Izzat Reh Gaye | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2691
والد گائوں میں اپنے ہنر کی وجہ سے مشہور تھے۔ وہ کھسّہ کاریگر تھے۔ چمڑے پر سنہری تِلّے سے نہایت نفیس اور عمدہ بیل بوٹے بناتے تھے۔ یہ کام لوہے کی آری سے کیا جاتا اور اس فن میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ ان دنوں میرا بھائی نواز آٹھویں کا طالب علم تھا۔ وہ سترہ سال کا تھا۔ بابا نے اُسے کافی تاخیر سے اسکول بھیجنا شروع کیا تھا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ نواز کو اپنے جیسا کاریگر بنائیں۔ انہوں نے بیٹے کو اپنا ہنر سکھانے کے لئے بہت کوشش کی مگر اُس نے سیکھ کر نہ دیا۔ بالآخر وہ مایوس ہوگئے تو انہوں نے ہمسائے کے مشورے پر اپنے اکلوتے بیٹے کو اسکول میں داخل کرا دیا۔
نواز کو پڑھنے کا شوق تھا۔ وہ اسکول جانا چاہتا تھا۔ اس کی تمنّا بَر آئی، دل لگا کر پڑھنے لگا۔ پڑھنا تو میں بھی چاہتی تھی مگر ہماری برادری میں لڑکیوں کو اسکول بھیجنے کا رواج نہیں تھا۔ لہٰذا میں اسکول نہ جا سکی البتہ اپنے شوق کی وجہ سے نواز بھائی سے گھر میں تھوڑا بہت پڑھنا، لکھنا سیکھ گئی۔ گھر میں بھی مجھ کو پڑھائی کے لئے بہت کم وقت ملتا کیونکہ ہم ماں بیٹی ابا کے کام میں ہاتھ بٹاتے تھے۔
ایک روز کا ذکر ہے کہ نواز اسکول جا رہا تھا۔ راستے میں اسے ایک لڑکی نظر آئی جو سیاہ چادر میں ملبوس تھی۔ بھائی نواز کی عادت تھی کہ راہ چلتی لڑکیوں کی جانب آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھتے تھے مگر اس لڑکی کی چادر پر جڑے گول شیشوں کی چکاچوند نے ان کو اپنی جانب متوجہ کرلیا۔ انہوں نے اس لڑکی کے پیچھے چلنا شروع کر دیا۔ لڑکی نے میرے بھائی کی طرف دیکھا۔ نواز کی نگاہیں خیرہ ہوگئیں۔ یہ رُخِ روشن حسن کی نایاب تصویر تھا۔ وہ پندرہ سولہ برس کی تھی۔ ماہ پیکر گائوں کے ایک خوشحال گھرانے کی نورِنظر تھی۔ باپ نمبردار تھا اور اس کی حیثیت علاقے میں کافی مضبوط تھی۔ اسکول زیادہ دُور نہ تھا۔ لہٰذا وہ کبھی اپنی ملازمہ کے ہمراہ اور کبھی اکیلی ہی اسکول جاتی تھی۔
نواز ماہ پیکر کو ایک نظر دیکھتے ہی اُس کی محبت میں گرفتار ہوگیا۔ بغیر اس امر کا احساس کئے کہ وہ ایک امیر گھرانے کی دُختر ہے۔ وہ اب روزانہ اسکول جاتے ہوئے راستے میں ایک درخت کے نیچے ٹھہر کر اس حسینہ کا وہاں سے گزرنے کا انتظار کرتا اور جب یہ ملکۂ حسن اس کے سامنے سے گزرتی تو وہ دبے قدموں اُس کے پیچھے ہو لیتا۔ یہ حقیقت بھلا کر کہ وہ ایک معمولی شخص کا بیٹا ہے جبکہ ماہ پیکر نمبردار کی بیٹی ہے۔ عرصے تک یہ خاموش تعاقب جاری رہا، ماہ پیکر اپنی راہ چلتی رہی اور کچھ فاصلے سے نواز اس کے تعاقب میں رہا۔ اس لڑکی نے کبھی کسی سے اُس کی شکایت کی اور نہ مڑ کر دیکھا۔ جیسے وہ اپنی دُھن میں رہتی ہو اور اردگرد کی اسے کوئی خبر نہ ہو۔
