Hazrat Gesudaraz | Episode 3

431
بہرائچ سے رخصت ہونے کے بعد حضرت سید گیسودرازؒ بندیل کھنڈ تشریف لے گئے۔ یہاں پران ناتھ نام کا ایک جوگی رہتا تھا جو شعبدہ بازی کے فن میں ماہر تھا۔ جب حضرت سید گیسو دراز ؒ اس علاقے میں پہنچے تو مقامی مسلمانوں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر فریاد کی۔’’حضور! ہمیں پران ناتھ جوگی کے فتنے سے بچائیے۔ وہ نئے نئے کرتب دکھا کر سادہ لوح مسلمانوں کو بہکانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر اس کی شرانگیزیوں کو نہ روکا گیا تو بہت سے نو مسلموں کے بہک جانے کا اندیشہ ہے۔‘‘
بندیل کھنڈ کے مسلمانوں کی گریہ و زاری سن کر حضرت سید گیسو درازؒ نے سکوت اختیار کیا اور پھر نہایت پُرجلال لہجے میں فرمایا۔ ’’تم لوگ پورے اطمینان کے ساتھ اپنے گھروں کو جائو۔ اِن شاء اللہ، آج کے بعد پران ناتھ جوگی اہل ایمان کو ذرا بھی ضرر نہیں پہنچا سکے گا۔‘‘
اس کے بعد حضرت سید گیسو درازؒ بندیل کھنڈ کے چند مسلمانوں کو اپنے ہمراہ لے کر پران ناتھ جوگی کے مسکن پر پہنچے۔ اس وقت وہ شعبدہ باز اپنی کافرانہ ریاضتوں میں مشغول تھا۔ حضرت سید گیسودرازؒ نے بہ آواز بلند اسے پکارا۔ ’’پران ناتھ! باہر آ۔ میں تیرے ساحرانہ کمالات دیکھنے کے لیے بہت دور سے آیا ہوں۔‘‘
بندیل کھنڈ کے کسی باشندے میں اتنی جرأت نہیں تھی کہ وہ پران ناتھ جوگی کی تپسیا میں خلل ڈالے مگر جب آج یہ روایت ٹوٹی تو پران ناتھ جوگی غصے سے پاگل ہو گیا اور چیختا ہوا اپنی کٹیا سے باہر نکل آیا۔ ’’یہ کون گستاخ ہے جس نے میری پوجا بھنگ کر دی ہے؟‘‘
پران ناتھ جوگی کا ہذیان سن کر حضرت سید گیسو درازؒ آگے بڑھے اور مسکراتے ہوئے فرمایا۔’’یہ گستاخ میں ہوں اور تیری طرف سے اپنی گستاخی کی سزا پانے کا منتظر ہوں۔‘‘
پران ناتھ جوگی نے قہرآلود نظروں سے حضرت سید گیسودرازؒ کی طرف دیکھا مگر فوراً ہی اپنے چہرے پر دونوں ہاتھ رکھ کر چیخنے لگا۔ ’’ہائے میری آنکھیں۔‘‘ حضرت سید گیسودرازؒ کے چہرئہ مبارک پر نظر پڑتے ہی پران ناتھ کی بینائی زائل ہو چکی تھی۔
’’کیا اپنی اسی طاقت پر اہل ایمان کو بہکانے چلا تھا۔‘‘ حضرت سید گیسو درازؒ نے فرمایا۔
’’میں تمہاری شکتی پرایمان لایا۔ تم یقینا مجھ سے بڑے جوگی ہو۔‘‘ پران ناتھ نے زمین پر سر رکھ دیا۔
’’دنیا میں صرف خدا ئے واحد کی طاقت ہے۔ اس کے سوا کسی طاقت کا کوئی وجود نہیں۔‘‘ حضرت سید گیسو درازؒ نے فرمایا۔
’’میں تمہارے اس اَن دیکھے خدا پر ایمان لایا۔‘‘ جیسے ہی پران ناتھ جو گی نے اپنی زبان سے یہ الفاظ ادا کیے، اس کی آنکھوں کی روشنی بحال ہوگئی۔
حضرت سید گیسودراز ؒ نے جو گی کو کلمہ ٔ طیبہ کی تلقین کی۔ پران ناتھ نے اللہ کی وحدانیت اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر گواہی دی۔ حضرت سید گیسو درازؒ نے اسے بھائی کہہ کر اپنے گلے سے لگایا۔ ایک مردِ خدا سے بغل گیر ہوتے ہی پران ناتھ جوگی کے قلب سیاہ میں روشنی کے نئے دروازے کھل گئے۔
اپنے روحانی پیشوا کے مسلمان ہونے کی خبر سن کر بندیل کھنڈ کے ہزاروں ہندو حضرت سید گیسو درازؒ کے دست حق پرست پرایمان لے آئے۔ پھرکچھ دن تک آپ نے نو مسلموں کی جماعت کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرایا اوراس کے بعد اپنے اگلے سفرپر روانہ ہوگئے۔
پران ناتھ جوگی کو دولت ایمان سے سرفراز کر کے حضرت سید گیسو درازؒ گنڈوانہ پہنچے۔ یہاں کچھ دن آپ نے تبلیغ اسلام کی۔ اللہ نے حضرت سید گیسو درازؒ کوحسن صورت و سیرت کے ساتھ حسن کلام بھی بخشا تھا۔ آپ کی تقریریں نہایت سادہ مگر دلکش ہوتی تھیں۔ آپ کی ہر بات دلوں میں اُتر جاتی تھی۔ نتیجتاً گنڈوانہ میں سیکڑوں بت پرست خدائے واحد پر ایمان لے آئے۔ گنڈوانہ سے رخصت ہو کر حضرت سید گیسو درازؒ ناگپور تشریف لائے۔ یہاں بھی آپ کے فیض صحبت سے سیکڑوں ہندو مشرف بہ اسلام ہوئے۔ پھر آپ نے مختلف شہروں کا دورہ کرتے ہوئے دیو گیر (دولت آباد دکن) کا رخ کیا۔ یہ وہی تاریخی مقام ہے جہاں حضرت سید گیسو درازؒ کے والد محترم حضرت سید یوسف حسینیؒ نے انتقال فرمایا تھا۔
جب حضرت سید گیسودرازؒ والد محترم کے مزار مبارک پرپہنچے تو بے اختیار ہوگئے۔ پھرقبر سے لپٹ کر اتنا روئے کہ آپ کے آنسوئوں سے قبر کا غلاف بھیگ گیا۔ بڑا
جذباتی منظر تھا۔ حاضرین کی آنکھیں بھی نمناک ہوگئیں۔ پھر لوگوں نے سنا۔ حضرت سید گیسو درازؒ نہایت رقت آمیز لہجے میں دعا فرما رہے تھے۔ ’’یاغفورالرحیم! آپ بھی میرے والد پر اسی طرح کرم فرمائیے جس طرح انہوں نے بچپن میں شفقت و محبت کے ساتھ میری پرورش کی تھی۔‘‘
(واضح رہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اولاد کو ماں باپ کے حق میں ان ہی الفاظ کے ساتھ دعا کرنے کا حکم دیا ہے)
