Thursday, February 22, 2024

Hamdard

آتی سردیوں کے دن جب شمع کو بھی ہلکی ہلکی ٹھنڈ لگنے لگی تھی ۔ ابا چھت سے چارپائی اتار کر اب آہستہ آہستہ کمرے کی سمت میں آتا چلا جا رہا تھا۔ اماں سر باندھے سرے شام ہی کوٹھڑی میں گھس جایا کرتی تھی ، کہتی تھی بوڑھوں کے لیے سردی اچھی نہیں ہوتی، موت کا پیغام بن کر رگوں میں اترتی ہے یہ سردی اور سرد ہوائیں مگر شمع کو یہ سردی بڑی نئی نویلی سی لگتی تھی۔ اس کی کالی کالی آنکھوں میں ہر وقت سیاہ کا جل بھرا رہتا اور سرخ لب مسکراتے ہوئے پائے جاتے۔ شمی کیوں ہنس رہی ہے۔ بھائی شفیق پوچھتا۔ ایسے ہی بس ۔ کلائیوں میں بھر بھر کے چڑھائی سرخ چوڑیاں اور شور کرنے لگ جاتیں۔ بھائی شفیق جو پہلے ہی بہت شفیق تھا ، اوپر سے نام بھی ابا نے چن کر رکھا تھا۔ ایسے ہی ہنسی آجاتی ہے میں کیا کروں بھائی ۔ وہ اور ہنس کر کہتی۔ پاس بیٹھی اماں بول اٹھتی ۔ یہی تو عمر ہے ہسنے بولنے کی۔ باقی تو ساری عمر زندگی گلے میں کسی پھندے کی طرح پھنسی رہتی ہے، کبھی مجھے بھی بڑا ہاسا آیا کرتا تھا۔ ایسے ہنس ہنس کے منہ لالو لال کر لینا میں نے اور میری ماں نے روکنا وی ناں تو میں کیوں روکوں گی ۔ شفیق کے ابا تم تو شروع ہی سے ایسے چپ چپ رہتے تھے، ہر وقت سوگ کی سی کیفیت۔

اماں کو ہمیشہ پچھلا وقت یاد آتا رہتا تھا۔ اپنے پرانے وقت ، پرانی دیواروں اور اپنی ماؤں کی گود میں تو ہر کوئی گھسنا چاہتا ہے مگر نہ کبھی ماپے لوٹے نہ وہ وقت ، پیڑے بنا بنا کر توے پر روٹیاں پکاتی شمی اپنے خیالوں میں گم تھی۔ جمشید علی تو اتنا ہنستا ہے کہ مجھے چپ کروانا پڑتا ہے اور اسے یہ ہسنا جچتا بھی تو ہے، نظر نہ لگ جائے میری ۔ اس کی آنکھوں میں اپنے محبوب کا سراپا سج گیا تھا۔ شمی کے ابا ! ایک بار جب میری ماں نے تم سے کہا تھا۔ امیر علی تم بنستے کیوں نہیں ہو۔ تم نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا تھا بس کچی دیوار سے لگ کھڑے رہے تھے۔ میں نے کیا ہنسنا تھا ۔ اک تو غریبی ۔ دوسرے بچپن میں میرے سامنے میرا ابا گزر گیا۔ اس کی اکھڑتی سانسیں آج تک میری نیند اڑا دیتی ہیں۔ اب تو اپنا بھی چل چلاؤ کا وقت ہے، داڑھی ۔ سفید ، سرسفید ، میرے ہاتھ دیکھو، کتنی ساری جھریاں ہیں میں نے بھی جلدی ہی ابا کے پاس چلے جانا ہے نیک بخت ! ابا نے ہمیشہ کی طرح اداسی سے بھرا جواب دیا تھا۔ پتا نہیں ابا کس مٹی سے بنا تھا ، اتنا صابر اور خاموش، مل جاتا تو کھا لیا ورنہ کبھی اسے شور شرابا کرتے نہیں سنا تھا۔ اللہ تمہیں سلامت رکھے امیر علی ! اور میری شمی اور شفیق کی ساری خوشیاں دیکھوں۔ اماں دعا دینے لگی تھی۔ سب ہی کے باپ چلے جاتے ہیں۔ درد تو ہوتا ہے مگر یہ درد کرکچھ نہیں سکتا۔ شمی سارے جہاں سے بے خبر جلدی جلدی روٹیاں پکا رہی تھی۔
☆☆☆

جمشید ! تمہیں پتا ہے تم میرا سارا جہان ہو چاند ستارے سورج اور یہ دنیا میرا سویرا اور اندھیر تم سے ہے۔ تم نظر نہ آؤ ناں تو میری کیا صبح کیا شام- باغ کی زمین ابھی تازے پانی سے سیراب ہوئی نمی تھی پر اتنی نہیں کر پیر دھنس جائیں۔ ابھی پاؤں دھر نے لائق جگہ تھی- شمی کی آنکھیں پیار کی قندیلوں سے روشن تھیں۔ تجھے پتا ہے مجھے ہنسی بھی بہت آنے لگی ہے۔ اور مجھے کل میری ماں نے چپل کھینچ ماری۔ جمشید اب تیرے دانت باہر نکلے تو دوبارہ اندر نہیں جائیں !؟ زمین پر گرے ہوؤں کو گن لینا تو ۔ جمشید بھی مسکرا اٹھا تھا۔ پتا ہے شھی! مجھے چاہے سارا جہاں چھوڑ جائے میں اپنا جہان تم سے آباد کروں گا۔ یہ میرا تم سے وعدہ ہے کبھی چھوڑ کے جائیں تو مرد کا بچہ نہ کہنا ایک مرد کی زبان ہے ، یہ کٹ سکتی ہے مگر پھر نہیں سکتی- جمشید نے اس کے سر پر ہاتھ دھر دیا تھا۔ اس کی محبت کا اظہار یہی تھا ، اس سے آگے کبھی نہیں بڑھا تھا۔ محبوب تو بدنام کر جاتے ہیں، راہوں میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں کیسی چاہت کون سا پیار یہ تو آسمان سے اترا ہوا محبوب تھا جس سے کبھی شمی کو ڈر بھی نہ لگا تھا وہ بلا جھجک وقت نکال کر اس کی کہی ہوئی جگہ پر آجایا کرتی تھی۔ بے وفا بہت ہیں مگر ابھی وفاداروں سے دنیا خالی نہیں ہوئی ۔ کتنے جمشید، کتنے سچے رانجھے ابھی باقی ہیں۔ اچھا اب میں چلوں؟ جوانی خوب صورت ہوتی ہے۔ محبت اسے چمکتا چاند بنا دیتی ہے۔ وہ دور تک اسے جاتا دیکھے گیا۔
☆☆☆

شمع پتر ! کہاں چلی جاتی ہے صبح سے نہ ہانڈی نہ روٹی، صبح جھاڑو دے کے نکلی اب شکل دکھا رہی ہے۔ اماں ! تمہیں پتا تو ہے ، مجھے باغ کتنا اچھا لگتا ہے وہاں اتنے سارے درخت پھول پودے ہیں ، رکھی کے تو مامے ے کا باغ ہے۔ کبھی اس کے ساتھ میں بھی چکر لگا لیتی ہوں میری کون سی کوئی بہن ہے۔ جو میں دل کی چار باتیں اس سے کرلوں ۔ وہ ناراض سي ہو کر بولی تھی ۔ شمی ! میں بھی تو تیری سہیلی ہی ہوں ، ماؤں سے بڑی بھی کوئی سہیلی ہوتی ہے کبھی ۔ نا مجھے نہیں کرنی تم سے بات۔ وہ جلدی سے اٹھ کر آٹا گوندھنے بیٹھ گئی تھی۔ گھر اتنا بڑا اور پرسکون تھا۔ کہ لگتا ، ساری بہاریں یہیں سے زمانے بھر میں تقسیم ہوتی ہوں گی- ٹالی کے بڑے درخت تلے ، اس کا موٹے رسے سے بنا جھولا بھی تھا جس پر جھول جھول کے وہ بڑی ہوئی تھی۔ اب وہیں بیٹھ کے جمشید کے سپنے دیکھا کرتی۔ میں شادی کروں گی تو صرف جمشید سے اور کوئی میرے لیے نہیں بنا۔ نہ میں کسی کے لیے بنی ہوں۔ آسمان پر اس کی امیدوں کی طرح ان گنت ستارے تھے اتنے قریب کہ اس پر جھکے ہوئے لگ رہے تھے۔ دھیرے دھیرے آنکھیں خوابوں سمیت بند ہوئیں۔
☆☆☆

