Insaaf | Complete Urdu Story

175
جب بڑے شہروں میں جگہ نہ ہونے کے باعث مضافات آباد ہونے لگتے ہیں تو وہاں تیزی سے خوبصورت، جدید اور شاندار مکانات، سڑکیں، بازار اور ہوٹل تعمیر ہونے لگتے ہیں۔ ملک کی بڑی تعداد سمندر پار کے ممالک میں ملازمت کرکے اپنی آمدنی اپنے گھروں کو بھیجتی تھی، اس لئے شہر کے مضافات تیزی سے آباد ہوگئے تھے۔
میرا اور موہن کا مکان شہر کے ایک خوبصورت مضافاتی علاقے میں تھا۔ اس علاقے میں کیا کچھ نہیں تھا، وہ اب کسی مثالی شہر سے کم نہ تھا۔ چوڑی سڑکیں، جگہ جگہ بچوں کے لئے خوبصورت پارک اور پرسکون ماحول…! اس کے علاوہ شاندار قسم کے ریسٹورنٹ، قمار خانے اور نائٹ کلب بھی موجود تھے۔ نہ صرف مردوں بلکہ عورتوں کے لئے تفریحات بھی تھیں۔ بیوٹی سیلون، سوئمنگ پول اور کلب بھی تھے، جہاں نئی نسل کے لڑکے، لڑکیاں ہی نہیں بلکہ شادی شدہ مرد اور عورتیں وقت گزاری کرتی تھیں۔ غرض اس علاقے پر ایک بڑے شہر کی چھاپ تھی جو امریکا اور یورپ کی تہذیب و تمدن پر آنکھیں بند کرکے چل رہا تھا۔
میں اور موہن ایک بڑی تجارتی فرم میں ملازم تھے۔ موہن سیلز منیجر تھا اور میں اس کا ایک ماتحت…! چونکہ میرا مکان اس کے مکان سے ایک فرلانگ کے فاصلے پر تھا، اس لئے میں اکثر موہن کے ساتھ اس کے گھر اتر جاتا اور وہاں سے چہل قدمی کرتا ہوا اپنے گھر چلا جاتا۔ میں نے اس سے کبھی یہ نہیں کہا کہ مجھے میرے مکان پر اتار دو اور نہ ہی اس نے کبھی رسمی طور پر ایسا کہا، حالانکہ گاڑی میں ایک فرلانگ کا فاصلہ ہوتا ہی کتنا ہے۔
میں خود بھی نہیں چاہتا تھا کہ میرا باس مجھے میرے مکان پر اتار دیا کرے۔ یہ فرلانگ بھر کا فاصلہ اس طرح کٹ جاتا تھا جیسے چند قدم کا ہو۔ بات یہ تھی کہ گھر پہنچتے پہنچتے دفتر میں کام کرنے سے جو تھکن ہوجاتی تھی، پیدل چلنے کی وجہ سے اتر جاتی تھی اور میں تازہ دم ہوجاتا تھا۔
یہ فرلانگ بھر کا راستہ مفت کی تفریحات میں گزر جاتا تھا۔ سب سے پہلے میں پارک کے اندر سے گزرتا تھا۔ اس پارک کے ایک بڑے حصے میں بچوں کی دلچسپی اور تفریح کی ہر چیز موجود تھی۔ اس کے بعد بنچیں آتی تھیں، جس پر ہر عمر کے جوڑے بیٹھے ہوتے تھے۔ اس سے آگے ایک گوشہ تھا جس کے سبزہ زار اور نیم تاریک حصے میں نوجوان جوڑے نظر آتے تھے۔ اس پارک میں ایک ریسٹورنٹ اور بار بھی تھا۔ پارک سے باہر آنے کے بعد سڑک کے کنارے لڑکیاں نظر آتی تھیں۔ وہ نت نئے ملبوسات میں دکھائی دیتی تھیں۔ وہ لباس میں ہونے کے باوجود بے لباس نظر آتی تھیں۔
موہن کا پورا نام موہن لعل تھا۔ وہ ایک دور اندیش اور ذہین شخص تھا۔ اس کی بڑی خوبی یہ تھی کہ اس میں فوراً کسی فیصلے پر پہنچنے اور اس پر عمل کرنے کی زبردست صلاحیت موجود تھی۔ اس کی قابلیت کا ہر کوئی معترف تھا، جبکہ میں کچھ زیادہ ہی متاثر تھا۔ اس کا ماتحت ہونے کے ناتے میں نے اسے بہت قریب سے دیکھا تھا۔ اپنی قابلیت کے سبب ہی وہ ترقی کرتے کرتے سیلز منیجر کے عہدے تک پہنچ گیا تھا۔ سچ پوچھئے تو اپنی ذہانت اور قابلیت کے لحاظ سے وہ اس ترقی کا اہل بھی تھا۔
اس کے برعکس میری قوت فیصلہ کمزور تھی اور عمل کی صلاحیت اس سے کم تھی۔ کمپنی میں برسوں محنت کرنے کے باوجود میں کوئی عہدہ حاصل نہ کرسکا تھا۔ بعض اوقات مجھے احساس محرومی بری طرح تڑپاتا تھا۔ میں نے تھک ہار کے اپنی کوشش ترک کردی۔ یہ سوچ کر کہ اکیلا میں ہی ناکام شخص نہیں ہوں بلکہ دفتر میں اور بھی لوگ ہیں جو کوشش کے باوجود کوئی عہدہ نہ پاسکے تھے۔
اس روز بھی ہم دونوں گھر جانے کے لئے دفتر سے حسب معمول ساتھ ہی نکلے تھے۔ ہم نے پہلے والی بال کا ایک میچ دیکھا جو دونوں کو بہت پسند تھا۔ پھر ہم ایک ریسٹورنٹ میں کافی پینے بیٹھ گئے۔ اس ریسٹورنٹ کی کافی اور آلو کٹلس بہت عمدہ ہوتے تھے۔ پھر وہاں سے نکل کر ہم گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔
مہاتما نگر سے نکلنے کے بعد ٹریفک بہت کم ہوجاتا تھا۔ جیسے جیسے سندر پارک نزدیک آتا جاتا، ٹریفک میں مزید کمی ہوتی جاتی۔ جب ہم سندر پارک کے علاقے میں داخل ہوئے تو دور دور تک ٹریفک نظر نہیں آرہا تھا۔ چوڑی سڑک پر بجلی کے کھمبے فاصلے پر لگے ہوئے تھے اس لئے سڑک پر روشنی بہت کم تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ہم دونوں میں سے کوئی اس بچے کو نہ دیکھ سکا جو فٹ پاتھ پر سائیکل چلاتا ہوا جارہا تھا اور پھر وہ اچانک سڑک پر ہماری گاڑی کے سامنے آگیا۔
