Saturday, May 18, 2024

Intizar Tha Us Din Ka | Teen Auratien Teen Kahaniyan

زاہد، نام کے تھے ورنہ میرے شوہر کے عشق فسانے زبان زدِعام تھے۔ یہ سارے قصے شادی سے پہلے کے تھے لہٰذا، جب ان سے جیون کا بندھن بندھ گیا، میں نے ان کا ماضی فراموش کردیا اور انہوں نے بھی وعدہ کیا کہ آئندہ وہ ہمیشہ میرے وفادار رہیں گے۔
زاہد منچلے، دل پھینک تو سارے خاندان میں مشہور تھے۔ ہمارے بھائی بھی امی سے کچھ خدشات کا اظہار کرتے رہے تھے لیکن والدہ کو اپنا یہ بھانجا اس قدر پیارا تھا کہ سبھی کو جھٹلا کر انہوں نے میری شادی ان سے کردی۔ بچپن سے خالہ نے امی سے مجھے مانگ لیا تھا گویا میں زاہد کی ٹھیکرے کی مانگ تھی۔ بھلا یہ رشتہ کیسے چھوڑ دیتے۔ تبھی دادی اور پھوپھی کی ہزار مخالفت کے باوجود میں خالہ کی بہو بن گئی۔
شادی سے قبل بہت کچھ زاہد کے بارے میں سن رکھا تھا۔ تبھی پہلے دن وعدہ لیا کہ اب اگر آپ نے کسی سے دل لگی کا کھیل رچایا اور مجھے خبر ہوگئی توایک دن اس گھر میں نہ رہوں گی اور ہمیشہ کے لئے میکے چلی جائوں گی۔ انہوں نے قسم اٹھائی کہ اب پائے استقلال میں لغزش نہ ہوگی۔ تم ہی میرے گھر کی مالکہ اور دل کی رانی رہوگی ۔بے فکر ہوجائو، تمہارے بعد کسی کی چاہ ہے اور نہ ہوگی۔
میں نے یقین کرلیا کہ امید پر دنیا قائم ہے۔ یقین نہ ہو تو انسان اس دنیا میں ایک پل خوشی سے سانس نہیں لے سکتا۔ گھر والوں کی خوشیاں عزیز تھیں، اپنے خاوند کو مجازی خدا سمجھ کر ہرقدم ان کے ساتھ تعاون کی ٹھان لی تاکہ ہم پرسکون زندگی بسر کریں اور آئندہ اور زیادہ خوشحال ہوکر معاشرے میں مقام بنا سکیں۔
خالو جان کپڑے کا بزنس کرتے تھے۔ وہ بیمار ہوگئے تو گھر بیٹھ رہے۔ دکان میرے خاوند کو سونپ دی۔ زاہد پہلے کچھ لاابالی سی زندگی گزار رہے تھے، والد کی علالت سے دگنا بوجھ ان پر آپڑا۔ والد کے علاج معالجے اور دیکھ بھال کی ذمہ داری انہی کی تھی اور بزنس کو بھی سنبھالنا تھا۔
پریشان اور گھبرائے ہوئے رہنے لگے۔تب میں نے انہیں ہمت دلائی کہ فکر نہ کریں۔ یہ مشکل وقت بیت جائے گا ،میںہر حال میں آپ کے ساتھ ہوں۔ جب خالو جان کو اسپتال لے جانا ہوتا، ڈاکٹر کو دکھانا ہوتاتو اپنے بھائیوں میں سے کسی کو بلوالیا کرتی تھی، تاکہ یہ زیاہ سے زیادہ وقت اپنی دکان کو دے سکیں ورنہ تو معاشی صورت حال دگرگوں ہونے سے کاروبار کا ڈسٹرب ہونا لازم تھا۔
اللہ تعالیٰ کو یہی منظور تھا، خالو جان اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے اور تمام ذمہ داریاں زاہد کو اٹھانی پڑ گئیں ۔وہی اب کنبے کے کفیل تھے۔ شروع میں ان کا دل دکان پر نہیں لگتا تھا۔ روز زبردستی سمجھا بجھا کر وقت پر انہیں روانہ کرتی، کہ کاروبار سے غفلت مصائب کو دعوت دینے کا سبب نہ بن جائے۔
