Monday, July 4, 2022

Inkaar

السلام علیکم- اب آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ ڈاکٹر نے پروفیشنل مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوۓ مریض سے حال پوچھا۔
تیمور خان کے لیے ہلنا محال تھا لیکن پھر بھی اس نے سر کے اشارے سے ہاں میں سر ہلا دیا۔
یہ دس دن پہلے کی بات تھی ۔ اس نے جوں ہی اپنی شفٹ ختم کر کے گھر جانے کے لیے باہر کی طرف قدم بڑھاۓ ۔ اس نے دیکھا کہ وارڈ بواۓ اسٹریچر کو گھسیٹتے ہوۓ خون میں لت پت ایک نوجوان لڑکے کو ایمرجنسی کی طرف لے جا رہے تھے ۔ چونکہ اس کی شفٹ ختم ہو چکی تھی۔ لیکن اس کا دل نہیں مانا کہ ایک مرتے ہوئے انسان کو اس طرح چھوڑ کر اپنی خودغرضی میں آگے بڑھ جاۓ جبکہ وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اگلی شفٹ کی ڈاکٹر ٹریفک میں پھسنے کی وجہ سے آدھا گھنٹہ لیٹ ہے۔
مریض کی حالت کافی حد تک سیریسں تھی اگر اسے فورا طبی امداد نہ ملتی تو اس کا زندہ بچنا مشکل تھا۔ دونوں ٹانگوں اور ایک بازو پر فریکچر تھا اور بھی جسم کے دوسرے حصوں پر شدید زخموں کے نشانات تھے اور خون بہت زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے مریض مکمل بے ہوش تھا۔ مریض کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے ایک شناسائی کی رمق اس کے دماغ میں ابھری لیکن اگلے ہی پل اس شناسائی کی جگہ غصے نے لے لی۔ وہ اس مریض کو پہچان چکی تھی ۔ اس نے فوری طور پر جو ضروری اقدامات تھے وہ کیے اور اگلی شفٹ کی ڈاکٹر آنے تک ہر طرح سے مریض کا خیال رکھتے ہوۓ انسانیت کی خاطر اپنی ذمہ داری نبائی ۔ ڈاکٹرفوزیہ کے آئی سی یو میں داخل ہوتے ہی انھیں مریض کی کنڈیشن کے بارے میں گائیڈ کرتے ہوۓ اس نے اپنا رخ اپنی گاڑی کی طرف موڑا اور گھرآ گئی۔
********
یہ ٹھیک ایک سال پہلے کی بات ہے جب عابی کی ماں اس کی شادی کے لیے بہت زیادہ بے تاب تھیں ۔ اور انہوں نے نا جانے کس کس کو عابی کے لیے اچھا رشتہ ڈھونڈنے کی ذمہ داری سونپ رکھی تھی ۔
جلد ہی اس کی ماں کی کوششیں رنگ لے آئیں اور عابی کے لیے ایک بہت ہی بڑے گھر سے رشتہ آیا۔ لڑکے اور اس کے خاندان کے بارے میں تمام تر تفصیلات جاننے کے بعد عابی کی ماں کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ تھا۔ ماں نے ہسپتال سے واپسی پر ساری تفصیلات بیٹی کے سامنے رکھ دیں۔
اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہے ۔ ایم بی اے کر رکھا ہے۔ اپنا ذاتی کاروبار ہے ۔ شکل وصورت کا بھی بہت اچھا ہے۔ یہ لفافے میں تصویر ہے بیٹا دیکھ لو۔ ہمیں تو تمہارے لیے پسند آیا ہے ۔ اگر اللہ کے فضل وکرم سے یہ رشتہ ہو جا تا ہے تو یہ چاند سورج کی جوڑی لگے گی۔
امی ابھی وہ رشتہ دیکھنے بھی نہیں آۓ اور آپ نے ہماری جوڑی کو چاند سورج کی جوڑی سے اسے بھی تشبیہہ دے دی۔ عابی نے ہنستے ہوۓ لاڈ سے ماں کو دیکھا۔
تمہیں کیا پتا میری جان ۔ یہ اولاد کتنی پیاری ہوتی ہے ۔ ماں کا دل چاہتا ہے کہ وہ دنیا کی ہر خوشی لا کر اپنی اولاد کو دے دے۔ جب تم ماں بنو گی نا تب تمہیں یہ جذ بہ سمجھ آۓ گا ۔
