Hum Buray Na Thay | Teen Auratien Teen Kahaniyan

518
میرے والد مرحوم انتہائی نکھٹو تھے۔ وہ اتنے سست تھے کہ ہل کر پانی بھی نہیں پیتے تھے۔ ان کی صحبت شروع سے خراب تھی، جواریوں سے گہرا یارانہ تھا اور خود بھی جوا کھیلنے کے شوقین تھے۔ پہلے پہل تو والدہ نے احتجاج کیا۔ جھگڑے لڑائی سے بھی کام لیا لیکن ابا بے حس ہوچکے تھے۔ بیوی کے واویلے کا ان پر کچھ اثر نہ ہوا۔
ان حالات میں میری ماں نے بھائیوں کا سہارا لینا چاہا۔ ان سے فریاد بھی کی لیکن داد رسی نہ ہوئی، الٹا بھائیوں نے یہ جواب دیا کہ ثریا بی بی ہر عورت کی اپنی قسمت ہوتی ہے۔ اگر تمہاری قسمت ایسی ہے تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔ خاوند برا بھلا جیسا بھی ہے اب گزارا کرو۔ عورت کے دکھ سکھ کا ساتھی اس کا شوہر ہی ہوتا ہے۔ ہمارے گھر میں ہماری بیویاں اور بچے ہیں تم کب تک یہاں رہ سکو گی۔
بھائیوں کے اس جواب سے میری ماں کا دل ٹوٹ گیا اور انہوں نے ہمیشہ کے لئے میکے سے بندھی آس کو ختم کردیا۔
ابا سے لڑنا جھگڑنا بھی چھوڑ دیا بلکہ ان کو یہ مشورہ دیا کہ میاں جوئے اور جواریوں کے چکر میں راتوں کو غائب رہتے ہو اور میں روز و شب اکیلی پڑی رہتی ہوں، بہتر ہے گھر کا ایک حصہ کرائے پر اٹھا دو۔ بے شک ان جواریوں سے کرایہ لو، اور ان کو جگہ دے دو۔ اس طرح کم ازکم تم تو گھر پر موجود رہوگے اور کرایہ بھی آتا رہے گا جس سے گھر کا گزارا ہوسکے گا۔
ماں نے ایک بات کہی تھی لیکن یہ مشورہ ابا نے گرہ میں ہی باندھ لیا۔ انہوں نے مکان کا اگلا حصہ جوئے خانے میں تبدیل کردیا جبکہ عقبی حصے میں ہماری رہائش تھی۔ ہم تھے ہی کتنے؟ ایک اماں اور دوسری میں۔ ابا تو ویسے ہی جوئے خانے میں پڑے رہتے تھے۔
دوستوں کو گھر لاتے اور رات بھر اپنی بیٹھک میں جوا کھلاتے۔ پہلے وہ مفت میں بیٹھک استعمال کرتے تھے۔ اب کرایہ دار ہوگئے، رات بھر ہمارے مکان کی بیٹھک میں بڑے آرام سے جوا کھیلتے جس کا کرایہ سب ملاکر اماں کی ہتھیلی پر ہر ماہ دیانت داری سے رکھ دیتے تاکہ وہ واویلا نہ کریں۔ یہ کرایہ عام مکانوں سے بہت زیادہ تھا۔
اس زمانے میں پانچ سو کی بڑی قیمت تھی اور یہ سب ملاکر ہزار روپیہ ماہانہ کرایہ ادا کرتے تھے، یہ جگہ ایک بڑے سے ہال اور ایک چھوٹے کمرے پر مشتمل تھی۔ ساتھ غسل خانہ اور آگے برآمدہ بھی تھا۔ یہاں جوا کھیلنے کا فائدہ یہ تھا کہ پولیس ہاتھ نہیں ڈال سکتی تھی کیونکہ بظاہر اس گھر میں فیملی رہائش پذیر تھی۔ جواری عموماً اس وقت آتے جب محلے دار سو جاتے اور صبح تین بجے کے قریب یہ لوگ چلے جاتے تھے۔
