Ham Roshni Ke Musafir | Teen Auratien Teen Kahaniyan

658
ہم ایک پہاڑی گائوں میں رہا کرتے تھے۔ والد صاحب ٹرک چلاتے تھے اور بھیڑ بکریوں کے ریوڑ لاد کر شہروں شہروں پہنچاتے تھے۔ ایک بار بدقسمتی سے ان کا ٹرک کھائی میں گر گیا۔ صدشکر کے اس روز ٹرک میں وہ خود موجود نہ تھے بلکہ ان کا ساتھی گلّے کو لے جارہا تھا۔
ایسے سنگین حادثات کا نتیجہ بھی سنگین ہوتا ہے۔ ٹرک کے ساتھ والد صاحب کو اپنے گلے اور باوفا ساتھی ڈرائیور سے ہاتھ دھونے پڑے۔ ان کا ذریعۂ روزگار ختم ہوگیا۔ وہ مفلس ہوگئے۔ یہ ٹرک کچھ دنوں پہلے ہی انہوں نے قرض پر لیا تھا۔
بھیڑ بکریوں کے گلّے اور ٹرک سے محرومی کے بعد بابا جان نہایت افسردہ رہنے لگے۔ یہاں مزدوری شاذ ہی ملتی تھی۔ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرکے گھر بیٹھ گئے۔ پلّے رقم نہ تھی کہ شہر جاکر کوئی کاروبار کرتے۔
وہ خود روکھی سوکھی کھاتے مگر ہم کو بکریوں کا دودھ پلاتے۔ انہی دنوں حکومت کی طرف سے پہاڑوں کو کاٹ کر سڑک کو چوڑا کرنے کا منصوبہ شروع ہوا تو شہری ٹھیکیدار وہاں آگئے جن کو مقامی مزدوروں کی ضرورت پڑی۔ والد صاحب کو بھی ایک واقف ٹھیکیدار کی وساطت سے کام مل گیا۔
والد صاحب میٹرک پاس تھے، انہیں تعلیم کا شعور تھا۔ وہ بھائی بہرام کو پڑھانا چاہتے تھے لیکن حالات کی تنگی کی وجہ سے ایسا نہ کرسکے۔
پھر یہ وقت بھی گزر گیا۔ انہوں نے بہت محنت مشقت کی۔ رفتہ رفتہ حالات سنبھل گئے۔ پھر ادھار پر ٹرک حاصل کیا اور ساتھ بھیڑ بکریوں کا ریوڑ بھی خرید لیا۔ اب زندگی پُرسکون حالات کے دھارے پر چل نکلی۔ سکون کے یہ دن مگر تھوڑے تھے۔
ان دنوں بہرام بھائی سولہ برس اور میں 14 سال کی تھی۔ جب ایک روز اچانک بابا جان کی میت گھر آگئی۔
واقعہ یہ تھا کہ جس سے بابا جان نے قرض لیا تھا۔ وہ رقم کا تقاضا کرتا تھا۔ اس سے ایک روز جھگڑا ہوگیا۔ اس شخص نے قرض کے بدلے میرا ہاتھ مانگ لیا تو میرے والد کو طیش آگیا۔ دونوں نے بندوقیں نکال لیں اور بابا دشمن کی گولی کا نشانہ بن گئے۔
وہ شفیق باپ جو خود پھٹے پرانے پہن کر بھی ہم کو نیا لباس مہیا کرتے تھے، خود روکھی سوکھی کھاتے مگر ہم کو دودھ اور مکھن دیتے۔ اب وہ ہماری زندگی سے نکل گئے تھے۔ اپنے پیچھے قرضہ اور ہمارے لئے دشمن چھوڑ گئے۔ اب میری ماں کو تنہا حالات کا سامنا کرنا تھا۔
