Thursday, February 22, 2024

Insaniyat Ka Rishta

عمر میری چودہ برس تھی جب سارے جہان کی رنگینیاں آنچل میں سمیٹ لینے کو جی چاہتا ہے۔ انہی دنوں ہی امی ابو کو اچانک خیال آگیا کہ گل رخ بڑی ہو گئی ہے ، اب اسے سات پردوں میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ انہیں ادراک نہ تھا سات پردے چادر کے ہوں یا اینٹوں کی چار دیواری کے، یہ رکاوٹیں خوابوں اور خیالات کے پر نہیں کاٹ سکتیں، تبھی انہوں نے میرے قدموں پر دہلیز کو پار کرنے کی پابندی عائد کر دی۔ اب میں تھی اور پیتی ہوئی لمبی دو پہریں…! ایک روز جبکہ محلے میں سناٹا پڑا تھا، سڑکیں ، گلیاں سنسان تھیں اور میری ماں کھانا کھا کر خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھیں، میں نے چپکے سے کنڈی کھولی اور گھر سے نکل گئی۔ کھلی فضا میں پر تول کر اڑان بھرنے کی آرزو میں دہلیز تو پار کرلی مگریہ نہ سوچا کہ گھر کی چار دیواری سے نکل کر جائوں گی کہاں ؟ محلے میں ماں نے کسی سے دوستی رکھنے ہی نہ دی تھی۔ لے دے کر ایک ماہین تھی جس کی والدہ، امی کی دور کی کزن ہوتی تھیں۔ وہ کبھی کبھار آ جاتی تو میری عید ہو جاتی تھی۔ ان دنوں مابین ماموں کے گھر گئی ہوئی تھی۔ اب میں سارے محلے کی گلیوں کے دروازے جھانکتی پھر رہی تھی۔دھوپ تیز تھی، سورج کی روشنی نے میری سنہری مائل آنکھوں کو چکا چوند کر دیا تھا۔ گال تمازت سے تمتمانے لگے۔ سوچا نا حق چھپے چوری گھر سے نکلی ۔ اماں جاگ گئیں تو کس قدر واویلا کریں گی۔ سامنے ہی نبیلہ کا گھر تھا، سوچا کیوں نہ اس کا در کھٹکھٹائوں۔ یہ میری ان دنوں کی کلاس فیلو تھی جب ابھی پرائمری میں پڑھا کرتی تھی۔ اس کا گیٹ نیم وا تھا۔ میں نے گیٹ کو ذرا سا دھکیلا اور اندر جھانکا۔ لان خالی پڑا تھا، وہاں کوئی بھی نہ تھا۔ دبے قدموں لان عبور کرتی اندر چلی گئی۔ برآمدے میں بھی سناٹا تھا۔ کمرے کی جالی سے چپک کر دیکھنے لگی۔ جانتی تھی آنٹی گھر نہ ہوں گی۔ وہ جاب کرتی تھیں۔ صبح جاتیں، شام کو لوٹتیں لیکن نبیلہ گھر میں ہوتی تھی۔ میٹرک کے بعد اس نے پڑھائی چھوڑ دی تھی۔ ابھی نبیلہ کو آواز دینے ہی والی تھی کہ اوپر کی منزل سے کچھ گرنے کی آواز سنائی دی جیسے کوئی کاپی یا کتاب فرش پر گری ہو۔ گویا کہ شان اوپر ہے۔ جانتی تھی کہ نبیلہ کا بھائی شان جو میڈیکل کا طالب علم تھا، اس کا کمرہ بالائی منزل پر تھا۔ جب سارے گھر میں دیکھ لیا کہ کوئی موجود نہیں ہے سو چا شاید نبیلہ بھی اوپر ہو گی۔ یہ سوچ کر سیڑھیاں چڑھتی بالائی منزل پر پہنچ گئی۔ کمرے کا در کھلا تھا۔ جھانکا تو شان کو پڑھنے میں محو پایا۔ اس کی پشت دروازے کی طرف تھی۔ بچپن میں ہم ساتھ اسکول جاتے تھے اسی لئے ایک دوسرے کیلئے اجنبی نہ تھے لیکن جب اماں نے پر دے بٹھادیا تب سے شان سے ملاقات نہ ہوئی تھی۔ وہ ہمارے گھر اب نہیں آتا تھا۔