بہاروں کے دامن میں تو ہمیشہ خزاں چھپ کر بیٹھتی ہے ، اچانک سامنے آئے تو یقین بھی نہیں آتا۔ نہر اپنے جوبن پر بہہ رہی تھی ، میٹالا پانی جسے اوک میں بھرو تو مٹی پکڑ میں نہیں آتی۔ اتنے سارے کنول کے پھول دور پار سے بہہ کر چوڑی نہر کے کنارے آن لگے تھے- شمی ان سارے ارغوانی تحفوں کو سمیٹ لینا چاہتی تھی مگر کنول کے پھول تو محبت کی طرح ذراسی گرمی ، ذرا سی تپش سے ہی مر جاتے ہیں۔ شمی تو انہیں صرف دیکھا کر توڑا نہ کر۔ ان کی کون سی عمر اتنی ہوتی ہے۔ دور بھینسوں کے گلے میں بندھی گھنٹیاں سنائی دے رہی تھیں۔ دور بہت سارے جانور آ رہے تھے، اتنی دھول اڑ ہی تھی کہ کچھ دکھائی نہ دیتا تھا وہ تو اپنے رانجھے سے ملنے آئی تھی۔ اس نے ہمیشہ کی طرح ارد گرد پر کوئی نظر نہیں رکھی تھی۔ جمشید جو کہا کرتا تھا کہ میں جو بیٹھا ہوں میں سب سنبھال لوں گا۔ تجھے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے شمی ۔ وہ آج بھی نہیں ڈری تھی مگر وہ بھینسوں کو غلط وقت پر نہر پر نہلانے والا آدمی کوئی اور نہیں تھا۔ اس کا اپنا ماں جایا شفیق تھا۔ وہ بری طرح ڈرگئی تھی۔ ایک محبوب، دوسرا بھائی، کہاں کمی کی تھی تمہیں شمع ! پیار محبت میں جو تمہیں خیال ہی نہ آیا ہمارا، کوئی اور ہوتا تو درانتی سے دوٹوٹے کر کے دونوں کو یہیں نہر میں بہا دیتا- کہیں آگے چل کے لیے گوشت کے پھولے کھڑے کسی کے ہاتھ لگ گئے تو ٹھیک ورنہ اللہ اللہ خیر صلا۔ مگر وہ تحمل سے بہن کے سامنے کھڑا تھا ، لگتا تھا یہ غم اسے نہ کچھ سوچنے دے رہا ہے نہ بولنے دیتا ہے۔ جمشید وعدے کے مطابق کہیں نہیں بھاگا تھا۔ شمی کو فخر تھا اس پر اس نے اسے اکیلا نہیں چھوڑا تھا۔ شفیق بھائی ہم سچا پیار کرتے ہیں ۔ جمشید واقعی کسی سے نہیں ڈرتا تھا۔ اگر میں کبھی تمہاری بہن سیما سے سچا پیار کرلوں تو ؟ اور جمشید ضبط کھو بیٹھا تھا۔ اس مار کٹائی میں سب سے زیادہ مارشمی نے ہی کھائی تھی۔ دونوں کے وار اسی نے اپنے منہ گالوں اور کمر پر سہے تھے۔
☆☆☆

رات دھیرے دھیرے بیت رہی تھی ، اماں اپنے بستر پر ابھی بیٹھی ہوئی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کبھی نہیں سوۓ گی۔ اس کی آنکھیں پتھر ہو چکی تھیں- اسے دکھائی بھی کم دیتا تھا۔ گاؤں میں کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی تھی بس شفیق نے اماں ابا کو یہ بات بتائی تھی ۔ اور انہیں شمی کا خیال رکھنے کو کہا تھا ، مارکٹائی سے بات اوربگڑ سکتی تھی۔ چیخ پکار سے کسی کو معاملہ سمجھنے میں دیر کہاں لگنی تھی بس سادگی سے اماں کے بھتیجے احمد خان سے شمی کا نکاح ہونے والا تھا۔ شمی پتر اجمشید نے اچھا نہیں کیا تیرے بھائی کے ساتھ ۔ ہمارا چور ، ہمارا مجرم تھا، قدموں میں بیٹھ کے معافی مانگ لیتا اور تیرا رشتہ لے آتا ۔ میں سووار راضی تھی مگر اس نے تو تیری محبت کا بھی خیال نہیں کیا نہ اس کی نظر جھکی ہے نہ دل کرلایا ہے۔ کل نہیں تو آج آجاتا۔ چپکے سے معافی مانگ لیتا ، تیری محبت تجھ سے زیادہ پیاری ہے مجھے۔ مگر عزت اس سے بھی زیادہ پیاری ہے۔ پرسوں چپ چاپ تیار ہو جانا کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو اس قصے کی -شمی بے آواز روئے جارہی تھی صدمہ اتنا تھا ساری عمر بھی روتی رہتی تو رونا کم نہیں ہوتا تھا۔ جمشید! تمہیں تو واقعی میرا خیال نہیں آیا۔ بھلا دیا ناں مجھے۔ وہ روتے روتے سو گئی تھی۔
☆☆☆

مگر ایسا نہیں تھا کہ جمشید کو اس کا خیال نہیں تھا – جس شام اس نے رورو کر احمد خان کے نام کی مہندی لگوائی تھی ، پیلا جوڑا پہنا تھا ، اس نے اسے بھولنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ محبت کرنے والے دکھ سکھ کے ساتھی کو کہاں بھولا جا سکتا ہے۔ رات سب تھک ہار کر سو چکے تھے اس تسلی کے ساتھ کہ صبح شمی رخصت ہو جائے گی۔ “چل اٹھ آمیرے ساتھ ، میں تیرے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا ! میرا گزارہ نہیں ہے تیرے بغیر – جمشید مرد ہو کر آنسو بھری آنکھوں سے کہہ رہا تھا۔ وہ دیوار پھلانگ کر کالی سیاہ رات میں اس کی چار پائی کے ساتھ لگا کھڑا تھا۔ ہاتھ کو ہاتھ مشکل سے دکھائی دے رہا تھا۔ اس کا بھی ہیولہ سا دکھائی دے رہا تھا ۔ وہ بھی اس کا ہاتھ پکڑ کر بلک بلک کر رونے گئی تھی کسی چھوٹے بچے کی طرح، جمشید نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ رونے کا وقت نہیں ہے شمی ! اس سے پہلے کہ کوئی جاگ جائے ،میں تجھے لینے آیا ہوں- چلے گی میرے ساتھ ۔ اب کوئی راستہ نہیں رہا صبح تیرا نکاح ہے ایک ہی راستہ ہے۔ یہاں سے لے جاؤں – مجھ پر یقین ہے ، اعتبار کرتی ہے ناں میرا ۔ہاں تیرا اعتبار ہے مجھے جمشید یہ اتنے دنوں بعد اسے سامنے پاکر وہ بھی ضبط کھو بیٹھی تھی۔ اس نے گھر سے کچھ نہیں اٹھایا تھا سوائے اپنے دوپٹے کے، وہ اماں ابا کو یہ دکھ دے کر نہیں جانا چاہتی تھی۔ ان کا پیسہ ہے وہی خرچ کریں۔ وہ خالی ہاتھ جمشید کا ہاتھ پکڑے دیوار پھلانگ گئی تھی۔ تھوڑی دیر میں اندھیرا ان دونوں کو نکل گیا تھا۔ دور تک کھیتوں میں سوائے سیاہ اندھیرے کے کچھ نہیں تھا دو محبت کرنے والوں نے اپنی منزل پائی تھیں۔ ذرا بھی آہٹ ہوتی تھی لگتا بھائی شفیق آ کر مارے گا مگر کوئی لینے نہیں نکلا- شمی کی کسی کو کوئی ضرورت نہیں تھی شمی کو رونا آنے لگا تھا۔ بستر کب کا خالی ہو چکا تھا جمشید اٹھ کر جاچکا تھا وہ ابھی اٹھنے کے لیے اپنی چپل ڈھونڈ نے ہی جھکی تھی کہ دروازے میں جمشید کی ماں نظر آئی تھی۔ اس کے دونوں ہاتھ سختی سے اپنی کمر پر جمے ہوئے تھے۔ اٹھ گئی ہو تو کوئی کام بھی کر لو اور صبح ذرا جلدی اٹھنا شروع کرو۔ یہاں بہت سارے کام ہوتے ہیں بہت جانور پال رکھے ہیں ہم نے ۔ یہ دودھ لسی بھی بندے کی لسی بنا دیتی ہے۔” ” میں اٹھ رہی تھی ابھی ” پہلی بار وہ مرے مرے لہجے میں بولی ۔ تیرے اپنے بھی تو اتنے جانور تھے ہیں۔ کون چارہ ڈالتا تھا۔ وہ بہت تیز تیز بولتی تھی اتنا کہ سننے والے کو جواب دینا ہی بھول جاتا- شمی پیار بھرے لہجے میں محبت بھری آوازیں سننے کی عادی تھی ۔ گھر میں ڈھیر سارا کسیلا دھواں بھرا ہوا تھا پتا نہیں کیا کر رہے تھے۔ ناشتے پانی کا دور دور تک کوئی امکان نظر آتا تھا۔

