Hazrat Gesudaraz | Episode 2

432
سمراٹ اشوک کے زمانے کا خزانہ برآمد ہونے کے بعد حضرت سید گیسو درازؒ کی کشف و کرامت کے تذکرے عام ہونے لگے مگر گیسو درازؒ یہی فرماتے۔ ’’لوگو! میں کچھ بھی نہیں ہوں۔ مجھ میں جو کچھ ہے، وہ اسی ذات گرامی کا عکس جلال و جمال ہے۔‘‘ حضرت سید محمدؒ کا اشارہ اپنے پیر و مرشد کی طرف ہوتا۔
حضرت سید نصیرالدین چراغ دہلیؒ بھی اپنے مرید سے اس قدر محبت فرماتے تھے کہ اس ربط خاص کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ وصال سے ایک سال پہلے حضرت چراغ دہلیؒ ’’باسور بادی‘‘ کے مرض میں مبتلا ہوئے۔ جب تکلیف حد سے زیادہ بڑھ گئی تو خدمت گاروں نے عرض کیا۔ ’’سیّدی! آپ کی ناسازی طبع کے باعث غلاموں کو سخت تشویش ہے۔ حکم ہو تو کسی طبیب سے رجوع کریں؟‘‘
حضرت سید نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے خدام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’طبیب کیا کرے گا؟ جسے کرنا ہے، وہی کرے گا۔ جو میرا طبیب ہے، وہ اپنے بندے کا حال دیکھ بھی رہا ہے اور سن بھی رہا ہے۔‘‘
خدام خاموش ہوگئے مگر ان کے چہروں پر اذیت و کرب کا رنگ نمایاں رہا۔ حضرت سید نصیرالدین چراغ دہلیؒ کے مرض میں لحظہ بہ لحظہ اضافہ ہوتا چلا گیا۔ آخر ایک بار پھر خدام نے دست بستہ عرض کیا۔ ’’سیّدی! اب ہم سے پیر و مرشد کی یہ تکلیف برداشت نہیں ہوتی۔‘‘
حضرت سید نصیرالدین چراغ دہلیؒ کچھ دیر تک سوچتے رہے۔ پھر خدمت گاروں سے فرمایا۔ ’’اچھا! تم لوگ نہیں مانتے تو مجھے سید محمدؒ کے گھر لے چلو۔‘‘
’’کیا سید محمدؒ آپ کو کسی طبیب کے یہاں لے جائیں گے؟‘‘ ایک خدمت گار نے عرض کیا۔
’’وہ خود طبیب ہیں۔‘‘ حضرت نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے فرمایا۔
’’سید محمد تو خود آپ کی خدمت عالیہ میں حاضر رہتے ہیں؟‘‘ دوسرے خادم نے عرض کیا۔ ’’وہ کسی ضروری کام سے گھر تشریف لے گئے ہیں، بس آتے ہی ہوں گے۔‘‘
’’میں ضرورت مند ہوں اس لیے مجھے خود ہی ان کے گھر جانا ہوگا۔‘‘ حضرت نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے فرمایا۔
پھر حضرت چراغ دہلیؒ پالکی میں سوار ہوکر حضرت سید گیسو درازؒ کے یہاں تشریف لے گئے۔
’’سیّدی! آپ نے زحمت کیوں کی؟‘‘ حضرت سید محمدؒ پیرو مرشد کی آمد پر حیران تھے۔
’’سید محمد! تم بھی جانتے ہو کہ میں ایک مرض میں مبتلا ہوں۔‘‘ حضرت سید نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے فرمایا۔ ’’میرے ساتھی چاہتے ہیں کہ میں اپنی صحت پر توجہ دوں اور کسی طبیب خاص سے علاج کرائوں۔‘‘
’’خادم بھی کئی بار عرض کرچکا ہے کہ مخدوم کی یہ تکلیف صاحبان نسبت کے لیے سخت اذیت کا باعث ہے۔‘‘ حضرت سید گیسو درازؒ نے عرض کیا۔
’’اسی لیے میں اپنے طبیب کے پاس آیا ہوں۔‘‘ حضرت سید نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے فرمایا۔
حضرت سید گیسو درازؒ اور دوسرے خدمت گار پیر و مرشد کی گفتگو سمجھنے سے قاصر رہے۔
پھر مختصر سے وقفۂ سکوت کے بعد حضرت چراغ دہلیؒ نے حضرت سید گیسو درازؒ کو دوبارہ مخاطب کرکے فرمایا۔ ’’سید محمد! تم میرا علاج کرو، میں اس بات پر پورا یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہاری دعائوں کے سبب مجھے صحت کلی عطا فرمائے گا۔‘‘
’’سیّدی! میں مخدوم کا ایک ادنیٰ خدمت گار، ایک بندئہ گناہگار؟‘‘ پیر و مرشد کا حکم سن کر حضرت سید گیسو درازؒ پر حیرت و سکوت کی کیفیت طاری ہوگئی۔
’’ہاں سید محمد! تم اپنے مرشد کا علاج کرو۔‘‘ حضرت سید نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے فرمایا۔
