Hazrat Gesudaraz | Last Episode 4

491
اب سلطنت کی زمام کار شاہ دکن کے ہاتھوں سے نکل چکی تھی۔ ولی عہد اکبر حسن خان ایک ناتجربہ کار نوجوان تھا، اس لیے بساطِ سیاست کے تمام گوشوں پر نظر نہ رکھ سکا جس کے نتیجے میں فیروز شاہ کے دو غلاموں عین الملک اور بیدارالملک کی فتنہ انگیزیاں رنگ لائیں اور یہ دونوں نمک حرام سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔ اسی دوران کچھ غلاموں نے تنہائی میں فیروز شاہ کے کان بھرنے شروع کردیئے۔ ’’حضور! احمد خان مسلسل ناشکر گزاری کا مظاہرہ کررہا ہے۔ اگرچہ وہ آپ کا حقیقی بھائی ہے لیکن شاہ دکن کی بیماری سے فائدہ اٹھا کر تخت سلطنت پر قابض ہونا چاہتا ہے۔‘‘
غلاموں کی سرگوشیاں سن کر فیروز شاہ بہمنی کا نحیف و نزار بدن کانپنے لگا اور اس کے ساتھ ہی اس کے ذہن میں حضرت سید گیسو درازؒ کے الفاظ ابھرنے لگے۔ ’’تاج دکن تو احمد خان کا مقدر بن چکا ہے۔‘‘
اب بوڑھے حکمراں کو یہ اندیشہ پیدا ہوگیا کہ کہیں ایک درویش کی پیش گوئی درست ثابت نہ ہوجائے۔ اس لیے وہ اپنے بیٹے اکبر حسن خان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ دور کرنے کی منصوبہ سازی کرنے لگا۔ فیروز شاہ کے اعصاب پر فرزند کی محبت اس درجہ غالب آگئی کہ اس نے حقیقی بھائی کی آنکھیں نکالنے کے احکامات صادر کردیئے۔
خوش قسمتی سے احمد خان کو ایک دن پہلے اس سازش کا پتا چل گیا۔ نتیجتاً اپنی مختصر سی فوج کو لے کر رات کے اندھیرے میں گھر سے نکل کھڑا ہوا اور پھر حضرت سید گیسو درازؒ کی خانقاہ میں حاضر ہوا۔ احمد خان کے ہمراہ اس کا بیٹا علاء الدین بھی تھا۔ احمد خان نے تیزی سے آگے بڑھ کر سید گیسو درازؒ کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور رونے لگا۔
’’میں نے بادشاہت کا دعویٰ کب کیا تھا؟‘‘ احمد خان رقت آمیز لہجے میں بول رہا تھا۔ ’’میں اپنے شاہ کے قدموں کا غلام ہوں۔ یہی خانقاہ کا فرش خاک میرا تخت ہے اور یہی ایک گوشۂ زمیں میری سلطنت عظیم ہے۔‘‘
احمد خان بہت دیر تک ہچکیوں کے ساتھ روتا رہا یہاں تک کہ حضرت گیسو درازؒ نے اس کی پشت پر اپنا دست کرم رکھ دیا۔ ’’احمد اٹھو!‘‘ سید گیسو درازؒ کی پُرجلال آواز گونجی۔ ’’آج تم اتنے مضطرب کیوں ہو؟‘‘
جواب میں احمد خان نے سلطان فیروز شاہ بہمنی کی اس سازش کی تفصیلات سنا دیں جس کے تحت احمد خان کو اندھا کردینے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
حضرت سید گیسو درازؒ خاموشی سے اقتدار کی کشمکش کی داستان سنتے رہے۔ جب احمد خان خاموش ہوگیا تو آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔ ’’جو خود اندھے ہوچکے ہیں، وہ کسی دوسرے کو بینائی سے کیا محروم کریں گے۔ اس فقیر نے پہلے ہی سلطان فیروز شاہ کو لوح محفوظ کی عبارت پڑھ کر سنا دی ہے۔ معاذاللہ! یہ گیسو درازؒ کا فیصلہ نہیں، آسمان کا فیصلہ ہے۔ اللہ چاہتا ہے کہ تاج شاہی احمد خان کے سر پر سجایا جائے۔ اب اگر ساری دنیا مل کر اللہ کے فیصلے کو جھٹلانا چاہتی ہے تو یہ ایک خیال خام ہے، وحشت ہے، دیوانگی ہے۔ عنقریب وہ لوگ اپنی آنکھوں سے اپنے نظریات کو باطل ہوتے ہوئے دیکھ لیں گے۔‘‘ یہ کہہ کر حضرت گیسو درازؒ نے اپنا عمامہ اتارا۔
خانقاہ کے تمام حاضرین شیخ کے اس طرزعمل کو دیکھ کر حیران ہورہے تھے۔ اچانک سید گیسو درازؒ کا چہرئہ مبارک جلال روحانی سے سرخ ہوگیا۔ پھر آپ نے اپنے عمامے کے دو ٹکڑے کردیئے۔ احمد خان قریب ہی دوزانو بیٹھا تھا۔ حضرت سید گیسو درازؒ نے عمامے کا ایک ٹکڑا احمد خان کے سر پر باندھتے ہوئے فرمایا۔ ’’بفضل خدا یہی تیری دستار فضیلت ہے اور یہی تیرا تاج شاہی ہے۔ جو کوئی بھی تجھ سے اس اعزاز کو چھیننے کی کوشش کرے گا، وہ اپنی آنکھوں سے اپنا حشر دیکھ لے گا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے حضرت سید گیسو درازؒ کا لہجہ اس قدر آتشیں ہوگیا تھا کہ اہل مجلس کے جسم اور درودیوار ایک مرد بزرگ کی ہیبت سے لرز رہے تھے۔
حضرت سید گیسو درازؒ نے احمد خان کے بیٹے علاء الدین پر نظر ڈالی جو خانقاہ کے ایک گوشے میں کھڑا کانپ رہا تھا۔
’’فرزند! ادھر آئو۔‘‘ حضرت سید گیسو درازؒ نے نوجوان کو پکارا۔
علاء الدین سر جھکائے آگے بڑھا۔ اس کے لیے ایک قدم اٹھانا بھی دشوار تھا۔ بمشکل تمام لڑکھڑاتا ہوا حضرت شیخ کے نزدیک پہنچا اور جلال روحانی کی تاب نہ لاتے ہوئے فرش پر گر گیا۔
حضرت سید گیسو درازؒ نے علاء
