Ham Khata Kar Na Thay | Teen Auratien Teen Kahaniyan

565
دادا جان کے پاس دولت کی کمی نہ تھی لہٰذا والد صاحب کی پرورش بہت لاڈ پیار اور نازونعم سے ہوئی۔ جب انسان پر کوئی روک ٹوک نہ ہو اور پیسے کی فراوانی بھی ہو تو وہ منفی کاموں کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے ۔ ابا جان بھی آوارگی کی جانب مائل ہوگئے۔ اس کا حل دادی جان نے یہ نکالا کہ ان کی شادی اپنی بھتیجی سائرہ سے کردی۔
لیکن ابا جان کو میری ماں اپنے دام الفت کا اسیر نہ بناسکیں۔ ان کی بے اعتدالیاں شادی کے بعد بھی جاری رہیں۔ امی صبروشکر سے اپنے سسر اور ساس کے پاس گائوں میں رہتی تھیں، جبکہ ابا جان شہر والے بنگلے میں رنگین مزاج دوستوں کی محفلوں میں خوش و خرم رہتے تھے۔ جہاں رقص و سرود کی محفلیں ہوتیں اور دولت دونوں ہاتھوں سے لٹائی جاتی۔
والد صاحب کا جب جی چاہتا گائوں آتے اور چند دن میری والدہ اور دادی کے پاس رہ کر پھر چلے جاتے۔ دادا جان انہیں سمجھاتے تھے۔ مگر وہ کسی کی نہیں سنتے تھے۔ یونہی دن گزرتے گئے اور ہم دونوں بہنیں سمجھ دار ہوگئیں۔
ابا جان جب بھی گھر آتے، میری ماں کو یہی طعنہ دیتے کہ تم نے صرف بیٹیاں ہی پیدا کی ہیں۔ بیٹا ہوتا تو میں تمہاری قدر کرتا اور دوستوں کی محفلیں ترک کردیتا۔ ماں ان کی یہ بات سن کر چپ ہوجاتی تھیں۔ بھلا وہ اس معاملے میں کیا کرسکتی تھیں ، یہ تو قدرت کے بس میں تھا اور وہ بے بس تھیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ماں کی خاموش التجا سن لی اور شادی کے پندرہ برس بعد بیٹے سے نواز دیا۔ یہ خوشی بھی میرے باپ کو راہ راست پر نہ لاسکی۔ کیونکہ انہیں عیاشی کی لت پڑ چکی تھی، انہیں دادی جان سمجھاتی تھیں۔ لیکن وہ نصیحتوں سے اور چڑ جاتے۔ پھر مہینوں گھر نہیں آتے تھے۔
دادا جان نے بیٹے کے برے اعمال سے مایوس ہو کر ننھے منے پوتے یعنی میرے بھائی کامران سے دل لگا لیا۔ وہ کہا کرتے تھے۔ مرنے سے پہلے میں اپنی ساری جائداد پوتے کے نام لکھ جائوں گا۔ میری زندگی میں میرا بیٹا جس قدر چاہے عیش کرلے۔
دادا جان کچھ عرصے بعد فوت ہوگئے۔ فوت ہونے سے پہلے وہ آدھی دولت اور جائداد اپنے پوتے کے نام کرگئے تاکہ بیٹا ساری جائداد نہ اڑا سکے۔ خدا کا کرنا کہ دادا جان کے فوت ہونے کے بعد ابا جان کو بھی اپنی تباہی کا احساس ہوگیا اور وہ مستقل طور پر گائوں میں رہنے لگے،کیونکہ بیوی بچے بھی اکیلے ہوگئے تھے۔ اور زمینوں سے دور رہ کر زمیندار اپنی ساکھ برقرار نہیں رکھ سکتا۔
بظاہر ابا جان ٹھیک ہوگئے تھے۔ وہ گھر کا پہلے کی نسبت بہت خیال رکھتے تھے۔ ماں بھی خوش تھیں کہ شوہر پردیسی نہیں رہا بلکہ گھر میں رہتا ہے۔ کئی مسئلے ایسے ہوتے ہیں کہ شوہر موجود نہ ہو تو بیوی کو بہت پریشانی ہوتی ہے۔