یہ سنتے ہی حضرت سید گیسو درازؒ پر رقت طاری ہوگئی، پھر اسی عالم میں آپ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیئے۔ حضرت سید گیسو درازؒ کے پُرسوز لہجے نے حاضرین مجلس کو بھی رُلا دیا۔ جیسے ہی دعا ختم ہوئی، حضرت سید نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے فرمایا۔ ’’سید محمد! تمہاری دعائوں کی تاثیر شروع ہوگئی ہے۔ اب میں کچھ افاقہ محسوس کررہا ہوں۔‘‘
حضرت سید گیسو درازؒ روتے ہوئے عرض کرنے لگے۔ ’’مخدوم کی بخشش و عطا کا بھی عجیب انداز ہے۔ خود مسیحا ہیں مگر بیماروں سے اپنے لیے دعا کراتے ہیں۔ اس شان انکسار اور کریم النفسی کا اندازہ کون کرسکتا ہے؟‘‘
پھر حضرت سید نصیرالدین چراغ دہلیؒ خانقاہ تشریف لے آئے۔ واپسی میں حضرت سید گیسو درازؒ بھی پیر و مرشد کی پالکی اٹھائے ہوئے تھے۔ معتبر روایت ہے کہ حضرت چراغ دہلیؒ دوسرے دن مکمل طور پر صحت یاب ہوگئے۔ جس بیماری نے پیر و مرشد کو کم و بیش ایک ماہ سے سخت اذیت میں مبتلا کر رکھا تھا، وہ اس طرح چلی گئی کہ جیسے کبھی اس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔
پیر و مرشد کی نگرانی میں حضرت سید گیسو درازؒ کا روحانی سفر جاری تھا کہ حضرت سید نصیرالدین چراغ دہلیؒ کا وقت آخر آگیا۔ حضرت سید گیسو درازؒ اور دوسرے مریدین نے بصدنیاز عرض کیا کہ طبیبوں سے رجوع کیا جائے مگر حضرت شیخؒ نے منع فرما دیا۔ ’’یہ وہ مرض نہیں ہے جو کسی طبیب کے نسخے سے شفایاب ہوسکے۔ ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے، سو میں بھی عنقریب اس مرحلے سے گزروں گا۔‘‘
حضرت چراغ دہلیؒ کا ارشادِ گرامی سن کر مریدین پر سوگواری چھا گئی اور خانقاہ کے در و بام اداس نظر آنے لگے۔ حضرت سید گیسو درازؒ بہت زیادہ بے قرار و مضطرب تھے۔ آپ کے لیے پیر و مرشد سے جدائی کا تصور بھی اذیت ناک تھا۔ حضرت چراغ دہلیؒ کے دوسرے مرید بھی افسردہ و ملول تھے۔ حضرت سید نصیرالدین چراغ دہلیؒ کی بیماری لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جارہی تھی اور ناپائیدار زندگی کا قافلہ منزل فنا سے قریب تر ہوتا جارہا تھا۔ پیر و مرشد کے وصال کے بعد خلافت کبریٰ کا مسئلہ بھی درپیش تھا اور حضرت چراغ دہلیؒ نے ابھی تک اپنے کسی مرید کو خلیفہ اکبر کے منصب پر فائز نہیں کیا تھا۔ حضرت سید گیسو درازؒ پیر و مرشد کے بہت زیادہ قریب تھے اس لیے خود کو خلافت کبریٰ کا حقدار سمجھتے تھے۔ حضرت چراغ دہلیؒ کے دوسرے خلفاء کے اسمائے گرامی حسب ذیل ہیں۔
حضرت خواجہ کمال الدینؒ جنہیں اسلام کی تبلیغ کے لیے احمدآباد (گجرات) بھیجا گیا تھا۔ آپ کا مزار مبارک دہلی میں ہے۔ دوسرے خلیفہ حضرت شیخ صدرالدینؒ بھی دہلی میں آسودئہ خاک ہیں۔ شیخ معین الدین خوردؒ اور شیخ سراج الدینؒ پاک پٹن میں محوخواب ہیں۔ حضرت شیخ عبدالمقتدرؒ کا مزار مبارک جون پور میں مرجع خلائق ہے۔ حضرت مولانا خواجگیؒ، حضرت شیخ سعداللہ کیسہ دارؒ اور حضرت شیخ احمد تھانسیریؒ کالپی میں آرام فرما رہے ہیں۔ بہرائچ میں حضرت شیخ محمد متوکلؒ اور لکھنؤ میں حضرت قوام الدینؒ کا روضہ مبارک مرکز اہل نظر ہے۔
حضرت سید نصیرالدین چراغ دہلیؒ کی حالت دم بدم بگڑتی جارہی تھی۔ آخر وصال سے ایک دن پہلے آپ نے اپنے تمام مریدوں اور خدمت گاروں کو طلب کرکے فرمایا۔ ’’میری سانسوں کا شمار ختم ہونے والا ہے۔ میں تم سب کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں کہ دونوں جہان میں اسی کی ذات پاک تمہاری مشکل کشا ہے۔‘‘
پیر و مرشد کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سن کر مریدین اور خدام پر گریہ طاری ہوگیا۔ حضرت شیخؒ نے اپنے جاں نثاروں کو رنج و الم کے اس مظاہرے سے منع کیا اور صاف الفاظ میں وصیت فرمائی۔ ’’جب میری آنکھیں بند ہوجائیں تو پیرانِ چشت کے خرقۂ خلافت اور دوسرے تبرکات کو میرے ساتھ قبر میں دفن کردینا۔‘‘