الدین سے بہت نرم اور محبت آمیز لہجے میں گفتگو کی۔ تب کہیں جاکر اس کا خوف دور ہوا اور پھر وہ اٹھ کر دست بستہ حضرت سید گیسو درازؒ کے روبرو بیٹھ گیا لیکن اب بھی علاء الدین کا چہرہ زرد تھا اور گردن جھکی ہوئی تھی، پھر حضرت سید گیسو درازؒ کے دست کرم کو جنبش ہوئی۔ اہل مجلس ساکت تھے۔ حضرت شیخؒ نے اپنے عمامے کا دوسرا ٹکڑا علاء الدین کے سر پر باندھتے ہوئے فرمایا۔ ’’تمہاری بھی یہی دستار فضیلت ہے اور یہی تخت شاہی ہے۔‘‘ اس رسم کی ادائیگی کے بعد حضرت سید گیسو درازؒ نے احمد خان اور اس کے بیٹے علاء الدین سے فرمایا۔ ’’اب تم دونوں بے خطر ہوکر میدان میں نکل جائو۔ جب بھی کوئی غیبی اشارہ ہو، اس کے مطابق عمل کرو۔ اللہ کی رحمت تم پر سایہ فگن رہے کہ تمہارے دشمن شکست سے دوچار ہوجائیں اور تم عزت و آبرو کے ساتھ اپنی مرادیں حاصل کرلو۔‘‘ اس کے بعد حضرت سید گیسو درازؒ نے دونوں باپ بیٹے کو اپنے ساتھ کھانا کھلایا۔
احمد خان نے حضرت سید گیسو دراز کے دست مبارک کو بوسہ دیا اور اپنے چند حامیوں کو لے کر شہر کی حدود سے نکل گیا۔ راستے میں حسن بصری نام کا ایک سوداگر ملا جو احمد خان کی بہت عزت کرتا تھا۔ اس نے جب احمد خان کے عزائم کا اندازہ کرلیا تو اس طرح پیش آیا جیسے کوئی طاقتور بادشاہ کا استقبال کرتا ہے۔ احمد خان، حسن بصری کے اس طرزسلوک سے بہت متاثر ہوا۔ پھر بہت جذباتی انداز میں بولا۔ ’’حسن! یہ میرا آزمائشی وقت ہے۔ میں ایسے نازک لمحات میں تمہاری محبت کا شکرگزار ہوں مگر پھر بھی تمہیں میرا یہی مشورہ ہے کہ کسی محفوظ مقام پر روپوش ہوجائو ورنہ تم میری وجہ سے سلطان فیروز شاہ کے قہر وعتاب کا نشانہ بن جائو گے۔‘‘
حسن بصری کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ’’سرکار! جب آرام و آسائش میں آپ کے زیرسایہ رہا تو مصیبت کے وقت کیسے ساتھ چھوڑ دوں؟ میری غیرت یہ گوارا نہیں کرتی۔ اب میرا سر دوش پر قائم رہے یا کٹ کر خاک و خون میں مل جائے، میں آپ سے علیحدہ نہیں رہ سکتا۔‘‘ یہ کہہ کر حسن بصری بھی احمد خان کے مختصر سے لشکر میں شامل ہوگیا۔
پھر یہ قافلہ خان پور میں جاکر ٹھہر گیا۔ وہاں احمد خان نے بڑے رقت آمیز لہجے میں دعا کی۔ ’’اے مالک ارض و سما! اگر تو نے مجھے خاک دکن پر اقتدار عطا کردیا تو تیرا یہ عاجز بندہ احمد خان اس علاقے کو رسول آباد کے نام سے موسوم کرے گا اور اس کی آمدنی مکہ معظمہ، مدینہ منورہ، نجف اشرف اور کربلا کے سیّدوں کے لیے وقف ہوگی۔‘‘
ادھر احمد خان بارگاہ ذوالجلال میں گداگروں کے مانند اپنا دامن پھیلائے ہوئے تھا اور ادھر اس کے فرار ہونے کی خبر سن کر عین الملک اور بیدار الملک کے ہوش و حواس جاتے رہے۔ فوراً ہی سلطان فیروز شاہ بہمنی کو خبر دی گئی۔ بوڑھے حکمراں نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اپنے بیٹے اکبر حسن خان کے سر پر تاج شاہی رکھ دیا مگر وہ مقدرات کو نہ بدل سکا۔ پھر ایک طویل خونریزی کے بعد احمد خان کو فتح حاصل ہوئی۔
حضرت سید گیسو درازؒ کا یہ عقیدت مند اپنا پرچم بلند کیے ہوئے قلعے میں داخل ہوا اور سیدھا فیروز شاہ کے کمرے میں پہنچا۔ مفتوح حکمراں بستر علالت پر رنج و الم کی تصویر بنا ہوا لیٹا تھا۔ احمد خان نے اپنی محبت سے مجبور ہوکر بڑے بھائی کے قدموں پر سر رکھ دیا۔ سلطان فیروز شاہ بھی احمد خان کی اعلیٰ ظرفی دیکھ کر رونے لگا۔
انجام کار 825ھ میں احمد خان، احمد شاہ بہمنی کے نام سے تخت دکن پر جلوہ افروز ہوا۔ بارہ سال تک نہایت کامیابی کے ساتھ حکومت کرنے کے بعد 838ھ میں احمد شاہ دنیا سے رخصت ہوا۔ احمد شاہ کے بعد اس کا بیٹا علاء الدین تخت نشین ہوا۔ تقریباً چوبیس سال تک ایک مطلق العنان شہنشاہ کی طرح حکومت کرکے سلطان علاء الدین نے 862ھ میں انتقال کیا۔
موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ احمد خان کو بھی ابدی نیند آگئی اور علاء الدین بھی تہہ خاک دفن ہوگیا مگر اللہ نے ان دونوں کو اس وقت تک دنیا سے نہیں اٹھایا جب تک حضرت سید گیسو درازؒ کی پیش گوئی حرف بہ حرف درست ثابت نہ ہوگئی۔ یہ کوئی دیو مالائی قصہ نہیں کہ کسی جوگی کے عقیدت مند اسے خیالی طور پر ہوا میں پرواز کرتے دیکھ کر مطمئن ہوجائیں، یہ ایک مردِ مومن کی بصیرت کا وہ یادگار واقعہ ہے جو تاریخ ہند کے سینے پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہوگیا ہے۔ اس واقعے کا راوی کوئی افسانہ نویس نہیں محمد قاسم فرشتہ جیسا
عظیم مؤرخ ہے۔ جس کی روایتوں کو چشم تحقیق میں درجۂ اعتبار حاصل ہے۔
اگرچہ حضرت سید گیسو درازؒ اپنے پیر و مرشد حضرت نصیرالدین چراغ دہلیؒ کی طرح کرامت کو پسند نہیں کرتے تھے لیکن پھر بھی آپ کی ذات گرامی سے ایسے بے شمار واقعات منسوب ہیں جنہیں پڑھ کر عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ یہاں تفصیل کی زیادہ گنجائش نہیں۔ بس سلطنت بہمنی کے دو فرمانروائوں کی تخت نشینی کا واقعہ ہی عقل پرستوں کی عبرت کے لیے کافی ہے۔ اہل سائنس کے برقی آلات زہرہ و مریخ کی کتنی ہی تصاویر زمین پر بھیج دیں مگر وہ حضرت سید گیسو درازؒ کی ایک جنبش نظر کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کیسی آنکھ تھی جس میں زماں و مکاں جذب ہوکر رہ گئے تھے۔ اللہ ہی علیم و خبیر ہے کہ وہ معرفت کی کیسی روشنی تھی جس نے صدیوں کا جگر چاک کرکے حقائق کو تلاش کرلیا تھا۔ آخر سید گیسو درازؒ کی آنکھ میں وہ روشنی کیوں نہ ہوتی کہ آپ اللہ کے نور سے دیکھتے تھے۔
