Monday, May 20, 2024

Iss Pur Ashob Dour Main | Teen Auratien Teen Kahaniyan

وہ وقت یاد کرتی ہوں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور جسم کا رواں رواں کانپنے لگتا ہے۔ بمشکل پانچ برس کی تھی مگر آج بھی وہ دن پوری تفصیل کے ساتھ یاد ہے۔
ہماری زندگی کتنی پرسکون تھی۔ میں ایک آفیسر کی بیٹی تھی۔ جب محکمے کی جیپ پاپا کو لینے دفتر سے آتی،میں دوڑ کر بالکنی میں چلی جاتی اور ان کو جاتے ہوئے دیکھا کرتی۔ وردی میں وہ بہت شاندار لگا کرتے۔ مجھ سے بہت محبت کرتے تھے ۔ پاپا کے جاتے ہی اداس ہو جاتی اور ان کے لوٹ آنے کا انتظار کرتی رہتی۔ پھر جب واپسی پر جیپ کی آواز سنائی دیتی، دروازے پر ان کا استقبال کرتی ،وہ بھی بانہیں پھیلا کر مجھے گود میں اٹھا لیتے تھے۔ غرض پاپا ہی میری کل کائنات تھے۔ ان کی بھی مجھ میں جان اٹکی تھی جیسے کسی بادشاہ کی طوطے میں۔
جادو گر اور طوطے والی کہانی روز سونے سے پہلے امی سناتیں۔ جب تک ان سے کہانی نہ سنتی نیند نہ آتی۔ ہمارا گھر سکون بھرا تھا اور بچپن کے دن سہانے تھے ۔بےشک بچپن سبھی کا سہانا ہوتا ہے لیکن ان دنوں کی سب یادیں سب کے لئے سہانی نہیں ہوتیں۔
ایک دن کا ذکر ہے پاپا سرکاری دورے پر بیرون ملک چلے گئے۔ یہ رمضان شریف کا مہینہ تھا۔ امی روزے رکھتی تھیں، وہ سحری کو اٹھ کر کھانا بناتیں اور ہمارے لئے ناشتہ تیارکر کے کچن میںرکھ دیا کرتی تھیں پھر فجر کی نماز کے بعد سو جاتیں۔ ہم بہن بھائی جب بیدار ہوتے،خود باروچی خانے میں جا کر ناشتہ کر لیتے۔ بھائی اسکول چلا جاتا اور میں اپنے کھلونوں سے کھیلنے لگتی کہ ابو کی ہدایت تھی ۔تمہاری امی اگر روزہ رکھ کر سو رہی ہوں تو ان کو جگانا نہیں۔
جس روز یہ واقعہ ہوا… بھائی ناشتہ کر کے اسکول چلا گیا اور میں گڑیوں کا ڈبہ نکال کر کھیلنے میں مگن ہو گئی۔ احمر نے جاتے ہوئے مجھے کہا تھا۔ ریحانہ … چوکیدار کوارٹر میں سو گیا ہے۔ تم گیٹ بند کر لو۔ یہ کہہ کر اس نے گیٹ کے دونوں پٹ بھیڑ کر ملا دیئے ۔میں چونکہ برآمدے میں کھیل رہی تھی وہ سمجھا کہ گیٹ بند کر لوں گی۔ اس نے چوکیدار کو نہ جگایا۔
احمر مجھ سے تین سال بڑا تھا۔ وہ بھی اتنا سمجھ دار نہ تھا ۔اسکول ہمارے گھر کی عقبی گلی میں تھا۔ پیدل چلا جاتا تھا۔ پہلے چوکیدار اسے چھوڑنے جاتا تھا لیکن جب سے روزے شروع ہوئے ، کریم لالہ سحری کے بعد تھوڑی دیر سو جاتا اور تقریباً آٹھ بجے صبح آکر گیٹ کی چوکی سنبھالتا ۔
