Jaha Aran | Complete Urdu Story

843
باہر آسمان سیاہ بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ وقفے وقفے سے ہلکی بارش کا سلسلہ جاری تھا۔ ہوا کے نرم خرام جھونکوں میں رم جھم پھوار کی نمی اور بھیگی مٹی کی سوندھی مہک رچی ہوئی تھی۔ اندر کشادہ خواب گاہ کے بند دریچوں پر بھاری پردے تنے ہوئے تھے۔ ماحول میں بھی ایک عجب سا تنائو تھا۔ خواب گاہ میں موجود دائیاں اور خادمائیں خاموش نگاہوں اور ساکت لبوں سے کمرے کے وسط میں چھپر کھٹ پر دراز ارجمند بانو کی طرف تک رہی تھیں۔
ارجمند بانو کے حسین چہرے پر کرب و اضمحلال کے سائے لرزاں تھے۔ صندلی پیشانی عرق آلود تھی۔ شربتی آنکھیں دھندلا سی گئی تھیں۔ شہابی عارض زرد اور شنگرفی لب سپید تھے۔ وہ تخلیق کے کرب سے گزر رہی تھی۔
اس مرحلے تک پہنچنے سے پہلے وہ جانے کتنے کرب انگیز اور اذیت ناک مراحل سے گزری تھی۔ فراق وجدائی اور امید و بیم کے صحرا پاٹ کر وہ وصل و یقین کے اس نخلستان تک پہنچی تھی۔
شہنشاہِ ہند جہانگیر کے منجھلے بیٹے شہزادہ خرم نے اسے پہلی بار دیکھنے کے بعد ہی ہمیشہ کے لیے اپنے دل میں بسا لیا تھا۔ خود ارجمند بانو کو بھی وہ خمارآلود آنکھوں والا وجیہ اور باوقار شہزادہ بہت اچھا لگا تھا۔ اس کی نگاہوں کی تپش میں ارجمند نے خود کو پگھلتا ہوا محسوس کیا تھا۔
شہزادہ خرم جہانگیر کی راجپوت بیوی جگت گو سائیں کے بطن سے لاہور میں پیدا ہوا تھا۔ شہنشاہ اکبر کو اپنے اس پوتے سے بے پناہ محبت تھی۔ وہ اسے جہانگیر کے سب بیٹوں پر فوقیت دیتا تھا۔ بچپن میں ہی اس کی اقبال مندی کی بنا پر سیانوں نے اس کی تخت نشینی کی پیش گوئی کردی تھی۔ وہ ایک جری اور تلوار کا دھنی سپاہی تھا۔ کئی مہمات پر اسے سپہ سالار بنا کر بھیجا گیا۔ وہ اپنی جرأت، لیاقت اور قائدانہ صلاحیتوں کے باعث تمام مہمات سے کامیاب و سرفراز لوٹا تھا۔ میواڑ فتح کرنے پر ’’شاہ‘‘ اور دکن میں ملک عنبر کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے پر اسے ’’شاہ جہاں‘‘ کے خطاب سے نوازا گیا تھا۔
شہنشاہ جہانگیر کی چہیتی ملکہ نورجہاں شاہ جہاں کی صلاحیتوں سے بے حد متاثر تھی اور اسے اپنی اکلوتی بیٹی لاڈلی بیگم کا شریکِ حیات بنانے کی متمنی تھی لیکن شاہ جہاں ملکہ کے بھائی کی بیٹی ارجمند بانو کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہوچکا تھا اور کسی بھی قیمت پر اس سے دست بردار ہونے کو تیار نہ تھا۔ شہزادے کا شوق دیکھ کر آصف بیگ کا رجحان بھی اس جانب مبذول ہوگیا تھا۔ ان حالات میں نورجہاں کو اپنی خواہش کی تکمیل ناممکن نظر آ رہی تھی۔ کوئی اور وقت ہوتا تو اپنی خواہش پوری کرنے کی خاطر ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتی مگر اب حالات خاصے دگرگوں تھے۔ سیاسی بساط پر کامیابی کے لیے اسے اپنے بھائی آصف بیگ اور شاہ جہاں کی قائدانہ صلاحیتوں کی ضرورت تھی کیونکہ مسلسل شراب نوشی اور افیون خوری نے شہنشاہ جہانگیر کی صحت پر بہت برا اثر ڈالا تھا۔ شام ہوتے ہی وہ ساغر و مینا میں ڈوب کر دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو جاتا تھا۔
ہندوستان کی حکومت عملی طور پر نورجہاں کے ہاتھ میں تھی اور حکومت کو کامیابی سے چلانے کے لیے اسے اپنے باپ غیاث بیگ، بھائی آصف بیگ اور شہزادہ شاہ جہاں کی مدد درکار تھی۔ ان حالات میں اس نے یہی مصلحت جانی کہ شاہ جہاں کو اپنا داماد بنانے کی بجائے اس کی شادی ارجمند بانو سے کروا دے۔ اس طرح وہ اپنے بھائی اور خود شاہ جہاں پر احسان کر کے انہیں اپنا ممنون احسان بنا سکتی تھی۔
وہ سرمئی شام اپنے دامن میں کتنے سلونے رنگ سمیٹ لائی تھی۔ ہوائوں کے ملائم جھونکوں میں شادیانوں کی دھن بسی ہوئی تھی۔ ارجمند بانو کے انگ انگ سے مسرت پھوٹ رہی تھی۔ ہمیشہ کے لیے شاہ جہاں کا بن جانے کے تصور سے بھی اس کے روم روم میں ایک سرشاری ہلکورے لے رہی تھی۔ جس ہستی کو دیکھ کر اس کے دل نے دھڑکنا سیکھا تھا، اب وہی اس کے جسم و جاں کا مالک ہونے جا رہا تھا۔
وہ رات بے حد خوبصورت تھی۔ اس رات آکاش اور دھرتی پر بہ یک وقت دو چاند دمک رہے تھے۔ ایک ماہ کامل نیلگوں امبر کی بے کراں وسعتوں میں رعنائیاں بکھیر رہا تھا۔ دوسرا ماہِ بدر سرخ زرتار آنچل میں چہرہ چھپائے شاہ جہاں کے آراستہ حجلۂ عروسی میں اس کے سامنے موجود تھا۔
شاہ جہاں نے آگے بڑھ کر ارجمند بانو کے چہرے سے گھونگھٹ اٹھایا تو اسے یوں محسوس ہوا کہ خواب گاہ کی مدھم فضا یکایک جگمگا اٹھی ہو۔
’’ارجمند بانو۔‘‘ شاہ جہاں نے اس کے دلکش چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے قدرے جذباتی لہجے میں کہا۔ ’’ہم آپ کے لیے کوئی تحفہ نہیں لائے کیونکہ کوئی بھی چیز ہمیں آپ کے شایان شان نہیں لگی۔ اسی لیے ہم خود کو آپ کے حضور پیش کر رہے ہیں، اپنی بے پناہ محبتوں اور بے انتہا وفائوں کے ساتھ… آپ ہمیں قبول فرما لیں۔‘‘