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی مشہور حدیث ہے۔ ’’مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔‘‘ حضرت سید گیسو درازؒ بھی سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی فرمان مقدس کے مطابق اللہ کے نور سے دیکھتے تھے۔ پھر اسی نور نے آپ کے سامنے صدیوں کو بے حجاب کردیا تھا۔
٭…٭…٭
ایک دن شاہ رکن احمد خان، حضرت سید گیسو درازؒ کی مجلس میں خدام کی طرح دست بستہ بیٹھا تھا۔ حضرت سید گیسو درازؒ نہایت پُرجوش اور پُرسوز لہجے میں فرما رہے تھے۔ ’’موجودہ زمانے میں حق پر عمل کرنے کا رواج اٹھ گیا ہے اور لوگوں کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ وہ حق کہنے سے گریز کرتے ہیں، اسی لیے باطل نے زور پکڑا ہے۔ مزید ستم یہ ہے کہ باطل پرستوں، ریاکاروں اور دھوکے بازوں نے شیطانی امور کو حق کہنا شروع کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مملکتیں بدنظمی کا شکار ہیں اور دنیاوی کاموں میں مسلسل خرابیاں پیدا ہوتی جارہی ہیں۔ اگر یہ باطل پرست اپنے خودساختہ خیالات اور عقائد سے توبہ کرکے حق کی جستجو کریں تو ان پر ان کی ’’باطل پرستیاں‘‘ واضح ہوجائیں اور انہیں بخوبی معلوم ہوجائے کہ ان کے ناکارہ اعمال کے سبب نظام عالم تباہ و برباد ہورہا ہے۔ اس کج روی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک دن وہ خود اور ان کی اولادیں حرف غلط کی طرح صفحۂ ہستی سے مٹ جائیں گی۔ کاش! تمام اہل ایمان حق و انصاف کو فروغ دینے کی کوشش کریں تاکہ موجودہ معاملات دنیا مکمل طور پر درست ہوجائیں۔ معاملات کی درستگی سے مملکتیں آباد رہتی ہیں اور رعایا خوشحال زندگی گزارتی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر حضرت سید گیسو درازؒ نے کچھ دیر کے لیے سکوت اختیار کیا۔
فرمانروائے دکن نے ایک نظر حضرت شیخؒ کی طرف دیکھا اور پھر سر جھکا لیا۔ وہ خوب جانتا تھا کہ حضرت سید گیسو درازؒ کا روئے سخن اسی طرف ہے۔
مختصر سے سکوت کے بعد حضرت سید گیسو درازؒ نے دوبارہ اپنی تقریر کا آغاز فرمایا۔ ’’حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کا زمانہ تھا۔ ایک دن کسی شہر کا عامل (گورنر) اپنے علاقے کی آمدنی اور دوسرے تحائف لے کر دربارِ خلافت میں حاضر ہوا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے محصولات بیت المال میں جمع کرا دیئے اور عامل کے پیش کردہ تحائف کو وہیں پڑا رہنے دیا۔ حاضرین دربار امیرالمومنین کے اس طرزعمل کو سمجھنے سے قاصر تھے۔ حضرت علیؓ کچھ دیر تک ان تحائف کو دیکھتے رہے، پھر کسی قدر ناخوشگوار لہجے میں عامل سے پوچھا۔ ’’یہ کیا ہے؟‘‘
’’امیرالمومنین! یہ تمام تحائف بطور خاص آپ کے لیے ہیں۔‘‘ عامل نے عرض کیا۔
’’میرے لیے کیوں؟‘‘ حضرت علیؓ کے لہجے کی ناخوشگواری بدستور قائم تھی۔
’’آپ ملت اسلامیہ کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔‘‘ عامل نے کہا۔ وہ ابھی تک امیرالمومنین کی بات کی گہرائی کو سمجھنے میں ناکام رہا تھا۔ ’’یہ تحائف آپ کی بے لوث خدمات کی نذر ہیں۔‘‘
’’تم میری ضروریات کا خیال رکھنے والے کون ہو؟‘‘ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حاکم کو سخت لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’میری خدمات کا صلہ مجھے بیت المال سے مل جاتا ہے، پھر ان تحائف کی کیا حیثیت ہے؟‘‘
حاکم، حضرت علیؓ کی نرمی سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ اس نے ایک بار پھر چرب زبانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’امیرالمومنین! خواہ کتنے ہی انکسار سے کام لیں مگر یہ نذر
تحائف آپ کے شایان شان ہیں۔‘‘
اب حضرت علیؓ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آپؓ نے خلاف عادت انتہائی تلخ لہجے میں فرمایا۔ ’’اے شخص! اگر یہ تحائف تیری ذاتی آمدنی سے ہوتے تو میں شاید ان کے قبول کرنے کے بارے میں سوچتا مگر ان کی ظاہری قیمت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ظلم کے ذریعے بندگانِ خدا سے حاصل کیے گئے ہیں اور تو مجھے سرِدربار رشوت پیش کرنے کا مذموم عمل انجام دے رہا ہے۔‘‘
امیرالمومنین کی پُرجلال کیفیت دیکھ کر وہ حاکم گھبرا گیا۔ حاضرین دربار عالم سکوت میں تھے اور وہ حضرت علیؓ کا فیصلہ سننے کے لیے بے قرار تھے۔
