Humayun Saeed Aur Mehwish Hayat Ki Joori

496
لوگوں نے اس خوبصورت جوڑی کو ’’جوانی پھر نہیں آنی‘‘ میں دیکھا تو بے حد پسند کیا۔ پھر ’’دل لگی‘‘ میں یکجا دیکھا تو مداحوں کے دلوں میں ان کی محبت کچھ اور بڑھ گئی۔ پھر ’’پنجاب نہیںجاؤں گی‘‘ میں بھی انہیں اکٹھے دیکھ کر ان کے بارے میں لوگوں کی پسندیدگی پہلے سے بھی زیادہ ہوگئی۔ ہم ذکر کررہے ہیں ہمایوں سعید اور مہوش حیات کا… جن کی جوڑی فلموں میں اپنی بے مثال ’’کیمسٹری‘‘ کی وجہ سے بے حد مقبول ہوئی ہے۔ صرف ٹی وی پر ہی نہیں، سینما اسکرین پر بھی انہیں ایک دوسرے کے ساتھ دیکھ کر ناظرین کو احساس ہوا ہے کہ وہ پرفارمنس اور شخصیت، دونوں ہی کے اعتبار سے ایک دوسرے کے ساتھ بہت جچتے ہیں اور اکٹھے کام کرتے وقت ان کی اداکاری میں ایسی بے ساختگی ہوتی ہے کہ اس پر اداکاری کا گماں ہی نہیں گزرتا۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران شوبز کے میدان میں پیشہ ورانہ نقطۂ نظر سے ہمایوں سعید کے لیے حالات کس طرح تبدیل ہوتے چلے گئے ہیں، اس موضوع پر بات کرتے ہوئے ہمایوں سعید کہتے ہیں ’’چند سال پہلے پاکستانی فلم انڈسٹری تقریباً غیرفعال ہوکر رہ گئی تھی لیکن پھر کچھ لوگوں نے ہمت کرکے فلمیں بنانا شروع کیں تو بہت تیزی سے تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ پچھلے پندرہ سال سے ہم سب کو اس تبدیلی کا انتظار تھا۔ اس تبدیلی کا آغاز درحقیقت اس وقت ہوا جب سنے پلیکس سینما بنے اور ان میں بھارتی فلموں کی نمائش شروع ہوئی۔ ہم نے دیکھا کہ وہ لوگ جو فلموں کے بارے میں مایوس یا بددل ہوکر گھر بیٹھ گئے تھے، وہ دوبارہ سینما گھروں کا رخ کرنے لگے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ فلمیں دیکھنے کے شائقین ابھی موجود ہیں۔ ہمیں یہ بھی اندازہ ہوا کہ وہ کس قسم کا طبقہ ہے جو فلمیں دیکھنے آتا ہے۔ فلمیں دیکھنے والوں کی تعداد کم ضرور ہوئی تھی لیکن ایسا نہیں تھا کہ فلمیں دیکھنے اور سینما گھروں کا رُخ کرنے کا بالکل ہی، کسی کو بھی شوق نہ رہا ہو۔‘‘
ایک پُرامید مسکراہٹ کے ساتھ بات جاری رکھتے ہوئے ہمایوں سعید بولے۔ ’’بس… یہ احساس ہوتے ہی میں نے بالکل آسرا نہیں کیا اور بہت تیزی سے ’’میں ہوں شاہد آفریدی‘‘ بنانے کی تیاریاں شروع کردیں۔ وہ فلم کرکٹ کے موضوع پر تھی۔ بہت سے لوگوں نے مجھے اس موضوع پر فلم بنانے سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔ ان کے خیال میں کرکٹ یا دیگر اسپورٹس کے موضوع پر فلم کی کامیابی کا امکان کم تھا۔ ان کا مشورہ تھا کہ مجھے اس کے بجائے رومانٹک یا ایکشن فلم بنانی چاہیے۔ تاہم میں نے اپنا ارادہ نہیں بدلا، البتہ یہ خیال ضرور رکھا کہ ساری فلم صرف کرکٹ کے گرد ہی نہ گھومے بلکہ فلم کو کاروباری طور پر کامیاب بنانے کے لیے جو ’’مسالے‘‘ ضروری سمجھے جاتے ہیں، وہ بھی اس میں ڈالے جائیں۔ میری اس فلم نے سات کروڑ روپے کا بزنس کیا، جس پر لوگ حیران رہ گئے۔ اس کے بعد ایک اور پاکستانی فلم ’’وار‘‘ ریلیز ہوئی۔ اس نے بھی اچھا بزنس کیا۔ تب میں نے محسوس کیا کہ فلم میکنگ کے لیے حالات تبدیل ہورہے ہیں۔‘‘