ان دنوں میرے چچا پولیس میں انسپکٹر تھے، ان کا گھر ہمارے مکان سے قریب تھا۔ محلے دار ان کا بڑا لحاظ کرتے تھے کیونکہ پولیس چوکی کے سارے معاملات جو کبھی ان محلہ داروں کو درپیش ہوتے وہ حل کردیا کرتے تھے۔ ابا ان کے سگے بڑے بھائی تھے۔ سو وہ ان کا لحاظ کرتے تھے لیکن اکثر یہ مشورہ بھی دیتے تھے کہ بھائی صاحب ایسی سرگرمیوں سے باز آجائو۔ جب تک میں ہوں بے شک تمہاری طرف کوئی ہاتھ نہیں بڑھا پائے گا لیکن بری باتوں کا انجام برا ہوتا ہے۔
ابا جانے کس مٹی کے بنے تھے، ان کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی تھی اور اب تو اماں کو کرائے کا اسرا تھا۔ اب وہ بھی چپ ہوگئی تھیں کہ دو وقت کی ہانڈی روٹی کا بندوبست تو ہوگیا تھا۔
بتاتی چلوں کہ یہ مکان میری والدہ کے نام تھا۔ نانا اور دادا آپس میں سگے بھائی تھے۔ شادی کے وقت مکان نانا نے بیٹی کے نام کرا دیا تھا۔ آپس کے رشتے تھے۔ دادا بیٹے کی حرکتوں سے واقف تھے۔ تبھی سو چا کہ مکان بہو کے نام رہے تو اچھا ہے، ورنہ یہ نکھٹو اسے بھی کسی دن بیچ کھائے گا۔
شومئی قسمت کہ اللہ نے مجھ اکلوتی بیٹی کے سوا ابا کو دوسری کوئی اولاد نہ دی تھی۔ جن دنوں ہمارا گھر جوا خانہ بنا میں چار برس کی تھی۔ والدین دونوں ہی مجھ سے پیار کرتے تھے… اور میری ہر خواہش پوری کرتے تھے۔ میں تو حالات سے بے خبر تھی خوش خوش محلے کی ایک نیک بی بی کے گھر سپارہ پڑھنے جاتی تھی۔
ان بی بی کا نام حلیمہ خاتون تھا۔ وہ نہ صرف ہم کو قرآن پاک کا سبق دیتی تھیں بلکہ نیکی کی تلقین کرتیں اور اچھی اچھی باتیں بتاتیں۔ میری شخصیت کو بنانے اور نیک سیرتی کی جانب راغب کرنے میں میری ماں سے زیادہ اسی دین دار بی بی کا ہاتھ تھا۔
وقت گزرتا رہا، میں اپنے والدین کے پیار بھرے سائے میں پروان چڑھتی گئی۔ ابا کے جو دوست آتے ان کے سامنے جاتی وہ مجھے بیٹی کہتے اور میں ان کو چچا بلاتی۔ وہ جواری ضرور تھے لیکن سب اچھے تھے کیونکہ کبھی کسی نے مجھ پر میلی نظر نہیں ڈالی تھی۔
جب میں بارہ برس کی تھی، والد صاحب وفات پا گئے۔ خدا جانے ان کے اندر کون سی بیماری پل رہی تھی… سال بھر تک کھانسی رہی جو کسی علاج سے صحیح نہ ہوئی پھر بخار رہنے لگا اور بالآخر راہی ملک عدم ہوگئے۔
ان کی وفات کے بعد ان کے دوستوں نے امی سے کہا… بھابی اگر آپ کو کچھ پریشانی ہوتی ہوتو ہم آپ کا مکان خالی کردیتے ہیں۔ والدہ نے جواب دیا۔
بھائیو… آپ سے بیٹھک خالی کرالوں تو پھر میرا چولہا کیسے چلے گا؟ جس کو کرائے پر دوں گی، دو تین سو سے زیادہ کرایہ نہ ملے گا۔ آپ دس بارہ آدمی مل کر ہزار روپیہ دیتے ہیں اور چند گھنٹے بیٹھ کر چلے جاتے ہیں۔ مجھے آپ لوگوں سے کوئی مسئلہ نہیں، آپ بس وقت پر کرایہ دے دیا کریں۔