’’آپ کو تو ہم پہلی ہی نگاہ میں دل و جان سے قبول کر چکے ہیں۔‘‘ ارجمند بانو نے شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ، دھیمی مترنم آواز میں جواب دیا۔ ’’بس ہماری ایک شرط ہے۔‘‘
’’ہمیں آپ کی یہ شرط سنے بغیر منظور ہے۔‘‘ شاہ جہاں کے بے ساختہ اقرار پر ارجمند بانو نے نگاہیں جھکا کر دھیمے لہجے میں کہا۔ ’’ہم آپ سے بس اتنی گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ زندگی کے آخری لمحے تک ہمیں آپ کی وفا حاصل رہے اور اگر ہم مر بھی جائیں تو ہماری محبت زندہ رہے۔ ہم چاہتے ہیں دنیا والوں کے لیے ہماری محبت ایک مثال بن جائے۔‘‘
’’اپنی موت کا ذکر کر کے آپ نے ہمیں رنجیدہ کردیا ہے ارجمند بیگم۔‘‘ شاہ جہاں نے دھیمے مگر سنجیدہ لہجے میں جواب دیا۔ ’’ہم تمہاری موت کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ہماری حیات تمہاری زندگی سے وابستہ ہے۔ ہم تم سے وعدہ کرتے ہیں کہ تاحیات تم پر یونہی اپنی بے پناہ محبت نچھاور کرتے رہیں گے اور مرتے وقت اپنی اس بے مثال محبت کی ایک یادگار قائم کر جائیں گے جو رہتی دنیا تک دنیا والوں کو ہماری محبت کی یاد دلاتی رہے گی۔‘‘
’’اوہ صاحب عالم۔‘‘ ارجمند بانو نے مشکور و بے خود ہو کر اپنا سر شاہ جہاں کے کشادہ سینے پر رکھ دیا۔
قوس قزح کے رنگوں میں رنگی، ماہ و انجم کے اجالوں سے ڈھلی عود و عنبر کی خوشبوئوں میں بسی وہ حسین اور فسوں خیز رات دبے پائوں گزرتی جا رہی تھی۔ شاہ جہاں اور ارجمند بانو طلسماتی لمحوں سے وصل کی مے کشید کر رہے تھے۔ رات کا مہکتا اندھیرا جانے کب صبح صادق کے اجالے میں ڈھل گیا، انہیں پتا ہی نہیں چلا۔
طلائی و نقرئی کرنوں سے سجی نئی صبح ان کی منتظر تھی۔ ہزارہا رنگوں سے سجی زندگی ان کی راہ میں نگاہیں بچھائے کھڑی تھی۔
’’ہم چاہتے ہیں کہ جلد از جلد ہمارے گلستانِ حیات میں ایک نیا پھول کھل جائے۔‘‘ شاہ جہاں نے ارجمند بانو کی ریشمیں زلفوں میں چہرہ چھپا کر سرگوشی کی تو ارجمند کے مخملیں رخساروں پر قوس قزح کے رنگ بکھر گئے تھے۔
سب ہی مردوں کی طرح شاہ جہاں بھی ایک بہادر ذہین اور شاندار بیٹے کا آرزومند تھا۔ اس کے شوق کا یہ عالم تھا کہ اس نے ابھی سے آنے والے بیٹے کا نام بھی سوچ لیا تھا۔ اس کا شوق اور انتظار دیکھ کر ارجمند بانو عجب الجھن اور کشمکش کا شکار تھی۔
’’آپ ماں بننے والی ہیں۔ یہ تو خوشی کی بات ہے مگر آپ اتنی الجھی ہوئی اور پریشان کیوں دکھائی دیتی ہیں؟‘‘
ارجمند بانو کی خادمہ خاص ترنم کے سوال پر اس کی حسین کالی آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔ ’’صاحب عالم! بیٹے کے آرزومند ہیں… لیکن اگر بیٹی پیدا ہوئی تو؟‘‘ ارجمند بانو نے ہراساں انداز میں جملہ ادھورا چھوڑ دیا تھا۔
’’تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟‘‘ ترنم نے حیرانی سے کہا۔ ’’اس بار بیٹی ہو گئی تو اِن شاء اللہ آئندہ بیٹا ہو جائے گا۔‘‘ ترنم کے بے نیازانہ انداز پر وہ اس کا چہرہ تکتی رہ گئی تھی۔
ترنم نے اسے بہت سمجھانا چاہا مگر اس کی فکرمندی کم نہ ہوئی۔ وقت گزرتا رہا۔ بالآخر تخلیق کا وہ لمحہ آ پہنچا جس کا سب کو انتظار تھا۔
ارجمند بانو نے ایک پھول سی بچی کو جنم دیا۔ شاہ جہاں کو بیٹی کی ولادت کی خبر ملی تو لمحہ بھر کو وہ چپ سا رہ گیا۔ وہ پہلوٹھی کے بیٹے کی امید رکھے ہوئے تھا۔ وہ شیر جیسے بیٹے کا آرزومند تھا مگر تقدیر نے اسے پھول سی بیٹی عطا کردی تھی۔
’’حضور! ارجمند بانو آپ کی منتظر ہیں۔‘‘ ترنم نے اسے سوچوں میں گم دیکھا تو ذرا اونچی آواز میں اسے یاد دلایا۔
’’اوہ اچھا۔‘‘ وہ ہڑبڑا کر سیدھا ہوتا ہوا گویا ہوا۔ ’’چلو چلتے ہیں۔‘‘
شاہ جہاں فوراً ہی ارجمند بانو کے کمرے کی طرف چل دیا۔ اس کے بچی کے پاس پہنچتے ہی اچانک بچی کی طبیعت خراب ہوگئی تھی۔ سینہ دھونکنی کی طرح چلنے لگا تھا۔ سانس اکھڑ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے دم دے دیا تھا۔
نومولود بچی کی موت ارجمند کے لیے ہی نہیں، خود شاہ جہاں کے لیے بھی کسی سانحے سے کم نہ تھی۔ غم کے ساتھ ایک احساس شرمندگی نے بھی اسے گھیر لیا تھا۔ شاید اس نے اس ننھی جان کی قدر نہ کی۔ اس کی آمد پر خوشی کا اظہار نہیں کیا، اسی لیے وہ روٹھ گئی تھی۔
’’ہم بہت افسردہ ہی نہیں، شرمندہ بھی ہیں بیگم۔‘‘ وہ اپنی روتی سسکتی شریک حیات کو سینے سے لگائے ملول لہجے میں کہہ رہا تھا۔ ’’خدا سے دعاگو ہیں کہ اگلی بار بھی خدا ہمیں بیٹی سے نوازے۔ ہم وعدہ کرتے ہیں اس سے دل کی گہرائیوں سے محبت کریں گے۔‘‘
شاید وہ قبولیت کی گھڑی تھی۔