اچانک خلیفۂ مسلمین کی بارعب آواز گونجی۔ آپ حاکم کو مخاطب کرکے فرما رہے تھے۔ ’’اے شخص! تو نے بیک وقت دو جرم کیے ہیں۔ ایک یہ کہ بندگانِ خدا کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر تو نے یہ مال جمع کیا ہے اور دوسرا جرم یہ ہے کہ اپنے گناہ پر پردہ ڈالنے کے لیے مسلمانوں کے امیر کو نذر و تحائف کے نام پر رشوت پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے تجھے خیانت، چوری اور رشوت کی پیشکش کے جرم میں گورنری کے معزز عہدے سے برطرف کیا جاتا ہے۔‘‘
وہ حاکم بڑا موقع شناس تھا، اس نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا غصہ فرو کرنے کے لیے عرض کیا۔ ’’امیرالمومنین نے میر ے حق میں جو فیصلہ دیا ہے، وہ یکسر درست ہے اور انصاف پر مبنی ہے مگر سیدی نے اس حقیقت پر غور نہیں فرمایا۔‘‘
’’کیسی حقیقت؟‘‘ امیرالمومنین نے حاکم سے پوچھا۔
’’مسلمانوں کے قافلہ سالار خوب جانتے ہیں کہ اس دنیا کا قیام دو چیزوں پر ہے۔ ایک حق اور دوسرا باطل۔ باطل شیطان ہے اور وہ ہر وقت ہماری تاک میں لگا ہوا ہے۔ میں شیطان کو پکڑ کر امیرالمومنین کی خدمت میں لے آیا ہوں، اگر اجازت ہو تو اسے اپنے گھر لے جاکر بند کردوں؟‘‘
حاکم کی چرب زبانی دیکھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ مسکرانے لگے۔ ’’یہ سارا مال باطل ہے اور میں اسے ضرورت مندوں کے گھروں میں بند کئے دیتا ہوں۔ غریب اور محتاج لوگ اس شیطان سے زیادہ جارحانہ سلوک کرسکیں گے۔‘‘ یہ کہہ کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے وہ سارے تحائف ضرورت مندوں میں تقسیم فرما دیئے اور عامل کو انتہائی تنبیہ آمیز لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’تم باطل پرستی کے ذریعے مسلمانوں میں ابتری پھیلانا چاہتے ہو اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اچھے قول و فعل کے ذریعے حق کا علمدار بناتا ہے۔ یاد رکھو کہ حق ہمیشہ سر بلند ہوتا ہے اور باطل ہمیشہ برباد و سرنگوں رہتا ہے۔ یہ تمہاری پہلی غلطی تھی، اس لیے معاف کیا جاتا ہے۔ اگر آئندہ اس جرم کے مرتکب ہوئے تو شیطان تمہارے گھر میں مقید نہیں ہوگا بلکہ تمہیں تمہارے عہدہ و منصب سے معزول کرکے حوالۂ زنداں کردیا جائے گا۔‘‘
حضرت سید گیسو درازؒ نے یہ واقعہ فرمانروائے دکن اور اس کے امرائے سلطنت کو نصیحت کرنے کے لیے سنایا تھا اور درپردہ حکومتوں کے عروج و زوال کے سارے اسباب بتا دیئے تھے۔
٭…٭…٭
ایک اور موقع پر والی دکن اور دوسرے امرائے سلطنت حضرت سید گیسو درازؒ کی مجلس معرفت میں شریک تھے۔ حضرت شیخؒ نے احمد خان اور دیگر حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’اہل دنیا پر افسوس ہے کہ ان کے اعمال ان کے اقوال سے ذرا بھی مطابقت نہیں رکھتے۔ اگر کسی شخص سے سوال کیا جائے کہ اسے دنیا چاہیے یا آخرت۔ تو وہ بے اختیار یہی کہیں گے۔ ہمیں آخرت چاہیے، ہم قربِ الٰہی کے خواہاں ہیں۔ مگر جب ہم ان کا عمل دیکھتے ہیں تو وہ دن، رات حصول زر کی کوششوں میں غرق نظر آتے ہیں۔ اگر دولت کی یہ خواہش جائز طریقوں سے ہو تو غنیمت ہے لیکن اہل دنیا کا یہ حال ہے کہ وہ مال کمانے کے لیے ناجائز سے ناجائز طریقہ بھی نہیں چھوڑتے۔ شب و روز بندگانِ خدا کے حقوق کا خون کرکے اپنا پیٹ بھرتے رہتے ہیں۔ کسی یتیم کا مال کھاتے، کسی کے گھر میں چوری کرتے اور کسی سے بے ایمانی کرتے وقت وہ اللہ سے نہیں ڈرتے۔ دنیا کے پیچھے بھاگتے وقت انہیں ایک لمحے کے لیے بھی یہ خیال نہیں آتا کہ اس ساری تگ و دو کا انجام فنا ہے اور فنا کے بعد یوم حساب ہے اور حساب لینے والی ذات قہار و جبار بھی ہے اور اس کی آنکھ سے ذرّے سے بھی کمتر چیز پوشیدہ نہیں۔‘‘ حضرت سید گیسو درازؒ کی تقریر اس قدر پُرتاثیر تھی کہ حاضرین مجلس کے جسموں پر لرزہ طاری ہوگیا۔
پھر مختصر سے سکوت کے بعد حضرت سید گیسو


نے دوبارہ فرمایا۔ ’’ان دنیا داروں کا یہ حال ہے کہ ان کے چار پیسے گم ہوجائیں تو ان کی صورتیں قابل دید ہوتی ہیں، آنکھوں کی پُتلیاں خوف سے کانپنے لگتی ہیں یا کسی چیز پر اس طرح گڑ جاتی ہیں جیسے پتھر کی ہوگئی ہیں، کچھ کے چہروں پر ہوائیاں اُڑنے لگتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر کسی وقت کی نماز قضا ہوجاتی ہے تو ایک دو بار اپنی زبان سے کلمۂ استغفار بھی نہیں پڑھتے اور انہیں اپنی نمازیں قضا ہوجانے کا کوئی افسوس نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ تو دنیا داری میں اس طرح الجھے ہوئے ہیں کہ انہیں خوف خدا تو درکنار، اللہ بھی یاد نہیں رہتا۔ وہ ممنوع اشیاء سے پرہیز نہیں کرتے۔ اگر ’’سور‘‘ کھاتے اور ’’شراب‘‘ پیتے وقت ان کے دل میں کراہت پیدا ہوجائے تو اور بات ہے ورنہ وہ اس خیال سے ان چیزوں سے دور نہیں رہتے کہ اللہ انہیں ناپسند کرتا ہے۔ جو دل خوف الٰہی سے خالی ہیں، ان پر افسوس! ہزار بار افسوس!‘‘
