Hazrat Sachal Sarmat | Complete Urdu Story

673
ولادت…1152ھ درازن (خیرپور)
وفات… 1242ھ درازن
آپ کا خاندانی نام عبدالوہاب تھا مگر سچل سرمستؒ کے نام سے شہرتِ دوام حاصل کی۔ والدِ محترم کا اسمِ گرامی میاں صلاح الدینؒ تھا۔ 38 ویں پشت میں آپ کا سلسلۂ نسب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ سے مل جاتا ہے۔ حضرت سچل سرمستؒ کا شمار سندھ کے مشہور صوفیائے کرام میں ہوتا ہے۔ آپ کو سندھی زبان کے علاوہ عربی، فارسی، ہندی اور پنجابی زبانوں پر پورا عبور حاصل تھا۔ آپ کے ارشادات و ملفوظات شاعری کی صورت میں آج بھی محفوظ ہیں۔
٭…٭…٭
یہ تیرہویں صدی ہجری کے اوائل کا واقعہ ہے۔ اس وقت ریاست خیرپور کا حاکم میر رستم علی خان تھا۔ والیٔ خیرپور کی زندگی عیش و سکون میں گزر رہی تھی کہ اچانک اس کا بڑا بیٹا محمد حسین بیمار ہوگیا۔ شروع میں تو یہی سمجھا گیا کہ یہ ایک عام سی بیماری ہے۔ ولی عہد سلطنت چند روز میں صحت یاب ہوجائے گا مگر جب مرض نے طول کھینچا تو میر رستم علی خان کو فکر لاحق ہوئی۔ اس نے دربار کے طبیب خاص کو طلب کیا۔
’’سرکار! پریشانی کی کوئی بات نہیں۔‘‘ طویل معائنے کے بعد درباری طبیب نے عرض کیا۔ ’’مرض کی تشخیص ہوگئی ہے۔ میری تجویز کردہ دوائوں سے شہزادہ چند دنوں میں شفایاب ہو جائے گا۔‘‘
طبیب خاص کی پُریقین گفتگو سن کر حاکم خیرپور میر رستم علی خان مطمئن ہوگیا۔ پھر جب طبیبِ خاص کی دوا شروع کی گئی تو برائے نام بھی افاقہ نہ ہو سکا بلکہ مرض بڑھتا چلا گیا۔ بیٹے کی محبت نے میر رستم علی خان کو اس قدر بے قرار کردیا کہ والیٔ خیرپور نے سندھ اور پنجاب کے ان شہروں کی طرف اپنے شہسوار دوڑا دیئے جہاں نامور طبیب موجود تھے۔ چند روز میں کئی طبیبانِ حاذق خیرپور پہنچ گئے۔ اتنے عرصے میں میر محمد حسین بہت لاغر ہو چکا تھا۔
ماہر اور تجربہ کار حکیموں نے ولی عہد سلطنت کا معائنہ کیا اور مبہم لہجے میں مایوسی کا اظہار کیا۔ ’’انسانی علم کی حدیں ختم ہوگئیں اور جڑی بوٹیاں اپنا اثر کھو چکیں۔ اب شہزادے کو دوائوں سے زیادہ دُعائوں کی ضرورت ہے۔‘‘ یہ کہہ کر طبیبوں کی جماعت چلی گئی۔
میر رستم علی خان تمام تر وسائل کے باوجود اپنے بیٹے کا علاج کرنے سے قاصر رہا۔ حویلی ماتم کدہ بنی ہوئی تھی اور ہر مکین سوگوار تھا۔
اس کرب ناک فضا میں ایک خدمت گار نوید جانفزا لے کر آیا۔ ’’سرکار! آپ کے علاقے میں ایک درویش موجود ہیں۔ ان کے بارے میں سنا ہے کہ مستجاب الدعوات ہیں۔ آپ شہزادے کی صحت کے لئے ان بزرگ سے رجوع کیوں نہیں کرتے؟‘‘
میر رستم علی خان نے حیرت سے اپنے خدمت گار کی طرف دیکھا۔ ’’وہ بزرگ کہاں رہتے ہیں؟‘‘
’’درازن میں۔‘‘ خدمت گار نے عرض کیا۔
’’درازن‘‘ ریاست خیرپور کا مضافاتی علاقہ ہے۔ بعض مؤرخین نے ’’درازن‘‘ کو ’’درازا‘‘ بھی تحریر کیا ہے۔
’’تو پھر بزرگ کی خدمت میں جا کر عرض کرو کہ ہم ان کے دیدار سے مشرف ہونا چاہتے ہیں۔‘‘ میر رستم علی خان نے بے قرار ہو کر کہا۔
خدمت گار نے بزرگ کی خدمت میں حاضر ہو کر والیٔ خیرپور کی خواہش کا اظہار کیا تو بزرگ نے شانِ بے نیازی کے ساتھ فرمایا۔ ’’امیروں کی حویلی میں فقیروں کا گزر کہاں؟‘‘
میر رستم علی خان کے خدمت گار نے اصرار کیا تو بزرگ نے فرمایا۔ ’’دراصل درویش کو محلات کی آب و ہوا راس نہیں آتی۔ طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔‘‘
والیٔ خیرپور کا خدمت گار درویش کی گفتگو کا مفہوم نہ سمجھ سکا اور ناکام و نامراد واپس جانے لگا۔ خانقاہ کے دروازے پر ایک مجذوب نما شخص نے اسے روک کر کہا۔ ’’اتنی آسانی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔‘‘
میر رستم علی خان کا خادم مجذوب کی بات سن کر چونک اُٹھا۔ ’’پھر مجھے اپنی مراد کس طرح حاصل ہوگی؟‘‘
’’مخدوم کے قدموں سے لپٹ جانا۔‘‘ مجذوب نے کہا۔ ’’مخدوم انکار کریں گے کہ وہ کچھ نہیں ہیں مگر تم درخواست کرتے رہنا۔ اگر تم مخدوم کے انکار سے اُکتا گئے تو پھرکچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔‘‘