ان دنوں میں بیس برس کی ہوچکی تھی۔ کامران ابھی چھوٹا تھاکہ اچانک گائوں میں ایک غلغلہ سا اٹھا۔
ہماری زمین پر علی محمد نامی مزارع کام کرتا تھا۔ یہ ہمارا پرانا نمک خوار تھا۔ دادا جان بھی اس کی عزت کرتے تھے کیونکہ اس کے باپ نے میرے پر دادا کی خدمت میں عمر گزاری تھی۔ اور یہ لوگ نسلوں سے ہماری زمین پر محنت کا بیج بوتے آئے تھے۔
علی محمد جس کو ہم سب علی بابا کہتے تھے، ہمارے گھر کے فرد کی طرح تھا۔ اس سے ہم خواتین پردہ نہیں کرتی تھیں۔ جب کام ہوتا ہمارے گھر کے اندر آسکتا تھا۔
علی بابا کی ایک لڑکی شاداں تھی، جو میری چھوٹی بہن کی ہم عمر تھی۔ وہ بہت خوبصورت تھی۔ کبھی کبھی اس وقت ہمارے گھر آتی تھی، جب میری والدہ کام سے اسے بلوایا کرتی تھیں۔ کام کرنے شاداں کی ماں اور پھوپھیاں مستقل ہمارے گھر آیا کرتی تھیں۔ دادی اور اماں انہیں اپنی اولاد کی طرح سمجھتی تھیں۔
ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ میرے والد صاحب سے ایسی مذموم حرکت سرزد ہو جائے گی کہ جس سے گائوں میں خاندان کی عزت ناموس کو بٹہ لگ جائے گا۔
نہ جانے کب میرے والد صاحب شاداں کو پسند کرنے لگے۔ بس اتنا معلوم ہوا کہ علی بابا کے گھر آنے جانے لگے ہیں۔
وہ پرانا نمک خوار پہلے تو اس بات کو اپنی عزت افزائی سمجھا کہ مالک اتنا بڑا دولت مند ہو کر اس غریب کی کچی مٹی کی چار دیواری میں آکر بیٹھتا ہے، اس کے گھر کے مسائل میں دلچسپی لیتا ہے۔ لیکن جب ابا جان نے شاداں پر نظریں مرکوز رکھیں تو سارا معاملہ سمجھ آگیا۔ تاہم اس کی یہ مجال نہ تھی کہ وہ دادی جان یا میری امی سے آکر شکایت کرتا۔ کیونکہ اس طرح ابا جان اس سے نہایت بری طرح پیش آسکتے تھے۔ وہ اندر ہی اندر غیرت کے مارے گھٹنے لگا اور ساتھ ہی ساتھ وہ شاداں کے رشتے کے لئے تگ و دو کرنے لگا۔ تاکہ اس کو جلد سے جلد اپنے گھر کا کردے۔
جونہی اس نے شاداں کی شادی کرنے کا اعلان کیا۔ ابا جان نے اس کو سختی سے روک دیا، کہ تم ہماری مرضی کے بغیر بیٹی کی شادی نہیں کرسکتے۔ اس کی شادی ہم خود کریں گے۔ علی بابا، مالک کا یہ حکم سن کر سٹپٹا گیا۔ اس نے بیٹی کی شادی کا ارادہ ملتوی کردیا کیونکہ مالک کا مقابلہ کرنے کی سکت اس میں نہیں تھی۔ تاہم اندر ہی اندر لاوا پکنے لگا۔
ابا جان نے بھی اس کے بعد شاداں کے ساتھ اس کے گھر والوں کی پروا کئے بغیر رسم و راہ پڑھانی شروع کردی۔ وہ شاداں کے لئے قیمتی تحائف غیرملکی پرفیوم ، خوشبودار صابن اور ریشمی کپڑے لے جانے لگے۔ یہ تحائف وہ اس طرح جبراً دیتے کہ شاداں کی ماں کو ڈر کے مارے قبول کرنے پڑتے۔