امی آپ بھی نا… عابی تو اپنی امی کی بات سن کر جھینپ ہی گئی۔
اچھا۔ میں تمہارے ابو کو کھانا دے لوں ، اور ہاں یہ لڑکے والے تمہیں کل دیکھنے آرہے ہیں۔ میری جان اچھا سا تیار ہو جانا اور کل ہاسپٹل سے بھی تھوڑا جلدی نکل آنا ۔ یہ کہ کر وہ کمرے سے نکل گئیں۔
جی امی ٹھیک ہے ۔ آپ چلیں میں آتی ہوں ۔ عابی اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی ۔اس لیے اسے بے حد ناز ونعم کے ساتھ پالا گیا تھا۔ بے انتہا لاڈ پیار نے بھی اسے بگڑنے نہیں دیا۔ وہ ایک معصوم ، پاکباز اور بے حد حساس لڑکی تھی ۔ ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ایک گورنمنٹ ہاسپٹل میں ڈاکٹر تھی۔ ماں ہاؤس وائف تھی اور باپ سرکاری نوکری سے ریٹائر تھے۔ اچھے کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔
خالدہ بیگم جوں ہی کمرے سے باہر گئیں۔ عابی کی نگاہ بیڈ پر پڑے لفافے کی طرف مبذول ہو گئی اور اس کا ہاتھ بے اختیارلفافے کی طرف گیا۔ لفافے سے تصویر باہر نکالی تو ایک نوجوان لڑکا جس کا نام تیمور خان تھا اپنی بھر پور وجاہت کے ساتھ مسکراتا ہوا ڈاکٹر عابیہ کے دل کے تاروں کو چھیٹر گیا۔ اسے وہ لڑکا اپنا آئیڈیل لگا۔ وہ خود اپنی ایسی کیفیت پر حیران رہ گئی۔ وہ کوئی ٹین ایج لڑکی نہیں تھی جسے اس عمر میں رنگینیاں بہت بھاتی ہیں- بلکہ وہ پچیس سال کی ایک سوبر نہایت قابل اور ذہین ڈاکڑ تھی ۔ عابی کو یقین کرنے میں مشکل ہوئی۔ لیکن ، ہاں اسے کسی ناول میں لکھی گئی بات یاد آئی کہ پہلی نظر کی محبت کا بھی اپنا ہی نشہ ہے اور واقعی اسے اس بات کی سچائی کا اعتراف کرنا پڑا۔ اس نے تصویر دوبارہ لفائے میں ڈال کر اپنے تکیے کے نیچے رکھا اور کل کے آنے کا شدت سے انتظار کرنے لگی۔
دوسرے دن جوں ہی وہ بن سنور کر ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی۔ رشتے کروانے والی زبیدہ آپا کے ساتھ والے صوفے پر ایک بے حد ماڈرن اور مہنگے ترین کپڑوں میں ملبوس ایک بڑی عمر کی خاتون کو اردگرد کا جائزہ لیتے پایا۔ یقینا یہ لڑکے کی ماں تھی ۔اس سے پہلے کے وہ سلام کرتی رشتے والی آپا زبیدہ عابیہ کو دیکھ کر فورا ماشااللہ ماشا اللہ کہتی اٹھیں اور اسے لا کر رضوانہ بیگم کے سامنے بٹھا دیا۔ رضوانہ بیگم نے سر سے پاؤں تک عابی کو بغور دیکھا اور پھر اس کی ماں سے مخاطب ہوکر کہنے لگیں۔
دیکھیں ہم بڑے اسٹیٹس والے خاندانی لوگ ہیں۔ ہم جیسے بڑے لوگ حسب نسب اور سماجی حیثیت پر کمپرومائز کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔ آپ کی بیٹی شکل وصورت کی لاکھ اچھی اور پڑھی لکھی سہی لیکن میرا بیٹا تو شہزادوں کو بھی مات دیتا ہے ۔ لہذا مجھے نہیں لگتا کہ یہ جوڑی ایک ساتھ چل سکے گی۔ آپا زبیدہ نے تو مجھے آپ لوگوں کی حیثیت اور اسٹیٹس کے بارے میں کچھ اور ہی بتایا تھا لیکن معاف کرنا بہن ، یہاں تو لگتا ہے کہ بس گزارا ہی مشکل سے ہوتا ہوگا ۔لیکن خیر بھئی ہمیں اس سے کیا۔ میں معذرت چاہتی ہوں۔ میں تو کسی بھی کم حیثیت گھر میں اپنے بیٹے کی شادی کا سوچ بھی نہیں سکتی ۔ آپ لوگ اپنی بیٹی کے لیے کوئی اور رشتہ دیکھ لیجیے ۔ خدا حافظ ، اس سے پہلے کہ عابیہ کی ماں کچھ بولتیں وہ نخوت سے ایک نظر گھر پر ڈالتے ہوئے تیزی سے باہر کے دروازے کی طرف چل پڑیں۔