امی نے گویا جوئے کے اڈے کو جاری رکھنے کا عندیہ دے دیا۔ معمولات اسی طرح چلنے لگے۔ یہ لوگ رات کو جوا کھیلتے اور آدھی رات کے بعد چلے جاتے۔ کرایہ وقت پر مل جاتا تھا۔
وقت سدا ایک سا نہیں رہتا، اب میں جوان ہوچکی تھی اور ماں کو میرے مستقبل کے بارے میں سوچنا تھا۔ گرچہ میں اور میری ماں کسی برائی کی جانب راغب نہ تھے لیکن گھر کے ایک حصہ کو جواریوں کو کرایہ پر دے دینا بھی تو معاشرے کے نزدیک ایک برائی ہی تھی۔ شاید کہ والدہ اس ماحول کی عادی ہوچکی تھیں کہ ان کو ابا کے دوستوں کا آنا اور بیٹھک میں بیٹھ کر جوا کھیلنا برائی محسوس نہ ہوتی تھی۔
ایک روز ابا کے پرانے جواری دوست کے ہمراہ ایک نیا شخص آگیا جس کا نام حفیظ تھا۔ یہ نوجوان کوئی بائیس اور پچیس سال کے درمیان تھا۔ پہلی بار آیا تھا اور اسے پہلی ہی نظر میں دیکھ کر میرے دل میں اس کے لئے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوگئے تھے۔
وہ جس شخص کے ہمراہ آیا تھا اسے میں چچا بخشو کہتی تھی۔ یوں اس کا نام اللہ بخش تھا۔ لیکن سبھی اسے بخشو کہتے تھے۔
حفیظ رشتے میں چچا بخشو کا سوتیلا بھانجا تھا اور بی اے کا طالب علم تھا۔ وہ خوبصورت اور نیک لڑکا تھا۔ پہلی بار اسے جواریوں کے ہمراہ دیکھ کر مجھے دھچکا سا لگا اور سوچا کہ میں اس نیک لڑکے کو جوئے کی لت میں پڑنے سے بچانے کی کوشش ضرور کروں گی۔ اگر یہ اپنے ماموں کی راہ پر چل پڑا تو یقینا برباد ہوجائے گا، کسی کام کا نہیں رہے گا۔
میں نے اس کے ساتھ دوستی کی ٹھان لی۔ اب جب بھی ابا کے جواری دوستوں کو پانی وغیرہ دینے جاتی اس کے ساتھ بات کرنے کی کوشش کرتی اور موقع ملتا تو اشارے سے گھر کے اندر بلانے کی بھی سعی کرتی تھی۔
بیٹھک کے پیچھے صحن تھا اور پھر ہمارے کمرے تھے یعنی کہ بیٹھک اور ہمارے کمروں کے درمیان صحن تھا۔ جہاں شام کو چارپائیاں ڈال کر ہم ماں بیٹی کھلی فضا میں بیٹھ جاتی تھیں۔
میں حفیظ کو ادھر بلانے لگی تو اماں بھی اس سے باتیں کرنے لگیں۔ حفیظ کی باتوں میں کچھ ایسا اثر تھا کہ میری ماں اس نوجوان کی گرویدہ ہوگئیں۔
حفیظ جوئے کی بازی لگانے کے چکر میں ہوتا اور ہم ماں بیٹیاں اسے اس امر سے باز رہنے کی تلقین کرتیں۔ اسی وجہ سے باتوں میں لگا لیتیں کہ وہ بیٹھک کا رخ کرے اور نہ بازی لگا کر اپنی پونجی کو ضائع کرے۔
وہ تو جوا کھیلنے کی فکر میں تھا اور میں منع کرتی کہ بے کار کے کھیل میں نہ پھنسو۔