شاداں ایک خوبصورت مگر غریب لڑکی تھی۔ وہ اور کیا چاہ سکتی تھی۔ اس کا آئیڈیل اس کے مالک جیسا ہی ہوسکتا تھا اور مالک خود اس پر مہربان تھا۔ لڑکی کی ماں خوش تھی۔ صرف علی بابا ان حالات سے پریشان تھا۔
شاداں اور اس کی ماں ابا جان کی عنایات سے خوش تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ جب علی بابا کو ابا جان دور کی زمینوں پر بھیجتے تو ماں خود بیٹی کو ایسے مواقع فراہم کرتی کہ ابا جان اور شاداں اکھٹے رہ سکیں۔
گناہ زیادہ دنوں تک نہیں چھپا رہ سکتا۔ اس کا خمیازہ بھی آخرکار بھگتنا پڑتا ہے۔ شاداں ان حالات میں امید سے ہوگئی تو علی بابا کی عزت پر بن گئی۔ وہ غریب ضرور تھا لیکن کیا غریب کی عزت نہیں ہوتی۔ علی بابا روتا پیٹتا ابا جان کے پاس آیا اور گڑگڑا کر بولا، مالک اب تم شاداں سے شادی کرلو ورنہ میں گائوں میں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوںگا۔ ابا جان نے جواب دیا۔ پائوں کی جوتی سر پر نہیں رکھی جاسکتی، البتہ اس مسئلے کا حل نکال لوں گا۔ تم بے فکر ہو کر سوجائو۔ تمہیں واویلا کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم خود معاملے کو سنبھال لیں گے۔
علی بابا اب کس طرح چین کی نیند سو سکتا تھا۔ اس نے ابا جان سے کہا کہ شاداں سے نکاح کرلو ورنہ میں اسے مار ڈالوں گا۔ اباجان یہی سمجھے کہ یہ غریب مزارع یونہی ڈرا رہا ہے۔ انہوں نے پائوں سے جوتا اتار کر علی بابا کو کھینچ مارا اور کہا۔ بک بک بند کر اور جو تیرے جی میں آتا ہے کرلے لیکن اب دوبارہ یہ بکواس آکر میرے سامنے مت دہرانا۔
دل ہی دل میں بدعائیں دیتا اور روتا علی بابا ابا جان کی بیٹھک سے نکلا۔ گھر جاکر اس نے سامان، بیل گاڑی پر لادا اور کنبے کے سب لوگوں کو حکم دیا کہ چلو یہاں سے کوچ کرو۔ ملک کا ظلم اب حد سے بڑھ چکا ہے۔ میں یہ نہیں سہہ سکتا۔ کل میری دوسری بیٹی جوان ہوگی تب بھی یہی ہوگا کیونکہ سانپ کی فطرت میں ڈسنا ہے تو وہ ڈسے گا ہی۔
راتوں رات علی بابا کا خاندان ہماری زمین چھوڑ کر چلاگیا۔ جب گائوں کی حدود ختم ہونے لگیں تو علی بابا اور اس کے بیٹے نے شاداں کو نہر میں ڈال کر اس سے نجات حاصل کرلی اور آگے کسی نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔
تیسرے روز شاداں کی پھولی ہوئی لاش پانی کے اوپر آگئی تو اس راز پر سے پردہ اٹھا کر شاداں کو بدنامی کے خوف سے نہر میں ڈال دیا گیا تھا۔
ابا جان نے علی بابا کے خلاف پرچہ کٹوا کر اس کو جیل بھجوادیا۔ وہ روتا چلاتا رہا کہ اس قتل کا اصل مجرم خود یہی زمیندار ہے۔ مگر اس کی کون سنتا۔ بھلا وہ میرے ابا جان سے کیسے ٹکر لے سکتا تھا۔