برس بھر بعد ہی ارجمند بانو آج پھر تخلیق کے اسی موڑ پر کھڑی تھی۔ اس کے حسین چہرے پر کرب و اضمحلال کے سائے لرزاں تھے۔ صندلی پیشانی عرق آلود تھی۔ شربتی آنکھیں دھندلا سی گئی تھیں۔ شہابی عارض زرد اور شنگرفی لب سپید تھے۔ اسی عالم میں قافلۂ شب سفر کرتا اپنی منزل تک جا پہنچا تھا۔ ادھر مشرق کی اور قرمزی پہاڑیوں کی اوٹ سے صبح کاذب کا دھندلا سا اجالا پھوٹا تھا۔ ادھر خواب گاہ کی خوابناک فضا میں ایک نومولود بچے کی حیات افزا رونے کی آواز سے جاگ اٹھی تھی۔
شاہ جہاں اپنی نشست گاہ میں اپنے مصاحب اور ساتھی نوبت خان کے ساتھ خوشخبری کا منتظر تھا۔ تب ہی ترنم بھاگتی ہوئی پہنچی تھی۔ ’’صاحب عالم مبارک ہو، اللہ نے آپ کو ایک صحت مند اور خوبصورت بیٹی عطا کی ہے۔‘‘
’’شکر ہے اس مالک کا، احسان ہے اس ذات پاک کا۔‘‘ شاہ جہاں نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر خدا کا شکر ادا کیا تھا اور ترنم کے ساتھ اپنی پیاری بیٹی کو دیکھنے کے لیے ارجمند بانو کے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔
شہنشاہ جہانگیر کو پوتی کی پیدائش
کی خبر ہوئی تو اس نے خوشی کا اظہار کیا اور اپنے اور اپنی چہیتی ملکہ نورجہاں کے نام کی مناسبت سے اس کا نام ’’جہاں آرا‘‘ تجویز کیا۔
’’جہاں آرا۔‘‘ ارجمند بانو نے مسرور لہجے میں نام دہرایا۔ ’’بہت ہی خوبصورت اور سعد نام ہے۔ ظل سبحانی نے خود تجویز فرمایا ہے… یہ تو بہت ہی خوشی کی بات ہے۔‘‘
’’ہاں، سو تو ہے۔‘‘ شاہ جہاں نے اپنی چہیتی بیٹی کو اپنی آغوش محبت میں سمیٹتے ہوئے مسکرا کر کہا۔ ’’ہماری بیٹی جہاں آرا بہت خوش نصیب ہے۔‘‘
ساتویں روز جہاں آرا کا عقیقہ کیا گیا۔ اسے سونے، چاندی اور جواہرات میں تول کر تمام اشیاء غریبوں میں تقسیم کردی گئیں۔ شاہ جہاں اور ارجمند بانو بیٹی کو پا کر بے حد خوش تھے۔ جب وہ اپنی ذہانت سے پُر اپنی سیاہ آنکھوں سے ماں کی طرف دیکھتی تو ارجمند بانو نہال ہو کر اس کی بلائیں لینے لگتی، اور جب ننھی شہزادی اپنے ننھے ننھے بازو لہرا کر شاہ جہاں کی طرف ہمکتی تو وہ بے ساختہ اسے گود میں اٹھا کر سینے سے لگا لیتا۔
گزرنے والا ہر لمحہ ارجمند بانو اور شاہ جہاں کے دل میں جہاں آرا کی محبت میں اضافہ کرتا جا رہا تھا۔ خاص طور پر شاہ جہاں تو جہاں آرا پر دل و جان سے نثار تھا۔ اس کی ایک ایک ادا پر فریفتہ تھا۔ بیٹی کی چاہت اور مسرت اپنی جگہ تھی مگر اب اسے بیٹے کا انتظار تھا۔
’’اپنے بیٹے کا نام ہم خود رکھیں گے۔‘‘ اس شام اس نے ارجمند بانو کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو وہ بے ساختہ شرما گئی تھی۔ ’’جانتی ہو ہم نے بہت پہلے سے ایک نام سوچ رکھا ہے۔‘‘
’’اتنی جلدی؟‘‘ ارجمند بانو کے شرمیلے لہجے میں حیرت بھی شامل تھی۔
’’ایسی جلدی بھی نہیں ہے۔‘‘ شاہ جہاں مسکرایا۔ ’’آئندہ سال ہمیں ہمارا ’’داراشکوہ‘‘ چاہیے۔‘‘
’’اور اگر اس بار بھی بیٹا نہ ہوا تو؟‘‘ ارجمند بانو کی دھیمی آواز میں اندیشے لرزاں تھے۔
’’ہماری جہاں آرا اتنی خوش بخت ہے کہ اس کے قدموں کی برکت سے اس بار ضرور بیٹا ہوگا۔‘‘
اور کچھ ہی عرصے بعد ارجمند بانو نے ایک پیارے سے بیٹے کو جنم دیا تھا۔ شاہ جہاں نے اس کا نام دارا شکوہ رکھا۔ بیٹے کو پا کر وہ بے حد مسرور تھا۔ یہ بیٹا اسے مرتے دم تک بے حد عزیز رہا تھا۔
آئندہ دو سالوں میں وہ دونوں دو اور بچوں کے ماں باپ بن چکے تھے۔ شادی کے بعد ان چھ سالوں میں ان کے پانچ بچے ہوچکے تھے۔ پہلی مرحومہ بچی نورالنساء کے بعد جہاں آرا بیگم، داراشکوہ، شاہ شجاع اور روشن آرا بیگم۔
اگلے تین سالوں میں ارجمند بانو نے دو مُردہ بچوں کو جنم دیا تھا۔ سال بہ سال بچوں کی ولادت اور یکے بعد دیگرے دو بچوں کی اموات نے اسے بہت کمزور و مضمحل کردیا تھا۔
ان دنوں شاہ جہاں کانگڑہ کی مہم پر گیا ہوا تھا۔ ارجمند بانو ایک بار پھر اُمید سے تھی۔ شاہ جہاں اس سے بے پناہ محبت رکھتا تھا اور اس کی گرتی ہوئی صحت کی طرف سے خاصا فکرمند تھا۔ اس وقت جبکہ اسے اپنی شریک حیات کے پاس ہونا چاہیے تھا، وہ کانگڑہ کی بغاوت فرو کرنے میں مصروف تھا مگر اپنی چہیتی، ذہین اور معاملہ فہم بیٹی جہاں آرا کی وجہ سے اس کے دل کو قدرے اطمینان تھا۔
اب جہاں آرا تیرہ برس کی ہوگئی تھی۔ وہ کمسنی سے ہی بے حد سمجھدار، بردبار اور سنجیدہ طبیعت کی مالک تھی۔ وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی اور اسے بیمار ماں کے ساتھ سب بہن بھائیوں کا بھی خیال رکھنا اور دیکھ بھال کرنا ہے۔ اس احساس نے اسے وقت سے پہلے کچھ زیادہ ہی سنجیدہ بنا دیا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے ماں باپ اس سے بے حد محبت کرتے ہیں۔ خاص طور پر شاہ جہاں تو اسے دیکھ کر جیتا تھا۔ گو کہ وہ اپنے پہلے بیٹے دارا شکوہ سے بھی بے حد محبت کرتا تھا۔ دارا شکوہ اس کی ایک آنکھ کا تارا تھا تو جہاں آرا اس کی دوسری آنکھ کی روشنی تھی اور اب جبکہ جہاں آرا نے نہایت بڑے پن اور اپنے پن سے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں اور بیمار ماں کا خیال رکھنا شروع کردیا تھا، شاہ جہاں کی نگاہ میں اس کی قدر و منزلت اور محبت کچھ اور بڑھ گئی تھی۔