شان اکیلا گھر پر ہے۔ سوچا آ ہی گئی ہوں تو نبیلہ کے بارے میں پوچھوں کہاں گئی ہے، کب آئے گی۔ میں نے ہولے سے پکارا۔ شان ! کیا گھر میں کوئی نہیں ہے ؟ میں ہوں تو ، اس نے چونک کر تحیر سے جواب دیا۔ ہاں تم ہو بھئی . لیکن میں تو نبیلہ کو پوچھ رہی ہوں۔ وہ امی کے ساتھ نانی کے گھر گئی ہے ، ماموں نے دعوت کی ہے ، رات کو آئیں گے وہ لوگ … تم کیوں نہیں گئے دعوت پر ؟ ارے بھئی مجھے پڑھنا ہے۔ کل میرا ٹیسٹ ہے۔ وہ پھر کتاب میں محو ہو گیا تبھی میں از خود کرسی پر براجمان ہو گئی۔ تھوڑی دیر خاموشی رہی۔ شان ! میں نے پکارا۔ کیا ہے ؟ اس نے اپنی کاپی پر توجہ مرکوز رکھی۔ کیا کر رہے ہو بھئی ؟دیکھ نہیں رہیں، میں پڑھ رہا ہوں۔ ٹھیک ہے تم پڑھو لیکن میں تو بور ہو رہی ہوں۔بور ہو رہی ہو تو میں کیا کروں ؟ تم بھی کوئی کتاب اٹھا کر پڑھنے لگو۔ اس نے ایک میگزین میری طرف اچھال دیا۔میں یہاں پڑھنے نہیں آئی۔ یہ پڑھنا تم ہی کو مبارک ہو۔ کیا کرنے آئی ہو ؟ نبیلہ سے باتیں کرنے آئی تھی، گھر میں بھی تو بور ہو رہی تھی۔ نبیلہ نہیں ہے تو اب تم یہاں بیٹھ کر کیا کرو گی ۔ تم ہی دو منٹ بات کر لوشان ! گھر آئے مہمان کو اتنی تو لفٹ دیتے ہیں میرے پاس فالتو وقت نہیں ہے گل رخ … کل میرا پرچہ ہے ۔ اب تم چلو۔ نبیلہ جب آئے ، تب آنا۔ مجھے بہت برا لگا۔ کیا کوئی انسان ایسا روکھا بھی ہو سکتا ہے ؟ میں نے شان کو کتاب میں اس قدر گم دیکھا تو غصہ آنے لگا بلکہ میری رگ شرارت پھڑک اٹھی۔ پتا ہے شان بھائی ! میرا دل کیا چاہ رہا ہے ؟ کیا ؟ آپ کو پڑھنے نہ دوں۔ یہ کہہ کر میز پر پڑے اس کے نوٹس کے صفحے ہوا میں اچھال دیئے۔ جب وہ نوٹس کے صفحات کی طرف لپکا، میں نے اس کے ہاتھ سے کتاب اچک لی۔ اچانک حملے پر وہ ایک لمحے کو بوکھلا گیا۔ اس کو مجھ سے ایسی توقع ہر گز نہ تھی۔ رکھائی وہ یوں دکھا رہا تھا کہ میں کسی طرح جلد از جلد وہاں سے چلی جائوں۔ارے… ارے بے و قوف لڑکی ، یہ کیا کر دیا ؟ ہوا میں بکھر کر فرش پر گر جانے والے صفحوں کے پیچھے دوڑنے لگا۔ میں اس کی بوکھلاہٹ سے محفوظ ہو رہی تھی۔ ابھی تم کو ٹھیک کرتا ہوں۔ اس نے صفحات اکٹھے کرتے ہوئے گویا جھوٹ موٹ کہا۔ مجھ پر اس کی اس دھمکی کا کوئی اثر نہ ہوا۔ اچھا چائے پیو گی؟ ہاں ! کیوں نہیں مگر چائے بنائے گا کون؟ میں بنائوں گا چائے ، ارے بھئی تم نہیں جانتیں کتنی اچھی چائے بناتا ہوں۔ ویسے اچھا ہوا کہ تم آگئیں، اس وقت میرا دل چائے پینے کو چاہ رہا تھا۔ تم بیٹھو یہاں ابھی بنا کر لایا۔ اطمینان سے کرسی پر براجمان ہو گئی اور وہ کچن میں چائے بنانے کو چلا لیکن شاطر نے اپنے کمرے سے نکلتے ہی باہر سے کمرے کی کنڈی لگا دی۔ کتاب اور نوٹس وہ ہاتھ میں پکڑے تھا۔ کمرے میں قید کر کے وہ دوسرے کمرے میں جا بیٹھا اور پڑھائی میں محو ہو گیا۔ ظاہر ہے کہ میڈیکل کی تعلیم کوئی مذاق نہیں ہوتی۔ اس کا تو ایک ایک لمحہ قیمتی تھا اور میں چودہ برس کی لاابالی، بے وقوف لڑکی تھی۔ ہر بات کو ہنسی مذاق بھتی تھی۔ تھوڑی دیر خاموشی سے انتظار کرتی رہی کہ اب آکر کھولے گا۔ اس لئے بند کر گیا ہے کہ اس کے پیچھے کچن میں آکر اسے پریشان نہ کروں لیکن ہیں منٹ سے زیادہ وقت گزر گیا اور وہ نہیں آیا۔ میرا سر چکرانے لگا۔ اس نے میرے ساتھ ہاتھ کیا اور نوٹس کے صفحات ہوا میں اڑانے کا بدلہ لے لیا۔

میں نے دروازہ پیٹنا شروع کیا تو باہر سے جواب دیا۔ گل رخ دروازہ مت پیٹو، میں کھولنے کا نہیں۔ جب تک مما اور نبیلہ گھر واپس نہیں آجاتیں، تم یونہی کمرے میں بند رہو گی۔ روہانسی ہو گئی لیکن روش کس کو دیتی، یہ میرا اپنا کیا دھرا تھا۔ اب شور مچانے سے تو بد نامی ہو جاتی سارے محلے میں، خاموش ہو کر بیٹھ گئی کہ کچھ دیر بعد آپ ہی آزاد کر دے گا تاہم امی کے جاگ جانے کا ڈر تو تھا۔ جاگ گئیں اور مجھے گھر نہ پایا تو کیا ہو گا۔ محلے میں کیا مجھے ڈھونڈتی پھریں گی ؟ وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ دو گھنٹے استراحت فرما کر بالآخران کی آنکھ کھلی اور مجھے آواز دی۔ گل رخ ، ذرا چائے تو بنا لائو۔ بدن میں درد ہو رہا ہے ، اٹھا نہیں جا رہا۔ دو پہر کے کھانے کے بعد دو گھنٹے کا قیلولہ کرنا یوں تو اماں کا روز کا معمول تھا مگر آج واقعی ان کی طبیعت ناساز ہو گئی تھی۔ ہلکی ہلکی حرارت ہوئی اور پھر بخار چڑھنے لگا۔ وہ بار بار مجھے آواز دے رہی تھیں۔ وہاں ہوتی تو جواب دیتی۔ میں تو پڑوس میں نبیلہ کے گھر شان کے کمرے میں قید تھی۔ بالآخرvامی کو اٹھنا پڑا۔ آوازیں دیتیں چھت پر گئیں، سارا گھر چھان مارا۔ جب کہیں نہ ملی تو ان کے پیروں تلے سے زمین نکلنے لگی، حواس جاتے رہے۔ سریر برقعہ ڈال گھر سے نکلیں اور محلے کے ہر مکین کا در کھٹکھٹانے نے لگیں، سوائے نبیلہ کے گھر کے ، ادھر تمام محلے کو خبر ہو گئی کہ گل رخ گھر سے غائب ہے شاید کسی آوارہ لونڈے کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ سب سے پہلا جملہ یہی تھا جو آناً فاناً محلے بھر میں گردش کرنے لگا۔ شان مجھے اپنے کمرے میں بند کر کے پڑھنے بیٹھا ہی تھا کہ اسے کسی دوست نے کال کر کے بلا لیا کہ یار جلدی سے آجائو، بس دو منٹ کیلئے کل جو پرچہ آنے والا ہے، اس کے گیس پروفیسر صاحب سے مجھے ملے ہیں ، آکر لے جائو۔ یہ سنتے ہی اسے تو یاد ہی نہ رہا کہ گل رخ کو سزا کے طور پر کمرے میں بند کر دیا ہے ۔ شان کا خیال تھا دس پندرہ منٹ بعد در کھول دوں گا تو یہ اپنے گھر چلی جائے گی۔ دوست کی کال سنی، فوراً نیچے پہنچا اور گیس پیپرز لینے کو روانہ ہو گیا۔ جاتے ہوئے بیرونی دروازے کو بند کر گیا۔ گیٹ پر آٹو میٹک تالا لگا ہوا تھا اور وہ جانتا تھا کہ والدہ کے پاس چابی ہے۔ جب وہ ایسے باہر جاتا اور گھر والے باہر ہوتے، وہ چابی سے خود گیٹ کھول لیتے تھے اور جب ابو اور بھیا گھر آئے، انہیں پتا چلا کہ میں گھر سے غائب ہوں تو پریشانی کے عالم میں ڈھونڈنے نکلے ۔ اس وقت رات کے آٹھ بجے تھے اور بھلکڑ شان مجھے بھول کر اپنے دوست کی بیٹھک میں امتحان کی تیاری میں محو تھا۔

والدہ اور بھائی گلی میں کھڑے سوچ ہی رہے تھے کہ کیا کریں ، کدھر جائیں تبھی انہوں نے دیکھا کہ ان کی صاحبزادی،  مابین کی ماں کے ساتھ گھر کی طرف آرہی ہے۔ مجھے دیکھ کر ان کی جان میں جان آ گئی اور وہ مکان کے اندر چلے گئے لیکن جو نہی میں نے گھر کے اندر قدم رکھا، والدہ چلانے لگیں کہاں رہ گئی تھی کم بخت ! بتایا بھی نہیں۔ ماں، میں آنٹی ثوبیہ کے گھر تھی۔ ارے مجھے بتادیا ہوتا کہ ان کے یہاں جارہی ہوں، ہم اس قدر پریشان تو نہ ہوتے۔ دو پہر سے اب تک ان کے گھر گھے رہنے کی کیا تک تھی ؟ تمہارے ابو نے ان کا گیٹ بجھایا مگر وہ لاک تھا، کسی نے نہ کھولا تو پھر تم کیسے وہاں تھیں ؟ آنٹی ثوبیہ کے جانے کے بعد انہوں نے پوچھا۔ امی ! میں ان کے گھر لاک ہو گئی تھی، شان کے کمرے میں اوپر کی منزل پر ! لاک ہو گئی تھی، یہ کیا کہہ رہی ہو ؟ کیسے لاک ہو گئیں ؟ شان نے بند کر دیا تھا اماں ! اور وہ مجھے بند کر کے گھر سے چلا گیا تھا۔ آنٹی ثوبیہ کے جانے کے بعد میں نے سچ سچ تمام تفصیل بتادی کیونکہ جھوٹ نہ بول سکتی تھی، جھوٹ بولنے میں اور کوئی مصیبت کھڑی ہو سکتی تھی۔ جب ہم نے منع کیا ہوا ہے کہ گھر سے قدم باہر مت نکالا کر اور پاس پڑوس میں نہ جایا کر پھر تم کیوں گئیں  اور وہ بھی جب میں سورہی تھی، بغیر مجھے بتائے۔ اماں ! میں نبیلہ سے ملنے گئی تھی۔ مجھے کیا خبر تھی کہ وہ اور آنٹی گھر نہیں ہوں گی۔ شان نے تم کو کیوں لاک کیا اپنے کمرے میں، اس کا کیا مقصد تھا اور وہ بھی پورے چھ گھنٹے تک، ضرور یہ تیرا کوئی غلط قسم کا معاملہ ہے۔ وہ مجھے پیٹنے لگیں۔ ہماری ملازمہ جو شام کو چھٹی کرتی تھی، اس وقت موجود تھی کیونکہ میری گمشدگی سے امی پریشان تھیں تبھی وہ بھی گھر نہ گئی تھی ۔ ماسی نذیراں نے جو یہ سنا کہ شان نے مجھے اپنے کمرے میں پورے چھ گھنٹے بند کھا تو وہ دانتوں میں انگلی داب کر رہ گئی اور حیرت سے ٹکر ٹکر مجھ کو دیکھتی رہی۔  تم کیا مجھے گھورے جارہی ہو ؟ میں نے ماسی نذیراں پر  غصہ نکالا۔ رات ہو گئی ہے ، ابھی تک یہاں ہو۔ چلو اب  جائو۔ وہ کانوں کو ہاتھ لگاتی چلی گئی لیکن کم ذات کی زبان اس کے قابو میں نہ رہ سکی اور اگلے روز اس کے ذریعے سارے محلے کو خبر ہو گئی کہ آغا صاحب کی صاحبزادی گل رخ پورے چھ گھنٹے پڑوسی کے بیٹے شان کے کمرے میں بند رہی جبکہ اس کے ماں، باپ بیٹی کی گمشدگی کی اطلاع کرانے تھانے جا رہے تھے۔ وہ تو خدا کا شکر کہ شان کی ماں نے میکے سے آکر لڑکی کو آزاد کیا اور گھر پہنچا گئیں ورنہ جانے کیا گل کھلنے والا تھا۔ ماسی نذیراں تو ہر گھر جھانکتی تھی۔ اس بی جمالو سی لگائی آگ نے میرے اور میرے والدین کیلئے گویا جہنم کا در کھول دیا۔ اب محلے کی عور تیں بار بار پوچھنے آرہی تھیں کہ لڑکی کیسے گئی، کیوں اسے شان نے بند کیا اور کیسے واپس لوٹایا وغیرہ۔ یہ سب باتیں سن کرامی ، ابو بے حد شرمندہ تھے۔ وہ ہر ایک کو جواب دے دے کر اور وضاحتیں کر کر تھک گئے تھے۔ میں بھی چور بنی گھر میں ایک طرف پڑی تھی۔ ہم تو اسے ایک چھوٹی سی بات سمجھ رہے تھے مگر زمانے کیلئے یہ کوئی چھوٹی بات نہ تھی کہ جہاں پر  بات کا بتنگڑ بنا کر لوگ خوش ہوتے ہیں یکن ادھر تو رائی کا پہاڑ بنانے کے بعد بھی باتیں بنانے والوں کی تشفی نہ ہو پارہی تھی۔