پھرجب امرائے دکن کو حضرت سید گیسودرازؒ کی آمد کی خبر ملی تو فرمانروائے دکن سلطان فیروز شاہ بہمنی نے دیوگیر (دولت آباد) کے حاکم نواب عضدالدولہ کو حکم دیا کہ وہ حضرت گیسودرازؒ کی خدمت میں نذر پیش کرے۔ حاکم دولت آباد جھکے ہوئے سر کے ساتھ آپ کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا۔ ’’سیّدی! سلطان فیروز شاہ بہمنی نے حضور کو سلام پیش کیا ہے اور حقیر سی نذر بھی گزاری ہے۔ اگر سرکار اسے قبول فرمالیں تو یہ سلطنت دکن کے لیے بڑا اعزاز و شرف ہو گا۔‘‘
حضرت سید گیسو درازؒ نے ایک نظر سلطان فیروز شاہ بہمنی کے ان خدمت گاروں کی طرف دیکھا جو اپنے سروں پر سیم و زر سے بھرے ہوئے خوان اٹھائے کھڑے تھے۔
’’میری طرف سے سلطان کی اس محبت کا شکریہ ادا کرنا مگر درویش ان چیزوں کی کوئی طلب نہیں رکھتا۔‘‘
حاکم دولت آباد نواب عضدالدولہ نے اپنی زندگی میں پہلی بار ایک مردِ حق کی بے نیازی کا یہ عالم دیکھا تھا۔ حضرت سید گیسودرازؒ کے جلال روحانی سے اس کے جسم پر لرزہ طار ی ہوگیا۔ ’’حضور! مجھے بتائیں کہ میں کیا کروں؟ سلطان معظم کا حکم ہے کہ میں اس سامان نذر و نیاز کو واپس لے کر نہ آئوں۔‘‘
’’تمہارے سلطان کا یہ عجیب حکم ہے۔‘‘ حضرت سید گیسودرازؒ نے فرمایا۔’’جس شخص کو یہ نذر پیش کی جا رہی ہے اگر وہ اسے قبول ہی نہیں کرتا تو پھر حکم کا نفاذ کس طرح ہو گا؟‘‘
’’سرکار! میں یہی چاہتا ہوں کہ سلطان کے حضور میں اس خادم کی عزت رہ جائے۔‘‘ نواب عضدالدولہ نے دست بستہ عرض کیا۔
’’چاہے، اس نذر کے قبول کرنے کے بعد درویش کی درویشی ختم ہو جائے۔‘‘ حضرت سید گیسو درازؒ نے اپنے مخصوص تبسم کے ساتھ فرمایا۔ ’’سلطان کی مملکت میںآنے کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ فقیر کی آزادی ہی سلب کرلی جائے۔‘‘
حضرت سید گیسودرازؒ کا ارشاد گرامی سن کر نواب عضدالدولہ گھبرا گیا۔ ’’سرکار! سلطان کا یہ حکم تو اس غلام کے لیے ہے۔ فرمانروائے دکن نے آپ سے تو عاجزانہ درخواست کی ہے۔ آپ مردِ آزاد ہیں اور آزاد ہی رہیں گے۔‘‘
حضرت سید گیسو درازؒ نے سلطان فیروز شاہ بہمنی کے تمام تحائف اور زر نقد اسی وقت ضرورت مندوں میں تقسیم کرا دیئے۔ پھر نواب عضدالدولہ کو مخاطب کرکے فرمایا۔’’سلطان سے کہنا کہ میں نے ان کی نذر قبول کرلی۔ اس کے ساتھ ہی میری درخواست ہے کہ وہ آئندہ مجھے تنگ نہ کریں۔ ایک درویش کی پذیرائی اور تواضع یہی ہے کہ فرمانروائے دکن اسے تنہا چھوڑ دیں۔‘‘
حاکم دولت آباد نواب عضدالدولہ نے حضرت سید گیسودرازؒ کے دست مبارک کو بوسہ دیا اور خوشی خوشی واپس چلاگیا۔
حضرت سید گیسو درازؒ کچھ عرصے تک دیوگیر (دولت آباد) میں مقیم رہے۔ اس دوران آپ روزانہ اپنے والد ماجد حضرت سید یوسف حسینیؒ کے مزار مبارک پر حاضر ہوتے اور ایصال ثواب کرتے۔
دولت آباد کے قیام کے دوران حضرت سید گیسودرازؒ کی مجلس درس پابندیٔ وقت کے ساتھ آراستہ ہوتی اور آپ تماثیل کے ذریعے تصوف کے اسرار و رموز بیان فرماتے۔
٭…٭…٭
ایک دن حضرت سید گیسو درازؒ نے حاضرین مجلس کو مخاطب کرکے فرمایا۔ ’’ایک بزرگ کی شدید خواہش تھی کہ انہیں کسی ولی اللہ کی قربت حاصل ہو اور وہ اس مردِ حق کی روحانیت سے فیض یاب ہوں۔ پھر جب بہت تلاش و جستجو کے بعد کسی ولی سے ان کی ملاقات نہ ہو سکی تو انہوں نے استخارہ کیا اور یہ دعا کر کے سو گئے۔ اے اللہ! اپنے اس عاجز بندے پر کرم اور اپنے ولی کی صحبت سے شرف یاب فرما۔
خواب میں ان بزرگ نے صدائے غیب سنی۔ ’’فجر کی نماز میں جو شخص تمہارے دائیں جانب نماز میں مشغول ہو، وہی ہمارا ولی ہے۔‘‘
بزرگ کی آنکھ کھل گئی۔ وہ اس تصور سے نہایت مسرور و مطمئن تھے کہ آج انہیں ایک ولی اللہ کا دیدار نصیب ہو گیا۔ الغرض وہ بزرگ نماز فجر ادا کرنے کے لیے مسجد میں حاضر ہوئے۔ امام نے نماز کی نیت باندھی۔ بزرگ نے اپنے دائیں جانب
دیکھا۔ وہاں کوئی نمازی موجود نہیں تھا۔ بزرگ نے اپنے خواب کو ایک واہمہ سمجھا اور نیت باندھ لی۔ چند لمحوں بعد ہی ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اوراس صف میں کھڑا ہوگیا، جہاں وہ بزرگ مصروف نماز تھے۔
پھر جب امام نے سلام پھیرا اور ان بزرگ نے اپنے دائیں جانب دیکھا تو انہیں بڑی حیرت ہوئی۔ وہاں جو شخص موجود تھا، وہ ان ہی کے محلے کا رہنے والا ایک نوجوان تھا۔ وہ نوجوان پیشے کے اعتبار سے کپڑے رنگنے کا کام کرتا تھا اور ایک بوڑھے رنگ ریز کا شاگرد تھا۔ بزرگ نے دل ہی دل میں کہا۔ ’’یہ عام سا نوجوان جو مذہب کا برائے نام بھی علم نہیں رکھتا، ولی اللہ کس طرح ہو سکتا ہے؟‘‘
بزرگ نے اپنے خواب کو ایک خیال پریشاں سے تعبیر کرتے ہوئے، دوسری رات استخارہ کیا۔ دوسری رات بھی وہی جواب آیا۔ ‘‘نماز فجر میں جو شخص تمہیں اپنی دائیں طرف نظر آئے وہی ہمارا ولی ہے۔‘‘
دوسرے دن جب ان بزرگ نے سلام پھیرا تو وہی نوجوان نظرآیا۔ بزرگ نے ایک بار پھر اپنے خواب کو واہمہ قرار دیتے ہوئے کہا۔’’یہ رنگ ریز نوجوان کس طرح اللہ کا ولی ہو سکتا ہے؟ اس میں تو ولایت کی کوئی ہلکی سی علامت بھی نظر نہیں آتی۔‘‘