میں گڑیوں سے کھیلنےمیں اتنی مگن تھی کہ احمر کی بات پر عمل نہ کیا اور گیٹ کھلا رہ گیا،تبھی وہاں سے گزرتے ایک شخص نے جھانکا اور مجھے اکیلا پا کر ہلکی سی آواز میں پکارا ۔ گڑیا کیا کر رہی ہو،ادھر آئو۔ میں نے دیکھا ہمارا گیٹ تھوڑا سا کھلا ہواتھا اور ایک آدمی چھوٹی سی بچی کی انگلی پکڑے وہاں کھڑا تھا۔ بچی اشتیاق بھری نگاہوں سےمیری گڑیوں کو دیکھ رہی تھی۔
وہ بہت پیاری سی گوری گوری تھی۔ گلابی کلر کا خوبصورت فراک پہن رکھا تھا۔ تبھی میرے دل نے کہا ۔ یہ لڑکی میرے پاس آ جائے اور میرے ساتھ کھیلے۔میں پر شوق نظروں سے اس کی جانب تکنے لگی۔
مجھے یوں بچی کی طرف تکتے پا کر اس آدمی نے پھر کہا۔ادھر آئو نا… دیکھو تو ہمارے پاس کیا ہے… یہ تمہاری دوست ہے تم سے ملنے آئی ہے۔ کیا اسے اپنے پاس نہیں بلائو گی۔ میں دھیرے دھیرےچلتی گیٹ کی طرف گئی۔
دونوںہاتھ ملائو… شاباش… یہ میری بیٹی ہے اس کا نام بلـو ہے اور تمہارا نام کیا ہے گڑیا؟
میرا نام ریحانہ ہے۔ میں نے اس کی بیٹی سے ہاتھ ملایا۔ بچی کے دوسرے ہاتھ میں رنگین لکڑی سے بنے کھلونے تھے ،چھوٹی سی ہانڈی ، ڈوئی اور ننھا منا دھات کا بنا ہوا چولہا…بلو کے باپ نے کہا۔یہ کھلونے میں نے اپنی بیٹی کو سامنے والی دکان سے لے کر دیئے ہیں…کیا تم بھی لو گی؟اس شخص نے تھیلے میں سے کچھ اور کھلونے نکال کر دکھائے۔یہ تو ننھے منے برتن تھے، ڈونگے ، پلیٹیں اور کپ، کچن کا پورا سیٹ ،گڑیا کا سارا جہیز…میرا جی مچلنے لگا۔
اپنی امی سے پیسے لے آئو اور یہ سب کھلونے تم لے جائو۔
لیکن امی تو سو رہی ہیں۔
تو اپنے ابو سے لے آئو۔
وہ باہر گئے ہیں، گھر میں کوئی نہیںہے۔ اچھا تو پھر ایسا کرتےہیں تم بلو کے ساتھ ہماری موٹرسائیکل پر بیٹھ جائو۔میں تم کو سڑک پار والی دکان سے ابھی لیئے دیتا ہوں۔ پیسے کل آکر لے جائوں گا۔ میں نے معصومیت سے اس کی صلاح مان لی اور موٹر بائیک پر چڑھ بیٹھی۔
ابھی پانچ منٹ میں آجاتے ہیں۔ اس نے پھسلایا۔
بچے معصوم اور نادان ہوتے ہیں ہر کسی پر جلد اعتبار کر لیتے ہیں اور بہت جلد باتوںمیں آجاتے ہیں۔ کھلونے تو ہر بچے کی کمزوری ٹہرے ۔ میں بھی اس اجنبی کی باتوں میں آکر ان کے ساتھ چلی گئی۔ اس وقت شوق میں امی کی اس ہدایت کو بھی بھلا دیا کہ کسی غیر آدمی سے بات نہ کرنا اور کسی کے ساتھ کبھی اکیلے نہ جانا … گیٹ بھی نہ کھولنا۔
میں اکیلی کب تھی اس اجنبی کی بیٹی بلو ساتھ تھی۔اپنے شوق کے پیچھے تتلی کی طرح اڑتی چلی گئی، اور گھر سے دور نجانے کہاں جاپہنچی۔