ایک سال گزر گیا۔ دونوں میٹرک میں پہنچ گئے مگر یہ یکطرفہ ٹریفک یونہی چلتا رہا۔ نواز نے ہمیشہ اُس کے اور اپنے درمیان ایک مناسب فاصلہ قائم رکھا کہ کوئی محسوس نہ کرے کہ وہ لڑکی کا پیچھا کرتا ہے۔ وہ سوچا کرتا کہ ایک سال گزر گیا ہے جب مجھے آج تک کسی نے کچھ نہیں کہا تو آگے بھی کوئی کچھ نہیں کہے گا۔ اس کے دل سے یہ خوف بھی نکل چکا تھا کہ اگر کبھی نمبردار کو شک ہوگیا کہ میں اس کی صاحبزادی کا دیوانہ ہوں تو وہ زندہ نہیں چھوڑے گا۔
بے شک اس تعاقب میں ایک مناسب فاصلہ قائم تھا۔ پھر بھی ایک روز ماہ پیکر نے محسوس کرلیا کہ کوئی مسلسل اس کے پیچھے آتا ہے۔ آخر ایک روز اُسے تجسس نے گھیرا کہ تعاقب کرنے والا کون ہے؟ کوئی انسان ہے یا جن بھوت! ماہ پیکر اب اس انتظار میں رہنے لگی کہ یہ جن، بھوت یا انسان جو بھی ہے کبھی اس سے مخاطب ہونے کی جرأت کرے تو وہ اپنا جوتا اُتار کر اس کو اس کی گستاخی کا مزہ چکھائے۔ تاہم اس کی نوبت نہیں آئی کیونکہ اس مجنوں میں مخاطب کرنے کا حوصلہ نہ تھا۔
اُس روز بادل چھائے ہوئے تھے۔ لگتا تھا بارش ہونے والی ہے۔ ماہ پیکر جلد جلد قدم اُٹھاتی اسکول کا فاصلہ طے کرتی جا رہی تھی کہ راستے میں پڑے پتھر سے پائوں اُلجھ گیا اور اس کی جوتی ٹوٹ گئی۔ پاپوش کی ڈوری ٹوٹ جانے سے اُسے چلنے میں دُشواری ہونے لگی۔ اس اچانک اُفتاد سے گھبرا کر وہ ٹھہر گئی اور اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔ تبھی اپنے پیچھے آنے والا نواز دکھائی دیا جو بغل میں تھیلا دبائے رسان سے چلا آتا تھا۔ اُسے دیکھ کر ماہ نے اپنا ٹوٹا ہوا جوتا ہاتھ میں اُٹھا لیا اور نواز کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔
یہ منظر دیکھ کر نواز کے ہاتھ پائوں پھول گئے۔ وہ سمجھا کہ ایک برس کے بعد اس صابرہ کا پیمانۂ صبر لبریز ہوگیا ہے اور اب وہ اس کی پٹائی کے ارادے سے آرہی ہے۔ بھاگنے کو ہی تھا کہ ماہ پیکر نے اُسے آواز دی۔ رُکو… اِدھر آئو میری چپل ٹوٹ گئی ہے۔ وہ رُک گیا مگر دوشیزہ کی جانب بڑھنے کی اس میں ہمت نہ تھی۔ وہ خود ہی چلتی ہوئی اس کے نزدیک آ گئی اور کہا کہ تم برکت موچی کے لڑکے ہو نا…؟