میں جواریوں کو پانی پلانے کی ڈیوٹی دیتی تھی۔ یہ بات حفیظ کو اچھی نہ لگتی، ایک روز اس نے کہا۔ دیکھو تمہارا چہرہ کتنا معصوم ہے۔ جہاں تمہارے گھرکا ایسا ماحول ہے وہاں تمہارا چہرہ ہر برائی سے بیگانہ نظر آتا ہے۔ اگر تم وعدہ کرو کہ ان جواری لوگوں کے سامنے نہ جائو گی اور ان کو پانی وغیرہ نہ پلائو گی تو میں بھی قسم کھاتا ہو کہ کبھی جوا نہ کھیلوں گا۔
میں نے اسے کہا کہ ابا کہا کرتے تھے پانی پلانا ثواب کا کام ہے۔ وہ بولا۔ اس وقت تم بچی تھیں اور وہ بھی زندہ تھے۔ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے اور تم بھی اب بچی نہیں رہیں۔ یہ پرانے لوگ تمہارے ابا کے دوست سہی لیکن ان کے ساتھ کبھی نہ کبھی نئے لوگ بھی آئیں گے جیسے کہ میں آگیا ہوں اور وہ پھر کسی بات کا لحاظ نہ کریں گے۔
حفیظ کی باتوں میں سچائی تھی، میں نے اس کا کہا مان لیا۔ مجھے پانی پلانے کی خدمت کے عوض ہر آدمی پانچ روپیہ دیتا تھا اور یوں میرے کافی پیسے بن جاتے تھے۔ لیکن اب میں سولہ برس کی تھی اور مجھے ان کے سامنے نہیں جانا چاہئے تھا۔ اب حفیظ نے میری ڈیوٹی سنبھال لی لیکن ان لوگوں نے کوئی اعتراض نہ کیا۔ ان کو تو بس ٹھنڈے پانی سے غرض تھی۔ مجھ سے کوئی مطلب نہ تھا۔
حفیظ ان دنوں بے روزگار تھا۔ اس نے بی اے مکمل کرلیا، تب اسے نوکری مل گئی۔ دراصل وہ جوئے کے اڈے پر اسی مقصد سے آیا تھا کہ کچھ رقم جیت لیتا تو اس کا گزارا ہو جاتا تھا۔ نوکری لگی تو اسے اس مشغلے سے نفرت ہوگئی لیکن پانی پلانے کی ڈیوٹی وہ اب بھی جاری رکھے ہوئے تھا۔ دراصل اب یہاں صرف مجھ سے ملنے آتا تھا۔ یہ پانی پلانے کی ڈیوٹی تو محض ایک بہانہ تھا۔
امی جان کو خوب علم تھا کہ حفیظ میری وجہ سے آتا ہے اور میں بھی اس میں دلچسپی لیتی ہوں۔ ماں کو کوئی اعتراض نہ ہوا کیونکہ وہ مجھے شرافت سے بیاہنا چاہتی تھی اور اس کے لئے اسے حفیظ جیسے ہی داماد کی ضرورت تھی… جو ہماری مجبوریاں جانتا تھا اور ہمارے ماحول کو اچھی طرح دیکھ اور سمجھ چکا تھا۔
چچا جان جو پولیس انسپکٹر تھے ان کی ترقی ہوگئی تو تبادلہ ہوگیا اور وہ دوسرے شہر چلے گئے۔ یوں ہم کو ان کا تحفظ حاصل نہ رہا۔ اب صرف حفیظ کا سہارا تھا کیونکہ اس کی نوکری بھی پولیس کے محکمے میں لگی تھی۔
جب سے اس کی نوکری ہوئی تھی وہ خالی ہاتھ نہیں آتا تھا۔ ہمارے لئے کچھ نہ کچھ لے کر ہی آتا تھا۔ ہمارے یہاں وہ کچھ کھاتا پیتا بھی نہ تھا اور جوا بھی نہیں کھیلتا تھا اسی وجہ سے میری ماں اس کی عزت کرتی تھیں۔
امی جان کو حفیظ کے گھر آنے اور مجھ سے باتیں کرنے پر کوئی اعتراض نہ تھا بلکہ کسی دن وہ نہ آتا
تو امی شکایت کرتیں کہ کیوں نہیں آئے، کہاں رہ گئے تھے۔ وہ کہتا کہ ڈیوٹی لگ گئی تھی تبھی نہیں آسکا۔