یہ اسی آدمی عتیق کا گھر تھا۔ وہاں اس کی بیوی بھی تھی اور میرے جیسی دو اور لڑکیاں تھیں جن کو بلو کی ماں بہت پیار سے بہلا پھسلا کر اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا رہی تھی۔ وہ جب گھر جانے کی ضد کرتیں تو کہتی۔ میری بچیوں بہت جلد تم کو تمہارے ماں باپ کے پاس پہنچا دوں گی، مگر اب رونا نہیں… بلو کے ابا کو کچھ کام ہیں، جیسے ہی فارغ ہوں گے میں خود ان کے ساتھ جا کر تم لوگوں کو تمہارے گھر پہنچا آئوں گی، تب تک تم ہمار ی بلو سے کھیلو… اس کے پاس ڈھیر ساری گڑیاں اورکھلونے ہیں۔
حقیقت خدا کو معلوم لیکن لگتا یہی تھا کہ بلو واقعی ان کی حقیقی اولا د تھی۔ اس کی ماں بہت شفیق تھی۔وہ سب کو اپنے ساتھ کمرے میں سلاتی تھی اور ہم کو اپنی بیٹیاں کہتی تھی ۔ بہت خیال رکھتی۔، بلوکا باپ بھی ہم کو کچھ نہیں کہتا تھا۔ پیار سے بات کرتا اور ہمارے لئےکھانے پینے کی چیزیں اور پھل وغیرہ لے کر آتا۔
وقت زخم بھرنے لگتا ہے… دھیرے دھیرے درد کی ٹیسوں میں کمی آنے لگتی ہے ۔ عتیق اور اس کی بیوی کے مہربان سلوک نے ہمارے زخموں پربھی پھایا رکھ دیا۔ یہ عورت ہم کو ایک ماں کی طرح سینے سے لگا کر پیار کرتی تسلیاں دیتی اور ہم کو نہلا دھلا کر کنگھا چوٹی کرتی۔ ماں باپ اور گھر سے دوری کے کرب میں اب کمی آتی جا رہی تھی۔
سال بھر بلو کے ماں باپ نے ہم کو بہت پیار سے رکھا اور کبھی برا سلوک نہ کیا۔ ہم چاروں بچیوںمیں دوستی ہو گئی ۔ساتھ کھیلتیں، اکٹھے کھاتیں اور اکٹھی سو جاتیں۔ یہاںوالدین سے دوری کے سوا دوسرا کوئی خوف نہ تھا جو ہم کو ہراساں کرتا۔
سچ تو یہ ہے کہ ہم چاروں سہیلیوں کا آپس میں دل لگ گیا تھا اور ہم بلو کے گھر سے بہت مانوس ہو گئے تھے۔ اب تو لگتا تھا یہی ہمار ا گھر ہے اور یہی ہمارے ماں باپ ہیں، مگر دل میں آس باقی تھی کہ اپنے گھر یہ لے جائیں گے۔
پھر وہ قیامت کا دن آگیاجب ایک روز بلو کی ماں نے ہم تینوں لڑکیوں کو نہلا دھلا کر صاف کپڑے پہنائے اور کہا کہ چلو اب تم لوگوںکو وہاں لے چلتے ہیں جہاں تم نے رہنا ہے۔ اگر تم ان کے گھر میں تمیز سے رہو گی اور ان کا ہر کہنا مانو گی تو وہ تم سے خوش ہوں گے اور تم کو تمہارے ماں باپ کے پاس لے جائیں گے، اگر ان کو تم نے ناراض کر دیا تو پھر بہت مار پڑے گی۔ غرض سب اونچ نیچ سمجھا کر وہ ہم کو لاہور لے آئے۔