عابیہ کی ماں نے کھڑے ہو کر انہیں روکنا چاہا ، لیکن عابیہ نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر انہیں ایسا کرنے سے روک لیا۔ زبیدہ آپا بھی کچھ کہے بغیر رضوانہ بیگم سے بات کرنے کے لیے ان کے پیچھے پیچھے چل پڑیں۔
جس لڑکی کی خوب صورتی اور ذہانت کے چرچے دور دور تک تھے ، تیمور خان کی ماں کو وہ اپنے بیٹے کے پاسنگ بھی نہیں لگی۔ عابیہ کو ایک پل میں اس عورت نے آسمان سے اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا تھا۔ کل جب سے تیمور خان کی تصویر دیکھی تھی جب سے اس کا دل بلیوں اچھل رہا تھا۔ وہ کسی اور ہی دنیا میں کھوئی تھی۔ لیکن اسی خوابوں کی دنیا نے اسے واپس حقیقت کی دنیا میں لا کر دوبارہ سے پٹخ دیا۔
امی آج کل نیک نامی شرافت کوئی نہیں دیکھتا۔ ہر کسی کو بڑا خاندان اور بڑی حیثیت کا لالچ ہوتا ہے اور جب رشتوں کو دولت کے ترازو میں تولا جاۓ تو پھر رشتہ کہیں نہیں رہتا، یہ صرف ہوس ہوتی ہے۔ آپ زبیدہ آپا کو منع کر دیں کہ آج کے بعد وہ میرے لیے کوئی رشتہ نہ لے کر آئیں اور جتنی عزت افزائی انہوں نے آج ہماری کروا دی ہے بس اتنی ہی کافی ہے۔ آج کے بعد میں اس رشتے کروانے والی عورت کو دوبارہ کبھی بھی اپنے گھر میں نہ دیکھوں۔
اس کے دل میں کچھ چھناکے سے ٹوٹا تھا۔ اتنی بے عزتی وہ بھی اس انسان کی ماں کے ہاتھوں جسے اس نے پہلی ہی نظر میں اپنا دل دے دیا تھا۔ وہ اپنی اس قدر بے وقعتی پر خون کے آنسو روتے ہوۓ کمرے میں بھاگ گئی۔
عابیہ کی ماں ابھی تک یہ یقین نہیں کر پا رہی تھی کہ کوئی اتنی خوب صورت ، خوب سیرت اور اعلا تعلیم یافتہ لڑ کی پر صرف اور صرف دولت اور اسٹیٹس کو کیسے ترجیح دے سکتا ہے۔
*********
یہ کسی کی قربت کا احساس تھا یا کسی کی دعا کا اثر کہ ایک ایسا مریض جس کا بچ جانا تقریبا ناممکن دکھائی دیتا تھا وہ تیزی سے زندگی کی طرف لوٹ رہا تھا۔ دن تیزی سے گزرتے جارہے تھے ۔ اور ہر گزرتے دن کے ساتھ تیمور کے دل میں ڈاکٹر کی محبت امر بیل کی طرح گھر کرتی جارہی تھی۔ وہ اس کا چیک اپ کرنے آتی اور ایک لمحے کے لیے اسے ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے اس کے سارے زخم بھر گئے ہوں ۔ وہ رفتہ رفتہ ڈاکٹر کے زیر اثر آرہا تھا۔ بے شمار لڑکیاں اس کی زندگی میں آئیں لیکن تیمور کو سفید اوورآل میں اس لڑکی کی سادگی اور معصومیت نے اپنا دیوانہ بنا لیا تھا۔ اپنا ہائی اسٹیٹس، اور چارمنگ پرسنالٹی اسے ڈاکٹر کے
سامنے زیرو نظر آنے لگی تھی۔
تیمور کو ایڈمٹ ہوۓ تین مہینے ہو چکے تھے۔ اس لیے اب اس کے زخم کافی حد تک مندمل ہو چکے تھے ۔ اس کی ٹانگوں پر پلاسٹر کھل چکے تھے اور وہ اب آسانی سے بیٹھ سکتا تھا۔