خدمت گار واپس چلا گیا اور اس نے درویش کا جواب میر رستم علی خان کے گوش گزار کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی خادم نے مجذوب کا واقعہ بھی بیان کر دیا۔
میر رستم علی خان کچھ دیر سوچتا رہا۔ پھر مضطرب ہو کر کہنے لگا۔ ’’بزرگ کو یہاں آنے کی کیا ضرورت ہے؟ وہ حاجت مند نہیں ہیں۔ سوالی تو ہم ہیں۔ اس لئے خود ہی ان کے دروازے پر جائیں گے۔‘‘
پھر میر رستم علی خان اپنے امراء کے ساتھ درویش کی خدمت میں حاضر ہوا اور ولی عہد سلطنت کی شفایابی کے لئے بزرگ کی دُعائوں کا طالب ہوا۔
درویش نے ایک غمزدہ باپ کی التجا سنی اور بے نیازانہ لہجے میں کہا۔ ’’جب سارے طبیب ایک بیمار کا علاج کرنے سے قاصر ہیں تو پھر میں کیا کر سکتا ہوں؟ نہ مجھے حکمت آتی ہے اور نہ میں جڑی بوٹیوں سے واقف ہوں۔‘‘
’’میں تو شیخ کی خدمت میں دُعا کے لئے حاضر ہوا ہوں۔‘‘ میر رستم علی خان نے عرض کیا۔
’’میری دُعائوں کی قبولیت پر تمہیں یقین ہے؟‘‘ بزرگ نے والیٔ خیرپور سے پوچھا۔
’’میں نہیں، ساری دُنیا کہتی ہے کہ آپ مستجاب الدعوات ہیں۔‘‘ میر رستم علی خان نے عرض کیا۔
’’دُنیا غلط کہتی ہے۔‘‘ بزرگ نے پُرجلال لہجے میں فرمایا۔ ’’لوگوں کو کیا معلوم کہ کس کی دُعائیں قبول ہوتی ہیں۔ میں اللہ کا ایک گناہ گار بندہ ہوں اور ایک گوشے میں منہ چھپائے پڑا ہوں۔‘‘
میر رستم علی خان اپنے خدمت گار کی زبانی مجذوب کی باتیں سن چکا تھا، اس لئے وہ اپنی ضد پر قائم رہا۔ ’’شیخ! آپ کہیں بھی رہیں مگر مستجاب الدعوات ہیں۔ میں آپ کا آستانہ چھوڑ کر کہیں نہیں جائوں گا۔‘‘
اچانک بزرگ کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں ہوگئے۔ ’’میر رستم علی خان! بہت دیر ہوگئی… بہت دیر ہوگئی۔‘‘ درویش کے لہجے میں اُداسی کا اظہار ہو رہا تھا۔
’’شیخ! اللہ کے یہاں دیر سویر کچھ نہیں ہے۔‘‘ میر رستم علی خان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ’’بس اللہ کا حکم ہی سب کچھ ہے۔ جب وہ مُردوں کو زندہ کر سکتا ہے تو پھر میرے بیمار بیٹے کو شفا بھی دے سکتا ہے۔ بس آپ کے دستِ دُعا درازہونے کی دیر ہے۔‘‘
بزرگ نے سکوت اختیار کیا۔
’’شیخ! آپ کی عنایتیں تو عام ہیں۔‘‘ والیٔ خیرپور زاروقطار رو رہا تھا۔ ’’پھر میرے بیٹے کے لئے آپ دُعا کیوں نہیں کرتے؟‘‘
بزرگ نے غمزدہ باپ کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔ ’’میر رستم علی خان! اب تم جائو! اللہ تمہارے بیٹے کو شفا بخشے گا مگر بہت دیر ہوگئی ہے۔ ولی عہد سلطنت کی جان کے لئے بہت بڑا صدقہ دینا پڑے گا۔‘‘
’’شیخ! میں اپنے بیٹے کی خاطر بڑے سے بڑا صدقہ دے دوں گا۔‘‘ میر رستم علی خان نے بزرگ کے ہاتھوں کو بوسہ دیتے ہوئے کہا۔ ’’میں ولی عہد کے لئے اپنی سلطنت بھی لُٹا دوں گا۔‘‘
’’نہیں! میر رستم علی خان! وہ صدقہ تم نہیں دے سکو گے۔‘‘ درویش نے پُرسوز لہجے میں کہا۔ ’’وہ صدقہ ہم دیں گے۔ تمہیں فرزند کی زندگی مبارک ہو۔‘‘
آخر والیٔ خیرپور میر رستم علی خان واپس چلا گیا۔ حویلی پہنچ کر اس نے یہ ناقابل یقین منظر دیکھا۔ ولی عہد سلطنت میر محمد حسین کے چہرے کی مردنی ختم ہوگئی تھی اور اب اس کے چہرے پر زندگی کے آثار نظر آنے لگے تھے۔
جب میر رستم علی خان واپس چلا گیا تو درویش نے سجدے میں سر رکھ دیا اور نہایت رقت آمیز لہجے میں دُعا کرنے لگے۔ ’’اے علیم و خبیر! تو خوب جانتا ہے کہ رستم علی خان کے بیٹے میرمحمد حسین کی زندگی لوح محفوظ پر ختم ہو چکی ہے مگر تو اس پر بھی قادر ہے کہ جسے چاہے برقرار رکھے اور جسے چاہے مٹا دے۔ والیٔ خیرپور مجھے تیرا مستجاب الدعوات بندہ سمجھتا ہے اور وہ میرے پاس بڑی اُمیدیں لے کر آیا تھا۔ مجھے اس بات سے بہت شرم آئی کہ میں اسے خالی ہاتھ لوٹا دوں حالانکہ سب تیرے ہی دَر کے بھکاری ہیں، جسے جو کچھ بھی ملتا ہے تیرے ہی خزانۂ غیب سے ملتا ہے۔ مجھ فقیر کو بھی تیرے ہی آستانہ کرم سے ایک بیٹا عطا ہوا ہے۔ جان کا صدقہ جان ہے۔ اس لئے اے میرے کریم! تو میرے بیٹے کے بدلے میں میر محمد حسین کو نئی زندگی عطا کر دے۔‘‘