’’بابا جان! آپ متفکر نہ ہوں، میں ہوں نا… میں سب سنبھال لوں گی۔‘‘ جہاں آرا کے کہے ہوئے یہ الفاظ شاہ جہاں کے لیے تقویت کا باعث ہوتے تھے۔ رفتہ رفتہ وہ اپنی اس ننھی سی بیٹی پر انحصار کرنے لگا تھا اور ایسا کرکے اسے سکون ملتا تھا۔
پیدائش کے بعد پہلی سالگرہ سے اب تک جہاں آرا کی سالگرہ ہر سال بہت دھوم دھام سے منائی جاتی تھی۔ اس سال سالگرہ کی تقریب میں شاہ جہاں کے ہم مکتب اور بچپن کے دوست مرزا یونس چغتائی اپنی اہلیہ شرف النساء اور جواں سال بیٹے مرزا یوسف چغتائی کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔ چودہ سالہ مرزا یوسف چغتائی کو دلکش، رعنا، بردبار اور باوقار شہزادی جہاں آرا بے حد اچھی لگی تھی۔
شاہ جہاں نے بیٹوں کی طرح بیٹیوں کی تعلیم و تربیت اور خاص طور پر جہاں آرا کی ذہانت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی تعلیم و تربیت کی خاطر بہترین اساتذہ کا بندوبست کیا تھا۔ جہاں آرا نے محض پانچ برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا تھا۔ وہ تصوف کی جانب خصوصی رغبت رکھتی تھی۔ شاہ جہاں کے ساتھ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے مزار پر حاضری دینا، اسے بے حد پسند تھا۔ وہ عربی و فارسی زبانوں پر خصوصی توجہ دیتی تھی اور چھوٹی سی عمر میں ہی شعر کہنے لگی تھی۔ اس کے شوق کو دیکھتے ہوئے محل میں اکثر بچوں کے لیے مشاعرے منعقد کروائے جاتے تھے جس میں وزراء و دیگر عمائدین شہر کے شاعر بچے شرکت کرتے تھے۔
مرزا یوسف چغتائی بھی شعر و شاعری سے شغف رکھتا تھا۔ چنانچہ اس بار محل میں جو مشاعرہ منعقد ہوا، اس میں وہ بھی شریک تھا۔ دیگر شعراء کے بعد جب شمع محفل جہاں آرا کے سامنے آئی اور اس نے اپنی مدھر اور مترنم آواز میں غزل چھیڑی تو مرزا کو خود کو سنبھالنا مشکل ہوگیا۔ دل تھا کہ ہاتھوں سے نکلا جاتا تھا۔ نگاہیں تھیں کہ مہ لقا کے چہرے پر فریفتہ ہوئی جاتی تھیں۔ وہ واپس گھر لوٹا تو گویا خود سے بیگانہ ہوچکا تھا۔ محبت کرنے والی جہاں دیدہ ماں سے اس کی کیفیت پوشیدہ نہ رہ سکی تھی۔ سو شرف النساء نے اپنے شوہر سے کہا۔ ’’لگتا ہے صاحبزادے، جہاں آرا کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوگئے ہیں۔ آپ کی تو صاحب عالم شاہ جہاں سے دوستی ہے، آپ ان سے مرزا کی نسبت کا ذکر چھیڑ کر دیکھئے۔‘‘
’’کیا کہہ رہی ہو بیگم۔‘‘ مرزا یونس چغتائی حیران و پریشان لہجے میں گویا ہوئے۔ ’’تم جانتی ہو کس لڑکی کی بات کررہی ہو۔ وہ شاہ جہاں کی چہیتی بیٹی، جہانگیر ظل سبحانی کی پوتی اور اکبر اعظم کی پڑپوتی ہے۔‘‘
’’تو ہم بھی تو اٹھائی گیرے نہیں ہیں۔‘‘ شرف النساء بگڑ کر بولی۔ ’’ہم خاندانی اشراف ہیں۔ صاحب عزت و صاحب ثروت ہیں۔ بھلا ہمارے مرزا یوسف سے بہتر جہاں آرا کے لیے اور کون سا رشتہ ہوسکتا ہے؟‘‘
’’شاید تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔‘‘ مرزا یونس قائل ہوتے ہوئے سر ہلا کر بولا۔ ’’مگر یہاں ایک اور بڑی رکاوٹ ہے اور وہ یہ کہ مرزا یوسف شاہی خاندان سے نہیں ہے۔‘‘
’’تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟‘‘ شرف النساء نے حیرانی سے پلکیں پٹپٹائیں۔
’’تم شاید اکبر اعظم کا وہ فرمان بھول رہی ہو جس کی رو سے شہزادیوں کی شادی صرف شاہی خاندان کے لڑکوں سے ہی ہوسکتی ہے اور جن شہزادیوں کے جوڑ کا لڑکا شاہی خانوادے میں موجود نہ ہوگا، ان کی سرے سے شادی ہی نہیں کی جائے گی۔ انہیں تمام عمر کنوارہ رہ کر محل میں زندگی گزارنی ہوگی۔‘‘
اکبر اعظم کے اس فرمان کو جاننے کے بعد شرف النساء کو ہی نہیں بلکہ مرزا یوسف چغتائی کو بھی بے حد مایوسی ہوئی تھی اور اس کے نوجوان دل کے ایوان میں محبت کی شمع کی لو پوری طرح سر اٹھانے سے پہلے ہی سرنگوں ہوگئی تھی۔ چراغ امید روشن ہونے سے پہلے ہی بجھ گیا تھا۔
جہاں آرا نے اپنے نوخیز دل کی پگڈنڈی پر خوبرو شکیل مرزا کے پُرشوق قدموں کی آہٹ محسوس کی تھی۔ اس نے اپنی دراز ریشمیں پلکوں کی اٹھتی گرتی چلمن سے ابھی اس کی جانب دیکھنا ہی شروع کیا تھا کہ وہ چہرہ نظروں سے اوجھل ہوگیا تھا۔ وہ اپنے درِ دل پر دستک کے لیے اٹھنے والے ان پہلے ہاتھوں کے رک جانے پر خاصی حیران و رنجیدہ تھی۔
’’کسی طور معلوم تو کرو افروزن۔‘‘ وہ خود سے دو برس بڑی اپنی خاص سکھی اور خادمہ افروزن سے کہہ رہی تھی۔ ’’مرزا آگے بڑھتے بڑھتے یکدم تھم کیوں گئے؟‘‘
’’شاید انہیں ظل سبحانی، جنت مکانی، اکبر اعظم کے فرمان کی بھنک مل گئی ہے۔ تب ہی وہ…‘‘ افروزن بے دھیانی میں بتاتے بتاتے ایک دَم رک گئی۔
