپکٹر کو وردی میں اپنے دروازے پر دیکھ کر وہ پریشان ہوگئی اور خوف زدہ لہجے میں بولی۔ ’’آ… آپ کیا چاہتے ہیں؟‘‘
’’خاتون! ہم بے وقت آپ کو تکلیف دینے کے لئے معذرت چاہتے ہیں۔‘‘ شعیب نے کہا۔ ’’دراصل برابر والے فلیٹ میں قتل ہوگیا ہے۔ ہم اسی سلسلے میں کچھ معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’قق… قتل!‘‘ عورت کا چہرہ سفید پڑگیا۔ ’’ہہ… ہہ… ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں… ہم کچھ نہیں جانتے۔‘‘
’’یقیناً آپ صحیح کہہ رہی ہوں گی اور ہم بھی آپ کو قاتل نہیں سمجھ رہے۔ بس آپ ہمارے چند سوالوں کے جواب دے دیجئے۔ ذرا اس اپارٹمنٹ تک چلنا ہوگا، جہاں قتل ہوا ہے۔‘‘
’’نن… نہیں! بھلا میں وہاں کیوں جائوں… ہائے اللہ! یہ کیسی مصیبت پڑگئی؟‘‘ وہ عورت ہذیانی انداز میں چیخی اور دونوں ہاتھوں سے سر تھامے ہوئے فرش پر بیٹھ گئی۔ وہ بہت خوف زدہ ہوگئی تھی اور بے ہوش ہونے کی تیاری میں تھی۔
تب ہی طفیل نے اسے تسلی دی اور کہا۔ ’’پریشان نہ ہوں خاتون! ہماری موجودگی میں آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچے گی۔‘‘
’’میں وہاں نہیں جاسکتی۔‘‘ وہ کانپنے لگی اور بے ڈھنگے انداز میں تیزی سے اندر چلی گئی۔
کچھ دیر بعد ایک شریف صورت شخص مضطرب الحال چہرے کے ساتھ باہر آیا۔ اللہ نے خوب جوڑی ملائی تھی، کیونکہ وہ جسامت میں عورت سے بھی ڈبل تھا اور غالباً اس کا شوہر تھا۔
’’کون قتل ہوگیا ہے؟‘‘ اس نے مرتعش سی آواز میں پوچھا۔
’’ابھی کچھ واضح نہیں۔‘‘ طفیل نے کہا۔ ’’بہت سا خون البتہ کمرے میں موجود ہے۔ ہم آپ سے مسٹر فاخر کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’کون فاخر…؟‘‘
’’آپ کا پڑوسی، جس کے اپارٹمنٹ میں قتل ہوا ہے۔‘‘
’’وہ بڑا پراسرار آدمی ہے۔‘‘ جواد مرزا نے بتایا۔ ’’اس نے آج تک کسی سے ربط و ضبط بڑھانے کی کوشش نہیں کی بلکہ میں اس کی صورت سے صحیح طور پر آشنا بھی نہیں ہوں۔ وہ اکثر رات گئے گھر لوٹتا ہے اور صبح دیر تک سوتا رہتا ہے اور کسی وقت خاموشی سے نکل جاتا ہے۔‘‘
’’کیا اس کے ساتھ اور کسی کو بھی دیکھا گیا ہے؟‘‘
’’ہاں!‘‘ جواد مرزا نے اپنا سر اثبات میں ہلایا۔ ’’اس کے ساتھ کبھی کبھی دوچار آدمیوں کو دیکھا گیا ہے۔ شکل و صورت سے وہ لوگ اچھے معلوم نہیں ہوتے۔ اس رات خوب غل غپاڑہ مچتا ہے۔ شاید وہ لوگ جوا کھیلتے ہیں اور شراب پیتے ہیں۔‘‘
’’آپ نے کبھی پولیس کو مطلع کرکے ان کی شکایت نہیں کی؟‘‘
’’سب لوگ اس سے خوف زدہ ہیں۔ کوئی مفت میں مصیبت مول لیتا ہے؟‘‘
’’اس کے ساتھ کوئی عورت بھی دیکھی گئی ہے؟‘‘
’’جی ہاں! یہاں اکثر عورتیں آتی رہتی ہیں اور میرے خیال میں ان کا شرفا سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔‘‘
’’کسی گہرے بھورے بالوں والی لڑکی کو اس کے ساتھ دیکھا گیا ہے؟‘‘