اپنے گھر میں تو اس وقت تک وہ من مرضی کا پکا کھا کر فارغ بھی ہو لیتی تھی گھر کے کام ہی کتنے تھے اور یہاں دور دور تک کاموں کا جنگل اگا رکھا تھا اس کی نظریں چپکے چپکے جمشید کو ڈھونڈنے میں مصروف تھیں اس کی دونوں بڑی بھا بھیاں بڑے بارے مٹی کے چولہے میں ڈھیر ساری لکڑیاں چھونک کر بڑے دیگچے میں اللہ جانے کیا ابال رہی تھیں ، اللہ کرے یہ چائے ہو ۔ جمشید سے کہہ کر دوکان سے پا پے منگوا کے چائے میں ڈبو کے کھا لوں گی۔ چلو کچھ تو پیٹ کو آسرا ہو ۔ اللہ اللہ کر کے جمشید نظر آ ہی گیا تھا۔ وہ شاید صبح ہری کھیتوں کو پانی دینے گیا تھا۔ بڑی کسی مٹی سے بھری ہوئی تھی ، اور ایسے ہی اس کے ربڑ کے کالے جوتے بھی – وہ چپکے سے اس کمرے میں آ گئی تھی۔ جہاں وہ ہفتہ بھر پہلے پیلا مایوں والا جوڑا پہن کر آئی تھی ۔اس کا خیال تھا کہ جمشید بھی اس کے پیچھے پیچھے اندر آئے گا اور وہ پاپے یا کھانے کو کچھ منگوا لے گی – بڑی بھا بھی سمیرا اپنی شنیل کی سرخ رضائی اور گدا لپیٹنے میں مصروف تھی ۔ اپنا سرخ غلاف والا تکیہ بھی اس نے اٹھا کر اپنے بازو تلے دبا رکھا تھا۔ نیا نکور بستر ہے میرا کسی آئے گئے واسطے۔ یہ تو جمشید نے ضد کی تھی تو میں میں نے صندوق کھول کے دے دیا کہ چلو ایک آدھ دن سوئے۔“ اگر وہ یہ بستر اٹھا لے جائے گی تو وہ سوئے گی کہاں ، وہ صرف سوچ کر رہ گئی تھی ۔ اب تمہارا نام کیا ہے بھلا۔ شمی شمع ۔ ہاں تو شمو رانی گھر سے بھاگتے وقت ایک آدھ بستر ہی سر پر رکھ لاتیں، چلو سونے جوگی تو ہوتیں اور یہاں اور جو جمشید کی ماں ہے، سونے کو بستر تو دور کی بات تجھے جینے ہی دے بڑی بات ہے – وہ ساتھ ساتھ خود کلامی بھی کرتی جارہی تھی پھر بستر بغل میں داب کر چل دی۔ کیا تھا جو ایک بستر مجھے دے دیتی ۔ اتنے سارے تو دیے ہوں گے اس کے ماں باپ نے دنیا تو واقعی بڑی ظالم – چلو جمشید آجائے تو،اس کا دل دکھا تو خوب تھا مگر من پسند محبوب کا ساتھ گرنے نہ دیتا تھا کتنی دیر اسے اندر کھڑے ہوگئی تھی۔ وہ نہیں آیا تھا جس کا اسے انتظار تھا۔ اس کی شروع سے عادت تھی کہ کچھ کھائے پیے بغیر کام نہیں ہوتا تھا اس سے اسے کمزوری محسوس ہونا شروع ہو گئی تھی۔ تنگ آ کر وہ خود ہی کمرے سے باہر آ گئی تھی۔

بہت سارے کچے کمرے تھے۔ گوبر کے ڈھیر تھے اور ادھ کھائے چارے کے انبار تھے صفائی کا کسی قسم کا انتظام نہیں تھا۔اس نے سامنے سے گزرتے جمشید کو خود ہی پکار لیا تھا حالانکہ اب وہ کسی دوسرے کام سے.جا رہا تھا۔ جمشید دس روپے کے پاپے ہی لے آؤ، مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے۔“دور سے اس نے دیکھ لیا تھا کہ بہت سارے بچے پیالوں میں چائے سڑک سڑک کر پینے میں مصروف تھے۔ چائے پی کر جسم تھوڑا ٹھنڈ سے بھی عافیت پائے گا اور وہ کام کے قابل ہو گی ۔۔ . کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ہمارے ہاں صبح کوئی بھی ناشتا نہیں کرتا ۔ دو پہر میں کھانا کھاتے ہیں سب آج پہ پاپے کھائے گی کل سارے کھائیں گے،گندی عادت میں نہ ڈال۔“ جمشید کھڑا سن رہا تھا ۔ وہ جانتی تھی کہ وہ ابھی کہے گا کہ یہ تو ایک پاپے کی بات ہے اماں ! میں اس کے لیے اپنی بھی جان دے سکتا ہوں ۔ اور پھر وہ کسی کی بھی نہ سنتے ہوئے اس کی فرمائش پوری کرے گا مگر وہ جان دینے والا انجان بن کر خاموش سے چلا گیا تھا۔ شمی گوبر کے ساتھ گوبر ہوگئی تھی ۔ پلٹنے والے نے پلٹ کر خبر تک نہ لی ، شام کو ٹوٹی چار پائی بغیر سرہانے رضائی کے اس کی منتظر تھی۔ وہ دیوار سے لگ کر کھڑی تھی۔ کوئی بھی اسے رضائی دینے کو آگے نہیں بڑھا تھا ۔ اسے یاد آیا تھا کہ اس کی ماں نے کتنے نرم سر ہانے اور کتنی شنیل کی نرم رضائیاں دھنکوا کر رکھی ہوئی تھیں ، کتنے برتن، چادر میں  اور ارمان – جمشید باہر کی ٹھنڈ سے بچنے کمرے میں آیا تھا تا کہ گرم رضائی اوڑھ کر سو سکے مگر وہاں اس کی کنجوس بھابھی کنجوسی کا کام دکھا چکی تھی۔ اچھا تو رک ۔ میں ابھی آتا ہوں رضائی لے کر – پھر جو رضائی سرہانہ وہ لے کر آیا تھا۔ شمی کو لگتا تھا کہ یہ کتوں کو سردی سے بچانے کے لیے رکھا ہو گا مگر اس گندی رضائی کو اوڑھ کر وہ سردی سے محفوظ ہوگئی۔ بہت تھک گئی میں تو ۔ شمی کے لبوں پر ہلکا سا شکوہ بھی مچلنے کو تھا۔ میں بھی اتنا تھک گیا ہوں ۔ آج ذرا سا بھی وہ پرانا چاہنے والا محسوس نہ ہوا تھا ۔ میں نے تو تم پر اپنی جان نثار کر دی تم نے توذرا قدر نہ کی ۔قدر نہ ہوتی تو اپنی جان کو یہاں لے آتا آج تمہارے ساتھ ہوتا ؟ پتا ہے کتنی کتنی باتیں سنی ہیں میں نے سب کی ۔“اور میں نے کچھ نہیں سنا کچھ نہیں چھوڑا ۔” جس نئے جہاں کو بسانے کے خواب جمشید نے دکھائے تھے ، یہ وہ تو نہیں تھا یہ تو کسی اور دیش میں  لے کر آ گیا تھا اسے اس کے مہندی والے ہاتھوں میں میل مہندی کے رنگ ہی کی طرح گھل چکی تھی۔ جمشید دوسری طرف منہ کر کے کب کا سو چکا تھا اس کی افسردہ باتیں سن کر وہ بھی چپ چاپ کروٹ بدل گئی تھی۔ چلو سو کر کچھ تو سکون ملے۔ مگر نیندیں بھی اسی کی طرح بے چین بے قرار تھیں۔ ☆☆☆