’’کیسا فرمان؟‘‘ جہاں آرا نے حیران و پریشان لہجے میں سوال کیا۔
’’وہ دراصل…‘‘ افروزن سٹپٹائے ہوئے انداز میں جزبز ہوکر رہ گئی تھی۔ ’’اب آپ کو کیا بتائوں؟‘‘
مگر جہاں آرا کے اصرار پر اسے تمام کہانی سنانی پڑی تھی۔ اس فرمان کے بارے میں سن کر جہاں آرا حیران ہونے کے ساتھ قدرے خفا بھی ہوئی تھی۔
’’امی جان! کیا حضرت اکبر اعظم نے ایسا کوئی فرمان جاری کیا تھا؟‘‘ بستر پر نیم دراز نحیف و نزار ارجمند بانو کی اداس آنکھوں سے جھانکتی افسردگی اور بے چارگی نے اس کے سوال کا جواب دے دیا تھا۔
’’دادا جان حضرت جہانگیر ظل سبحانی کو اس فرمان کو ختم کردینا چاہیے۔‘‘ ماں کے قریب بیٹھا بارہ سالہ دارا شکوہ ساری بات سن رہا تھا۔ وہ بڑی بہن سے بے حد محبت کرتا تھا اور اس کی ہر بات کی تائید کرنا اپنا فرض سمجھتا تھا۔ اسی لیے اس نے فوراً ہی اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔
’’ظل سبحانی جہانگیر اور نہ ہی ان کے بعد آنے والا کوئی مغل حکمران اس فرمان کو رد نہیں کرسکتا۔‘‘ ارجمند بانو نے کرب بھرے لہجے میں کہا۔
’’یہ کیا بات ہوئی، آپا جہاں آرا اور روشن آرا کے جوڑ کے لڑکے تو شاہی خانوادے میں موجود ہی نہیں ہیں تو کیا میری بہنوں کی شادیاں نہیں ہوں گی؟‘‘ اس نے جہاں آرا کا دھواں دھواں ہوتا ہوا چہرہ دیکھا۔ پھر پُرعزم لہجے میں گویا ہوا۔ ’’آپ بے فکر رہیے آپا جہاں آرا… جب میں بادشاہ بنوں گا تو جدامجد اکبر اعظم کے اس فرمان کو ختم کردوں گا۔‘‘
چھوٹے بھائی کی اس یقین دہانی نے جہاں آرا کو آس دلانے کی بجائے مایوس کردیا تھا۔ کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک… اس کے دل میں ایک ٹیس سی اٹھی اور وہ خاموشی سے اٹھ کر باہر چلی گئی۔
کچھ عرصے بعد ارجمند بانو نے ایک اور بیٹے کو جنم دیا جس کا نام اورنگزیب رکھا


گیا۔ اورنگزیب کی پیدائش شاہ جہاں کے لیے بہت مبارک ثابت ہوئی اور اس نے کانگڑہ فتح کرلیا اور اسے حصار فیروزہ کا صوبیدار مقرر کردیا گیا۔
فتح کے شادیانے بجاتا شاہ جہاں جب آگرہ واپس پہنچا تو اس نے ارجمند بانو کے ساتھ اپنی چہیتی بیٹی جہاں آرا کو بھی اپنا منتظر پایا۔ مگر اب اس کی بڑی بڑی بادامی آنکھوں میں شوخی کی بجائے سنجیدگی آگئی تھی اور چہرے پر ایک عجب سا اضمحلال منجمد ہوکر رہ گیا تھا۔
’’کیا بات ہے دختر عزیز از جان! میں تمہیں کچھ رنجور پاتا ہوں۔‘‘ شاہ جہاں نے اپنی لاڈلی سے سوال کیا۔
’’کچھ نہیں بابا جان۔ بس امی جان کی طرف سے ہر لمحہ فکر لگی رہتی ہے۔‘‘ جہاں آرا نے آنکھوں کی جھیلوں میں بھر آنے والے پانی کو چھپاتے ہوئے بات بنائی۔
یہ بات بھی ایسی کچھ غلط نہ تھی۔ جب سے شاہ جہاں آیا تھا، ارجمند بانو بھیگی پلکوں سے اسے تکے جارہی تھی۔ اس کی بے آواز سسکیاں فرقت کے لمحوں کے کرب و اذیت کی غماز تھیں۔
’’اب آپ جہاں بھی جائیں گے، میں آپ کے ساتھ جائوں گی۔‘‘ اس نے رخساروں پر بہتے نایاب موتیوں کو ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے ہوئے اپنا فیصلہ سنایا۔ ’’اب میں آپ کے بغیر ایک دن بھی نہیں رہ سکتی۔‘‘
’’میں جانتا ہوں۔‘‘ شاہ جہاں اس کے آنسو دیکھ کر بے چین ہوگیا۔ ’’اور تم بھی جانتی ہو تمہارے بغیر ہم بھی کہاں رہ سکتے ہیں۔ آج تم سے یہ وعدہ رہا۔ کیسے بھی حالات کیوں نہ ہوں، تم ہمارے ساتھ رہو گی۔‘‘
دیکھتے ہی دیکھتے چار سال بیت گئے۔ اس دوران ارجمند بانو کے یہاں تین مزید بچوں کی ولادت ہوئی جن میں سے صرف ایک بیٹا مراد بخش بچ پایا، باقی دونوں بچے ولادت کے فوراً بعد ہی انتقال کرگئے۔ ان حالات نے ارجمند بانو کو مزید مضحمل اور نڈھال کردیا تھا مگر اب وہ اپنے دیگر بچوں اور گھر کے امور و مسائل سے بالکل بے نیاز ہوگئی تھی کیونکہ جہاں آرا سولہ برس کی ہوگئی تھی۔ ہر نوجوان لڑکی کی طرح چاہنے، چاہے جانے اور گھر بسانے کے خواب اس کی پلکوں پر بھی سجے تھے مگر جب سے اسے اپنے پردادا اکبر اعظم کے فرمان کا علم ہوا تھا، اس نے ان خوابوں کو اپنی پلکوں سے نوچ کر پھینک دیا تھا۔ اب اس کی پوری توجہ ماں کی خدمت اور بہن بھائیوں کی تعلیم و تربیت پر تھی۔ فرصت کے لمحات میں وہ شاعری کرتی، کتابیں پڑھتی، تصوف کے مسائل پر غور کرتی اور موقع ملتے ہی حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کے مزار پر حاضری دینے پہنچ جاتی۔
اس کی لیاقت، قابلیت اور اہلیت کو دیکھتے ہوئے شاہ جہاں کے دل میں اس کی قدر و منزلت دن بدن بڑھتی جارہی تھی۔ وہ اس کی چہیتی بیوی ارجمند بانو کی مونس و دم ساز تھی۔ اس بات نے شاہ جہاں کو اس کا بے حد ممنونِ احسان کردیا تھا۔