دو تین دن بعد اسے ڈسچارج کر دیا جانے والا تھا۔ لیکن اس کا دل ڈسچارج ہونے پر آمادہ نہ تھا۔ کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ اب اس کی زندگی کی ہر صبح ایسی ہو جس میں ڈاکٹر مسکراتی ہوئی اس کے پاس آۓ اور اس سے حال چال پوچھے ۔ وہ جب صبح سوکر اٹھے تو ہمیشہ اس کی آنکھوں کے سامنے کھڑی ہو اور وہ بس اسے دیکھتا ہی جاۓ اور دیکھتا ہی جاۓ ۔ وہ طے کر چکا تھا کہ وہ ڈاکٹر سے شادی کرے گا۔ تیمور نے موقع دیکھتے ہی اس کے سامنے اپنا حال دل کھول کر رکھ دیا۔
مسٹر تیمور آپ میرے لیے صرف ایک مریض تھے۔ آپ جیسے ہزاروں مریض روزانہ ہمارے پاس آتے ہیں اب اس کا کیا مطلب ہے کہ ہر کوئی آپ کی طرح اظہار محبت کرے اور میں اس کے صحت یاب ہونے کے بعد اس کے ساتھ چل پڑوں؟ اس نے طنزیہ دیکھتے ہوۓ سوال کیا۔
دیکھیں آپ مجھے کوئی ایرا غیرا نا سمجھیں۔ ہمارا شہر میں ایک اسٹیٹس ہے ۔ایک نام ہے ۔ میری مام…. ابھی اس کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ ڈاکٹر کے تو سر پر لگی اور تلووں میں بچھی۔
میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ آپ کا اسٹیٹس کتنا ہائی ہے تیمور خان ۔ ہم جیسوں کو تو آپ کی مام ویسے ہی جوتے کی نوک پر رکھتی ہیں اور انہیں انسان سمجھنے کی توغلطی بھی نہیں کرتیں۔اس لیے آپ کو تنبیہہ کر رہی ہوں کہ آئندہ کبھی میرے راستے میں نہ آئیے گا۔ تیمور کی بات سنے بغیر اسے وہیں چھوڑ کر خود راہداری کی طرف بڑھ گئی۔
تیمورابھی وہیں کھڑا تھا کہ رضوانہ بیگم (جو تیمور کی ماں تھیں) اسے ڈسچارج کروانے کے لیے آ گئیں اور تیمور کوکسی ڈاکٹر سے الجھتے دیکھتے ہوۓ ایک دم آگے بڑھنے ہی لگیں تو ڈاکٹر عابیہ کے چہرے پر نظر پڑتے ہی وہیں رک گئیں۔ انھیں یقین نا آیا کہ یہ وہی لڑکی ہے ۔ جسے وہ بری طرح اپنے اسٹیٹس کے نشے میں ٹھکرا کر آئی تھیں۔ لیکن اب تیمور کی آنکھیں تو انھیں کوئی اور ہی کہانی سنا رہی تھیں۔ وہ خیال جھٹک کر آگے بڑھ آئیں اور گم سم تیمور کو لے کر گھر واپس آ گئیں۔
مام، ڈاکٹر عابیہ آپ کو کیسے جانتی ہیں اور آپ کے بارے میں ایسا کیوں کہہ رہی تھی؟ تیمور بگڑے ہوۓ تیور میں گھر آتے ساتھ ہی رضوانہ بیگم سے الجھ پڑا۔
بیٹا یہ وہی لڑکی تھی جس کا میں رشتہ دیکھنے تمہارے لیے گئی تھی اور …
وہ درمیان میں ہی بولا اٹھا۔
لیکن امی، آپ نے تو مجھے کبھی اس لڑکی کی تصویر نہیں دکھائی اور نہ ہی اس کے بارے میں کچھ بتایا تھا ؟ اس نے اپنی ماں سے غصے پوچھا۔ میرے بچے، میری جان۔ اب تمہیں کیا بتاتی۔ دراصل ان لوگوں کا گھر بار اسٹیٹس مجھے پسند نہیں آیا تھا۔
تیمور جذباتی ہو گیا۔
مام۔ بھاڑ میں گیا آپ کا اسٹیٹس۔ آپ لوگوں کو کھرے اور کھوٹے کی کوئی پہچان نہیں؟ آپ لوگ ہر کسی کو صرف اور صرف دولت، جائیداد اور حیثیت کے تراوز میں ہی کیوں تولتے رہتے ہیں۔ کبھی کسی کی اچھائیوں اور برائیوں پر غور کرنے کی زحمت بھی کر لیا کریں۔ اوہ مائی گاڈ۔ مام…… تیمور نے تو اپنا سر ہی تھام لیا۔ اور آپ نے انکار بھی کس طرح کیا ہو گا یہ بھی میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ تیمورا اپنی ماں کی نیچر کو اچھی طرح جانتا تھا۔ بیٹا۔ تمہاری طبیعت ابھی مکمل ٹھیک نہیں ہے۔ تم آتے ساتھ ہی کس بحث میں پڑ گئے ہو؟ لیٹ جاؤ ، آرام کرو۔
