Hazrat Gesudaraz | Episode 1

534
یہ نویں ہجری کے آغاز کا واقعہ ہے۔ بت پرست ہندوستان میں ’’رام راج‘‘ کا تصور ایک قصۂ پارینہ بن چکا تھا۔ برہمن، مہنت، پجاری اور جوگی اسلام کی روزبروز بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیے عجیب عجیب حربے استعمال کررہے تھے مگر ’’وحدانیت پرستی‘‘ کے سیدھے سادے پیغام نے ’’اصنام پرستی‘‘ کے تمام فلسفوں کی دھجیاں اُڑا دی تھیں۔ بت خانے ویران ہوتے جارہے تھے۔ ’’قشقہ و زنار‘‘ کے بندے خاک پر اپنی پیشانیاں رگڑ کر اللہ کی کبریائی اور خاتم النبیین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر گواہی دے رہے تھے۔ اسی دوران ایک مردِ خدا دہلی سے روانہ ہوکر ’’کاٹھیا واڑ‘‘ پہنچا۔ جہاں کی آبادی کا بیشتر حصہ کافروں اور مشرکوں پر مشتمل تھا۔
’’تمہارا تیرتھ استھان (مقام مقدس) کہاں ہے؟‘‘ مسلمان درویش نے مقامی ہندوئوں سے پوچھا۔
’’وہاں جاکر کیا کرو گے؟‘‘ کاٹھیا واڑ کے بت پرست اس مردخدا کو شک کی نظر سے دیکھ رہے تھے۔ ’’تمہارا، ہمارے تیرتھ استھان سے کیا تعلق ہے؟‘‘
’’میں تم لوگوں کا طریقۂ عبادت دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ مسلمان درویش نے اپنے سوال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا۔
’’گرناتھ پہاڑ پر ہمارا سب سے بڑا تیرتھ استھان ہے۔‘‘ مقامی ہندوئوں نے ایک پہاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جو شہر سے کچھ فاصلے پر واقع تھی۔
یہ سن کر مسلمان درویش ’’گرناتھ پہاڑ‘‘ کی طرف جانے لگا تو مقامی بت پرستوں نے کہا۔ ’’وہاں مت جانا، ہلاک کردیئے جائو گے۔‘‘
مسلمان درویش نے اندازِ بے نیازی کے ساتھ ہندوئوں کی طرف دیکھا۔ ’’مجھے کون مارے گا؟‘‘
’’عام حالت میں شاید تمہیں کوئی ضرر نہیں پہنچتا مگر اس وقت تو خود ہندوئوں کی جان پر بنی ہوئی ہے۔‘‘ ایک بت پرست نے کہا۔ ’’عجیب وقت آگیا ہے کہ ہندو، ہندو سے لڑ رہا ہے۔ پھر کسی غیرمذہب سے تعلق رکھنے والا کیسے محفوظ رہے گا۔‘‘
’’آخر تم کس جنگ کی بات کررہے ہو؟‘‘ مسلمان درویش نے پوچھا۔
’’کاٹھیا واڑ میں دو مذہبی فرقے آباد ہیں۔‘‘ بت پرست نے وضاحت کی۔ ’’ایک ’’جین مت‘‘ کے اصولوں پر یقین رکھتا ہے اور دوسرا ’’وشنو مت‘‘ کے اصولوں پر عمل کرتا ہے۔ ان دونوں فرقے کے ماننے والے صدیوں سے پُرسکون زندگی بسر کررہے تھے مگر آج ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہورہے ہیں۔‘‘
’’اب تو میرا وہاں جانا بہت ضروری ہوگیا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر مسلمان درویش تیز قدموں سے پہاڑی کی طرف روانہ ہوگیا۔
مقامی ہندو اسے روکنے کی کوشش کرتے رہے، لرزہ خیز انجام سے ڈراتے رہے مگر اسے جانا تھا اور وہ چلا گیا۔
پھر جب مسلمان درویش گرناتھ پہاڑ کے تیرتھ کی حدود میں داخل ہوا تو بڑا ہولناک منظر اس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ ’’وشنومت‘‘ اور ’’جین مت‘‘ کے ماننے والے نیزے، تلواریں اور بھالے لئے ہوئے ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوئے تھے۔ بس لمحوں کی بات تھی، سارے ہتھیار استعمال ہوتے اور ہندوئوں کا تیرتھ استھان انسانی خون سے رنگین ہوجاتا۔
دونوں فرقوں کے پجاریوں نے ایک مسلمان درویش کو اپنی طرف آتے دیکھا تو حیران رہ گئے۔ کچھ دیر کے لیے باہمی مناقشت کو فراموش کرکے سوچنے لگے کہ ایک غیرمذہب کا ماننے والا ان کے مقام مقدس کی حدود میں کیوں داخل ہوا ہے؟ وہ سلطان فیروز شاہ تغلق یا کسی دوسرے مسلمان حاکم کا جاسوس تو نہیں؟ ابھی تمام پجاری اسی فکر اور اندیشے میں مبتلا تھے کہ مسلمان درویش شمشیر بدست اور خنجر بکف ہندوئوں کے قریب پہنچ گیا۔
’’آخر تم لوگوں کے درمیان کیا جھگڑا ہے کہ ایک دوسرے کی شہ رگ کاٹنے پر تلے ہو؟‘‘ مسلمان درویش نے دونوں فرقوں کے پجاریوں سے سوال کیا۔
’’تم کون ہو درمیان میں آنے والے…؟‘‘ بیک وقت کئی آوازیں بلند ہوئیں۔ ’’یہ ہمارا ذاتی جھگڑا ہے اور ہم خود اسے طے کریں گے۔‘‘
’’بے شک! یہ تمہارا ذاتی معاملہ ہے مگر میں نہیں چاہتا کہ انسانی خون اتنی ارزانی کے ساتھ بہہ جائے۔‘‘ مسلمان درویش نے آمادئہ جنگ پجاریوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔
’’خون تو بہے گا۔‘‘ ایک بار پھر بہت سی آوازیں گونجیں۔ ’’سچ کو قائم رکھنے کے لیے جھوٹ کو مٹانا ہی پڑتا ہے۔‘‘
’’مگر یہ کون طے کرے گا کہ تم میں سچا کون ہے؟‘‘ مسلمان درویش نے دونوں طرف کے پجاریوں سے پوچھا۔
’’جن کے کاندھوں پر سر باقی رہیں گے، وہی سچے ٹھہریں گے۔‘‘ پتھر کے پجاری غضبناک لہجے میں عجیب عجیب دعوے کررہے تھے۔
’’یہ تو کوئی معیار نہیں ہے کہ جو مر گیا، وہ جھوٹا تھا اور جو بچ گیا، وہ سچا ہے۔‘‘ مسلمان درویش نے اپنی منطق پیش کرتے ہوئے کہا۔
’’تم مداخلت کرنے والے کون ہو؟ ہٹ جائو ہمارے درمیان سے۔‘‘ جین مت کے پجاریوں نے چیخ کر کہا۔
’’میں ہی فیصلہ کروں گا کہ تم میں سچا کون ہے اور جھوٹا کون!‘‘ مسلمان درویش نے پُرجلال لہجے میں کہا اور چاروں طرف گہرا سناٹا چھا گیا۔
بت پرستوں کے ہجوم میں ایک مردِحق کی یہ جرأت و بے باکی بڑی عجیب تھی۔ بڑے بڑے ’’تلک دھاری‘‘ اور ترشول بردار پجاری حیرت سے اس شخص کو دیکھ رہے تھے جو ان کے تیرتھ استھان میں تنہا کھڑا تھا اور دونوں فرقوں کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع میں خود کو ثالث قرار دے رہا تھا۔ کچھ دیر پہلے دیوتائوں کے پرستار اس سے بحث کررہے تھے مگر جب اس کا جلال روحانی ظاہر ہوا تو پتھر کے پجاری خود ہی پتھر بن کر رہ گئے۔