والد صاحب کے فوت ہوتے ہی برادری کے چند حضرات ہمارے گرد اکٹھے ہوگئے۔ انہوں نے مال اور ٹرک قبضے میں لے لیا۔ والدہ سے کہا کہ تمہارے شوہر کا قرض ادا کرنا ہے اور باقی ورثے کی حفاظت بھی ہم کریں گے کیونکہ تم عورت ہونے کے ناتے حفاظت نہ کرسکو گی۔ یہ ورثہ تمہارے یتیم بچوں کا ہے، تم ناسمجھی میں اس کو گنوا دو گی۔انہوں نے ایک جرگہ بلایا اور فیصلہ ہوا کہ پہلے مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے کچھ کریں گے۔
ہمارے والد کے رشتے داروں نے وہ مال مویشی جو ہمیں ورثے میں ملے تھے، فروخت کرکے والد کے نام پر ایصال ثواب کی خاطر کھانا پکاکر لوگوں کو کھلانا شروع کردیا اور یہ سلسلہ چالیس روز تک جاری رکھا۔ افسوس اس وقت ہم کمسن تھے۔ خبر نہ تھی کہ ہمارا حق لوگوں کو کھلایا جارہا ہے۔ یوں رشتے داروں نے ایصال ثواب کے نام پر ہم یتیموں کو کنگال کردیا۔ باقی جو بچا، وہ قرض کا سود اتارنے کی مد میں چلا گیا۔ ہماری ماں کے دکھوں کا کسی نے احساس نہ کیا۔ افسوس یہ ہے کہ ان فیصلوں میں خود ہمارے تایا اور چچا شامل تھے۔
جب حالات ناگفتہ بہ ہوگئے تو امی جان ہم کو لے کر ماموں کے گھر آگئیں۔ یہ ایسا پہاڑی علاقہ تھا جہاں کاشت کاری نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی مزدوری ملتی تھی۔ ماں کا کسی کے گھر جاکر کام کرنا بھی ناممکن تھا۔ برادری والے اس کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ میں لڑکی ذات تھی، لے دے کر بہرام بھائی رہ جاتے تھے۔ اماں اس سے مزدوری نہیں کرانا چاہتی تھی کیوں کہ یہاں صرف پتھر توڑنے اور انہیں ٹرک پر چڑھانے کی مزدوری ملتی تھی۔ بیٹے کو ایسی مشقت میں ڈالنے کی بجائے امی جان بہرام کو پڑھانا چاہتی تھیں۔
ماموں نے ہمارے کھانے پینے کا ذمہ اٹھالیا اور پڑھائی سے منع کردیا۔ ماموں کے گائوں میں بھی شہری سہولتوں کا فقدان تھا۔ یہاں برادری کے دوچار گھر بھی اتفاق اور محبت سے نہیں رہ سکتے تھے ہر وقت قتل و غارت کا خوف اور فساد کا خطرہ رہتا تھا۔
ایک روز
ماموں نے کہا۔ بہن اب تم بڑے بھائی کے پاس چلی جائو۔ یہاں کچھ رنجشوں کے سبب میرے حالات درست نہیں ہیں۔ بچوں کے ساتھ تمہارا اس جگہ قیام کرنا عافیت کا باعث ہوگا۔
امی خوش ہوگئیں کہ وہاں تعلیم کی سہولت میسر تھی۔ کچھ اسکول ایسے تھے جہاں دینی اور دنیاوی تعلیم دی جاتی تھی۔ امی نے بڑے ماموں سے اصرار کرکے بہرام بھائی کو ایک اسکول میں داخل کرا دیا۔ ہم پھر لوٹ کر اپنے والد کے گائوں نہ گئے۔ کیونکہ بابا جان کے رشتے داروں نے امی سے کہہ دیا تھا کہ تمہارے لڑکے اور لڑکی کا رشتہ بغیر رقم لئے نہیں کریں گے۔ یوں میری ماں کا دل ان لوگوں سے برا ہوگیا۔