ادھر شہنشاہِ ہند جہانگیر کی طبیعت آئے دن خراب رہنے لگی تھی۔ بے تحاشا شراب نوشی کے باعث اس کا جگر متاثر ہوچلا تھا، ہاتھوں میں رعشہ کے باعث وہ قلم پکڑنے کے قابل بھی نہ رہا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب صحیح معنیٰ میں ہندوستان کی حکومت ملکہ نورجہاں کے ہاتھوں میں آگئی تھی۔ اب اس نے عملی طور پر اپنے داماد شہریار کو برسراقتدار لانے کی کوشش شروع کردی تھی۔
اس وقت تک جہانگیر کے دونوں بڑے بیٹے خسرو اور پرویز دنیا سے کوچ کرچکے تھے۔ تخت و تاج کی اس جنگ میں شہریار کے مقابل اب صرف شاہ جہاں رہ گیا تھا۔ اپنی جرأت، لیاقت اور قائدانہ صلاحیت کی بنا پر شاہ جہاں خود کو شہنشاہِ ہند بننے کا اہل سمجھتا تھا مگر ملکہ نورجہاں جہانگیر کے چھوٹے بیٹے شہریار کو جو پہلے شوہر کی بیٹی لاڈلی بیگم کا شوہر تھا، کو برسراقتدار لانا چاہتی تھی۔
شہریار ایک نااہل اور نکما شہزادہ تھا۔ سب ہی جانتے تھے کہ وہ ہندوستان پر حکومت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا مگر نورجہاں ہر قیمت پر اسے شہنشاہِ ہند بنانے کی متمنی تھی۔ جہانگیر کی بگڑتی ہوئی حالت کے پیش نظر اس کی خواہش تھی کہ شاہ جہاں کو آگرہ سے دور بھیج دیا جائے۔ اسی لیے اس نے شاہ جہاں کو قندھار کی مہم پر روانہ ہونے کا پروانہ بھجوایا۔
’’آپ فکر مند دکھائی دے رہے ہیں؟‘‘ باپ کو الجھن کا شکار دیکھ کر جہاں آرا پوچھے بنِا نہ رہ سکی تھی۔ شاہ جہاں نے چونک کر اپنی اس حسین و ذہین بیٹی کی طرف دیکھا۔ وہ اس کی بہترین مشیر بھی تھی۔ ساری بات سن کر وہ بھی فکرمند ہوگئی۔ چنانچہ چہیتی بیٹی جہاں آرا اور اپنے خسر آصف بیگ کے مشورے کے بعد اس نے مہم پر جانے سے انکار کردیا اور علَم بغاوت بلند کردیا۔
شاہ جہاں کی حکم عدولی نے نورجہاں کو برافروختہ کردیا تھا۔ اس کے کان بھرنے پر جہانگیر بھی بیٹے سے سخت خفا ہوگیا۔ چنانچہ نورجہاں نے سزا کے طور پر شاہ جہاں کی جاگیر ضبط کرلی اور حکم دیا کہ شاہی دستے کو فوراً روانہ کردیا جائے۔
پہلے تو شاہ جہاں نے باپ کو منانے کے لیے پُرخلوص خطوط لکھے مگر نورجہاں نے ایک خط بھی بادشاہ تک پہنچنے نہ دیا۔ اس نے کچھ عمائدین سلطنت کو درمیان میں ڈال کر بادشاہ سے صلح صفائی کی کوشش کی تو نورجہاں نے اس کوشش کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ مجبور ہوکر شاہ جہاں کو علَم بغاوت بلند کرنا پڑا۔
جہانگیر کے حکم پر شاہی لشکر شاہ جہاں سے جنگ کرنے کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ دہلی کے جنوب میں بلوچ پور کے مقام پر دونوں افواج آمنے سامنے ہوئیں۔ غضب کا رن پڑا اور شاہ جہاں کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ وہ مالوہ کے راستے دکن پہنچا اور اپنے بچے کھچے لشکر کی مدد سے بنگال اور بہار پر قبضہ کرلیا مگر جلد ہی شاہی فوج نے اسے وہاں سے بھی راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور کردیا۔
شکست اور دل گرفتگی کے اس سفر میں ارجمند بانو اس کے ہم رکاب تھی۔ عزیز از جان بیٹی جہاں آرا اور جواں سال بیٹے دارا شکوہ کا ساتھ بھی شاہ جہاں کے لیے تقویت اور تسکین کا باعث تھا۔
ارجمند بانو کی صحت دن بدن گرتی جارہی تھی۔ شبانہ روز کی بھاگ دوڑ نے اس کی صحت کی شکست و ریخت میں اہم کردار ادا کیا تھا اور وہ بستر سے جا لگی تھی۔ ارجمند بانو کی حالت کو دیکھتے ہوئے جہاں آرا نے باپ کو مشورہ دیا تھا کہ اسے بادشاہ سلامت سے صلح کی کوشش کرنی چاہیے۔ ملکہ نور جہاں نے صلح کی شرط کے طور پر اس کے دو بیٹوں دارا شکوہ اور اورنگزیب کو ضمانت کے طور پر طلب کرلیا تھا۔ بیٹوں کو باپ کے پاس بھجوانے پر باپ کی طرف سے اسے معافی ملی۔
اس کشمکش اور سرد جنگ میں کئی مہینے بیت گئے۔ جہانگیر کی حالت مزید ابتر ہوگئی تھی۔ اس پر غشی کے دورے پڑ رہے تھے۔ شاہ جہاں دکن سے آگرہ کے لیے روانہ ہوا۔ شہریار کو گرفتار کرنے کے بعد اس نے شاہی محل کی طرف رخ کیا۔ 4؍فروری 1628ء کو نہایت دھوم دھام سے اس کی رسم تاج پوشی ادا کی گئی۔ حکومت مل جانے کے بعد بھی بے شمار مسائل اس کے منتظر تھے۔ ایسے میں ارجمند بانو کی ہم نشینی باعث اطمینان و تسکین تھی اور جہاں آرا کا ساتھ اسے حوصلہ دیتا تھا۔ تخت نشینی کے بعد اس نے ارجمند بانو کو ’’ممتاز محل‘‘ اور جہاں آرا کو ’’بیگم صاحب‘‘ کے خطاب سے نوازا تھا۔
ممتاز محل کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارتے اٹھارہ برس بیت چکے تھے۔ ان اٹھارہ برسوں میں ان کے تیرہ بچے ہوئے جن میں سے چھ بقید حیات تھے۔ ممتاز محل ایک بار پھر امید سے تھی۔ اس بار اس کی صحت بالکل جواب دے گئی تھی۔ گو کہ اب بچے بڑے ہوگئے تھے۔ خاص طور پر جہاں آرا اپنی عمر سے کہیں زیادہ ذمہ داری اٹھانے کی عادی ہوچکی تھی۔ بہن بھائیوں کی دیکھ بھال نے اس کے اندر مادرانہ شفقت اور مامتا بھری الفت پیدا کردی تھی۔ وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں سے مثل ماں کے سلوک کرتی تھی۔ شاہ جہاں اس کے شعور، تدبر اور معاملہ فہمی کا بے حد قدردان تھا۔