زاہد کی فطرت سیماب جیسی تھی۔ ایک جگہ جم کر بیٹھنے کا حوصلہ نہ تھا۔ وہ اس طرح بور ہوتے تھے ،تھک جاتے یا پھر ذہنی طور پر ڈسٹرب رہتے، لیکن… غم زندگی سے زیادہ اس وقت غم روزگار لاحق تھا۔ خالو جان کی بیماری پر بے تحاشہ روپیہ لگا دیا تھا۔
زندگی بے وفا ،تو دولت اس سے بڑھ کر بے وفا ہوتی ہے۔ ایک بار جماجمایا کاروبار چوپٹ ہوجائے پھر سے جمانے میں عمر لگ جاتی ہے۔یہ نکتہ زاہد نہ سمجھ سکے۔ رفتہ رفتہ دکان بیٹھ گئی اور گھر میں روزمرہ خرچے کے لالے پڑ گئے تب خالو جان کے دیرینہ دوستوں سے ادھار لے کر دکان میں مال بھرا اور نئے سرے سے کاروبار سنبھالا۔
مرد میں لاکھ اچھائیاں ہوں ،اگر وہ دل پھینک ہوتو اس کا کامیاب ہونا مشکل ہوتا ہے۔ میں دکان پر تو ان کی نگرانی نہ کرسکتی تھی مگر کبھی کبھارکسی قریبی رشتہ دار کی زبانی یہ بات خالہ کو سننے کو مل جاتی تھی کہ تمہارے بیٹے میں یہ بڑی خامی ہے کہ وہ عورتوں سے جلد مانوس ہوجاتے ہیں۔ آج کل گاہک خواتین کو دھڑا دھڑ ادھار پر کپڑا دے رہے ہیں۔ اللہ خیر کرے دکان خالی نہ ہوجائے۔اس طرح تو کاروبار نہیں چلا کرتے اور یہ سب وہ کچھ ایسی ویسی خواتین سے دوستی بنانے کے لئے کرتے ہیں۔
ان باتوں کی سن گن مجھے بھی ہوئی، کئی بار استفسار کیا۔ ہر بار قسم اٹھالی کہ بھئی کن کی باتوں پر کان دھرتی ہو۔ وہ میرے کاروباری حریف ہیں ۔تمہیں اور اماں کو آکر بدگمان کرتے ہیں تاکہ ہمارے گھر کاسکون خراب رہے اور میں یکسوئی سے کام نہ کرسکوں ۔کاروبار میں کبھی کبھار گاہکوں کو ادھار بھی دینا پڑتا ہے۔ بنا اعتبارکئے بزنس میں کامیابی نہیں ملا کرتی۔ تم ان رموز کوکیا سمجھو۔ آئندہ ایسی باتوں پر ہرگز کان مت دھرنا۔
سال بھی نہ گزرا تھا کہ… دکان بیٹھ گئی۔ اسے بند کرنا پڑا۔ ان دنوں کی پریشانی دیدنی تھی۔ جب آدمی خسارہ اٹھاتا ہے وہ پریشان تو ہوتا ہے زاہد کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ اپنے ڈپو کو کیسے سنبھالیں۔ میں نے والد اور بھائیوں سے بات کی کہ آپ لوگ کچھ سرمائے کا بندوبست کردیں ورنہ ہمارے گھر کی نیا چلنے والی نہیں۔ چولہا ٹھنڈا نہ ہوجائے۔
زاہد کو کاروبار کا ڈھنگ آتا نہیں ہے۔ سرمایہ دیا تووہ ڈوب جائے گا۔ بہتر ہے یہ کہیں نوکری کرلے۔ اپنوں کی طرف سے ایسا مایوس کن جواب سن کر میں دل گرفتہ میکے سے بے نیل و مرام لوٹ آئی۔
انہی دنوں جب وہ ازحد مالی پریشانی میں گھرے تھے، ہمارے محلے میں ایک مالدار بیوہ نے گھر خرید لیا۔ ایک دن وہ ہم سے ملنے آئی تو اپنا دکھڑا لے بیٹھی۔ مرحوم شوہر کافی روپیہ چھوڑ کر گئے تھے۔ ان کا صدر بازار میں کپڑے کا بہت بڑا گودام تھا۔ وہ تھوک کا کاروبار کرتے تھے اور دکاندار ان سے لاٹوں اور تھانوں میں کپڑا لیا کرتے تھے ۔وفات کے بعد ان کا بزنس نہیں چلا سکتی تھی ۔