Jab Khoon Safaid huwa| Teen Auratien Teen Kahaniyan

2405
جب برصغیر کے نقشے پر پاکستان کا وجود عمل میں آیا اور فسادات کے باعث بہت سے لوگ قافلوں کی صورت اپنے نئے وطن کی سرزمین کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تو ان ہی میں ایک قافلہ ایسا تھا جس میں ہمارے گھرانے کے افراد بھی شامل تھے۔ جب قافلہ چلا والد ہمارے ساتھ نہ تھے، وہ ہمیں کسی اچھے اور محفوظ طریقے سے پاکستان لانا چاہتے تھے، اسی انتظام کیلئے گھر سے گئے تھے۔ ان کے جاتے ہی ہمارے علاقے میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔
بلوائیوں نے قیامت ڈھانا شروع کر دی۔ جب ہر طرف آگ اور خون کا کھیل جاری ہو گیا تو پڑوسیوں نے ہمیں بھی آمادہ کر لیا کہ والد کا انتظار کئے بغیر ہم قافلے میں ان کے ہمراہ شامل ہو جائیں اور اس جگہ سے دور چلے جائیں جہاں ہماری زندگیوں کو شدید خطرہ تھا۔
ہمارا گھرانا علاقے کا ایک معزز اور خوشحال خاندان تھا۔ بزرگوں نے بڑے رکھ رکھائو سے زندگی بسر کی تھی، حالات مگر ایسے ہوگئے کہ سارا اثاثہ چھوڑ کر پڑوسیوں کے ہمراہ قافلے کا حصہ بننے پر مجبور ہوگئے۔
ہم نے ابھی آدھا سفر بھی طے نہ کیا تھا کہ ایک جگہ بلوائیوں نے قافلے کو گھیر لیا۔ رات کی تاریکی میں یہ دیہاتی سکھوں کا ایک گروہ تھا جو حملہ آور ہوا تھا۔ وہ اسلحہ بردار تھے اور ہم تقریباً نہتے تھے۔ ایسا رن پڑا کہ بہت سے بدقسمت قافلے والے کام آگئے۔ بلوائی اپنے انتقام کی پیاس بجھا کر چلے گئے۔ آہ و بکا میں زندہ رہ جانے والے اپنے پیاروں کو پکارتے رہ گئے۔ جنہیں لٹنا تھا وہ لٹ گئے، جنہیں شہید ہونا تھا وہ ہو گئے، جن عفت مآب بیٹیوں کی قسمت میں بے آبرو ہونا لکھا تھا وہ اغوا ہو گئیں۔ امی جان اور ہم چار چھوٹے بچے ایک درخت کے تنے کی آڑ میں دبکے ہوئے تھے۔ اس وقت اتنا اندھیرا تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ بلوائی اپنی جلتی ہوئی مشعلوں کے ساتھ دور جا چکے تھے۔ صبح تک جس حالت میں گرے تھے زمین پر ڈھیر رہے۔ پو پھٹی تو اس کی نیلی پرنور ٹھنڈی روشنی میں ماں نے اٹھ کر ہمیں الٹ پلٹ کر دیکھا۔ ہم سہمے ہوئے ابھی تک سانس لے رہے تھے۔ انہوں نے باری باری سب کو ناموں سے پکارا۔ ہم نے جواب دیا لیکن… ایک پکار کا جواب نہ آیا۔ میرا بھائی معظم کہیں نہیں تھا۔
امی نے لاشوں کو الٹ پلٹ کر دیکھا لیکن اس کا مردہ جسم بھی نہ ملا۔ وہ روتی ہوئی پکارتی رہیں، ڈھونڈتی رہیں۔ لگتا تھا معظم کو کوئی ساتھ لے گیا ہے۔ قافلے کو دیر ہو رہی تھی، لوگوں نے صبر کی تلقین کی۔ جو بچ گئے تھے پھر قافلے کی صورت میں روانہ ہوئے۔ ہم بھی نیر بہاتے ان کے ہمراہ تھے۔ بھائی تو وہاں تھا نہیں ہم اس ویرانے میں رک کر کیا کرتے؟ امی نے دو چھوٹی بہنوں اور ایک بیٹے کو ریڑھی میں ڈالا اور میں ان کے ہمراہ پیدل چلی۔
