Thursday, February 22, 2024

Ibrat Ka Namoona

میری عمر کوئی تیرہ برس ہو گی سات بھائیوں کی میں اکلوتی اور بہت ہی لاڈلی تھی ہماری کافی زمین تھی دو بھائی شہر میں پڑھتے تھے اور باقی پانچ زمینداری و کاشتکاری کا ہی کام کرتے تھے ہمارے ڈیرے کے نزدیک کوئی آبادی نہ تھی چند گز کے فاصلے پر ایک ٹیوب ویل تھا باقی ارد گرد کوئی آبادی نہ تھی اِکا دُکا کوئی جو ڈیرہ تھا وہ دور کافی دور تھا۔ ٹیوب ویل کا آپریٹر بہت ہی شریف اور ایمانداری آدمی تھا وہ زیادہ تر ہمارے گھر ( ڈیرے) پر رہتا تھا اور کھانا بھی ہمارے ساتھ کھاتا اگر وہ ٹیوب ویل پر ہوتا تو ہم اُسے کھانا وہاں پہنچا دیتے وہ کافی حد تک ہمارے ہی گھر کا فرد تھا ہمارے گھر کا کوئی راز یا کام اس سے پوشیدہ نہ تھا اور ہر کام میں اس کا مشورہ شامل ہوتا- میرے والدین اور بھائی اس سے اور وہ ہمارے گھر والوں سے بڑا ہی پیار کرتا تھا دنیاوی تعلیم کے لیے تو مجھے ٹانگہ شہر لے جاتا تھا اور دینی تعلیم میں نے مختار بھائی ( ٹیوب ویل آپریٹر) کے پاس ہی حاصل کی ۔ ان دنوں دو ماہ کی چھٹیاں تھیں اور میں اسکول کا کام کرنے بھی مختار بھائی کے پاس ٹیوب ویل پر چلی جاتی وہ مجھے پڑھائی کے علاوہ دینی تعلیم دیتے وہ مجھ سے بڑا ہی پیار کرتے تھے اس سال میں آٹھویں جماعت میں پڑھتی تھی ایک دن میں ٹیوب ویل پر کپڑے دھونے گئی تو وہاں میری عمر کا ایک اور لڑکا تھا پوچھنے پر پتہ چلا کہ بھائی مختار کا چھوٹا بھائی وقار ہے اور دو ماہ چھٹیوں میں یہاں ہی رہے گا۔ ہم چند دنوں میں گھل مل گئے ہم اکٹھے پڑھتے اور پھر اکٹھے کھیلتے میں بہت خوش تھی کہ میری عمر کا ایک ساتھی مجھے مل گیا تھا دو ماہ پلک جھپکتے میں گزر گئے وہ اگلے سال بھی آیا جب وہ جانے لگا تو مجھے کافی دکھ ہوا میرا دل چاہ رہا تھا وہ یہاں ہی رک جائے یہاں ہی پڑھے لیکن یہ سب کچھ میرے دل ہی میں رہ گیا اور وہ چلا گیا۔ اور میں آئندہ سال اس کے آنے کے لیے دن گننے لگ گئی وہ مجھے بہت اچھا لگنے لگا تھا اور اب بہت یاد آنے لگا۔ سال گزر ہی نہیں رہا تھا ہماری یہ زندگی کتنی چھوٹی ہوتی ہے اور وہ بھی ہم تجربوں اور ٹھوکریں کھانے اور سنبھلنے میں گزار دیتے ہیں وقار جب چوتھی مرتبہ اپنے بھائی کے پاس دو ماہ کی چھٹیاں گزار نے آیا تو کافی خوبصورت اور کافی ہوشیار اور چالاک ہو چکا تھا یا پھر یہ کچھ دیکھنے سمجھنے کی عمر کو میں بھی پہنچ گئی تھی۔ وقار کافی بدل چکا تھا اس کا بات چیت کرنے اٹھنے بیٹھنے کا انداز بہت زیادہ بدل چکا تھا اور میں ویسی ہی تھی جیسی چند سال پہلے تھی امی میری اس آزاری اور بے باکی پر نکتہ چینی کرنے لگیں تھیں اور میں حیران تھی کہ ایسی کون سی نئی بات ہو رہی ہے جو امی اعتراض کرنے لگی ہیں کاش میں اس وقت کچھ سمجھ جاتی یا پھر ٹھوکر لگانے والے اشارے دینے والے ٹھیک طرح سے ٹھوکر لگاتے میرے کان کھل جاتے یا پھر میرے اپنوں کو بہت زیادہ بھروسہ تھا ورنہ وہ ضرور میری حفاظت کرتے مجھ پر کوئی پابندی نہ لگائی ایسا کر دیتے تو میری آنکھیں ضرور کھل جاتیں۔ ان کی لاپرواہی تھی مجھے اس حال میں پہنچانے والے ہیں وقار اب مجھے گھور گھور کر اور للچائی نظروں سے دیکھتا اور میں نادان سب کچھ دیکھتی اور کچھ نہ سمجھ سکتی مان لیتی ہوں میری عمر سترہ برس تھی مجھے یہ سب کچھ سمجھ لینا چاہیے تھا لیکن یہ حقیقت ہے میں کچھ نہیں سمجھ پا رہی تھی۔ مجھے جیسے ہی موقع ملتا تنہائی ملتی میں اس کے پاس چلی جاتی ۔ اب زیادہ ادھر اُدھر مت گھومو پھرو اور گھر پر رہا کرو تم اب چھوٹی نہیں ہو ۔ ایک دن مختار بھائی نے بڑے پیار سے مجھے سمجھایا بھی تھا لیکن میں کچھ نہ سمجھ پارہی تھی۔ ثریا جانتی ہو میں آئندہ سال یہاں نہیں آؤں گا۔ وقار بڑے افسردہ لہجے میں ایک دن کہنے لگا۔ وہ کیوں؟ میں پریشان ہو گئی۔ وہ اس لیے کہ میں فرسٹ ایئر میں چلا جاؤں گا اور مجھے کسی دور شہر کے کالج میں داخلہ لینا ہوگا۔ وہ بڑی معصومیت سے کہہ رہا تھا لیکن اس کی آواز میں دنیا بھر کا در دسمٹ آیا تھا جیسے وہ واقعی بہت پریشان ہے۔ تو وقار تم یہاں ہی بھائی جان کے پاس رہنے لگ جاؤ نا کالج دونوں اکٹھے جایا کریں گے اور ملتے بھی رہیں گے۔

بھیا نہیں مانیں گے اور پھر ان کی نوکری کا کیا بھروسہ کل تبادلہ ہو جائے لگتا ہے ہم دوبارہ نہ مل سکیں گے اور اگر ایسا ہی ہوا تو شاید میں تمہارے بغیر زندہ نہ رہ سکوں تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو؟“ وہ روہانسا ہو گیا تھا۔ نہیں وقار ایسا مت کہو میں بھی تو تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی۔ میری آواز گھگھیا گئی۔ لیکن یہ سب ہمارے اختیار میں نہیں یہ تو ہوگا ہمیں ایک دوسرے کے بغیر رہنا پڑے گا ۔ وہ دور خلاؤں میں گھورتا ہوا بولا ۔ تم کچھ کر سکتی ہو ثریا ؟ کہتے ہوئے اس نے سوالیہ نگاہیں میرے چہرے پر گاڑھ دیں۔ میں تمہاری خاطر نہر میں چھلانگ لگا سکتی ہوں وقار بابو اگر ابھی کہے تو میں ابھی لگا دیتی ہوں۔ نہیں پگلی چھلانگ نہیں لگانی تمہیں شادی کے لیے گھر والوں کو راضی کرنا ہوگا اور میرا انتظار کرنا ہوگا ۔ وہ کہہ رہا تھا اور اس کی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی ۔ یہ کوئی بڑا کام نہیں میں آج ہی گھر والوں سے بات کروں گی ۔ میں نے فورا کہا۔ نہیں ابھی نہیں جب میں کہوں گا فی الحال تم یہ کرو رات کو مجھ سے ملنے آیا کرو دن کو کوئی کام کی بات نہیں ہو سکتی کیا خیال ہے آؤ گی نا ؟ رات کو تو بہت مشکل ہے۔ سب لوگ گھر پر ہوتے ہیں اور انہیں پتا لگ گیا تو میں ڈر گئی تھی۔ چھلانگ لگانے کو تیار ہو اور رات کو آتے ہوئے ڈرتی ہو بڑے دعوے کرتی ہو بڑا پیار ہے مجھ سے۔ میں آؤں گی وقار بابو بولو کہاں آنا ہے اور ہم کیا باتیں کرینگے ۔ پوچھتے ہوئے میں حیران تھی وہ کیا باتیں ہیں جو ہم دن کو نہیں کر سکتے اور رات کو کرینگے۔ وہ سامنے کماد کے کھیت کے پاس رات بارہ بجے کے بعد جب تمام گھر والے سو جائیں گھبرانا نہیں وہ مجھے دلاسہ اور حوصلہ دے رہا تھا ۔ ٹھیک ہے میں آؤں گی ۔ کہہ کر میں چلی گئی اندھیرا پھیلتے ہی مجھے احساس ہو گیا یہ کام اتنا آسان نہیں جتنا میں سمجھ رہی تھی۔ مجھے ڈر لگ رہا تھا لیکن میں مجبور تھی اور ایسا بہر حال مجھے کرنا تھا میں وقار بابو کو افسردہ دیکھ سکتی تھی نہ اس کی کوئی بات ٹال سکتی تھی۔ جب گھڑی کی سوئیوں نے بارہ بجا دیے تو میں اٹھ بیٹھی سردی کے باعث خون رگوں میں منجمد ہو رہا تھا خود کو بڑا حوصلہ دیا گو یہ کام انتہائی مشکل تھا لیکن نہر میں چھلانگ لگانے والے کے لیے تو آسان تھا میں نے وعدہ جو کر لیا تھا اور میں پہنچ گئی اور وقار پہلے ہی میرا منتظر تھا۔ ہولتی لڑکھڑائی گھر پہنچ گئی۔ رات میں اس خاموشی سے واپس گھر پہنچ گئی جیسے نکلی تھی ۔ سب لوگ سورہے تھے لیکن مجھے ان کا اتنا احساس نہ تھا میں تو آج نئی دنیا کی سیر کر کے آئی تھی اتنے کڑیل اور جوان سات بھائیوں کی اکلوتی بہن رات کی تاریکی میں ان کی عزت و غیرت کے پرخچے اڑا کر آگئی تھی شاید اس لیے کہ لاڈلی تھی اکلوتی اور بہت ہی پیاری بھی یہی وجہ تھی کہ وہ بڑے سکون سے سوئے ہوئے تھے۔ پھروہ جب تک گاؤں میں رہا ہم چوری چھپے ملتے رہے۔

لیکن بہت جلد ہمارے گھر والوں کو شک پڑ گیا اور مجھ پر پابندی لگ گئی لیکن انہیں کیا خبر کہ ہم تاریک راتوں کا سینہ چیرتے رہتے ہیں۔ بظاہر دن کو ہم پر پابندی لگ گئی خصوصاً مجھ پر وقار پر کوئی خاص نہیں صرف ڈانٹ ڈپٹ تک ہی محدود رہا لیکن اس کے فیل ہونے کی وجہ سے بھائی مختار کافی مشکوک ہو گئے تھے۔ وقار اب میں نہ انتظار کر سکتی ہوں نہ تمہارے بغیر رہ سکتی ہوں تم نہ جاؤ ۔ جس دن صبح اُسے جانا تھا رات کو میں نے کہا۔ یا پھر میرے والدین سے شادی کی بات کرو اس طرح میں تمہیں نہیں جانے دوں گی دوسرے لفظوں میں گویا میں نے دھمکی دے دی اس نے بڑی تاویلیں پیش کیں مجبوریاں بتائیں لیکن میں کچھ سننے کو تیار نہ تھی میں بہت دور نکل چکی تھی مجھے کچھ دکھائی کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا یہی وجہ تھی میں اس کی کوئی بات سن ہی نہیں رہی تھی ۔ آخر فیصلہ ہوا صبح بھائی مختار سے بات کرینگے جب ان سے ہم دونوں نے بات کی تو وہ اچھل پڑے انہوں نے ڈنڈا اٹھایا اور میرے سامنے وقار کی اچھی خاصی پٹائی کر دی اور مجھے بھی برا بھلا کہا۔ پھر انہوں نے میرے گھر والوں کو بتا دیا اور ہمارے گھر میں قیامت کھڑی ہو گئی اس سے پہلے کہ میرے بھائی مجھے زندہ دفن کر دیتے میں ان کے پاؤں پڑ گئی اور گڑ گڑا کر معافی مانگ لی اگر انہیں یہ پتہ چل جاتا ہم کیا کچھ کر چکے ہیں۔ تو میرا انجام دیکھ کر نجانے کتنی صدیاں وہ دھرتی کا نپتی رہتی ان کے خیال میں صرف یہ تھا شاید ہم ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے ہیں اور پھر یہ سب کچھ دیکھ کر بھی اگلی رات ہم وہ منصوبہ ترتیب دے چکے تھے جو ازل سے ہوتا آیا ہے راہِ فرار کا. جو کچھ گھر سے مل سکا میں نے لے لیا اور پھر اگلی رات ہم چھ میل کا پیدل سفر کر کے قریبی شہر پہنچ گئے اور وہاں سے راتوں رات لاہور پہنچ گئے وقار شاید میرا ساتھ نہ دیتا لیکن دوسری صورت میں انجام جو ہوتا جان چکا تھا وہ بھی مجبور تھا اور میں بھی ہمارے لیے یہ سب کچھ نیا تھا لیکن ہم اپنے کیے کے ہاتھوں مجبور تھے اور یہ سب کیا دھرا وقار کا تھا اور مجرم میں بھی تھی اگر میں نہ چاہتی تو اس کے اختیار میں کیا تھا صبح سات بجے شالیمار ٹرین سے لاہور سے ہم اللہ کے سہارے پر کراچی کے لیے روانہ ہو چکے تھے گاڑی چل پڑی تو ہم نے سکھ کا سانس لیا یقین سا ہو گیا تھا کہ ہر طرح کا خطرہ ٹل چکا ہے۔

لیکن میں زندگی میں پہلی مرتبہ جی بھر کر روئی بڑا ہی دکھ ہو رہا تھا اپنی اس حماقت پر اور حماقت کوئی معمولی بات بھی تو نہ تھی۔ میں ذرا سا دکھی ہوتی تو میرے بھائی زمین ہاتھوں میں اٹھا لیتے تھے۔ بوڑھی اور ضعیف ماں جس نے نجانے کتنے مصائب جھیل کر مجھے پالا تھا اور پھر بوڑھا باپ جس کی آنکھوں کا نور تھی اس میں کوئی شک نہیں میں ان کی آنکھوں کی روشنی تھی مجھے کیا ہو گیا تھا میں کتنی معصوم اور سیدھی سادھی تھی اور اتنا بڑا قدم اٹھاتے وقت مجھے کچھ بھی تو نظر نہ آیا۔ جنگل میں رہ رہ کر انسانوں سے دور رہ کر میں بھی کوئی جنگلی جانور بن گئی تھی۔ میرے گھر والے بھی انسان تھے۔ انہوں نے مجھے پڑھایا تھا شاید آسمانوں پر کاتب تقدیر نے یہ لکھ دیا تھا اور تقدیر بھیانک جبڑے کھولے میرا پیچھا کر رہی تھی تو میں کیا کرتی یہ کچھ ہونا تھا واپسی کی کوئی صورت نہ تھی بھائی زندہ دفن کر دیتے میں ان سب کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ آئی تھی ایک پل میں کیا سے کیا ہو گیا تھا۔ سوچنے سمجھنے کی میں نے ضرورت ہی محسوس نہیں کی اتنا بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ذرا دیر لگائی بہرحال اب مجھے صرف آگے بڑھنا تھا صرف آگے پیچھے تو صرف موت تھی اور وہ بھی دردناک اذیت ناک بار بار خیال آتا رہا اگر میں واپس ہو جاؤں تو صرف مجھے زندگی سے ہاتھ دھونا پڑیں گے باقی گھر کو تو بچالوں گی لیکن مجھ پر عشق کا بھوت سوار تھا یا اپنی زندگی بہت پیاری تھی اگر میں چاہتی تو گھر بچ سکتا تھا۔ لیکن میں اتنی خود غرض تھی خدا جانے میرے بعد میرے گھر کا حال کیا ہوا بس یہ سوچ سوچ کر دماغ کی رگیں پھٹ رہی تھیں مجھے جتنی گھر کی فکر تھی اتنی اپنی نہیں تھی میرا کیا انجام ہوگا مجھے پرواہ نہ تھی۔ بوڑھے والدین اور بھائیوں کی بربادی کا خیال مجھ پر آگ برسا رہا تھا لیکن اب کچھ کسی کے اختیار میں نہ تھا مجھے ٹرین میں سفر کرنے کا کتنا شوق تھا اور جب سفر کر رہی تھی تو گاڑی کے اندر بیٹھنے کا اتنا شوق نہ تھا جتنا گاڑی کے نیچے لیٹ جانے کا تھا۔ اب تو صرف موت ہی مجھے سکون دے سکتی تھی اس دن مجھے یہ احساس اچھی طرح سے ہو گیا تھا انسان کے اختیار میں اتنا نہیں جتنا تقدیر کے اختیار میں ہوتا ہے یہ سب کچھ کون کروا رہا تھا صرف تقدیر ہی کروا رہی تھی ۔ میں تو یہ کچھ سوچ بھی نہیں سکتی تھی میں کتنی بزدل ڈرپوک تھی اور یہ ہمتیں حوصلے کہاں سے آئے اور آنا فانا میری زندگی اندھیر کردی اور میرا سارا گھر محض میری وجہ اور میرے کردار و فعل کے باعث تباہ ہوا تھا …. وقار تو گم صم تھا جیسے وہ بولا تو گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو جائے گا میں اپنے خیالوں سے چونکی تو ادھر اُدھر دیکھا لوگ طرح طرح کی خوش گپیوں میں مشغول تھے کوئی سو رہا تھا اور کوئی کھڑے کھڑے سفر کرتے ہوئے لمحے لمحے کا حساب دے رہا تھا ایسا ہی ہوتا ہے میں سوچنے لگی کوئی نیند کے مزے لے رہا ہے اور کسی کو بیٹھنے کی جگہ نہیں مل رہی۔

سفر تو سب نے کرنا ہے اور ایسا کیوں ہے عجیب عجیب سوچیں میرے اندر توڑ پھوڑ کر رہی تھیں اور دماغ کی جیسے شریانیں پھٹنے والی ہیں گاڑی برق رفتاری سے اپنی منزل کی سمت بڑھ رہی تھی اُسے تو معلوم ہی نہیں تھا میرے اندر بیٹھنے والے کون ہیں کیا کچھ لٹا کر آئے کیا کچھ برباد کر کے آئے ہیں اور ان کا انجام کیا ہوگا ہو گا اُسے تو کوئی واسطہ نہیں ایک لمبے اور تھکا دینے والے سفر کے بعد ہم کراچی کینٹ اسٹیشن پر پہنچے تو خوف سے میرا رواں رواں کانپ رہا تھا ہر آدمی مجھے بھائی لگ رہا تھا ۔ میرے بھائی ضرور کراچی پہنچ گئے ہوں گے یہ میں نے کیا کر دیا ہر آدمی کو میں گھور گھور کر دیکھ رہی تھی قدم قدم پر لرز جاتی اگر میرا کوئی بھائی یہاں پہنچ گیا تو مجھے زندہ نہیں چھوڑے گا۔ تو چھوڑے بھی کیوں میں نے صرف اپنی زندگی ہی نہیں پورے گھر کو زندہ درگور کر دیا تھا آخران کا کیا جرم تھا۔ پہلے انہوں نے مجھے پالا پڑھایا جوان کیا اور ان کی زندگیاں میری وجہ سے برباد ہوئی میں اتنی قیمتی تو نہ تھی کہ محض میری وجہ سے سب گھر تباہ ہو جائے۔ وقار کے گاؤں کا ایک آدمی تھا وقار کا دوست تھا یا جاننے والا بہرحال ہم اس کے سہارے پر کراچی آئے تھے وہاں پہنچتے ہی وہ گھر پر ہی تھا پہلے تو وہ ہمیں دیکھ کر کانپ گیا۔ لیکن مجھے دیکھ کر اس کی باچھیں کھل گئیں ۔ اس نے ہمیں خوش آمدید کہا بڑی خاطر مدارت کی مجھے ذرا تسلی ہوئی چلو ٹھکانہ تو مل گیا کمرہ ایک ہی تھا لیکن ضرورت کی ہر چیز موجود تھی ۔ سہولت تھی وہ اکیلا ہی رہتا تھا یہ اچھا ہوا ورنہ ہمارے راز پر زیادہ دیر پردہ نہ رہتا اور ہمارا کیا انجام ہو تا چند دن تو خوب مہمان نوازی ہوئی اس نے میرے بارے میں کچھ بھی نہ پوچھا۔ تو مجھے شک ہوا کہیں وقار نے پہلے ہی تو اسے سب کچھ نہیں بتا رکھا اور یہ ہی حقیقت تھی وقار اس کے مشوروں پر عمل کرتا ہوا یہاں تک پہنچا تھا میری وجہ سے وہ اتنا بوکھلا گیا تھا کہ بات کرتے ہوئے کوئی کام کرتے ہوئے دھیان مجھ پر ہی رکھتا اور مجھے یہ بڑا ناگوار گزرتا لیکن کیا کرتے مجبور تھے چاہیے تو یہ تھا وہ وقار سے بات کرے جب کہ وقار اس کے خیال میں گھر کے کونے کھدرے میں پڑا ہوا کوئی بیکار سامان تھا۔ نجانے وقار بھی اس سے کیوں دب کر رہ رہا تھا ۔ شروع شروع میں تو صرف یہ سمجھتی رہی کہ شاید وقار اسے محسن سمجھتے ہوئے درگزر کر رہا ہے۔ ہفتے بھر بعد ہمارا نکاح ہو گیا اور میں وقار کی بیوی بن گئی ایک ماہ کا عرصہ تو گزر گیا کوئی خاص بات نہ رونما ہوئی اور پھر ایک دن وہ وقار کا دوست جس کا نام مشتاق تھا۔ اپنی اصلیت پر آگیا ایک دن رات کا کھانا جب کھا چکے تو وہ بولا ۔ دیکھو وقار جیسا کہ تم جانتے ہو میرا ایک شریف گھرانے سے تعلق ہے تمہاری مجبوری دیکھتے ہوئے میں نے تمہیں سہارا دیا اب تمہیں چاہیے کوئی بندوبست کر لو۔ اس سے پہلے وقار کچھ بولتا میں نے کہا۔ بھیا آپ نے ہمیں سہارا دیا آپ کی بڑی مہربانی لیکن جب تک ہم یہاں ہیں ہم آپ کو پورا پورا خرچہ دیں گے ہمارے پاس پیسے ہیں ۔ بات یہ نہیں خرچہ تو میں بھی آپ کو کھلا سکتا ہوں اصل بات ٹھکانے کی ہے آپ لوگ کوئی الگ مکان لے لیں اور وقار کو بھی چاہیے کہ کوئی نوکری وغیرہ کرے اگر کوئی میرا ملنے والا آگیا تو میں اُسے کیا جواب دوں گا ۔۔ وقار نوکری کیسے کرے بھیا میں اکیلی گھر پر کیسے رہ سکتی ہوں، ایسا فی الحال تو ناممکن ہے ۔ میں گھبرا گئی تھی بہرحال فوری نہ سہی آپ کو بندو بست تو آخر کرنا ہوگا وہ مکروہ سی ہنسی ہنستے ہوئے بولا ۔ میرے ذہن میں خدشات ہتھوڑے مارنے لگ گئے۔ یہ آدمی صیح نہیں جبکہ میں اسے کتنا عظیم سمجھ رہی تھی ۔ رات کو میں نے وقار سے کہا۔ اس سے پہلے کہ کوئی خلاف توقع صورت حال کا سامنا کرنا پڑے ہمیں کوئی بندوبست کرنا پڑے گا تمہارے دوست کے ارادے مجھے ٹھیک نہیں لگتے وہ کسی وقت بھی ہماری تباہی کا باعث بن سکتا ہے مجھے یہ ڈر تھا کہیں یہ پولیس وغیرہ یا ہمارے گھر والوں کو اطلاع نہ کر دے ۔ جبکہ حقیقت کچھ اور تھی۔