میداں عجیب رنگ رنگیلی سی لڑکی تھی بالکل اسی کی ہم عمر ، اس کی آنکھیں بھی بڑی بڑی تھیں اور خوب سیاہ بھی مگر وہ کسی کو بھی پریشان نہیں کرتی تھی۔ چارے والے ٹوکے کے پاس کھڑی وہ اسے ایک نظردیکھتی پھر دوبارہ اپنے کام میں لگ جاتی ۔ جمشید کی ماں غصے کی واقعی بہت تیز تھی ، کام کے حوالے سے وہ کسی کو بھی رعایت نہ دیتی تھی نہ شمی کو نہ میداں کو – اسےدیکھ کر لگتا کہ وہ لا تعلق ہے مگر ولا تعلق نہیں تھی۔ اس کی ماں تو مزاج کی بالکل کمین تھی ۔ نزم اور دلار بھری اس کی پکار ارد گرد ہی کہیں گونج اٹھتی مگر اس میٹھی پکار پر جلد ہی جمشید کی ماں کی تیز دھاڑتی آواز کا زہر الٹ جاتا ، وہ خواب سے جاگ جاتی۔ اتنے سارے جانوروں میں سب کے احساس بھی حیوانی ہو گئے تھے نے شاید – میداں نے اسے کبھی بھی مخاطب نہیں کیا تھا۔ پتا نہیں اماں کیسی ہوگی۔ جمشید ! میرے لیے چوڑیاں ہی لے آؤ کسی دن، کیسی سونی سونی کلائیاں ہیں میری اور ہو سکے تو ایک ریشمی سوٹ بھی دلوا دو، بڑا دل ہے میرا۔ جس پر بڑے بڑے سرخ گلاب بنے ہوں ، ۔ اس کے سارے کپڑے ہی چمکیلے اور اس کے مزاج کی طرح مسکراتے ہوئے سے تھے ، اسے سجنے سنورنے کا بھی بڑا شوق تھا، مہندی چوڑیاں نیل پالش اور چھپ کر سرخی اپنے حساب کا سارا فیشن۔ رات جمشید دیر تک ماں کے پاس بیٹھا رہا تھا۔ اسے اپنا بستر بھی واپس مل گیا تھا۔ وہ بہت دیر سے کمرے میں آیا تھا۔ وہ اسکا انتظار کرتے کرتے سو گئی تھی۔ بہت سے پریشان حال خواب اس کا پیچھا کر رہے تھے۔ وہ بھاگتے بھاگتے بہت دور نکل گئی تھی اتنی دور کہ اب سامنے بھڑکتی آگ جل رہی تھی۔ اس نے پریشان ہو کر جمشید کو پکار اگر جواب نہیں ملا اس کی پکارمایوس لوٹ آئی تھی۔
☆☆☆