پھر مختصر سے وقفۂ سکوت کے بعد مردِحق کے ہونٹوں کو دوبارہ جنبش ہوئی۔ ’’میری آنکھوں میں دیکھ کر بتائو کہ سچا کون ہے؟‘‘ مسلمان درویش نے ’’وشنو مت‘‘ کے بڑے پجاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
پجاری نے مردِحق کی طرف دیکھا اور اس کے جسم پر لرزہ طاری ہوگیا۔ پھر کانپتے ہاتھ سے ترشول چھوٹ کر زمین پر گر پڑا۔
’’تم سچے ہو اور میں جھوٹا ہوں۔‘‘ وشنو مت کا پجاری ہذیانی انداز میں چیخ رہا تھا۔ پھر وہ مسلمان درویش کے قدموں پر جھک گیا۔ اس کے ساتھ ہی اس فرقے سے تعلق رکھنے والے دوسرے پجاری بھی سجدہ ریز ہوگئے۔
پھر مردحق ’’جین مت‘‘ کے بڑے پجاری سے مخاطب ہوا۔ ’’اب تم بتائو کہ سچا کون ہے؟‘‘
جین مت کے پجاری نے بھی وہی جواب دیا اور اپنے چیلوں کے ساتھ زمین پر سر رکھ کر چیخنے لگا۔ ’’بس! تم سچے ہو اور ہم سب جھوٹے ہیں۔‘‘
کچھ دیر پہلے بت پرستوں کے دو فرقے جو اپنے عقائد کی سچائی ثابت کرنے کے لیے ایک دوسرے کا خون بہانے پر تُلے ہوئے تھے، وہ اپنے نظریات کی نفی کرکے ایک مسلمان درویش کی صداقت پر گواہی دینے لگے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ ان لوگوں نے اس مردِحق کی آنکھوں میں کیا دیکھا کہ اپنے آبائو اجداد کی صدیوں پرانی تعلیمات فراموش کردیں اور اس شخص کے پیچھے سر جھکائے چلنے لگے جسے کچھ دیر پہلے وہ جانتے تک نہیں تھے۔
حضرت امیر خسروؒ کی مشہور منقبت ہے جو انہوں نے اپنے پیر و مرشد حضرت نظام الدین اولیا محبوب الٰہیؒ کی شان میں لکھی تھی۔
’’چھاپ تلک سب چھین لی موسے نیناں ملائے کے‘‘
(تو نے ایک نظر کیا دیکھا کہ میرے ماتھے سے بت پرستی کی ساری نشانیاں مٹا ڈالیں)
حضرت امیر خسروؒ کا یہ مصرع اس مردحق پر بھی صادق آتا تھا جس کے قدموں نے گرناتھ پہاڑ کے تیرتھ استھان کو بتوں سے پاک کردیا تھا اور جہاں صدیوں سے ’’ناقوس‘‘کی آوازیں گونج رہی تھیں، وہاں اچانک ’’اللہ اکبر‘‘ کا نعرئہ سرمدی سنائی دینے لگا تھا۔
جس مسلمان درویش کے دست حق پرست پر کاٹھیا واڑ کے ہزاروں ہندو ایمان لائے تھے، وہ سلسلۂ چشتیہ کے مشہور بزرگ حضرت سیّدنا نصیرالدین چراغ دہلیؒ کے خلیفۂ اکبر حضرت سیّد محمد گیسو دراز رحمتہ اللہ علیہ تھے۔
٭…٭…٭
آپ کا خاندانی نام سیّد محمدؒ، کنیت ابوالفتح اور لقب صدرالدین تھا۔ عام طور پر آپ خواجہ گیسو درازؒ کہلاتے ہیں۔ اہل دکن جوش عقیدت میں آپ کو بندہ نواز بھی کہتے ہیں۔ سیّد محمدؒ کے مورث اعلیٰ ہرات سے دہلی آئے تھے اور اسی مقام پر 721ھ میں آپ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ آپ کے والد محترم سّید یوسف حسینی المعروف سیّد راجاؒ کو حضرت نظام الدین اولیاؒ سے ارادت تھی۔ حضرت محبوب الہیٰؒ کا انتقال 725ھ میں ہوا۔ اس وقت سیّد محمدؒ کی عمر چار سال تھی۔ حضرت نظام الدین اولیاؒ کا خاندانی نام بھی سیّد محمدؒ تھا۔ ہوسکتا ہے کہ سیّد یوسف حسینیؒ نے پیرومرشد کی محبت و عقیدت میں بیٹے کا نام سیّد محمد رکھا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ سیّد یوسف حسینیؒ اپنے فرزند سیّد محمد کو لے کر حضرت نظام الدین اولیاؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہوں اور حضرت محبوب الٰہیؒ نے انہیں اپنی دعائوں سے سرفراز کیا ہو۔ سیّد محمد ’’حسینی سیّد‘‘ تھے۔ بیس واسطوں سے آپ کا سلسلۂ نسب امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مل جاتا ہے۔
تمام معتبر تذکرہ نگاروں کی روایتوں سے پتا چلتا ہے کہ جب سیّد محمدؒ چار سال کے ہوئے تو سید یوسف حسینیؒ آپ کو لے کر دیوگیر (دکن) چلے گئے۔ (بعد میں دیوگیر کا نام بدل کر دولت آباد رکھ دیا گیا تھا) یہ وہی زمانہ ہے جب حضرت نظام الدین اولیاؒ دنیا سے رخصت ہوچکے تھے اور سلطان غیاث الدین تغلق کی موت کے بعد اس کا بیٹا سلطان محمد تغلق تخت ہندوستان پر جلوہ افروز ہوچکا تھا۔
دیوگیر میں حضرت شیخ بابوؒ نام کے ایک عارف قیام پذیر تھے۔ سیّد یوسف حسینیؒ شب و روز ان ہی بزرگ کی صحبت میں رہا کرتے تھے۔ نتیجتاً انتہائی کم سنی میں سید محمدؒ کے معصوم ذہن پر معرفت کے آثار مرتب ہونا شروع ہوگئے تھے۔ تمام مستند تاریخوں میں یہ حوالے موجود ہیں کہ سیّد محمدؒ بچپن ہی سے مذہب کی طرف مائل تھے۔
حضرت شیخ بابوؒ اس کمسن بچے کے ساتھ بڑی شفقت سے پیش آتے۔ اپنے برابر بٹھاتے اور نہایت محبت سے سیّد محمدؒ کے سر پر ہاتھ پھیرتے۔ ایک دن حضرت شیخ بابوؒ نے آپ کے والد محترم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’سیّد یوسف! تمہارا یہ بچہ اہل ایمان کا پیشوا ہوگا۔ عنقریب بے شمار لوگ اس کی وجہ سے ہدایت پائیں گے۔‘‘
حضرت شیخ بابوؒ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سن کر سیّد یوسف حسینیؒ مسرور و مطمئن ہوگئے۔
’’سیر محمدی‘‘ کی روایت ہے کہ آٹھ سال کی عمر ہی میں حضرت سیّد محمدؒ سے دینی شغف کا اظہار ہونے لگا تھا۔ وضو اور نماز میں خاص اہتمام کرتے، چھوٹے بچے سیّد محمدؒ کی خدمت میں جمع رہتے، ان کے وضو کے لیے پانی کا گھڑا بھر کر رکھتے اور بہت عزت و تکریم کے
ساتھ پیش آتے۔