جب بہرام نے مڈل کا امتحان دیا۔ بڑے ماموں کی وفات ہوگئی۔ اب ہمارے لئے سب سے بڑا مسئلہ زندگی کے سفر کو جاری رکھنے کا تھا۔ چھوٹے ماموں بڑے بھائی کی وفات پر آئے تو ہم کو اپنے ساتھ لے گئے جبکہ والدہ ان کے ہمراہ جانا نہ چاہتی تھیں۔ وہ یہیں رہ کر بیٹے کو پڑھانا چاہتی تھیں۔ وہ اس شرط پر جانے کو راضی ہوئیں کہ میرے بھائی کو چھوٹے ماموں تعلیم دلوائیں گے۔ یہ ماموں میرا رشتہ اپنے بیٹے سے کرنا چاہتے تھے۔ تبھی انہوں نے امی کی بات مان لی اور بہرام کو اپنے ایک دوست کے سپرد کیا تاکہ وہ ملتان میں رہ کر تعلیم حاصل کرسکے۔
جس دوست کے حوالے بہرام کو کیا، یہ لوگ کافی عرصہ سے پہاڑوں کی زندگی کو خیرباد کہہ کر ملتان جابسے تھے۔ ان کے بڑے کاروبار تھے اور امیرانہ ٹھاٹ باٹ میں زندگی بسر کررہے تھے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ بہرام کو اسکول میں داخل کرا دیں گے۔
میرے بھائی کو اسکول میں داخل تو کرا دیا مگر اسے پڑھنے کا وقت نہ دیتے۔ اسے اپنے چھوٹے موٹے کاموں پر لگائے رکھتے۔ انہوں نے بہرام کو اپنا خادم بنالیا تھا۔
اس نے امی جان کو خط لکھا۔ مجھ سے دو کام ایک ساتھ نہیں ہوسکتے۔ پڑھوں یا پھر ان لوگوں کی چاکری کروں۔ اب آپ جو فیصلہ کریں۔ اجازت دیں تو یہاں سے چلا جائوں اور رہنے سہنے، کھانے پینے کا بندوبست کہیں اور کرلوں۔
امی جان نے جواب دیا۔ بیٹے کسی سرائے میں سوجایا کرو اور شام کو دو تین گھنٹے کسی ہوٹل میں برتن مانجھ لیا کرو۔ مگر پڑھائی جاری رکھو۔ یہ ایک ایسی جمع پونجی ہے جو عمر بھر تیرا ساتھ دے گی۔
بہرام نے ماموں کو بتائے بغیر اس گھرانے کو خیرباد کہہ دیا اور اپنے ٹیچر کے دروازے کو کھٹکھٹایا۔ اس نے جب بہرام کے چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھے تو پوچھا۔ کیا بات ہے بہرام، تم کیوں اس قدر پریشان ہو۔
ماں نے مجھ سے اس لئے دوری برداشت کی کہ پڑھ لکھ جائوں۔ اب ان کی آرزو پوری کرنے کی خاطر پریشان گھوم رہا ہوں۔ گھر ہے اور نہ ٹھکانہ۔ دو وقت روٹی کا آسرا بھی نہیں ہے۔ جہاں رہتا ہوں وہ پڑھنے کا وقت بھی چھین لینا چاہتے ہیں جبکہ پڑھائی وقت مانگتی ہے۔
ماسٹر صاحب میرے بھائی کو اپنے ساتھ، اپنے بھائی کے گھر لے آئے جو امام مسجد تھے اور ان کو مسجد کے ساتھ دو حجرے ملے ہوئے تھے۔ انہوں نے ایک حجرہ رہنے کی خاطر بہرام کو دے دیا۔
مسجد میں لوگ صبح شام امام صاحب کو کھانا بھجواتے تھے۔ یہ کھانا وافر مقدار میں ہوتا۔ تھوڑا سا اپنے لئے رکھ لیتے، باقی وہ تقسیم کردیتے۔ بہرام کو بھی دو قت کا کھانا ملنے لگا۔
امام صاحب کے پاس آکر اس نے اللہ کا شکر ادا کیا کیونکہ تعلیم کے ساتھ رہائش اور کھانے پینے کے مسائل حل ہوگئے تھے۔ میٹرک تک وہ اسکول اور مسجد میں درس قرآن سے فیض حاصل کرتا رہا۔