نہیں ہوتا آرام مام نہیں ہوتا آرام۔ جس لڑکی کی عزت کو آپ ان کے گھر جا کر دو ٹکے کی کر کے آئیں ہیں نا۔ کیا آپ جانتی ہیں کہ اگر اس رات اپنی شفٹ ختم کرنے کے باوجود وہ
وہاں میرے لیے نہ رکتی تو آج آپ کا بیٹا زندہ نہ ہوتا ۔ آپ کل ہی میرے ساتھ چلیں گی اور ان لوگوں کے گھر جا کر ان سے معافی مانگیں گی۔ میں ….. بیٹا…. میں ماں ہوں تمہاری۔ یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟
ٹھیک کہہ رہا ہوں میں مام ۔اگر آپ میرے ساتھ کل ان کے گھر نہ گئیں تو اب کی بار آپ کا بیٹا سچ مچ نہیں بچے گا۔
اللہ نہ کرے۔ انہوں نے بے اختیار تیمور کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
رضوانہ بیگم تو اپنے شاندار سے بیٹے کی ایسی دیوانوں والی حالت دیکھ کر دنگ ہی رہ گئیں۔ قدرت ایسے انہیں مات دے گی انھوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ اولا د کو ماں باپ سے بڑھ کر کوئی نہیں چاہ سکتا- تھیں تو وہ ماں ہی…. تو کیسے پھر اپنے جوان خو برو بیٹے کی یہ دیوانوں کی حالت دیکھ پاتیں ۔ان کا غصہ اور طنطنہ ایک منٹ میں جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اور انھوں نے تیمور کے ساتھ جانے کی حامی بھر لی۔
********
جوں ہی تیمور نے دروازے پر بیل دینے کے لیے ہاتھ رکھا۔ عابیہ نے بے اختیار دروازہ کھول دیا۔ تیمور کوخوش گوار حیرت ہوئی۔ آپ …… یہاں…. عابیہ نے نا سمجھی کی کیفیت میں سر ہلایا۔
عالی بیٹا ۔کون ہے۔ اندرتو آنے دو۔ خالدہ پوچھتے ہوۓ دروازے پر آئیں اور بیگم رضوانہ کو دیکھ کرعالیہ کو پیچھے ہٹا کر خوش اخلاقی سے کہنے لگیں۔
آئیے، آپ اندر تشریف لائیے۔
دیکھیں۔ میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں ۔ میں اپنے اسٹیٹس کے زعم میں اتنا اونچا اڑ رہی تھی کہ مجھے اپنے بیٹے کی خوشیاں نظر ہی نہیں آئیں۔ میں نے آپ کا دل دکھایا۔ مجھے معاف کر دیں۔ رضوانہ بیگم نے صوفے پر بیٹھتے ہی عابیہ کی ماں سے التجا کی۔ بیٹیاں اتنی سستی نہیں ہوتیں، بہن ، کہ ان کی عزت کی یوں دھجیاں بکھیر دی جائیں۔ اس لیے ہمیں میرشتہ نا منظور ہے۔
رضوانہ بیگم کو یقین نہیں آرہا تھا کوئی انہیں بھی اس طرح دھتکار سکتا تھا۔ عابی کی ماں کے انکار کے بعد رضوانہ بیگم کو اپنا رہا سہا غرور بھی خاک میں ملتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ اپنی جھوٹی انا اور شان وشوکت کے ہاتھوں عابی کے گھر والوں کو پہنچنے والی جذباتی تکلیف کواب خود بھی محسوس کر رہی تھیں۔ اپنے بیٹے کو کھو دینے کا تصور بھی کرنا محال تھا۔ اس لیے اپنے بیٹے کی خوشیوں کی خاطر رضوانہ بیگم عابیہ کی ماں کے آگے ہاتھ جوڑنے لگیں ۔ عابیہ کی ماں نے اٹھ کر انہیں گلے لگالیا۔ ایک انکار رضوانہ بیگم کا ساراغروراور تکبر خاک میں اڑاکر لے گیا تھا۔
تیمور نے عابی کی طرف محبت پاش نظروں سے دیکھا۔ دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ کر زیر لب مسکرا اٹھے۔
(ختم شد)

Latest Posts

Related POSTS