قافلۂ روزو شب اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا کہ اچانک سیّد محمدؒ ایک جانگداز حادثے سے دوچار ہوگئے۔ اس وقت آپ کی عمر دس سال تھی کہ والد محترم بیمار ہوئے اور مختصر سی علالت کے بعد 731ھ میں انتقال کرگئے۔ حضرت سیّد یوسف حسینیؒ دولت آباد ہی میں سپردخاک ہوئے۔ آج بھی آپ کے مزار مبارک پر زائرین کا ہجوم رہتا ہے۔
حضرت سیّد محمدؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے نانا سے حاصل کی جو ایک عالم و فاضل انسان تھے۔ والد محترم کی زبان سے حضرت نظام الدین اولیاؒ اور حضرت سید نصیرالدین چراغ دہلیؒ کا ذکر سنتے رہتے تھے۔ نتیجتاً آپ کے دل میں خواجگان چشت کے لیے ایک خاص عقیدت پیدا ہوگئی تھی۔ ابھی سیّد یوسف حسینیؒ کے انتقال کو چند مہینے ہی گزرے تھے کہ آپ کی والدہ ماجدہ اور ماموں سیّد ابراہیم مستونی کے درمیان رنجش پیدا ہوگئی۔ پھر یہ اختلافات اس قدر بڑھے کہ سیّد محمدؒ کی مادر گرامی نے دولت آباد (دکن) کی سکونت ترک کردی اور اپنے بچوں کو ساتھ لے کر 736ھ میں دہلی چلی آئیں۔ اس وقت حضرت سیّد محمدؒ کی عمر مبارک پندرہ سال تھی۔
آپ جمعے کی نماز پابندی کے ساتھ سلطان قطب الدین ایبک کی تعمیر کردہ مسجد میں پڑھا کرتے تھے۔ وہاں اکثر حضرت نظام الدین اولیاؒ کے خلیفہ اکبر حضرت سیّد نصیر الدین چراغ دہلیؒ تشریف لاتے تھے۔ سیّد محمدؒ کو حضرت چراغ دہلیؒ سے بے پناہ عقیدت تھی۔ جب تک حضرت شیخؒ مسجد میں رہتے، سیّد محمدؒ انہیں مسلسل دیکھتے رہتے مگر پاس ادب یہاں تک تھا کہ قریب جانے کی ہمت نہیں ہوتی تھی، بس دور ہی سے اس مرد خدا کا دیدار کرلیتے اور دل میں ایک عجیب سی خلش لیے ہوئے گھر لوٹ آتے۔
آخر لوح محفوظ پر جو لکھا گیا تھا، وہ ایک دن زمین پر نازل ہوگیا۔ فاصلے کم ہوئے اور حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے ایک اُچٹتی نظر سے سیّد محمدؒ کی طرف دیکھا۔ عارف وقت کی یہ ایک نگاہ جلال نووارد کوچۂ عشق کے لیے کافی تھی۔ سینے میں جو چنگاری برسوں سے دبی ہوئی تھی، وہ بھڑک کر شعلہ بن گئی۔ پھر جب حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ جامع مسجد سے اٹھ کر اپنی خانقاہ کی طرف روانہ ہوئے تو سیّد محمدؒ بھی آپ کے پیچھے پیچھے چلے۔ یہاں تک کہ معرفت کا یہ نوخیز مسافر تاجدارِ چشتیہ کے قدموں میں خم ہوگیا۔
پھر حضرت نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے سیّد محمدؒ کو اپنے حلقہ بیعت میں شامل فرما لیا۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک سولہ سال کے قریب تھی۔ حضرت چراغ دہلیؒ کے مریدوں میں پختہ کار اور عمررسیدہ افراد بھی شامل تھے لیکن پیر و مرشد سیّد محمدؒ کو بہت زیادہ عزیزرکھتے تھے۔
بیعت کے بعد حضرت سیّد محمدؒ کی خواہش ہوئی کہ وہ مرشد کی دست بوسی کے لیے جلد جلد حاضری دیں لیکن بعض مجبوریوں کے سبب آپ کی یہ آرزو پوری نہیں ہوتی تھی۔ آخر ایک دن حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’سیّد محمد! تم جب بھی میرے پاس آتے ہو، بے وقت آتے ہو۔ میں اس وقت ملول رہا کرتا ہوں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں تم سے کچھ بات کروں۔‘‘
پیر و مرشد کی یہ شفقت دیکھ کر سید محمدؒ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ نہایت رقت آمیز لہجے میں عرض کرنے لگے۔ ’’سیّدی! میرے لیے یہی شرف کافی ہے کہ میں آپ کے حلقۂ غلامی میں شامل ہوں۔‘‘
٭…٭…٭
حضرت سیّد محمدؒ نے پیر و مرشد کی ہدایت کے مطابق عبادت و ریاضت میں بتدریج ترقی کی۔ آپ کے بڑے صاحبزادے سیّد محمد اکبر حسینیؒ نے آپ کے ملفوظات کو ’’جوامع الکلم‘‘ کے نام سے مرتب کیا ہے۔ حضرت سیّد محمدؒ اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں۔
’’ایک بار پیر و مرشد کے دیدار کے لیے حاضر ہوا۔ مجھے دیکھتے ہی حضرت شیخؒ نے فرمایا۔ ’’سیّد محمد! تم صبح کی نماز کے لیے جو وضو کرتے ہو، کیا وہ آفتاب طلوع ہونے کے بعد تک باقی رہتا ہے؟‘‘
میں نے عرض کیا۔ ’’جی ہاں! آپ کے صدقے میں باقی رہتا ہے۔‘‘
میرا جواب سن کر پیر و مرشد نے فرمایا۔ ’’کیا اچھا ہو جو اسی وضو سے دوگانہ اشراق بھی پڑھ لیا کرو۔‘‘
میں نے کھڑے ہوکر عرض کیا۔ ’’اِن شاء اللہ، آپ کے صدقے میں ضرور پڑھوں گا۔‘‘
حضرت شیخؒ نے فرمایا۔ ’’اسی کے ساتھ ’’شکرالنہار‘‘ اور ’’استخارہ‘‘ بھی پڑھ لیا کرو۔‘‘
پھر جب میں چند روز اس کی پابندی کرچکا تو ایک دن پیرو مرشد نے فرمایا۔ ’’دوگانہ اشراق پڑھتے ہو؟‘‘
میں نے دست بستہ عرض کیا۔ ’’حضرت شیخؒ کے صدقے میں بلاناغہ پڑھتا ہوں۔‘‘
پیر و مرشد نے ارشاد فرمایا۔ ’’اگر اس میں چاشت کی چار رکعتیں بھی ملا دیا کرو تو نماز چاشت بھی ہوجایا کرے گی۔‘‘
حضرت سیّد محمدؒ فرماتے ہیں۔ ’’میں ہمیشہ رجب کے مہینے میں روزے رکھتا تھا۔ ایک دن حضرت شیخؒ نے پوچھا۔ ’’سیّد محمدؒ! کیا تم رجب میں روزے رکھتے ہو؟‘‘
میں نے بصد احترام عرض کیا۔ ’’حضرت شیخؒ کے صدقے میں رجب اور شعبان میں روزے رکھتا ہوں۔‘‘
پیر و مرشد نے فرمایا۔ ’’اگر اکیس دن اور رکھ لیا کرو تو پورے تین مہینے کے روزے ہوجایا کریں گے۔‘‘
میں نے عرض کیا۔ ’’اِن شاء اللہ آپ کے صدقے میں ایسا ہی کروں گا۔‘‘
پھر جب میں نے اپنی والدہ محترمہ سے اس بات کا ذکر کیا تو مجھ پر برہم ہوگئیں اور بہت سخت سست کہا۔ مادر گرامی اس وقت تک حضرت شیخؒ سے بیعت نہیں ہوئی تھیں۔