پیر و مرشد کا ارشادِ گرامی سن کر مریدوں کو شدید احساس محرومی ہوا۔ حضرت سید گیسو درازؒ کے علاوہ دیگر خلفاء بھی خود کو خلافت کبریٰ کا حقدار سمجھتے تھے۔ یہ کوئی حریصانہ جذبہ نہیں تھا۔ ہر مرید اپنی استطاعت کے مطابق حضرت شیخؒ کی جانشینی کی خواہش رکھتا تھا۔ آخر کسی کو تو درس گاہ معرفت کا صدر بننا تھا مگر جب حضرت چراغ دہلیؒ نے پیران چشت کے تبرکات کو اپنی قبر میں دفن کرنے کی وصیت کی تو مریدین کی جماعت یہ سوچ کر اداس ہوگئی کہ کوئی شخص بھی حضرت شیخؒ کی نیابت اور خلافت کبریٰ کے لائق نہیں تھا۔
آخر 17؍یا 18؍رمضان المبارک 757ھ کو حضرت سید نصیرالدین چراغ دہلیؒ دنیا سے رخصت ہوگئے۔ چراغ زندگی کی لو تھرتھرائی اور شہر دہلی میں ہر طرف اندھیرا پھیل گیا۔ لوگ دیوانہ وار چیختے ہوئے اپنے گھروں سے نکل آئے اور دارالحکومت پر کسی ماتم کدے کا گمان ہونے لگا۔ حضرت چراغ دہلیؒ کے مریدین اور خدام پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ شدتِ غم سے گھبرا کر بہت سے عقیدت مندوں نے اپنے گریبان چاک کر ڈالے تھے۔ حضرت سید گیسو درازؒ بھی رو رہے تھے مگر آپ کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے کوئی شمع پگھل رہی ہے۔ زبان پر شور فغاں نہیں تھا مگر چہرئہ مبارک پر حسرت و یاس کا دھواں پھیلا ہوا تھا۔ اس جانگداز موقع پر آپ نے کمال ضبط کا مظاہرہ کیا۔ حضرت سید نصیرالدین چراغ دہلیؒ نے شادی نہیں کی تھی، اس لیے آپ کے مرید اور خدمت گار ہی آپ کے اہل خانہ تھے۔ حضرت سید گیسو درازؒ نے خانقاہ کے ادنیٰ ترین خادم کو بھی حضرت شیخؒ کا قرابت دار جان کر اس سے تعزیت کی۔ درویشوں کی غم سے نڈھال جماعت کو تسلیاں دیں اور صبر و ضبط کی تلقین فرماتے رہے مگر جب پیر و مرشد کو قبر میں اتارا گیا تو حضرت سید گیسو درازؒ خود بھی بے حال ہوگئے۔ اشکوں کے سیلاب پر جو بند باندھا گیا تھا، وہ ٹوٹ گیا۔ پھر اتنا روئے کہ آپ کو سنبھالنا مشکل ہوگیا۔ حضرت سید گیسو درازؒ کے ہونٹوں پر نالے تو نہیں تھے مگر آنکھیں مسلسل برس رہی تھیں۔
جب حضرت نصیرالدین چراغ دہلیؒ کو مٹی دی جا چکی تو حضرت سید گیسو درازؒ نے روتے ہوئے فرمایا۔ ’’چراغ ظاہری بجھ گیا کہ یہی مشیتِ الٰہی ہے مگر جو چراغ نور معرفت سے روشن ہوتے ہیں، انہیں قیامت تک موت نہیں آئے گی۔ میرے مرشد کے کردار کی روشنی بھی بسیط فضائوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ اجالوں کے طلب گار جب بھی خلوص نیت کے ساتھ ادھر آئیں گے، حق تعالیٰ میرے شیخ کے طفیل ان کی روحوں کے اندھیرے دور فرما دے گا۔‘‘
پھر حضرت سید گیسو درازؒ تین دن تک پیر و مرشد کی قبر مبارک کے پاس اس طرح بیٹھے رہے جس طرح کوئی غلام، شہنشاہ کے قدموں میں بیٹھتا ہے۔ اس دوران کسی نے کچھ کھانے کے لیے کہا تو آپ نے انکار کردیا۔ بس چند گھونٹ پانی پر گزارہ کرتے رہے۔
چوتھے دن حضرت سید گیسو درازؒ پیر و مرشد کی قبر مبارک سے اٹھ کر خانقاہ عالیہ میں تشریف لائے۔ ایک بار پھر ماضی کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ پیر و مرشد یہاں چہل قدمی فرماتے تھے، یہاں وضو کیا کرتے تھے، یہاں ذکرِالٰہی میں مشغول رہتے تھے اور یہاں بیٹھ کر درس دیا کرتے تھے۔ دل پر چوٹ لگی تو زخم پھر خون دینے لگے۔ حضرت سید گیسو درازؒ پیر و مرشد
کی ایک ایک نشانی کو بوسہ دیتے اور رونے لگتے۔ بے شمار لوگ آپ سے تعزیت کرنے کے لیے آئے مگر آپ نے ہاتھ کے اشارے سے ان کا شکریہ ادا کیا اور جواباً صبر کی تلقین فرمائی۔