حضرت سید گیسو درازؒ نے چھ سو سال پہلے اپنی زبان مبارک سے یہ الفاظ ادا فرمائے تھے۔ تمام تاریخیں شاہد ہیں کہ اس زمانے میں انسان کی کج روی اور گمراہی کا یہ عالم نہیں تھا جس کا مشاہدہ ہم پندرہویں صدی ہجری میں کررہے ہیں۔ آپ کے خطبات میں اکثر مقامات پر ایسے اشارے بھی ملتے ہیں جن سے موجودہ تہذیب کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے، خصوصاً ’’شراب اور سؤر‘‘ کا معاملہ تو ایسا ہے جیسے یہ سارے مناظر حضرت سید گیسو درازؒ کی چشم معرفت پر اپنی پوری جزئیات کے ساتھ روشن ہوں۔ اہل دنیا کو اس کشف باطن پر حیرت ہوسکتی ہے مگر اہل نظر جانتے ہیں کہ اللہ اپنے دوستوں کو آنے والے زمانوں کا بھی علم عطا کرتا ہے۔ وہ قادر مطلق ہے، اپنے دوستوں کو جس طرح چاہے سرفراز کرے۔
٭…٭…٭
ایک موقع پر حضرت سید گیسو درازؒ نے اپنے مریدوں، خدمت گاروں، عقیدت مندوں اور دوسرے حاضرین مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’ساری کائنات مل کر بھی اللہ کی شان جلالی و جمالی کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ حق تعالیٰ نے ’’سورئہ رحمن‘‘ میں فرمایا ہے۔ ’’ہر لمحہ اس کی نئی شان ہے۔‘‘ (ترجمہ) اس لئے بندے کو کسی بھی حال میں اس ذات پاک کی کرم نوازی سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ یہ کہہ کر حضرت سید گیسو درازؒ نے شان خداوندی کے بارے میں عجیب پُرتاثیر واقعہ سنایا۔
ایک دن ایک بادشاہ کا دربار آراستہ تھا۔ بڑے بڑے اہل دانش جمع تھے۔ بادشاہ کا وزیر بڑا عالم و فاضل اور باتدبیر انسان تھا۔ بادشاہ نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ’’تم شان کے معنی بیان کرو۔‘‘
وزیر نے اپنی نشست پر کھڑے ہوکر عجیب عجیب تشبیہات اور مترادفات کے ذریعے لفظ ’’شان‘‘ کے معنی اس طرح بیان کیے کہ بادشاہ محظوظ ہوا اور حاضرین دربار وزیر کی عقل و فراست پر جھوم اٹھے۔
اس کے بعد بادشاہ نے اپنے وزیر کو مخاطب کرکے کہا۔ ’’اس آیت الٰہی کے ایسے شگفتہ معانی بیان کرو کہ میری طبیعت فرحت حاصل کرے۔‘‘
ہرچند کہ وزیراعظم نہایت ذکی و فہم انسان تھا مگر بادشاہ کی عائد کردہ شرط نے اسے الجھن میں ڈال دیا تھا۔ ’’عالی جاہ! مجھے ایک دن کی مہلت عطا کریں۔‘‘ وزیراعظم نے سربراہ مملکت سے التجا کی۔
’’ایک دن کی مہلت کیوں؟‘‘ بادشاہ نے حیران ہوکر پوچھا۔ ’’کیا اس میں کوئی خاص راز ہے؟‘‘
’’آیت مقدسہ کے ایسے معانی بیان کرنا جنہیں سن کر عزت مآب فرحت محسوس کریں، ایک نہایت مشکل کام ہے۔ بس اسی لیے مہلت طلب کی ہے۔‘‘ وزیراعظم نے عرض کیا اور بادشاہ سے اجازت لے کر اپنے گھر چلا گیا۔
وزیراعظم ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا تھا۔ اس نے آج سے پہلے بے شمار تقریریں کی تھیں، بہت سے سیاسی عقدے حل کیے تھے مگر وہ مشروط انداز میں آیت مقدسہ کی تفسیر کرنے سے عاجز تھا۔ وزیراعظم شدید اضطراب کے عالم میں ٹہل رہا تھا اور رات گزرتی جارہی تھی۔
یہ منظر وزیراعظم کے حبشی غلام نے دیکھا تو نہایت مؤدبانہ لہجے میں عرض کرنے لگا۔ ’’میں نے اپنے آقا کو آج تک اتنا متفکر اور پریشان نہیں پایا؟‘‘
’’میں تجھے کیا بتائوں کہ میں کس الجھن میں مبتلا ہوں۔‘‘ وزیراعظم نے بیزاری اور بے رغبتی سے کہا۔ ’’تو میری بات نہیں سمجھ سکتا۔‘‘
’’مجھے اپنی کمتری کا احساس ہے آقا۔‘‘ حبشی غلام گڑگڑانے لگا۔ ’’میری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ میرے مالک کی نیند اُڑ جائے اور میں بستر استراحت پر جاکر گہری نیند سو جائوں۔
; تالیف قلب کے لیے کچھ تو فرمایئے۔‘‘
وزیراعظم نے کئی بار ٹالنے کی کوشش کی، جھنجھلاہٹ اور ناگواری کا اظہار بھی کیا مگر حبشی غلام مسلسل التجا کرتا رہا۔ بالآخر وزیراعظم نے اسے سارا واقعہ سنا دیا اور پوچھا۔ ’’اب بتا کہ تو میری کیا مدد کرسکتا ہے؟‘‘ وزیراعظم کا لہجہ استہزائیہ تھا۔ وہ دبے لفظوں میں اپنے حبشی غلام کی کم علمی اور بے مائیگی کا مذاق اُڑا رہا تھا۔
’’اب آپ مطمئن ہوکر سو جائیں۔‘‘ حبشی غلام نے عرض کیا۔ ’’میں اِن شاء اللہ بادشاہ سلامت کے حسب منشاء آیت مقدسہ کے معانی بیان کردوں گا۔‘‘
’’تو پھر مجھے جلدی بتا۔‘‘ غلام کی بات سن کر وزیراعظم اچھل پڑا۔
’’ابھی نہیں آقا۔‘‘ غلام نے بصداحترام کہا۔ ’’کل اِن شاء اللہ دربار میں پہنچ کر بادشاہ سلامت کے روبرو اس آیت الٰہی کی تفسیر پیش کروں گا۔‘‘
’’تو میرا ملازم ہے اور میں تیرا آقا۔‘‘ غلام کے انکار پر وزیر اعظم برہم ہو گیا۔ ’’تجھے یہیں بتانا ہوگا تاکہ میں عالی جاہ کے سامنے سرخرو ہو سکوں۔‘‘