میں نے نہایت ادب و احترام کے ساتھ والدہ ماجدہ سے عرض کیا۔ ’’آپ جو چاہیں کہیں مگر حضرت شیخؒ نے جو کچھ فرمایا ہے، میں اس پر عمل کرنے سے باز نہیں آئوں گا۔‘‘
حضرت سیّد محمدؒ فرماتے ہیں۔ ’’میرا معمول تھا کہ میں رمضان المبارک کے بعد شش عید کے روزے بھی رکھتا تھا۔ (یہ چھ روزے ہیں جو شوال کے مہینے میں مسلسل رکھے جاتے ہیں) ایک دن حضرت شیخؒ کے دیدار کے لیے حاضر ہوا تو فرمایا۔ ’’ہمارے خواجگان صوم دائودی نہیں بلکہ صوم دوام رکھتے تھے، اس لیے تم بھی صوم دوام رکھا کرو۔‘‘
(ممنوعہ ایام کے سواسال بھر روزہ رکھنے کو صوم دوام کہتے ہیں)
حضرت سیّد محمدؒ نے باطنی تربیت کے علاوہ علوم ظاہری کی تکمیل کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ کچھ مذہبی کتابیں مولانا سیّد شرف الدین کیتھلیؒ، مولانا تاج الدینؒ اور مولانا قاضی عبدالمقتدر سے پڑھیں، پھر جب آپ کو ذکر و فکر میں زیادہ کیف حاصل ہونے لگا تو گھر چھوڑ کر حظیرئہ شیر خان کے ایک حجرے میں آکر مراقبہ کرنے لگے۔ یہاں حضرت سیّد محمدؒ نے دس سال تک شدید ریاضتیں کیں۔ حظیرئہ شیر خان کے حجرے سے مولانا قاضی عبدالمقتدرؒ کے یہاں درس لینے جاتے، پھر وہاں سے پیر و مرشد کے دیدار کے لیے خانقاہ میں حاضر ہوتے۔
ایک دن حضرت سیّد محمدؒ نے حضرت نصیرالدین چراغ دہلیؒ سے عرض کیا۔ ’’اگر پیر و مرشد کا حکم ہو تو علوم ظاہری کی تحصیل ترک کردوں کہ اب ان چیزوں میں دل نہیں لگتا؟‘‘
حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے جواباً فرمایا۔ ’’ہدایہ، بزوری، رسالہ شمسیہ، کشاف اور مصباح کو غور سے پڑھ لو۔ تم سے ایک کام لینا ہے۔‘‘
بعض تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ پیر و مرشد کے ’’کام لینے‘‘ سے مراد تصنیف و تالیف کا کام ہے، پھر بھی وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ کا اشارہ کس کام کی طرف تھا۔ الغرض انیس سال کی عمر میں حضرت سیّد محمدؒ علوم ظاہری کی تحصیل سے فارغ ہوگئے اور پھر آپ نے سخت مجاہدات شروع کردیئے۔
حضرت سید نصیرالدین چراغ دہلیؒ اپنے نوعمر مرید کی ریاضت سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ ایک موقع پر آپ نے حاضرین مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’ستّر برس کے بعد ایک لڑکے نے پھر مجھ میں شوریدگی پیدا کردی ہے اور پہلے زمانے کے واقعات مجھے یاد دلا دیئے ہیں۔‘‘
اس کے بعد سیّد محمدؒ کے سلسلے میں حضرت نصیرالدین چراغ دہلیؒ کی شفقت روزبروز بڑھتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ ایک بار خود پیر و مرشد خطیرئہ شیر خان تشریف لے گئے جہاں سید محمدؒ مقیم تھے۔ پھر حضرت شیخ نے اپنے محبوب مرید کو کچھ روپے بھی نذرانے کے طور پر پیش کیے۔ اس واقعے کے بعد پوری دہلی میں حضرت سیّد محمدؒ کی شہرت عام ہوگئی اور باکمال صوفیہ اپنی مجلسوں میں برملا کہنے لگے۔ ’’اس شخص کو عین جوانی کے عالم میں پیرانِ کامل کا درجہ حاصل ہے۔‘‘
پھر حضرت سیّد محمدؒ کا ذوقِ ریاضت اس قدر بڑھ گیا کہ انسانی آبادی چھوڑ کر جنگلوں کی طرف نکل گئے۔ پھر طویل مجاہدوں کے بعد پیر و مرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس زمانے میں حضرت سیّد محمدؒ کے معمولات یہ تھے کہ علی الصباح اٹھ کر حضرت شیخؒ کو وضو کراتے، پھر خود وضو کرکے نماز فجر باجماعت ادا کرتے اور جب تک پیر و مرشد اوراد و وظائف میں مشغول رہتے، حضرت سیّد محمدؒ طالبان حق کو سلوک کی تعلیم دیتے اور جب مرشد کی مجلس منعقد ہوتی تو اس میں شریک ہوتے اور جب برخاست ہوتی اور حضرت شیخؒ اپنے حجرئہ مبارک میں جاکر عبادت میں مشغول ہوتے تو حضرت سیّد محمدؒ بھی ایک گوشے میں بیٹھ کر یادِ حق میں مصروف ہوجاتے۔
پھر چاشت کی نماز پڑھ کر تھوڑی دیر قیلولہ کرتے۔ اس کے بعد کلام پاک کی تلاوت فرماتے۔ ظہر کا وقت آتا تو پہلے خود وضو کرتے، پھر مرشد کو وضو کراتے۔ ظہر کی نماز کے بعد حضرت شیخؒ حجرے میں تشریف لے جاتے تو خود بھی اپنے حجرے میں آکر اوراد و وظائف میں مشغول ہوجاتے یہاں تک کہ سہ پہر کا وقت آجاتا۔
حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ کی مجلس درس دوبارہ آراستہ ہوتی۔ حضرت سیّد محمدؒ وضو کرکے اس مجلس میں شرکت کرتے اور پیر و مرشد کے ساتھ عصر کی نماز پڑھ کر مغرب تک تسبیح و تہلیل میں مشغول رہتے۔ پھر مغرب کی نماز اور اوابین ادا کرکے عشاء تک طالبان سلوک کو تعلیم دیتے پھر عشاء کی نماز کے بعد تھوڑا سا کھانا تناول فرما کر سوجاتے۔
نصف شب بیدار ہوکر پہلے خود وضو کرتے، اس کے بعد پیر و مرشد کو وضو کراتے۔ جب حضرت شیخؒ حجرے میں داخل ہوکر یادِ حق میں مشغول ہوجاتے تو سیّد محمدؒ بھی نماز تہجد ادا کرکے حجرے کے باہر دروازے سے پشت لگا کر ذکرِالٰہی میں مصروف ہوجاتے۔ آپ اس وقت بھی پانی کا آفتابہ وغیرہ اپنے ساتھ رکھتے کہ جب پیر و مرشد صبح کی نماز کے لیے حجرے سے باہر تشریف لائیں تو اس وقت وضو کا سارا سامان تیار ملے۔ حضرت سیّد محمدؒ کے نظام الاوقات کی یہ تفصیل اس لیے بیان کی گئی ہے کہ قارئین کو آپ کی کثرت ریاضت کا اندازہ ہوجائے اور معرفت کے طلب گار اس راز سے بھی