لاہور پہنچنے تک ماں کی حالت غیر ہوچکی تھی۔ بیٹے کی جدائی کا غم ان کے اندر ایک کبھی نہ بجھنے والے الائو کی مانند دہک رہا تھا۔ کیمپ میں انتظام کرنے والوں نے ہماری تفصیلات درج کیں اور والد سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ یوں وہ چند روز بعد ہم سے آ ملے۔ والد کو بیٹے کا غم کم نہ تھا، مگر امی کی دلجوئی کی خاطر حوصلے سے کام لے رہے تھے، جبکہ ماں بن جل مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھیں۔
کچھ دنوں کی مشکلات سہنے کے بعد والد کو اعلیٰ تعلیم کی وجہ سے ایک سرکاری عہدہ مل گیا۔ رفتہ رفتہ موٹر کار، بنگلہ، نوکر ہر شے حاصل ہو گئی اور ہم شاہانہ انداز کی زندگی گزارنے کے لائق ہو گئے۔ پاکستان میں میرے دو بھائیوں نے جنم لیا، وہ نازونعم میں پرورش پانے لگے۔
وقت گزرتے دیر نہ لگی۔ میری شادی ایک امیر گھرانے میں ہوگئی۔ چھوٹی بہن ڈاکٹر بن گئی اور اعلیٰ تعلیم کے لئے ملک سے باہر چلی گئی۔ بھائیوں نے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کر لی۔ ایک سرکاری افسر اور دوسرا اعلیٰ افسر ہوگیا۔ تیسرے نے کاروبار کر لیا۔ وقت کے ساتھ ہمارے نصیب سنورتے چلے گئے۔
میرے والدین نے ایک بیٹے کی قربانی دے کر اس سرزمین پر خوشیاں پائی تھیں۔ وہ بھائی جسے ماں باپ بھولے نہ تھے۔ وہ ہر دم معظم کو یاد کرتے تھے۔ ماں کے دل پر بیٹے کی جدائی کا زخم پہلے دن کی طرح تازہ تھا۔ انہوں نے ہمارے دلوں میں بھی گمشدہ معظم کا ذکر کر کے محبت ڈال دی تھی۔ رات دن اسی کے بارے میں سوچا کرتے تھے کہ وہ اب کتنا بڑا
ہو گیا ہو گا۔
پاکستان کے قیام کو 40برس بیت گئے، اس دوران والد نے سفارت خانے کے ذریعے بہت کوششیں کیں لیکن بھائی کا سراغ نہ ملا۔ خیال تھا کہ ان کو شہید کر دیا گیا تھا اور والدہ صبح کی مدھم روشنی میں ان کے جسد خاکی کو نہ پہچان سکی تھیں لیکن ماں کا دل نہ مانتا تھا۔ یہ بات سب والدہ کو سمجھاتے تھے، وہ نہ سمجھتی تھیں، یہی کہتی تھیں میں نے بچوں کی لاشوں میں اچھی طرح اسے دیکھا تھا، وہ ان میں نہیں تھا۔ میرا دل گواہی دیتا ہے وہ ضرور اس دنیا میں کہیں سانس لے رہا ہے، وہ زندہ ہے… دیکھ لینا کبھی نہ کبھی ضرور آ ملے گا۔ یہ ایک ماں کا یقین تھا جس کو اپنی ممتا پر بھروسا تھا۔
وقت دھیرے دھیرے آگے سرکتا گیا، یہاں تک کہ ہمارے والدین بوڑھے ہو گئے۔ اب وہ بڑھاپے کے اس دور سے گزر رہے تھے جب ایک ایک سانس کی قیمت ہوتی ہے۔ آخری دنوں میں ان کی بس یہی خواہش رہ گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ایک بار ان کو ان کے بچھڑے ہوئے بیٹے سے ملوا دے یا پھر اس کے بارے میں کوئی خبر مل جائے۔ اللہ جانے یہ کیسی آس تھی کہ ان کے دلوں میں امید کی شمع ابھی تک روشن تھی۔