موہن کی گاڑی اور بچے کی سائیکل کا درمیانی فاصلہ بہت کم تھا۔ یہ حادثہ جس تیزی سے پیش آیا، اسے دیکھتے ہوئے یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ موہن کی جگہ کوئی دوسرا شخص بھی ہوتا تو وہ اس حادثے کو رونما ہونے سے نہیں روک سکتا تھا۔ میں موہن کے برابر بیٹھا تھا۔ میں نے پورا حادثہ دیکھا تھا اس لئے میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس میں ذرّہ بھر بھی قصور موہن کا نہیں تھا۔
سائیکل، گاڑی سے ٹکرائی تو ساتھ ہی شیشہ ٹوٹنے کی آواز آئی اور پھر سائیکل بچے سمیت سڑک پر ایک طرف دور جاگری۔ چونکہ گاڑی کی رفتار تیز تھی اس لئے موہن کے بریک لگاتے لگاتے گاڑی تیس فٹ آگے نکل گئی۔ گاڑی کے رکتے ہی میں دوڑتا ہوا سائیکل کے قریب پہنچا۔ سائیکل بری طرح مڑ گئی تھی اور بچہ سڑک پر اوندھے منہ پڑا تھا۔ مجھے بچے کے آس پاس خون نظر نہیں آیا۔ میں نے اسے سیدھا کرنے کے لئے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا تو موہن نے پیچھے سے کہا۔ ’’رک جائو ونود…! بچے کو ہاتھ مت لگائو۔‘‘
میں نے حیرت سے موہن کی طرف دیکھا۔ اس کا چہرہ بالکل سفید ہورہا تھا یا ممکن ہے سڑک کی ناکافی روشنی کی وجہ سے مجھے ایسا نظر آیا ہو۔
’’کیوں…؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’بس! اسے ہاتھ مت لگائو۔‘‘ اس نے قدرے تیز لہجے میں جواب دیا۔
’’ مگرممکن ہے اسے زیادہ چوٹ آئی ہو اور وہ اس وجہ سے بے ہوش ہوگیا ہو۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’ہمیں فوراً اسے کسی ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہئے۔‘‘
’’سنو ونود…! پہلے تم میری پوری بات سن لو۔‘‘ وہ مجھے گھسیٹتا ہوا گاڑی کے اندر لے گیا۔ مجھے اس کی یہ حرکت ناقابل فہم، تعجب خیز اور بڑی عجیب لگی۔ ’’میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔ پہلے تم میری بات سن لو۔ تم جلد بازی مت کرو، ذرا صبر اور ٹھنڈے دل سے کام لو۔‘‘
میں چاہتا تو اس وقت گاڑی سے اتر کر بچے کی طبی امداد کا بندوبست کرسکتا تھا، بلکہ اس کے علاج معالجے پر جو خرچ آتا، برداشت کرسکتا تھا، جبکہ یہ حادثہ اس کی گاڑی سے پیش آیا تھا اور وہ تمام اخراجات کا آسانی سے متحمل ہوسکتا تھا۔ اصل بات یہ تھی کہ یہ ایک انسانی جذبے کی بات تھی۔ حادثے کا شکار ایک بچہ ہوا تھا۔ وہ کوئی موذی جانور نہیں تھا۔
مجھے ہر صورت بچے کے لئے طبی امداد کا بندوبست کرنا چاہئے تھا۔ مجھے موہن کی باتوں پر دھیان نہیں دینا چاہئے تھا۔ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ اگر بچے کو فوری طور پر طبی امداد مل جاتی تو اس کا زندہ بچ جانا کوئی معجزہ نہ کہلاتا بلکہ اسے انسانی فرض کی اعلیٰ مثال کہا جاتا۔
موہن دفتر میں میرا افسر تھا اور میں اس کا ماتحت تھا اور برسہا برس سے میں اس کے احکام کی تعمیل آنکھیں بند کرکے کرتا چلا آرہا تھا۔ میں نے کبھی اس کے کسی حکم سے انکار نہیں کیا تھا۔ جیسا میں نے پہلے بتایا کہ موہن نہ صرف بے حد دوراندیش ہے بلکہ اس میں قوت فیصلہ کی بے پناہ صلاحیت بھی موجود ہے۔ اس کی اس خوبی نے مجھے ایک طرح سے احساس کمتری میں مبتلا کردیا تھا۔
وہ مجھے گاڑی میں بٹھا کر حادثے کے مقام پر گیا۔ وہاں سے اس نے کچھ کانچ کے ٹکڑے اٹھائے۔ یہ ٹکڑے اس کی گاڑی کی ہیڈ لائٹ ٹوٹ جانے کی وجہ سے سڑک پر بکھر گئے تھے۔ پھر وہ چند لمحوں کے بعد واپس آکر گاڑی میں بیٹھ گیا تو میں نے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
’’پولیس اس قسم کی چیزوں سے مطلوبہ گاڑی تلاش کرلیتی ہے۔‘‘ موہن نے ہیڈ لائٹ کے ٹکڑے احتیاط سے سیٹ پر رکھتے ہوئے کہا اور انجن اسٹارٹ کیا۔ ’’اس لئے میں ہیڈ لائٹ کے ٹکڑے اٹھا لایا ہوں تاکہ پولیس کو سراغ نہ مل سکے۔ اب میں نے پولیس کے لئے کوئی سراغ نہیں چھوڑا ہے۔‘‘