ہوجائیں کہ حضرت سیّد محمدؒ نے اپنے پیر و مرشد کی کس قدر خدمت کی ہے اور شیخؒ کی رضا جوئی کا کتنا خیال رکھا ہے۔
٭…٭…٭
حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ اپنی ضعیفی اور ناتوانی کے سبب پالکی میں سفر کیا کرتے تھے۔ حضرت شیخؒ کی اس پالکی کو آپ کے دس بارہ خدمت گار اٹھایا کرتے تھے۔ جب سیّد محمدؒ، حضرت چراغ دہلیؒ کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوئے اور حضرت شیخؒ نے سفر کرنا چاہا تو آپ سب سے پہلے پالکی اٹھانے کے لیے تیار ہوگئے۔ حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے اپنے محبوب مرید کا یہ عمل دیکھا تو بے اختیار فرمایا۔ ’’سیّد محمد! تم آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو، اس لیے پالکی نہ اٹھائو۔‘‘
پیر و مرشد کا یہ ارشاد گرامی سن کر حضرت سیّد محمدؒ آبدیدہ ہوگئے۔ پھر نہایت رقت آمیز لہجے میں عرض کرنے لگے۔ ’’شیخ عالی مقام! آپ حسنی سید ہیں اور میں حسینی، آپ بڑے ہیں اور میں چھوٹا، آپ مرشد ہیں اور میں مرید، آپ مخدوم ہیں اور میں خادم…! جب اللہ تعالیٰ نے حضرت شیخ کو ہر طرح کی بزرگی اور فضیلت عنایت فرما کر واجب التعظیم بنایا ہے تو پھر میں اس خدمت سے کیوں محروم رکھا جائوں؟‘‘
حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے آپ کے جذبۂ عقیدت کی یہ سرشاری دیکھ کر فرمایا۔ ’’بابا! تم مختار ہو، جو چاہو کرو۔‘‘
اس کے بعد حضرت سیّد محمدؒ اپنے پیر و مرشد کی پالکی اٹھانے لگے اور حضرت چراغ دہلیؒ نے پھر کبھی کوئی اعتراض نہیں فرمایا۔
ایک دن حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ، حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کے مزار پُرانوار پر فاتحہ خوانی کے لیے پالکی میں سوار ہوئے۔ حضرت سیّد محمدؒ نے حسب دستور آگے بڑھ کر سب سے پہلے پالکی اٹھائی۔ حضرت سیّد محمدؒ کے سر کے بال بہت زیادہ لمبے تھے، اس لیے اتفاقاً پالکی کے پائے میں پھنس گئے۔ آپ نے شدید تکلیف محسوس کی لیکن مرشد کے ادب کے پیش نظر زاویہ تبدیل نہیں کیا اور اسی حالت میں پالکی اٹھائے ہوئے کئی میل تک چلے گئے۔ بہت زیادہ دبائو کے باعث کئی جگہ سے بالوں کی جڑیں ٹوٹ گئیں اور ان سے خون بہنے لگا مگر طویل راستے میں ایک بار بھی حضرت سیّد محمدؒ نے پالکی کے پائے سے اپنے بالوں کو نکالنے کی کوشش نہیں کی۔ پھر جب حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ، حضرت قطبؒ کے مزار مبارک پر پہنچ کر پالکی کے نیچے تشریف لائے تو آپ نے سیّد محمدؒ کے چہرے کی طرف دیکھا جو لہولہان ہورہا تھا۔
’’سیّد! یہ کیا ہے؟‘‘ حضرت چراغ دہلیؒ کے لہجے سے نہایت فکر و تشویش کا اظہار ہو رہا تھا۔
حضرت سیّد محمدؒ نے سر جھکائے ہوئے نہایت عاجزی کے ساتھ پورا واقعہ بیان کردیا۔
’’سیّد محمد! آخر تم نے ایسا کیوں کیا؟‘‘ حضرت نصیرالدین چراغ دہلیؒ کے لہجے میں اذیت و کرب کا رنگ نمایاں تھا۔ ’’پالکی زمین پر رکھ کر اپنے بالوں کو آزاد کرلیا ہوتا۔ کئی گھنٹے تک اس تکلیف میں کیوں مبتلا رہے؟‘‘
’’غلام اس وجہ سے اپنا زاویہ تبدیل نہ کرسکا کہ پیر و مرشد کے سکون میں خلل واقع ہوتا۔‘‘ حضرت سیّد محمدؒ نے سر جھکائے ہوئے عرض کیا۔
اپنے محبوب مرید کا یہ جواب سن کر حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ بے قرار ہوگئے اور پھر نہایت جذب کے عالم میں یہ شعر پڑھا:
ہر کہ مرید سید گیسودراز شد
واللہ خلاف نیست کہ او عشق باز شد
(جو کوئی سیّد گیسودراز کا مرید ہوگیا، خدا کی قسم، وہ کسی اختلاف کے بغیر عشق باز بن گیا)
اسی دن سے آپ سیّد محمدؒ کے بجائے گیسو درازؒ مشہور ہوگئے اور پیر و مرشد کا عطا کردہ وہ لقب آپ کی ذات گرامی کا حوالہ بن گیا۔
٭…٭…٭
سینتیس سال کی عمر میں حضرت سیّد گیسودرازؒ شدید بیمار ہوئے۔ یہاں تک کہ آپ نے خون تھوکنا شروع کردیا۔ دہلی کے کئی نامور طبیبوں اور کئی مشہور حکیموں نے حضرت سیّد گیسو درازؒ کا علاج کیا مگر تمام تدبیریں الٹی ہوتی جارہی تھیں۔ پھر ایک روز حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ آپ کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔ حضرت سیّد گیسو درازؒ کی نقاہت کا یہ عالم تھا کہ پیر و مرشد کے استقبال کے لیے اٹھ کر بیٹھ بھی نہ سکے۔ اپنی اس ناتوانی کا احساس کرکے سیّد رونے لگے۔ ’’سیّدی! یہ کیسی مجبوری ہے کہ غلام اپنے شہنشاہ کا استقبال بھی نہیں کرسکتا۔‘‘ یہ کہتے کہتے حضرت سیّد گیسو درازؒ کی حالت غیر ہوگئی۔
جب حضرت نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے اپنے جاں نثار مرید کی یہ کیفیت دیکھی تو خود بھی بے قرار و مضطرب ہوگئے۔ پھر آپ سیّد گیسو درازؒ کے لاغر و نحیف جسم پر آہستہ آہستہ دست شفقت پھیرنے لگے۔ یہ حضرت چراغ دہلیؒ کی مسیحا نفسی کا اثر تھا کہ سیّد گیسو درازؒ تیزی سے روبہ صحت ہونے لگے اور پھر وہ دن بھی آگیا کہ آپ اپنے قدموں سے چل کر پیر و مرشد کی خانقاہ تک پہنچے۔