پھر مسجد کے ایک گوشے میں بیٹھ گئے اور اس مخصوص جگہ کو دیکھنے لگے جہاں حضرت سید نصیرالدین چراغ دہلیؒ پنج وقتہ نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔ حضرت چراغ دہلیؒ کے بعض خلفاء نے آپ کے سکوت مستقل کو دیکھ کر کہا۔ ’’سید محمد! اتنا غم نہ کرو کہ اپنی ذمہ داریوں کو بھی فراموش کر بیٹھو۔‘‘
’’ابھی میرے سینے پر فراق شیخ کا زخم تازہ ہے۔ ذرا اس زخم کو تو بھر جانے دو۔‘‘ حضرت سید گیسو درازؒ نے نہایت رقت آمیز لہجے میں فرمایا۔ ’’میں حضرت شیخؒ کے صدقے میں اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح باخبر ہوں۔‘‘
پانچویں دن حضرت سید گیسو درازؒ کا دل اس بارونق شہر سے اچاٹ ہوگیا اور آپ کو دہلی ایک ویرانہ نظر آنے لگا۔ لوگ آپ سے اس اداسی کا سبب پوچھتے تو بے اختیار فرماتے۔ ’’میں جس رخ روشن کو دیکھ کر جیتا تھا، وہ تو زیرخاک سو رہا ہے۔ اب میں کس کی شکل دیکھوں اور کیسے زندہ رہوں؟ وارفتگان عشق! میں بھی تمہارے سکون کے لیے دعا کرتا ہوں اور تم بھی سید محمد کے صبر و قرار کے لیے دعا کرو۔‘‘
حضرت سید گیسو درازؒ مسجد کے ایک گوشے میں خاموش بیٹھے تھے۔ اچانک آپ کو پیر و مرشد کی وصیت یاد آئی۔ ’’جب میری آنکھیں بند ہوجائیں تو پیرانِ چشت کا خرقۂ خلافت اور دوسرے تبرکات میرے ساتھ قبر میں دفن کردینا۔‘‘
حضرت شیخؒ کے آخری الفاظ یاد آتے ہی سید گیسو درازؒ کے دل پر قیامت سی گزر گئی۔ آپ بے تابانہ اٹھے اور جماعت خانے کے اس حصے میں تشریف لے گئے جہاں ایک چارپائی رکھی ہوئی تھی۔ یہ وہ مخصوص چارپائی تھی جس پر غسل کے بعد حضرت نصیرالدین چراغ دہلیؒ کا جنازہ رکھا گیا تھا۔ حضرت سید گیسو درازؒ کچھ دیر تک اس پلنگ کو دیکھتے رہے پھر آپ نے آگے بڑھ کر چارپائی کے تمام بان نکال لئے۔ خانقاہ میں موجود دوسرے لوگ بڑی حیرت سے سید محمدؒ کے اس طرزِعمل کو دیکھ رہے تھے۔
حضرت سید گیسو درازؒ نے پلنگ کے بان نکال کر چادر کی طرح اپنے گلے میں ڈال لئے، پھر ایک نعرئہ مستانہ بلند کیا۔ ’’سدا رہے نام اللہ کا۔‘‘
حضرت نصیرالدین چراغ دہلیؒ کے خلفاء اور خدمت گاروں نے حضرت سید گیسو درازؒ کو اس حال میں دیکھا تو حیرت زدہ لہجے میں پوچھا۔ ’’سید! یہ کیا ہے؟‘‘
حضرت گیسو درازؒ نے نہایت جذب کے عالم میں فرمایا۔ ’’یہی میرا خرقہ ہے اور یہی میرا سرمایۂ حیات ہے۔‘‘
اس کے بعد حضرت سید گیسو درازؒ نے کسی سے کوئی بات نہیں کی اور دہلی کی حدود سے نکل کر دکن کی جانب روانہ ہوگئے۔ اس طویل سفر میں بے شمار واقعات پیش آئے۔ مشہور روایت ہے کہ حضرت سید گیسو درازؒ نے ان بانوں میں سے ایک بان بھی جس پر ڈال دیا، وہ ولیٔ کامل ہوگیا۔
٭…٭…٭
حضرت سید گیسو درازؒ دہلی سے رخصت ہوکر اجمیر تشریف لائے اور سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے مزار مبارک پر حاضری دی۔ تین دن تک مسلسل مراقبے میں رہے اور حضرت خواجہ غریب نوازؒ کے فیض روحانی سے مستفیض ہوئے۔ چوتھے دن اجمیر شریف سے رخصت ہونے لگے تو مقامی امراء اور عوام حاضر خدمت ہوکر عرض کرنے لگے۔ ’’اگر حضور یہاں چند روز اور قیام فرمائیں تو ہم گناہ گار اپنی خوش بختی پر ناز کریں گے۔‘‘
’’اب مجھے یہاں ٹھہرنے کا حکم نہیں۔‘‘ حضرت سید گیسو درازؒ نے اجمیر شریف کے خواص و عوام کی درخواست سن کر فرمایا۔ ’’حضرت سلطان الہندؒ کا حکم ہے، اس لیے غلام کو مجبور تصور کیا جائے۔‘‘ یہ کہہ کر حضرت سید گیسو درازؒ قصبہ ’’سردار شریف‘‘ روانہ ہوگئے۔