پھر جیسے ہی بزرگ کی دُعا ختم ہوئی، میر رستم علی خان کا بیٹا میر محمد حسین صحت یاب ہونے لگا اور درویش کا بیٹا بسترِ علالت پر دراز ہوگیا۔
پھر جس روز ولی عہد سلطنت نے غسل صحت کیا، اسی دن درویش نے اپنے بیٹے کو قبر میں اُتارا۔
میر رستم علی خان اظہار شکرگزاری کے طور پر قیمتی تحائف لے کر بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ خانقاہ کی حدود میں داخل ہو کر والیٔ خیرپور نے دیکھا کہ ہر چہرہ غم میں ڈوبا ہوا ہے اور ہر آنکھ اشکبار ہے۔
’’آخر یہاں کیا سانحہ پیش آیا ہے؟‘‘ میر رستم علی خان نے درویش کے خدمت گاروں سے پوچھا۔
’’ایسا سانحہ جو کسی پتھر کے ساتھ پیش آتا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔‘‘ ایک خادم نے شیخ کے فرزند کے انتقال کی خبر سناتے ہوئے کہا۔
میر رستم علی خان دَم بخود رہ گیا۔
’’اور یہ سب کچھ آپ کی وجہ سے ہوا ہے۔‘‘ درویش کے خادم خاص نے میر رستم علی خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
’’میری وجہ سے؟‘‘ والیٔ خیرپور نے حیران ہو کر کہا۔
’’آپ شیخ سے اپنے بیٹے کی صحت کے لئے دُعا کرانے آئے تھے۔‘‘ خادم خاص نے وضاحت کی۔ ’’مگر شیخ کی آنکھیں دیکھ رہی تھیں کہ ولی عہد سلطنت کا وقت پورا ہو چکا ہے۔ اس لئے ہمارے مخدوم نے بارگاہِ ذوالجلال میں اپنے فرزند کی جان کا صدقہ پیش کر دیا۔‘‘
یہ سن کر والیٔ خیرپور کو سکتہ ہوگیا۔ پھر جب اس کے ہوش و حواس بحال ہوئے تو وہ بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا اور درویش سے لپٹ کر کہنے لگا۔ ’’شیخ! یہ آپ ہی کا حوصلہ تھا اور اس انداز کا صدقہ آپ ہی پیش کر سکتے تھے۔‘‘ والیٔ خیرپور درویش سے لپٹا رو رہا تھا۔ ’’ایک غیر شخص کے لئے اپنے فرزند کی قربانی دینا، درویشوں ہی کا منصب ہے۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ بات یہاں تک پہنچ جائے گی۔‘‘
’’بات جہاںتک پہنچنا تھی، پہنچ گئی۔‘‘ درویش نے میررستم علی خان کو اپنے سے الگ کرتے ہوئے کہا۔ ’’مشیّت میں یوں ہی لکھا تھا۔ تمہیں ولی عہد سلطنت کی زندگی مبارک ہو۔‘‘
میر رستم علی خان واپس چلا گیا۔ جاتے وقت اس نے سارے تحائف ان فقراء میں تقسیم کر دیئے جو بزرگ کی گلیوں میں پڑے رہتے تھے۔
یہ کریم النفس، حوصلہ مند اور جانباز درویش، سندھ کے مشہور بزرگ حضرت سچل سرمستؒ تھے جنہوں نے ایک غمزدہ باپ کو پُرسکون دیکھنے کے لئے
اپنے بیٹے کی جان کا صدقہ پیش کر دیا تھا۔ صوفیاء کی تاریخ میں ایسے کئی واقعات مشہور ہیں۔
اور جہاں تک صدقۂ جان کا تعلق ہے تو اس کی حقیقت بھی تسلیم شدہ ہے۔ اگر صدقہ جان صدق نیت سے پیش کیا جائے تو بارگاہِ ذوالجلال میں قبول ہو جاتا ہے۔ مغل شہنشاہ ظہیرالدین بابر کا واقعہ مشہور ہے کہ جب ولی عہد سلطنت نصیرالدین ہمایوں بیمار ہوا اور ہندوستان بھر کے حاذق اطباء اس کے علاج سے عاجز آگئے تو کسی درباری عالم نے بابر کو مشورہ دیتے ہوئے کہا۔ ’’اگر شہنشاہ اپنی سب سے قیمتی چیز کا صدقہ دیں تو ولی عہد سلطنت کے سر سے یہ بیماری ٹل سکتی ہے؟‘‘
’’ہمارے پاس سب سے قیمتی شے کیا ہے؟‘‘ ظہیرالدین بابر نے اپنے وزیروں اور مشیروں سے پوچھا۔
مغلیہ سلطنت کے وزیر خزانہ نے جواباً عرض کیا۔ ’’ہمارے پاس دُنیا کا سب سے قیمتی اور نایاب الماس (ہیرا) موجود ہے جو ہمیں سلطان علاء الدین خلجی کے خزانے سے حاصل ہوا تھا۔‘‘
مختلف لوگوں نے مختلف صدقات دینے کے مشورے دیئے۔ آخر ظہیرالدین بابر نے اپنے مشیروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ’’یہ سب حقیر ترین چیزیں ہیں۔ انسان کی زندگی سے قیمتی کوئی شے نہیں ہوتی۔ اس لئے ہم بارگاہِ ذوالجلال میں ہمایوں کے لئے اپنی جان کا صدقہ پیش کریں گے۔‘‘