ثریا اتنی جلدی کیسے کوئی بندو بست ہو سکتا ہے مکان کے علاوہ ہمیں ایک آدھ انسانی سہارے کی بھی ضرورت ہے۔ ہم اس اتنے بڑے شہر میں نا واقف ہیں کاش ہم یہ کچھ نہ کرتے۔ یہ کہتے ہوئے وقار تقریبا رو دیا۔ وقار یہ کیا کہہ رہے ہو؟“ میں چیخ اٹھی۔ تم میرا سہارا بننے حوصلہ دینے کے بجائے مجھے الٹا ڈرا رہے ہو وقار میں نے محض تمہارے پیار میں نہ صرف خود کو بلکہ پورے گھر کو قبرستان میں دھکیل دیا ہے اور تم ابھی سے ہمت چھوڑ بیٹھے ہو۔ تمہیں سہارا دے دوں مجھے کون سہارا دے گا میں بھی تو تم جیسا ہی ہوں میں بھی اتنا ہی مجبور و بے بس ہوں جتنی تم ہو وہ روہانسا ہو گیا۔ اگر تمہاری یہ پوزیشن ہے تو مجھے کیوں برباد کر دیا ہے تو نے ۔ میں چلائی۔ میں یہ سمجھ رہی تھی واقعی وقار معصوم ہے کمزور بزدل اور مجبور ہے لیکن وہ معصوم چہرہ اتنا مکار اور بھیانک ہوگا میرے فرشتے بھی نہیں جانتے تھے وقار کا یہ روپ بھی ہو سکتا ہے میں نہیں سوچ سکتی تھی یا پھر انسان کے کئی روپ ہوتے ہیں یہ نہیں جانتی تھی اور پھر یہ مرد کی ذات کسی وقت کوئی نیا روپ دھار لیتی ہے یہ نہیں جانتی تھی شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی کو اتنے قریب سے دیکھا نہ تھا مجھے تو بچپن سے پیار خلوص محبتیں اور ہمدردی ہی ملی تھی میں تو صرف اتنا جانتی تھی کہ سب لوگ ایسے ہوتے ہوں گے جیسے میرے گھر والے ہیں۔ لیکن گھر سے ہزاروں میل دور آج مجھے کن حالات سے اور کیسے لوگوں سے پالا پڑے گا یا شاید میں ان لوگوں میں سے ہوں جو تمام عمر ٹھوکریں کھانے سنبھلنے اور پھر ٹھوکریں کھانے میں ہی عمر گزار دیتے ہیں۔ کیسے بھی حالات ہوں ڈٹ کر مقابلہ کروں گی۔ جب برباد ہونا اور اتنی سستی موت ہی مرنا ہے تو کیوں نہ زندگی کی قیمت وصول کروں بلکہ اب تو مجھے پورے گھر کی زندگیوں کی قیمت وصول کرنا تھی ۔ بہرحال میں نے وقار کو مزید کچھ کہنا اور تنگ کرنا چھوڑ دیا تھا اور میں کر بھی کیا سکتی تھی جبکہ میں مکمل طور پر ان دونوں ہی کے قبضے میں تھی۔ میں نے خود کو وقت کے دھارے پر چھوڑ دیا اور آنے والے وقت اور فیصلوں کے انتظار میں بیٹھ گئی۔ میں نے خاموشی اختیار کر لی اور اندر ہی اندر روتی یہ کتنی بڑی خطا کر بیٹھی ہوں میں جس کا کفارہ مرکر بھی نہیں دے سکتی تھی ایک میری زندگی کا سوال ہوتا تو معمولی بات تھی اور پھر جس کے لیے یہ سب کچھ کیا وہ کیا نکلا وہ کیا تھا وہ تو خود معصوم روتا چیختا بچہ تھا۔ اُسے تو خود دلاسے اور سہارے کی ضرورت تھی میں سمجھ گئی تھی اس نے مجھے برباد کیا اور خود ہوا یہ صرف اس مشتاق کی نوازشیں ہیں وہ اب ہمیں گھر سے نکالنے کی یا گھر میں رہنے کی قیمت وصول کرنا چاہتا تھا اور اس کے نزدیک میں کچھ بھی نہیں تھی۔ سوائے بد کردار اور ایک داشتہ کے میری کوئی حیثیت ہی نہ تھی اس کا خیال تھا میں جس طرح چاہوں گا وہ ہوگا اور وقار کو تو پہلے ہی جانتا تھا اور یہی وجہ تھی وہ وقار کو استعمال کر رہا تھا اور اب اس کا مقصد پورا ہو چکا تھا۔ ایک دن میں کچن میں کھانا تیار کر رہی تھی تین گز کے فاصلے پر کمرے میں وقار لیٹا ہوا تھا کہ مشتاق کچن میں آ گیا وہ کافی حواس باختہ لگ رہا تھا اس کے دل کی دھڑکن صاف سنائی دے رہی تھی اور میں جانتی تھی ایسا بہت جلد ہونے والا ہے اس لیے میرے لیے کوئی انہونی نہیں تھی اور میں پرسکون تھی اور میرا مجازی خدا میرے سر پر موجود تھا میری عزت کا رکھوالا اور میرا محافظ تین گز کے فاصلے پر تھا۔ بھوک لگی ہے بھیا میں نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا جبکہ میں اُسے دیکھ چکی تھی اور وہ سمجھ رہا تھا کہ میں نے اُسے دیکھا نہیں ہے ۔ ثریا تمھیں کیا معلوم تھا کہ میں ہوں؟ وہ اکھڑی سانسوں پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولا ۔ مجھے یقین تھا اس لیے کہ وقار کبھی کچن میں نہیں آیا نہ آتا ہے میں جانتی ہوں پھر آپ ہی ہو سکتے ہیں اور کون ہو سکتا تھا اور پھر وقار کو اتنی بھوک نہیں لگتی جتنی آپ کو لگ سکتی ہے ۔ میں نے ایسے ہی بے تکی ہانکی ۔ جب یہ جانتی ہو تو پھر یہ بھی جان لو مجھے روٹی کی نہیں تمہاری بھوک ہے ۔ وہ بڑی ڈھٹائی سے کہنے لگا۔ میں آپ کی بہن ہوں مشتاق بھائی اور پھر آپ کے دوست کی عزت ہوں ۔ میں نے صورت حال مٹانے کی کوشش کی کہ وہ سنبھل جائے جبکہ میں سوچ چکی تھی یہ سب کچھ فضول ہے اور میں ان حالات میں بات کو بڑھانا بھی نہیں چاہتی تھی۔ کیسی بہن اور کون بھائی نہ تم میری بہن ہو نہ میں تمہارا بھائی ہوں چھوڑو ان فضولیات کو اور وقت ضائع نہ کرو آجاؤ میری بانہوں میں یہ مدتوں سے تم جیسی دوشیزہ کے لیے ترس گئی ہیں ۔ اس کی کمینگی پورے عروج پر تھی۔ یہ پھر بات کریں گے ابھی وقار سامنے ہے دیکھ لے گا۔ میں نے پینترا بدل کر وقت ٹالنا چاہا۔ كون وقار کیسا وقار وہ تو تمہیں لایا ہی میرے لیے ہے اب تم میری ہو وقار کو بھول جاؤ۔ کہتے ہوئے وہ میرے قریب آ گیا اور زبردستی مجھے آغوش میں لے لیا میں نے چیخنا اور چلانا شروع کر دیا میں جو پہلے ہی پریشان تھی حواس کھو بیٹھی میرا خیال تھا آواز سن کر وقار دوڑتا آئے گا لیکن یہ میرا محض خیال تھا یہ تو سب ایک منصوبے کے تحت ہو رہا تھا۔