جی ہاں… آپ نے مجھے صحیح پہچانا۔ پہچانتی ہوں تمہیں، تم ہمارے گھر اپنے ابا کے ساتھ آ چکے ہو۔ میری اماں اور باجی کے پائوں کا ناپ لینے کو جب اماں نے آپی کی شادی پر تلّے والے کھسّے بنوانے تھے۔ تبھی دیکھا تھا۔ اچھا اب یوں کرو کہ میری چپل ٹوٹ گئی ہے دوڑ کر اس کو بنوا لائو تب تک میں یہیں سامنے درخت کے نیچے کھڑی ہوں۔
یہ سن کر نواز کی جان میں جان آ گئی کہ جو جوتا وہ اسے دکھا رہی تھی اُس کی ٹھکائی کے لئے نہیں بلکہ مرمت کی خاطر تھا۔ تبھی نواز نے تھیلا کھولا اور اس میں سے نیا کھسّہ نکال کر کہا اُسے پائوں میں ڈال کر دیکھیں، اگر آ جاتا ہے تو پہن لیں اور اپنے جوتے مجھے دے دیں۔ میں بنوا کر شام کو آپ کے گھر دے جائوں گا۔یہ تلّے والا کامدار کھسّہ نہیں چاہئے۔ اسکول میں نہیں چلے گا۔ میرے پاس دُوسرا سادہ جوتا بھی ہے۔ اس نے تھیلے سے دُوسرا جوڑا نکال کر دیا۔ ماہ پیکر نے اسے پہن کر دیکھا۔ یہ بالکل ٹھیک ہے۔ وہ دو تین قدم چلنے کے بعد بولی۔
نئی پاپوش پہن کر وہ چل دی اور نواز اُس کے جوتے کو کلیجے سے لگا آگے جانے کی بجائے واپس گھر کی طرف لوٹ گیا۔ دراصل وہ آج اسکول نہیں بلکہ لاری اڈّے کی طرف جا رہا تھا کیونکہ اُس نے تیار مال لاری کے ذریعے شہر بھجوانا تھا۔ تاہم مقررہ وقت پر وہ اس لئے نکلا تھا کہ اپنے عشق کے وظیفے کو حسب معمول پورا کرتا ہوا آگے جائے۔
اس ماہ پیکر کی مشکل آنِ واحد میں حل ہوگئی تو اُسے بڑا سکون ملا اور وہ ہلکی پھلکی ہو کر اپنے رستے ہولی۔ اس کی نگاہوں میں نواز کی صورت پھرنے لگی جو خوفزدہ تھا اور بات کرتے ہوئے ایسے لعاب کو نگل رہا تھا جیسے کانٹے نگل رہا ہو۔ اس کی معصوم اور بھولی صورت کسی گناہ گار جیسی ہرگز نہیں تھی۔ وہ اُسے اچھا لگا تھا۔
جوتا ٹوٹ جانے کی وجہ سے دونوں کو ایک دوسرے کی حیثیت کا علم ہوگیا کہ وہ کون ہیں۔ نواز ایک غریب موچی کا بیٹا جبکہ ماہ پیکر ایک خوشحال خاندان کی نورِ نظر تھی۔ دونوں کا میل ناممکن تھا لیکن اللہ نے نواز کے پیکر کو ایسی وجاہت بخشی تھی کہ یہ لڑکی اس کی سچی لگن سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ اب جب بھی وہ اس راہ سے گزرتی اس دیوانے کو پیڑ تلے کھڑا پاتی، اگر کوئی راہ گیر نہ ہوتا تو وہ دونوں دو چار باتیں کر لیتے تو نواز کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہتا۔ اس کے قدم زمین پر نہ ٹکتے۔ وہ روز ہی کوئی نہ کوئی چیز اس کے لئے لے کر آتا اور اُس کا انتظار کرتا۔
عید نزدیک آ گئی تھی۔ ایک دن ماہ پیکر نے اُسے ایک پیکٹ دیا اور کہا عید کے دن اسے پہننا۔ میں اسے تمہیں پہنے دیکھنا چاہوں گی۔ دونوں نے اس دن کافی باتیں کیں۔ وہ دُنیا کے خوف سے بے