مغل شہنشاہ نے وضو کیا اور ہمایوں کے بستر کے گرد سات چکر لگائے۔ اولاد سے بے پناہ محبت کرنے والا باپ بآواز بلند یہ دُعا مانگ رہا تھا۔ ’’اے تمام جہانوں کے پالنے والے اور مضطرب الحال بندوں کی دُعائیں سننے والے! ہمایوں کی ساری بلائیں بابر کے سر! میرے اس صدقے کو قبول فرما کہ تیرے سوا کوئی دینے والا نہیں۔‘‘
سات چکر لگانے کے بعد بابر پر بیماری کے آثار طاری ہونے لگے اور نصیرالدین ہمایوں صحت یاب ہونے لگا۔ پھر جب ہمایوں نے غسل صحت کیا، ظہیرالدین بابر کو غسل میت دیا گیا۔ صدقۂ جان کی حیثیت اپنی جگہ مگر قبولیت اور غیرقبولیت کا انحصار صرف اللہ تعالیٰ کی مرضی پر ہے۔
حضرت سچل سرمستؒ کی زندگی کے اس اہم ترین واقعے کو مرزا علی قلی بیگ نے اپنی کتاب میں قلم بند کیا ہے۔
٭…٭…٭
خیرپور سندھ کی حدود میں رانی پور سے ایک میل کے فاصلے پر شمال میں ’’درازن‘‘ یا ’’درازا‘‘ نام کا ایک قصبہ ہے۔ اسی قصبے میں حضرت سچل سرمستؒ پیدا ہوئے۔ آپ کی تاریخ پیدائش میں نمایاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض تذکرہ نگاروں کے مطابق حضرت سچل سرمستؒ 1170ھ میں پیدا ہوئے مگر اکثر مؤرخین کی تحقیق کا حاصل یہ ہے کہ آپ نے 1152ھ میں آنکھ کھولی۔ حضرت سچل سرمستؒ کا خاندانی نام عبدالوہاب فاروقی ؒ تھا۔ 38 ویں پشت میں آپ کا سلسلۂ نسب امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ سے مل جاتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہٗ کی وفات کے بعد آپ کے پوتے شیخ شہاب الدین فاروقی ؒ حجاز مقدس سے عراق منتقل ہوگئے تھے۔ آپ اپنے وقت کے بہت بڑے مدبر تھے اور سیاسی اُمور پر گہری نظر رکھتے تھے۔ جب مسلمانوں نے سندھ پر پہلا حملہ کیا تو اسلامی لشکر کی قیادت بدیل بن طہفہ کر رہے تھے۔ اس معرکہ آرائی میں مسلمانوں کو شکست ہوئی اور بدیل بن طہفہؒ شہید ہوگئے۔
اس شکست کے بعد حضرت شیخ شہاب الدین فاروقی ؒ نے گورنر عراق حجاج بن یوسف کو مشورہ دیا کہ سندھ کے سرحدی علاقوں میں تبلیغ اسلام کے لئے بڑے بڑے علماء کو روانہ کیا جائے۔ حجاج بن یوسف نے آپ کی اس تجویز کو پسند کیا۔ پھر جب عامل عراق نے اپنے نوجوان بھتیجے اور داماد محمد بن قاسمؒ کو سندھ پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا تو حضرت شیخ شہاب الدین فاروقی ؒبھی جواں سال امیر لشکر کے ساتھ تھے۔
اکثر تاریخی روایتوں کے مطابق حضرت شیخ شہاب الدین فاروقی ؒ فاتح سندھ محمد بن قاسمؒ کو ملکی اور فوجی اُمور میں نہایت مفید مشورے دیا کرتے تھے۔ نتیجتاً سندھ کے غیرمسلم قبائل قطار در قطار حلقہ اسلام میں داخل ہونے لگے اور مملکت اسلامی کی بنیادیں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئیں۔
شیخ شہاب الدینؒ کے انتقال کے بعد ان کے صاحب زادے شیخ محمد فاروق ؒ سیوستان کے حاکم مقرر ہوئے۔ شیخ محمد فاروق ؒکے بعد ان کے فرزند مخدوم نورالدینؒ فرمانروائی کے منصب پر فائز ہوئے۔ پھر سیوستان کی حکمرانی نسل دَر نسل اسی خاندان میں منتقل ہوتی رہی۔
حضرت بہاء الدین زکریا ملتانیؒ کے خلیفہ حضرت مخدوم حجارؒ بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ حضرت سچل سرمستؒ کا تعلق بھی اسی عظیم خاندان سے تھا۔
٭…٭…٭
حضرت سچل سرمستؒ کے دادا محترم کا اسم گرامی خواجہ محمد حافظؒ تھا۔ مگر عام طور پر آپ سائیں صاحب دینہ فاروقی کے نام سے مشہور ہیں۔ حضرت سائیں دینہؒ اپنے وقت کے ولی کامل تھے۔
حضرت سچل سرمستؒ اپنی ایک فارسی تصنیف میں حضرت سائیں دینہؒ کے متعلق تحریر فرماتے ہیں۔ ’’اس وقت سندھ پر کلہوڑہ خاندان کی حکومت تھی۔ اسی حکومت میں میرے دادا محترم حضرت صاحب دینہؒ ایک اعلیٰ منصب پر فائز تھے۔ ایک روز میاں صاحب کسی سرکاری کام سے کوٹری کبیرہ ضلع نواب شاہ سے ’’ڈیونول‘‘ گائوں کی طرف جا رہے تھے۔ راستے میں ایک جنگل پڑتا تھا۔ جب میاں صاحب دینہؒ جنگل میں داخل ہوئے تو آپ کو ایک مجذوب عورت بیٹھی نظر آئی۔