کوئی ملنے آیا تھا اور بڑا اپنا لگ رہا تھا۔ جمشید کی ماں نے جلدی سے چارپائی بچھائی اور اندر بھاگ کر نیا کھیس نکال کر پاؤں کی طرف ڈال کر بیٹھ گئی ۔ وہ اپنے کمرے سے چپکے چپکے سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ بہت کسے بالوں، سیاہ آنکھوں والی لڑکی تھی ، خوب گوری چٹی تیکھے نین نقش ۔پھوپھی کی حال اے ۔ وہ جمشید کی اماں کے گلے لگ گئی تھی وہ اس کا گلاب سا منہ چوم رہی تھی۔آنکھیں ترس گئیں تجھے دیکھنے کو ، ناراض ہوئی ہے مجھ سے ۔۔ نہ پھوپھی ! میں کب ناراض ہوئی تجھ سے۔ یہ وہم ہے تیرا۔ لال گلاب مسکرایا ۔ وہ اسے سینے سے لگائے پوچھ رہی تھی – دیورانیاں، جٹھانیاں تماشا دیکھنے کو جمع ہوگئی تھیں۔ وہ جٹھانی جس نے رضائی کھینچی تھی مزے لے رہی تھی ۔ خوش ہو رہی تھی وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ لڑکی کون ہے ؟ پھر جمشید کی بھابھی نے آکر دکھے دل کو نذر آتش کر دیا۔بچپن کی منگیتر ہے جمشید کی، پورے دو مربعے زمین کی مالک۔ یہ آتی ساتھ زمین بھی لے کر آتی یہ ٹھاٹ سے رہتی ۔ حکومت کرتی ہم پر ۔ تو کیا سمجھی اماں نے تجھے ہضم کر لیا ہے – بھول ہے تیری وہ کبھی چپ نہیں بیٹھتی ۔ زمینوں سے تو انسانوں سے زیادہ پیار ہے اسے۔ اب سمجھ تیرا قصہ ختم ۔ امتحان ہے تیرے پیار کا ۔ جمشید کو تو ہر کوئی چھوڑ گیا تیری وجہ سے۔ اس سے شادی کرتا تو خاندان مضبوط ہوتا ، تیرے آنے سے تو اجڑ گیا سب – وہ جو سمجھی تھی کہ ابھی اماں کو غصہ ہے ایک نہ ایک دن اسے تسلیم کر لے گی۔ سارا خواب خیال تھا اس کا مٹی کی موٹی دیوار سے لگے اس کا دل چاہا کہ وہ اس دیوار میں دفن ہو جائے۔ “ہائے اگر میرا ابا، میری ماں ہوتی تو ایسا نہ ہوتا۔ میں رل گئی۔ آنے والی بے حد حسین تھی سرخ و سفید چہرہ ،لمبا قد ، کیا نہیں تھا اس میں اور میرا رنگ روپ تو اس گھر کی تیزدھوپ کھا گئی۔ میرا عشق کیا عشق اس کے ہاتھ کانمپنے لگے تھے۔ بس اب کھیل ختم ہوا ۔ جمشید کو لسی کا گلاس دے کر آ – سن چینی بھی ڈال لینا۔ تجھے تو پتا ہے کہ وہ ہمیشہ سے لسی میں زیادہ مٹھا (میٹھا ) پسند کرتا ہے۔“اماں لسی رڑ کتے مراداں سے کہہ رہی تھی۔ شمی کو کس نے کہنا تھا۔ وہ جمشید کے لیے روٹی لے کرجا رہی تھی تب اماں نے روک دیا تھا۔ بچپن سے ساتھ کھیلے ہیں۔ بڑا پیار تھا ان میں چار دن کے لیے میری سونی بھتیجی آئی ہے، اس سے جلنا نہیں ہے تو نے نہیں تو میں اپنے پتر سے کہہ دوں گی وہ روک دے گا تجھے اپنی زبان سے رکھ دے روٹی- رل کے کھائیں گے وہ ،اور سن تو جانوروں کو پانی یاد سے پلا دینا ۔ سستی نہ کرنا ذرا بھی ۔” اماں کو کسی کی پروا نہیں تھی۔ اندر جمشید بیٹھا تھا اس کا دل کہتا تھا کہ وہ اماں کو ضرور روک دے گا۔ کہے گا۔ اماں یہ تو کیا کہہ رہی ہے بیوی ہے وہ میری. میں کھانا اس کے ہاتھ سے کھاؤں گا ۔ پکڑچنگیر اسے آنے دے اندر – تیرے بغیر ہر طرف اندھیرا ہے۔ مگر وہ شاید سن ہی نہیں رہا تھا۔ اس کے بھائی اس سے بات کرنے لگے تھے ۔ سب پہلے جیسا ہو رہا تھا۔ جیسا پہلے اہم تھا دوبارہ ہو گیا تھا۔ وہ ایسا نہیں کر سکتا ۔ بھوری بھینس کو چارہ ڈالتے وہ سوچ رہی تھی۔ دیورانیاں سوکنوں کی طرح اسے گھور رہی تھیں ، میں نے کسی کا کیا بگاڑا ہے خواہ مخواہ دوزخ خرید رہی ہیں ۔ وہ کسی کو گھور بھی نہ سکی مراداں روٹی لے گئی – اماں ہنس رہی تھی۔ اپنا خون اپنا ہی ہوتا ہے دیکھا کریو! وہ بہوؤں سے مخاطب بھی۔ ” سن ! کوئی شور شرابا نہ کریں نہیں تے دو حرف اوکھے (مشکل) کوئی ناں سانوں – وہ جمشید سے بات تو ضرور کرے گی ۔ وہ بولتا کیوں نہیں ۔ کیا اسی لیے اس نے اپنا گھر چھوڑا تھا ۔ ہی مرد کی زبان کی ۔ یہی مرد کا سچا پیار، امان ہے ضبط بڑا مشکل تھا مگر ضروری تھا۔ جمشید غصے سے کمرے سے باہر نکلا تھا۔ آنکھیں بھر آئی تھیں ۔ مراداں سے خوش نہیں تھا اس کا جمشید – بس ہوگئی ہے اماں ! اب میری ۔ سارا سارا دن کام کرو۔ شام کو وہی رونا ۔ میں تھک گیا اب ان عورتوں کے معاملے میں – جب بھی وہ شمی کو روتے دیکھ لیتا، اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی چیخنے لگتا۔ اس کی محبت ، اس کے میٹھے بول کہیں کھو گئے ۔ شمی کی ایڑیاں پھٹ گئی تھیں ۔ وہ آہستہ آہستہ اپنی پہچان کھو رہی تھی۔ ہاتھوں میں کالے دیگچے مانجھ مانجھ کالی پکی لکیریں ہوگئیں۔ دیورانیاں جان بوجھ کر بر تن کالے سیاہ کر کے پھینک دیتیں۔ ابا اتنا فاصلہ تو نہیں تھا۔ آکر مجھے لے ہی جاتے میرا پتا تو کرتے کہ میں نے اپنی قبر بنائی کہاں ہے۔ میں دفن کہاں ہوں۔ میرے اس منہ پر تھوک ہی جاتے مجھے نفرت سے دیکھ ہی لیتے ۔ اماں تمہارا دل بھی بڑا سخت نکلا تم نہیں تو میں آؤں گی میں بد قسمت تمہارے پاس ضرور آؤں گی مجھے دھتکار دیتا مجھے مار دینا، میرا مر جانا ہی ٹھیک ہے۔ شمی سراپا آہ بن گئی۔ مراداں آہستہ آہستہ مراد پا رہی تھی وہ جمشید کے ساتھ کھیتوں میں بھی جاتی – کچےامرود اور کبھی مالٹے گھر لے آتی اور اماں بے اختیار اس کا منہ چومنے لگ جاتی۔ پوری دس جماعتیں پاس ہے۔ یہ میرا جگر ہے۔
☆☆☆

اماں شمی کو سنا سنا کر باتیں کرتی ۔ ایک دن مراداں کی ماں آئی ۔ وہ بھی بڑے رعب والی تھی۔ چار مربعوں کی مالک جتنا بھی فخر کرتی کم تھا۔  ہے وہ ؟ وہ حقارت سے شمی کو دیکھ کر کہنے گئی۔ سیانا کاں ( کوا) گند پر گر گیا۔ کیا ہے اس میں شکل نه صورت، مراداں کے تو پیر کی جوتی جیسی بھی نہیں یہ ۔” وہ جیسے شمی کے منہ پر تھوک رہی تھی۔ جمشید نلکے پر منہ ہاتھ دھو رہا تھا۔ وہ تیز تیز نلکا چلا رہی تھی۔ ان کی باتیں نظر انداز کر کے وہ مراداں کی ماں کے پاس گیا سلام کرنے۔ ایہہ کی کتیا ای ( یہ کیا کیا ہے ) مرد ہے۔ مرد غلطیاں کرتے ہیں اور غلطیاں سینے سے نہیں لگاتے۔ پر انہیں بھل جانا چاہیے- میراداں ان سب کے درمیان بیٹھی چھلی کھا رہی تھی۔ بے فکر وہ اسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔
☆☆☆

کھیتوں کے درمیان چلتے چلتے کافی دیر ہو گئی تھی ۔ ننگے پیر چھوٹا پرانا سوراخوں بھرا دوپٹہ لیے جہاں سر شاری سے بھاگتی تھی ہرنی کی طرح۔ وہاں سے لاش کی طرح گھسٹ رہی تھی۔ وہی دروازہ، جھولا ،کیکر کا درخت اسے دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔ شمی تو ہمیں چھوڑ کر کہاں چلی گئی تھی ۔ تیرے بغیر ہم مر گئے اجڑ گئے ۔ دروازے پر ایک بڑا بھاری سا تا لا تھا مگر لکڑی جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی ۔ سارا صحن نظر آرہا تھا خشک پتے اڑ رہے تھے ۔ تالے کو زنگ لگ چکا تھا وہ قیدیوں کی طرح اندر جھانک رہی تھی۔ “ماں تے تیری مرگئی عرصہ ہوا اور باپ کو تیرا بھائی لاہورلے گیا وہیں رہتے ہیں۔ یہاں نہیں آئے کبھی۔ اجاڑ دیا تو نے وسدا گھر – اب کیا لینے آئی ہو ۔ زمانہ بدل گیا۔ لوگ بدل گئے بس کرنی کا پھل رہ گیا۔ بڑا سخت بڑا کروا ” میں نے اپنی مری ماں بھی نہ دیکھی اوئے اماں تو کہاں چلی گئی ۔ اوئے اماں تیری شمی آئی اے. مجھے دھکا تو دے اپنے ہاتھ سے، تجھے ایسی چپ لگ گئی تو کچھ بول کر تو جاتی ۔“ اس کے بین سنے سب نے تھے مگر دلا سا کسی نے نہ دیا تھا۔ شمی ! اب چلی جا یہاں سے اپنا تماشا نہ بنا۔ لوگ تیرا قصہ بھول گئے ہیں ۔ اپنی کیتی اب چپ چاپ سہ، تیرے شریف ماں باپ یہ گاؤں ہی چھوڑ گئے ۔ اب جا یہاں سے کبھی نہ آنا دوبارہ ۔” اس دن شمی بھی مر گئی تھی پھر زندہ نہ رہی۔
☆☆☆