دونوں بچے بھی کم سن تھے لہٰذا… گودام فروخت کردیا اور تمام روپیہ پیسہ بینک میں جمع کرا دیا، لیکن رکھا ہوا روپیہ کم ہوتے ہوتے خرچ ہوجاتا ہے۔ کچھ میاں کے دوستوں کا بھی سہارا لیا تھا۔ انہوں نے میرا سرمایہ کھالیا اور رفوچکر ہوگئے۔ اب کچھ رقم بچی ہے کسی دیانت دار آدمی کی تلاش میں ہوں جو یہ روپیہ اپنے کاروبارمیں لگا کر معقول منافع دیتا رہے اور میرے گھر کا خرچہ چلتا رہے۔ بچے تعلیم مکمل کرلیں۔
ہم تو اسی باعث پریشان تھے کہ دکان کے لئے سرمایہ درکار تھا ۔میں نے زاہد سے تذکرہ کیا ۔وہ بولے۔ پہلے مجھے کاروبار کا تجربہ نہ تھا ،اب تجربہ ہوگیا ہے مگر سرمایہ نہیں مل رہا۔ اس بار اگر سرمایہ مل جائے تو ایسا بزنس سیٹ کروں گاکہ ان شاء اللہ وارے نیارے ہوجائیں گے۔ تم کسی طرح اس خاتون کو راضی کرلو ۔بات بن سکتی ہے۔
زاہد کی یقین دہانی پر میں نے عظمیٰ بیگم سے راہ و رسم بڑھائی اور جلد ان کا اعتماد حاصل کرلیا ۔وہ زاہد کے بزنس میں اپنا سرمایہ لگانے پر راضی ہوگئیں۔ کہا کہ معاہدہ کرتے وقت دو تین محلے کے معززین کو گواہ بنانا ہوگا۔
یہ کوئی ایسی دشوارشرط نہ تھی ۔سبھی محلے والے خالو کے پرستار اور جاننے والے تھے۔ خالہ کی استدعا پر گواہ بن گئے اور معاہدہ طے پا گیا۔ عظمیٰ بیگم نے اپنا سرمایہ ہمارے کاروبار میں لگا دیا اور طے شدہ منافع معاہدے کی رو سے ان کو ملنے لگا۔ اب کے واقعی زاہد سابقہ تجربے سے کافی سنبھل چکے تھے لہٰذا کاروبار چل پڑا ۔ڈپو دوبارہ مال سے بھر گیا اور خوب منافع ہونے لگا۔ یہ زاہد کا بزنس سے اخلاص تھا یا بیوہ کے سرمایےکی برکت تھی۔ بہرحال منافع زاہد اورعظمیٰ بیگم میں برابر برابر بڑی دیانت داری سے تقسیم ہونے لگا ۔ہم بھی خوشحال ہوگئے اور بیوہ خاتون بھی خوشحال ہونے کے ساتھ ساتھ پرسکون اور مطمئن ہوگئیں۔
زاہد نے عظمیٰ بیگم کو منہ بولی بہن بنالیا تھا۔ میں بھی اس خاتون کی بے حد قدر و عزت کرنے لگی۔ گھر آتی تو
خاطرتواضع کرتی، جیسے کہ وہ میرے میاں کی سگی بہن ہو۔ عظمٰی چونکہ شریک کاروبار تھی، اس کا اکثر ہمارے گھر آنا جانا رہتا تھا اور وہ زاہد سے کافی دیر باتیں کیا کرتی تھی۔ میں نے بھی فراخ دلی کا ثبوت دیا اور کبھی شک و شبہ کو دل میں جگہ نہ دی۔
عظمیٰ بیگم کا زاہد کے ساتھ بیٹھ کر کھانا پینا اور بات چیت کرنا، ہمارے خاندان کی قریبی رشتہ دار خواتین کو بہت کھٹکتا تھا ۔ وہ اعتراض کرنے لگیں کہ کاروبار اپنی جگہ مگر اس خاتون کا یوں زاہد سے ملنا جلنا ہم کو ٹھیک نہیں لگتا۔ مجھے کہتیں ۔تمہیں ذرا پروا نہیں کہ گھنٹوں ڈرائنگ روم میں باتوں میں مشغول رہتے ہیں اور تم جھانکتی تک نہیں ہو۔
