Haqeeqat Main Sara Qasoor Maa Ka Hai

106
مہینہ بالکل ختم ہونے والا ہے، یعنی آخری تاریخ کی آخری رات کے پچھلے پہر (دوپہر) صبح کی تیز کرنیں جب میرے کمرے کے بادبان سے پار ہوکر ٹیوب لائٹ کی سفید روشنی کو چھوئیں گی، وہ پہلی تاریخ ہوگی، اور ہاں مجھے یہ بھی یقین ہے کہ کل سات بجے ریڈیو سیون سے پہلی تاریخ والا ریکارڈ بجے گا،
’’خوش ہے زمانہ، آج پہلی تاریخ ہے‘‘
وہ اپنے بستر پر بیٹھا ہے اور سوچ کے سمندر میں غوطے لگارہا ہے۔
میں اپنے ادارے میں نچلے درجے کا ملازم ہوں، بالکل نیچے بھی نہیں، اور بالکل اوپر بھی نہیں۔ آج کل افسروں کو گریڈ ملے ہوئے ہیں، اگر کوئی افسر ان کا گریڈ ابتدا سے گننے لگے تو، یعنی ایک، دو، تین!
جی ہاں، بالکل ایسے، تو پھر پانچویں نمبر پر مجھے سمجھ لیں۔ میری تنخواہ دو سو نوے روپے ہے اور میں میری بیوی، ابو، امی اور بال بچے سب گنے چنے ہیں، ارے یہ مجھے کیا ہوگیا ہے۔ خود ہی سے بات کر رہا ہوں، جیسے کہ سونے سے پہلے ہی نیند میں بولنے لگا ہوں۔
70 میں گریجویشن ہوئی،76 میں کلرکی ملی، یعنی کمال ہے اور کیا؟ بیچ والا عرصہ دھکے اور ٹھوکریں۔ وہ کچھ لمحے خاموش بیٹھ کر پھر زور سے بات کرنے لگتا ہے۔
ہاں یاد آگیا۔ وہ دل میں کوئی بات سوچ کر بستر سے اٹھتا ہے اور کبٹ سے پیپر اور پین نکالتا ہے۔
آج یعنی اسی وقت مجھے آنے والے مہینے کا بجٹ بنا لینا چاہیے۔ خرچ کا تخمینہ اور آمدنی کا حساب لگانا چاہیے۔
آٹا، چاول، گھی اور چینی کے لیے دو سو روپے، جو باقاعدگی سے نکلتے ہیں۔ عبدو ہٹ والے کے بھی پچاس ہوگئے ہوں گے اور۔۔۔۔! لیکن یہ مہینہ پتا نہیں کون سا ہے۔
آدھا لکھتے لکھتے چھوڑ دیا اور خود سے سوال کرنے لگا۔ پتا نہیں کون سا ہوسکتا ہے۔ خود ہی جواب دیتا ہے۔
یاد آگیا اگست ہے۔۔۔۔ہاں! اگست پر کیسے؟
خود پر چڑ آنے لگتی ہے۔
کمال ہے اور نہیں تو کیا! سردی میں کانپ رہا ہوں۔ اتنے بڑے کمرے میں بند ہوں، پھر یہ اگست کیسے ہوا؟
ہوں۔۔۔۔ہوں۔۔۔۔ہاں یاد آیا۔ دسمبر ہے۔
اب بالکل یاد آگیا پچھلے ہفتے اماں نے کہا تھا ناں کہ میرے لیے اجرک لیتے ہوئے آنا۔
بابا نے کہا تھا کہ ایک کوٹ لے آنا، (اب تو سب کچھ یاد آتا جا رہا ہے) بچوں کے بھی تو کپڑے نہیں ہیں، پچھلی بار نوراں نے منہ ہی نوچ لیا تھا اور باقی رہی نورین اور میں۔ خیر ہے مولا مالک ہے، وقت گزر جائے گا۔
اوہ۔۔۔ میں نے حساب کتاب پتا نہیں کہاں چھوڑ کر رکھ دیا، سچی بات تو یہ ہے کہ دن بہ دن پاگل ہوتا جا رہا ہوں۔ کتنے دنوں سے نہایا نہیں، جسم میں جیسے خارش ہوگئی۔ وہ حساب کتاب اور باتیں چھوڑ کر جسم کو کھرچنے لگتا ہے۔
کمال ہے یعنی۔۔۔! حساب تو پورا نہیں بیٹھ رہا، تنخواہ تین سو بھی نہیں، خرچ چھ سو سے بھی بڑھ کر۔
نوراں نے بھی سلائی سے کچھ پیسے بنائے ہوں گے بھی کے نہیں؟ وہ بھی صرف خرچ کرنے کے لیے ہی بیٹھی ہے، اماں پرائی گدڑیوں اور رضائیوں کو سی سی کر تھک گئی ہے۔ ملتا تو ایک ٹکا بھی نہیں، صرف کھانے میں حساب پورا۔ بابا تو بے چارہ بوڑھا، نہ کام کاج کرسکے، ہائے ری قسمت۔۔۔۔! ماتھے پر شکنیں پڑنے لگیں۔
’’حقیقت میں سارا قصور اماں کا ہے۔ کہتی ہے کہ رشوت نہیں کھاؤ، پیسے نہیں لو، حرام نہیں کھاؤ!