ایک دن حضرت نصیرالدین چراغ دہلیؒ کی مجلس عرفان میں دہلی کے بڑے بڑے علماء اور مشائخ جمع تھے۔ حضرت سید گیسو درازؒ بھی دست بستہ سر جھکائے اگلی صف میں حاضر تھے۔ اچانک حضرت نصیرالدین چراغ دہلیؒ اپنی نشست سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ حضرت شیخؒ کے احترام کے پیش نظر حاضرین مجلس نے بھی آپ کی تقلید کی۔ اس وقت حضرت چراغ دہلیؒ کمبل اوڑھے ہوئے تھے۔ مجلس میں موجود تمام لوگوں نے دیکھا کہ حضرت چراغ دہلیؒ چند قدم آگے بڑھے اور اپنا کمبل اتار کر حضرت سیّد گیسو درازؒ کے کاندھوں پر ڈال دیا۔ پھر اپنے محبوب مرید کے دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑ کر فرمایا۔ ’’اگر دنیا میں کوئی شخص محنت کرتا ہے تو یقیناً کوئی چیز اس کی طلب کا مرکز ہوتی ہے۔‘‘
حاضرین مجلس بہت غور سے حضرت شیخؒ کی گفتگو سن رہے تھے۔ پھر چند لمحوں کے توقف کے بعد حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے فرمایا۔ ’’سیّد محمد! میری طرف سے یہ چیز قبول کرو۔‘‘ حضرت شیخؒ کا اشارہ اس کمبل کی طرف تھا جو اس وقت حضرت سیّد گیسو درازؒ کے کاندھے پر موجود تھا۔ وہ کمبل دراصل خرقۂ خلافت تھا اور کسی چیز کے قبول کرنے سے پیر و مرشد کی یہ مراد تھی کہ حضرت سیّد گیسو درازؒ لوگوں سے بیعت لیا کریں۔
حضرت سید گیسو درازؒ پیر ومرشد کا حکم سن کر خاموش رہے اور سر جھکا لیا۔
’’سیّد محمد! تم نے اسے قبول کرلیا؟‘‘ حضرت نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے آپ کو دوبارہ مخاطب کرتے ہوئے کسی قدر بلند آواز میں فرمایا۔
اب حضرت سیّد گیسو درازؒ کے لیے خاموشی ممکن نہ تھی۔ آپ نے بہت آہستہ لہجے میں عرض کیا۔ ’’غلام نے آقا کی نوازشات کو قبول کیا۔ ہرچند کہ غلام اس عنایت و کرم کا مستحق نہیں تھا۔‘‘
حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے تیسری بار فرمایا۔ ’’سیّد محمد! تم نے اسے قبول کرلیا؟‘‘
’’خادم نے حضرت مخدوم کے اس عطیۂ خاص کو قبول کرلیا۔‘‘ حضرت سیّد گیسو درازؒ نے بدستور سر جھکائے ہوئے عرض کیا۔ ’’ہرچند کہ خادم اس گرانقدر اعزاز کے لائق نہ تھا۔‘‘
اس کے بعد حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے حضرت سیّد گیسو درازؒ کو دو وصیتیں فرمائیں۔ ’’اپنے ظاہری اوراد ترک نہ کرنا اور میرے متعلقین کے ساتھ رعایت کرنا۔‘‘
٭…٭…٭
اسی زمانے میں حضرت سیّد گیسو درازؒ نے ایک رات اپنے والد محترم کو خواب میں دیکھا۔ حضرت سیّد یوسف حسینیؒ اپنے فرزند کو مخاطب کرکے فرما رہے تھے۔ ’’سیّد محمد! ہمارے مملوکہ مکان کے صحن میں نیم کے درخت کے نیچے روپوں سے بھرا ہوا ایک حوض ہے اور اسی حوض میں اشرفیوں کی ایک دیگ بھی موجود ہے۔ اٹھو! اور یہ سب دولت نکال کر اپنے استعمال میں لائو۔‘‘
حضرت سید گیسو درازؒ نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کے چہرئہ مبارک سے فکر و پریشانی کی کیفیت نمایاں تھی۔ خود کلامی کے انداز میں فرمانے لگے۔ ’’سیّد محمد نے تو دولت کی طرف پشت کرلی اور دنیا کی تمام لذتوں کو چھوڑ دیا، پھر یہ کیسا خواب ہے اور مجھے حصول سیم و زر کی دعوت کیوں دی جارہی ہے؟‘‘ حضرت سیّد گیسو درازؒ بہت دیر تک اپنے خواب کے تمام زاویوں پر غور کرتے رہے۔ یہاں تک کہ فجر کی اذان ہوگئی اور پھر آپ اپنے خالق کے آگے سجدہ ریز ہوگئے۔
سورج طلوع ہوا تو حضرت سید گیسو درازؒ پیر و مرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا خواب بیان کیا۔
حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے سیّد گیسو درازؒ کا خواب سن کر کچھ دیر مراقبہ کیا اور پھر اپنے محبوب مرید کو مخاطب کرکے فرمایا۔ ’’یہ خواب نہیں بشارت ہے۔ زمین میں پوشیدہ رقم نکالو اور اسے اپنے مصرف میں لائو۔‘‘
پیر و مرشد کا حکم سن کر حضرت سید گیسو درازؒ نے سر جھکا لیا اور خاموش بیٹھے رہے۔
حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے آپ کی دلی کیفیت کا اندازہ کرلیا تھا، اس لیے دوبارہ مخاطب ہوئے۔ ’’سیّد محمد! کیا تمہیں اس کام میں کچھ تامل ہے؟‘‘
حضرت سیّد گیسو درازؒ نے نہایت ادب و حترام کے ساتھ عرض کیا۔ ’’سیّدی پر خوب روشن ہے کہ خادم ترک دنیا کرچکا ہے۔ اب میں سیم و زر کے لیے اپنے دل میں کوئی رغبت نہیں پاتا۔‘‘حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے بغور اپنے مرید کی طرف دیکھا۔ سیّد گیسو درازؒ کے دل اور زبان میں بڑی مطابقت تھی۔ حضرت شیخؒ نے آپ کے ترک دنیا پر گواہی دیتے ہوئے فرمایا۔ ’’بے شک تم سیم و زر کو پسند نہیں کرتے مگر یہ والد محترم کا حکم ہے۔ پہلے اس زیرزمین گنجینے کو برآمد کرو اور پھر اسے اللہ کے راستے میں خرچ کردو۔ اس طرح تمہیں دُہرا ثواب ملے گا۔‘‘
پیر و مرشد کا دوسرا حکم سن کر حضرت سیّد گیسو درازؒ کے چہرے پر طمانیت کی لہر دوڑ گئی۔ پھر آپ چند مزدوروں کے ہمراہ اس مکان میں پہنچے اور والد محترم نے خواب میں جس مقام کی نشاندہی کی تھی، اسے کھدوانا شروع کردیا۔ وہ خزانہ کافی گہرائی میں دفن تھا۔ حضرت سیّد گیسو درازؒ نے کسی تاخیر کے بغیر سیم و زر کا انبار ضرورت مندوں میں لٹا دیا۔ پھر غسل کیا اور لباس تبدیل کرکے دو نفل ادا کیے۔ اس کے بعد شکرگزاری کے طور پر طویل دعا فرمائی۔ ’’اے اللہ! تیرے ہی حکم سے سیّد محمد تجھ پر ایمان لایا اور تیری ہی بخشی ہوئی توفیق کے سبب تیرے احکام پر عمل کیا اور تیری ہی دی ہوئی ہمت سے اس بارگراں کو اٹھایا اور اس مشکل ترین ذمہ داری سے سبکدوش ہوا۔ اے علیم و خبیر! تو خوب جانتا ہے کہ تیرے ناتواں بندے میں یہ بوجھ اٹھانے کی طاقت نہیں ہے۔ اس لیے اے میرے کریم! آئندہ مجھے ایسی آزمائشوں سے محفوظ رکھنا اور ہر آن میری مدد فرمانا کہ تیری دستگیری کے بغیر میں اس خارزارِ حیات کو