میٹرک کے پرچے دے کر میرا بھائی گھر آگیا۔ امی سے کہا کہ دعا کریں میرے پرچے اچھے ہوگئے ہیں، نمبر بھی اچھے آجائیں تاکہ کالج میں داخلہ مل جائے۔ وہ جب سے امام صاحب کے پاس رہنے لگا تھا۔ دینی علوم حاصل کرنے کا شوق بھی دل میں جاگزین ہوگیا تھا۔ رزلٹ آیا۔ اچھے نمبروں سے کامیاب ہوگیا تھا۔
امی سے کہا۔ امام صاحب کے پاس ملتان جانا چاہتا ہوں۔ ان کی معاونت سے آگے پڑھنے کا ارادہ ہے۔ ماموں میرے تعلیمی اخراجات اٹھانے سے قاصر ہیں۔ اس روز والدہ کے پاس بھائی کو دینے کے لئے کرایہ بھی نہ تھا۔ انہوں نے تیس روپے دئیے اور کہا۔ بیٹے اتنی ہی رقم میرے پاس ہے البتہ دعائیں ضرور تمہارے ساتھ جائیں گی۔ اماں کی بات سن کر بہرام چپ ہورہا۔ تیس روپے جیب میں ڈال کر وہ ہمیں خدا حافظ کہہ کر چلا گیا۔
کرایہ کم ہونے کی صورت میں بس پر جانے کی بجائے وہ ایک ٹرک والے کے پاس گیا


اور درخواست کی کہ کم پیسوں میں مجھے منزل تک پہنچا دو۔ اس نے ہامی بھرلی۔ آگے جاکر وہ خود اتر گیا اور ٹرک ایک دوسرے آدمی کے حوالے کردیا۔
ٹرک نے ساری رات سفر کیا اور صبح صادق کے وقت منزل پر پہنچا۔ ڈرائیور نے ایک مسجد کے پاس ٹرک روک لیا اور خود نماز پڑھنے چلا گیا۔ بہرام نے سوچا کہ کیوں نہ میں بھی نماز پڑھ لوں اور اللہ سے دعا کروں تاکہ آگے منزل آسان ہو۔ جب وہ نماز پڑھ کر مسجد سے باہر آیا اور چائے لینے کو جیب میں ہاتھ ڈالا تو بٹوہ غائب تھا۔ اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ سوچنے لگا اب تیس روپے بھی نہیں رہے۔ ٹرک والے کو کیا دوں گا۔ خدا جانے وہ میرا کیا حشر کرے گا۔
اسی سوچ میں غلطاں وہ مسجد کے سامنے کھڑا تھا کہ ایک نمازی باہر نکلا۔ اس نے غور سے بہرام کو دیکھا۔ اسے میری بھائی کا چہرہ سخت پریشان نظر آیا۔ جانے اس کے جی میں کیا سمائی، قریب آکر پوچھنے لگا۔ لڑکے بتائو تم کو کیا پریشانی ہے؟
حضرت صاحب، کسی نے جیب سے بٹوہ نکال لیا ہے۔ پریشانی یہ ہے کہ مسافر ہوں کہاں جائوں اور کس سے مدد مانگوں؟ اللہ کے در پر کھڑا ہوں اور اپنے اللہ ہی سے مدد مانگ رہا ہوں۔
اس اللہ کے بندے نے ترس کھایا اور رقم دے دی۔ میرا بھائی دوڑ کر ٹرک والے کے پا س آگیا جو ٹرک کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ چکا تھا۔ اسے کرایہ ادا کیا اور امام صاحب کے پاس پہنچا۔ انہیں احوال بتایا۔ انہوں نے کہا اگر دنیاوی علم حاصل کرنا چاہتے ہو تو گھر واپس جائو اور اپنے گھر والوں سے اخراجات لو۔ اگر دینی علم چاہتے ہو تو میں رقعہ لکھ کر دیتا ہوں، میرے دوست کے پاس میانوالی جائو۔ وہ تمہاری امداد کردیں گے۔