وہ کھیتوں میں جارہی تھی راستے میں میداں بیٹھی تھی۔ کسی کے ہاتھ میں ہاتھ دیے دنیا سے بے خبر۔ اس کے آنے کا بھی ہوش نہیں – سرسوں کے کافی سارے پھول توڑ توڑ کر مسل رہی تھی اور ساتھ ساتھ ہنستی بھی جا رہی تھی ۔ ایسی ہی ہنسی تو وہ بھی ہنسا کرتی تھی۔ جب جمشید اس سے ملنے آیا کرتا چوری چھے۔ جب وہ جمشید سے ملنے جایا کرتی تھی۔ میداں کے ساتھ بھی ایک نو جوان بیٹھا تھا۔ میداں نے اسے دیکھ لیا تھا ۔ وہ اپنے کام سے کام رکھتی تھی۔ گھر کی کسی بھی سازش میں اس کا کوئی حصہ نہیں تھا۔ وہ اسے دیکھ کر ڈری بھی نہیں ۔ ڈرتی بھی کیوں اس کی کیا اوقات کہ وہ کچھ کہے ۔ وہ بھی آگے ہی جارہی تھی آج اس کی بے کار مصروفیت کا اسے پتا چل گیا تھا۔ اماں کو شمی سے فرصت ملتی تو اس کی بھی خبر رکھتی ۔ وہ کھیتوں سے ساگ لینے آئی تھی۔ کافی سارا تو ڑ بھی لیا تھا۔ جب انہیں دیکھا۔ سن بھابھی کسی کو بتانا نہیں تو اگر بتائے گی تب بھی تیرے ہاتھ کچھ نہیں آنا ۔ اماں تیرا یقین نہیں کرے گی۔ کوئی مصیبت نہ کھڑی کرلے اپنے لیے۔ الٹا جمشید سے جوتے کھائے گی چپ رہنا ہی تیرے لیے اچھا ہے۔ وہ اسے دھمکی دے رہی تھی – میں کسی سے نہیں کہوں گی ۔ بے فکر رہو۔ پھر وہ اپنے کام میں لگ گئی تھی۔ اچھا سن ۔ ساتھ مجھے بھی لیتی جائیں۔ میں کہوں گی ساگ لینے گئی تھی ۔“ اس پر وہ دونوں مسکرائے تھے۔

میداں گارہی تھی۔ شیشم کے پیڑ کے تنے سے لگی جھوم رہی تھی۔ اماں مراداں کو ساتھ لے کر کہیں باہر گئی تھی۔ وہ چپ چاپ اپلے تھاپ رہی تھی ، جب میداں نے اسے آواز دی تھی۔ ” آ جا بھابھی خ کبھی بیٹھ بھی جایا کر۔ جانتی ہوں تھک جاتی ہے تو پر یاد رکھ اس گھر میں تیرا خیال کوئی نہیں رکھے گا ۔ تو کام کر کر کے مر بھی جائے تاں ۔ کسی نے تیسرا سوگ نہیں منانا ۔ یہاں کا یہی رواج ہے بھا بھی تو قسمت ماری اپنا بھی خیال رکھا کر میداں دل کی اچھی تھی یہ راز آج کھلا تھا۔ بس یہ رہ گیا وہ گوبر کے ڈھیر کی طرف اشارہ کرکے بولی تھی۔ بہت کم خوراک کی وجہ سے وہ کمزور ہوگئی تھی۔ دیکھا تو نے اسے کتنا سوہنا جوان ہے میرا شکیل ۔ پورے پنڈ کا سب سے سوہنا منڈا پیار کرتا ہے مجھے بہت جلتی ہیں کڑیاں مجھ سے۔“ ہاں تم نے جل کر مرنا جو ہے تب سب مل کر جشن منائیں گی۔ یہ زہر تو پھانک کر ہی پتا چلتا ہے کہ کتنا کڑوا ہے۔ کیسے جگر خون کرتا ہے ۔ اسے کچھ بھی کہنا بے کار تھا اگر وہ اماں سے اس کی شکایت لگا دے۔ تب وہ گھر سے بھی نکال دی جائے گی۔ جمشید کے دل سے تو پہلے ہی نکل گئی ۔ اوئے میداں ! ! خبردار جو تو نے آئندہ اس  سے بات بھی کی۔ پٹھی مت دے گی تجھے بھی۔ میں بتا دوں تیرے بھائیوں کو؟ دیکھ کیسے سیدھا کرتے ہیں تجھے ۔ اماں چیخ کر بولی۔ ا چھا اماں ! وہ بیزار ہو کر کمرے میں چلی گئی تھی مراداں اسے دیکھ رہی تھی۔

کچی چھت پر سونے کے ستارے جگ مگ کر رہے تھے ۔ ہجر کی ماری شمی بھی کسی ترہان اپنے آپ کو سمیٹ کر اوپرآ گئی تھی ۔ ورنہ اسے کہاں میسر یہ فرصتیں ، آرام سے بیٹھنا وہ بھول گئی تھی۔ نیچے دیورا نیاں مل کر کچھ پکا رہی تھیں ۔ میٹھا حلوہ بھی ان کے ہاتھوں کڑوا ہو جایا کرتا تھا کیونکہ جس میں احساس نہیں وہ انسان ہی نہیں۔ اسے دیکھ کر ایک مشترکہ قہقہہ لگنا لازم تھا مگر وہ چپکے سے اوپر آگئی تھی ۔ نیچے چار پائیوں کا جنگل اگا ہوا تھا لمبی قطار ۔ اس کا بستر اس کے ٹوٹے بدن کو پکار رہا تھا ۔ رات وہ ہر غم بھلا کر سویا کرتی کچھ سوچنے کا ہوش ہی نہ رہتا۔ منڈیر کے پاس روشن ستاروں تلے میداں کھڑی تھی۔ وہ بے انتہا خوش تھی وہ بھی اکیلی کوئی اسے بھی خوش فہم رکھتا ہے۔ اس کے بال ہلکی ہوا سے اڑ رہے تھے جو چپکے سے اس نے کھول لیے تھے۔ وہ بھی پیچھے آکر کھڑی ہوگئی تھی ۔ کل چائے والا دیگچا اتارتے ہوئے اس کا پورا باز و جل گیا تھا۔ جلد اکھڑ کر بہت درد کرتی تھی۔ لو دیکھ تم بھی۔ یہ انگوٹھی دی تھی اس نے مجھے منگ بنا لیا اپنی ۔ جب بھی اسے دیکھتی ہوں ہوں ۔ ۔ شکیل یاد آ جاتا ہے مجھے – پرسوں کراچی گیا ہے ۔ جلد ہی ہم شادی کر لیں گے۔ میرے بغیر کہاں رہ سکتا ہے۔ وہ مسرور ہو کربتارہی تھی۔ میں اس کے لیے یہ جہاں چھوڑ سکتی ہوں میں سب کو چھوڑ جاؤں گی۔ دیکھنا تم ” پھر اس کے زخم کی طرف نظر گئی جب اس کی  آواز لرز گئی تھی۔اتنا بڑا زخم کوئی دوا دارو کی جمشید نے؟” نہیں میداں ! اس نے کچھ نہیں کیا۔ اماں نے اسے اتنا سنگدل بنا دیا ۔ دھیمے سے کہہ رہی تھی جیسے خود سے ، ایسی ہی ستاروں بھری رات ایک دھو کا اس نے بھی کھایا تھا ۔ اس نے بھی کسی کا یقین کیاتھا کس کا ہاتھ تھام کر محبت کے رستے چلی تھی۔ وہ جرات وہ محبت کہاں کھو گئی۔ ” اس نے تمہیں جلتے دیکھا ؟“ ہاں دیکھا۔ بالکل سامنے کھڑا تھا۔ ” بھابھی تمہاری محبت کچی تھی میری محبت سچی ہے۔ شکیل سچا ہے۔ وہ جھوٹ نہیں بولتا – وہ جوش سے جیسے خود کو جھٹلا رہی تھی ۔ وہ میرے ساتھ ایسا کرے ، میں جان لے لوں اس کی کسی اور کی طرف اس کے قدم جائیں ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔“ ایسا میں بھی کہتی تھی ۔” شمی کی کمزور آواز اس کے اندر گم ہو کر رہ گئی تھی ،میداں بھاگ کر سیڑھیاں اتر گئی تھی۔
☆☆☆