دوسری طرف مہوش حیات نے کامیابی کا سفر آہستگی سے، لیکن تسلسل سے طے کیا ہے اور ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ وہ آگے بڑھتی چلی گئی ہیں۔ وہ اپنی کامیابیوں کو صرف خوش نصیبی کی رہین منّت نہیں سمجھتیں۔ وہ کہتی ہیں ’’میں کوئی بھی پراجیکٹ بہت احتیاط اور غوروخوض سے منتخب کرتی ہوں۔ میں دیکھتی ہوں کہ اس پراجیکٹ پر کام کرنے والی ٹیم کیسی ہے، اس کی ماضی کی کارکردگی کیا ہے، مجھے جو کیریکٹر دیا جارہا ہے، وہ کیسا ہے۔ یہ سب چیزیں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ جوں جوں آپ اپنے کیریئر میں زیادہ کامیاب ہوتے جاتے ہیں، آپ کو زیادہ محتاط ہونا پڑتا ہے۔ آپ ایک وقت میں چار کے بجائے ایک پراجیکٹ کرلیں۔ اس طرح آپ اس پر زیادہ توجہ دے سکیں گے، زیادہ محنت کرسکیں گے۔‘‘
ہم نے جاننا چاہا کہ کیا مہوش حیات کے منصوبوں میں بولی وڈ میں کام کرنا بھی شامل ہے؟ اس کے جواب میں مہوش نے انکشاف کیا کہ انہیں گزشتہ تین سال سے بولی وڈ سے آفرز آرہی ہیں لیکن وہ وہاں کام کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔ ان کا کہنا تھا ’’دراصل چند سال پہلے ہمارے ہاں فلمیں بننا تقریباً بند ہوگئی تھیں۔ چنانچہ جو فنکار بڑی اسکرین پر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے کی خواہش رکھتے تھے، وہ بولی وڈ سے بلاوا آنے پر چلے جاتے تھے لیکن گزشتہ چند سال سے صورت حال تبدیل ہوگئی ہے۔ ہمارے ہاں اچھی فلمیں بن رہی ہیں، لوگ سینما گھروں کا رُخ کررہے ہیں، فلمیں کامیاب بھی ہورہی ہیں، لوگ اپنے پاکستانی فنکاروں کو پسند بھی کررہے ہیں، چنانچہ اب ہمارے فنکاروں کو بولی وڈ جانے کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔‘‘
تاہم اس کے ساتھ ساتھ مہوش حیات کا یہ بھی کہنا کہ ’’اگر کوئی چیلنجنگ قسم کا رول ملے تو شاید میں بولی وڈ اور اس کے بعد ہولی وڈ تک بھی جانے کے لیے تیار ہوجاؤں۔ باقاعدہ منصوبہ بندی اور نہایت احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنے کے باوجود مستقبل کے بارے میں مہوش حیات کے ذہن میں کوئی خاص منصوبہ نہیں ہے۔ وہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں ’’مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ میں کل کہاں ہوں گی تاہم میں یہ ضرور کہہ سکتی ہوں کہ میں کوئی نہ کوئی نیا اور مختلف کام، کوئی نیا تجربہ ضرور کررہی ہوں گی۔‘‘
وہ ٹھیک ہی کہتی ہیں۔ اداکاری کے ساتھ ساتھ وہ گلوکاری میں بھی کیریئر بنانے کی کوشش کررہی ہیں۔ ان کوششوں میں بہن اور بھائی بھی ان کے ساتھ شریک ہیں جو گلوکار بھی ہیں اور موسیقار بھی۔ مہوش حیات کے مداح جانتے ہیں کہ وہ گلوکارہ بھی ہیں۔ کوک اسٹوڈیو سیزن 10 میں شیراز اُپل کے ساتھ ان کا گانا بے حد پسند کیا گیا تھا۔ مہوش کہتی ہیں ’’میں ہر چیز سے جلدی بور ہوجاتی ہوں، اس لیے ہر وقت کچھ نہ کچھ نیا کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہوں۔ چیلنجنگ قسم کے کام کرنا مجھے بہت پسند ہے۔‘‘