کالج کے اخراجات ماموں سے ملنے کی امید نہ تھی۔ تبھی امام صاحب پر تکیہ کرلیا اور ان کا رقعہ لے کر میانوالی روانہ ہوگیا۔ وہ بہرام کو لاہور لے آئے اور دارالعلوم میں داخل کرا دیا جہاں چند برس قیام کیا اور جب فارغ التحصیل ہوگیا تو سند لے کر والدہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ واپسی بس پر کچھ اس طرح سفر طے کیا کہ گاڑی تک کا کرایہ پورا نہ تھا۔ ٹکٹ چیکر نے ٹکٹ طلب کیا۔ پھر غصے سے کہا کہ کرایہ نکالو ورنہ حوالۂ پولیس کرتا ہوں۔ ایک مسافر نے کہا۔ اس کی جیبوں اور بیگ کی تلاشی لو، حل نکل آئے گا۔ جیب سے تو کچھ نہ نکلا، بیگ سے ایک جوڑا کپڑوں کا اور کچھ کتابیں دینی اور ایک نسخہ کلام پاک ملا تو اس مسافر نے خود کرایہ ادا کردیا۔ پھر اپنے پاس بٹھا کر حال دریافت کیا۔
بہرام سے داستانِ زندگی سن کر اپنا تعارفی کارڈ دیا۔ کہنے لگا میں دبئی میں کاروبار کرتا ہوں۔ میرے بھائی بھی عرصہ سے وہاں مقیم ہیں، کبھی ضرورت پڑے تو یاد کرلینا۔ اب سیدھے گھر جائو اور اپنی والدہ کی قدم بوسی کی سعادت حاصل کرو۔
بھائی مدت بعد گھر آیا تھا۔ اماں نہ چاہتی تھیں کہ وہ دوبارہ پردیس جائے مگر اب روزگار کی تلاش باقی تھی۔ ادھر قرض خواہ تنگ کرتے تھے کہ اصل زر نہیں ہے تو سود ادا کرو۔
بہرام کو آئے چند روز ہوئے تھے کہ قرض خواہ آگئے اور رقم کا مطالبہ کیا۔ امی جان نے کہا میرا بیٹا پڑھ کر آگیا ہے، اب یہ خود اپنا قرض ادا کردے گا۔ وہ بولے۔ یہ کیا کمائے گا۔ ہم کو تسلیاں نہ دو، رقم دو۔ ورنہ اسے ہمارے حوالے کرو، یہ ہمارے پاس بیگار کرے گا اور جب ہماری رقم پوری ہوجائے گی تو اسے واپس چھوڑ جائیں گے۔
اس روز ماموں کسی کام سے دوسرے شہر گئے ہوئے تھے۔ وہ ان کی غیرموجودگی میں میرے بھائی کو ہمراہ لے گئے۔ انہوں نے میری والدہ کی منت سماجت پر کان نہ دھرے اور نہ ان کی بزرگی کا لحاظ کیا۔
کسی کے دل میں رحم نہ جاگا۔ کسی نے میری ماں کی آہ و بکا کو نہیں گردانا۔ وہاں کوئی میرے بھائی کو چھڑانے والا نہ تھا اور نہ ہم کو کسی نے شرمندگی اور ذلت سے بچایا۔ انہوں نے میرے بھائی سے ایک سال پہاڑوں میں مشقت کرائی۔
ایک روز بہرام کو اس مسافر کا خیال آیا جس نے بس میں اس کا کرایہ بھرا تھا۔ اس کا نام عبداللہ تھا۔ بھائی نے اسے فون کیا اور اپنی مشکل بتائی اور مدد کی درخواست کی۔ عبداللہ نے محرم خان سے فون پر رابطہ کیا اور پوچھا۔ بہرام کے والدین نے آپ کا کتنا قرض دینا ہے۔ اگرکوئی معاہدہ اور قرض نامہ تحریری طور پر تمہارے پاس ہے تو آکر مجھے دکھائو اور اپنے قرض کی رقم لے جائو۔ کاغذات لے کر محرم خان، عبداللہ کے پاس گیا اور معاہدہ دکھایا تو