دن پہ دن گزرتے جارہے تھے اور ماں کو میری شادی کی فکر کھائے جارہی تھی، ایک روز حفیظ نے رشتے کی بات چھیڑ دی، امی نے فوراً جواب دیا۔ بیٹا… تم سے اچھا کون ہے… چاندنی تمہاری امانت ہے، جب کہو گے نکاح کرکے تمہارے ساتھ رخصت کردوں گی۔
امی کا جواب سن کر حفیظ کو تسلی ہوگئی۔ اب وہ مجھے اپنی امانت سمجھنے لگا اس کے باوجود اس نے مجھ سے کبھی کوئی غلط بات نہ کہی… اور نہ کوئی غلط حرکت کرنے کی کوشش کی۔
اچانک ٹریننگ کا آرڈر آگیا اور اسے اس سلسلے میں لاہور جانا پڑ گیا۔ نئے ماحول اور نئے دوستوں میں جانے کے باوجود اسے ہر دم میری یاد ستاتی تھی اور وہ مجھے ہمسایوں کے یہاں فون کرتا کیونکہ ہمارے گھر فون نہیں لگا تھا۔ اسے احساس ہوگیا تھا کہ مجھ سی معمولی لڑکی اس کے لئے کتنی اہم ہوگئی ہے اور مجھے بھی جو اسے دیکھنے سے قرار ملنے لگا تھا اس کے جانے کے بعد چین اور سکون سے محروم ہوگئی تھی۔
جدائی بری طرح محسوس ہونے لگی… میں پریشان اور بے چین رہنے لگی۔ حفیظ فون پر کہتا چاندنی مجھے تمہارے گھر میں اب جواریوں کا آنا کھلتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تمہاری ماں اس جوئے کے اڈے کو بند کردیں۔ سخت کوفت ہوتی ہے جب ان لوگوں کو تمہارے مکان پر تاش کے پتے کھیلتے دیکھتا ہوں۔ ہمارا کوئی کمانے والا نہیں۔ اماں نے ان کو بیٹھک دے کر روزی کا ذریعہ نکالا ہے، وہ کرائے کے علاوہ چائے وغیرہ بنواتے ہیں تو رقم دیتے ہیں۔ ہم لوگ غریب ہیں بس اسی طرح گزارا ہو رہا ہے۔ میں پڑھی لکھی نہیں کہ نوکری کرلوں۔ اماں کام نہیں کرسکتیں، پھر ہم کیاکریں؟ جواریوں کو کرایہ پر جگہ دی ہے مگر وہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں یہ تم نے بھی دیکھ لیا ہے۔
وہ ٹریننگ مکمل کرکے آگیا بالکل ہی بدلا ہوا تھا۔ آتے ہی اماں سے الجھ پڑا کہ آئندہ اس گھر میں جوا نہ ہونا چاہئے ورنہ میں تم لوگوں سے ناتا ختم کردوں گا۔ گزارے کے اور بھی شریفانہ طریقے ہوسکتے ہیں۔ میں تم ماں بیٹی کا خرچہ اٹھانے کو تیار ہوں مگر ان جواریوں سے اب بیٹھک خالی ہوجانی چاہئے۔
اماں اس کے تیور دیکھ کر سہم گئیں اور کہہ دیا بے فکر رہو اس پہلی کو ان کو کہہ دوں گی کہ کوئی اور جگہ دیکھ لو اور بیٹھک کو خالی کردو۔