نہیں کرسکتا۔‘‘
٭…٭…٭
دنیاوی امور کے سلسلے میں خاندانِ چشتیہ کے بزرگوں کی یہ خاص عادت تھی کہ سلاطین وقت سے برائے نام بھی رسم و راہ نہیں رکھتے تھے۔ اسی طرح دولت دنیا کو بھی اپنے لئے وبال سمجھتے تھے۔ حضرت سیّد گیسو درازؒ بھی پوری توانائی اور سچائی کے ساتھ اپنے مشائخ کے راستے پر گامزن تھے۔ نئے نئے انداز سے آپ کے سامنے سیم و زر کے انبار پیش کئے جاتے تھے مگر ہر بار آپ تائید غیبی کے سبب اس آزمائش میں پورے اترتے تھے۔ والد محترم نے خواب میں جس خزانے کی بشارت دی تھی، وہ بھی دراصل ایک امتحان تھا۔ اللہ تعالیٰ کی دستگیری نے سیّد محمدؒ کو اس امتحان میں ثابت قدم رکھا اور آپ ’’سب سے بڑے فتنے کے جال‘‘ سے بحفاظت نکل آئے۔ (قرآن حکیم میں مال اور اولاد کو بہت بڑی آزمائش قرار دیا گیا ہے)
کچھ دن بعد حضرت سیّد گیسو درازؒ کے ساتھ اسی انداز کا ایک اور واقعہ پیش آیا۔
ایک بار دہلی میں سخت بارش ہوئی جس سے خستہ اور پرانے مکانات منہدم ہوگئے۔ قلعے کے پاس صدیوں پرانا ایک کھنڈر تھا۔ اس کے آثار دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ کسی زمانے میں یہ مکان کسی ہندو راجہ کا محل ہوگا۔ طوفانی بارش کے سبب اس مکان کی رہی سہی دیواریں بھی گر گئیں۔ پھر جب بارش رکی تو شاہی محل کا کوئی خدمت گار ادھر سے گزرا۔ کھنڈر کے ملبے پر ایک چمکدار تختی پڑی تھی۔ خدمت گار نے آگے بڑھ کر تختی اٹھا لی اور سلطان محمد تغلق کی خدمت میں پیش کردی۔
سلطان محمد تغلق بڑی حیرت سے تابنے کی اس تختی کو دیکھتا رہا جس پر کوئی عبارت کندہ تھی۔ سلطان محمد تغلق خود بھی ایک عالم و فاضل حکمراں تھا۔ بہت دیر تک تختی کا جائزہ لینے کے بعد بس اتنا ہی معمہ حل کرسکا کہ اس تختی کا تعلق ہندوستان کے قدیم راجہ سمراٹ اشوک کے دور حکومت سے ہے۔ سلطان محمد تغلق نے اس نامانوس عبارت کو پڑھنے کی بہت کوشش کی مگر عاجز رہا۔ آخر فرمانروائے ہند نے آثار قدیمہ کے ماہرین کی جماعت کو دربار میں طلب کیا اور وہ تانبے کی تختی پیش کرتے ہوئے بولا۔ ’’اس عبارت کو پڑھو، یہ کوئی عام کتبہ ہے یا اس میں کوئی راز پوشیدہ ہے؟‘‘
ماہرین آثار قدیمہ کی جماعت بہت دنوں تک اس تختی کے مطالعے اور مشاہدے میں غرق رہی۔ آخر اس جماعت کے کچھ لوگ اس نتیجے پر پہنچے کہ اس برباد شدہ مکان میں زروجواہر کا کوئی خزانہ مدفون ہے مگر کوئی ماہر یہ نہیں بتا سکا کہ اس طویل و عریض کھنڈر میں سیم وزر کا وہ انبار کس جگہ چھپایا گیا ہے۔ الغرض سلطان محمد تغلق نے حکم دے دیا کہ خزانہ برآمد کرنے کے لیے پورا کھنڈر کھود ڈالا جائے۔
حکم شاہی کی تعمیل میں ماہرین آثار قدیمہ نے جگہ جگہ کھدائی کی مگر خزانے کا پتا نہ چل سکا۔ ناکامی کے بعد ماہرین دوبارہ سلطان محمد تغلق کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے۔ ’’جب تک اس خاص مقام کی نشاندہی نہ ہو، اس وسیع کھنڈر میں کھدائی کرنا کار لاحاصل ہے۔‘‘
سلطان محمد تغلق اس نادیدہ خزانے سے دستبردار ہونا نہیں چاہتا تھا۔ اس لیے دن رات غوروفکر میں رہنے لگا۔ جب بادشاہ اور اس کے تمام اہل دانش سوچتے سوچتے تھک گئے تو اچانک اسے حضرت سید نصیرالدین چراغ دہلیؒ کا خیال آیا۔ یہ سلطان محمد تغلق کے دورحکومت کا ابتدائی زمانہ تھا۔ ان دنوں سلطان صوفیا اور مشائخ کا بہت احترام کرتا تھا، پھر اپنے گمراہ مصاحبین کی مشاورت کے سبب وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا اور اس نے صوفیوں اور درویشوں کو سخت اذیتیں پہنچائیں۔ اس بحث سے قطع نظر حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ کا خیال آتے ہی سلطان محمد تغلق کا بے قرار ذہن سکون پا گیا اور اس نے اپنے وزراء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ’’اب یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔‘‘
’’کیا عالم پناہ پر الہام ہوا ہے؟‘‘ ایک خوشامدی وزیر نے کہا۔
’’ہاں! الہام ہی سمجھو۔‘‘ سلطان محمد تغلق نے کہا اور فوراً ہی حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ کے نام ایک خط تحریر کیا۔ اس نے لکھا۔ ’’ماہرین آثار قدیمہ نے دہلی کے ایک کھنڈر میں مدفون خزانے کی نشاندہی کی ہے مگر وہ لوگ اس خاص مقام کا پتا لگانے سے قاصر ہیں۔ مجبوراً میں حضرت شیخ سے رجوع کررہا ہوں۔ حضور اپنے کشف باطن کے ذریعے اس دفینے کا محل وقوع دریافت فرمائیں تاکہ زروجواہر کے ساتھ دیگر قیمتی آثار بھی مل جائیں اور مخلوقِ خدا کے کام آئیں۔‘‘ سلطان محمد تغلق نے اپنے خط کے آخر میں یہ بھی تحریر کیا۔ ’’اگر یہ دفینہ ہاتھ آگیا تو زروجواہر کا ایک عشرہ (دسواں حصہ) حضور کی خدمت میں بطور نذر پیش کیا جائے گا۔‘‘
جب حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے شاہی قاصد کا لایا ہوا خط پڑھا تو مسکراتے ہوئے فرمایا۔ ’’فقیروں کو دفینوں سے کیا نسبت ہے؟ درویش کو اپنے نفس کا کھنڈر کھودنے اور گوہر مراد ڈھونڈنے ہی سے فرصت نہیں تو وہ دنیا کے خزانوں کا کیا پتا لگائے گا۔‘‘ یہ کہہ کر حضرت چراغ دہلیؒ نے شاہی قاصد کو خط واپس کردیا۔ ’’سلطان سے کہہ دینا کہ اس نے اس کام کے لیے مناسب آدمی کا انتخاب نہیں کیا۔ ماہرین آثارِ قدیمہ اور خانوادئہ شاہی کے لوگ ہی دفینوں کو تلاش کرسکتے ہیں۔‘‘