الغرض بزرگ نے تیسری رات استخارہ کیا۔ اس بار بھی وہی صدائے غیب سنائی دی۔ ’’نماز فجر میں جو نوجوان تمہارے دائیں جانب موجود ہو، وہی ہمارا ولی ہے، اسے پہچاننے کی کوشش کرو۔‘‘
تیسرے دن بھی ان بزرگ نے اسی رنگ ریز نوجوان کو دیکھا اور خود کلامی کے انداز میں کہنے لگے۔ ’’یہ میرا فریب سماعت ہے۔ اللہ کا ولی ایسا نہیں ہوسکتا۔‘‘
اس کے بعد ان بزرگ نے استخارہ کرنا چھوڑ دیا اور ولی اللہ کی تلاش میں گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔ بڑے بڑے شہداء اور اولیاء کے مزارات پر حاضری دی مگر ان کی دلی مراد پوری نہ ہوسکی۔ آخر ایک دن سفر کے دوران ہوا کا شدید طوفان آیا۔ پھر جب خوفناک آندھی کے جھونکے رُکے اور گردوغبار چھٹا تو ان بزرگ نے اپنے آپ کو ایک ایسے ویرانے میں پایا جہاں انسانی زندگی کے آثار تک نہیں تھے۔ دوپہر کا وقت ہو چکا تھا۔ بزرگ نے دل ہی دل میں کہا۔ ’’کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہاں کوئی مسجد مل جاتی تاکہ میں نماز ادا کر لیتا۔‘‘
ابھی بزرگ یہ سوچ ہی رہے تھے کہ اچانک درختوں کے جھنڈ سے اذان کی آواز سنائی دی۔ بزرگ بہت خوش ہوئے اور دوڑتے ہوئے جھنڈ میں داخل ہوگئے۔ پھر چند لمحوں تک ان پر شدید حیرت و سکوت کا عالم طاری رہا۔ بزرگ نے دیکھا کہ درختوں کے درمیان ایک نہایت شاندار پختہ مسجد موجود ہے۔ پھر جب وہ بزرگ مسجد میں داخل ہوئے تو ان کی حیرت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ مسجد کا فرش قیمتی پتھروں سے بنا ہوا تھا اور صحن میں خوبصورت فانوس نظرآرہے تھے مگر کوئی نمازی موجود نہیں تھا۔ بزرگ نے جلدی جلدی وضو کیا اور ظہر کی چار رکعت سنت مؤکدہ پڑھنے کھڑے ہو گئے۔
پھر جب بزرگ نے سلام پھیرا تو مسجد میں دو سو کے قریب نمازی موجود تھے۔ بزرگ ایک بار پھر حیرت میں مبتلا ہوگئے۔ ’’اس ویرانے میں یہ لوگ کہاں سے آئے ہیں۔‘‘
مسجد میں موجود تمام افراد کے چہروں سے ایک عجیب نور جھلک رہا تھا۔ ان میں اکثر لوگ درویشانہ لباس میں ملبوس تھے۔ بعض حضرات اپنے ظاہری حلیے سے عالم نظر آرہے تھے۔ ان کے سروں پر عمامے تھے اور وہ ائمہ جیسی عبائیں زیب تن کئے ہوئے تھے۔ ان اجنبی درویشوں اور عالموں کو دیکھ کر بزرگ نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا۔ ’’یہ سب اللہ کے ولی ہیں۔ اب میری طویل جستجو بارآور ثابت ہوگی اور میں اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کر لوں گا۔‘‘
ابھی بزرگ یہ سوچ ہی رہے تھے کہ مسجد میں موجود تمام بزرگ اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور مسجد کے دروازے کی طرف دیکھنے لگے۔ بزرگ کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ مسجد کے اندر داخل ہونے والا وہی رنگ ریز نوجوان تھا۔ تمام بزرگوں نے نہایت احترام کا مظاہرہ کرتے ہوئے نوجوان سے مصافحہ کیا۔
’’نماز تیار ہے۔ بس آپ ہی کا انتظار تھا۔‘‘ ایک عالم نے آگے بڑھ کر نوجوان سے کہا۔
’’مجھے دیر تو نہیں ہوئی۔‘‘ رنگ ریز نوجوان نے پوچھا۔
’’نہیں بالکل نہیں۔‘‘
’’تو پھر آئیے! اپنے اللہ کے آگے سجدہ ریز ہو جائیں۔‘‘ یہ کہہ کر نوجوان آگے بڑھا اوراس نے اپنی بغل میں دبا ہوا مصلّیٰ نکال کر فرش پر بچھا دیا۔
پھر نماز سے فراغت پاکر رنگ ریز نوجوان واپس جانے لگا تو بزرگ
کا دامن پکڑ لیا۔ ’’مجھ سے بڑی بھول ہوئی کہ نشاندہی کے باوجود میں آپ کو پہچان نہیں سکا۔‘‘ بزرگ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ ’’اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ اس نے تلافی کا موقع عطا فرما دیا۔ اب میں آپ کو اس طرح واپس جانے نہیں دوں گا۔‘‘
مسجد میں موجود دوسرے بزرگ بھی اس منظر کو بڑی حیرت سے دیکھ رہے تھے۔
’’میرا دامن چھوڑیئے اور پہلے آپ دس سنتیں ادا کیجئے۔‘‘ رنگ ریز نوجوان نے کسی تلخی کا اظہار کیے بغیر مسکراتے ہوئے کہا۔
بزرگ نماز میں مصروف ہوگئے۔ رنگ ریز نوجوان نے دوسرے بزرگوں سے کہا۔ ’’براہ کرم آپ بھی کچھ دیر ٹھہر جائیے۔‘‘
پھر جب وہ بزرگ دس سنتیں ادا کرچکے تو رنگ ریز نوجوان نے کہا۔ ’’ان قابل احترام ہستیوں سے ملاقات کر لیجئے۔‘‘
تمام علماء اور درویشوں نے ان بزرگ سے مصافحہ کیا اور دعائیں دیتے ہوئے رخصت ہوگئے۔
پھر جب درویشوں کی جماعت چلی گئی تو رنگ ریز لڑکے نے بزرگ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔’’ یہ لوگ جو ابھی یہاں سے اٹھ کرگئے ہیں، عام انسان نہیں تھے۔ ان بزرگ ہستیوں میں کوئی ابدال تھا اور کوئی قطب۔ اللہ کا شکر ادا کیجئے کہ آپ نے ایسے ایسے جانباز سالکوں سے ملاقات کی۔‘‘
اللہ کے ولی کے تلاش میں سرگرداں رہنے والے بزرگ کو بڑی ندامت تھی۔ ’’مجھ سے بڑی غلطی ہوئی۔ مجھے معاف فرما دیجئے۔‘‘
’’غلطی نہیں، آپ نے مجھ سے بدگمانی کی ہے۔‘‘رنگ ریز لڑکے نے نہایت شائستہ لہجے میں کہا۔’’آپ نے مجھے حقیر جانا کہ میں ایک رنگ ریز کا شاگرد ہوں۔ کیا ولی کی پہچان یہ ہے کہ وہ کوئی اعلیٰ پیشہ اختیار کرے۔ آپ اللہ کے دوست کو کہاں ڈھونڈ رہے تھے؟‘‘