پروا ساتھ ساتھ چلتے رہے حتیٰ کہ ماہ کا اسکول بالکل نزدیک آ گیا۔ کل ہم دریا کے کنارے ملیں گے… یہ کہہ کر وہ اسکول کے اندر چلی گئی۔ وقت کاٹے نہ کٹتا تھا۔ کل تک کا وقت نواز نے لمحہ لمحہ گن کر گزارہ۔
اگلے دن مقررہ وقت پر وہ آگئی۔ اس کی سہیلی کی شادی تھی اور آج کی رات اُسے اپنی سہیلی کی مہندی میں شامل ہونا تھا لیکن وہ اُدھر نہیں گئی بلکہ نواز کے ساتھ دریا کی سمت چلی گئی۔ اس نے خوبصورت کپڑے پہنے ہوئے تھے اور ہلکا سا میک اَپ بھی کر رکھا تھا۔ ملازمہ کو اس نے اپنے ہاتھ سے سونے کی انگوٹھی اُتار کر دے دی تھی اور کہا تھا کہ وہ اسکول سے خود سہیلی کی بہن کے ہمراہ مہندی میں شرکت کرنے چلی جائے گی، لہٰذا والدہ کو تم یہی بتانا کہ ملازمہ نے اُسے سہیلی کے گھر پہنچا دیا۔ یوں وہ اسکول جانے کی بجائے نواز کے ساتھ دریا کے کنارے آ گئی۔ آج نواز نے وہی نیا جوڑا پہن رکھا تھا جو ماہ نے اُسے عید کا تحفہ کہہ کر دیا تھا۔ اس ہلکے نیلے جوڑے میں وہ بہت اچھا لگ رہا تھا۔ دونوں نے دریا کنارے بیٹھ کر کافی دیر باتیں کیں۔ یہاں تک کہ شام ہوگئی۔ تب گھر جانے کی بجائے ماہ پیکر نے نواز سے کہا کہ آج میں سہیلی کی مہندی میں شرکت کا کہہ کر آئی ہوں لہٰذا آج رات ہم ساتھ رہ سکتے ہیں۔ اُس نے کچھ رقم اُسے دی کہ تم ایک کمرہ ہوٹل میں کرائے پر لے لو تاکہ ہم رات بھر سکون سے باتیں کر سکیں۔
نواز خوفزدہ ہوگیا تو وہ بولی۔ نواز میں گھر سے سہیلی کی مہندی میں شرکت کا کہہ کر آئی ہوں لہٰذا اب واپس نہیں جا سکتی۔ صبح ہوتے ہی لوٹ جائوں گی۔
ماہ پیکر تمہیں احساس ہے کہ ہم کتنے خطرناک راستے پر آگئے ہیں۔ اگر کسی کو معلوم ہوگیا تو پھر نجانے ہمارا کیا انجام ہو۔ انجام کا سوچنا تھا تو پھر سال بھر سائے کی طرح میرے پیچھے کیوں چلتے رہے۔ اب لوٹ جانے کا کوئی رستہ نہیں ہے۔ ماہ پیکر کے مجبور کرنے پر اس نے کمرہ کرائے پر لے لیا۔ دُوسرے روز ماہ صبح ہی صبح پہلے سہیلی کے گھر گئی اور پھر وہاں سے اپنے گھر چلی گئی۔
اُسے پتا تھا کہ وہ ایک خطرناک رستے پر چل پڑی ہے۔ والدین اس کی شادی ایک غریب کے لڑکے سے کبھی نہ کریں گے لیکن وہ شعلۂ تاباں جو اس کے دل میں روشن ہو چکا تھا اسے بجھا دینا بس کی بات نہ رہی تھی۔ کچھ عرصہ پہلے اس کی ایک سہیلی ناصرہ جو ایک زمیندار کی بیٹی تھی بیاہ کر لاہور چلی گئی تھی۔ ناصرہ کی شادی ایک اعلیٰ سرکاری افسر سے ہوئی تھی۔ ماہ نے اس سے رابطہ کیا اور کہا کہ تم کب گائوں آئو گی۔ دراصل وہ اس معاملے میں اس کا مشورہ اور مدد لینا چاہتی تھی۔