بڑی کوٹھڑی کا سرکنڈوں والا دروازہ ہلکا سا کھلا ہوا تھا۔ اسے چکر آ گیا تھا۔ کیا کوئی انصاف کرنے والا سچ کہنے والا اس دنیا میں موجود نہیں۔ اس کا جی چاہا کہ وہ کوٹھڑی کو آگ لگا دے اماں اسے گالیاں دے رہی تھی ۔ برا بھلا کہہ رہی تھی۔ وہ اپنے قدموں کو روک نہ سکی تھی۔ یہ زندگی کی تنگ گلی تھکاتے تھکاتے کہیں تو جا پھینکے گی ۔ بھلے آگ میں ڈال دے ۔ میں زندہ جل رہی ہوں۔ کس سے کہوں۔ کمرے سے مراداں نکلی تھی ۔ پیچھے پیچھےمنتیں کرتی اماں ۔ تو میری بات تو سن ، میری سوہنے نصیب والی میں قربان جاؤں تجھ پر ۔ غصہ کیوں کر گئی۔ میرے بھائی کے دل کا ٹکڑا میرے بھی جگر کا ٹکڑا ہے۔ میں تجھے دھوکا کیسے دے سکتی ہوں۔ میرے پاس بیٹھ تو سہی۔ میں کہہ کیا رہی ہوں۔ تو سمجھ تو سہی پھر تو خود کہے گی۔ میری پھوپھی میرا برا نہیں چاہتی۔ میرے ہاتھوں پھیلی میری مراد بھری دو – مراداں تیرے لیے کتنی منتیں مانی تھیں میں نے ،اتنی لجاجت آواز میں تھی اور مراداں نے ان کی بات سنی ان سنی کر دی تھی۔ وہ کچھ سنتا نہیں چاہتی تھی۔ پتا نہیں کیا ۔ چکراتے سر کے ساتھ شمی نے سوچا۔ سرشام ہی کہیں ڈھول بجنا شروع ہوگئے تھے۔ ان کی آواز اس کے کانوں کو سخت بری لگ رہی تھی۔ اسے کوئی خوشی اچھی نہ لگتی تھی۔ ابھی ابھی جمشید اسے دیکھ کر ان دیکھا کرتا ہوا بڑے بھائی کے ساتھ باہر نکلا تھا ۔ سب میں گھلنا ملنا عروج پر تھا۔ مراداں اپنی چار پائی پر بیٹھی نجانے کیا سوچ رہی تھی۔ اسے پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی ۔ اس کا دوپٹہ گول مول ہو کر گود میں پڑا تھا۔ اندھیرا پھیل رہا تھا۔ ڈھول تیز اور تیز ہو رہے تھے۔ میداں ! ایسے کیوں کھڑی ہے چل میرے ساتھ شکیل کی جلیبیاں بن رہی ہیں گرما گرم- اس کی بہن صابرہ کی منگنی نہیں یہ؟ میداں بے یقین تھی ۔ تو جھوٹ کہہ رہی ہے ناں۔ سچ کہہ رہی ہے ، اس کی ماں خود ہمیں آنے کا کہہ کر گئی ہے ، اتنا چراغاں کیا ہے کہ رات دن لگ رہی ہے سگے ماموں کی بیٹی اور ایسی جیسے مکھن کا پیڑا، نرم و نازک ۔ وٹہ سٹہ ہے بچپن کا اور شکیل کی بھی پسند ہے وہ ۔ رابعہ پوری تفصیل بتا رہی تھی۔ ہاتھ میں گرم جلیبی کا ٹکڑا بھی تھا۔
☆☆☆

مراداں نئی چادر کی بکل مارے شکیل کے ہاں جارہی تھی، باہر مردوں کی بھی بیٹھک تھی، گھر کے مرد سارے وہیں چلے گئے ایک ایک کرکے ۔ جاتے جاتے جمشید نے مراداں سے ہنس کے کہا۔ آجائیں ، بڑی رونق شونق لگی ہے وہاں۔ اور تم شمی گھر میں ہی رہنا ورنہ ناراض ہونا ہے اماں نے، ویسے بھی ہر وقت غصے میں رہتی ہے تیری وجہ ہے۔ مراداں نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ ڈھولک کی آواز دور دور تک سنائی دے رہی تھی۔ کھیتوں میں سرسراتی ہوا بھی جھوم رہی تھی۔ میداں اپنی چارپائی پر گری آسمان کو تک رہی تھی۔ مردوں جیسی حالت اور ادھر شکیل جلیبیاں چائے گڑ والے چاول تقسیم کرتا پھر رہا تھا۔ میداں اٹھ کر باہر نکل گئی تھی ننگے پاؤں اس نے دیکھا تھا مگر شمی نے اٹھنے کا ارادہ ترک کردیا تھا۔ کئی دنوں کی یہ تنہائی اب میسر تھی۔ اس نے موقع کا فائدہ اب اٹھانے کی سوچی۔ یہ وقت گزر نہ جائے ۔ یہ لمحہ شاید دوبارہ نہ آئے مجھ بے اختیار کی زندگی میں ۔ آر یا پار کوئی کنارہ تو ضرور ہی میرا مقدر ہوگا۔ تبھی اپنے بستر سے اٹھ رہی تھی۔ گلی کے نکڑ پر کوئی کھڑا تھا۔ مانوس سا سایہ اور دوپٹا لہرا رہا تھا ۔ میٹھے چاولوں کا تھال اٹھائے شکیل گزرنے ہی والا تھا جب میداں سامنے آگئی تھی۔ کیوں کیا تم نے ایسا مجھے بتاؤ۔ میں خوب صورت نہیں ؟ تم سے محبت نہیں کرتی ؟ جان دے سکتی میں ہوں تمہارے لیے۔ ابھی آزما کر دیکھ لو بس مجھے چھوڑ کر نہ جاؤ شکیل ۔ آخر میں اس کی آنکھیں بھرے سے پیالے کی طرح چھلک گئی تھیں۔ سب کو چھوڑدوں تم کہہ کر تو دیکھو ۔ اس نے ہاتھ جوڑ لیے تھے۔ میں مجبور ہوں میداں ! میری بہن کا اور میرا وٹہ سٹہ ہے۔ میں کچھ نہیں کر سکتا مجھے بھول جاؤ” گاؤں کا سب سے طاقت ور مر د زمانے سےڈر گیا تھا۔ اسے غصہ آگیا تھا۔ اللہ کرے کہ تمہاری بہن کسی سے محبت کرتی ہو، وہ بھی کسی کے عشق میں روئے ” ۔ میداں بد دعا دے کر حساب برابر کر رہی تھی۔ وہ تمہاری طرح آوارہ نہیں ہے ۔ پتا بھی نہیں ہے اسے ان باتوں کا اور تو ، تیرا تو کام ہے یہ سرخیاں پوڈر لگا کر بندے پھنسانا – دوبارہ نظر آئی ناں تے یاد رکھے گی ۔ جان سے پیارے نے اپنی جان کی زبان اچھی طرح بند کے کر دی تھی اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا تھا
☆☆☆