وہ کاروبار سے متعلق باتیں کرتے ہیں ۔حساب کتاب کرتے ہیں ۔ان کا مسئلہ مشترکہ ہے اور مجھے کاروباری باتوں کی کیا سمجھ ہے۔ میں کیوں ان کے درمیان بیٹھی رہوں اور اپنا وقت ضائع کروں۔ مجھے گھر کے دسیوں اور کام بھی تو کرنے ہوتے ہیں۔ غرض میں اس قسم کی باتوں کو سنجیدگی سے نہ لیتی تھی۔ ایک کان سے سنتی اور دوسرے سے اڑا دیتی تھی۔
عظمیٰ بیگم جب چاہتیں زاہد سے بات چیت کرلیتیں۔ یہ بھی کبھی کبھی جب کوئی لین دین کا مسئلہ ہوتا ،ان کے گھر چلے جاتے تھے ۔کبھی وہاں کھانا بھی کھا لیتے تھے لیکن مجھے آکر بتا دیتے کہ میں آج عظمیٰ بہن کے یہاں گیا تھا کیونکہ بزنس کے بارے میں کچھ معاملات بتانے تھے۔
عظمیٰ بیگم اپنی بات چیت، طور طریقے سے انتہائی مناسب اور شریف الطبع خاتون لگتی تھیں لہٰذا مجھے ان پر اعتراض کرنا بنتا نہ تھا ۔وہی تو برے وقت میں آڑے آئی تھیں اور پھر ان کے حوصلے کی وجہ سے ہمارے گھر میں خوشحالی آئی تھی ورنہ آج ہم کوڑی کوڑی کے محتاج ہوچکے ہوتے۔
غربت اور دولت بڑی چیزیں ہیں۔ ان کی وجہ سے بہت سے سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔ بہرحال جو باتیں میری ساس نندوں کو ناگوار گزرتیں تھیں، میں نے ان سے سمجھوتہ کرلیا تھا۔ ہر چھٹی کے دن عظمیٰ بیگم آجاتیں اور میں بلاتامل ان کے لئے دوپہر کا کھانا خصوصی طور پر تیارکرتی۔ وہ شام تک بیٹھتیں۔ شام کی چائے پر بھی خاصی تواضع کا اہتمام کرتی کہ ہماری بزنس پارٹنر تھیں۔ ان کے بغیر کاروبار کی ترقی ممکن نہ تھی۔
عظمیٰ بیگم جب بھی آتیں، اکیلی ہی آتیں۔ کبھی اپنی بیٹی اور بیٹے کو ہمراہ نہ لاتیں۔ ہم کہتے بھی تو جواب ملتا کہ انہوں نے پڑھائی کرنی ہوتی ہے۔ امتحان دے لیں تو ضرور لے آئوں گی۔
میں نے ان کی بیٹی کو صرف ایک بار دیکھا تھا ۔عمر سترہ برس تھی اور کالج میں سال دوم کی طالبہ تھی۔ سیدھی سادی اور شریف سی لڑکی تھی۔ لباس میں بھی سادگی، چہرہ میک اَپ سے عاری۔ اسے پڑھنے کے علاوہ کسی بات سے علاقہ تھا اور نہ کوئی دوسرا شوق تھا۔ کالج سے گھر اور گھر سے کالج۔ وہ محلے میں بھی کسی کے گھر نہ جاتی تھی، نہ بلا ضرورت گھر سے نکلتی ۔گویا عظمٰی نے اپنے بچوں کی بہت اچھی تربیت کی تھی۔ لڑکا بھی ایسا ہی تھا۔ انجینئرنگ کر رہا تھا۔ محلے کے لڑکوں سے ملتا جلتا نہ تھا ۔کالج کے بعد گھر پر ہی رہتا تھا۔
غظمٰی کے بچوں کو اہل محلہ اچھی نظر سے دیکھتے تھے۔ اس کنبے کی تعریف کرتے تھے۔ واقعی یہ شریف اور عزت دار خاندان تھا۔ بیوہ ہوکر بھی عظمیٰ نے اپنے کنبے کی ساکھ کو سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔
میری ایک نند کی شادی ہوئی ۔عظمیٰ شادی میں آئی مگران کی بیٹی کسی فنکشن میں نہ آئی۔ انہوں نے بتایا۔ زریں کے پیپرز ہورہے ہیں تبھی نہیں آسکی۔ اتفاق کہ بڑی بہن کی شادی کے فوراً بعد میری چھوٹی نند بیمار پڑ گئی۔ اسے اسپتال داخل کرانا پڑا۔ خالہ بیٹی کے ہمراہ اسپتال میں تھیں۔