میاں صاحبؒ نے اسے ایک مخبوط الحواس عورت سمجھا اور آگے بڑھ گئے۔ ابھی میاں صاحب دینہؒ نے چند قدم کا فاصلہ طے کیا ہوگا کہ مجذوب عورت کی آواز سنائی دی۔ ’’میاں صاحب دینہ کیوں جارہے ہو؟‘‘
حضرت صاحب دینہ فاروقی ؒ کے بڑھتے ہوئے قدم رُک گئے۔ آپ کو شدید حیرت ہوئی کہ ایک مخبوط الحواس عورت ان کا نام کس طرح جانتی ہے؟ حضرت صاحب دینہؒ واپس لوٹ آئے اور مجذوب خاتون کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا۔ ’’مائی! میں سرکاری کام سے جا رہا ہوں۔‘‘
’’کب تک دوسروں کے کام میں اُلجھے رہو گے؟‘‘ مجذوب خاتون نے کہا۔ ’’پہلے اپنے بگڑے ہوئے کام تو سنوار لو۔‘‘
حضرت میاں صاحب دینہؒ نے بڑی حیرت سے مجذوب خاتون کی طرف دیکھا۔ آپ نے جس عورت کو فاترالعقل سمجھا تھا وہ بہت ہوش کی باتیں کر رہی تھی۔ ’’مائی! آخر میرا کیا کام ہے؟‘‘
’’تمہیں جس کام کے لئے دُنیا میں بھیجا گیا ہے، تم وہی کام نہیں کر رہے ہو۔‘‘ مجذوب خاتون نے پُرجلال لہجے میں کہا۔ ’’میاں صاحب دینہؒ ابھی وقت ہے۔ اپنی منزل کی طرف لوٹ جائو۔ اللہ تم سے کوئی اور ہی کام لینا چاہتا ہے۔‘‘
حضرت صاحب دینہ فاروقی ؒ مجذوب خاتون کی باتوں سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اپنا کام ادھورا چھوڑ کر واپس لوٹ آئے اور سندھ کے حکمراں کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔
’’میاں صاحب آخر بات کیا ہے؟‘‘ سندھ کے حکمراں نے حیران ہو کر پوچھا۔ ’’کیا کسی وزیر سے کوئی چپقلش ہوگئی ہے؟‘‘
’’نہیں سرکار۔ میرا کسی سے کوئی جھگڑا نہیں ہوا ہے۔‘‘ میاں صاحب دینہ فاروقیؒ نے کہا۔ ’’اب میں سرکاری کاموں کے قابل نہیں رہا۔ اس لئے معذرت خواہ ہوں۔‘‘
حاکم سندھ نے بہت چاہا کہ میاں صاحبؒ اپنا استعفیٰ واپس لے لیں مگر آپ اپنے فیصلے پر قائم رہے اور سرکاری ملازمت چھوڑ کرگھر چلے آئے۔ پھر آپ سلسلۂ قادریہ میں شامل ہو کر حضرت خواجہ عبداللہ جیلانی ؒ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور محنت شاقہ کے بعد سلوک کے مختلف مدارج طے کر کے منصب ولایت تک پہنچے۔
جس مجذوب الحال عورت کے چند جملوں نے حضرت میاں صاحب دینہ فاروقی ؒ کی دُنیا بدل ڈالی، وہ خاتون بی بی بصریؒ تھیں۔ بی بی بصریؒ اپنے وقت کی بڑی عارفہ تھیں مگر اکثر لوگ ان کے روحانی کمالات سے بے خبر تھے۔
٭…٭…٭
میاں صاحب دینہ فاروقی ؒ کے دو صاحبزادے تھے۔ ایک میاں صلاح الدینؒ اور دُوسرے میاں عبدالحقؒ۔ کسی تاریخ سے یہ پتا نہیں چلتا کہ دونوں بھائیوں میں بڑا کون تھا؟ میاں صاحب دینہؒ کے وصال کے بعد میاں عبدالحقؒ آپ کے سجادہ نشیں ہوئے۔ بس اسی بات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ شاید میاں عبدالحقؒ عمر میں بڑے تھے۔
میاں صلاح الدینؒ کی شادی کو کئی سال ہو چکے تھے مگر آپ ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم تھے۔ آخر ایک دن حسرتوں کی بے آب و گیاہ صحرا میں اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم کی بارش ہوئی اور 1152ھ میں حضرت سچل سرمستؒ پیدا ہوئے۔ تشنہ آرزوئیں سیراب ہوئیں اور میاں صلاح الدینؒ اپنے فرزند کی تعلیم و تربیت میں مشغول ہوگئے۔
ابھی حضرت شیخ عبدالوہابؒ (سچل سرمستؒ) کی عمر مبارک چھ سال تھی کہ 1158ھ میں آپ کے والد محترم میاں صلاح الدینؒ کا انتقال ہوگیا اور حضرت سچل سرمستؒ بھی صوفیاء کے اسی گروہ میں شامل ہوگئے جنہیں انتہائی کم سنی کے عالم میں یتیمی کے صدمۂ جانکاہ سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ میاں صلاح الدینؒ کی وفات کے بعد محترم چچا میاں عبدالحقؒ نے حضرت سچل سرمستؒ کو اپنی سرپرستی میں لے لیا اور اس قدر محبت دی کہ یتیم بھتیجے کے دل و دماغ سے تلخ اور اذیت ناک یادیں محو ہوتی چلی گئیں۔