واقعی ایسا ہی ہوا۔ اماں نے ان کرایہ داروں کو صاف کہہ دیا کہ اب دوسری جگہ ڈھونڈ لو۔ بیٹی کی شادی کرنی ہے اگر یہ اڈا بند نہ کیا تو میری بچی عمر بھی کنواری رہ جائے گی، اس کو بیاہنے کوئی نہیں آئے گا۔ امی نے سخت الفاظ میں الٹی میٹم دیا تھا، تبھی ان لوگوں نے جگہ خالی کردی۔ اس بات سے حفیظ بہت خوش ہوا کہ اماں نے اس کی بات مان لی تھی۔ اب کوئی جواری یہاں نہ آتا تھا۔ حفیظ ہر ماہ ہزار روپیہ امی کو دیا کرتا۔ ہمارا گزارا ہو رہا تھا۔ اس کا تبادلہ گوجرانوالہ ہوگیا تو وہ اب صرف اتوارکو ہی آتا۔ لیکن رقم ہر ماہ بھجواتا تھا۔ کبھی کبھار ہم بھی گوجرانوالہ جاتے، دن بھر اس کے ساتھ رہتے گھومتے پھرتے شام کو وہ ہمیں ٹرین پر بٹھا دیا کرتا۔
حفیظ… اکثر یہ بات کو فخر سے کہتا تھا کہ بے شک تم ایک برُے ماحول میں پلی بڑھی اور پروان چڑھی ہو، اس کے باوجود برائی سے دور رہی ہو… یہ بہت قابل تحسین بات ہے۔ اگر تم برائی میں پڑچکی ہوتیں یا میں تمہاری ماں میں کوئی غلط بات دیکھتا تو کبھی تم سے شادی کا ارادہ نہ کرتا۔
گرمیوں میں اس نے ہمارے گھر میں اے سی لگوا کر دیا تاکہ میں آرام سے رہ سکوں۔ وہ ضرورت کی ہر شے مہیا کرتا رہا حالانکہ اس کے دل میں کوئی طمع نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ مجھ سے شادی کرلے۔ وہ جائز طریقے سے مجھے حاصل کرنا چاہتا تھا۔
ایک دن ہمیں اپنے گھر لے گیا تاکہ اس کی ماں مجھے دیکھ لے۔ ہمارے جانے کے بعد ماں نے اس سے ہمارے آنے کا سبب پوچھا تو اس نے بتادیا کہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ اس کی ماں کچھ خفا سی ہوئی۔
جب ہم وہاں گئے تھے اس کا بہنوئی بھی بیٹھا ہوا تھا، امی کو دیکھ کر چونک گیا تھا اور میری ماں نے بھی اس سے نظریں چرالی تھیں۔
اسی شخص نے اپنی ساس یعنی حفیظ کی ماں کو بتادیا کہ یہ عورت اپنے گھر پر جوئے کا اڈا چلاتی ہے… اور تمہارا لڑکا اس کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ اگر یہ عورتیں ٹھیک ہوتیں تو حفیظ کے ساتھ ایسے گھومتی پھرتیں؟
بس پھر کیا تھا اس کی ماں نے تو طوفان کھڑا کردیا حفیظ کو بہت برا بھلا کہا۔ اور جتلا دیا کہ میرے جیتے جی تم ایسی لڑکی سے شادی نہیں کرسکتے جس کی ماں جوئے کا اڈا چلاتی ہو۔
حفیظ نے مجھے بتایا کہ ماں سے میرے بہنوئی نے ایسے کہا ہے۔ اور اب میں ان کی رضامندی سے تو تم کو نہیں بیاہ سکتا۔ لیکن قدم اس راہ پر اٹھ چکے ہیں تو اب لوٹنا ممکن نہیں رہا۔ دل میں ٹھان لی ہے گھر والوں سے چھپ کر بھی تم کو اپنانا پڑا تو اپنائوں گا۔
حفیظ پہلے کی طرح ہمارے گھر آتا رہا اورہم سے ناتا نہ توڑا۔ وہ اب بھی ہمارے تمام اخراجات پورے کررہا تھا۔
جب وہ اس قابل ہوگیا کہ مجھ سے شادی کرلے تو اس نے اماں سے مطالبہ کردیا کہ اب آپ بوڑھی ہورہی ہیں بیٹی کا بوجھ مجھے سونپ دیجئے۔