انسان اپنی خطائیں بھلا دیتا ہے لیکن زمانہ ان غلطیوں کو نہیں بھلاتا بلکہ عورت کی بھول کو تو معاف ہی نہیں کرتا۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک زمانے نے کیا۔ نبیلہ کی امی کا تبادلہ ہو گیا۔ یہ لوگ دوسرے شہر چلے گئے لیکن جو داغ بچنے کی بھول تھا، وہ ہمیشہ کیلئے میری تقدیر کا جھومر بن گیا۔ ایک مرتبہ میں محلے میں امی کے ہمراہ کسی شادی میں گئی تو عور تیں مجھے دیکھ دیکھ کر چہ میگوئیاں کرنے لگیں۔ وہ کھسر پھسر کر رہی تھیں کہ ارے یہ وہی ماہین ہے جس کو ثوبیہ کے بیٹے نے چھ گھنٹے تک اپنے کمرے میں بند رکھا تھا – مجھے ہر طرف سے ایسی ہی نظروں کے تیر چھلنی کرنے لگے تو وہاں بیٹھنا دو بھر ہو گیا اور میں نے امی سے کہا۔ ماں ! اب گھر چلو، میرے پیٹ میں شدید درد ہے۔ کھانا نہ کھائوں گی۔ میرے بار بار مجبور کرنے پر بالآخر امی بھی بغیر شادی کا کھانا کھائے گھر آئیں۔ عورتوں کی باتیں انہوں نے بھی سنی تھیں، لہٰذا بہت افسردہ تھیں، کہنے لگیں۔ دیکھ لیا خود سری کا انجام ! چار برس بیت چکے ہیں اور لوگ ابھی تک اس بات کو نہیں بھولے ہیں۔ کمرے میں بند رہنے کے انہوں نے کیا کیا اور کیسے کیسے مطلب نکال لئے ہیں۔ ہم تو کسی جگہ جانے اور کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ والد صاحب کی زندگی کم تھی۔ ایک روز وہ بازار سودا سلف لینے گئے تو وہاں دکان پر ہارٹ اٹیک سے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ رو دھو کر ہم نے صبر کر لیا کہ زندگی، موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی آگے کوئی پیچھے موت کا ذائقہ تو ہر ذی روح کو چکھنا ہوتا ہے۔ والد کی وفات کے بعد امی کو میری شادی کی فکر ستانے لگی۔ میں ان کی واحد اولاد تھی۔ ان کی زندگی کا بھی بھروسہ نہ تھا پس خالہ جان سے کہہ سن کر ایک جگہ منگنی طے ہوئی لیکن جب محلے والوں میں سے کسی سے سن لیا کہ یہ وہی لڑکی ہے جس کو پڑوسی لڑکے نے اپنے کمرے میں چھ گھنٹے بند رکھا تھا تو وہ لوگ بدظن ہو گئے اور منگنی ٹوٹ گئی۔ ہم نے وہ گھر فروخت کر دیا اور خالہ جان مجھے اور امی کو اپنے گھر لے آئیں کہ اس محلے میں رہ کر میرا رشتہ ہونا محال تھا۔ والدہ نے خالہ کے اصرار پر مجھے نرسنگ ٹریننگ سینٹر میں داخلہ دلوا دیا کیونکہ خود خالہ بھی اسپتال میں ملازمت کرتی تھیں۔ میری خالہ کی اولاد نہیں تھی جوانی میں بیوہ ہوئی تھیں تبھی سے ملازمت کر رہی تھیں۔ میں ابھی نرسنگ ٹریننگ کے آخری سال میں تھی کہ والدہ بھی رضائے الٰہی سے وفات پا گئیں۔ اب خالہ بشری کے سوا میرا اس دنیا میں کوئی نہ رہا تھا۔ انہی کے پاس رہتی تھی، انہی کے سہارے زندگی کے دن گزار نے لگی۔ خالہ جان ریٹائر ہو ئیں تو مجھے ان کی جگہ ملازمت مل گئی اور میں اسپتال میں بطور نرس کام کرنے لگی۔ ایک بار کینسر وارڈ میں کیونکہ کینسر ایسا مرض تھا کہ انسان کو قبل از وقت مرنے کا اشارہ مل جاتا تھا۔ اکثر مریض با حوصلہ اس موذی مرض سے لڑتے اور کچھ ایسے بھی ہوتے کہ حوصلہ ہار جاتے تو افسردہ رہ کر موت کے انتظار میں دن گنتے تھے۔ ایک دن ایک نہایت خوبصورت نوجوان کینسر وارڈ میں لایا گیا۔ اس کی زندگی کے دن بھی گنے جاچکے تھے ۔ مجھے عادل کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ ایسی بھر پو جوانی، اس قدر خوبصورت شخص اور کیسے موذی مرض نے اپنے چنگل میں کس لیا تھا۔ بہر حال میرا تو فرض تھا مریض کی خدمت کرنا اور اس کی دلجوئی اور ہمدردی سے پیش آنا۔ میں دل سے اور خلوص کے ساتھ عادل کی خدمت کرتی تھی۔ وقت پر دو ادیتی اور اچھی طرح دیکھ بھال کرتی رہی۔ جب میں اس کے روم میں جاتی، وہ میرا منتظر ہوتا، مجھے دیکھتے ہی اس کی نگاہوں میں جینے کی آرزو جاگنے لگتی اور اس کی آنکھیں کسی نئی امید سے چمک اٹھتی تھیں۔ شاید کہ وہ مجھ سے محبت کرنے لگا تھا لیکن اظہار نہ کرتا تھا کیونکہ  اظہار بیکار تھا۔ ۔ کافی دنوں تک تو اس نے مجھے اپنے ذاتی حالات کے بارے میں کچھ نہ بتایا لیکن ایک روز جبکہ وہ کچھ افسردہ اور فکر مند نظر آرہا تھا، اس نے کہا کہ اس کی بیوی اسے چھوڑ کر جا چکی ہے۔ اس کا ایک چھوٹا سا بیٹا ہے جو نوکرانی کے زیر نگرانی پرورش پارہا ہے۔ مجھے اپنی فکر نہیں ہے گل ا لیکن اپنے بیٹے سلیم کی بہت فکر ہے۔ میرے بعد اس کی پرورش کون صحیح طریقے سے کرے گا بس یہی سوچ سوچ کر پریشان رہتا ہوں ۔ موت تو ایک اٹل حقیقت ہے۔ جانتا ہوں کہ میری بیماری آخری سیج پر ہے لیکن میرے بعد سلیم تو اس بے رحم زمانے کے رحم و کرم پر رہ جائے گا۔ اس نے ٹھنڈی آہ هیچی ۔ مجھے لگا جیسے کہ وہ مجھ سے درخواست کر رہا ہو کہ اس کے بعد میں اس کے بچے کی ماں بن جائوں۔ تبھی میں نے عادل سے درخواست کی کہ آپ یہ بچہ مجھے دے دیجئے۔ میں اس کی پرورش کرنا چاہتی ہوں۔ وہ پہلے تو رضامند نہ ہوا کیونکہ میرے بارے شاید کہ وہ نہیں جانتا تھا، لیکن میرے حسن سلوک نے اس کا دل جیت لیا تھا اور یہی چیز اسے مجھ پر بھروسہ کرنے پر مائل کر رہی تھی۔ اس نے کہا۔ اپنا بچہ آپ کے سپرد کر سکتا ہوں لیکن ایک خیال پریشان کرتا ہے آپ شادی شدہ نہیں ہیں۔ جب آپ نے شادی کر لی تو بعد کے حالات میں کیا آپ میرے بچے کو اس طرح پال سکیں گی جیسے کہ آج کے حالات میں یقینا حالات بدل جائیں گے تو آپ کی توجہ بھی بٹ جائے گی۔ میں نے عادل سے وعدہ کیا کہ میں شادی نہیں کروں گی اور اپنا سب کچھ اس کے بچے کو ہی سمجھوں گی۔ عمر بھر اس کا ایسے ہی خیال کروں گی جیسے ایک ماں اپنے بچے کا خیال رکھتی ہے۔ عادل نے اپنی زندگی میں ہی اپنے دو سالہ بچے کو مجھے سونپ دیا کیونکہ اب وہ زندگی کی آس کھوتا جاتا تھا۔ خالہ مجھ سے زیاہ سلیم کا خیال رکھنے لگیں۔ وہ گھر پر ریٹائرڈ زندگی گزار رہی تھیں، کوئی مصروفیت نہ تھی۔ انہوں نے سلیم میں دل لگا لیا۔ جب میں ڈیوٹی پر آتی، وہ اسے نہلا دھلا کر صاف کپڑے پہنا تیں۔ ٹہلانے لے جاتیں اور بہت خیال رکھتیں۔ کچھ ہی دنوں بعد عادل کا انتقال ہو گیا۔ مجھے بہت دکھ ہوا۔ میں روزا سے دوا دیتی، اور اکثر بیٹھ کر اس کی باتیں سنتی تھی۔ ہنس ہنس کر جواب دیتی۔ حوصلہ اور تسلیاں جو میں اس کو دیتی وہ اس کیلئے مرہم کا کام کرتی تھیں۔ وہ بہت معصوم سا انسان تھا۔ اس کی ہر بات کا جواب محبت سے دیتی تھی۔ بالآخر اس کی زندگی کے دن پورے ہو گئے اور وہ اپنے خالق سے جاملا۔ سلیم کی صورت میں مجھے اپنی سب سے قیمتی چیز سونپ کر ۔ اس کی وفات پر میں بہت روئی تھی۔ لگتا تھا جیسے آج بیوہ ہو گئی ہوں حالانکہ میرا اس کے ساتھ کوئی رشتہ نہ تھا۔ محبت کا بھی نہیں، نکاح کا بھی نہیں، لیکن آج پتا چلا کہ انسانیت کار شته تو سب رشتوں سے بڑھ کر اور افضل ہوتا ہے۔ میں نے سلیم کی پرورش میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ بالکل ایسے اس کی پرورش کی جیسے کوئی اپنی اولاد کی کرتا ہے۔ میں نے آج تک کسی کو کبھی پسند کیا اور نہ کسی سے شادی کی خواہش کی ، بس ہر دم سلیم کی خواہشیں ہی پوری کرنے کی فکر میں لگی رہی۔ میری زندگی کا دوسرا مقصد مریضوں کی خدمت کرنا تھا۔ اسی میں مجھے سکون ملتا تھا۔ محبت تو کسی مرد سے نہ کر سکی، عادل سے بھی جھوٹی محبت کا سوانگ رچاتی رہی تھی کیونکہ اس کی دلجوئی مقصود تھی۔ نہیں چاہتی تھی۔ کہ ایک ایسے انسان کا دل ٹوٹ جائے جو موت سے قریب ہے لیکن وہ محبت جھوٹی نہیں تھی سچی تھی۔ اس حقیقت کے ادراک بعد میں ہوا تھا کیونکہ اس کا لخت جگر آج بھی میرے پاس ہے۔ اور اس کے والد عادل کی محبت اور یاد سے میر دل بھی آباد ہے۔ میں چاہوں تو آج بھی شادی کر سکتی ہوں لیکن مجھے گھر بسانے کی چاہ اب نہیں رہی ہے۔ سلیم کو دیکھتی ہوں تو میری ممتا کی پیاس جاتی رہتی ہے۔ مجھے اس کے ساتھ ایسی ہی محبت ہے جیسی کسی ماں کو اپنی اولاد سے ہو سکتی ہے۔ وہ بھی مجھے ماں سمجھتا ہے اور ایک بیٹے کی طرح میرا احترام کرتا ہے۔–

Latest Posts

Related POSTS