ایک دن والد برآمدے میں آرام کرسی پر نیم دراز اخبار پڑھ رہے تھے کہ فون کی گھنٹی بجی۔ یہ فون سفارت خانے سے آیا تھا جہاں ابا جان کے ایک دوست ابھی تک خدمات انجام دے رہے تھے۔ انکل وہاب نے بتایا…آپ کا بیٹا مل گیا ہے، فوراً آ جایئے۔
اس خبر سے ہمارے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ والدین فوراً روانہ ہو گئے اور ہم گھر میں دعائوں کے ساتھ اپنے کھوئے ہوئے بھائی کی دید کے منتظر ہو گئے۔
والدین لوٹے تو ان کے ہمراہ ایک دبلا پتلا ادھیڑ عمر کا سانولا آدمی تھا، ساتھ ہی کالی سی چھوٹے قد کی مریل اس کی بیوی اور سوکھے مارے چار بچے بھی تھے۔ ہم حیرت سے انہیں تکنے لگے۔ والدین بیٹے کو گلے لگا کر بار بار چوم رہے تھے لیکن ہماری ہمت نہ پڑتی تھی، ان سے گلے لگنے کی۔ ان کی بیوی اور بچوں کو ذہن نے قبول نہ کیا تھا۔ ہمارا سلوک ان کے ساتھ سردمہری کا تھا۔ وہ بھی ہمارے شاندار گھر اور شان و شوکت کو پریشانی سے دیکھ رہے تھے۔ ہم گورے چٹے، تندرست، خوش لباس امیر لوگوں میں، وہ کالے، منحنی، سوکھے، سڑے اور سہمے ہوئے اس طرح کھڑے تھے جیسے مجرم ہوں۔ ہمارا خیال تھا کہ گمشدہ بھائی بھی ہماری ہی طرح کا ہو گا لیکن معظم بھائی ہمارے ملازموں سے بھی بدتر حلیے میں تھے۔
جب ذہن کچھ پرسکون ہوئے امی نے بیٹے سے احوال دریافت کیا تو بھائی معظم نے بتایا… بلوائی آئے تو میں بھی آپ لوگوں کی طرح زمین پر لیٹ گیا تھا۔ اچانک کسی نے مجھے ٹانگوں سے پکڑ کر گھسیٹا۔ وہ مجھے شاید مارنا چاہتے تھے لیکن پھر افراتفری میں کچھ دور لے جا کر کھیتوں میں پھینک دیا۔ میں خوف سے بے ہوش ہو گیا تھا۔ وہ یہی سمجھے کہ مر چکا ہوں۔ انہوں نے مجھ پر اپنی تلوار کو خون سے رنگنا وقت کا ضیاع جانا اور دوسری طرف چلے گئے۔
صبح تک میں بے ہوش پڑا رہا۔ جانے کب ایک شخص کو نظر آیا۔ وہ میرے قریب آیا، مجھے ہلایا جلایا، سانس چیک کرنے کے لئے ناک دبائی، نبض ٹٹولی…میں زندہ تھا۔ وہ مجھے اٹھا کر اپنے گھر لے گیا۔ یہ کھیتوں پر کام کرنے والا ملازم تھا۔ اس نے مجھے چھپا لیا۔ چند دن کھانا، پینا دیتا رہا اور سمجھایا کہ گھر سے باہر قدم نہ رکھنا، کہیں کسی کو نظر نہ آئوں۔
چند روز بعد جب قدرے امن ہوگیا اس کا ایک دوست بہار سے ادھر آیا۔ رام لال نے مجھے اس کے حوالے کرکے کہا… اسے تم کسی مسلمان کے حوالے کر دینا، میں اسے زیادہ دن اپنے پاس نہیں رکھ سکتا۔ اس کے دوست کا نام چندرجی تھا۔
وہ مجھے پہلے بہار لایا پھر بنگال بھجوا دیا، اپنے ایک واقف تاجر کے ساتھ جس کا کاروبار بنگال میں تھا۔ اس شخص نے مجھے ایک مچھیرے کے سپرد کر دیا لیکن میرے گھر والوں کو تلاش کرنے کی کسی نے زحمت نہ کی۔ البتہ اس تاجر چندرجی نے میرے زندہ ہونے کی اطلاع سفارتخانے میں کر دی تھی۔