’’بھورے بالوں والی…؟‘‘ جواد مرزا کچھ سوچنے لگا۔ پھر بولا۔ ’’میں نے غور نہیں کیا کبھی۔‘‘
’’آج…! میرا مطلب ہے، گزشتہ روز کوئی عورت تنہا فاخر کے ساتھ یہاں آئی تھی؟‘‘
’’مجھے معلوم نہیں۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’آپ معمول کے مطابق روزانہ کس وقت گھر پہنچ جاتے ہیں؟‘‘
’’میں صبح آٹھ بجے دکان کھولتا ہوں اور تقریباً رات کے نو بجے تک گھر آجاتا ہوں۔‘‘
’’کس چیز کی دکان ہے آپ کی…؟‘‘
’’جوتوں کی!‘‘ اس نے بتایا۔
’’آج رات جب آپ گھر پہنچے تو فاخر کا اپارٹمنٹ کا دروازہ بند تھا یا کھلا ہوا؟‘‘
’’اس کا دروازہ ہمیشہ بند ہی رہتا ہے لیکن رات میں ڈیڑھ بجے گھر پہنچا تھا۔‘‘
شعیب نے محسوس کیا کہ یہ انکشاف کرکے وہ متفکر ہوگیا ہے۔ اس نے فوراً پوچھا۔ ’’دیر سے آنے کی کوئی خاص وجہ؟‘‘
’’میں ایک دوست کے گھر تقریب میں مدعو تھا۔‘‘
’’تقریب سے نمٹ کر جب رات ڈیڑھ بجے آپ گھر آئے تو کوئی غیر معمولی بات محسوس کی؟‘‘
’’غیر معمولی…!‘‘ جواد چونک سا گیا۔ ’’جی نہیں! سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔‘‘
طفیل کو اندازہ ہوا کہ وہ کچھ چھپانے کی کوشش کررہا ہے۔ چنانچہ ذرا سخت لہجے میں بولا۔ ’’دیکھئے مسٹر! آپ کے لئے ضروری ہوگا کہ جو جانتے ہیں، من و عن بیان کر دیں۔ ایک ذمہ دار شہری ہونے کی حیثیت سے یہ آپ کا فرض ہے۔‘‘
’’آپ کا خیال درست ہے۔‘‘ بالآخر جواد مرزا نے ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے جواب دیا۔ ’’میں اپنے فرض کو بخوبی سمجھتا ہوں لیکن ہم کاروباری لوگ الجھن میں پڑنا پسند نہیں کرتے۔ وہ بہت خطرناک آدمی ہے، انسپکٹر صاحب! اس کے علاوہ روزانہ عدالت کے چکر لگانے میں کاروبار ہی ٹھپ ہوکر رہ جائے گا۔‘‘
’’عدالت میں آپ کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔‘‘ طفیل نے حوصلہ دیا۔ ’’اگر آپ کی ضرورت محسوس ہوئی تو ہم کوشش کریں گے کہ صرف ایک دن بلایا جائے اور اسی دن فارغ کردیا جائے۔ اب بتایئے آپ اس سلسلے میں ہماری کیا مدد کرسکتے ہیں؟‘‘
جواد مرزا نے اب بھی جواب دینے میں جلدی نہیں کی۔ چند لمحوں بعد اس نے ایک گہری سانس خارج کی اور دھیمے مگر قدرے خوف زدہ سے لہجے میں بولا۔ ’’میں ایک اور ڈیڑھ بجے کے درمیان واپس آیا تھا۔ سیڑھیاں چڑھنے لگا تو ایک شخص بہت تیزی کے ساتھ زینہ اترتا ہوا نظر آیا۔ وہ بیک وقت کئی کئی سیڑھیاں پھلانگ رہا تھا۔ وہ گھبراہٹ میں بڑے زور سے میرے ساتھ ٹکرایا اور پھر وہ رکا بھی نہیں اور اتنی عجلت میں تھا کہ میں ٹھیک طرح اس کی شکل بھی نہ دیکھ سکا، تاہم قدو قامت میں وہ فاخر کے مماثل تھا۔‘‘
’’گویا آپ کے خیال میں وہ فاخر تھا؟‘‘ شعیب نے اسے کریدا۔
’’وثوق سے تو نہیں کہہ سکتا۔ ممکن ہے وہی ہو۔‘‘
’’اس کے بعد…؟‘‘ طفیل نے بیان جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