یہ سن کر ماں خوش ہوگئیں اور شادی کی تاریخ دے دی۔ نکاح امی کے گھر پر ہوا، جس میں دولہا کی طرف سے کوئی شریک نہ ہوا۔ مکان تو ہمارا اپنا تھا… شادی کے بعد بھی میں ماں کے پاس رہنے لگی، حفیظ کو جب چھٹی ملتی آجاتا۔ یہ محلے والوں کے علم میں تھا کہ اس کی میرے ساتھ شادی ہوچکی ہے لہٰذا کسی نے بھی رات میں بھی اس کے ہمارے گھر رہنے پر اعتراض نہ کیا۔
دن گزرتے گئے، یہاں تک کہ سال گزر گیا۔ ایک دن حفیظ نے بتایا کہ وہ ڈیوٹی پر کچھ عرصہ کے لئے ملک سے باہر جارہا ہے، چھ ماہ بعد لوٹ آئے گا۔
میں نے بھیگی آنکھوں سے اسے رخصت کیا۔ پھر چھ ماہ تو کیا اس کے انتظار میں تین سال گزر گئے اور وہ لوٹ کر نہیں آیا۔ ہم نے یہی سمجھ لیا خداناخواستہ بیرون ملک ٹریننگ کے دوران اس کی زندگی نے وفا نہ کی ہے، ورنہ وہ رابطہ تو ضرور کرتا۔
ہم نے یہ دن بہت مشکلات میں کاٹے۔ شادی اس نے گھر والوں سے خفیہ رکھی تھی۔ کون ہمیں اس کے بارے میں اچھی یا بری خبر کی اطلاع کرتا۔
جب مصیبت سر پر پڑے تو آخر کوئی حل نکالنا پڑتا ہے۔ گھر میں فاقے ہونے لگے تب امی جان نے بالآخر ابو کے ایک دوست سے رابطہ کیا اور مکان کو دوبارہ کرائے پر اٹھانے کی بات کی۔ وہ تو پہلے ہی سے چاہ رہے تھے کہ دوبارہ یہ جگہ مل جائے۔
پرانے لوگ دوبارہ آگئے گھر پھر سے جوئے کے اڈے میں تبدیل ہوگیا۔ وہی ماحول تھا اور وہی ہم تھے۔ اور میں سوچتی تھی کہ شاید ہمارے نصیب میں یہی ہے تو زندگی کو کیسے بدل سکتے ہیں۔
ابھی بیٹھک کرائے پر دئیے ہفتہ گزرا تھا کہ اچانک ایک روز حفیظ آگئے، گھر پر جوئے کا اڈا کھلا دیکھ کر ان کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ آئو دیکھا نہ تائو انہوں نے اسی وقت مجھے طلاق کے تین بول کہے اور پیر پٹختے گھر سے نکل گئے۔ اتنا بھی نہ پوچھا کہ تم لوگوں نے کیوں دوبارہ انہی لوگوں کو کرایہ پر جگہ دی اور میرے بعد خرچے کے لئے کیا کیا جتن کئے۔ یہ دن کیسے بغیر پیسوں کے گزارے… یہ بھی نہیں بتایا کہ کہاں گئے تھے اور کہاں سے آرہے ہیں۔
خدا جانے میرا کیا جرم تھا جبکہ جانتے تھے میں بری نہ تھی تو پھر کیوں مجھے ایسی سزا دی۔ آج بھی سوچتی ہوں تو کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔ آج اماں اس دنیا میں نہیں ہیں اسی مکان کے سہارے جی رہی ہوں۔ خود ایک کمرے تک محدود ہوں اور باقی سارا مکان ایک فیملی کو کرائے پر دے دیا ہے۔ اسی کرائے سے گزر بسر کرتی ہوں۔ اے کاش کہ پہلے ہی ہم ایسا کرتے۔ جواریوں کو دوبارہ جگہ کرائے پر دینے کی بجائے کسی فیملی کو دے دیتے اور خود ایک کمرے کی رہائش رکھتے تو شاید حفیظ خفا نہ ہوتے اور مجھے طلاق نہ ہوتی۔
(ص … فیصل آباد)