یہ اتوار کا دن تھا۔ اس روز زاہد گھرپر تھے۔ میں نے کہا کہ فریحہ کو دیکھنے جانا ہے ۔کچھ سوپ وغیرہ بھی لے جانا ہے۔ بولے۔ چلو تم کو اسپتال لئے چلتا ہوں۔ گھنٹہ بھر بعد آکر لے جائوں گا، تب تک تم فریحہ کے پاس رہنا۔مجھے بھی یہ مناسب لگا کہ تھوڑا سا وقت اپنی نند کی عیادت میں گزاروں اور خالہ اس دوران آرام کرلیں۔ زاہد مجھے اسپتال چھوڑ کر آگئے ،کہا۔قریبی ایک دوست کا گھر ہے۔ اس سے بزنس سے متعلق کچھ کام ہے۔ ابھی واپس آتا ہوں۔ انہوں نے خالہ کو بھی ساتھ نہ لیا۔
کافی وقت بیت گیا وہ نہ لوٹے ۔خالہ کو تشویش ہوئی۔ کہنے لگیں ۔بہو شام ہونے والی ہے۔ زاہد نے فون بھی نہیں اٹھایا۔ تم ایسا کرو کہ رکشہ کرکے گھر چلی جائو اور اسے یہاں بھیج دو۔ زاہد نے ڈاکٹر سے فریحہ کے بارے میں کچھ بات کرنی ہے۔ رپورٹس بھی اٹھانی ہیں۔
مجھے فکر ہورہی تھی کہ زاہد کوگئے ہوئے پانچ گھنٹے ہوگئے تھے، کیوں نہیں لوٹے؟ اللہ خیر کرے۔ دعائیں پڑھتی گھر پہنچی۔ بیرونی در کھلا ہوا تھا۔ برآمدے میں جوتے اتارے تاکہ کمرے کا قالین خراب نہ ہو۔ ننگے پائوں چلتی اپنے کمرے کی طرف گئی۔ زاہد کی کسی خاتون کے ساتھ باتیں کرنے کی آواز آئی۔ قدم ٹھٹھک گئے ۔رک کر باتوں پر غور کرنے لگی۔
چھپ کر باتیں سننا ہے بری بات ہے لیکن بیویوں کی خصلت ہوتی ہے کہ شوہروں کی جاسوسی میں لگی رہتی ہیں ۔یہ جاسوسی کی عادت ان کی زندگی کو جہنم بنا دیتی ہے لیکن کبھی کبھی ایسا انکشاف ہوتا ہے کہ پیروں تلے سے زمین نکل جاتی ہے۔ مجھ پر بھی اس روز اس انکشاف سے قیامت گزر گئی۔
عظمیٰ بیگم اپنی بیٹی کی شادی زاہد سے کرنے کے لئے کچھ شرائط طے کررہی تھیں۔ انہوں نے کہا۔دیکھو بیٹا زاہد، زریں عمر میں تم سے کافی چھوٹی ہے ۔تمہارے اصرار پر اسے میں سوتن پر دینے چلی ہوں ۔ اس کے مستقبل کے تحفظ کی ضمانت تم کو دینی ہی ہوگی۔ اس کے لئے علیحدہ مکان لوگے اور اس کے نام پر خریدو گے۔ وہ سوتن کے ساتھ نہیں رہے گی۔ بے شک تم اولاد کی خاطر دوسری شادی کرنا چاہتے ہو اور یہ تمہاری مجبوری بھی ہے ،لیکن تمہاری شادی کو ابھی پانچ چھ برس ہی ہوئے ہیں۔ خدا چاہے تو اولاد ہو بھی سکتی ہے دوسری شادی کے بعد اگرپہلی بیوی سے اولاد ہوگئی تب میری بیٹی کا کیا ہوگا؟ تمہیں زریں کے لئے کاروبار میں شراکت کا معاہدہ کرنا ہوگا کیونکہ سرمایہ تو اس کے باپ کا ہی لگا ہوا ہے۔ میرا بیٹا بے شک انجینئرنگ کررہا ہے اگر اسے معقول ملازمت نہ ملی تو اس کے لئے بھی دکان میں ہی پارٹنر شپ کی جگہ نکالنی ہوگی۔ اس کے سوا مجھے اور کچھ نہیں چاہئے۔
مجھے آپ کی تمام شرائط منظور ہیں۔ آپ بس ہاں کہہ دیجئے۔ مجھے اولاد کی چاہ ہے۔ اب نہ ہوئی تو پھر کب ہوگی۔مزید دیر نہیں چاہتا۔
اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔ یا اللہ… یہ میں کیا سن رہی تھی۔کیا واقعی مرد قابل اعتبار نہیں ہوتے یا انسان ہی قابل اعتبار نہیں ہوتے۔ کبھی کوئی بھی کسی موڑ پر دھوکا دے سکتا ہے۔ رستہ بدل سکتا ہے۔ زاہد نے مجھے کبھی بھی نہ کہا تھا کہ اولاد چاہئے۔ اگر ایسی کوئی آرزو دل میں چھپی تھی تو اپنی والدہ سے تو کبھی اظہار کیا ہوتا۔ دراصل ان کو اب ایک نوعمر نئی نویلی دلہن درکار تھی ۔دل پھینک صاحب کا نہ جانے کب سے عظمیٰ بیگم کے گھر آنا جانا لگا ہوا تھا اور ان کی صاحبزادی ان کے دل میں سما گئی تھی۔ سارا معاملہ ان کی شرافت کا اب سمجھ میں آگیا۔
سخت صدمے میں خالہ سے ذکر کیا۔ وہ بولیں۔اولاد دینے والا خالق ہے ۔تمہارے ہر طرح کے میڈیکل ٹیسٹ ہوچکے ہیں۔ ڈاکٹروں نے کہہ دیا ہے کہ تم کسی بھی وقت صاحب اولاد ہوسکتی ہو، اللہ تعالیٰ کی رضا سے۔ہم اور صبر کریں گے ۔میں زاہد کو تم پر سوتن لا بٹھانے کی اجازت ہرگز نہ دوں گی۔
اس واقعہ کو دو چار روز ہی گزرے تھے کہ میں ایک روز بیٹھے بیٹھے بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ خالہ فوراً اسپتال لے گئیں۔ لیڈی ڈاکٹر نے خالہ کو خوش خبری سنا دی کہ یہ امید سے ہیں۔ مبارک ہو۔ خالہ کی تو خوشی سے باچھیں کھل
بیٹے کو خوب لتاڑا۔تم تو دوسری شادی کرنے چلے تھے اولاد کی خاطر لیکن یہ اللہ کا شکر ہے کہ اولاد کی خوشی بھی ہماری نجو سے ہی دے دی ہے۔ اب دوسری شادی کا خناس دماغ سے نکال دو ورنہ میں ان عظمیٰ بیگم کی ایسی خبر لوں گی کہ عمر بھر یاد رکھیں گی۔
اس روزکے بعد عظمیٰ بیگم نے ہمارے گھر آنا چھوڑ دیا اور اپنی بیٹی کی بھی جھٹ پٹ شادی رشتہ داروں میں کہیں کردی۔ یوں انہوں نے زاہد میاں سے جان چھڑالی ۔میں اور خالہ آج تک ان کے مشکور ہیں ۔اگر وہ اپنے ارادے سے باز نہ آتیں تو آج میرے پاس نہیں بلکہ زاہد صاحب دوسری بیگم کے پہلو میں ہوتے۔
اس واقعہ کو دس برس بیت چکے ہیں۔ میں دو بیٹوں اور ایک بیٹی کی خوشی دیکھ چکی ہوں۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ میں نے بھی ایک دل پھینک انسان کے ساتھ صبر سے نباہ کیا اور اپنے گھر کی خوشیوں کو بکھرنے نہیں دیا۔بتاتی چلوں کہ عظمیٰ بیگم نے کچھ عرصہ بعد زاہد کے ساتھ معاہدہ ختم کردیا تھا اور اپنا سرمایہ واپس لے لیاتھا۔ تب تک اللہ تعالیٰ نے ہمارے کاروبار میں اتنی برکت دے دی تھی کہ ہم خاتون کا سرمایہ واپس کرنے کے قابل ہوچکے تھے۔
یہ بھی سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنی مخلوق کو اس دنیا میں بھیجتا ہے، ساتھ ان کے نصیب کا رزق بھی اتارتا ہے۔ میرا یقین اس بات پر بھی ہے کہ ہمارے کاروبار میں برکت میرے بچوں کے نصیب سے بھی ہوئی ہے کہ انہیں بھی تو میرے رب نے رزق عطا کرنا ہے۔ (ن… لاہور)

Latest Posts

Related POSTS