لاہور لا کر انہوں نے ہم تینوں بچیوں کو علیحدہ علیحدہ بنگلوں میں نوکر لگوا دیا۔ مجھے کہا کہ تم اپنے مالکوں سے کہنا کہ یہ ہماری خالہ اور خالو ہیں، اس کے سوا کوئی دوسری بات نہ بتانا… ورنہ ہم تم کو جان سے
مار دیں گے۔ اگر کچھ نہ بتایا تو ملنے بھی آئیں گے اور ایک روز لینے بھی۔
یہ کوٹھیوں کے مکین ہمارے لئے بالکل اجنبی تھے۔ یہ بہت امیر کبیر تھے اور ٹھاٹ باٹ سے رہتے تھے۔ ان کے پاس کئی گاڑیاں اورگھر شاندار تھے۔ ان کو اس بات سے کچھ غرض نہ تھی کہ جو ہم کو ان کے سپرد کر گئے ہیں وہ ہمارے کیا لگتے ہیں۔ انہیں تو بس کام سے غرض تھی کیونکہ ہمارے بدلے انہوں نے تین سال کی اکٹھی تنخواہ ایڈوانس میںان کو دی تھی۔ جو لاکھوں میں بنتی تھی۔
میںجس گھر کی ننھی منی باندی بنی تھی اس کی مالکہ سخت دل عورت تھی ۔بیگم کا نام رخسانہ تھا اور صاحب کا شریف خان جو اپنے نام کی طرح شریف تھا۔
میں دن رات ان کی خدمت کرتی۔ ان کا ہر حکم بجا لانے پر مجبور تھی۔ وہ سختی کریں یا بھوکا رکھیں، زبان نہیں کھول سکتی تھی۔ فریاد نہیں کر سکتی تھی۔ فریاد کرتی بھی توکس سے … میری آہ وزاری سننے والا کون تھا۔
اس گھر میں صاحب اور بیگم کے علاوہ صاحب کی تین جوان کنواری بہنیں تھیں اور بیگم کے تین چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ صاحب کا ایک چھوٹا بھائی تھا جو پڑھنے کسی دوسرے ملک گیا ہوا تھا ۔میں صرف اس کا تذکرہ سنا کرتی تھی۔ غلامی کا پہلا سال تو مجھ پر بہت کٹھن گزرا۔ کام کرنے کی عادت نہ تھی ۔کام کرنے کی نہ تو عمر تھی اور نہ ہی کام آتا تھا۔سال بعد اتنی ٹرینڈ ہو گئی کہ ہر کام جو اس بنگلے کے مکین بتاتے بھاگ بھاگ کر کرتی۔ اب میں سات برس کی ہو چکی تھی۔
میں حقیقت میںان کے تین چھوٹے چھوٹے بچوں کی آیا تھی ۔ بچوںکو سارا دن سنبھالتی … ان کی فیڈر دھوتی… ہاتھ منہ دھلاتی… کپڑےبدلواتی…جوتےپہناتی ۔ بیگم کہتیں۔ ان کے ساتھ کھیلو تو کھیلتی۔ جب تک یہ بچے سو نہ جاتےمجھے سونے کی اجازت نہ تھی۔ بیگم چاہتیں تو رات کے کسی پہر اٹھا دیتیں کہ دودھ گرم کر دو۔ فیڈر میں دودھ لا کر دو۔
سارا دن بچوں کا کھلا رہ اور بکھرے ہوئے کھلونے سمیٹتے سمیٹتے تھک جا تی تھی۔ جب یہ نا سمجھ آپس میں لڑتے ،ڈانٹ مجھے پڑتی۔وہ چیزیں گراتے، توڑ پھوڑ کرتے، تھپڑ میں کھاتی کہ پکڑا کیوں نہیں۔ ان کا خیال کیوں نہیں کیا… کوئی بچہ گر جاتا ،دوسرا اسے دھکا دے دیتا… بیگم میرے بال پکڑ لیتیں۔ کمر پر دھموکے لگاتیں کہ تم کہاں تھیں۔ کہاں دھیان تھا تیرا… کیا اندھی ہو، یہ کیوں گرا… کیسے گرا کیوں چوٹ آئی اسے… کیوں نہیں ٹھیک طرح سے سنبھالتیں، کس لئے رکھا ہے تم کو۔ چپ چاپ جھڑکیاں اور ماریں کھاتی اف کرنے کی بھی اجازت نہ تھی۔ اس کے علاوہ دسیوں کام تھے… کوئی پانی مانگتا توکسی کے جوتے پالش کرنا ہوتے۔ ایک روز صاحب کی بہن کی قمیص مجھ سے استری کرتے ہوئے جل گئی۔ انہوں نے گرم استری سے میری کلائی داغ ڈالی۔ رات کو بدن درد کرتا، کروٹ کروٹ کراہ نکلتی، تھک کر چور ہو جاتی مگر جاتی کہاں… بس یہی زندگی تھی اور ایسے ہی ظلم کی چکی کے دو پاٹوں کے بیچ گزارنی تھی۔ یہ کڑوا سچ اب سمجھ میں آگیا تھا ۔
ان دنوں کو یاد کرتی ہوں تو کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔سبھی دن برے تھے مگر سب سے برا دن وہ ہوتا جب گھر کے تمام افراد ایک ساتھ گھر سے چلے جاتے… کسی دعوت میں، کہیں ہوٹل میں ڈنر کے لئے۔ تب وہ رات دس گیارہ بجے سے پہلے نہ آتے۔ ان اندھیرے لمحات میں ان کا ملازم لڑکا مجھے بہت ڈراتا تھا۔ بہت تنگ کرتاتھا ۔میں روتی تو وہ اذیت پسند محظوظ ہوتا۔ تب میں چوکیدار بابا کو کہتی۔بابا جی!تم عشاء کی نماز پڑھنے نہ جایا کرو ۔یہ دتا میری جان کھا لیتا ہے یا مجھے بھی ساتھ لے جایا کرو۔ لالہ بابا کہتا ۔ مسجد تو تم کو ساتھ نہیں لے جا سکتا، صاحب سے دتے کی شکایت ضرور کروں گا۔ اکثر دعا کیا کرتی تھی۔ اے اللہ مجھے موت دے دے یا ماں باپ ملا دے۔
ایک دن عتیق اور اس کی بیوی آگئے۔ مالکن سے کہا ۔تین برس کا معاہدہ پورا ہو گیا ہے اب ہماری لڑکی کو آزاد کرو ہم لینے آگئے ہیں ۔ خوش ہو گئی کہ تین سال بعد یہ آئے تو سہی۔
تین سال کا معاہدہ ختم ہو گیا ہے تو کیا ہوا اور معاہدہ کر لو۔ معاہدے کی مدت کی ایڈوانس رقم لے لو۔ مگر اب لڑکی کو نہ جانے دوں گی۔ اس نے میرے گھر کا سارا کام سمجھ لیا ہے۔ نئی لڑکی رکھوں گی نئے سرے سے اس کے ساتھ دماغ کھپانا پڑے گا۔ میرے بچے اس کےساتھ ہل گئے ہیں۔
اب کے دوسال کا معاہدہ کروں گی ۔پندرہ ہزار ماہانہ تنخواہ کے حساب سے دو سال کی ایڈوانس تنخواہ کتنی بنتی ہے، وہ دے دو۔ بے شک اس کو دو سال اور رکھ لو اپنے پاس… ہم اتنی مدت نہ آئیں گے اور نہ اس کے وارث ہوں گے۔
ٹھیک ہے ۔بیگم نے رقم لا کر بلو کی ماں کے ہاتھ پر دھر دی، وہ چلی گئی۔ اور میں آنسو پونچھتی اس کی پیٹھ کو دیکھتی رہ گئی۔ توپھر اسی عقوبت خانے میں اور دو سال ؟ اسی طرح اور نجانے آگے کتنے سال اور۔