جب محافظ ہی لٹیرے بن جائیں تو انسان کہاں تک ہاتھ پاؤں مارسکتا ہے۔ کیا کر سکتا ہے ساری صورت حال کھل کر میرے سامنے آچکی تھی جبکہ پہلے خدشات تھے اور میں یہ بھی سمجھ رہی تھی یہ میرا وہم ہے وقار بہت اچھا انسان ہے.. خود کو سنبھا لو مشتاق ٹھیک ہے میں تمہاری بات سمجھ گئی ہوں ۔ میں نے حواس پر قابو پاتے ہوئے حالات کا پانسہ پلٹنا چاہا میرا اتنا کہنا تھا اس کی باچھیں کھل گئیں وہ ایک دم پھیل گیا۔ ثریا جب تم ساری بات سمجھ گئی ہو تو یہ اچھی طرح جان لو بیوی تم وقار کی رہو گی اور آج کے بعد وہ اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ زور دار لکڑی اس کے سر پر لگی اور اس کے سر سے خون ابلنے اور بہنے لگا وہ دور جا گرا شاید وہ اس صورت حال کے بارے میں سوچ بھی نہ سکتا تھا اور میں نے پہلے تو کوشش کی کہ وقت مل جائے اور پھر سوچ سمجھ کر کوئی فیصلہ کروں گی لیکن جب اس کی بے ہودگی حد سے بڑھی تو مجھے مجبوراً موقع ملتے ہی یہ کرنا پڑا وہ گر پڑا تھا اس کا جسم خون سے لت پت ہو چکا تھا اور میں باہر نکل آئی۔ بے غیرت جا اپنے محبوب کو سنبھال جس کے لیے مجھے لایا تھا ۔ میں نے اپنے مجازی خدا سے کہا۔ یہ کیا کر دیا تو نے ثریا . اب کیا ہو گا اگر اُسے کچھ ہو گیا تو کہتے ہوئے وہ کچن کی طرف دوڑ پڑا اور میں بستر پر گر پڑی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی مجھے کوئی نہ تھا چپ کرانے والا دلاسہ دینے والا حوصلہ دینے والا پھر میں بے ہوش ہوگئی تھی کچھ خبر نہیں تھی جب ہوش آیا تو شام کے دھندلکے ہر سو پھیل چکے تھے وہ دونوں غائب تھے میں گھر میں اکیلی تھی میرے سر میں ہزاروں آندھیوں نے طوفان برپا کر رکھے تھے اب میرا کیا بنے گا کیا انجام ہوگا کہاں جاؤں گی رات بھر اکیلی بیٹھی روتی اور سوچتی رہی کچھ کھایا پیا بھی نہیں وہ کہاں گئے اور میرے بارے میں ان کا ارادہ کیا ہے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ آخر کار یہ طے ہو گیا مرنا ہے اور صرف مرنا ہے ۔ لیکن سستی موت ہرگز نہیں کچھ قیمت لگوانی ہے مجھے خود کو سنبھالنا ہے اور حالات کا مقابلہ ٹھیک طریقے سے کرنا ہے نہیں تو اگر ذرا سی کمزوری اور نرمی میں نے برتی تو میرا سب کچھ تباہ ہونے کے بعد انجام کیا ہوگا سامنے تھا۔ اگلی صبح وقار شاید اسپتال سے آیا تھا چھوٹتے- ہی کہنے لگا۔ تم نے اچھا نہیں کیا وہ ہمارا محسن تھا اگر تم اس کی بات مان لیتی تو کیا فرق پڑتا . وقار تو اتنا بے غیرت ہوگا .. اس کے آگے میں کچھ سن نہ سکی و قار تو مجھے اس کے لیے لایا ہے یہ سچ ہے۔ میں نے کلیجہ تھام کر پوچھا۔ ہاں اس کے لیے لایا ہوں ۔ وہ دھاڑا میں ذہنی توازن کھو بیٹھی قریبی چارپائی پر دھڑام سے گری میں بے ہوش ہو گئی تھی جب ہوش آیا تو وہ جا چکا تھا بے شک اسپتال ہی گیا تھا۔ جب سنبھلی ہوش ٹھکانے آئے تو مجھے فیصلہ کرنے میں زیادہ دیر نہ لگی اور میں نے فیصلہ کر لیا میں اس تمام صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے بھی وقار کو ایک موقع دینا چاہتی تھی ۔ شاید وہ اتنا مجبور و بے بس یا واقعی بے غیرت ہے اور وہ مجھے مفت کا گھسا پٹا مال سمجھ کر لے آیا ہے اب مجھے صرف دیکھنا یہ تھا کہ وقار مجبور ہے یا بے غیرت؟ شام کو وقار آ گیا۔ اس کی حالت ٹھیک نہیں اگر وہ مر گیا تو میں تجھے تھانے پہنچا دوں گا ۔ وہ غرایا۔ ٹھیک ہے وقار مجھے تھانے پہنچا دینا لیکن اگر میں مشتاق کی بات مان لوں تو تمہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ آخر میں تمہاری بیوی ہوں عزت ہوں تمہیں دکھ صدمہ نہیں ہو گا ؟ نہیں کچھ نہیں ہو گا یہ وقت کی مجبوری ہے ثریا ۔ وہ مجھے آمادہ دیکھ کر جھوم اٹھا جی ہاں یہ میرا مجازی خدا تھا۔ میری عزت کا محافظ اور اس کے لیے سات بھائیوں کی اکلوتی لاڈلی اور پیاری بہن بوڑھے والدین کی روشنی رات کی تاریکی میں سب کچھ چھوڑ کر آگئی تھی کہ وقار اداس نہ ہو میری وجہ سے وقار کو دکھ نہ پہنچے۔ مگر وقار کمرہ تو ایک ہی ہے ۔ میں اس بے غیرت کی انتہا دیکھنا چاہتی تھی بظاہر میرے لہجے میں آمادگی تھی۔ تو کیا فرق پڑتا ہے میں دوسری چار پائی پر ہوا کروں گا۔ وہ بڑے اعتماد و بردباری سے کہہ رہا تھا۔ اس کا مرجھایا ہوا اور افسردہ چہرہ ایک دم کھل اٹھا ۔ وقار تم ایک پورے گھرانے کو قبرستان پہنچا کر سکون سے جیو گے یہ نہ ہوگا۔ میں نے دل ہی دل میں کہا اور اسے مزید ٹولنے لگی۔ بے غیرتی کی تمام حدیں تو وہ پھلانگ ہی چکا تھا۔ وقار ایسا کیوں نہ کر لیں تم مجھے طلاق دے دو اور میں مشتاق سے ہی شادی کرلوں ؟ یہ ہو جائے تو بہت اچھا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں مانے گا ۔ وہ ایکدم کھو سا گیا۔ صرف اس لیے کہ مشتاق پتہ نہیں میری بیوی سے شادی کرے گا بھی یا نہیں ۔ فکر نہ کرو وقار مشتاق کو میں منا لوں گی تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔ وہ یہ سن کر ایکدم اچھلا اور بانہیں کھول کر مجھے سمیٹنا چاہا۔ نہیں وقار پیچھے ہٹ جاؤ مجھے مت چھوؤ اس لیے کہ آج کے بعد میں تمہاری نہیں مشتاق کی عزت اور بیوی ہوں ۔ منصوبے کو ہاتھ میں لینے ہوئے میں نے کہا۔ چلو بابا بن جانا اس کی بیوی آخری بار ہمارے سینے بھی لگ جاؤ کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔ دل میں آئی اس کا قیمہ بنا کر چبا ڈالوں۔ اپنی عزت و ناموس غیرت کی اس قدر بھی کوئی ہے حرمتی کر سکتا ہے کم سے کم میرا ذہن تو ماننے کو تیار نہ تھا۔ میں نے کوئی جواب نہیں دیا خود پر بڑی مشکل سے قابو پا رہی تھی کہیں ایسا نہ ہو میرا بنا بنایا پروگرام میری معمولی سی لغزش سے خاک میں مل جائے۔ آج شام تک مشتاق واپس آ جائے گا اس کا زخم کافی بہتر ہو گیا ہے میں اُسے خوش خبری سنانے جا رہا ہوں۔ جاتے جاتے اس نے کہا وہ کتنا خوش تھا وہ بےغیرتی کی تمام حدیں پھلانگ چکا تھا انسان اتنا گھٹیا بےغیرت کمینہ ہو سکتا ہے سوچ سوچ کر میں پاگل ہو رہی تھی آخر وقار ایسا کیوں کر رہا ہے ٹھیک ٹھاک مرد تھا اسے کیا ہو گیا میں تو کیا اگر اس کی بہن بھی ہوتی تو وہ دوست کے حوالے کر دینے میں فخر محسوس کرتا۔ اس دن میں جی بھر کر روئی ۔ باقی ماندہ عمر کا رونا میں ایک دفعہ رولینا چاہتی تھی۔ اور جب میرے اندر کا تمام غبار نکل گیا تو میں نے قسم کھائی آئندہ نہ روؤں گی نہ پریشان ہوں گی ۔ اب میں معصوم سیدھی سادھی ثریا نہیں تھی ایک بپھری ہوئی چنگھاڑتی شیرنی کا روپ دھار چکی تھی اب مجھے صرف ایک کام کرنا تھا اپنی بربادی کی زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کرنا اور وقار مشتاق کی زندگی کی قیمت اور وقت جتنا کم کر سکتی تھی کرنا تھیں مجھے خوشی تھی مشتاق اسپتال سے آج ہی آجائے اور آج ہی میں وقار کی پریشانی کم کر دوں لیکن افسوس مشتاق کو آنے میں مزید ہفتہ لگ گیا۔ وقار سمجھ رہا تھا کہ میں یہ سب کچھ بخوشی کرنے کو تیار ہوں جو وہ چاہتے تھے مجھے اور تو کوئی اتنا دکھ نہ تھا رہ رہ کر دکھ اس بات کا ہو رہا تھا کہ وہ وقار جسے میں جانے کیا سمجھا اور وہ کیا نکلا اور محض اس کی خاطر کتنے انسانوں کو تڑپتی سکتی موت دے دی تھی میں وقار کو اتنی آسانی سے کیسے معاف کر دیتی پھر مشتاق آگیا گھر میں نئی طرح کی رونقیں اٹھکھیلیاں کرنے لگیں۔ اب مجھے اگر تھوڑا بہت سکون مل سکتا تھا تو وہ صرف یہ ہی طریقہ تھا کہ ان دونوں سے انتقام لے کر خود تھانے چلی جاتی اور اقبال جرم کر لیتی۔

اس سے پہلے کہ میں اپنے منصوبے پر عمل کرتی میں کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھی کہ ایک دن ایک نئے انکشاف نے میرے ذہن کے پر خچے اڑا کر رکھ دیے شاید وہ ضرورت سے زیادہ چالاک اور مکار تھے اور میں اتنی نادان تھی۔ ثریا بیگم و قار تو گھر پہنچ چکا ہے اسے اب بھول جاؤ اب تمہیں میرے اشاروں پر ناچنا ہوگا ۔ ایک دن مشتاق قہقہے لگاتا ہوا بولا لیکن ایک بات میری سمجھ سے باہر تھی اس نے میرے ساتھ کوئی بد تمیزی نہیں کی تھی۔ پہلے تو میں سمجھی یہ کوئی فراڈ ہے وقار ایسا ہرگز نہیں کر سکتا لیکن یہ حقیقت تھی وقار صاحب جا چکے تھے اور اب میں مشتاق کے رحم و کرم پر تھی ادھر مجھے اپنا منصوبہ خاک میں ملتا دکھائی دے رہا تھا وقار بھاگ گیا تھا میری آرزوؤں میرے ارمانوں کا قاتل تو وہ تھا، مجھے تو انتقام اس سے لینا تھا لیکن یہاں کامیابی پلٹ گئی تھی ۔ مشتاق سے میں نے کئی مرتبہ فریاد کی کہ مجھ سے شادی کر کے مجھے ہمیشہ کے لیے تحفظ دے دو میں بر باد تو پہلے ہی ہو چکی ہوں اب مجھ میں ہمت نہیں کوئی نیا صدمہ برداشت کرنے کا میں نے اپنے منصوبے سے دست بردار ہونے کی سوچ کر مشتاق سے درخواست کی۔ تمہیں صرف میری داشتہ کے طور پر رہنا ہو گا شادی کے چکروں میں نہ پڑو میں تو پہلے ہی شادی شدہ ہوں ۔ وہ انتہائی کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑبڑایا میں نے مشتاق کی بڑی منت سماجت کی لیکن وہ میری بے بسی پر قہقہے لگاتا۔ پہلے تو تمہیں زخمی کرنے کا مزہ چکھاؤں گا بعد میں سوچوں گا تمہارے ساتھ کیا کروں ۔ مجھے معاف کر دو مشتاق اتنے بڑے شہر میں میرا کوئی نہیں اب سوائے تمہارے ہاں ہاں یہ تو ہے تو میرے اشاروں پر ناچنے کے لیے تیار ہو جا اگر میری ہمدردی چاہیے تو ورنہ، ورنہ کیا مشتاق؟ میں مکمل طور پر ہتھیار پھینک چکی تھی جاننا چاہتی تھی وہ کیا چاہتا ہے۔ ورنہ تم خود ذمہ دار ہو اپنا سیاہ سفید سوچ لو کوئی زبردستی نہیں ۔ وہ میری بے بسی پر طنز کر رہا تھا۔ ٹھیک ہے چند دن مجھے سوچنے کی مہلت دو میں کوشش کروں گی تمہاری بات مان لوں یا پھر تمہارا گھر چھوڑ دوں ۔ میں کوئی فیصلہ کرنا چاہتی تھی لمحہ لمحہ سکتی زندگی سے تنگ آچکی تھی ۔ ٹھیک ہے سوچ لو ۔ کہہ کر وہ گھر سے باہر نکل گیا وہ سارا سارا دن باہر رہتا نجانے کیسی نوکری کر رہا تھا وہ … چند دن گزرے ہوں گے وہ کہنے لگا۔ تو پھر کیا سوچا ثریا رانی ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کر سکی آج رات کی مہلت دے دو صبح ہوتے ہی میں تمہاری بات مان لوں گی یا یہ گھر چھوڑ دوں گی ۔ میری بے بسی انتہا کو تھی۔ بالکل ٹھیک اس نے ایک شیطانی قہقہہ لگایا ۔ وہ جانتا تھا یہ کہاں جائے گی اسے میری بات ماننا پڑے گی جبکہ مجھے اپنی عزت کی پوری پوری قیمت وصول کرنا تھی میں اتنی سستی تو نہ تھی جتنی وہ سمجھ رہا تھا رات آدھی سے زیادہ ڈھیل چکی تھی دروازے پر دستک ہوئی یہ وہ رات تھی جس کی میں نے مہلت مانگی تھی۔ میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو ہاتھوں میں پستول لیے دو نقاب پوش میرے سامنے تھے میں خوف سے لرز گئی لیکن جلدی سنبھل گئی اس سے پہلے کہ وہ مجھ سے یا میں ان سے کچھ پوچھتی ۔ انہوں نے مجھے اٹھا کر گاڑی میں ڈال دیا۔ خبردار چیخنے چلانے کی ضرورت نہیں۔ ایک نقاب پوش نے دھمکی دی اور پھر مجھے کچھ ہوش نہیں رہا۔ جب ہوش آیا تو میں ایک انتہائی قیمتی بیڈ روم میں تھی اور میرے سامنے والی کرسی پر بیٹھا کوئی سگار پی رہا تھا۔ مجھے ہوش میں آتا دیکھ کر بولا ۔ دیکھولڑ کی تمہیں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں یہ بہت بڑا بنگلہ ہے جس کے بیڈ روم میں تم موجود ہو میں نے تمہیں ساٹھ ہزار میں خرید لیا ہے میں کبھی کبھار آیا کروں گا ماضی کو بھول جاؤ نئی زندگی سے سمجھوتہ کرنے کی کوشش کرو یہاں پر تمہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہوگی نوکر خدمت کے لیے حاضر ہیں ہر چیز تمہیں اشارہ کرنے پر مل جائے گی لیکن کوئی احمقانہ حرکت کرنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ پچھتاؤ گی۔