تو پھر کیا کھاؤں؟ پتھر اور مٹی۔۔۔۔؟ اب پورا بھی اماں ہی کرے ناں؟ میرا حال بھی کتنا بدحال ہوگیا ہے، کتنا واحیات قسم کا ہوگیا ہوں، دوسرے بھی تو جونیئر کلرک ہیں، ایک میں ہی گندا ہوا ہوں، ایمان دار بیٹا! غصے میں اس کا منہ بگڑ جاتا ہے۔
اب تو نیند بھی نہیں آتی۔ اگر نیند نہیں آرہی تو کیا کیا جائے؟ میں سمجھتا ہوں کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے۔ اور نہیں تو کم سے کم ورزش کرنی چاہیے۔
میں نے پتا نہیں کیا بکواس کی۔ ایک قہقہہ نکل جاتا ہے اس پر۔
ہاں بات کر رہا تھا نیند کی۔ آج کل مجھ سے نیند بھی ناراض ہوگئی ہے۔ دوسری رات ہے آنکھ بند نہیں کی۔ سارا دن محنت کرکے سوکھ کر پتلا ہوگیا ہوں، سچی بات تو یہ ہے کہ میں آدمی کی شکل سے بدلتا جا رہا ہوں۔
اوہ۔۔۔۔ رات ختم ہونے میں آخری پہر، وہ گھڑیال کی طرف دیکھتا ہے، اب مجھے لیٹنا چاہیے، آنکھیں بند کرنی چاہییں اور نیند کو باقاعدہ کہلوا کر بلانا چاہیے، ولیم ورڈز ورتھ کی طرح۔ جیسے بچے کو منانا پڑتا ہے جیسے اسی طرح اپنے چھوٹے سے بیٹے بشیر کو جھوٹی باتیں بتا کر بہانہ کرکے چلا جاتا ہوں۔
ٹھیک ہے نیند آئے یا نہ آئے، باقی بچے ہیں دو تین گھنٹے، کوئی کتاب پڑھ لوں۔
وہ بستر سے اٹھتا ہے اور کبٹ میں سے ایک کتاب نکال کر پھر بستر پر آکر بیٹھ جاتا ہے۔
اس کہانی کا مرکزی کردار اور خیال ہو بہو میری زندگی سے ملتا جلتا ہے۔ شاید اس بے چارے کے ساتھ بھی وہی ظلم ہے یا زندگی سب کے ساتھ یہی ظلم ہے۔
نہیں ایسا نہیں ہوگا، سب میری طرح کنگلے نہیں ہوں گے، سب جونیئر کلرک نہیں ہوں گے، سب میری طرح بھوک پر ایمان دار نہیں ہوں گے اور سب میری۔۔۔۔!! وہ اپنا جملہ ادھورا چھوڑ دیتا ہے۔ جسم میں تھکن محسوس کرتا ہے۔ تھکن کی وجہ سے چور چور ہوجاتا ہے اور اچانک اس کی آنکھ لگ جاتی ہے۔
اور پھر وہ خوابوں کی دنیا میں مست اور مگن ہوجاتا ہے، کسی کو بھی لفٹ نہیں کرواتا، کمرے میں جلتی ہوئی ٹیوب لائٹ کی سفید روشنی کی طرح سپنے میں بھی روشنیاں ہی روشنیاں ہیں۔
اب وہ جونیئر کلرک نہیں ہے، لیکن اسی ادارے کا ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ ہے اور اس کے اشارے سے ادارے کا کام اور ہر ملازم چل رہا ہے۔ کالونی سے آفس تک پیدل سفر نہیں کرتا، اس کے کنٹرول میں بہت سی گاڑیاں ہیں، اب اس کے پاس پرانی ٹیبل اور اس کے اوپر رکھی ہوئی ٹائپ مشین اور ڈھیر ساری فائلیں نہیں ہیں، لیکن ایئرکنڈیشن روم ہے جوکہ مکمل طور پر سجا ہوا ہے، گھومتی ہوئی کرسی کے آگے بڑی ٹیبل ہے، جس کے اوپر ایک سے زیادہ ٹیلی فون رکھے ہوئے ہیں، اور اس کے علاوہ بہت سی چیزیں، گل دستے، گل دان وغیرہ۔