ہمایوں سعید صرف ایک مقبول اداکار اور کامیاب پروڈیوسر ہی نہیں ہیں بلکہ انہوں نے جدید سینما کو متعارف کرواکے پاکستانی فلم انڈسٹری کو نئی زندگی دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے تاہم انہیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ فلموں میں مصروف ہوجانے والے اکثر اداکار ٹی وی کو وقت دینا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمایوں کہتے ہیں ’’ہماری فلم انڈسٹری ابھی اتنی مضبوط نہیں ہوئی کہ اداکار صرف اسی پر انحصار کرنے لگیں اور ٹی وی کو بھلا دیں۔ ویسے بھی ٹی وی ہماری بنیاد ہے۔ اسی نے ہمیں شناخت دی ہے اور نئی نسل کے بیشتر فنکار ٹی وی ہی کے راستے سے ہوکر فلم تک پہنچے ہیں۔ فلم دیکھ کر واپس آنے والے لوگ بھی گھر پہنچ کر ٹی وی کے سامنے ہی بیٹھ جاتے ہیں۔ آپ فلموں میںضرور کام کریں یا فلمیں پروڈیوس کریں لیکن فلم اور ٹی وی کے درمیان توازن ضرور رکھیں۔‘‘
ہمایوں سعید نے نئے اور پرانے، سبھی اداکاروں کے ساتھ بہت کام کیا ہے۔ نئے اداکاروں کے بارے میں اظہارِخیال کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’’میں نئے فنکاروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے بہت اچھا محسوس کرتا ہوں۔ بطور اداکارہ سجل علی مجھے بہت پسند ہے۔ بعض نئے اداکاروں کو تھوڑی سی کامیابی ملتی ہے تو ان کے بڑے نخرے ہوجاتے ہیں لیکن بعض بے حد کامیاب ہونے کے بعد بھی اپنے مزاج میں انکساری برقرار رکھتے ہیں۔ میرا نئے اور پرانے، سبھی فنکاروں کے لیے مشورہ ہے کہ وہ کبھی متکبر نہ ہوں۔‘‘
مہوش حیات نئے اور پرانے فنکاروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتی ہیں ’’سات سال پہلے جب میں نے کام شروع کیا تو بہت محنت کرنا پڑتی تھی۔ ڈسپلن کا بھی بہت خیال رکھنا پڑتا تھا۔ کام بھی مشکل سے ملتا تھا۔ اب چونکہ کام بہت پھیل گیا ہے، اس لیے نئے فنکاروں کو بھی کام حاصل کرنے میں بہت زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی اور سوشل میڈیا کی وجہ سے ان کی شہرت میں بھی جلد اضافہ ہوجاتا ہے۔ اکثر وہ اس شہرت، مقبولیت اور مقام کو سنبھال نہیں پاتے اور جلد ہی زوال کا شکار ہوجاتے ہیں۔ شوبز آسان کام نہیں ہے اور اس میں کوئی مقام بنالینے کے بعد اسے برقرار رکھنا بھی بہت مشکل ہے۔ نئے فنکاروں کے لیے میرا مشورہ یہی ہے کہ وہ سنجیدگی اور احساسِ ذمے داری ہمیشہ برقرار رکھیں۔‘‘
ساتھی فنکاروں میں ہمایوں سعید اور فہد مصطفیٰ کی، مہوش حیات بہت تعریف کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان دونوں فنکاروں کے ساتھ کام کرنا ہمیشہ ایک خوشگوار تجربہ ثابت ہوتا ہے اور سیٹ پر وقت بھی اچھا گزرتا ہے۔ بعض فنکار، ڈرامے یا فلم کے سیٹ پر دوسروں پر جملے بازی اور طنز کرتے ہیں۔ اُن کی باتوں سے دوسروں کی توہین کا پہلو نکلتا ہے لیکن ہمایوں سعید اور فہد مصطفیٰ صرف مذاق کرتے ہیں ، جس میں کسی کی توہین کا پہلو نہیں ہوتا بلکہ سب اُس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