نوجوان کی گفتگو سن کر بزرگ کا سر ندامت سے جھک گیا۔ ان کے دل کی ایک ایک بات رنگ ریز لڑکے پر روشن تھی۔
نوجوان کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے بزرگ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ شعر پڑھا۔
خاکساران جہاں رابہ حقارت منگر
توچہ دانی کہ دریں گرد سوارے باشد
(خاکسار لوگوں کو حقارت کی آنکھ سے نہ دیکھ۔ تجھے کیا معلوم کہ اس گرد و غبار کے اندر کوئی شہسوار چھپا ہوا ہے)
بزرگ، نوجوان سے بڑے عاجزانہ انداز میں معافی مانگنے لگے۔
’’جب کوئی انسان کسی دوسرے انسان سے بدظن ہوتا ہے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔‘‘ نوجوان نے نہایت پُرسوزلہجے میں کہا۔ ’’میں نے آپ کو معاف کیا۔‘‘
’’جب آپ نے مجھے معاف کردیا ہے تو ہمیشہ کے لیے اپنے حلقۂ غلامی میں شامل کر لیجئے۔‘‘ بزرگ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
’’کیا آپ کو اس بات پر یقین آگیا ہے کہ میں اللہ کا ولی ہوں؟‘‘ رنگ ریز لڑکے نے بزرگ سے سوال کیا۔
’’ہاں! مجھے یقین ہے کہ آپ اللہ کے دوست ہیں۔‘‘ بزرگ کے لہجے سے انتہائی عقیدت کا اظہار ہو رہا تھا۔
’’فی الحال میں ایک ضروری کام سے جا رہا ہوں۔‘‘ نوجوان نے کہا۔’’ دوبارہ ملاقات ہوگی تو پھر فیصلہ کیجئے گا کہ میں کون ہوں؟‘‘
’’آپ کب واپس آئیں گے؟‘‘ بزرگ نے پوچھا۔
’’یہ اللہ ہی جانتا ہے۔‘‘ نوجوان نے جواب دیا۔
’’پھر آپ سے کہاں ملاقات ہوگی؟‘‘ بزرگ نے دوسرا سوال کیا۔
’’اسی شہر میں جہاں ہم دونوں رہتے ہیں۔‘‘ نوجوان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’میں تو اللہ کے دوست کی تلاش میں بہت آگے نکل آیا ہوں۔‘‘ بزرگ نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔ ’’ہوا کے طوفان نے اللہ جانے مجھے کہاں پہنچا دیا ہے۔ میں تو اپنے شہر کا راستہ بھی نہیں جانتا۔‘‘
’’جس نے آپ کو یہاں تک پہنچایا ہے، وہی آپ کو آپ کے گھر تک پہنچا دے گا۔‘‘ نوجوان ایک خاص عالم جذب میں بول رہا تھا۔ ’’جب انسان اس کی دستگیری پر یقین کرلیتا ہے تو پھر فاصلے سمٹ جاتے ہیں اور منزلیں آسان ہو جاتی ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر نوجوان نے اپنے پیرہن کی جیب سے ایک رومال نکالا اور بزرگ کی آنکھوں پر باندھ دیا۔ ’’آپ کچھ دور تک اسی حالت میں جائیں گے۔ پھر آپ کو اختیار ہے کہ اپنی آنکھوں سے رومال کھول دیں۔‘‘ نوجوان نے ہدایت کی۔
بزرگ نے رنگ ریز لڑکے سے مصافحہ کیا اور نہایت عاجزانہ لہجے میں کہنے لگے۔ ’’مجھے فراموش نہ کیجئے گا۔‘‘
’’اللہ آپ کی رہنمائی فرمائے اور آپ کو بہ حفاظت آپ کے گھر تک پہنچا دے۔‘‘ نوجوان نے کہا۔
بزرگ بہت احتیاط سے چلتے ہوئے مسجد سے باہر نکلے۔ پھر انہوں نے گھبرا کر اپنی آنکھوں پر بندھا ہوا رومال کھول دیا۔ بزرگ کی حیرت کی کوئی انتہا نہ


وہ اپنے گھر کے دروازے کے سامنے کھڑے تھے۔ نہ صحرا تھا، نہ شاندار مسجد اور نہ صاحب کرامت نوجوان۔ بزرگ پر کچھ دیر تک ہیبت طاری رہی۔ پھر جب ان کے ہوش و حواس بحال ہوئے تو وہ شدید اضطراب کے عالم میں دوڑتے ہوئے رنگ ریز لڑکے کے مکان پر پہنچے۔ وہاں سیکڑوں انسانوں کا ہجوم تھا اور سب کے سب رو رہے تھے۔
’’یہ بھیڑ کیوں جمع ہے؟‘‘ بزرگ نے گھبرا کر اپنے قریب کھڑے ہوئے کچھ لوگوں سے پوچھا۔ ’’آپ حضرات رو کیوں رہے ہیں؟ کیاخدانخواستہ کوئی المناک واقعہ پیش آگیا ہے؟‘‘
’’المناک واقعہ؟‘‘ یہ کہتے کہتے لوگوں کی ہچکیاں بند ہوگئیں۔ ’’ہم پر تو قیامت گزر گئی۔ اللہ کا دوست ہم سے جدا ہو گیا۔‘‘
’’کون اللہ کا دوست؟‘‘ بزرگ پر بھی سراسیمگی طاری ہوگئی۔
’’جسے دنیا والے پہچانتے نہیں تھے۔‘‘ شدت غم کے سبب لوگوں کی آوازیں ان کا ساتھ نہیں دے رہی نہیں۔ ’’دراصل اس مکان میں رہنے والا رنگ ریز نوجوان پوشیدہ ولی تھا۔ ابھی ابھی باہر سے آیا تھا اور نماز پڑھ رہا تھا کہ سجدے کی حالت میں اپنے خالق سے جا ملا۔‘‘
یہ اندوہناک خبر سن کر بزرگ کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ وہ وقت کے تھپیڑے کھاتے، موجوں کے ستم سہتے ساحل مراد تک پہنچے مگر پھر بھی پیاسے رہ گئے۔ بار بار ان کی سماعت میں نوجوان کے یہ الفاظ گونج رہے تھے۔ ’’جب کوئی انسان کسی دوسرے انسان سے بدظن ہوتا ہے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔‘‘
یہ واقعہ سنانے کے بعد حضرت سیدگیسودرازؒ رونے لگے۔ پھر آپ نے برسر مجلس نہایت رقت آمیز لہجے میں یہ اشعار پڑھے۔
مناسب یہ ہے کہ گفتگو نہ ہو بلکہ نظر اور نظر بازی ہو
اور کوئی دوسرا پس دیوار سنتا نہ ہو
میں اس مالک زمین و زماں معشوق کو چاہتا ہوں
بس خلوت میں وہ ہو، اور میں ہوں، کوئی دوسرا نہ ہو
(ترجمہ)
دولت آباد (دکن) میں کچھ دن قیام کرنے کے بعد حضرت سید گیسو درازؒ دوبارہ دہلی تشریف لے آئے۔ آپ کی واپسی سے اہل دل کی مجلسوں میں جشن کا سا سماں پیدا ہوگیا۔