یہاں حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے فرزند حضرت خواجہ فخرالدینؒ کے مزار مبارک پر فاتحہ خوانی کی اور پھر ناگور تشریف لے گئے۔ وہاں آپ نے مشہور بزرگ حضرت قاضی حمیدالدین ناگوریؒ کے فرزندوں سے ملاقات کی اور دیگر بزرگانِ دین کے مزارات پر فاتحہ پڑھی۔ حضرت قاضی حمیدالدین ناگوریؒ اگرچہ سلسلۂ سہروردیہ میں بیعت تھے لیکن انہیں حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ سے بھی خرقۂ خلافت حاصل ہوا تھا۔ آپ کا مزار مبار ک دہلی میں آج بھی مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔
ناگور کے بعد حضرت سید گیسو درازؒ احمدآباد (گجرات) تشریف لے گئے اور ایک قبرستان میں قیام فرمایا۔ اس وقت یہاں حضرت قطب عالمؒ کے خلیفہ شاہ عالمؒ موجود تھے۔ حضرت قطب عالمؒ، حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشتؒ کے فرزند تھے۔ جب حضرت شاہ عالمؒ کو کشف باطن سے معلوم ہوا کہ حضرت سید گیسو درازؒ احمدآباد میں تشریف لائے ہوئے ہیں تو آپ بلاتاخیر قبرستان پہنچے اور حضرت سید نصیرالدین چراغ دہلیؒ کے خلیفہ اکبر سے درخواست کی۔ ’’مخدوم! آپ خانقاہ میں تشریف لے چلیں اور بندگانِ خدا کو اپنے دیدار سے مشرف فرمائیں۔‘‘
حضرت سید گیسو درازؒ نے حضرت شاہ عالمؒ کی تواضع کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’قبرستان ہی بہترین اقامت گاہ ہے۔‘‘
پھر آپ نماز جمعہ پڑھانے کے لیے احمدآباد کی جامع مسجد میں تشریف لے گئے۔ حضرت سید گیسو درازؒ نے نہایت سلیس، عام فہم اور نصائح سے بھرپور خطبہ پڑھا اور ہزاروں بندگانِ توحید کی امامت کی۔
احمدآباد کا حاکم درویش دوست انسان تھا۔ اس نے نہایت عاجزانہ لہجے میں حضرت سید گیسو درازؒ سے التجا کی۔ ’’سرکار! احمدآباد کی سکونت قبول فرما کر مجھے اور اہل شہر کو خدمت کا موقع عطا فرمائیں۔‘‘
حضرت سید گیسو درازؒ نے احمدآباد کے حاکم اور معززین شہر کو بھی وہی جواب دیا۔ ’’ابھی مجھے ٹھہرنے کا حکم نہیں ہے۔‘‘ یہ کہہ کر آپ قبرستان واپس تشریف لے آئے۔
عصر کے وقت احمدآباد کا حاکم، قاضی شہر اور دیگر مشائخ کے ہمراہ قبرستان حاضر ہوا۔ پیچھے پیچھے خدام سلطنت زروجواہر سے بھرے ہوئے خوان و طشت اٹھائے ہوئے تھے۔
’’حضرت! یہ حقیر سی نذر قبول فرما لیں۔‘‘ حاکم احمدآباد اور دیگر عمائدین سلطنت نے عرض کیا۔
حضرت سید گیسو درازؒ، حاکم احمدآباد کی درخواست سن کر مسکرائے۔ ’’جس شخص کی منزل قبرستان ہو، وہ اس سیم وزر کے انبار کو کہاں رکھے گا؟‘‘
جب حاکم احمدآباد نے نذر قبول کرنے کے لیے بہت زیادہ اصرار کیا تو حضرت سید گیسو درازؒ نے پُرجلال لہجے میں فرمایا۔ ’’کیا تمہیں نہیں معلوم کہ دولت دنیا سالک کے لیے رہزن و قزاق کا درجہ رکھتی ہے؟ کیا تم چاہتے ہو کہ میری متاع دین لٹ جائے؟‘‘
شیخ کے فرمودات سن کر حاکم احمدآباد اور معززین شہر نے سر جھکا دیئے۔
حضرت سیدگیسو درازؒ نے دوبارہ اپنے عقیدت مندوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’تمہاری محبتوں کا شکریہ مگر تم لوگ اس حقیقت سے باخبر نہیں ہو کہ میں اس دنیا کو طلاق دے چکا ہوں۔ اب رجوع کی کوئی صورت باقی نہیں۔‘‘
آخر احمدآباد کے حاکم کی التجا پر آپ نے وہ ساری دولت ضرورت مندوں میں تقسیم کردی، پھر جیسے ہی عقیدت مندوں کا ہجوم شام تک قبرستان سے رخصت ہوا، حضرت سید گیسو درازؒ رات کے اندھیرے ہی میں گجرات سے رخصت ہوکر اپنے طویل سفر پر روانہ ہوگئے۔
٭…٭…٭