ولادت کے دن قریب آرہے تھے مگر ممتاز محل کی حالت سنبھلنے کی بجائے اور بگڑتی جارہی تھی۔ جہاں آرا، ماں کی طبیعت کی وجہ سے سخت فکرمند تھی۔ اس روز صبح سے ہی ممتاز محل کی حالت دگرگوں تھی۔ تمام رات کرب و اذیت میں گزرنے کے بعد صبح دم ممتاز محل نے ایک بچی کو جنم دیا۔ ادھر نومولود بچی نے آنکھیں کھولیں، ادھر ممتاز محل نے ہمیشہ کے لیے اپنی آنکھیں بند کرلی تھیں۔ بچی بقید ِحیات تھی مگر اس کی ماں قید حیات سے آزاد ہوگئی تھی۔
ممتاز محل کی یوں اچانک موت بچوں کے لیے تو جو صدمہ تھی، سو تھی مگر شاہ جہاں کے لیے کسی سانحہ سے کم نہ تھی۔ اس نے خود کو ایک کمرے میں بند کرلیا تھا۔ وہ کئی روز تک اسی کمرے میں بند اپنی محبوب رفیقۂ حیات کی جدائی کا سوگ مناتا رہا اور جب وہ کمرے سے باہر نکلا تو اس کے سیاہ بال سفید ہوچکے تھے اور دلکش و توانا چہرے پر جھریوں کا جال پھیل گیا تھا۔ وہ ممتاز محل کی دائمی فرقت کے غم میں چند دنوں میں ہی بوڑھا ہوگیا تھا۔
ایسے میں جہاں آرا بیگم صاحب نے سارے معاملات نہایت سمجھداری اور تندہی سے سنبھالے تھے۔ ممتاز محل کا ذاتی خزانہ سو کروڑ مالیت کی رقم پر مشتمل تھا۔ اس کے علاوہ جواہرات اور زیورات الگ تھے۔ بعد میں شاہ جہاں نے یہ خزانہ جہاں آرا کو بخش دیا تھا۔
ممتاز محل کی موت کے بعد حالات جہاں آرا کے لیے کسی امتحان سے کم نہ تھے۔ ایک طرف افسردہ بہن بھائی تھے تو دوسری طرف پژمردہ اور دل گرفتہ باپ… اسے اپنے نانا آصف جاہ اور بھائی دارا شکوہ کی معاونت حاصل تھی۔ شاید اسی لیے اس نے نہایت مضبوطی اور ضبط و تحمل کے ساتھ حالات کا سامنا کیا تھا اور نومولود بچی جس کا نام گوہر آرا بیگم تجویز کیا گیا تھا، کو سینے سے لگائے ایک ماں کی طرح اس کی پرورش میں لگ گئی تھی۔
شاہ جہاں کو اپنی تنہائی سے سمجھوتہ کرنے میں کئی مہینے لگ گئے۔ جہاں آرا اور دارا شکوہ کی محبت اور رفاقت اس کے لیے غنیمت اور باعث تقویت تھی۔ ممتاز محل کو محل کے سامنے والے میدان میں دفنایا گیا تھا۔ شاہ جہاں کو جب وقت ملتا، وہ دریچے سے اس کی قبر کی طرف تکے جاتا۔
’’بابا جان! امی جان کی قبر پر ایک شاندار مقبرہ تعمیر ہونا چاہیے۔‘‘ ایک شام جہاں آرا نے شاہ جہاں کو مشورہ دیا۔ ’’ایسا مقبرہ جو آپ کی اور امی جان کی بے مثل و بے نظیر محبت کے شایانِ شان ہو… ایک پُرشکوہ محل بلکہ تاج محل۔‘‘
’’اوہ میری لاڈلی! تم نے تو میرے منہ کی بات چھین لی۔‘‘ شاہ جہاں نے بے ساختہ جہاں آرا کی سپید پیشانی پر مہر محبت ثبت کرتے ہوئے جواب دیا… اور اسی شام ماہر تعمیرات و نقشہ جات استاد عیسیٰ کو طلب کرلیا۔ ہفتے بھر کی شبانہ روز محنت کے بعد استاد عیسیٰ نے مقبرے کا نقشہ،
تخمینہ اور عرصۂ تعمیر بادشاہ کے سامنے پیش کردیا تھا۔ جہاں آرا کی تجویز کے مطابق پتھر کے اس نغماتی شاہکار کا نام ’’تاج محل‘‘ رکھا گیا۔ تقریباً تین کروڑ روپے کے اخراجات کا امکان تھا اور وہ ’’خوابِ مرمر‘‘ بیس سے بائیس سال میں بن کر تیار ہونے والا تھا۔ اگلے ہی ہفتے سے مقبرے کی تعمیر کا کام شروع کردیا گیا۔
دیکھتے ہی دیکھتے دو برس بیت گئے۔ لاہور میں شیش محل کی تعمیر مکمل ہوچکی تھی۔ دوسری طرف شالا مار باغ بھی تکمیل کے آخری مراحل میں تھا۔ لاہور کا گورنر انتخاب خان خواہشمند تھا کہ شاہ جہاں لاہور آکر شیش محل اور شالا مار باغ کو خود بہ نفس نفیس ملاحظہ کرے۔ انتخاب خان کی بیٹی نادرہ بانو سے ممتاز محل دارا شکوہ کا رشتہ طے کر گئی تھی۔ اب جہاں آرا کو یہ ذمہ داری نبھانی تھی۔ وہ اپنے چہیتے بھائی کی دلہن نہایت دھوم دھام سے لانا چاہتی تھی۔ سو زوروشور سے شادی کی تیاریاں شروع کردی گئی تھیں۔ ملبوسات کی تیاری کے لیے بنارس، اودے پور اور ڈھاکا سے ماہرین طلب کرلیے گئے تھے۔ محل کے ایک تہہ خانے میں سونا پگھلانے کی بھٹی لگا دی گئی تھی۔ سچے موتیوں اور ہیرے جواہرات کے نولکھے، چندن ہار، ست لڑے اور گلوبند ڈھالے جارہے تھے۔ نوبیاہتا جوڑے کے استعمال کے لیے چاندی کے ظروف، سونے کی طشتریاں اور خاص دان تیار کئے جارہے تھے۔ ملبوسات عروسی کے لیے ریشم، حریر، اطلس دیبا و کم خواب کے تھان پہ تھان آرہے تھے۔ ملبوسات پر کارچوبی، گوٹا کناری، زردوزی اور کام دانی کا کام کیا جارہا تھا۔ سونے چاندی کے باریک تار ڈھال کر گوٹا اور لچکا تیار کیا جارہا تھا۔
یہ سب تیاریاں دیکھ کر ننھی گوہر آرا حیران تھی۔ ’’کیا دارا بھائی کی شادی ہورہی ہے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ جہاں آرا نے مسکرا کر جواب دیا۔ ’’اب وہ بڑے ہوگئے ہیں اس لیے…‘‘
’’اس حساب سے تو…‘‘ گوہر آرا نے سوچتی ہوئی نظروں سے اپنی حسین بہن کی طرف دیکھا جس کے سینے سے لگ کر اسے ممتا کی خوشبو آتی تھی۔ ’’پہلے آپ کی شادی ہونی چاہیے کیونکہ آپ ان سے بڑی ہیں۔‘‘