سلطان فیروز شاہ تغلق کو حضرت سید گیسو درازؒ کی آمد کی خبر ملی تو اس نے اپنے ایک مصاحب خاص کو یہ پیغام دے کر آپ کی خدمت عالیہ میں بھیجا۔ ’’خواجہ محترم! دہلی کے بادشاہوں سے آپ کے دادا اور والد ماجد کے تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے ہیں۔ تمام بزرگ بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے اور ان حضرات نے خوش حالی کے ساتھ نیک نامی کی زندگی بسر کی۔ میری خواہش ہے کہ آپ کا نام بھی امرائے شاہی کی فہرست میں شامل ہوجائے۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ آپ کو ایسا کوئی کام تفویض نہیں کیا جائے گا۔ جو آپ کے موجودہ اوقات و مشاغل میں خلل انداز ہو۔‘‘
حضرت سید گیسودراز ؒنے سلطان فیروز شاہ تغلق کے مصاحب خاص کی گفتگو بہت غور سے سنی۔ پھر مختصر سے وقفۂ سکوت کے بعد فرمایا۔ ’’میری طرف سے سلطان کی یاد فرمائی کا شکریہ ادا کرنا اور کہنا کہ یہ درویش مال و متاع دنیا کو آگ اور اژدھا سمجھتا ہے۔ دوسرے یہ کہ جس دن سے میں نے حضرت سید نصیرالدین چراغ دہلیؒ کی غلامی اختیار کی ہے، اس روز سے کوئی عہدہ اور کوئی منصب اس فقیر کی نظر میں نہیں سماتا۔ پھر بھی میں تمام مسلمانوں کا ملازم ہوں اور ان کے حق میں دن رات دعائے خیر کرتا رہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہی میرا مالک و مددگار ہے۔ وہ مجھے اس سے بھی زیادہ دعائے خیر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘
جب مصاحب خاص نے حضرت سید گیسودرازؒ کا جواب سلطان فیروز شاہ تغلق کے گوش گزار کیا تو فرمانروائے ہندوستان نے بے اختیار کہا۔ ’’واللہ! سید محمد ؒ ایسے ہی ہیں۔ ان کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں۔‘‘
٭…٭…٭
دہلی کے علماء میں مولانا حسین نامی ایک بزرگ تھے جو حضرت سید گیسودرازؒ کے مرید تھے۔ ان کی بہن کا ایک داماد بظاہر راسخ العقیدہ مسلمان تھا لیکن ہر محفل، ہرمجلس میں بزرگان دین کے خلاف بدعقیدگی کا مظاہرہ کرتا ہتا تھا۔ مولانا حسینؒ کو یہ باتیں بہت ناگوار گزرتی تھیں۔ اگر کوئی دوسرا شخص ہوتا تو شاید مولانا اس سے زندگی بھر کلام نہ کرتے مگر دامادی کے نازک رشتے سے مجبور ہو کر اس نوجوان کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرتے ۔ وہ کہتے۔ ’’فرزند! اگر صوفیائے کرام کی شخصیت تمہاری سمجھ میں نہیں آتی تو خاموشی اور گریز اختیار کرلو۔ اللہ کے برگزیدہ بندوں پرالزام تراشی کر کے خواہ مخواہ اپنی عاقبت کیوں برباد کرتے
ہو؟‘‘
مولانا حسینؒ اتمام حجت کے لیے بے شمار مثالیں پیش کیں مگر صوفیائے کرام کے سلسلے میں بدعقیدہ نوجوان کے ذہن کے تمام دریچے بند تھے۔ وہ درویشوں کے بارے میں نہایت گستاخانہ الفاظ استعمال کرتا۔ وہ کہتا۔ ’’میں ان خرقہ پوشوں کی کوئی حیثیت تسلیم نہیں کرتا۔ یہ محض ایک فریب ہے۔ بندگانِ خدا کو بے وقوف بنانے اور اپنی مسندیں سجانے کے لیے سراسر ایک نمائش ہے۔ ان مصنوعی بزرگوں کی خانقاہیں مذہبی خدمات انجام دینے کے بجائے اللہ کے دین کو تباہ کررہی ہیں۔‘‘
مولانا حسین ؒ اس بے ادب کی باتیں سنتے اور خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتے۔ پھر ایک دن مولانا کا داماد خود ان پر سخت تنقید کرنے لگا۔ ’’آپ بھی ان نقلی فقیروں کی صحبت میں بیٹھ کر گمراہ ہوگئے ہیں۔ یہاں تک کہ گیسودرازؒ کی مریدی اختیار کرلی، یہ کیسی احمقانہ روش ہے۔‘‘
اب کی بار مولانا حسینؒ خاموش نہ ر ہ سکے۔ ان کی قوت برداشت جواب دے گئی۔ ’’فرزند! تم نے میرے پیرومرشد حضرت سید گیسودرازؒ کو دیکھا نہیں ہے۔ ‘‘ مولانا حسینؒ بڑی عقید ت کے ساتھ اپنے شیخ کا ذکر کررہے تھے۔ ’’لوگ خانقاہ کے باہر بڑے عجیب عجیب دعوے کرتے ہیں مگر جب سید گیسودرازؒ کے روبرو آتے ہیں تو ان کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔‘‘
’’پھرمجھے بھی اپنے شیخ کے دربار میں لے چلئے۔‘‘ نوجوان کا لہجہ استہزائیہ تھا۔ ’’ میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ آخر لوگ کس طرح اپنی قوت گفتار سے محروم ہو جاتے ہیں؟‘‘
مولانا حسینؒ کے لیے یہ اچھا موقع تھا۔ نتیجتاً آپ اپنے سرکش داماد کو حضرت سید محمد گیسودرازؒ کی خدمت میں لے گئے۔ اس وقت خاندان چشتیہ کے یہ نامور بزرگ اور حضرت نصیر الدین چراغ دہلیؒ کے خلیفۂ اکبر ایک تخت پر تشریف فرما تھے۔ سر پر عمامہ تھا اور ہاتھ میں سرخ چمڑے کا پنکھا تھا۔ مولانا حسین ؒ کے داماد نے حضرت سید گیسودرازؒ کو دیکھا تو دل پر ہیبت سی طاری ہوئی مگر ذہن میں کجی تھی، اس لیے اس مردِ جلیل کو آزمانے کے بارے میں سوچنے لگا۔ ’’درویش کشف باطن کے بہت دعوے کرتے ہیں۔ اگر گیسودرازؒ اپنا عمامہ اور پنکھا میرے سپرد کردیتے ہیں تو باکرامت ولی ہیں ورنہ معرفت کی یہ مجلس بھی ایک فریب ہے۔‘‘