روایت ہے کہ حضرت سید گیسو درازؒ سیالکوٹ پہنچ کر حضرت شیخ علی لاحقؒ کے مزار مبارک پر بھی حاضر ہوئے تھے اور فاتحہ خوانی کے بعد پہاڑوں پر تشریف لے گئے تھے۔ پھر اسی پہاڑی سلسلے سے گزرتے ہوئے آپ ’’اوتر اکھنڈ‘‘ کی پہاڑیوں پر پہنچے تھے۔ کچھ دنوں تک اس پُرسکون فضا میں عبادت و ریاضت کرنے کے بعد حضرت سید گیسو درازؒ ’’ہردوار‘‘ پہاڑ کے نیچے تشریف لائے۔ ’’ہردوار‘‘کا شمار ہندوئوں کے انتہائی اہم تیرتھ استھانوں (مقامات مقدسہ) میں ہوتا ہے۔ حضرت سیدگیسو درازؒ کو دو دن سے پانی نہیں ملا تھا۔ اس لیے آپ ’’ہردوار‘‘ کے گھاٹ پر پہنچے اور پانی پی کر یادِحق میں مشغول ہوگئے۔ عام تحقیق یہی ہے کہ ہندوئوں کا مقدس دریا گنگا اسی ہردوار پہاڑ سے جاری ہوا ہے۔
حضرت سید گیسو درازؒ مراقبے میں تھے کہ چند ہندو گھاٹ پر اشنان (غسل) کرنے کے لیے آئے۔ انہوں نے اپنے تیرتھ استھان پر ایک مسلمان بزرگ کو بیٹھے ہوئے دیکھا تو شور مچا دیا۔ ’’لوگو! دیکھو یہ کیسا انرتھ (غضب) ہوگیا۔‘‘
ہندو پجاریوں کا خیال تھا کہ ان کے شوروغوغا سے یہ اجنبی مسلمان بدحواس ہوجائے گا، پھر یا تو فرار ہوجائے گا یا ہندو دھرم کے سیوکوں سے اپنی غلطی کی معافی مانگے گا مگر وہاں تو کوئی ردّعمل ہی ظاہر نہیں ہوا تھا۔ حضرت سید گیسو درازؒ یادِ الٰہی میں اس قدر غرق تھے کہ آپ نے ان پجاریوں کا شور سنا ہی نہیں۔ آپ بدستور آنکھیں بند کئے خاموش بیٹھے رہے۔
ہندو پجاری ایک مسلمان کی یہ حالت اطمینان دیکھ کر سخت خوف زدہ ہوگئے۔ انہیں حضرت سید گیسو درازؒ کی ذات گرامی پر ایک ایسے جادوگر کا گمان ہونے لگا جو اپنی طلسماتی طاقت کے سبب ساری دنیا سے بے نیاز تھا۔ ہندو پجاری پتھرائی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے۔ اتنے میں ان کا بڑا مہنت (پجاری) آگیا۔ ہندو پجاری کانپتی ہوئی آوازوں میں مہنت کو سارا واقعہ سنانے لگے۔
مہنت نے تحقیرآمیز انداز میں حضرت سید گیسو درازؒ کی طرف دیکھا اور غصے میں بھرا ہوا آپ کے قریب پہنچا۔ پھر اس نے چیخ کر مسلمان درویش کو مخاطب کیا۔ ’’کون ہو تم؟‘‘
حضرت سید گیسو درازؒ پر اس آواز کا مطلق اثر نہیں ہوا۔ آپ اس وقت یادِالٰہی کی اس منزل میں تھے جہاں اہل دنیا اور مادیت کے شور کی نفی ہوجاتی ہے۔
مہنت پوری طاقت سے چیخ رہا تھا مگر حضرت سید گیسو درازؒ کی سماعت ان پُرشور آوازوں سے ذرا بھی متاثر نہیں ہورہی تھی۔ آخر مہنت نے غضب ناک ہوکر حضرت سید گیسو درازؒ کے جسم مبارک کو جھنجھوڑ ڈالا۔ آپ نے نہایت اطمینان سے آنکھیں کھولیں اور ایک نظر مہنت کی طرف دیکھا۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ ہندو پجاری نے ایک مردِ حق کی آنکھوں میں کیا دیکھا کہ ایک زوردار چیخ ماری اور زمین پر گر کر بے ہوش ہوگیا۔
اس صورت حال نے مندر کے چھوٹے پجاریوں کو خوف و دہشت میں مبتلا کردیا۔ وہ سب مل کر بری طرح چیخنے لگے۔ ’’یہ شخص بڑا جادوگر ہے جس نے ہمارے مہنت کو مار ڈالا۔‘‘ پھر وہ مہنت کے بے ہوش جسم کے پاس بیٹھ کر ماتم کرنے لگے۔
حضرت سید گیسو درازؒ کچھ دیر تک بت پرستوں کا بین سنتے رہے، پھر اپنی جگہ سے اٹھے اور ہندو پجاریوں سے پوچھنے لگے۔ ’’آخر


(3)رزق محلوک… وہ روزی ہے جو اللہ نے اپنا مال انسانوں کے پاس بطور امانت رکھ دیا ہے۔
(4)رزق موعود… وہ روزی ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے۔ ’’جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اور اس کے احکام کی تعمیل کرتا رہتا ہے تو پھر اس کا رب اسے ایسی جگہ سے رزق پہنچاتا ہے جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا۔‘‘
چند روزہ قیام اور نو مسلموں کی تربیت کرنے کے بعد حضرت سید گیسو درازؒ ہردوار سے رخصت ہونے لگے تو نومسلم مہنت اور اس کے ساتھیوں نے عرض کیا۔ ’’اگر حضور کی اجازت ہو تو یہ خدمت گار بھی اس سفر میں شریک رہیں تاکہ شیخ کی صحبتوں کے طفیل ہمارا تزکیۂ نفس ہوجائے؟‘‘