اس سے پہلے کہ میں موہن کا ارادہ صحیح طور پر سمجھ پاتا، اس کی گاڑی برق رفتاری سے حادثے کی جگہ سے دور ہونے لگی۔ وہ بڑے محتاط انداز سے گاڑی چلا رہا تھا اور خود کو قابو میں رکھے ہوئے تھا۔
میں نے سر موڑ کے پیچھے دیکھا۔ بچہ اسی طرح بے حس و حرکت سڑک کے کنارے ملگجے اندھیرے میں پڑا تھا۔ پانچ منٹ کے اندر ہم تین میل کا فاصلہ طے کرچکے تھے۔ موہن جس برق رفتاری سے گاڑی چلا رہا تھا، اس سے ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی عفریت سے اپنے آپ کو بچانے کی سر توڑ کوشش کررہا ہے۔ اگر اس نے گاڑی کی رفتار میں کمی کی تو عفریت اسے دبوچ لے گا۔ وہ اب ایک مجرم بن چکا تھا اور جائے واردات سے فرار ہورہا تھا۔
میں جس وقت بچے کے ساکت جسم کا معائنہ کررہا تھا، تب میں نے اس کے بشرے کے تاثرات دیکھے تھے۔ اس کا ذہن تیزی سے حالات کا جائزہ لے کر کوئی منصوبہ مکمل کرنے میں مصروف تھا۔ اس نے دو منٹ کے قلیل وقفے میں حالات کا جائزہ لے کر ایک جامع منصوبہ تیار کرلیا تھا۔
حادثے کے وقت سڑک ویران اور سنسان تھی۔ کسی نے ہمیں یا ہماری گاڑی کو نہیں دیکھا تھا اور یہ ایک محض اتفاق ہی تھا کیونکہ جب ہم دفتر سے واپسی کے وقت گھر لوٹتے تھے، سڑک پر کسی نہ کسی سمت سے گاڑی آتی جاتی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔ سڑک کے دونوں طرف گھنے درخت تھے۔ جس جگہ یہ حادثہ پیش آیا تھا، وہاں ابھی بہت کم مکانات تعمیر ہوئے تھے۔ صرف چند مکان تھے جن میں اندھیرا چھایا ہوا تھا شاید ان میں ابھی کوئی رہائش پذیر نہ تھا۔
کھانے کا وقت ہوچکا تھا۔ شاید اس لئے بھی سڑک پر کوئی ٹریفک نہیں تھا۔ یوں بھی اس سڑک پر زیادہ آمدورفت نہیں تھی، نیز حادثہ پیش آنے کے صرف پانچ منٹ بعد ہماری گاڑی وہاں سے تین میل کے فاصلے پر پہنچ چکی تھی۔ یہ پہلا اتفاق تھا کہ موہن کو میں نے اس برق رفتاری سے گاڑی چلاتے دیکھا تھا اور دل میں یہ خوف بھی دامن گیر تھا کہ یہ تیز رفتاری کسی دوسرے حادثے کا سبب نہ بن جائے۔ سڑکوں پر جو حادثات رونما ہوتے تھے، ان میں بنیادی سبب تیز رفتاری ہی ہوتی تھی۔
موہن نے گاڑی کی رفتار دھیمی کی اور کن انکھیوں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’تم سن رہے ہو ونود…؟‘‘
مجھے اس کی آواز بیٹھی ہوئی محسوس ہوئی۔ شاید میری طرح وہ بھی خوف زدہ تھا۔
’’میں سن رہا ہوں۔‘‘ میں نے لمبا سانس لے کر جواب دیا۔
’’تمہیں معلوم
ہے ہمیں ایسا کیوں کرنا پڑا؟‘‘
میں صرف نفی میں سر ہلا کر رہ گیا۔ میں اس کے دل کا حال بھلا کیسے جان سکتا تھا۔ اس نے گفتگو کے آغاز ہی سے ’’ہم‘‘ اور ’’ہمیں‘‘ کے الفاظ استعمال کرنے شروع کردیئے تھے۔ میں اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
’’تم گوتم سے واقف ہو…؟ وہ پہلے تمہاری جگہ کام کرتا تھا۔ میرے اس سے بہت اچھے مراسم تھے۔ ایک رات اس کی گاڑی کے نیچے ایک بڑھیا آگئی تھی۔ سارا قصور بڑھیا کا تھا، وہ بہت ہی عجلت میں تھی، ممکن ہے اونچا بھی سنتی ہو۔ بہرحال وہ اچانک گوتم کی گاڑی کے سامنے آگئی تھی، جس طرح ابھی وہ احمق بچہ ہماری گاڑی کے سامنے آگیا تھا۔ گوتم کوشش کے باوجود بڑھیا کو بچا نہ سکا۔ اس کے بعد گوتم کا جو حشر ہوا، وہ سننے کے قابل ہے۔ اس نے گاڑی روکی تو بڑھیا بری طرح زخمی ہوگئی تھی۔ گوتم نے سوچا کہ اسے فوری طور پر اسپتال لے جانا چاہئے… ابھی وہ بڑھیا کو سڑک سے اٹھا ہی رہا تھا کہ پولیس کی ایک گشتی گاڑی آگئی۔ جب پولیس والوں نے بڑھیا کی حالت نازک دیکھی تو گوتم کو گہرے گہرے سانس لینے کا حکم دیا، کیونکہ وہ وہسکی پینے کا عادی تھا اور اپنے پاس ہمیشہ وہسکی کی بوتل رکھتا تھا۔ اس وقت بھی وہ نشے میں تھا۔ اس کی سانس میں شراب کی بو شامل تھی۔ پولیس والے اسے تھانے لے گئے۔ تمہیں معلوم ہے ونود! اس کے بعد کیا ہوا؟ گوتم کا مستقبل تباہ ہوکر رہ گیا۔ عدالت نے اسے پورے پانچ برس کی سزا سنائی۔ اس کی ملازمت چھوٹ گئی، اس کا وکیلوں اور عدالتوں کے چکر میں بڑا پیسہ برباد ہوا، آخر ایک ہوشیار اور تجربہ کار وکیل نے اس کی سزا معطل کرا دی۔ بڑھیا کے وارث بہت لالچی تھے۔ انہوں نے گوتم پر علیحدہ مقدمہ دائر کردیا۔ اس مقدمے کا فیصلہ گوتم کے خلاف ہوا۔ عدالت نے جرمانے کے طور پر ایک خطیر رقم ادا کرنے کا حکم دیا۔ کچھ رقم بیمہ کمپنی نے ادا کی، باقی اسے ادا کرنی پڑی۔ گوتم آج بھی بیروزگار اور قلاش ہے، وہ سڑکوں پر مارا مارا پھرتا ہے۔ تم دیکھنا ایک روز اس کا ذہنی توازن خراب ہوجائے گا اور وہ سڑکوں پر پاگلوں کی طرح چیختا چلاتا اس بڑھیا اور قانون کو گالیاں بکتا نظر آئے گا۔ اب تمہیں معلوم ہوا کہ گوتم جیسے بے گناہ لوگوں کا کیا حشر ہوتا ہے؟ اب تمہی بتائو کہ کیا میں اس لڑکے کو بچا سکتا تھا؟ کیا اس میں میرا کوئی دوش تھا…؟‘‘