مراداں میرا دوپٹا تمہارے قدموں میں پڑا ہے. میرا کوئی نہیں ۔ ایک جمشید تھا ۔ اسے بھی اماں مجھ سے ، چھین لینا چاہتی ہے اور وہ کامیاب بھی رہے گی۔ سارے تمہارے طرف دار ہیں سب کے دل تمہیں یہاں لانے کے لیے راضی ہیں ۔ مجھے جمشید سے نہ وہ امید ہے نہ وہ توقع ، میں تمہیں کیا دے سکتی ہوں صرف اتنا احسان ضرور کر دو ، رب کریم کی تم پر بے شمار احسانات ہیں اس نے تمہیں خوب نواز رکھا ہے۔ مراداں مجھے اس گھر میں رہنے دیتا ۔ میں یہاں سے نکل کر کہاں جاؤں گی۔ مجھے بدنصیب کو گھر کے کسی بھی کونے میں رہنے دینا – اپنی حیثیت بھی نہ بھولوں گی جمشید تمہارا ہے اب ۔“ اس کے بازو سے خون نکل کر مراداں کے دوپٹے کو داغدار کر گیا تھا۔ بہت خون بہہ رہا ہے آؤ میں پٹی کر دوں ۔ چلو میرے ساتھ وہ اس کے پیچھے پیچھے چل پڑی تھی۔
☆☆☆

یہ باہر کون آیا ہے اماں ! کسی سے باتیں کر رہی ہے مراداں ۔ بڑی بھجی بھجی لگتی ہے مجھے ،تو نے تو کچھ نہیں کہا- اسے خدشے ستا رہے تھے۔ناں پتر میں نے کیا کہنا ہے اسے “ ایک بات سمجھائی تھی اس کے فائدے کی اسے، پر سنی یا ہی نہیں اس نے۔ سمجھا اس کو ، دیکھ تیرے سے پیار کرتی ہے وہ تیری مانے گی، تو منوا لے اس سے۔ وہ غیرعورت ہےاس سے ہمارا کوئی خونی رشتہ نہیں اس سے ۔ تو ہمارا اپنا خون ہے۔ اماں نے دوسری روٹی توے پر ڈال دی تھی۔ شمی اندر کمرے میں بے سدھ پڑی تھی، بھینسیں اسے پکار پکار کر تھک گئیں وہ نہ آئی۔ اسے تیز بخار تھا – بڑی جٹھانی نے ٹوٹا پیالہ بھر کے بدمزہ چائے لادی تھی ۔ اب ساری تیمار داری مکمل تھی کوئی کسر باقی نہ رہی تھی۔ السلام علیکم” “خیر سے پتر دلاور حسین پر اماں کی نظر تھی میداں کے لیے ۔ ” پھپھو تائی نے بھیجا ہے کہ جا کے مراداں کو لے آ – بڑی اداس ہو رہی ہے وہ۔” ” چل مراداں ! تو نے رہنا ہے تو بتادے میں کہہ دوں گا، چار دن اور رہے گی۔ دلاور چارپائی پر بیٹھا چائے پی رہا تھا۔ بس دلاور بڑارہ لیا ہے ، اب گھر جاؤں گی، اپنا گاؤں یاد آ رہا ہے اور سن تو مجھے لے کے کیسے جائے گا۔“ دو یہ ساتھ ہی تو گاؤں ہے مگر پھر بھی میں اپنی موٹر سائیکل لایا ہوں۔ جلدی سے کپڑے سمیٹ لے۔ وہ پہلے سے ہی سمیٹ رکھے ہیں ۔ اچھا پتر پھر کب آؤ گی۔ اماں نے اس کا ماتھا پوری قوت سے چوم لیا تھا۔ مگر جواب کوئی نہ ملا تھا ۔
☆☆☆

جھلی ہے تو جھلی نہ ہوتی تو جمشید سے شادی کرتی جس نے تیرا دل اجاڑ دیا ۔ میرا دل کیسے بسا سکتا تھا وہ اس نے میرے لیے جان نہ دی۔ میرے لیے بھی نہ دیتا۔ میں نے تو پھوپھی کو منع کر دیا تھا۔ میں نے نہیں ماننی ان ماں بیٹے کی بات تو نے دھوکا کھا لیا ۔ میں نہیں کھائی ۔ آنکھوں دیکھی بھی بھلا کون نگلے۔ کہنے سننے کا کیا فائدہ میں نے راہ الگ کر لی۔ تجھے تیرا گھر مبارک ہو – دلاور نے اگر میرے لیے جان نہ دی تو میرا ابا اس کی جان خود نکال لے گا۔ جمشید سے اس نے بات بھی نہیں کی تھی۔ وہ چور ہو کر رہ گیا تھا ۔ اماں سر باندھ کر پڑی تھی، دیورانیاں البتہ چاپلوسی میں آگے آگے تھیں۔ تو بس شمی کا خیال رکھا کر ، اس کا میکہ نہیں ہے تو میں ہوں ناں ، میری روٹیاں کم نہیں ہوں گی اس کے کھانے سے۔ وہ دھمکا رہی تھی انہیں۔ شمی تمہارے بھائی کو بھی میں ڈھونڈوں گی پوری کوشش کروں گی۔“ میں سب سے ملنے آئی تھی یہاں
☆☆☆

رب کتنا مہربان ہے اور میں کتنی بے رحم نکلی ۔ اس ایک اداس شام کے بعد کئی شامیں میداں نے رو رو کر گزار دیں پھر تھک گئی ۔ میداں اس کے سمجھانے پر، اس کے تجربے سے سیکھ کر چپ چاپ ڈولی میں بیٹھنے کے لیے تیار ہو گئی تھی۔ وہ اس کے لیے اپنی زندگی کیوں خراب کرے، دل کو سمجھانا مشکل تھا مگر نا ممکن نہیں ۔
☆☆☆

سارے صحن میں دیگوں کا شور مچا ہوا تھا۔ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی ۔ ارمان نکالے جارہے تھے۔ جہیز کا سامان اٹھایا جا رہا تھا۔ عورتیں شادی والے گیت گا رہی تھیں ۔ ہر طرف آنے والے کا استقبال تھا اماں نے اس ہجوم کو چیر کر سہرا اٹھایا۔ میداں ! چاند سورج کا میل ہے تمہارا اور اس کا شکیل تو اس کے پیر جیسا بھی نہیں ۔ رب سلامت رکھے ۔ تجھے جو تو نے یہ راز اپنے اندر چھپا کر رکھا – میداں محبت کبھی سچی نہیں ہوتی ، آسمان والے کے پاس ہے سچی محبت ، وہ اسے یہاں نہیں اتارے گا کبھی ، یہ دنیا قابل نہیں ہے اس کے، سارے غرض کے رکھتے ہیں یہاں ۔بھائی ! مجھے معاف کر دینا جو میں نے تجھے کبھی کچھ کہا ہو ، دل سے دعا دے مجھے۔ دکھی دلوں کی سنی جاتی ہے۔ میداں جھکے سر کے ساتھ اس کے ہاتھ چوم رہی تھی۔ تیرا کیا قصور تو میرا اپنا ہے تو دعا کرنا، رب مجھے بھی معاف کر دے۔ آمین کل مجھے لینے تو نے آنا ہے۔ بھائی! سمجھا دیا ہے میں نے اماں کو وہ اب تیرے پیرنہ دھوئے تو مجھے کہنا۔
☆☆☆

دیکھ شہزادہ کتنا سوہنا ہے میرا شیشم کے گھنے درخت کے نیچے چار پائی پر بیٹھے ٹھنڈے پانی کا گلاس لبوں سے لگائے اس نے سنا مگر کہا کچھ نہیں۔ یہ کیسی وفا نبھائی تھی اس کے محبوب نے۔ شمی !تو نے مجھے دل سے معاف نہیں کیا ناں ۔ ابھی پاؤں پکڑلوں تیرے پھر تو بھول جاؤ گی سب. جب مراداں ٹھکرا گئی تب میرا خیال آیا۔ میں نظر آئی اسے۔ ہمدرد شکر ہے۔ میرے ہمدرد میری مسافت ختم ہوئی ۔ تمہیں لوٹا دیا گیا ۔ مجھے ٹھکرانے والے کو ٹھکرا دیا – پر میں جان گئی کہ روئے زمیں پر سچا ہمدرد کوئی نہیں –

Latest Posts

Related POSTS