نوجوان کا ذہن مسلسل بھٹکتا رہا اور ایسے ہی کثیف خیالات پرورش پاتے رہے، یہاں تک کہ حضرت گیسودرازؒ کی پرُجلال آواز نے اس پراگندہ دماغ انسان کے خیالات کو منتشر کردیا۔
’’مولانا! شہر بغداد میں ایک بازی گر تھا۔‘‘ حضرت سید گیسودرازؒ مولانا حسینؒ کو مخاطب کرکے فرما رہے تھے۔’’ وہ بازی گر مجمع کے درمیان ایک گدھے کو کھڑا کر دیتا اوراس کی دونوں آنکھوں پر کپڑا باندھ کر لوگوں کے ہجوم سے کہتا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص کسی کی چیز چُرا لے تو میں اسے آسانی کے ساتھ پکڑ سکتا ہوں۔ اس کے بعد مجمع میں سے ایک شخص کسی دوسرے تماشائی کی کوئی چیز چُرا لیتا۔ پھر وہ بازی گر گدھے کی ایک آنکھ سے کپڑا ہٹا دیتا اور اس تربیت یافتہ جانور سے کہتا کہ فلاں شخص کی کوئی چیز گم ہو گئی ہے، اسے تلاش کرو۔ گدھا اپنے بازی گر مالک کے حکم پر تمام لوگوں کے جسموں کو سونگھتا پھرتا اور جب چور کے پاس پہنچتا تو اس کے کپڑے اپنے دانتوں سے پکڑ لیتا۔ پھراسے کھینچتا ہوا بازی گر کے پاس لے جاتا۔‘‘ یہ کہہ کر حضرت سید گیسودرازؒ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئے۔
مجمع پر سکوت طاری تھا اور تمام حاضرین شدید حیرت کے عالم میں گوش برآواز تھے۔ حضرت سید گیسودرازؒ نے بغداد کے گدھے اور بازی گر کا قصہ بیان کرنے کے بعد مولانا حسینؒ سے مخاطب ہو کر دوبارہ فرمایا۔ ’’مولانا! یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ایک شخص کوئی کرامت دکھائے تو اس گدھے کے مانند قرار پائے اور اگر ایسا نہ کرے تو بے ہنر کہلائے۔‘‘
جیسے ہی حضرت گیسودرازؒ کی زبان مبارک سے آخری لفظ ادا ہوا، مولا نا حسینؒ نے اپنے داماد پر نظر کی۔ وہ مجرموں کی طرح سرجھکائے بیٹھا تھا اور اس کا پورا جسم عرق ندامت سے تر تھا۔ اچانک اہل مجلس نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ حضرت سید گیسودرازؒ اپنا عمامہ اتار رہے تھے، پھر شیخ نے عمامہ اور پنکھا نوجوان کی طرف بڑھاتے ہوئے فرمایا۔ ’’صاحب زادے! تمہیں ان چیزوں کی طلب ہے۔ ایک بے کرامت درویش کی جانب سے انہیں بطور تحفہ قبول کر لو۔‘‘
نوجوان پہلے ہی شرمسار تھا۔ جب اس کے دل و دماغ حضرت گیسودرازؒ کے
بے نقاب ہوگئے تو پھر اسے ایک اللہ کے ولی کی روحانی قوتوں پر یقین آگیا۔ یہاں تک کہ اس نے برسرمجلس حضرت گیسودرازؒ سے رقت آمیز لہجے میں معافی مانگی، اپنے پراگندہ خیالات سے تائب ہو ا اور پھر شیخ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوگیا۔ نہایت پاکباز زندگی بسر کی۔ ایک دن خود بھی منصب ولایت پر فائز ہو گیا۔ اکثر اپنے دوستوں سے کہا کرتا تھا۔ ’’اگر حضرت گیسودرازؒ میری خطائوں کو معاف نہ فرماتے تو میں زندگی بھر کوچۂ جہالت میں بھٹکتا رہتا۔‘‘
٭…٭…٭
دہلی میں ایک مذہبی عالم نصیرالدین قاسم تھے۔ ان کے علم و فضل کا یہ حال تھا کہ دہلی کا ایک ایک گوشہ ان کی شخصیت کا اسیر تھا۔ حضرت سید گیسودرازؒ کے بچے ان کے زیر تربیت تھے۔ کبھی نصیرالدین قاسم بچوں کو پڑھانے کے لیے حضرت سید گیسودرازؒ کی خانقاہ چلے جاتے اور کبھی بچے ان کے مکان پر آجاتے۔ اس طرح نصیر الدین قاسم اور حضرت سید گیسودراز ؒکے درمیان ایک خاص ربط پیدا ہو گیا تھا مگر اس قربت کے باوجود مولانا حضرت سید گیسودرازؒ کے افکار و عمل میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے تھے۔ مجلس سماع منعقد ہوتی لیکن مولانا نے اس میں کبھی شرکت نہیں کی۔ انتہا یہ ہے کہ حضرت سید گیسودرازؒ خانقاہ میں درس دیتے رہتے اور نصیر الدین قاسم اٹھ کر چلے آتے۔ جب لوگ ان سے اس طرزِ سلوک کے بارے میں پوچھتے تو صاف کہہ دیتے۔ ’’میرے اور سید گیسودرازؒ کے خیالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اگر ساری دنیا بھی ان کے نظریات کی تائید کرنے لگے تو میں پھر بھی گیسودرازؒ کے حلقۂ درس میں نہیں بیٹھ سکتا۔‘‘
سننے والے یہ تمام باتیں حضرت گیسودرازؒ کے کانوں تک پہنچا دیتے لیکن وہ مردِ قلندر مسکرا کر رہ جاتا۔
’’ہاں ! وہ ایک زبردست عالم ہیں اور یہاں یہ حال ہے کہ ہم نے چند کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں پڑھا۔ پھر ایک عالم ہم جیسے کم علموں کی صحبت میں کس طرح بیٹھ سکتا ہے؟‘‘ اپنی زبان سے یہ الفاظ ادا کرتے وقت حضرت سید گیسودرازؒ کے چہرئہ مبارک پر تلخی و ناگواری کاہلکا سا عکس بھی نہ ہوتا۔
پھرایک دن عجیب واقعہ پیش آیا۔ دہلی میں جو لوگ بھی نصیرالدین قاسم سے واقف تھے، ان کے لیے یہ بڑی چونکا دینے والی خبر تھی۔ اپنے تمام تر علم کے باوجود مولانا قاسم حضرت سید گیسودرازؒ کے دست ولایت پر بیعت ہوگئے۔ پورے شہر میں ایک ہنگامہ برپا تھا۔ مولانا نصیرالدین قاسم کا جو شناسا بھی ملتا، بڑے طنز آمیز لہجے میں ایک ہی سوال کرتا۔ ’’مولانا آپ تو خود ایک بڑے عالم ہیں، پھر آپ اس شخص کے حلقۂ ارادت میں کس طرح شامل ہوگئے، جس کی تعلیمات کل تک آپ کے لیے قابل اعتنا نہیں تھیں؟‘‘