دس سال کی ہو چکی تھی، لگتا تھا کہ بچپن تو چھین ہی لیا کسی نے۔ روح بھی بوڑھی ہو گئی تھی چہرے سے مزاج سمجھنے لگی تھی۔ ایک میں ہی نہیں … اردگرد کی کوٹھیوں میں مجھ جیسی کتنی ہی ننھی منی حکم کی خادمائیں موجود تھیں۔ کہتے تھے ۔ بےچارے ماں باپ کیا کریں، غربت اتنی ہے کہ اپنے بچوں کو کوٹھیوں میں نوکر رکھا دیتے ہیں ۔ ایڈوانس تنخواہ کے بدلے معاہدے کر لیتے ہیں، پھر ان پیسوںسے گھر بنا لیتے ہیں ۔کتنی ہی زندگی کی ضروریا ت پوری ہو جاتی ہیں غریبوں کی۔
خدا جانے ان میںکتنے بچے خود ماںباپ دے جاتے تھے اور کتنے وہ تھے جن کو سفاک لوگ اغوا کر کے دوسروں کی غلامی میں دے جاتے تھے… جیسا کہ میں تھی۔
بیگم اب کے چوتھے بچے کو جنم دینے کے لئے ہسپتال میں داخل تھیں۔ صاحب نے مجھ سے کہا۔ بچوں کو تیار کر کے ہمارے ساتھ ہسپتال چلو۔ یہ اپنے منے بھائی کو دیکھیں گے۔ میں نے تینوں کو نہلا دھلا کر صاف کپڑے پہنا دیئے تیسرا بچہ ببلو، مجھ سے بہت ہلا ہوا تھا، اسی کے سنبھالنے کو مجھے بھی صاحب ساتھ لے آئے۔
ہسپتال میں صاحب اور ان کی بہن دونوں بڑے بچوں کے ہاتھ پکڑے آگے آگے چل رہے تھے اور میں ببلو کی انگلی تھامے ان کے پیچھے پیچھے چلتی جا رہی تھی کہ برآمدے میں ایک میاں بیو ی کو بات کرتے سنا۔ عورت کہہ رہی تھی۔ احمر بہت بیمار ہے۔ وہ بیہوشی میں بھی بہن کا نام لیتا ہے۔ ابھی تک ریحانہ کا دکھ بھولا نہیں ہے…!
وہ کیسے بھلا سکتا ہے ۔بھلا ہم اپنی کھوئی ہوئی بچی کا دکھ بھولے ہیں… کاش ریحانہ مل جاتی۔
یہ الفاظ سن کر ٹھٹھک گئی۔ گرچہ پانچ برس کی عمر میںگھر والوں سے بچھڑی تھی مگر اپنے ماں باپ اور بھائی کے نام یاد تھے۔ ان کے قریب جا کر چہروں کو غور سے دیکھنے لگی۔ گرچہ میری بھی صورت بدل چکی تھی مگر نقوش تونہیں بدلے تھے۔ جب صاحب نے پیچھے مڑ کر دیکھا کوئی عورت مجھ سےباتیں کر رہی تھی وہ ببلو کی طرف دوڑ کر آئے جو ابھی تک میرے ساتھ کھڑا تھا۔ لپک کر بیٹے کو اٹھا لیا اور پوچھا ۔آپ لوگوں نے کیوں ہماری لڑکی کو روکا ہے۔
یہ تمہاری لڑکی نہیں ہے۔ یہ ہماری کھوئی ہوئی بیٹی ریحانہ ہے۔میری ماں رو رہی تھیں اور پاپا بھی اپنے آنسو پونچھ رہے تھے ۔ شاید ہمارے بیٹے کے بیمار ہونے میں آج یہی مصلحت تھی کہ ہماری بیٹی سے ملنا نصیب میں لکھا تھا۔ خدا نے ہماری دعا سن لی اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ ( ر۔ص… لاہور )

Latest Posts

Related POSTS