’’نہیں لیکن…!‘‘
’’لیکن کیا…؟‘‘
’’ہم اسے کسی ڈاکٹر…!‘‘
’’پھر ہمارا بھی وہی حشر ہوتا جو گوتم کا ہوا تھا۔ میں کہتا ہوں کہ وہ بچہ بالکل زخمی نہیں ہوا، وہ صرف بے ہوش ہوگیا تھا لیکن تھوڑی دیر کے لئے فرض کرلو کہ وہ لڑکا واقعی زخمی ہوگیا تھا، پھر کیا ہوتا…؟ کوئی بھی ہمارے بیان پر یقین نہ کرتا۔ وہ سب سے پہلے ہمارا منہ سونگھتے اور کہتے کہ ہم نشے میں دھت تھے۔ ہندوستانی پولیس کا کوئی دھرم نہیں ہوتا۔ وہ دن کو رات اور رات کو دن بنا دیتے ہیں۔ وہ ہم پر الزام دھر دیتے کہ ہم نشے میں دھت تھے۔ کیا ہم شراب کے نشے میں دھت تھے ونود…؟‘‘ موہن نے بلند آواز میں کہا۔
’’نہیں…!‘‘
’’یقیناً نہیں تھے اور پھر اس حادثے میں ہمارا ذرّہ بھر بھی قصور نہیں تھا۔ کیا کوئی ہماری بات سنتا اور کان دھرتا…؟ وہ کہتے کہ تم لوگوں نے اتنی شراب پی رکھی تھی کہ تمہارے اعصاب قابو میں نہیں رہے تھے۔ پولیس ہمارے خلاف مقدمہ دائر کرتی، بچے کے والدین علیحدہ ہمارے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کرتے جو ہزاروں کا نہیں لاکھوں کا ہوتا اور میڈیا والے ہمارے خلاف شور مچا کر اسے اور ہوا دیتے۔ عوام کا ردعمل یہ ہوتا کہ ہمیں پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔ یہ سب باتیں سامنے رکھتے ہوئے اب تم کیا کہو گے؟ کیا ہم نے وہاں سے بھاگ کر کوئی غلط حرکت کی ہے، جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ اس بچے کو زیادہ چوٹیں ہرگز نہیں آئی تھیں۔ پھر حادثے میں ہمارا کوئی قصور نہیں تھا۔ یہ سب کچھ تمہارے سامنے ہی پیش آیا ہے۔‘‘
موہن اگر چاہے تو اپنے دلائل اور چرب زبانی سے ایک بندر کو بھی یقین دلا سکتا ہے کہ وہ بندر نہیں ہے بلکہ انسان ہے اور آدمی کو قائل کرسکتا ہے کہ وہ آدمی نہیں بلکہ بن مانس ہے۔ ایسا کرنا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ وہ سیلز منیجر تھا۔ یہ عہدہ اسے ایسے ہی نہیں مل گیا تھا۔ میں اس وقت قریب قریب اس کا ہم خیال ہوگیا تھا۔ اس نے گوتم کی بربادی کا نقشہ کھینچ کر جو سوالات اٹھائے تھے، ان کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اگر میرے تصور میں باربار اس بچے کا بے حس و حرکت جسم نہ گھوم جاتا تو میں اس معاملے میں موہن سے پوری طرح متفق ہوجاتا۔ میں اس لمحے اس کا ہم خیال ضرور ہورہا تھا لیکن دوسری طرف دل نہیں مان رہا تھا۔ ایک خلش سی کسی پھانس کی طرح سینے میں گڑھی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔
’’مجھے خوشی ہے ونود کہ اب تم حالات پوری طرح سمجھ گئے ہو۔‘‘ موہن نے مجھے خاموش دیکھ کر کہا۔ ’’اب ہمارا کچھ نہیں بگڑے گا۔ بچہ بھی چند روز بعد بالکل ٹھیک ہوجائے گا۔ مجھے اس کی نئی اور قیمتی سائیکل ٹوٹنے کا واقعی بہت افسوس ہے۔ خیر میں کوئی نہ کوئی ایسی ترکیب سوچ لوں گا کہ اسے نئی سائیکل مل جائے اور… اور ونود! میں بھول گیا۔ میں تمہیں ایک خوشخبری سنانے والا تھا۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ آج صبح دفتر میں افسروں کی میٹنگ ہوئی تھی۔ ہم نے تمہاری پچھلے ایک برس کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ تمہاری سخت محنت کے پیش نظر تمہاری تنخواہ میں ایک ہزار روپے کا اضافہ کردیا جائے۔ آئندہ ماہ سے کمپنی تمہاری تنخواہ میں ایک ہزار روپے کا اضافہ کردے گی۔ اب تو خوش ہو نا…؟ گھر جاکر جب تم یہ خبر اپنی پتنی کو سنائو گے تو خوشی کے مارے تم سے لپٹ جائے گی۔ بس پھر تم عیش کرنا دوست!‘‘ موہن نے زبردستی قہقہہ لگایا۔