’’اس سفر میں کسی کو ساتھ رکھنے کا حکم نہیں ہے۔‘‘ حضرت سید گیسو درازؒ نے فرمایا۔ ’’تمہارے لیے مناسب یہی ہے کہ ہمالیہ پہاڑ کے قریب جاکر ’’انفاس شماری‘‘ کرو اور عبادت کے ساتھ ساتھ مخلوق خدا کو فیض پہنچائو۔‘‘ یہ کہہ کر حضرت سید گیسو درازؒ نے نومسلم مہنت کو گلے سے لگایا۔ بس چند لمحوں کی بات تھی ایک طویل عمر تک بتوں کی پوجا کرنے کے سبب مہنت کے دل و دماغ، جسم اور روح میں جو کثافتیں پیدا ہوگئی تھیں، آن کی آن میں دور ہوگئیں اور وہ روشن ضمیر ہوگیا۔
٭…٭…٭
ہردوار کے علاقے سے نکل کر جنگل کے راستے چلتے چلتے حضرت سید گیسو درازؒ لکھنؤ (اودھ) کی حدود میں داخل ہوئے۔ شہری آبادی سے ایک میل پہلے ہی حضرت سید گیسو درازؒ کے پیربھائی حضرت شیخ قوام الدین چشتیؒ نے آپ کا استقبال کیا۔ حضرت شیخؒ کو حضرت گیسو درازؒ کی آمد کا علم بذریعہ کشف ہوگیا تھا۔ دونوں بزرگ اس قدر والہانہ اندازمیں ملے کہ حاضرین کو گمان ہونے لگا جیسے حضرت سید گیسو درازؒ اور حضرت شیخ قوام الدین چشتیؒ آپس میں قریبی رشتے دار ہوں۔ اہل دنیا کو اس حقیقت کا اندازہ نہیں تھا کہ اللہ کی خاطر قائم کئے ہوئے رشتے تمام رشتوں سے زیادہ معتبر ہوتے ہیں۔ پھر حضرت سید گیسو درازؒ، حضرت شیخ قوام الدین چشتیؒ کی خانقاہ میں تشریف لے گئے۔
خانقاہ میں پہنچتے ہی پیر و مرشد حضرت سید نصیرالدین چراغ دہلیؒ کا ذکر مبارک چھڑ گیا۔ ماضی کی ایک ایک یاد تازہ ہوگئی۔ پھر حضرت سید گیسو درازؒ اور حضرت شیخ قوام الدین چشتیؒ اس قدر روئے کہ دونوں بزرگوں کی ریش مبارک آنسوئوں سے تر ہوگئی۔
قیام لکھنؤ کے دوران ایک دن کشمیریوں کا ایک معزز خاندان آپ سے ملاقات کرنے کے لیے حاضر ہوا۔ اسی خاندان کے ایک معزز فرد نے بصد نیاز آپ سے عرض کیا۔ ’’شیخ! ہمیں کوئی نصیحت فرمایئے۔‘‘
جواب میں حضرت سید گیسو درازؒ نے فرمایا۔ ’’ہمیشہ یاد رکھنا کہ جس طرح پیشاب وغیرہ کے خارج ہونے سے ظاہری طہارت جاتی رہتی ہے، اسی طرح اللہ کے سوا کسی دوسری مخلوق کو یاد کرنے کی وجہ سے باطنی طہارت ختم ہوجاتی ہے۔‘‘
پھر چند روزہ قیام کے بعد حضرت سید گیسو درازؒ نے حضرت شیخ قوام الدین چشتیؒ سے فرمایا۔ ’’برادر عزیز! مجھے ایک طویل سفر درپیش ہے۔ اجازت دیجئے کہ میں نیپال کی طرف جانا چاہتا ہوں۔‘‘
حضرت شیخ قوام الدین چشتیؒ نے اداس لہجے میں عرض کیا۔ ’’شیخ! ابھی تو آنکھیں بھی پیاسی ہیں اور روح بھی! کچھ دن اور قیام فرمایئے کہ طالبان دید کے جذبات بہت شدید ہیں۔‘‘
’’شیخ! تم جانتے ہو کہ میرے لیے کیا حکم ہے؟‘‘ حضرت سید گیسو درازؒ نے فرمایا۔
حضرت شیخ قوام الدین چشتیؒ نے دوبارہ اصرار نہیں کیا۔ آپ جانتے تھے کہ حضرت سید گیسو درازؒ کس منزل کے مسافر ہیں۔
آخر لکھنؤ کی حدود سے نکل کر آپ دریائے گھاگھر پر پہنچے۔ برسات کا آخری زمانہ تھا اس لیے دریا میں ہلکی طغیانی آئی ہوئی تھی۔ گھاٹ پر لوگوں کا ہجوم تھا اور تمام کشتیاں جا چکی تھیں۔ اتفاق سے ایک کشتی واپس آئی۔ دریا کے پار جانے والے لوگ اس پر ٹوٹ پڑے۔ ملاحوں نے ان لوگوں سے منہ مانگا کرایہ لے کر کشتی میں سوار کرلیا۔ بدقسمتی سے مسافروں میں ایک شخص ایسا بھی تھا جس کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی۔ ملاحوں نے اس سے کرایہ مانگا مگر وہ یہی کہتا رہا کہ میں غریب انسان ہوں۔ مجھے اللہ کے نام پر دریا کے پار اتار دو، میرے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ملاحوں نے اس کی ایک نہ سنی اور پھر اسے پکڑ کر دریا میں پھینک دیا۔
حضرت سید گیسو درازؒ یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ آپ نے کنارے پر اپنے قریب کھڑے ہوئے ایک مسلمان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔’’تم اس بے آسرا شخص کو ڈوبنے سے بچا لو۔‘‘