مچھیرا جو مسلمان تھا اس نے مجھے بیٹا بنا لیا اور اپنی کٹیا میں پرورش کی۔ میں اس غریب مچھیرے کے گھر پرورش پاتا رہا جس کے اپنے بھی6بچے تھے۔ ان کو دو وقت کی روٹی کھلانا اس کے لئے جان جوکھم کا کام تھا لیکن اللہ نے ان غریبوں کا دل بڑا بنایا تھا۔ انہوں نے اپنے فاقہ زدہ بچوں میں مٹھی بھر چاول میں ایک غیر بچہ بھی شامل کر لیا۔ ان کے بچے تعلیم سے محروم تھے، مجھے


اسکول نہ بھیج سکتے تھے۔ زندگی قائم رکھنے کو روکھی سوکھی کھلاتے رہے، یہ بھی ان کا احسان تھا۔
جب میں جوان ہو گیا تو مچھیرے نے اپنی یتیم بھتیجی کو مجھ سے بیاہ دیا۔ میں اپنے منہ بولے باپ اور اس کے لڑکوں کے ساتھ مچھلیاں پکڑتا اور ان کو مارکیٹ میں بیچ آتا، یوں گزارہ ہوتا تھا۔ ایک روز میں نے مچھلیوں کے تاجر کو اپنی کہانی سنائی تو اس نے وعدہ کیا کہ وہ ضرور میری مدد کرے گا۔ اسی نے سفارتخانے میں میری تفصیل بھجوائی تھی اور ایک سال بعد آپ لوگوں تک سفارتخانے والوں نے رسائی حاصل کر لی۔
بھائی جس ماحول میں پلا بڑھا تھا وہاں ناقص خوراک اور افلاس اس قدر تھا کہ وہ اپنے خاندانی قد کاٹھ اور گورے رنگ سے محروم ہوگیا، صحت رہی اور نہ وہ صورت رہی۔ ایک سوکھا، کالا سا منحنی آدمی اب ہمارے سامنے تھا۔
جب میرے والدین بھائی کو لینے وہاں پہنچے تو مچھیرے اور اس کی بیوی کی جان پر بن گئی کہ کہاں یہ امیر و اعلیٰ خاندان کے لوگ اور کہاں ان کی بیٹی یقینا اب ان کی بیٹی کے برے دن آ گئے تھے۔ انہوں نے اپنی بیٹی کو روکنا چاہا مگر چار بچوں کا سوچ کر اس نے اپنے شوہر کے ساتھ جانے کو ترجیح دی۔ وہ ضد کر کے ساس سسر کے ہمراہ مشرقی پاکستان سے مغربی پاکستان آگئی۔ معظم بھائی نے اپنی بیوی کے ان رشتے داروں کو یقین دلایا تھا کہ آپ لوگوں نے مجھے پالا ہے۔ میرے والدین خاندانی لوگ ہیں، وہ آپ کا یہ احسان کبھی نہ بھولیں گے اور آپ کی بیٹی کو بہ خوشی قبول کر لیں گے، آپ بے فکر ہو جائیں لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ نہ جانے ہمارے دلوں کو کیا ہو گیا کہ جو دن رات معظم بھائی کو یاد کرکے تڑپتے تھے، ان کی ایک جھلک دیکھنے کو ترستے تھے، آج وہی اپنے پیارے بھائی اور اس کی فیملی کو دیکھ کر مایوس سے ہوگئے تھے۔
چند دن کی گرم جوشی رفتہ رفتہ سردمہری میں تبدیل ہونے لگی۔ رو رو کر جسے یاد کیا کرتے تھے، مل جانے کے بعد جیسے اس کی پروا نہ رہی تھی۔ وہ ہم میں سے نہ لگتا تھا، جیسے ملتے ہی ہمارا دل ان سے بھر گیا تھا۔ خونی رشتوں میں بھی رہن سہن کے فرق سے دراڑ پڑ گئی تھی۔ وہ جو ہمیں بہت پیارا تھا اب سامنے تھا تو اجنبی کیوں لگتا تھا، خاص طور پر معظم بھائی کا کنبہ ہمارے لئے ناقابل قبول تھا۔