ناصرہ نے بتایا کہ وہ جلد گائوں آنے والی ہے تاہم اگر اس دوران ماہ پیکر لاہور آنا چاہے تو وہ چشم براہ ہوگی۔ اس نے اپنے گھر کا پتا بھی بھجوا دیا۔ جس لفافے میں خط بھیجا تھا اس میں ہی ناصرہ کے شوہر کا کارڈ بھی تھا۔ اُس پر فون نمبر بھی درج تھا۔ بہت سنبھال کر اس کارڈ کو ماہ پیکر نے اپنے پرس میں رکھ لیا۔
میٹرک کے پرچے ہوگئے۔ اب نواز سے بات کرنے کے دَر بھی بند ہوگئے کیونکہ وہ گھر سے کیونکر نکلتی۔ اسکول جانے کا سلسلہ ختم ہوگیا تھا۔ ایک دن اس نے نئے کھسے بنوانے پر اصرار کیا۔ والدین کی لاڈلی بیٹی تھی، ماں اس کی فرمائش رَدّ نہ کرسکی اور برکت کو بلوا لیا۔ حسب توقع اُس نے نواز کو بھیج دیا کہ جا کر ’’بی بی‘‘ کے پائوں کا ناپ لے آئو۔ وہ خود کھسّہ بنانے میں مصروف تھا۔
نواز جب ماہ پیکر کے پائوں کا ناپ لے رہا تھا تو اس نے اپنے پرانے جوتے میں ایک خط لکھ کر رکھ دیا تھا۔ وہ اس جوتے کو ڈبے میں نواز کے حوالے کرتے ہوئے بولی۔ اسے اچھی طرح اندر سے دیکھ لینا۔ کوئی کیل ہے جو پائوں میں چبتھی ہے۔ اُسے نکال کر سلائی کرا کے لا دینا۔ نواز ڈبہ لے کر چلا گیا۔ گھر آ کر جب اس نے جوتے میں ہاتھ ڈال کر دیکھا تو ایک خط اُسے ملا۔ لکھا تھا ایک دن بعد جبکہ والد اور بھائی دبئی روانہ ہو جائیں گے ہم بھی اپنے گھروں کو خیرباد کہہ کر لاہور چلے جائیں گے۔ میری سہیلی نے تسلی دی ہے ، وہ ہماری مدد کرے گی اور پھر ہم وہاں ایک نئی دُنیا بسا لیں گے۔ تم بے خوف ہو کر اسٹیشن پہنچ جانا۔ ورنہ ہم کبھی ایک نہ ہو سکیں گے۔ دیکھو مجھے دھوکا نہ دینا ورنہ میں بیچ راستے رُل جائوں گی اور پھر عمر بھر تمہیں معاف نہ کروں گی۔
یہ تحریر پڑھ کر نواز کا سر چکرا گیا۔ مگر اب کوئی دُوسرا راستہ نہ تھا۔ اس نے سوچا اگر میں اسٹیشن وقت پر نہ پہنچا تو کہیں ماہ اسٹیشن پر رُل نہ جائے۔ وہاں جانا ضروری ہے اُسے سمجھا بجھا کر واپس آنے پر مجبور کروں گا۔ وہ مقررہ وقت لاری اڈّے پہنچا۔ ماہ پیکر اس سے پہلے روانہ ہو چکی تھی، وہ دُوسری لاری میں شہر کے ریلوے اسٹیشن آ گیا۔
اُسے آنے میں تھوڑی سی دیر ہوگئی تھی اور سر پھری لڑکی ریل کے ڈبے میں بیٹھی کھڑکی سے اس کی راہ دیکھ رہی تھی، جونہی وہ تلاش کرتا ہوا اُس زنانہ ڈبّے کی کھڑکی کے قریب پہنچا، ریل نے چلنے کے لئے جنبش کی اور سیٹی بجنے لگی، وہ ڈبے کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اُسے اُتر آنے کو کہہ رہا تھا لیکن ضدی لڑکی نے اُترنے سے انکار کر دیا۔ اس نے کہا کہ ساتھ والے مردانہ ڈبے میں سوار ہو جائو ورنہ میں اکیلی چلی جائوں گی اور پھر تم ہی نہیں سارا گائوں مجھے ڈھونڈتا رہ جائے گا۔ جلدی کرو ریل کی رفتار تیز ہو رہی ہے۔ اگلے اسٹیشن پر جب گاڑی رُکے گی تو بات کر لیں گے۔ کوئی چارہ نہ دیکھ کر نواز عشق کی سزا بھگتنے کے لیے مردانہ ڈبے میں سوار ہوگیا اور پھر ریل نے رفتار پکڑ لی۔