’’ بے شک! میں آپ کا غلام ہوں مگر یہ بات میرے فرائض میں شامل نہیں ہے۔‘‘ آج حبشی غلام کا طرزگفتار ہی بدلا ہوا تھا۔ وہ نہایت فصیح و بلیغ لہجے میں بول رہا تھا جسے سن کر وزیراعظم کو شدید حیرت ہورہی تھی۔
’’تجھے ہر حال میں میرے حکم کی تعمیل کرنی ہوگی۔‘‘ وزیراعظم نے اپنے غلام کو تنبیہ کی۔
’’آپ کی خدمت میں کوتاہی کروں تو مجرم ہوں۔ آپ مجھ سے میرے اعمال کا حساب لے سکتے ہیں۔‘‘ حبشی غلام نے عرض کیا۔ ’’یہ تو میں نے حق نمک ادا کیا تھا کہ آپ کو پریشان دیکھ کر خود بھی پریشان ہوگیا تھا۔ آپ مجھے دربار میں نہیں لے جانا چاہتے تو آپ کی مرضی ورنہ اس غلام کی شرط بھی یہی ہے کہ بادشاہ سلامت کے سامنے ہی آیت الٰہی کی تشریح کروں گا۔‘‘
وزیراعظم نے مختلف انداز میں آقائیت کے مظاہرے کیے مگر غلام ذرا بھی متاثر نہیں ہوا اور وہ اپنی بات پر قائم رہا۔ آخر مجبور ہوکر وزیراعظم اپنے حبشی غلام کو دربار میں لے گیا اور بادشاہ سے عرض کرنے لگا۔ ’’عالی مرتبت! آپ کا یہ ادنیٰ خدمت گار تو آیت مقدسہ کی تشریح کا حق ادا نہیں کرسکتا مگر اس غلام کا دعویٰ ہے کہ وہ حضور کو مطمئن کردے گا۔‘‘
بادشاہ اور دوسرے اراکین سلطنت نے حبشی غلام کو بڑی حیرت سے دیکھا۔ ’’کیا یہ تیرا دعویٰ ہے؟‘‘ فرمانروائے سلطنت نے غلام کو مخاطب کرکے کہا۔
’’دعویٰ تو نہیں عزت مآب۔‘‘ یہ کہتے ہوئے حبشی غلام جھک گیا اور اس نے اپنا سر زمین پر رکھ دیا۔ پھر چند لمحوں بعد وہ اٹھ کر سیدھا کھڑا ہوگیا۔ ’’یہ تو ایک حقیر ترین بندے کی سعادت ہے کہ وہ اپنے مالک حقیقی کے کلام کی تشریح کرنے کی ایک ناکام سی کوشش کررہا ہے۔‘‘
بادشاہ، حبشی غلام کے طرزِگفتار سے بہت متاثر ہوا۔ پھر اس نے کہا۔ ’’ٹھیک ہے بیان کرو۔‘‘
حبشی نے دست بستہ عرض کیا۔ ’’میرے اللہ کی ہر لمحے نئی شان ہے۔ اس راز کو کوئی نہیں سمجھ سکتا کیونکہ اللہ کی قدرت لامحدود ہے اور بندے کی عقل انتہائی محدود۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک محدود ذہن، لامحدود قدرتوں کے مالک کی تعریف بیان کرسکے۔ پھر بھی اللہ تعالیٰ کی شان جلالت کا یہ ادنیٰ سا نمونہ ہے کہ وہ دم بھر میں ذلت سے عزت، شان و شوکت سے کسمپرسی، سرمایہ داری سے مفلسی اور فقیری سے دولت مندی، مرض سے صحت اور بیماری سے تندرستی کی طرف پھیر دیتا ہے۔ اسی حالت کو اللہ کی ہر لمحے نئی شان کہتے ہیں۔‘‘
حبشی غلام کا جواب سن کر بادشاہ بہت خوش ہوا۔ پھر وزیراعظم کو مخاطب کرکے بولا۔ ’’اسے خلعت وزارت پہنا دو کہ یہ اس کا اہل ہے۔‘‘
اپنے فرمانروا کا حکم سن کر وزیراعظم سکتے کی سی کیفیت میں کھڑا رہا۔ پھر اس نے آگے بڑھ کر حبشی غلام کو اپنے ہاتھ سے خلعت وزارت پہنائی۔
غلام نے خلعت وزارت پہن کر بہ آواز بلند اپنے اللہ کی کبریائی بیان کی اور پھر بادشاہ سے مخاطب ہوکر نہایت خوش الحان لہجے میں آیت مقدسہ کی تلاوت کی اور بولا۔ ’’یہ بھی اللہ تعالیٰ کی شان قدرت ہے کہ اس نے میری گردن سے طوق غلامی اتار کر مجھے خلعت وزارت بخشی۔ وہ مالک بے نیاز ہر لمحہ یہی کرتا رہتا ہے اور شکر ادا کرنے والوں کو زیادہ نوازتا ہے۔‘‘
دراصل وہ حبشی ایک نہایت عالم و فاضل اور متقی شخص تھا جسے گردش روز و شب نے منزل غلامی تک پہنچا دیا تھا۔ پھر آیت مقدسہ کی
سے اس کی زنجیر غلامی کٹ گئی اور وہ وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچا۔
٭…٭…٭
ایک دن کسی شخص نے برسرمجلس حضرت سید گیسو درازؒ سے عرض کیا۔ ’’ہمارے علمائے کرام صوفیاء کو بے عمل بھی سمجھتے ہیں اور کم علم بھی۔ اپنی درس گاہوں میں لوگوں کے سامنے ان کی تحقیر کرتے ہیں اور درویشوں کی کسی بات کو لائق التفات نہیں سمجھتے۔‘‘
’’علماء کو اپنے علم کا غرور ہے، اس لیے حجابات نظر کا شکار ہوجاتے ہیں۔‘‘ حضرت سید گیسو درازؒ نے جواباً فرمایا۔ ’’صوفیا سرتاپا محبت ہوتے ہیں، انکسار کا پیکر ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ عاجزی کو پسند فرماتا ہے، اس لیے ان خاک نشینوں پر اپنی معرفت کے بہت سے اسرار منکشف کر دیتا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر حضرت سید گیسو درازؒ نے ایک تاریخی واقعہ بیان فرمایا۔
ایک دن حضرت امام شافعیؒ اور حضرت امام احمد بن حنبلؒ کسی مقام پر تشریف فرما تھے اور فقہ کا کوئی مسئلہ زیربحث تھا۔ (واضح رہے کہ حضرت امام احمد بن حنبل، حضرت امام شافعی کے شاگرد تھے) اتفاق سے اسی دوران مشہور صوفی بزرگ حضرت شیبان راعیؒ گزرے۔ حضرت شیبان راعیؒ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے، بس واجبی سا علم رکھتے تھے۔ انہیں دیکھ کر حضرت امام شافعیؒ اپنے شاگرد سے مخاطب ہوئے۔ ’’احمد! اس مسئلے کو شیبان راعیؒ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔‘‘