اس کی ایمان داری کی تعریف شہر شہر، گاؤں گاؤں تک پہنچ جاتی ہے۔ خود اعلیٰ افسران تک اور جلد ہی اسے پروموشن دے کر ایک بڑے عہدے پر فائز کیا جاتا ہے۔
آج کل وہ بہت بڑا افسر ہے۔ اس کے بچے ٹوٹے ہوئے زبوں حال اسکول کے میدان میں چکر لگاتے ہوئے نہیں پڑھ رہے، بل کہ شہر کے ایک بڑے انگلش میڈیم فوکس اسکول میں انگریزی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
اس کی بیوی نوراں مشین پر سلائی نہیں کر رہی، بڑے بڑے فنکشنز کا افتتاح کر رہی ہے۔
ایک دن اپنی رہائش گاہ سے آفس جانے کے لیے تیار ہوکر باہر آتا ہے، کار میں بیٹھ کر آفس پہنچتا ہے اسے آفس کے سامنے بہت سے لوگ نظر آتے ہیں جو سب مختلف چھوٹی اور بڑی نوکریوں کے امیدوار ہیں۔
تقریباً 12 بجے کے بعد وہ نئے آنے والے امیدواروں سے انٹرویو لینا شروع کرتا ہے، ایک کے پیچھے دوسرا، دوسرے کے پیچھے تیسرا۔
تعلیم کتنی ہے؟
درخواست دیکھے بغیر ہی سامنے بیٹھے امیدوار سے سوال پوچھتا ہے۔
’’سر! بی اے۔‘‘ امیدوار نے جواب دیا۔
’’اوہ!‘‘ وہ ٹھنڈی آہ بھرتا ہے، پھر گردن اوپر کرکے اس کی طرف دیکھتا ہے اور پھر مسلسل ٹکٹکی باندھ کر امیدوار کی طرف دیکھتا رہتا ہے۔ اسی دوران امیدوار کا چہرہ ڈراؤنا لگتا ہے۔ وہ کانپنے لگتا ہے، امیدوار کی شکل اسے اپنی شکل محسوس ہونے لگتی ہے، دانت بھنچ جاتے ہیں۔
’’سائیں خدا کی قسم، میں مسکین ہوں۔ چار پانچ بچے ہیں، بوڑھا باپ ہے، ماں ہے، بھوک کاٹ رہے ہیں۔ سائیں۔۔۔!‘‘ اس نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا۔
’’نہیں سننا چاہتا تمہاری بکواس۔ دور ہو جاؤ میری نظروں سے۔‘‘
’’لیکن سائیں!‘‘
’’میں نے کہا ناں، تمہیں نوکری نہیں ملے گی۔‘‘
امیدوار کے بات کرنے سے پہلے ہی کہہ دیا، لیکن اس کی حالت خراب ہوتی گئی، کپکپانے لگتا ہے۔ بات نہیں کر پاتا۔ پھر بھی اسے سامنے بیٹھے دیکھتے ہوئے کہتا ہے۔
’’آئی سیڈ گیٹ۔۔۔۔!!‘‘
وہ آؤٹ کہنے سے پہلے ہی جاگ جاتا ہے۔
کچھ پل کے لیے خود کو سپنوں کی دنیا سے باہر دیکھتا ہے۔ ٹھنڈ میں سردی لگتی ہے۔ گھڑیال میں ٹائم دیکھتا ہے۔ آفس ٹائم سے پونا گھنٹہ سے اوپر ہوگیا ہے۔
جلدی جلدی ہاتھ منہ دھوتا ہے، بغیر داڑھی صاف کیے، نہانے، کپڑے تبدیل کرنے اور ناشتہ کرنے کے بغیر ہی آفس جانے کے لیے کالونی سے باہر نکل جاتا ہے۔
آزاد جتوئی
سندھی سے ترجمہ: نوشابہ نوش
SHARE