شاہی قاصد ناکام و نامراد لوٹ گیا۔ سلطان محمد تغلق نے حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ کو دوسرا خط تحریر کیا۔ ’’میں اس وقت تک التجا کرتا رہوں گا جب تک حضور میری درخواست قبول نہیں فرمائیں گے۔‘‘
حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے فرمانروائے ہند کا دوسرا خط پڑھا اور مسکراتے ہوئے حضرت سیّد محمدؒ سے مخاطب ہوئے۔ ’’بابا گیسو دراز! تم بھی تو سلطان کے شہر میں رہتے ہو، آج اس کا یہ کام آپڑا ہے۔‘‘
حضرت سیّد گیسو درازؒ پیر و مرشد کا اشارہ سمجھ گئے تھے، اس لیے دست بستہ کھڑے ہوگئے۔
’’بابا! تم جائو اور سلطان کے کام کو ٹھیک ٹھیک انجام دے دو۔‘‘ حضرت چراغ دہلیؒ نے اپنے محبوب مرید کو مخاطب کرکے فرمایا۔
حضرت سیّد گیسو درازؒ خم ہوئے، پیرومرشد کی دست بوسی کے اعزاز سے شرف یاب ہوئے اور پھر سلطانی کارندوں کے ساتھ کھنڈر کی طرف روانہ ہوگئے۔
پھر حضرت سیّد گیسو درازؒ، ماہرین آثارِ قدیمہ، شاہی کارندوں اور مزدوروں کے ساتھ سمراٹ اشوک کے زمانے کے قدیم کھنڈر میں داخل ہوئے۔ حیرت انگیز طور پر اس کھنڈر میں ایک طویل و عریض کمرہ زمانے کی دست برد سے محفوظ تھا۔ ماہرین آثارِ قدیمہ نے اس کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’شیخ! یہ تانبے کی تختی اسی کمرے کے صحن سے برآمد ہوئی تھی۔‘‘
حضرت سیّد گیسو درازؒ کچھ دیر تک اس پُراسرار اور طلسماتی تختی کو ملاحظہ کرتے رہے۔ پھر آہستہ قدموں سے چلتے ہوئے کھنڈر کے صدر دالان میں تشریف لائے اور اس کی چھت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’خزانہ یہاں دفن ہے۔‘‘
حضرت سیّد گیسو درازؒ کا ارشادِ گرامی سنتے ہی شاہی مزدور آگے بڑھے مگر آپ نے ہاتھ کے اشارے سے مزدوروں کو روکتے ہوئے فرمایا۔ ’’ٹھہرو! تم لوگ اس چھت کو برباد کردو گے۔‘‘ یہ کہہ کر آپ خود سیڑھی پر چڑھے اور اپنے دست مبارک سے چھت پر ایک دائرہ بنایا، پھر شاہی مزدوروں کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد کیا۔ ’’اس دائرے کے اندر ہی کھودنا ورنہ چھت خراب ہوجائے گی اور حضرت شیخ فرمائیں گے کہ سیّد محمد نے ٹھیک کام نہیں کیا۔‘‘
ماہرین آثارِ قدیمہ اور شاہی مزدوروں کے ساتھ سلطان محمد تغلق کا وزیر خاص بھی کھدائی کے کام کی نگرانی کرنے آیا ہوا تھا۔ حضرت سیّد گیسو درازؒ کی گفتگو سن کر سب کے سب ایک ہی بات سوچ رہے تھے کہ جب قدیم عمارات اور ارضیات کا وسیع علم رکھنے والے خزانے تک پہنچنے میں ناکام ہوگئے تو ایک گوشہ نشیں درویش دفینے تک کس طرح رسائی حاصل کرے گا؟
الغرض دربار سلطانی سے متعلقہ تمام افراد اسی ذہنی کشمکش میں مبتلا تھے کہ مزدوروں نے حضرت سیّد گیسو درازؒ کے کھینچے ہوئے دائرے کے اندر کھدائی شروع کردی۔ پھر تھوڑی دیر بعد ہی چھت میں شگاف پڑ گئے اور پوشیدہ خزانہ کسی دریا کی طرح ابل پڑا۔ یہ ناقابل یقین منظر دیکھ کر حاضرین کو سکتہ سا ہوگیا۔ پھر جب سلطانی کارندوں کے ہوش و حواس بحال ہوئے تو سلطان محمد تغلق کے وزیر خاص نے حضرت سیّد گیسو درازؒ کے دست مبارک کو بوسہ دیتے ہوئے عرض کیا۔ ’’شیخ! اتنا کرم اور فرمایئے کہ اس تختی کے اسرار و رموز بیان فرما دیجئے تاکہ میں سلطان کے حضور میں سرخرو ہوجائوں۔‘‘
وزیر خاص کی التجا سن کر حضرت سیّد گیسو درازؒ مسکرائے۔ ’’چلو تم سرخرو ہوجائو۔‘‘ اتنا فرما کر حضرت سید گیسو درازؒ نے اس طلسماتی تختی کے تمام راز فاش کردیئے۔
آپ کے ارشاداتِ گرامی سن کر وزیر خاص اور تمام ماہرین آثارِ قدیمہ بیک زبان پکار اٹھے۔ ’’بے شک! اس طلسمی عقدے کو آپ ہی حل کرسکتے تھے۔‘‘
اپنی تعریف و ستائش سے بے نیاز حضرت سیّد گیسو درازؒ نے حاضرین کو سلام کیا اور اللہ حافظ کہہ کر پیر و مرشد کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔
آپ کو دیکھتے ہی حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے فرمایا۔ ’’سیّد محمد! کام کردیا؟‘‘
حضرت سیّد گیسو درازؒ پیر و مرشد کی بارگاہ عالیہ میں خم ہوگئے اور نہایت عجز و انکسار کے ساتھ عرض کیا۔ ’’خادم نے مخدوم کے صدقے میں ٹھیک ٹھیک کام کردیا۔‘‘
پھر سلطان محمد تغلق نے وعدے کے مطابق خزانے کا دسواں حصہ حضرت سیّد نصیرالدین چراغ دہلیؒ کی خدمت میں ارسال کیا۔ حضرت چراغ دہلیؒ کچھ دیر تک سیم و زر اور جواہرات کو ملاحظہ کرتے رہے، پھر شاہی کارندوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’یہ سیّد محمد کا حصہ ہے، اسے ان کے مکان پر پہنچا دو۔‘‘
جب شاہی کارندے سونے اور جواہرات سے بھری ہوئی گاڑیاں لے کر حضرت سیّد گیسو درازؒ کے مکان پر پہنچے تو آپ نے فرمایا۔ ’’اس خزانے کو خانقاہ عالیہ واپس لے جائو۔‘‘ پھر حضرت سیّد گیسو درازؒ پیر و مرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت شیخؒ کے دامن سے لپٹ کر رونے لگے۔ ’’مخدوم کے صدقے میں دینے والے نے خادم کو اتنی دولت دی ہے کہ دامن میں نہیں سماتی۔‘‘
حضرت سیّد محمدؒ کا یہ والہانہ عشق دیکھ کر حضرت چراغ دہلیؒ نے دوبارہ فرمایا:
ہر کہ مرید سیّد گیسودراز شد
واللہ خلاف نیست کہ او عشق بازشد
اس کے بعد حضرت نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے سیم و زر کا انبار واپس کرتے ہوئے سلطان محمد تغلق کو پیغام بھیجا کہ یہ ساری دولت غرباء اور مساکین میں تقسیم کردی جائے۔ (جاری ہے)