چوٹیں کھانے کی شاید اتنی عادی ہو چکی تھی کہ اس انکشاف سے کوئی مجھ پر بجلی نہ گری۔ تو میں ساٹھ ہزار میں فروخت کر دی گئی ہوں اس کے جانے کے بعد میں نے سوچا۔ چلو کوئی بات نہیں اور کچھ نہیں تو کم از کم گھر اور تحفظ تو مل ہی گیا ہے ۔ کافی دیر روتی اور سوچتی رہی پھر ایک چھناکے سے اٹھ بیٹھی چلو زندگی کو اپنے ارمان پورے کر لینے دو میں حالات
سے ہر طور سمجھوتہ کروں گی یہ جو کوئی بھی ہے میری عزت کی دھجیاں بکھیرے گا لیکن گھر تحفظ تو دے گا ضرورتیں تو پوری کرے گا ایسے بھی تو میرے پاس کیا رہ گیا بس ایک صدمہ مجھے سنبھلنے نہیں دے رہا تھا۔ ایک شخص بھاگ گیا اور دوسرے نے ساٹھ ہزار وصول کر لیے اور خوش و خرم گھوم پھر رہے ہیں۔ چلو زندگی نے ساتھ دیا تو پھر کبھی سہی ہرحال
میری زندگی کا مقصد صرف ایک ہی تھا ان دونوں سے انتقام لینا اور نہ مجھے جینے کی کوئی آرزو نہیں تھی۔ وہ سیٹھ صاحب ہفتے میں ایک دو دفعہ آتے اور پھر چلے جاتے اس نے میری عزت لوٹ کر جو مجھے عزت اور مقام دیا اس کا تو میں تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ کئی قسموں کی گاڑیاں میرے لیے مختص کر دی گئیں تھیں نوکر میرے اشاروں پر ناچتے طرح طرح کے کھانے ضرورت کی ہر چیز دولت کے انبار میرے قدموں میں صرف معمولی سا تحفظ تلاش کرنے والی کو سب کچھ ہی تو مل گیا تھا لٹی ضرور تھی لیکن بھاری قیمت . کے عوض میں کافی مطمئن ہوگئی تھی گھر پر میرا مکمل کنٹرول تھا۔ میرا ہر طرح سے خیال رکھا جاتا ہر طرح سے خدمت گار موجود تھے سال بھر کا عرصہ گزر گیا ۔ میری زندگی ایک ہی معمول پر گزر رہی تھی دکھ بانٹنے والا کوئی نہ تھا باقی سب کچھ تھا شام کو ڈرائیور مجھے سیر و تفریح کے لیے لے جاتا زندگی بڑی عجیب سے موڑ پر آگئی تھی لیکن مجھے سکون نہیں مل رہا تھا جبکہ عام حالات میں میری زندگی قابل رشک تھی ۔ زندگی مخصوص دائرے میں گھومتی رہی اور میرے اندر لاوا پکتا رہا آہستہ آہستہ کرنسی نوٹوں کی بدولت ڈرائیور کو میں نے قابو کر لیا تھا اور اس سے مشتاق کی خبر گیری کرواتی رہی اور جلدی یہ پتہ چل گیا مشتاق بھی سیٹھ صاحب کا کارندہ ہے لیکن اگر ایسا ہے تو سیٹھ صاحب نے ساٹھ ہزار اُسے کس لیے دیے وہ ایسے بھی اس سے چھین سکتے تھے یہ بات میری سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ شروع شروع میں میری نگرانی کی جاتی رہی لیکن شاید اب سیٹھ صاحب کو یقین ہو گیا تھا کہ بھاگے گی نہیں مجھے آزاد کر دیا گیا وہ یہ سمجھ رہے تھے اتنی عیاشی کی زندگی چھوڑ کر کہاں جائے گی ۔ یہ تھی بھی حقیقت ایسی زندگی تو خوابوں میں دیکھنی بھی مشکل تھی لیکن میرے اندر جو آگ لگی تھی وہ تو کوئی نہیں جان سکتا تھا میں نے ڈرائیوری سیکھ لی تھی اور خود گھومنے پھرنے لگ گئی تھی سیٹھ صاحب جن کا نام طارق تھا کو یقین ہو گیا تھا اب یہ نہیں نہیں جائے گی اور پھر میں نے اداکاری کرتے ہوئے سیٹھ صاحب کا دل بھی جیت لیا تھا اگر میرے اندر انتقام کی آگ نہ لگی ہوتی تو یہ زندگی دنیا میں جنت تھی اور پھر یہ سیٹھ صاحب تھے بھی اتنے آزاد خیال کہ انہیں کسی چیز کی اتنی پرواہ نہیں تھی نجانے کیا کاروبار کرتے تھے ان کی دولت کے ڈھیر ہر طرف لگے تھے ہر کوئی ملازم عیاشی کر رہا تھا۔ لیکن مشتاق شاید کوئی عام سا کارندہ تھا ورنہ وہ اس معمولی سے مکان میں نہ رہ رہا ہوتا جبکہ دوسرے ملازم اچھے خاصے مالدار لوگ تھے دولت کی خوب ریل پیل تھی اس زندگی کو دھتکارنا اتنا آسان نہ تھا۔ لیکن میں اپنی بربادی کو کیسے بھول جاتی مجھے اپنے پورے گھر کا حساب لینا تھا اور پھر جب سیٹھ صاحب بیرون ملک ٹور پر گئے تو مجھے موقع مل گیا آپ کو شاید یقین نہ آئے اب میں وہ معصوم ثریا نہیں تھی جس نے وقار جیسے غلیظ آدمی کو افسردہ ہونے سے بچانے کے لیے گھر بار چھوڑ دیا تھا اب میرے اندر آندھیاں تھیں دنیا بھر کے طوفان امڈ آئے تھے اور پھر ایسے حالات سے جب پالا پڑے تو کوئی بھی انسان وحشی بن سکتا ہے۔

جہاں جہاں سے میں گزری تھی مجھے آدم خور تو بننا ہی تھا ایک رات میں نے ضرورت کا سامان لیا گاڑی میں رکھا اور اللہ کا نام لے کر چل نکلی پہلے مشتاق کا پتہ کیا میری بدنصیبی کہ وہ اس دن گھر پر نہ ملا اب مجھے وقار کا پیچھا کرنا تھا گو یہ کام آسان نہیں تھا ہزاروں میل کا سفر مجھے تنہا کرنا تھا لیکن جب انسان زندگی داؤ پر لگا دے تو کچھ مشکل نہیں آسانیاں خود بخود ساتھ دینے پر مجبور ہو جاتی ہیں انسان میں ہمت اور حوصلہ ہو تو منزلیں آسان ہو جاتی ہیں۔ مجھے کسی طرح کا کوئی ڈر خوف نہیں تھا بس ایک دعا کر رہی تھی خدا سے کہ وقار تک پہنچنے کے لیے مجھے زندگی اور ہمت دینا کہیں راہوں میں زندگی ساتھ نہ چھوڑ جائے ذرا سا یہ خوف ضرور تھا وقار کا ایڈریس میرے پاس تھا مختار بھائی جب گھر خط لکھتے تھے تو میں پڑھتی رہتی تھی ان کے گھر کا پتہ مجھے اتنا یاد ہو گیا تھا جتنا اپنے گھر کا یاد نہ تھا وقار گھر ہی گیا ہوگا اور کہیں تو جانے کی صورت ہی نہ تھی۔ راستے میں ایک رات ایک جگہ میں نے قیام کیا اور پھر ایک رات اور ایک دن کا سفر کر کے میں وقار کے گھر کے قریب پہنچ چکی تھی میرے اندر کی عورت زخمی شیرنی کی طرح چنگھاڑ رہی تھی مجھے کسی چیز کا ذرا بھی خوف نہ تھا انتقام کی آگ شعلے برسا رہی تھی اور کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا عجیب اتفاق اسی دن وقار کی شادی کے شادیانے بجے تھے شام کے دھند لکے ہر سو پھیل چکے تھے اس کے گھر میں کافی لوگ جمع تھے ۔ یہاں کیا ہو رہا ہے ۔ میں نے ایک عورت سے پوچھا گاڑی میں نے وقار کے گھر سے کافی دور کھڑی کی تھی۔ وقار کا نکاح ہو رہا ہے۔ مگر آپ کون ہیں؟ وہ عورت پوچھتے ہوئے مجھے گھورنے لگی ۔ میں بھی عورت ہوں ۔ یہ کہہ کر میں آگے نکل گئی۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں وقار مجھے دیکھ نہ لے گو کہ میں نے کافی حد تک حلیہ بدل رکھا تھا ادھر اُدھر ٹہلتے زیادہ دیر نہ لگی تھی کہ لوڈ شیڈنگ نے میری مشکل آسان کر دی تھی میں گھر کے اندر گھس گئی گیس وغیرہ جلنے تک میں ایک محفوظ جگہ چھپ چکی تھی مجھے کافی دیر چھپنا پڑا حسن اتفاق کہ جہاں میں چھپی تھی قریب ہی دلہن کا کمرہ تھا پھر وہ وقت آیا وقار صاحب سامنے سے آتے دکھائی دیے اور ساتھ والے کمرے میں داخل ہو گئے مجھے بڑی محفوظ جگہ مل گئی تھی عام طور سے مجھے کوئی خطرہ نہ تھا چہل پہل ختم ہو چکی تھی ۔ میں نے کھڑکی کے پٹ سے کان لگا دیے آواز آرہی تھی اور یہ آواز وقار کی تھی اسے میں کیسے بھول سکتی تھی یہ آواز تو روز قیامت بھی یاد رہے گی اور اس آواز کی خاطر میں نے کتنی بڑی قیمت دی تھی میں اُسے کیسے بھول سکتی تھی۔ نجمہ آپ کل تک میری بھابی تھیں اور قسمت کہ آج تم میری بیوی بن چکی ہو جہاں میں نے یہ زہر نگلا تمہیں بیوی بنانے کا وہاں تمہیں بھی ایک زہر نگلنا پڑے گا میں تم سے کچھ چھپانا نہیں چاہتا سب کچھ بتا دینا چاہتا ہوں لیکن تمہیں دل مضبوط رکھنا ہوگا اور یہ راز رکھنا ہوگا نجمہ تمہارا سہاگ لوٹنے والا میں ہی ہوں جہاں مختار بھائی نوکری کرتے تھے وہاں سے ایک لڑکی کو میں نے اغوا کیا تھا۔ اور وہ لڑکی ہی میری کل کا ئنات ہے۔ اُسے میں ایک لٹیرے کے پاس کراچی چھوڑ کر آیا ہوں بہر حال وہ میری زندگی ہے میں اس کے بغیر جی نہیں سکتا اس لڑکی کو جہاں میں چھوڑ آیا ہوں وہ بہت ہی مکار فریبی اور دغا باز نکلا مجھے بڑا بھروسہ اور فخر تھا اس پر لیکن وہ کمینگی کی تمام حدیں پھلانگ گیا اس نے مجھے ہر طرح سے بلیک میل کیا مجھے وہ ہر روز پولیس کو بتا دینے کی دھمکی دیتا اس نے اس کے عوض میری بیوی کی عزت کو لوٹنا چاہا تو میں نے یہ کچھ بھی برداشت کر لیا بصورت دیگر ہمیں وہ بربادی دیکھنا پڑتی جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور میں مجبور ہو گیا میرے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ ہی نہ تھا میں ثریا کو کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا چلو جیسی بھی حالت میں ملے گی مجھے منظور ہے۔ میں اُسے صبح لینے جا رہا ہوں اور یہ بھی بتادوں کہ ثریا کے بھائیوں نے بھائی مختار کو قتل کر دیا ہے صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے میرا پتہ نہیں دیا تھا میں نے ساری معلومات اکٹھی کر لی ہیں ثریا کے دو بھائی مختار بھائی کے قتل کے جرم میں جیل میں ہیں اس کے والدین مر چکے ہیں یہ صدمہ برداشت نہ کر سکے ثریا کے اغواء ہونے کا اور باقی اس کے بھائی وہ جگہ ہی چھوڑ کر چلے گئے اور اب ثریا کا میرے سوا کوئی نہیں مجھے امید ہے کہ تم مجھے معاف کرتے ہوئے یہ وعدہ بھی کروگی کہ یہ راز رکھوگی ۔ وقار کی زبانی یہ کچھ سن کر آگے کچھ سننے کی مجھ میں ہمت ہی نہ تھی میں لڑکھڑائی گری اور میری چیخ نکل گئی پستول دور جا گرا چیخ کی آواز سن کر گھر میں بھگڈر مچ گئی ۔ سب لوگ دوڑے آئے مجھے بس اتنا یاد ہے کہ وقار نے مجھے اپنے بازوؤں میں تھام کر چارپائی پر رکھ دیا پھر کچھ ہوش ہی نہیں رہا۔ پھر جب ہوش آیا تھا تو میں اسپتال کے بیڈ پر تھی۔ جب کچھ ٹھیک ہوئی کچھ ہمت ہوئی تو میں نے وقار سے کہا۔ میں تمہیں قتل کرنے کے ارادے سے آئی تھی لیکن اب تمہیں محض بھائی مختار کی وجہ سے اور ان کی بیوی کے لیے زندہ چھوڑے جارہی ہوں۔ نہیں ثریا تم مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتیں ۔ وقار گگھیایا۔ یہ ٹھیک ہے کہ تمہارے پیار میں بہت بڑی قیمت دی ہے میں نے اور کسی حد تک تم بھی سچے اور مجبور تھے میں نے سب کچھ سن لیا ہے اور یقین کر لیتی ہوں لیکن اب میں کسی اور کی ملکیت ہوں اور میں اُسے چھوڑ سکتی ہوں نہ وہ مجھے چھوڑ سکتا ہے۔ ساٹھ ہزار میں تمہارے مشتاق نے مجھے فروخت جو کر دیا تھا اور اب میں جو زندگی گزار رہی ہوں وہی میری اصل زندگی ہے لاکھ چاہو تو میں نہیں بھاگ سکتی، میں کسی کا گھر آباد کرنے کے قابل ہر گز نہیں نہ کرنا چاہتی ہوں ۔ تم آج بھی ثریا میرے لیے اتنی ہی عظیم ہو جتنی پہلے دن تھیں ۔ وقار میرے پاؤں پر زاروقطار رودیا لیکن یہ سب میرے اختیار میں نہیں اگر واقعی تمہیں مجھ سے پیار ہے تم سچے ہو تو اس سیٹھ سے ملو جس نے مجھے خرید کر دنیا جہاں کی نعمتیں دے رکھی ہیں ۔ وقار کو روتے چیختے چلاتے میں واپس آگئی۔ میں وہاں مرنا چاہتی تھی لیکن ابھی مجھے مشتاق سے حساب چکانا تھا والدین مر گئے دو بھائی جیل چلے گئے اور باقی وہ جگہ ہی چھوڑ کر چلے گئے اور بھائی مختار جیسے عظیم آدمی کی موت یہ سب کیسے برداشت کر لیتی میں مشتاق کا پیچھا ہی کر رہی تھی کہ ایک دن وقار آپہنچا اور سیٹھ صاحب کے سامنے گڑ گڑایا۔ سیٹھ صاحب نے مجھے اس کے حوالے کر دیا لیکن فیصلہ مجھ پر چھوڑ دیا اور میں نے سیٹھ صاحب کو خدا حافظ کہتے ہوئے وقار کا ہاتھ تھام لیا اور میں نے اس کو اپنی اور اپنے پیار کی جیت سمجھا اور وقار کے ساتھ رہنے کے لیے تیار ہو گئی۔ لیکن نجانے میرے بھائیوں کو کیسے اور کہاں سے پتہ چل گیا انہوں نے ایک دن وقار کو قتل کر دیا اور میں وہاں سے بھاگ گئی وہ مجھے بھی قتل کر دیتے اور آج کل میں پاگل کا روپ دھار کر مینٹل ہاسپٹل میں ہوں ۔ جو میرا انجام ہوا وہ ہر اُس لڑکی کا انجام ہوتا ہے جو اپنے والدین کی عزت کی دھجیاں اڑاتی ہیں کاش عبرت کا نمونہ بننے سے قبل ہم لڑکیوں کو سمجھ آجائے۔

Latest Posts

Related POSTS