کہتے ہیں مظلوم کی آہ خالی نہیں جاتی تو سچ ہی کہتے ہیں۔ کیونکہ اس واقعے کے دس برس بعد ایک اور واقعہ پیش آیا۔ جس نے اس بات کو ثابت کردکھایا۔
ان دنوں میری عمر تیس برس ہوچکی تھی۔ اور صبا اٹھائیس سال کی تھی۔ اس کے باوجود ہم دونوں بہنوں کے ابھی تک رشتے نہ ہوسکے تھے اور ہم بن بیاہی گھر بیٹھی تھیں۔ ماں کو ہماری بہت فکر تھی۔ ابا جان نے بھی کوششیں کیں، مگر ہم پلہ خاندانوں میں میرے ابا جان کی بری شہرت کی وجہ سے ہمارے رشتے نہ ہوسکے۔ اپنے سے کم حیثیت لوگوں میں ہمیں بیاہنا ابا جان نے خود گوارا نہ کیا اور ہم دونوں بہنیں آہستہ آہستہ بڑھاپے کی طرف سفر کرنے لگیں۔
ایک رات جب آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ فضا میں کچھ گھٹن سی تھی۔ شاید اگست کا مہینہ تھا۔ گرمی کی وجہ سے نیند نہیں آرہی تھی۔ میں اور صبا اپنے اپنے بستروں پر کروٹیں بدل رہی تھیں۔ اسی وقت ابا جان کے قدموں کی آہٹ ہوئی۔ وہ آج گھر دیر سے آئے تھے۔
وہ جب رات گئے گھر آتے، تھکے ہوئے ہوتے تھے۔ آتے ہی بستر پر لیٹتے اور سوجاتے۔ اس وقت بھی صبا نے یہی سمجھا کہ اباجان سوچکے ہیں۔ باقی لوگ بھی سور رہے تھے۔
جب اس کو یقین ہوگیا کہ سب سو چکے ہیں تو وہ اٹھ بیٹھی۔ میں اپنی آنکھوں پر دوپٹہ رکھے سو رہی تھی۔ میں نے اس سے کلام کرنا مناسب نہ سمجھا کیونکہ یہی سمجھ رہی تھی کہ وہ پانی پینے کو اٹھی ہے یا باتھ روم کی طرف جارہی ہے۔
ہم سب صحن میں سورہے تھے۔ جب کہ ابا جان پرآمدے میں لیٹے ہوئے تھے۔ صبا کو برآمدے سے گزر کر باتھ روم جانا تھا مگر وہ ادھر نہیں گئی، بلکہ صحن عبور کرکے دبے قدموں سے بیرونی دروازے تک گئی اور دروازے کی کنڈی کھول کر گھر سے نکل گئی۔
ابا جان شاید کچی نیند میں تھے۔ انہوں نے ایک ہیولے کو صحن پار کرکے گھر سے جاتے دیکھا تو پہلے وہ سمجھے کہ میرا بھائی باہر گیا ہے۔ کچھ دیر لیٹے اس کے واپس لوٹنے کا انتظار کرتے رہے۔ لیکن جب آدھا گھنٹہ گزر گیا تو وہ خود کو روک نہ سکے، بستر سے اٹھ بیٹھے، انہوں نے بندوق کندھے پر لٹکائی جو وہ ہمیشہ سرہانے رکھ کر سوتے تھے، پھر صحن میں آکر ہم سب کو دیکھا۔ میرا بھائی سورہا تھا۔ ماں اور میں بھی اپنے اپنے بستر پر موجود تھیں۔ صرف صبا کا بستر خالی تھا۔ ٹارچ اٹھا کر وہ گھر سے باہر نکل گئے۔
وہ ٹارچ کی روشنی زمین پر ڈالتے جاتے تھے اس طرح صبا کے پیروں کا تعاقب کرتے ہوئے گھر کے ساتھ بنی ہوئی مسجد کے عقب میں پہنچ گئے۔ جس کے قریب ہی کچھ


دکانیں تھیں۔ گائوں میں کچے راستے ہوتے ہیں، جو بھی ان پر سے گزرتا ہے، پائوں کے نشان مٹی پر بنتے جاتے ہیں۔ لہٰذا جانے والے کا فوراً تعاقب کیا جاسکتا ہے کہ وہ کس راستے سے گیا ہے۔