بعض تاریخی روایتوں کے مطابق ایک حبشی نژاد آیا نے حضرت سچل سرمستؒ کی پرورش کی۔ اس آیا کا نام ’’جوشیدی‘‘ تھا۔ حضرت سچل سرمستؒ اپنی آیا کو ’’کالی اماں‘‘ کے نام سے پکارتے تھے۔ اگر خاندان کا کوئی فرد آپ کو اس طرز تخاطب پر ٹوکتا تو جوشیدی بے اختیار بول اُٹھتی۔ ’’نہیں میاں جی! تم مجھے کالی اماں کے نام ہی سے پکارا کرو۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ تمہارے اس طرح پکارنے سے مجھے کیسی خوشی حاصل ہوتی ہے؟‘‘
اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید آپ کی والدہ محترمہ بھی بچپن ہی میں انتقال فرما گئی تھیں۔
٭…٭…٭
ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد حضرت سچل سرمستؒ نے حافظ عبداللہ قریشیؒ کی نگرانی میں قرآن کریم حفظ کیا۔ آپ فطرتاً نہایت ذہین انسان تھے۔ تمام تذکرہ نگاروں کے مطابق حضرت سچل سرمستؒ نے چودہ سال کی عمر میں عربی اور فارسی زبانوں پر عبور حاصل کرلیا تھا۔ پھر آپ نے اپنے محترم چچا حضرت میاں عبدالحقؒ سے علوم باطنی حاصل کیے اور ان ہی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔
بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ حضرت سچل سرمستؒ پر بچپن ہی سے عشق و سرمستی کا رنگ چڑھا ہوا تھا۔ اس سلسلے میں ایک عجیب واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔ ایک دن سندھ کے مشہور بزرگ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ، حضرت میاں عبدالحق ؒ سے ملنے کے لئے ان کے گھر تشریف لائے۔ اس وقت حضرت سچل سرمستؒ کی عمر آٹھ دس سال ہوگی۔ آپ کے پیروں میں گھنگھرو بندھے ہوئے تھے۔
حضرت شاہ
عبداللطیف بھٹائی ؒ نے آپ کو دیکھا تو اپنے قریب بلایا اور پیار کرتے ہوئے کہا۔ ’’ہم نے معرفتِ الٰہی کی لذت دل میں حاصل کی ہے اور جو دیگ ہم نے پکائی ہے اس کا ڈھکن سچل ہی اُٹھائیں گے۔‘‘
بعض روایتوں میں حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ کا یہ قول درج ہے۔ ’’ہم نے جو خم تیار کیا ہے، اسے سچل ہی کھولیں گے۔‘‘
پھر 1165ھ میں حضرت شاہ بھٹائی ؒ کا انتقال ہوگیا۔ اس وقت حضرت سچل سرمستؒ کی عمر مبارک تیرہ سال تھی۔ حضرت شاہ صاحبؒ کے بعد حضرت میاں سخی قبول محمدؒ آپ کے خلیفہ ہوئے۔ حضرت سچل سرمستؒ نے ان ہی بزرگ کے ہاتھ پر بیعت کی اور خرقۂ خلافت حاصل کیا۔
بظاہر دونوں روایتوں میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے مگر حقیقتاً یہ ممکن ہے کہ حضرت سچل سرمستؒ نے پہلے اپنے محترم چچا حضرت میاں عبدالحق ؒ سے خرقۂ خلافت حاصل کیا ہو اور بعد میں حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ کے سلسلۂ روحانی میں شامل ہوگئے ہوں۔
روایت ہے کہ حضرت سچل سرمستؒ برسوں ویرانوں اور جنگلوں میں پھرتے رہے۔ اس دوران آپ نے سخت ریاضتیں کیں۔ حضرت سچل سرمستؒ کی پرہیزگاری کا یہ عالم تھا کہ لوگ آپ کو ’’منصور آخرالزماں‘‘ کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ منصور سے مراد حضرت منصور حلاجؒ مراد ہیں۔
حضرت سچل سرمستؒ فطرتاً دُنیا کی رنگینیوں اور ہنگامہ آرائیوں سے بے نیاز رہا کرتے تھے۔ ایک بار پیر و مرشد حضرت میاں احمد عبدالحقؒ نے حضرت سچل سرمستؒ کے دوستوں کو طلب کر کے فرمایا۔ ’’سچل اب جوان ہوگیا ہے۔ اس سے پوچھو کہ وہ شادی کی طرف میلان رکھتا ہے یا نہیں؟‘‘
پھر جب دوستوں نے حضرت سچل سرمستؒ سے ازدواجی زندگی کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے کسی تامل کے بغیر فرمایا۔ ’’میں ان اُلجھنوں اور بکھیڑوں کو پسند نہیں کرتا۔ شادی ایک زنجیر ہے اور میں اس زنجیر سے آزاد رہنا چاہتا ہوں۔‘‘
دوستوں نے حضرت میاں عبدالحق ؒ کو حضرت سچل سرمستؒ کے جواب سے آگاہ کیا تو آپ نے ایک دن خود ہی بھتیجے کے سامنے یہ موضوع چھیڑ دیا۔ حضرت سچل سرمستؒ نے پیر و مرشد کی خدمت میں بھی وہی الفاظ دُہرا دیئے۔
بھتیجے کی گفتگو سن کر حضرت میاں عبدالحق ؒنے فرمایا۔ ’’فرزند! شادی ایک زنجیر نہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک معروف سنت ہے۔ اگر شادی کی استطاعت ہو تو ضرور کرو کہ اس کے بغیر انسان کی تکمیل نہیں ہوتی۔‘‘