حضرت امام بن حنبلؒ نے نہایت ادب کے ساتھ عرض کیا۔ ’’استاد محترم! ان لوگوں سے ایسے دقیق مسائل پر گفتگو کرنا کارعبث ہے۔ یہ ایسے افراد کی جماعت ہے جو ’’ہائو ہو‘‘ کے سوا کچھ نہیں جانتی۔‘‘
حضرت امام شافعیؒ نے اپنے شاگرد خاص کا جواب سنا اور پھر حضرت شیبان راعیؒ کو آواز دی۔ کتابوں میں تو یہ واقعہ یوں ہی درج ہے مگر میرا ذاتی خیال ہے کہ اس طرح ایک بزرگ کو پکارنا حضرت امام شافعیؒ کے شایان شان نہیں تھا۔ حضرت امامؒ نہایت متواضع اور منکسرالمزاج انسان تھے، اس لیے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ حضرت امام شافعیؒ اپنے شاگرد حضرت امام احمد بن حنبلؒ کو لے کر آگے بڑھے اور حضرت شیبان راعیؒ کے قریب پہنچ کر کہا۔ ’’آپ سے ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے۔‘‘
حضرت شیبان راعیؒ نے حضرت امام شافعیؒ کی طرف ایک نظر دیکھا اور پھر مسکراتے ہوئے فرمایا۔ ’’آپ حضرت امام مالکؒ کے شاگرد ہیں اور خود بھی امامت کے درجے پر فائز ہیں، پھر مجھ جیسا کم علم شخص فقہ کے مسائل میں آپ کی کیا مدد کرسکتا ہے؟‘‘
’’آپ کا حسن ظن اپنی جگہ مگر میں اس سلسلے میں آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں۔‘‘ حضرت امام شافعیؒ نے فرمایا۔
’’جب امام بضد ہیں تو پھر مسئلہ پیش کیجئے۔‘‘ حضرت شیبان راعیؒ کے ہونٹوں پر بدستور ایک دلنواز مسکراہٹ موجود تھی۔
’’مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص کی ایک وقت کی نماز قضا ہوجائے اور اسے یاد نہ رہے کہ کس وقت کی نماز قضا ہوئی تھی تو اس حالت میں نمازی کو کیا کرنا چاہیے؟‘‘
حضرت شیبان راعیؒ نے کسی تامل کے بغیر جواب دیا۔ ’’ایسے غافل شخص پر لازم ہے کہ پانچوں وقت کی نماز بالترتیب دوبارہ پڑھے۔‘‘ یہ کہہ کر حضرت شیبان راعیؒ تشریف لے گئے۔
ان کے جانے کے بعد حضرت امام شافعیؒ نے اپنے شاگرد خاص کی طرف دیکھا۔ حضرت امام احمد حنبلؒ خاموش تھے اور آپ کے چہرئہ مبارک پر حیرت کا رنگ نمایاں تھا۔
اس کے برعکس حضرت امام شافعیؒ نے نہایت مسرت کی کیفیت میں بے قرار ہوکر فرمایا۔ ’’جب صوفیاء میں سے شیبان راعیؒ جیسے غیر عالم صوفی کا یہ حال ہے تو ان کے مشائخ کا کیا عالم ہوگا؟‘‘
یہ واقعہ سنانے کے بعد حضرت سید گیسو درازؒ نے حاضرین مجلس کو مخاطب کرکے فرمایا۔ ’’قرآن و احادیث کا علم حاصل کرنے کے بعد ادب اور فلسفے کا مطالعہ کیا جاتا ہے، پھر کہیں جاکر انسان اس قابل ہوتا ہے کہ تصوف کے میدان میں قدم رکھ سکے۔ جو لوگ احکام شریعت پڑھے بغیر ہندو ویدانت کے انداز میں خود کو صوفی کہلواتے ہیں، وہ باطل پرست ہیں اور تصوف سے کوئی سروکار نہیں رکھتے۔‘‘
٭…٭…٭
ایک بار حضرت سید گیسو درازؒ نے حاضرین کو مخاطب کرکے فرمایا۔ ’’شیخ کو چاہیے کہ ہمیشہ ہر مجلس میں ہر ایک کے ساتھ خشک اور فلسفیانہ باتیں نہ کرے۔ بوقت ضرورت کبھی کبھی شگفتہ مزاح بھی کرے، بشرطیکہ یہ مذاق کی بات کسی کی دل آزاری کا سبب نہ ہو۔ نیز اس کے کسی زاویئے سے احکام شریعت پر کوئی حرف نہ آتا ہو، جیسے ایک بار


میرے پیر و مرشد شیخ الشیوخ حضرت سید نصیرالدین محمود چراغ دہلیؒ نے ایک درویش سے پوچھا جو نیا نیا تصوف کے کوچے میں داخل ہوا تھا۔ ’’یہ بتائو کہ سفر کے دوران درویشوں نے تمہارے ساتھ کیا کیا سلوک رَوا رکھے؟‘‘
دہلی میں نووارد درویش نے عرض کیا۔ ’’حضور! سفر کے دوران اکثر فقراء سے میری ملاقات ہوئی۔ کسی نے چادر، کسی نے خلعت، کسی نے جبہ اور کسی نے دستار عنایت کی مگر افسوس، اب ان میں سے کوئی چیز بھی میرے پاس موجود نہیں۔ میرا تمام سرمایہ چوری ہوگیا۔ اگر سرکار اپنا پیراہن عنایت فرما دیں تو یہ لباس مبارک اکیلا ہی ان تمام چیزوں کا نعم البدل ثابت ہوگا۔‘‘
نووارد درویش کی گفتگو سن کر حضرت سید نصیرالدین چراغ دہلیؒ مسکرائے اور اسی وقت اپنا پیراہن مبارک اتار کر اس شخص کے حوالے کیا اور نہایت شگفتہ لہجے میں فرمایا۔ ’’چوروں نے تمہارے ساتھ جو کچھ کیا تھا، تم نے بھی ہمارے ساتھ وہی سلوک روا رکھا۔‘‘ پیر و مرشد کا ارشاد گرامی سنتے ہی تمام حاضرین مجلس ہنسنے لگے۔
یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد حضرت سید گیسو درازؒ نے فرمایا۔ ’’اس قسم کا مزاح گاہے گاہے مناسب ہے اور اس طرح کی خوش مزاجی کو طریقت میں بھی معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ ہاں! شیخ کے لیے ہر وقت ایسی باتیں کرنا نازیبا ہے اور ارادت مندوں کے حق میں زہر قاتل۔‘‘
٭…٭…٭
حضرت سید گیسو درازؒ نے چالیس سال کی عمر میں سید احمد بن مولانا جمال الدین مغربی کی صاحبزادی بی بی رضا خاتون سے شادی کی۔ ان کے بطن سے دو صاحبزادے حضرت سید حسین عرف سید محمد اکبر حسینیؒ اور حضرت سید یوسف عرف سید محمد اصغر حسینیؒ اور تین صاحب زادیاں تھیں۔ آپ کے دونوں صاحب زادے اپنے وقت کے جیّد عالم تھے۔