مولانا نصیرالدین قاسم بہت دیر تک خاموش رہتے۔ آخر جب لوگ زیادہ اصرار کرتے تو بس اتنا کہہ کر خاموش ہو جاتے۔ ’’میں تم سے اپنی کیفیات کس طرح بیان کروں؟ تم لوگ میری زبان نہیں سمجھ سکتے۔‘‘
پھرایک دن نصیر الدین قاسم کے استاد کواپنے شاگرد کے ذہنی انقلاب کی اطلاع ملی تو بہت زیادہ برہم ہوئے۔ فرمانے لگے۔’’قاسم ! میں نے دوران تعلیم ہی تمہیں تنبیہ کردی تھی کہ تم ان صوفیوں سے کوئی تعلق نہ رکھنا جو بے خبری کے عالم میں سماع کی مجلس آراستہ کرتے ہیں اور مخلوقِ خدا کو بے عمل بناتے ہیں۔ افسوس! تم نے میری ساری محنت برباد کردی اور نافرمانی جیسے سنگین جرم کے مرتکب ہوگئے۔‘‘
مولانا نصیر الدین قاسم احترام استاد کے پیش نظر کچھ دیر ساکت بیٹھے رہے مگر جب استاد نے جواب دینے کے لیے مجبور ہی کر دیا تو مولانا ایک خاص عالم جذب میں بولنے لگے۔ ’’بے شک! آپ نے مجھے علم کے رموز و نکات سمجھائے مگر حضرت سید گیسو درازؒ نے یقین کی منزل میں لے جا کر کھڑا کردیا۔‘‘ مولانا نصیرالدین قاسم کا لہجہ رقت آمیز تھا اور چہرہ ایک خاص کیفیت کے زیراثر متغیر نظر آرہا تھا۔‘‘ آپ نے مجھے عالم بنایا مگر حضرت سید گیسودرازؒ نے مجھے مسلمان کیا۔‘‘
’’تو کیا اب تک تم ایمان نہیں لائے تھے؟‘‘ استاد، شاگرد کا جواب سن کر اچانک غضب ناک ہوگئے تھے۔
’’صرف زبان سے کلمہ پڑھ لیا تھا۔‘‘ مولانا نصیرالدین قاسم نے اسی عالم جذب میں فرمایا۔’’ حضرت گیسودرازؒ کے سامنے پہنچا تو ایمان روح کی گہرائیوں تک اُتر گیا اور پھر دل نے بھی اللہ کی کبریائی اور سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کرلیا۔ کوئی


کچھ کہے مگر میں علی الاعلان کہتا ہوں کہ حضرت سید گیسودرازؒ نے مجھے دولت ایمان بخشی۔ کل تک میں صرف ایک عالم تھا مگر آج مسلمان ہو گیا ہوں اور یہ سید گیسودرازؒ کا فیض روحانی ہے۔‘‘
٭…٭…٭
حضرت سید گیسودرازؒ نے تقریباً چوالیس سال تک دہلی میں قیام فرمایا او ر بے شمار بندگانِ خدا کو فیضیاب کیا۔ پھر امیر تیمور کے حملے کے زمانے میں دوبارہ دہلی سے دکن تشریف لے گئے۔ اس مرتبہ آپ نے گلبرگہ کو مستقل سکونت کا اعزاز بخشا۔
یہ نویں ہجری کے آغاز کا واقعہ ہے۔ اس وقت فیروز شاہ بہمنی دکن کا حکمراں تھا۔ 815ھ میں فیروز شاہ شکار کا بہانہ کر کے گونڈوارہ پہنچا اور باغی ہندوئوں کو شکست دے کر اس علاقے کو تباہ و برباد کرڈالا۔ تقریباً تین سو ہاتھی پکڑ کر اپنے پایۂ تخت کی طرف واپس آیا۔ اسی دوران سلطان فیروز شاہ کو خبر ملی کہ حضرت سید گیسو درازؒ دوبارہ دہلی سے گلبرگہ (دکن) تشریف لائے ہیں۔ علم دوست بادشاہ یہ خبر سن کر فوراً ہی فیروز آباد سے گلبرگہ آیا اور تمام عزیز و اقارب کو حضرت سید گیسودرازؒ کے استقبال کے لیے روانہ کردیا۔ آخر حضرت شیخ اس طرح شہر میں داخل ہوئے کہ بڑے بڑے اراکین سلطنت عقیدت سے سرجھکائے ہوئے کھڑے تھے۔ خود فیروز شاہ بہمنی بھی حضرت سید گیسودرازؒ کے استقبال کرنے والے ہجوم میں بہ نفس نفیس موجود تھا۔ اس نے حضرت نصیر الدین چراغ دہلیؒ کے خلیفۂ اکبر کو دیکھا تو وقتی طور پر آپ کی شخصیت سے بہت متاثر ہوا لیکن چند ملاقاتوں کے بعد فیروز شاہ کی عقیدت کم ہونے لگی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ فرمانروائے دکن ظاہری علوم و فنون کا دلدادہ تھا اور حضرت سید گیسودرازؒ ان چیزوں سے زیادہ شغف نہیں رکھتے تھے۔ نتیجتاً فیروز شاہ حضرت سید گیسودرازؒ کے حضور کوئی خاص عقیدت ظاہرنہ کر سکا۔ اس کے برعکس فیروزشاہ کا چھوٹا بھائی احمد خان حضرت شیخ کا اس قدر معتقد ہو گیا کہ خود کو آپ کا خادم کہہ کر پکارنے لگا۔ احمد خان نے حضرت سید گیسودرازؒ کے لیے دلکش دیوار و در کی ایک خانقاہ بنوائی اور اکثر اوقات آپ کی خدمت میں حاضری دیتا رہا۔ سید گیسودرازؒ کو سماع کا بے حد شوق تھا۔ احمد خان بھی حضر ت شیخ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے پابندی سے سماع کی محفلوں میں شریک ہوتا تھا اور حضرت سید گیسودرازؒ کی خانقاہ میں رہنے والے درویشوں کو انعامات دیا کرتا تھا۔ اسی پُرجوش عقیدت کے سبب حضرت سید گیسودرازؒ بھی برسرمجلس احمد خان پر شفقت فرماتے تھے۔
یکایک حالات نے ایک عجیب کروٹ لی 818ھ میں فیروز شاہ بہمنی نے اپنے بیٹے اکبر حسن خان کے سر پر تاج شاہی رکھ دیا اور تمام اراکین سلطنت سے اس کے لئے بیعت لی۔ پھر چند معتبر درباریوں کو حضرت سید گیسودرازؒ کی خدمت میں بھیج کر عرض داشت پیش کی کہ حضرت شیخ اکبر حسن خان کے حق میں دعائے خیر فرمائیں۔
حضرت سید گیسودرازؒنے شاہی قاصدوں کی بات کو غور سے سنا اور پھر مختصر سے سکوت کے بعد فرمایا۔ ’’اپنے بادشاہ سے کہو کہ جب اکبر حسن خان کے سر پر تاج شاہی رکھ دیا گیا تو پھر دنیا میں اسے کس چیز کی ضرورت ہے؟‘‘ حضرت سید گیسودرازؒ کا جواب سن کر اہل مجلس نے صاف محسوس کرلیا تھا کہ حضرت شیخ دکن کے نئے بادشاہ کے حق میں دعائے خیر سے گریز فرما رہے ہیں۔