اگرچہ حضرت سچل سرمستؒ شادی کی پابندیوں سے آزاد رہنا چاہتے تھے لیکن پیر و مرشد کی رضا کے سامنے آپ نے سرِتسلیم خم کر دیا۔ پھر حضرت میاں عبدالحقؒ نے اپنی صاحبزادی کے ساتھ حضرت سچل سرمستؒ کا نکاح کر دیا۔
کچھ روایتوں سے پتا چلتا ہے کہ آپ کی رفیقۂ حیات شادی کے بعد دو سال تک حیات رہیں۔ پھر اچانک بیمار ہوئیں اور چند روز بعد انتقال کرگئیں۔ اکثر تذکرہ نگاروں کی تحقیق کے مطابق آپ کے کوئی اولاد نہیں تھی۔
بعض تذکرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حضرت سچل سرمستؒ کے یہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جو بعد میں وفات پا گیا۔ اگر یہ روایت درست ہے تو پھر والیٔ خیرپور میر رستم علی خان کا آپ کی خدمت میں حاضر ہونا اور اپنے قریب المرگ بیٹے میر محمد حسین کی صحت یابی کے لئے دُعا کرانے کا واقعہ بھی صحیح ہے اور اگر حضرت سچل سرمستؒ کے بے اولاد ہونے کی روایت درست ہے تو پھر ہمیں میر رستم علی خان کی حاضری اور میر محمد حسین کی شفایابی کے سلسلے میں کوئی اور توجیہ پیش کرنی ہوگی۔
٭…٭…٭
حضرت میاں عبدالحقؒ آپ کو محبت سے ’’سچو‘‘ پکارتے تھے۔ اس لئے آپ نے مرشد کے اس خطاب کو اپنا تخلص قرار دیا اور پھر روحانیت اور شعر و اَدب کی دُنیا میں ’’سچل سرمست‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔ بعض روایتوں کے مطابق آپ بچپن سے سچ بولا کرتے تھے، اس لئے پیر و مرشد نے آپ کو ’’سچو‘‘ کے خطاب سے سرفراز کیا۔ سندھی زبان میں آپ کو ’’سچو‘‘ اور ’’سچے دینہ‘‘ کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ پنجاب کے لوگ آپ کو ’’سچل‘‘ کہا کرتے تھے۔ چونکہ آپ نے فارسی زبان میں بھی شاعری کی ہے، اس لئے ’’آشکار‘‘ تخلص اختیار کیا۔
حضرت سچل سرمستؒ کا قد درمیانہ، رنگ گندمی، پیشانی کشادہ اور خدوخال بہت دلکش تھے۔ سر کے بال لمبے تھے اور ہمیشہ سبز رنگ کی ٹوپی پہنتے تھے۔ سفید کرتا اور سفید تہہ بند آپ کا پسندیدہ لباس تھا۔ جب آپ پر عالم جذب طاری ہوتا تو ننگے پائوں پھرا کرتے۔ ہاتھ میں ہر وقت ایک لمبی لکڑی رکھتے تھے۔ حضرت سچل سرمستؒ کو موسیقی سے بے پناہ دلچسپی تھی۔ اس لئے یکتارہ (طنبورہ) آپ کے پاس ہوتا تھا۔ بہت کم سوتے اور بہت کم کھاتے تھے۔ اکثر روزہ رکھتے تھے اور لکڑی کی چوکی پر مراقبے میں بیٹھے رہتے تھے۔
حضرت سچل سرمستؒ بہت رحم دل اور سخی انسان تھے۔ پانچوں وقت کی نماز ادا کرتے اور شریعت پر سختی کے ساتھ عمل پیرا رہتے۔ جب کیف و جذب کی حالت ہوتی تو آپ یکتارہ بجا کر گانے لگتے تھے۔
پھر جب ہوش میں آتے تو آپ کو کچھ یاد نہ رہتا۔ اگر کوئی دوست یاد دلاتا تو نہایت پُرسوز لہجے میں فرماتے۔ ’’وہ میری مدہوشی کا عالم ہوتا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ کیا کہتا ہوں اور کیا کرتا ہوں؟‘‘
اسی وجہ سے آپ نے اپنا بہت سا کلام دریا بُرد کرا دیا۔ کسی مرید نے پوچھا۔ ’’شیخ! آپ نے بڑی جانفشانی سے یہ اشعار کہے تھے۔ پھر انہیں غرق دریا کیوں کر رہے ہیں؟‘‘
جواب میں حضرت سچل سرمستؒ نے فرمایا۔ ’’پتا نہیں، لوگ میری بات کا کیا مطلب سمجھیں اور پھر سیدھے راستے سے بھٹک جائیں۔ اس لئے ان چیزوں کا مٹ جانا ہی بہتر ہے۔‘‘
٭…٭…٭
حضرت سچل سرمستؒ کو کئی زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔ اس لئے کئی زبانوں میں آپ کی شاعری موجود ہے۔ مرزا قلیچ بیگ کے مطابق آپ کے اشعار کی تعداد 9 لاکھ 36 ہزار 6 سو کے قریب ہے۔ آپ کو سندھی زبان میں مرثیے کا بانی کہا جاتا ہے۔ بعض تحقیق نگاروں نے حضرت سچل سرمستؒ کی بیس تصانیف کی نشاندہی کی ہے جن میں مندرجہ ذیل بہت زیادہ مشہور ہیں۔ کافیاں اور دوہے (سندھی اور سرائیکی)، رازنامہ (فارسی)، وحدت نامہ (فارسی)، رہبرنامہ (فارسی)، گداز نامہ (فارسی) غزلیات (اُردو) اور دیوان آشکار (فارسی)۔