بیٹھنے کو تو وہ ریل میں بیٹھ گیا لیکن بہت گھبرایا ہوا اور پریشان تھا۔ جانتا تھا کہ اس جرأت کا کیا انجام ہوگا۔ ماہ پیکر کا با اثر باپ اس کی یہ خطا کبھی نہ بخشے گا اور اس کے گھر والوں پر عرصۂ حیات تنگ کر دے گا۔ اِدھر ماہ پیکر سوچوں میں گم تھی۔ وہ خود کو تسلی دے رہی تھی کہ ناصرہ اور اس کا شوہر والدین کو سمجھا لیں گے تو معاملہ اتنا خطرناک نہیں رہے گا اور اگر وہ یہ قدم نہ اُٹھاتی تو کبھی اپنی محبت کو نہیں پا سکتی تھی۔
اگلے اسٹیشن پر جب گاڑی رُکی تو اس نیت کے ساتھ نواز اُترا کہ وہ اس کے باپ کی عزت کا واسطہ دے کر ماہ پیکر کو واپس گائوں لوٹ چلنے پر آمادہ کرلے گا۔ وہ کھڑکی کی طرف بڑھا کہ اُسے اپنا باپ اپنی جانب آتا دکھائی دیا۔ اس کا باپ برکت کسی کام سے یہاں آیا تھا، غالباً اس نے اِدھر سے کھسوں کے لئے خام مال اور پرتوں کا نرم چمڑا خریدنا تھا۔ مال خریدنے کے بعد وہ ریلوے اسٹیشن آ گیا۔ واپسی کی گاڑی پکڑنے کی خاطر اچانک اس کی نظر نواز پر پڑی وہ حیران رہ گیا کہ اس شہر میں اس کا کیا کام۔ بیٹے کو آواز دے کر بلایا تو نواز کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ ماہ پیکر نے چہرہ نقاب میں چھپا رکھا تھا۔ برکت سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ نواز کسی لڑکی سے ملنے اِدھر آیا ہے۔

باپ کی آواز پر وہ فوراً پلٹا تو برکت نے کہا۔ نواز بیٹا تم یہاں کس لئے آئے ہو۔ ابا، اماں کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی اور کل تم نے چلتے وقت بتایا بھی نہیں کہ شہر جا رہے ہو اور نہ یہ بتایا کہ رات اِدھر ہی ٹھہرو گے۔ میں تمہیں تلاش کرنے آیا تھا جلدی چلو، اماں بڑی تکلیف میں ہے۔
بکواس نہ کر… میں نے خود تمہیں کھڑکی میں کسی سے بات کرتے دیکھا ہے اور تم مردانہ ڈبے سے اُترے ہو۔ ریل کا رُخ اُدھر کی طرف ہے۔ اِدھر کی طرف نہیں جدھر ہمارا گائوں ہے۔ مجھے بیوقوف مت بنا اور یہ بتا کہ وہ کون ہے جس کے پیچھے تو آیا تھا۔
ابا میں کسی کے پیچھے نہیں آیا، سچ کہتا ہوں تمہارے لئے آیا تھا… تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔
اچھا چل مان لیتا ہوں اللہ کرے ایسا ہی ہو لیکن اب تو چل میرے ساتھ واپس گائوں۔ بیٹے نے کچھ لنگڑے لولے بہانے کرنا چاہے
مگر باپ نے اس کی ایک نہ مانی یہاں تک کہ ریل نے چلنے کی سیٹی دے دی۔ پھر وہ آہستہ آہستہ رینگتی ہوئی اسٹیشن سے نکل گئی اور ماہ پیکر کو خبر نہ ہو سکی کہ نواز مردانہ ڈبے میں سوار نہیں ہو سکا ہے۔ اس نے اگلے چند اسٹیشنوں پر اس کا انتظار کیا اور پھر ایک خالی برتھ پر لیٹ گئی اور اس کی آنکھ لگ گئی۔