حضرت سید گیسو درازؒ اپنے بڑے فرزند سید محمد اکبرؒ کے ظاہری اور روحانی کمالات سے بہت متاثر تھے۔ آپ نے بارہا فرمایا۔ ’’اگر محمد اکبر میرا لڑکا نہ ہوتا تو میں اس کے لیے پانی بھر کر لاتا۔‘‘
حضرت سید محمد اکبرؒ نے عربی اور فارسی زبان میں بہت سی کتابیں تصنیف کیں۔ آپ نے اپنے والد محترم کے ملفوظات کو ’’جوامع الکلم‘‘ کے نام سے مرتب کیا۔ جب اس کتاب کو حضرت سید گیسو درازؒ نے دیکھا تو بے اختیار فرمایا۔ ’’اگر میں بھی لکھتا تو سید اکبر ہی کی طرح لکھتا۔‘‘
حضرت سید گیسو درازؒ اپنے بڑے صاحب زادے سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ آپ نے 811ھ میں سید محمد اکبر کو خلافت عطا کی مگر سات ماہ بعد ہی معرفت کا وہ چراغ بجھ گیا۔ حضرت سید محمد اکبرؒ نے پچاس سال کی عمرمیں وفات پائی۔ حضرت سید گیسو درازؒ نے اپنے ہاتھوں سے بیٹے کو غسل دیا۔ انسانی زندگی میں یہ سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے کہ جب کوئی باپ اپنے بیٹے کو قبر میں اتارتا ہے۔ حضرت سید گیسو درازؒ بھی اس صدمۂ عظیم سے دوچار ہوئے مگر آپ نے اہل ایمان کی طرح صبر کا مظاہرہ کیا۔ شدت غم میں آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے مگر ہونٹوں سے شورفغاں بلند نہیں ہوا۔
حضرت سید محمد اکبرؒ کے انتقال کے بعد آپ نے اپنے چھوٹے صاحبزادے حضرت سید محمد اصغر حسینیؒ کو خلافت عطا کی۔
حضرت سید گیسو درازؒ کے پاس جب کوئی شخص مرید ہونے کے لیے آتا تو آپ اس کے ہاتھ پر اپنا دست مبارک رکھ دیتے اور فرماتے۔ ’’تم نے اس ضعیف، اس ضعیف کے خواجہ اور اس ضعیف کے خواجہ کے خواجہ اور اسی سلسلے کے دوسرے مشائخ کے ساتھ عہد کیا کہ اپنی نگاہ اور زبان کی حفاظت کرو گے اور جادئہ شریعت پر قائم رہو گے۔ کیا تم نے قبول کیا؟ مرید عرض کرتا۔ جی ہاں! میں نے قبول کیا۔ اس کے بعد ارشاد فرماتے۔ ’’الحمدللہ۔‘‘
پھر دست مبارک میں قینچی لیتے اور تکبیر کہتے ہوئے داہنی طرف سے کان کے قریب تھوڑے سے بال کاٹ دیتے۔ اسی طرح بائیں طرف سے چند بال کاٹتے، پھر تکبیر کہتے ہوئے اسے ایک ٹوپی پہناتے۔ اس کے بعد پانچوں وقت کی نماز باجماعت ادا کرنے کی تاکید فرماتے۔ جمعہ کو غسل اور نماز کی تلقین سختی کے ساتھ کرتے، پھر مختلف اوقات کے لیے نمازیں اور وظائف بتاتے۔ اس کے بعد ایک ایک لفظ پر زور دے کر فرماتے۔ ’’جس طرح ایک سپاہی کے لیے کمان، تیغ اور سپر وغیرہ ضروری ہیں، اسی طرح ایک صوفی کے لیے ان باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے ورنہ اسے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔‘‘
اگر کسی عورت کو مرید کرتے تو ایک بڑے پیالے میں پانی لایا جاتا۔ حضرت سید گیسو درازؒ اپنی
انگلی پانی میں ڈالتے، عورت بھی یہی عمل دہراتی۔ اس کے بعد اسے بیعت کرتے۔ وہ عورت پیالے کا پانی پی جاتی، پھر حضرت سید گیسو درازؒ اس کے سر پر رومال رکھ دیتے۔
اگر عورت جوان ہوتی تو اس کے سامنے چادر ڈال دی جاتی۔ پانی کا پیالہ درمیان میں رکھتے یا اس کے کسی محرم کو وکیل بناتے اور وہ بیعت کرا دیتا۔ لڑکے اور مریض کو مرید نہیں کرتے تھے۔
٭…٭…٭
بے شک! اہل ایمان میں حضرت سید گیسو درازؒ کا بڑا درجہ ہے۔ حضرت شیخؒ کو ظاہری طور پر بھی عربی اور فارسی زبان پر مکمل دسترس حاصل تھی۔ آپؒ اعلیٰ درجے کے انشاء پرداز تھے۔ تقریباً بیس تصانیف آپؒ کے زورِقلم کا نتیجہ ہیں۔ ’’اسماء الاسرار‘‘ حضرت سید گیسو درازؒ کی مشہور کتاب ہے۔ اس تصنیف کے بارے میں خود حضرت شیخؒ فرماتے تھے۔ ’’میری کتاب ’’اسماء الاسرار‘‘ میں باطل کو آگے سے آنے کا موقع ہے، نہ عقب سے۔‘‘
اس کتاب کے متعلق اکثر بزرگوں کا خیال ہے کہ تصوف کے موضوع پر ہندوستان میں اس سے بہتر کوئی تصنیف موجود نہیں۔
حضرت سید گیسو درازؒ گلبرگہ (دکن) میں بائیس سال قیام فرما رہے۔ پھر وہ وقت معلوم آیا اور آپ بے شمار روحوں کی کثافت دور کرکے 14؍ذی قعد 825ھ کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ سلطان احمد شاہ بہمنی نے آپ کے مزار مبارک پر عالیشان گنبد تعمیر کرایا۔
چھ صدیاں گزر چکیں، نہ جانے اہل زر کے کتنے کارواں آئے اور اس طرح لقمۂ اجل ہوگئے کہ آج ان کا کوئی نام لیوا بھی نہیں ہے۔ کون جانے حکمرانوں کے کتنے قافلے اُفق اقتدار پر طلوع ہوئے اور پھر یوں غروب ہوگئے کہ دھندلا سا نشان تک باقی نہیں مگر ایک حضرت سید گیسو درازؒ ہیں کہ آپ کے مرقد سے ابھی تک خوشبوئے دوست آتی ہے۔ جس راہ سے آپ گزرتے تھے، اس راہ کے سنگریزے آج تک روشن ہیں اور یہ شعاعیں اسی روشنی کا عکس ہیں جو سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے روضۂ مبارک سے پھوٹ رہی ہے۔
(ختم شد)