اچانک میں نے محسوس کیا کہ گاڑی کا رخ گھر کی بجائے دوبارہ شہر کی طرف ہوگیا ہے۔ موہن زیادہ تر گلیوں میں گاڑی گھماتا رہا۔ جب وہ مجبوراً کسی سڑک کا رخ کرتا تو گاڑی کی رفتار بہت ہلکی کردیتا تھا اور اس کی نظریں چاروں طرف پولیس کی گاڑی تلاش کررہی ہوتیں۔ دو مرتبہ اس نے روڈ پر پہنچ کر گاڑی کی روشنیاں گل کردیں۔ میں اس کی اس حرکت کا مقصد سمجھ گیا۔ موہن کی گاڑی کی ایک ہیڈ لائٹ ٹوٹ گئی تھی۔ ایک ہیڈ لائٹ روشن کرکے گاڑی چلانا جرم تھا۔ اگر کوئی پولیس والا گاڑی کی ٹوٹی ہوئی ہیڈ لائٹ دیکھ لیتا تو وہ فوراً مشکوک ہوجاتا اورموہن سے ہیڈ لائٹ ٹوٹنے کی وجہ دریافت کرتا۔ ٹوٹی ہوئی ہیڈ لائٹ چلّا چلّا کر کسی حادثے کا اعلان کرتی۔ موہن پولیس کو کیا جواب دیتا۔
ہم براڈوے کے علاقے میں داخل ہوگئے تھے۔ میں حیران ہورہا تھا کہ اس آوارہ گردی سے موہن کا کیا مقصد ہے؟ لیکن میں نے اس سے براہ راست اس سلسلے میں کوئی سوال نہیں کیا۔ وہ جواب میں کوئی نہ کوئی بات تراش دیتا اور میں اسے ارادہ تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا تھا، کیونکہ وہ ایک دفعہ جو فیصلہ کرلیتا تھا، اس پر عمل کرکے ہی چھوڑتا تھا اس لئے میں خاموش رہا۔
بس میں خاموشی سے اس سڑک پر نگاہیں جمائے رہا جس پر ہم گزر رہے تھے۔ تحمل سے بیٹھا رہا۔ براڈوے میں داخل ہونے کے بعد اس نے اچانک میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’ونود! میں سوچ رہا ہوں کہ اس وقت ملہوترہ کا گیراج کھلا ہوگا۔ کیوں نہ ہم اسی وقت ہیڈ لائٹ لگوا لیں؟‘‘
مجھے معلوم تھا کہ اس وقت ملہوترہ کا گیراج کھلا ہوا ہوگا۔ ملہوترہ کو اپنے گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لئے صبح سات بجے سے رات گیارہ بجے تک کام کرنا پڑتا تھا۔ اس کا مکان گیراج کے اوپر ہی تھا۔
’’کیوں ونود…! اگر ہم ٹوٹی ہوئی ہیڈ لائٹ کے بارے میں ملہوترہ کو کوئی خوبصورت کہانی سنا دیں توکیسا رہے گا؟‘‘ اس نے کہا۔
میں سمجھ نہیں سکا کہ اس سے اس کا کیا مقصد تھا۔ ملہوترہ کا گیراج قریب آگیا تھا اور موہن نے گاڑی کی رفتار بہت دھیمی کردی تھی۔ وہ باربار عقبی آئینے میں پیچھے آنے والا ٹریفک دیکھ رہا تھا۔ ساتھ ہی اس کی نگاہیں باربار فٹ پاتھ کی طرف جارہی تھیں۔ اچانک اس نے گاڑی بڑی پھرتی سے فٹ پاتھ کی طرف کاٹی۔ گاڑی کا ایک پہیہ فٹ پاتھ پر چڑھ گیا اور وہ بجلی کے کھمبے سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔
’’دیکھا…! اس کمینے شخص کو ونود!‘‘ موہن آگے جانے والی گاڑی کی طرف اشارہ کرکے پوری قوت سے چلّایا، حالانکہ اس گاڑی کا کوئی دوش نہیں تھا۔ دوسرے ہی لمحے وہ گاڑی سے باہر تھا۔
پھر وہ بڑی پھرتی سے گاڑی کے اگلے حصے کی طرف بڑھا۔ اس کے ہاتھوں میں ہیڈ لائٹ کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے تھے جو اس نے بجلی کے کھمبے کے پاس گرا دیئے۔
’’ونود…!‘‘ اس نے زور سے مجھے آواز دی۔ ’’جلدی سے یہاں آئو… دیکھو اس نے کیا کردیا؟ وہ ٹکر مارتا ہوا چلا گیا، جس سے ہماری ہیڈ لائٹ ٹوٹ گئی ہے۔‘‘
کئی راہ گیر چلتے چلتے رک گئے تھے۔ موہن کے وہ جملے راہ گیروں کے لئے تھے۔ میں گاڑی سے اتر کے اس کے قریب آگیا۔
’’اگر میں اچانک اسے نہ دیکھ لیتا تو زبردست ٹکر ہوجاتی۔‘‘ موہن نے مجمع کو مخاطب کرکے کہا۔ ’’میں کہتا ہوں کہ ہر شراب خانے کے آگے ایک سپاہی کھڑا ہونا چاہئے جو کسی شرابی کو گاڑی چلانے نہ دے۔‘‘
’’بے شک… بے شک!‘‘ مجمع میں سے کسی نے تیز آواز میں کہا۔
’’اکثر حادثے شراب نوشی اور تیز رفتاری کے باعث پیش آتے ہیں۔‘‘ کسی اور نے کہا۔ ’’ایسا قانون ہونا چاہئے کہ انہیں پانچ برس کی سزا دی جائے۔‘‘
’’آپ خوش قسمت ہیں جناب کہ معاملہ صرف ہیڈ لائٹ پر ٹل گیا۔ اگر گاڑی کھمبے سے ٹکراتی تو مڈگارڈ کا بیڑا غرق ہوجاتا اور اس کے بدلوانے پر بہت خرچ آتا۔‘‘
موہن نے ملہوترہ کو سنانے کے لئے ایک خوبصورت کہانی تراش لی تھی۔ مجمع منتشر ہوگیا اور موہن مجھے گاڑی میں چھوڑ کر خود ملہوترہ کے گیراج کی طرف پیدل چل دیا۔ گیراج چند قدم کے فاصلے پر تھا۔ میرے تصور میں پھر ایک مرتبہ بچے کا بے حس و حرکت جسم گھومنے لگا۔ ایسا لگا جیسے اس کی آواز بہت دور سے آرہی ہو اور وہ کہہ رہا ہو۔ ’’انکل… انکل…! مجھے فوراً اسپتال لے چلو۔‘‘