ان کے بچے ہمیں لان میں چلتے پھرتے، چیختے چلاتے، شور مچاتے …کسی جانور کی طرح دکھائی دیتے تھے۔ گھر کا ہر فرد اب پریشان رہنے لگا۔ ان کو ڈانٹ ڈپٹ اور جھڑکنا معمول ہوگیا، خاص طور پر جب ہمارے دوست گھر آ جاتے تو ہم میں سے ہر ایک کی یہی کوشش ہوتی یہ اپنے کمرے میں چلے جائیں اور ہمارے مہمانوں کے جانے تک سامنے نہ آئیں۔ اللہ جانے وہ 40برسوں کی تڑپ کہاں چلی گئی تھی کہ تین، چار ماہ میں ہی ہم معظم بھائی کے بیوی بچوں سے نالاں ہو گئے۔ میرا گھر والدین کے گھر سے ملا ہوا تھا، بھائی کے بچوں کا شور ہمارے گھر تک آتا تو کانوں میں انگلیاں دے دیتی تھی۔ مجھے ان کی آوازیں ناگوار گزرتی تھیں۔ امی جان بھی معظم بھائی کے بچوں کو عجیب النسل اور ان کی بیوی کو عجیب الخلقت پکارنے لگی تھیں۔
جب تک والد زندہ رہے ہم سب نے معظم بھائی کے کنبے کو برداشت کیا۔ ان کے فوت ہوتے ہی سب نے آنکھیں پھیر لیں اور ان کے برے دن آ گئے۔ میرے بھائیوں اور ان کی بیویوں نے خاص طور پر امی کو تنگ کرنا شروع کر دیا کہ اپنے اس بیٹے کو ہماری رہائش سے دور رکھو۔ کوئی چھوٹا موٹا مکان لے کر دے دو۔ یہ لوگ ہمارے بیچ رہنے کے قابل نہیں ہیں۔ ایک دن معظم بھائی نے بھائیوں اور بھابھیوں کی باتیں سن لیں۔ اس سے پہلے کہ امی ان کو کچھ رقم دے کر الگ ہو جانے کا کہتیں وہ خود اپنی بیوی اور بچوں کو لے کر ایک غریب آبادی میں چلے گئے۔
انہوں نے ساحل سمندر کے پاس ایک بستی میں رہائش اختیار کر لی اور مچھیروں کے ساتھ ان کی کشتیوں میں مچھلیاں پکڑنے کا کام شروع کر دیا۔ وہ ان مچھیروں کے ملازم ہو گئے تھے۔
والدہ کو علم ہوا، وہ ان کے پاس گئیں، رقم کی پیشکش کی اور واپس آنے کو کہا…وہ راضی نہ ہوئے کہ میں یہاں اپنے جیسے لوگوں میں خوش ہوں۔ پہلے آپ کو مجھے بھلانا آسان نہ تھا لیکن اب مل گئے ہیں تو بھلانا آسان ہے، مجھے بھول جایئے۔ میں اتنا احسان فراموش نہیں کہ اپنے محسن کی بیٹی کو اس لئے چھوڑ دوں کہ وہ غریب ماں باپ کی بیٹی ہے یا بدصورت اور جاہل ہے، میں کون سا تعلیم یافتہ ہوں؟ میری
وجہ سے آپ کے بچوں کے رشتوں میں دشواریاں آئیں گی جو مجھے منظور نہیں ہے۔
معظم بھائی کے لئے یہ ایک خواب سا تھا۔ چند دن ہم میں رہے اور پھر بچھڑ گئے لیکن اس بار تقدیر نے جدا نہیں کیا تھا وہ سوچ سمجھ کر ہم لوگوں سے جدا ہوئے تھے۔ والدہ جب تک زندہ رہیں بیٹے اور بہو کے پاس جاتی رہیں، ان کو تحفے تحائف بھی دے آتی تھیں۔ ان کی وفات کے بعد ہم معظم بھائی سے نہ ملے۔ انہوں نے بھی ملنے کی چاہ نہیں کی۔ ہمارے بچوں کی شادیاں بھی ہو گئیں مگر وہ نہیں آئے۔ اب بھی اسی شہر میں رہتے ہیں مگر آتے نہیں ہیں اور نہ ہم ہی ان سے ملتے ہیں۔ اب تو وہ 85برس کے ہوں گے۔ اگر زندہ ہیں تو کسی کو نہیں معلوم وہ اور ان کے بچے کس حال میں ہیں؟
بہت عرصہ پہلے سنا تھا کہ خون سفید ہو جاتا ہے، یہ بات سمجھ میں نہ آتی تھی کہ کیسے سفید ہو جاتا ہے لیکن آج یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی ہے کہ جب اپنے رشتوں میں دولت اور مرتبے کا فرق آ جاتا ہے تو پھر اپنوں کا خون سفید ہو جاتا ہے۔
(پ۔س…کراچی)