نے رقم ادا کردی۔ یوں بہرام کو ان لوگوں کی قید سے رہائی ملی۔
بہرام آزاد ہوکر آگیا۔ امی نے عبداللہ کو بہت دعائیں دیں۔ عبداللہ ہمارے گھرآیا اور ماموں سے کہا اگر آپ اجازت دیں اور بہرام کی مرضی ہوتو میرے ساتھ دبئی چلے۔ میں وہاں اس کو ملازمت دلوا دوں گا۔ اس طرح آپ لوگوں کے مالی حالات بہتر ہوجائیں گے۔
امی اور ماموں کی اجازت سے میرا بھائی عبداللہ کے ساتھ دبئی چلا گیا۔ وہ وہاں کچھ عرصہ اس کا مہمان رہا۔ پھر ایک مسجد میں امامت مل گئی کیونکہ سند یافتہ تھا۔ اچھی تنخواہ ملتی تھی اور وہ باقاعدگی سے ہم کو رقوم بھجواتا تھا۔
پانچ برس بعد بہرام نے اتنا کمالیا کہ میرے خاوند کو ٹرک دلوایا اور امی کو عمرہ اور حج کرایا۔ اب ہمارے اچھے دن آگئے۔ میں دو بچوں کی ماں تھی۔ جب بہرام ملنے آیا تو اس نے مجھے ہدایت کی کہ اپنے بچوں کو اسکول داخل کرائو اور کالج پڑھانے کے لئے کسی بڑے شہر جانا پڑے تو چلے جانا مگر ان کو جہالت کے اندھیروں میں بھٹکنے نہ دینا۔ کیونکہ تعلیم آدمی کے دل کو منور کرتی ہے اور جہالت اندھیروں کی ماں ہے۔ یہ نسلوں کو تباہی کے گڑھے میں گرا دیتی ہے۔
آج اس واقعہ کو تیس برس بیت چکے ہیں۔ بہرام اب بھی دبئی میں ہے۔ امی وفات پاچکی ہیں۔ بھائی نے دبئی میں ایک پاکستانی کی بیٹی سے شادی کرلی ہے۔ وہ وہاں خوش و خرم ہے۔ ماموں کو اب بھی وقتاً فوقتاً کچھ نہ کچھ رقم ارسال کرتا ہے۔
وہ دن یاد آتے ہیں تو رونا آتا ہے۔ جب ہم بہت غریب تھے۔ سیاہ پہاڑوں میں رہتے تھے اور جہالت کے اندھیروں میں سانس لیتے تھے۔ مگر آج اللہ کی مہربانی سے ہمارے گھر تعلیم کی روشنی سے منور ہیں۔ میری امی جان نے ہی بہرام بھائی کو روشنی کے اس سفر پر روانہ کیا، خود بیٹے کی جدائی سہی۔ بہرام نے پردیس کے دھکے کھائے مگر ہمت نہ ہاری۔ آخر کار منزل مل گئی اللہ تعالٰی نے رحمت کی اور معاشرے نے عزت دی۔
آج میرے بچے لاہور کالج میں زیر تعلیم ہیں اور میں اپنی ماں کے نقش قدم پر چل کر دن رات ان کی کامیابی کے لئے دعاگو رہتی ہوں۔ کاش میں بھی پڑھ لکھ جاتی تو آج اپنے علاقے میں جاکر اسکول کھولتی اور وہاں تعلیم کی روشنی پہنچاتی۔ لیکن میں صرف دو جماعت پاس ہوں۔ مگر اپنی ماں کی طرح اَن پڑھ ہوکر بھی علم سے محبت کرتی ہوں۔ اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتی ہوں۔ (ز… لورالائی)