میں نے پہلی مرتبہ سنجیدگی سے سوچا کہ اس وقت مجھے کیا کرنا چاہئے تھا اور اب کیا کرنا چاہئے…؟ کیا میں کسی پولیس والے کو تمام حالات سے آگاہ کردوں…؟ میں کسی فیصلے پر نہیں پہنچ سکا تھا کہ موہن، ملہوترہ کو ساتھ لے کر آگیا۔ ملہوترہ گاڑی کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ لگانے لگا۔ اچانک اس کی نظر مجھ پر پڑی۔ ’’ہیلو مسٹر
شرما…! تو آپ بھی مسٹر موہن کے ساتھ ہیں؟‘‘
میرا دل چاہا کہ ملہوترہ کو اس مصنوعی حادثے کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے اصل حادثے کے متعلق سب کچھ بتا دوں تاکہ وہ اندھیرے میں نہ رہے، مگر موہن نے مجھے اس کا موقع نہیں دیا۔ اس نے میرے بشرے سے بھانپ لیا تھا کہ میں ملہوترہ کو کچھ بتانے والا ہوں۔ اس نے ملہوترہ سے کہا۔ ’’کیا خیال ہے دوست! کیا تم ہیڈ لائٹ لگا دو گے…؟‘‘
’’کیوں نہیں مسٹر موہن! آپ اپنی گاڑی میرے گیراج میں لے آئیں۔ آپ کسی بات کی چتنا نہ کریں، صرف دس پندرہ منٹ کا کام ہے۔‘‘ ملہوترہ نے جواب دیا۔ ’’آپ کو زیادہ انتظار کی زحمت نہیں کرنا پڑے گی۔‘‘
ملہوترہ نے ٹھیک ہی کہا تھا۔ ہیڈ لائٹ لگنے میں زیادہ وقت صرف نہیں ہوا۔ اس حادثے میں مڈگارڈ کا رنگ کئی جگہ سے اتر گیا تھا۔ ملہوترہ نے دوبارہ رنگ لگا کر وہ عیب بھی چھپا دیا تھا۔ اب لگتا ہی نہیں تھا کہ ہیڈ لائٹ حادثے سے متاثر ہوئی تھی اور مڈگارڈ کا رنگ اتر گیا تھا۔
میرا خیال تھا کہ اب ہم گھر واپس جائیں گے لیکن میرا یہ خیال غلط ثابت ہوا، کیونکہ موہن کا ذہن اب بھی منصوبہ بندی میں مصروف تھا۔ اس کا واحد مقصد یہ تھا کہ اگر پولیس حادثے کی تحقیقات کرتے ہوئے اس تک پہنچ جائے تو عدالت میں کسی طرح بھی یہ ثابت نہ ہوسکے گا کہ حادثہ اس کی گاڑی سے پیش آیا تھا۔ ظاہر ہے ثبوت نہ ملنے کی وجہ سے عدالت اسے بے گناہ قرار دیتے ہوئے صاف بری کردے گی۔ اس حادثے کا میرے سوا کوئی عینی گواہ نہیں تھا۔ شاید موہن کو یہ خوف پریشان کررہا تھا کہ شاید کسی نے ہمیں دیکھا ہو اور ہم اسے نہ دیکھ سکے ہوں۔ اس لئے وہ ہر سراغ مٹا دینا چاہتا تھا۔
ملہوترہ کے گیراج سے نکل کر ہم ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں گئے۔ اس ریسٹورنٹ کا مالک ہم دونوں سے اچھی طرح واقف تھا۔ برسوں کی شناسائی تھی۔ اس ریسٹورنٹ کے سامنے گاڑی رکتے دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔ میں نے پوچھا۔ ’’اس وقت یہاں رکنے کی کیا ضرورت ہے مسٹر موہن…؟‘‘
’’کیوں…؟ کیا تمہیں بھوک نہیں لگ رہی؟‘‘ اس نے میرے چہرے پر نظریں جما دیں۔ ’’مجھے تمہاری بھوک کا خیال آیا تو میں نے گاڑی یہاں روک لی۔‘‘
’’کیا آپ گھر کھانا نہیں کھائیں گے؟‘‘ میں نے تعجب خیز لہجے میں کہا۔ ’’آپ کی پتنی کھانے پر آپ کا انتظار کررہی ہوگی۔ وہ آپ کے بغیر کھانا کہاں کھاتی ہے۔‘‘
’’میں نے اس سے کہہ رکھا ہے کہ اگر کبھی مجھے دفتر سے گھر پہنچنے میں دیر ہوجائے تو تم کھانے پر میرا انتظار مت کرنا لہٰذا آج دیر ہوجانے پر وہ کھانا کھا لے گی۔‘‘ موہن نے جواب دیا۔
’’مجھے بالکل بھوک نہیں ہے۔‘‘ میں نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
’’کیا کہا بھوک نہیں ہے…؟‘‘ موہن نے حیرت سے مجھے دیکھا۔ اسے جیسے میری بات کا یقین نہیں آیا۔ ’’آٹھ بج رہے ہیں۔ دفتر میں مصروفیت کی وجہ سے ہم دونوں نے ہی دوپہر کا کھانا نہیں کھایا تھا۔ آڈٹ کرنے والوں نے سر کھجانے تک نہیں دیا تھا۔ چلو… اندر چلو… جتنی بھوک ہے، اتنا کھا لینا۔‘‘
مجھے اس کے ساتھ ریسٹورنٹ میں جانا پڑا۔ پھر جلد ہی مجھ پر اس کی بھوک کا راز کھل گیا۔ موہن ریسٹورنٹ کے مالک کو آج کی مصروفیات تفصیل سے بتانے لگا کہ ہم نے والی بال کا میچ دیکھا، پھر وہاں سے جواہر لعل کمرشل اسٹریٹ گئے کیونکہ وہاں کمپنی کا کچھ ضروری کام انجام دینا تھا۔ جواہر لعل کمرشل اسٹریٹ اس علاقے کا نام تھا جو سندر پارک کی مخالف سمت میں ہے۔ وہاں بڑی رونق اور گہما گہمی رات دس بجے تک رہتی تھی۔ وہاں لڑکیاں جوان مردوں کے ساتھ ہم رقص ہوتی تھیں۔ بار کے مالک نے بڑی اسکرین لگا رکھی تھی جس پر ان جوڑوں کو رقص کرتے ہوئے دکھاتا تھا۔ شوقین لوگوں کی کمی نہ تھی، کیونکہ وہ لڑکیوں کو ناچتا ہوا دیکھ کر محظوظ ہوتے تھے۔