پانچ گھنٹے گزر گئے، لاہور آ گیا۔ مسافر خاتون نے اُوپر کی برتھ سے اپنا بیگ اُتارا تو اس کی آنکھ کھل گئی۔ وہ ہڑبڑا کر بالائی برتھ سے نیچے آ گئی۔ نواز کو تلاش کرنے کا وقت نہیں تھا۔ گاڑی نے آگے جانا تھا، لہٰذا اپنا بیگ اُٹھا کر وہ ریل سے اُتر گئی۔
لاہور اسٹیشن پر اِدھر اُدھر دیکھا۔ نواز نظر نہ آیا۔ کچھ دیر اُسی جگہ کھڑی رہی۔ یہاں تک کہ ریل روانہ ہوگئی اور رش کم ہوگیا۔ اُسے یقین تھا کہ رش کم ہوتے ہی نواز اس کی جانب آ جائے گا لیکن وہ نہیں آیا۔ وہ ایک بینچ پر بیٹھی انتظار کرتی رہی۔ اُسے آنا تھا نہ آیا۔ یہاں تک کہ چار گھنٹے گزر گئے اُسے یقین ہوگیا کہ اس کا بزدل ہم سفر راستے میں اُسے تنہا چھوڑ کر لوٹ گیا ہے۔ اب وہ گھر نہیں جا سکتی تھی۔ پرس کھول کر اس نے ناصرہ کا بھیجا ہوا کارڈ نکالا اور رکشہ کرکے اُس کے گھر چلی گئی۔ ناصرہ اس کی اچانک آمد پر حیران تھی پوچھا۔ کس کے ساتھ آئی ہو۔
اکیلی ہی آ گئی ہوں۔ سہیلی کو تمام احوال بتایا۔ وہ بولی۔ شکر ہے میرے پاس پہنچ گئی ہو اور بخیر ہو۔ ابھی کچھ نہیں بگڑا ہے، نواز تمہارے قابل نہیں تھا تبھی اللہ نے اُسے راستے سے ہٹا دیا ہے۔
ناصرہ نے ماہ پیکر کے گھر والوں کو فون کیا اور کہا کہ فکر نہ کریں۔ماہ پیکر میرے پاس ہے۔ اس کی بڑی بہن نے اس پر غصہ کیا تھا اسی وجہ سے وہ گھر سے نکل آئی ہے۔ آپا کو سمجھانا ہے کہ اُسے چھوٹی چھوٹی باتوں پر بُرا بھلا نہ کہا کرے۔ میں خود ماہ کو لے کر آپ لوگوں کے پاس آ رہی ہوں۔ پھر سہیلی اور اس کے شوہر کے سمجھانے پر ماہ ان کے ساتھ اگلی صبح واپس گائوں پہنچ گئی۔
اتفاق سے گھر سے نکلنے سے ایک روز قبل ماہ کا اس کی بہن سے کسی بات پر جھگڑا ہوا تھا والدین نے یہی سمجھا کہ اس نے غصے میں ایسا قدم اُٹھایا ہے۔ ماہ گھر پہنچی، والدین سخت پریشان تھے تاہم شکر کیا کہ وہ صحیح سلامت آ گئی کیونکہ اس سے پہلے اس نے کبھی تنہا سفر نہیں کیا تھا۔ اگر راستے میں کوئی حادثہ پیش آ جاتا تو کیا ہوتا۔
ماہ کا بھی اس واقعے کے بعد دماغ ٹھکانے پر آ گیا۔ یہ راز، راز ہی رہا کہ وہ میرے بھائی غریب نواز کے ساتھ بھاگی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کا پردہ رکھ لیا۔ میرے والدین ایک بڑی مصیبت سے بچ گئے اور نواز کے سر سے عشق کا بھوت اُتر گیا اور ماہ پیکر کے ماں باپ کی بھی عزت رہ گئی۔ ورنہ وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتے۔ (ن… میاں چنوں)