’’دیوان آشکار‘‘ کو پہلی بار والیٔ خیرپور میر علی مراد خان تالپور نے شائع کرایا تھا۔
حضرت سچل سرمستؒ ’’وحدت الوجود‘‘ کے قائل تھے۔ آپ کی شاعری میں قدم قدم پر اس نظریئے کا اظہار ہوتا ہے۔ ایک جگہ فرماتے ہیں۔ ’’کوئی اور سمجھنا گناہ ہے۔ ہر صورت میں رب کریم کا جلوہ ہے، کوئی مجھے کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ لیکن مجھے پروا نہیں کیونکہ میں جو کچھ ہوں وہی ہو سکتا ہوں۔‘‘ (ترجمہ)
حضرت سچل سرمستؒ کو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت تھی۔ ایک مقام پر اس طرح اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ ’’سیّدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حال پر لطف فرمایا اور مجھے عاشقوں کی جماعت میں شامل کر دیا۔ وحدت کے راز سے مجھے آگاہ کیا۔ پہلے میں ایک گداگر تھا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شاہ بنا دیا۔‘‘ (ترجمہ)
یہی وہ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھا جس نے حضرت سچل سرمستؒ کی نگاہ کو کیمیا اثر بنا دیا تھا۔ اگر زنگ آلود لوہے پر ایک نظر ڈال دیتے تو وہ سونا بن جاتا۔ آپ کے دست حق پرست پر ہزاروں بت پرست ایمان لائے اور دولت اسلام سے مالا مال ہوئے۔ علامہ اقبالؒ نے مردِمومن کی اسی شان کی طرف اشارہ کیا ہے ؎
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
٭…٭…٭
ایک بار ریاست خیرپور کے حاکم میر رستم علی خان شکار سے واپس آ رہے تھے۔ ان کے ہمراہ وزیروں اور امیروں کا ایک ہجوم تھا۔ اتفاقاً اس وقت حضرت سچل سرمستؒ اپنے جسم مبارک پر ملتانی مٹی ملے ہوئے کنویں کے قریب تشریف فرما تھے۔ ابھی آپ نہانے کا اِرادہ ہی کر رہے تھے کہ میر رستم علی خان اپنے لشکر کے ساتھ آ پہنچے۔
حضرت سچل سرمستؒ پر نظر پڑی تو والیٔ خیرپور قدم بوسی کے لئے آگے بڑھے مگر آپ کے بدن کو مٹی سے آلودہ دیکھ کر رُک گئے اور دُور سے مزاج پرسی کرنے لگے۔ میر رستم علی خان کے چھوٹے بھائی میر علی مراد خان لشکر کے آخر میں تھے۔ جب وہ وہاں پہنچے اور حضرت سچل سرمستؒ کو موجود پایا تو بے تکلفانہ آگے بڑھے اور حضرت شیخ ؒسے لپٹ گئے۔
حضرت سچل سرمستؒ نے میر مراد علی خان کی یہ عقیدت دیکھ کر بے اختیار انہیں اپنے سینے سے لگا لیا۔ میر مراد علی خان کی قیمتی پوشاک اور چہرے پر جگہ جگہ گیلی مٹی کے داغ اُبھر آئے۔
حضرت سچل سرمستؒ نے میر رستم علی خان کی طرف دیکھ کر فرمایا۔ ’’میر صاحب! تم نے مجھے خاک آلود سمجھا اور دُور رہے تمہیں دھوکا ہوگیا۔ وہ ملتانی مٹی نہیں تھی۔ جاہ و اقتدار کی مہندی کا رنگ تھا جو میر علی مراد خان کو لگ گیا ہے۔‘‘
حضرت سچل سرمستؒ کی یہ دُعا 1843ھ میں قبول ہوئی، جب آپ کو دُنیا سے رُخصت ہوئے ستائیس سال گزر چکے تھے۔ انگریزوں نے سندھ کے تمام میروں سے اقتدار چھین کر برطانوی حکومت قائم کر دی تھی۔ اس وقت پورے سندھ میں خیرپور ہی ایک ایسا علاقہ تھا جس پر میر علی مراد خان کی حکمرانی تھی۔
حضرت سچل سرمستؒ زندگی بھر بیمار نہیں ہوئے مگر آخری وقت میں آپ کو خونی پیچش کا عارضہ لاحق ہوگیا تھا۔ پھر اسی مرض میں آپ نے 14؍ رمضان المبارک 1242ھ کو انتقال فرمایا۔
وصال سے چند روز قبل پہلے حضرت سچل سرمستؒ نے مریدوں کی تیمارداری اور بے قراری دیکھ کر واضح الفاظ میں اپنے سفرِ آخر کی طرف اشارہ کر دیا تھا۔ ’’تم لوگ مجھے روکنے کی کوشش کر رہے ہو اور میں اپنے آقا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہونے کی تیاریاں کر رہا ہوں۔‘‘
حضرت سچل سرمستؒ خاکِ درازن میں آسودئہ خواب ہیں۔ والیٔ خیرپور میر رستم علی خان نے مزار مبارک پر مقبرہ تعمیر کرایا۔
پونے دو سو سال گزر گئے۔ اہلِ دل کے ہزاروں قافلے اپنی پیاسی آنکھوں کو سیراب کرنے کے لئے روضہ مبارک پر حاضر ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ قیامت تک اسی طرح قائم رہے گا۔
(ختم شد)