صبا کے بھی نقش قدم ابا جان کو مسجد کے اس طرف بنی ہوئی ایک دکان پر لے گئے۔ دکان بند تھی۔ ابا جان نے بند دکان کا در کھٹکھٹایا اور آواز دی باہر نکلو ورنہ شوٹ کردوں گا۔
باپ کی آواز سن کر صبا تھرتھراگئی اور اس کی چیخ نکل گئی۔ اباجان کا تو رعب ہی اتنا تھا کہ سارا گائوں کانپتا تھا۔ دروازہ جب نہ کھلا تو بندوق کا بٹ مار کر دکان کی کھڑکی کو توڑ ڈالا اور کھڑکی سے اندر داخل ہوگئے۔ ٹارچ کی روشنی میں اب انہیں ایک کی بجائے دو خوف زدہ چہرے نظر آئے ۔ ایک چہرہ صبا کا تھا اور دوسرا اس نوجوان کا تھا جس کے باپ کی یہ دکان تھی۔
اپنی بیٹی کے ساتھ ایک اجنبی نوجوان کو دیکھ کر ان کی آنکھوں میں خون اتر آیا، تبھی ایک بھی لمحہ ضائع کئے بغیر دو فائر کردیئے۔ چشم زدن میں دو جسم زمین پر گر کر خاک و خون میں تڑپنے لگے۔
فائر کی آواز گھر تک سنائی دی۔ آواز سنتے ہی میں لرز گئی۔ ماں کو جگایا، بھائی بھی اٹھ بیٹھا۔ ہم سب صبا کی خالی چارپائی دیکھ کر سمجھ گئے کہ فائر کی آواز کا کیا مقصد تھا۔ اب کسی کو کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہ تھی۔ جو ہوچکا تھا ہم سب پر عیاں تھا۔
چند منٹ بعد جب ابا جان گھر لوٹے تو کسی نے ان کے چہرے کی طرف دیکھنے کی جرأت نہ کی۔ ماں دوپٹے کا پلو منہ پر رکھے چپکے چپکے رو رہی تھی اور ہم سب بے جان بتوں کی مانند ساکت بیٹھے تھے۔
ابا جان کی ٹوٹی ہوئی بھاری آواز بمشکل حلق سے نکلی وہ میری ماں سے کہہ رہے تھے۔ تم گھر کا خیال رکھنا، میں تھانے جارہا ہوں۔ پھر وہ مڑ کر میرے بھائی سے کہنے لگے صبا کی لاش ایک بدبخت کے ساتھ دکان کے اندر پڑی ہے، تم لاش کو کندھا نہ دینا نہ اس کا منہ دیکھنا۔ یہ کہہ کر وہ گھر سے نکل گئے۔
تھانے جاکر کسی نامعلوم دشمن کے خلاف انہوں نے رپورٹ لکھوائی اور پھر باقی زندگی مردوں سے بدتر گزاری۔ کسی سے کلام کرتے تھے نہ کسی سے ملتے۔ قیدیوں کی طرح بس چوبیس گھنٹے اپنے کمرے میں بند رہتے تھے۔ یونہی ان کی عمر تمام ہوگئی۔
ہماری زندگی میں یہ اندوہناک واقعہ لکھا تھا۔ جس کے وقوع پذیر ہونے کے بعد ہماری حویلی نے کبھی خوشیوں کا منہ نہیں دیکھا۔ میں بن بیاہی ادھیڑ عمر سے بوڑھی ہوگئی اور بھائی دلبرداشتہ ہو کر امریکہ جابسا۔ ماں بیٹی کا غم دل میں دبائے سسک سسک کر مرگئی۔
اب تو ابا جان بھی اس دنیا میں نہیں رہے۔ میں آج زندگی کی آخری سرحد پر ہوں اور سوچتی ہوں کہ واقعی لوگ سچ کہتے ہیں کہ برائی کا انجام برا ہوتا ہے۔ تاہم ایک سوال ضرور ذہن کو پریشان کرتا رہتا ہے کہ ماں باپ کی خطائوں کی سزا آخر اولاد کو کیوں ملتی ہے؟
(ن ۔س … فیصل آباد)