’’اس وقت فاخر کے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔‘‘ جواد مرزا بتانے لگا۔ ’’میرے لئے یہ انتہائی حیرت کی بات تھی، کیونکہ اس سے پیشتر دروازہ ہمیشہ بند رہتا تھا۔ میں اس وقت بہت گھبرایا ہوا تھا۔ سوچا خاموشی سے گھر میں داخل ہوجائوں اور اس معاملے میں ٹانگ پھنسانے کی کوشش نہ کروں، لیکن تجسس نے میرے اندر سر ابھارا اور میں اندر جھانک کر دیکھنے لگا۔‘‘
’’آپ نے وہاں کیا دیکھا؟‘‘ طفیل نے خاصی بے صبری سے پوچھا۔
’’کمرے کے اندر بلب روشن تھا۔‘‘ جواد مرزا کے لہجے میں مزید خوف جھلکنے لگا تھا۔ ’’اور دیوار کے قریب کائوچ پر ایک نوجوان لڑکی کی لاش پڑی ہوئی تھی۔ یہ ہولناک منظر دیکھ کر مجھ پر دہشت طاری ہوگئی۔ میں لڑکھڑاتے قدموں واپس آگیا۔ اس وقت میری حالت بہت ابتر تھی۔ جسم پسینے میں شرابور تھا اور دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئی تھیں۔ میں نے کانپتے ہاتھوں سے اپنے دروازے کی گھنٹی کا بٹن دبا دیا۔ لیکن کئی بار بٹن پش کرنے کے باوجود دروازہ نہیں کھلا، جبکہ میری بیوی پہلی ہی گھنٹی پر دروازہ کھول دیا کرتی تھی۔ آخر میں نے آواز دی تو اس کا فوری جواب آیا جیسے وہ دروازے سے لگی کھڑی ہو۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں اور دہشت سے برا حال تھا۔ مجھے اندر گھسیٹتے ہوئے
لہجے میں بولی۔ ’’جلدی کرو شاید کسی اپارٹمنٹ میں ڈاکو گھسے ہوئے ہیں۔‘‘
’’تمہیں کیسے معلوم ہوا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’تھوڑی دیر پہلے ایک عورت کے چیخنے کی آواز آئی تھی۔‘‘ وہ سرگوشی میں بولی۔ ’’پھر بھاری قدموں کی آوازیں سنائی دیں، اس کے بعد سناٹا چھا گیا۔‘‘
’’میں سمجھ گیا وہ اس عورت کی بات کررہی ہے جس کی لاش میں کمرے میں دیکھ چکا تھا۔ قتل ہونے سے پہلے یقیناً وہ چیخی ہوگی، تاہم اس خیال سے کہ بیوی مزید خوف زدہ نہ ہو، قتل کی واردات کا ذکر میں نے اپنی بیوی سے کرنا مناسب نہیں سمجھا۔‘‘
’’آپ نے مقتولہ کا چہرہ دیکھا تھا؟‘‘ شعیب نے سوال کیا۔
’’اس کا چہرہ دوسری جانب تھا۔‘‘ جواد مرزا بولا۔ ’’اور مجھ میں اتنا حوصلہ نہ تھا کہ لاش کو قریب سے جاکر دیکھتا۔‘‘
’’ذرا سوچ کر بتایئے مقتولہ کے بال کیسے تھے؟‘‘
’’کیسے سے کیا مراد!‘‘
’’میں بالوں کے رنگ کی بات کررہا ہوں۔‘‘
’’اس کے بال غالباً ڈارک برائون تھے۔‘‘
’’اگر آپ کو تصویر دکھائی جائے تو آپ پہچان لیں گے؟‘‘
’’عرض کیا نا، میں اس کا چہرہ واضح طور پر نہیں دیکھ سکا تھا۔‘‘
’’بہرحال…! ذرا غور سے اس تصویر کو دیکھیں، شاید کوئی اندازہ ہوسکے۔‘‘کہتے ہوئے شعیب نے روزی کی تصویر اس کی طرف بڑھا دی۔