حضرت سید گیسو درازؒ کی بات سنتے ہی وہ اجنبی دریا میں کودا اور ڈوبتے ہوئے شخص کو نکال کر کنارے پر لے آیا۔ ’’تم نے اس بے کس انسان کی جان بچائی ہے۔ اللہ اس کے بدلے میں تمہیں آتش دوزخ سے بچائے گا۔‘‘ حضرت سید گیسو درازؒ نے فرمایا اور اس اجنبی تیراک کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
ایک ولیٔ کامل کی دعا کی یہ تاثیر تھی کہ اس شخص کی دنیا ہی بدل گئی۔ کچھ دیر پہلے وہ ایک عام سا انسان تھا مگر اب اسے قوت کشف حاصل ہوگئی تھی۔ اس نے حضرت سید گیسو درازؒ کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور پھر دریا کی طرف دیکھ کر کہنے لگا۔ ’’حضور! یہ کشتی گرداب میں پھنس کر کنارے پر واپس آئے گی اور پھر غرق ہوجائے گی۔ ان ملاحوں نے اللہ کے بندوں کا بہت دل دکھایا ہے۔‘‘
’’یہ راز تم پر کیسے آشکار ہوا؟‘‘ حضرت سید گیسو درازؒ نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’اللہ نے آپ کے طفیل مجھے جو بینائی بخشی ہے، میں اسی کے ذریعے دریا کو متلاطم ہوتے اور کشتی کو ڈوبتے دیکھ رہا ہوں۔‘‘
جب کشتی دوسرے کنارے کی طرف جارہی تھی، اس وقت دریا پُرسکون حالت میں تھا مگر اچانک پانی کا ایک ریلا آیا اور کشتی موجوں کے تھپیڑے کھاتی ہوئی ساحل سے آلگی۔ مسافر، ملاحوں کو برابھلا کہتے ہوئے کشتی سے اتر آئے۔ پھر جب آخری مسافر بھی کنارے پر آگیا تو اچانک ایک خوفناک موج اٹھی اور اس نے ملاحوں سمیت کشتی کو ڈبو دیا۔
کنارے پر کھڑے ہوئے لوگ حیران و پریشان تھے اور ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے۔ ’’دن تو گزر گیا مگر اس ویرانے میں رات کیسے بسر ہوگی؟‘‘
ابھی یہ گفتگو جاری تھی کہ حضرت سید گیسو درازؒ نے اس غریب شخص کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا، جسے دریا میں پھینک دیا گیا تھا۔ ’’اپنے پائنچے اونچے کرلو اور دریا کے پار اُتر جائو۔‘‘
اس نے حضرت سید گیسو درازؒ کی ہدایت پر عمل کیا اور آپ کا ہاتھ پکڑے دریا میں اتر گیا۔ اللہ کی قدرت کہ حضرت سید گیسو درازؒ کے قدم رکھتے ہی دریا پایاب ہوگیا۔ بس اس میں اس قدر پانی رہ گیا کہ حضرت شیخؒ کے ٹخنے بھیگ رہے تھے۔ آپ کو دریا کے پار جاتے دیکھ کر کنارے پر کھڑے ہوئے ہندو چیخنے لگے۔ ’’حضور! ہمیں بھی اپنے ساتھ لے چلیے۔‘‘
’’میرے اس غریب بھائی کے پیچھے پیچھے چلے آئو۔‘‘ حضرت سید گیسو درازؒ نے فرمایا۔
الغرض تمام لوگوں نے بحفاظت دریا پار کرلیا۔ دوسرے کنارے پر پہنچ کر حضرت سید گیسو درازؒ نے مغرب کی نماز ادا کی۔ پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ان لوگوں میں سے اکثر نے اسلام قبول کرلیا جو اپنی آنکھوں سے دریا کو پایاب ہوتے ہوئے دیکھ چکے تھے۔ کچھ دن حضرت سید گیسو درازؒ نے اس علاقے میں قیام فرمایا اور نومسلموں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات کا سبق دیا۔ پھر ان لوگوں کو اس شخص کے حوالے کردیا جو آپ کی دعائوں سے روشن ضمیری کے درجے تک پہنچا تھا۔ اس کے بعد حضرت سید گیسو درازؒ بہرائچ تشریف لے گئے اور سید مسعود سالار غازیؒ کے مزار مبارک پر حاضر ہوئے۔
ایک مشہور روایت کے مطابق حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ نے فرمایا تھا۔ ’’جو شخص میری قبر پر آنے کی خواہش رکھتا ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ سید مسعود سالار غازیؒ کے مزار پر بھی حاضری دے۔‘‘
قیام بہرائچ کے دوران حضرت سیدگیسو درازؒ دن بھر مقامی مسلمانوں سے ملاقات کرتے اور رات کو حضرت سید مسعود سالار غازیؒ کے مزار مبارک پر حاضری دیتے۔ (جاری ہے)