موہن نے ریسٹورنٹ کے مالک کو اوقات خاص طور پر ذہن نشین کرانے کی کوشش کی۔ دراصل موہن مستقبل کے لئے احتیاطاً ایک گواہ تیار کررہا تھا جو یہ بتا سکے کہ ہم دونوں کس وقت اس کے ریسٹورٹ میں کھانا کھانے کے لئے پہنچے تھے اور وہاں ہماری اس سے کیا گفتگو ہوئی تھی۔
ہم ساڑھے آٹھ بجے ریسٹورنٹ سے نکلے۔ میں نے صرف چند نوالے زہرمار کئے تھے، اس کا ساتھ دینے کی غرض سے…! میں اپنے خیالوں میں ڈوبا ہوا تھا اس لئے کچھ پتا نہیں چلا کہ وہ کس طرف جارہا ہے۔
’’ارے اوپندر ناتھ گھر پر موجود ہے۔‘‘ اوپندر ناتھ ہمارا ایک دفتری ساتھی تھا۔ موہن نے اس کے فلیٹ کی روشنیاں جلتی دیکھ کر گاڑی روک لی۔ ’’آئو اوپر چلتے ہیں۔‘‘
’’کیوں…؟‘‘
’’بس ایک منٹ کے لئے… مجھے اس سے کچھ پوچھنا ہے۔ آئو… آئو!‘‘
میرا سوال احمقانہ تھا۔ مجھے پہلے ہی سمجھ لینا چاہئے تھا کہ موہن اپنے لئے دوسرا گواہ تیار کرنے جارہا ہے۔ ہم نے اوپندر ناتھ سے ملاقات کی۔ موہن نے باتوں باتوں میں اسے بھی بتایا کہ ہم دفتر سے نکل کر کہاں گئے، کیا کیا کام کئے اور کہاں کس وقت کھانا کھایا۔ ممکن تھا کہ میں اوپندر ناتھ کے سامنے سب کچھ اگل دیتا لیکن اس سے میرے تعلقات رسمی قسم کے تھے، البتہ موہن کے گہرے مراسم تھے اور ان کے درمیان بے تکلفی بھی تھی۔ میں بے وقوفوں کی طرح چپ چاپ بیٹھا رہا اور وہ دونوں نجانے کیا کیا باتیں کرتے رہے۔
اس کے بعد ہم ایک ڈرگ اسٹور میں گئے۔ موہن نے اپنے پسندیدہ روسی سگاروں کا ایک ڈبا خریدا اور اسٹور کے مالک سے گپیں ہانکنے لگا۔ ظاہر ہے اس کی گفتگو کا موضوع وہی تھا کہ ہم دونوں دفتر سے نکلنے کے بعد کہاں کہاں گئے، کہاں کھانا کھایا اور کس کس سے ملے۔ ڈرگ اسٹور میں مجھے شرون کمار نظر آیا۔ شرون کمار پہلے پولیس کے محکمے میں تھا پھر وہاں سے ریٹائر ہونے کے بعد اس نے اس ڈرگ اسٹور میں ملازمت کرلی تھی۔ شرون کمار دوسرے پولیس والوں سے بالکل مختلف تھا۔ جب میں کمسن تھا تو اس کی ڈیوٹی ہمارے محلے میں تھی۔ محلے کے بچے، جوان سبھی اس سے محبت کرتے، اس کے ساتھ فٹ بال اور کرکٹ بھی کھیلتے تھے، جب وہ ڈیوٹی سے فارغ ہوکر آتا۔ شرون کمار اندر کوئی نسخہ تیار کررہا تھا۔ جب وہ کسی کام سے باہر آیا تو اسے دیکھ کر میرے قدم بے اختیار اس کی طرف بڑھنے لگے۔ شرون کمار چونکہ برسہا برس پولیس میں رہا تھا اور سب انسپکٹر کے عہدے پر پہنچنے کے بعد ریٹائر ہوا تھا اور مجھ سے اچھی طرح واقف تھا، اس لئے مجھے اس مسئلے کا بہترین حل اس کے سوا کوئی نہیں بتا سکتا تھا۔ میں اسے تمام حالات سے آگاہ کرکے اس سے مشورہ طلب کرنا چاہتا تھا لیکن میں ابھی شرون کمار تک نہیں پہنچا تھا کہ موہن نے میرے کندھے پر ہاتھ مارا۔ ’’ونود! چلو گھر چلتے ہیں، دیر ہورہی ہے۔‘‘
میں احمقوں کی طرح پلٹ کر اس کے ساتھ چل دیا۔ اس طرح میں نے ایک بہترین موقع گنوا دیا۔
ہم راستے میں دو جگہ اور رکے یعنی موہن نے دو اور گواہ تیار کرلئے پھر جب ہم اس کے گھر پہنچے تو رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ میں بری طرح تھک گیا تھا۔ میرا ارادہ تھا کہ اس کی گاڑی سے اتر کے سیدھا اپنے گھر چلا جائوں گا، مگر گاڑی احاطے میں داخل ہوتے ہی میں چونک پڑا۔ موہن کا چہرہ بھی فق ہوگیا۔
احاطے میں پولیس کی گاڑی کھڑی تھی۔ پولیس کی گاڑی دیکھ کر مجھے بہت مسرت ہوئی۔ میں خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگا۔ موہن کی حالت دیکھنے کے قابل تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آخر پولیس اتنی جلدی کس طرح حادثے کی تحقیقات کرکے اس کے مکان تک پہنچ گئی۔ صرف ایک بات سمجھ میں آتی تھی وہ یہ کہ کسی شخص نے حادثہ ہوتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور وہ جو کوئی بھی تھا، اتنا حاضر دماغ ضرور تھا کہ اس نے موہن کی گاڑی کا نمبر نوٹ کرلیا تھا۔
گاڑی کا انجن بند کرکے موہن کچھ دیر اندر ہی بیٹھا رہا۔ وہ اپنی حیرت پر قابو پا چکا تھا اور اب اس کا ذہن تیزی سے نئے حالات کے تمام زاویوں کا احاطہ کررہا تھا۔ غالباً وہ یہ سمجھنے کی کوشش کررہا تھا کہ آخر پولیس کس طرح اتنی جلدی اس کے گھر پہنچ گئی۔