جواد مرزا تصویر دیکھنے لگا۔ اس کے چہرے پر الجھن کے آثار گڈمڈ ہونے لگے۔ طفیل اور شعیب کی دھڑکتی نظریں اس کے بشرے پر اٹک کر رہ گئی تھیں۔ چند لمحوں بعد وہ بولا۔ ’’میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ممکن ہے یہی ہو یا نہ ہو۔‘‘
’’بہت بہت شکریہ!‘‘ شعیب نے کہا۔ ’’آپ نے مفید معلومات فراہم کی ہیں۔ اب آرام کیجئے، کسی وقت ضرورت پڑی تو ایک بار پھر زحمت دی جائے گی۔‘‘
جواد مرزا فوراً اندر چلا گیا اور طفیل، شعیب کے کاندھے پر ہاتھ مار کر بولا۔ ’’لیجئے جناب! اس بات کا فیصلہ تو ہوگیا کہ ایک اور دو بجے کے درمیان فاخر کے اپارٹمنٹ میں قتل ہوا۔ قتل ہونے والی نوجوان لڑکی تھی، اس کے بال برائون تھے اور اس کی لاش غائب کردی گئی ہے۔‘‘
’’قاتل کے بارے میں کیا کہتے ہو؟‘‘ شعیب نے ہنس کر پوچھا۔
’’فاخر کے سوا اور کون قاتل ہوسکتا ہے؟‘‘ طفیل نے جواب دیا، پھر فوراً ہی بولا۔ ’’لیکن اس میں شک ہے کہ مقتولہ سیٹھ ہارون کی سیکرٹری روزی تھی، جبکہ جواد مرزا اس کی تصدیق نہیں کرسکا ہے۔‘‘
’’اس نے لڑکی کا چہرہ دیکھا ہی نہ تھا، تصدیق کس طرح کرتا۔‘‘ شعیب نے کہا۔ ’’لیکن اس نے یہ ضرور کہا ہے کہ لڑکی کے بال برائون تھے اور یہ شناخت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ عورت روزی ہی ہوسکتی ہے۔‘‘
شعیب کی بات سن کر طفیل کچھ سوچنے لگا۔ پھر اچانک اس کے ذہن میں ایک بات آئی۔ وہ بولا۔ ’’تمہارا خیال ہے کہ روزی اور فاخر نے مل کر موتیوں کا ہار اڑا لیا اور معاملہ نصف شراکت داری پر طے ہوا۔ ہار قبضے میں آنے کے بعد روزی، فاخر کے ساتھ اس کے اپارٹمنٹ میں آگئی۔ ممکن ہے وہ یہاں سے فرار کا منصوبہ بنا رہے ہوں، مگر فاخر کی نیت میں فتور آگیا اور بلاشرکت غیرے اس قیمتی ہار پر قابض ہونے کی خواہش پیدا ہوئی۔ یوں اس نے روزی کو قتل کردیا، اس کی لاش کو ٹھکانے لگایا اور ہار لے کر چلتا بنا۔‘‘
’’بالکل ٹھیک سوچا ہے تم نے!‘‘ شعیب نے کہا۔ ’’لیکن یہ کوئی حتمی بات نہیں ہے، حالات بدل بھی سکتے ہیں۔ ان نکات پر بعد میں غور کریں گے، پہلے اس منزل کے دیگر مکینوں کا بیان لے لو، ہوسکتا ہے اس کے بعد صورتحال مزید واضح ہوجائے۔ جواد مرزا کے بیان کے بعد ہی ہمیں حقیقت کا سراغ ملا ہے بلکہ کم و بیش آدھا کیس نمٹ گیا ہے اور ایک چشم دید گواہ بھی مل گیا ہے۔ ممکن ہے ان میں سے کوئی قاتل سے مکمل واقفیت رکھتا ہو اور اس کے دوستوں یا متبادل ٹھکانوں سے واقف ہو۔‘‘
طفیل نے دوسرے اپارٹمنٹ کی کال بیل پر انگلی رکھ دی، لیکن یہاں بھی کافی دیر تک دروازہ نہیں کھلا۔ آخر جھنجھلا کر کال بیل کے بٹن پر مستقل انگلی رکھ دی اور اندر مسلسل بیل کی آواز گونجنے لگی۔
کچھ دیر بعد اندر کھٹ پٹ کی آوازیں سنائی دیں اور دروازہ کھل گیا۔ وہ دونوں چونک پڑے اور متحیر نظروں سے سامنے دیکھنے لگے۔
وہ سترہ اٹھارہ برس کی ایک خوبصورت لڑکی تھی اور اس کے ہاتھ میں پستول تھا۔ (جاری ہے)