شاہی قاصد ناکام و نامراد لوٹ گئے اور فیروز شاہ کو حضرت سید گیسودرازؒ کا جواب منتقل کردیا۔ فیروز شاہ خود بھی اہل نظر تھا۔ اس لیے حضرت سید گیسودرازؒ کے عدم التفات سے فکر میں مبتلا ہو گیا۔ بہت دیر تک پریشانی کے عالم میں سوچتا رہا۔ پھر قاصدوں سے مخاطب ہوا۔ ’’تم لوگ دوبارہ حضرت شیخ کی بارگاہ میں رسائی حاصل کرو اور ان سے کہو کہ اکبر کے حق میں اپنی زبان مبارک سے چند دعائیہ کلمات ادا فرمائیں۔ اگر شیخ خاموش رہیں تو اس وقت تک اصرارکرتے رہنا جب تک مقصد حاصل نہ ہو جائے۔‘‘
فیروز شاہ کی دوسری درخواست لے کر قاصد ایک بارپھر حضرت سید گیسودرازؒ کے حضور پہنچے اور دعا کے لئے التجا ئیں کرنے لگے۔ حضر ت سید گیسودرازؒ نے حسب سابق سکوت اختیار فرمایا۔
قاصد منصوبے کے مطابق اصرار کرتے رہے اورجب ان کا اصرار حد سے گزر گیا تو حضرت شیخ نے پُرجلال لہجے میں فرمایا۔ ’’یہ فیروز شاہ کا فیصلہ تھا کہ اس نے اکبر حسن خان کے سر پر تاج شاہی رکھ دیا مگر قدرت کے فیصلے سے اہل زمین بے خبر ہیں۔
نہیں جانتے کہ مشیت الٰہی نے دکن کی حکمرانی کے لیے احمد خان کا انتخاب کیا ہے۔ آسمان بھی اللہ کا ہے اور زمین بھی۔ مملکت بھی اسی کی ہے اور تاج و تخت بھی۔ وہ جسے چاہتا ہے سرفراز کرتا ہے۔ اگر ساری دنیا بھی اکبرحسن خان کے پرچم تلے جمع ہو جائے تو احمد خان کے اقتدار پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ وہ بحکم اللہ تعالیٰ شاہ دکن ہے۔ اب اگر کوئی اللہ سے جنگ کرنا چاہتا ہے تو درویش اس کی ذہنی روش کو بدلنے سے قاصر ہے۔‘‘ حضرت سید گیسودرازؒ نے شاہی قاصدوں کو آخرکار وہ عبارت پڑھ کر سنا دی جو لوح محفوظ پر درج تھی۔ ایک مردِ قلندر کے لہجے کی حرارت سے فیروزشاہ کے نمائندے لرزنے لگے اور پھر گردنیں جھکائے ہوئے کانپتے قدموں کے ساتھ واپس چلے گئے ۔
جب فیروز شاہ نے اپنے قاصدوں کی زبانی حضرت سید گیسودرازؒ کے فرمودات سنے تو اسے شدید اذیت پہنچی۔ بیٹے کی محبت نے اسے جنون میں مبتلا کردیا اور پھر یہی جنون گستاخانہ رنجش میں تبدیل ہوگیا۔ اب کی بار فیروز شاہ نے قاصدوں کے بجائے چند فوجی سرداروں کو حضرت گیسو درازؒ کی خدمت میں بھیجا۔ پہلے قاصد نیازمندی کا پیغام لے کر پہنچے تھے۔ دوسرے سفیروں کے ہونٹوں پر حکم شاہی لرزاں تھا۔ فوجی سرداروں نے حضرت سید گیسودرازؒسے آمرانہ لہجے میں کہا۔ ’’شاہ دکن کا حکم ہے کہ آپ اپنی خانقاہ کسی اور مقام پر منتقل کردیں۔‘‘
’’آخر کیوں؟‘‘ حضرت سید گیسودرازؒ نے نہایت تحمل سے فرمایا۔
’’اس لیے کہ خانقاہ دربار شاہی سے قریب ہے، آپ کے مرید شور و غل مچاتے ہیں جس کے سبب سرکاری کاموں میں خلل پڑتا ہے۔‘‘ فوجی سرداروں نے جواب دیتے ہوئے کہا۔ ان کے اندازِ گفتگو سے طاقت و اقتدار کی جھلک صاف نمایاں تھی۔
’’اس سے پہلے یہی خانقاہ تھی اور یہی مریدوں کی ہائوہو، اس وقت شاہ دکن کے امور سلطنت متاثر نہیں ہوتے تھے۔‘‘ حضرت سید گیسودرازؒ نے اتمام حجت کے طور پر فرمایا۔’’ پھر آج کیا ہوا کہ تمہارے فرمانروا کو یہ تمام چیزیں بار محسوس ہونے لگیں۔‘‘
’’ہمیں تفصیلات کا علم نہیں۔‘‘ شاہی سفیروں کے چہرے سے ناگوار ی کا اظہار ہورہا تھا۔ ’’حاکم وقت کی منشاء کسی وضاحت کی پابند نہیں ہوتی۔ بس آپ پر یہی لازم ہے کہ کسی تاخیر کے بغیر اس جگہ کو چھوڑ دیں اور اتنی دور چلے جائیں کہ شاہ دکن کو دوسر ے حکم کی زحمت گوارا نہ کرنی پڑے۔‘‘ آمریت مکمل طور پر بے نقاب ہو چکی تھی۔
’’ٹھیک ہے، ہم چلے جائیں گے مگر اس طرح آسمانی فیصلوں میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوگی۔‘‘ یہ کہہ کر حضرت سید گیسودرازؒ نے اپنے مریدوں کو حکم دیا۔ تھوڑی ہی دیر میں سارے مریدوں اور درویشوں نے اپنا سامان سمیٹ لیا۔ قلندروں کا اسباب ہی کیا چند مصلّے، چند لباس، چند چادریں اور چند برتن۔ دیکھتے ہی دیکھتے خانقاہ خالی ہوگئی اور حضرت سید گیسودرازؒ کی قیاد ت میں خانہ بدوش اولیاء کا مختصر سا قافلہ ایک سمت روانہ ہو گیا۔ پھر شاہی محلات سے بہت دور حضرت شیخ نے اپنے مریدوں کو ایک کھلے میدان میں قیام کرنے کا حکم دیا۔
فیروز شاہ بہمنی اپنے حکم کو عملی شکل میں نافذ ہوتے دیکھ کر خوش نظر آ رہا تھا۔ اس نے ایک درویش کو دربدر کرکے اپنی کثافت نفس کے تقاضے پورے کردیئے تھے اور اب مطمئن انداز میں اکبر حسن خان کی کامیابیوں کے لیے منصوبہ سازی کر رہا تھا۔ وقت تیزی سے گزرتا رہا۔ ماضی کی ایک شکست کے داغ نے فیروز شاہ کے دل و دماغ پر گہرے اثرات چھوڑے تھے۔ وہ دشمن سے خوفناک انتقام لینا چاہتا تھا۔ مگر روز بروز بڑھتی ہوئی ضعیفی نے اسے تھکا ڈالا تھا۔ بے پناہ جسمانی نقاہت اورنفرتوں کے سرکش جذبے، یہی وہ ہولناک صورت حال تھی جس نے آخرکار فیروز شاہ کی صحت پر برے اثرات مرتب کئے۔ یہاں تک کہ وہ بہت جلد بستر علالت پر دراز ہو گیا۔(جاری ہے)