اس سے کہاں اور کس جگہ غلطی ہوئی؟ اس کا ازالہ کس طرح کیا جائے؟ اس کا شاطر ذہن ہار ماننے کے لئے تیار نہیں تھا۔ اس کی حالت ایک ایسے جواری کی تھی جس کے پاس اب بھی ترپ کے پتے تھے۔
’’گاڑی میں اس طرح ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا فضول ہے، مسٹر موہن!‘‘ میں نے اکتا کر کہا۔ ’’آخر کب تک بیٹھے رہیں گے؟ میرا مشورہ ہے کہ حالات کا سامنا کیا جائے۔‘‘
’’اب بھی کچھ نہیں بگڑا ہے۔‘‘ اس نے بڑے پراعتماد لہجے میں کہا۔ ’’لیکن تم خاموش رہنا۔ پولیس سے صرف میں بات کروں گا۔ جب تک حالات کا صحیح اندازہ نہ ہوجائے، کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ میں پولیس کی نااہلی، نفسیات اور کمزوری سے واقف ہوں۔ اسے شیشے میں اتارنا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔‘‘
میں نے بے پروائی سے کاندھے اچکاتے ہوئے دل میں سوچا کہ اپنی زبان بند رکھوں گا لیکن اگر پولیس نے مجھ سے کوئی سوال کیا تو میں پوری سچائی سے جواب دوں گا، کوئی بات پوشیدہ نہیں رکھوں گا۔
مکان کی اوپری منزل تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ صرف نیچے ہال میں روشنی نظر آرہی تھی۔ اندر سے کسی قسم کی آوازیں نہیں آرہی تھیں۔
موہن نے اطلاعی گھنٹی بجائی۔ دروازہ ایک با وردی پولیس والے نے کھولا اور ہمیں اندر آنے کا راستہ دیا۔ موہن کو دیکھتے ہی اس کی پتنی آگے بڑھی۔ اس کا چہرہ بالکل سفید ہورہا تھا جیسے اس کے جسم میں خون کا ایک قطرہ بھی نہ ہو۔ آنکھیں سرخ تھیں، جیسے وہ بہت دیر سے رو رہی ہو۔ کمرے میں سادہ لباس میں ایک پولیس والا بھی موجود تھا۔
’’موہن… موہن…! تم کہاں تھے… میں نے تمہیں ہر جگہ فون کیا۔ تم نے موبائل بھی حسب عادت بند کیا ہوا تھا۔‘‘ اس کی پتنی کی آواز عجیب سی معلوم ہوئی۔
موہن نے جواب دینے سے پہلے میری طرف دیکھا۔ وہ نظروں ہی نظروں میں مجھے خاموش رہنے کی تنبیہ کررہا تھا۔ میں بے پروائی سے پولیس والے کو دیکھنے لگا۔
’’میں ونود کے ساتھ تھا۔‘‘ موہن نے بتایا۔ ’’ہم دونوں نے دفتر سے نکل کر والی بال کا میچ دیکھا، پھر ہم کمرشل اسٹریٹ چلے گئے، وہاں کمپنی کا ایک ضروری کام تھا، اس کے بعد…! خیریت تو ہے نلنی! کیا بات ہے؟‘‘ موہن نے پولیس والے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’موہن…!‘‘ نلنی نے رندھی ہوئی آواز میں کہا اور بے اختیار موہن سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
’’نلنی… نلنی…! یہ کیا بچپنا ہے؟ دیکھو گھر میں دوسرے لوگ بھی موجود ہیں۔
بتائو تو آخر کیا ہوا؟‘‘
’’موہن…! بھوشن…‘‘ نلنی نے ہچکیوں کے درمیان کہا۔ بھوشن، موہن کے لڑکے کا نام تھا۔
’’بھوشن…؟‘‘
’’ہاں موہن! کسی ظالم درندے نے اسے گاڑی سے کچل کر ہلاک کردیا۔ وہ نئی سائیکل پر چکر لگا کر گھر آرہا تھا۔‘‘
’’کون تھا وہ…؟‘‘ موہن پوری قوت سے چلّایا۔
اس نے نلنی کو اپنے سے علیحدہ کردیا۔ اس کا چہرہ غصے سے تمتما رہا تھا۔ وہ پولیس والے کی طرف بڑھا جو اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر صوفے سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا تھا۔
’’بتائو کون تھا وہ…؟ میں اس درندے کا گلا اپنے ہاتھوں سے گھونٹ دوں گا۔‘‘
پولیس والے نے ہمدردی سے اس کے کاندھوں پر ہاتھ رکھا۔ ’’صبر کیجئے جناب! آپ مرد ہیں، اپنے آپ کو سنبھالئے ورنہ آپ کی بیوی کی کیا حالت ہوگی۔ ہم مجرم کو ابھی نہیں پکڑ سکے ہیں… قانون اس مجرم کو پوری سزا دے گا۔‘‘
نلنی صوفے پر بیٹھی، دونوں ہاتھوں میں منہ چھپائے زاروقطار رو رہی تھی۔ میں قدرت کے اس انتقام پر انگشت بدنداں تھا۔ اپنے بچے کی موت کی خبر سن کر موہن وہ حادثہ بھول گیا تھا جو چند گھنٹے پہلے اسی علاقے میں اس کی گاڑی کے ساتھ پیش آیا تھا۔ مجھے اس لڑکے کا بے حس و حرکت جسم یاد آگیا جو سڑک کے کنارے اندھیرے میں اوندھے منہ پڑا تھا اور اس کی ٹوٹی ہوئی سائیکل اس کے پاس پڑی ہوئی تھی۔
پولیس والے نے کہا۔ ’’افسوس یہ ہے کہ بچے کو فوراً طبی امداد نہیں مل سکی، ورنہ ممکن تھا کہ اس کی جان بچا لی جاتی۔ اس نے اسپتال پہنچ کر دم توڑا ہے۔‘‘ (ختم شد)