’’میری شادی۔‘‘ جہاں آرا کے چہرے پر ایک سایہ سا آکر گزر گیا۔ باوقار اور شاندار جہاں آرا رشتوں کو نبھانا جانتی تھی۔ ماں کی موت کے بعد چھوٹے بہن بھائیوں کی تعلیم و تربیت، باپ کی دیکھ بھال اور محل کی تمام تر ذمہ داری اس کے نازک اور ناتواں کندھوں پر آ پڑی تھی اور اس نے نہایت ثابت قدمی اور جانفشانی سے یہ ذمہ داری نبھائی تھی۔ اسے محل میں اور شاہ جہاں کی زندگی میں ایک خاص مقام حاصل تھا۔ جہاں آرا کی کہی ہوئی کسی بھی بات کو وہ ٹالنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ محل کے خدام و کنیزوں سے لے کر دربار شاہی کے امراء اور اعلیٰ عہدیدار بھی جہاں آرا کی پیشانی کے بل سے خائف رہتے تھے۔ شاہ جہاں اپنی جواں سال، جواں ہمت بیٹی کا بے حد احسان مند تھا کیونکہ اس کی محبت اور توجہ ہی اسے دوبارہ زندگی کی طرف لائی تھی ورنہ ممتاز محل کے ساتھ شاید وہ بھی دنیا سے کوچ کرگیا ہوتا۔
’’بولیں نا جہاں آرا آپا۔‘‘ جہاں آرا کو سوچوں میں گم دیکھ کر گوہر آرا نے قدرے ضدی لہجے میں اپنی بات دہرائی۔ ’’آپ کی شادی کب ہوگی اور کس سے ہوگی؟‘‘
اصل سوال یہی تھا کہ کس سے ہوگی؟ اور اُس پل بے ساختہ اس کی نظروں کے سامنے مرزا یوسف چغتائی کا چہرہ گھوم گیا تھا۔ وہ کچھ کہتی ہوئی آنکھیں اور وہ کچھ کہنے سے قاصر لرزیدہ لب… اس وقت وہ ان باتوں کا مطلب اتنی وضاحت سے سمجھنے کے قابل نہ تھی مگر آج… اتنے برسوں بعد بے ساختہ اس کا دل دھڑک اٹھا تھا۔ مگر وہ جانتی تھی دھڑکنوں کا یہ بے مہابہ طوفان کبھی وصل کے ساحل کو نہ پا سکے گا۔ اسی لیے اس کی حسین آنکھوں سے ملال اشک بن کے بہہ نکلا تھا۔
’’آپ تو رونے لگیں۔ ہم نے شاید کچھ غلط سوال کرلیا۔ لِللہ! آپ ہمیں معاف کردیجئے۔‘‘ ننھی شہزادی ماں سمان بڑی بہن کی بھیگی پلکیں دیکھ کر پریشان ہو اٹھی تھی۔
شادی کی تمام تر ذمہ داری جہاں آرا کے کندھوں پر تھی۔ وہ شہنشاہ ہند کی نا صرف مزاج آشنا تھی بلکہ خود بھی شان و شوکت اور جاہ و حشمت کی دلداہ تھی۔ اس لیے وہ چاہتی تھی کہ یہ شادی ایسی ہو کہ لوگ ششدر رہ جائیں اور اس شاندار شادی کو برسوں نہ بھولیں۔
ولیمے کی تقریب میں شرکت کے لیے ہندوستان کے گوشے گوشے سے ہی نہیں، ایران، طوران، افغانستان اور شام و نجف سے بھی مہمان مدعو تھے اور اس تقریب میں برسوں بعد مرزا یوسف چغتائی نے جہاں آرا کو دیکھا تھا اور سینے میں سوئی چاہت ایک بار پھر انگڑائی لے کر بیدار ہوگئی تھی۔
شاہ جہاں، جہاں آرا بیگم کے انتظام و انصرام سے بے حد خوش تھا۔ اس نے فرط محبت اور احساس تشکر سے اسے ’’بادشاہ بیگم‘‘ کے خطاب سے سرفراز کیا تھا۔
مرزا یوسف چغتائی نے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر جہاں آرا بادشاہ بیگم کی کنیز خاص افروزن اور خواجہ سرا نثار تک رسائی حاصل کی تھی اور اپنی بے پناہ محبت کا یقین دلا کر ایک غزل بادشاہ بیگم تک پہنچانے کی گزارش کی تھی۔
غزل پڑھتے ہی جہاں آرا کا دل بھی مرزا سے ملنے کے لیے بے کل ہوگیا تھا اور پھر ایک سرمئی شام کے آنچل میں سمٹے لمحے ان دونوں کی ملاقات کے ناظر ہوگئے تھے۔ جہاں آرا کا خیال تھا کہ ایک بار ملنے کے بعد دل کی بے قراری کو قرار آجائے گا مگر اس کا خیال غلط ثابت ہوا تھا۔ یہ ایسی پیاس تھی کہ جام پر جام لنڈھانے کے باوجود بجھتی نہ تھی۔ عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے کے مصداق جہاں آرا کے اس عشق کی خبر بھی دارا شکوہ تک جا پہنچی تھی، اور ایک شام عین اس وقت جب جہاں آرا، مرزا چغتائی کے ساتھ پائیں باغ میں موجود تھی، دارا شکوہ پہنچ گیا۔
اس سے قبل کہ دارا کے خدام مرزا کا سر قلم کردیتے، جہاں آرا بیچ میں آگئی۔ مرزا چغتائی کو زندہ سلامت محل سے نکل جانے کی اجازت مل گئی اور جہاں آرا نے دارا کے اس وعدے پر کہ وہ مرزا کو کوئی ضرر نہیں پہنچائے گا اور نہ ہی شاہ جہاں سے اس اجمال کے بارے میں کچھ کہے گا، جہاں آرا نے دارا سے وعدہ کیا کہ آئندہ وہ جیتے جی کبھی مرزا یوسف چغتائی سے نہیں ملے گی۔ ’’میں وعدہ کرتی ہوں کہ مرتے دم تک کبھی مرزا کا سامنا نہیں کروں گی۔‘‘
بادشاہ بیگم نے محبت کی موت پر پلکوں پر چمکتے آنسو دل میں اتار لیے اور سر اونچا کرکے باوقار انداز میں اپنی خواب گاہ کی طرف بڑھ گئی۔
مرزا چغتائی کو لاہور چلے جانے کا حکم ملا اور مرزا آگرہ چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے لاہور چلا گیا۔
وقت گزرتا رہا۔ جہاں آرا نے محبت کو سینے میں دفن کرکے ایک بار پھر خود کو باپ، بہن، بھائیوں اور کتابوں میں گم کرلیا تھا۔ آج کل وہ حضرت معین الدین چشتیؒ کی سوانح عمری لکھنے میں مصروف تھی۔ اس کے علاوہ اس نے ایک فلاحی ادارہ بھی قائم کیا تھا جس میں غریب لڑکیوں کی شادی اور جہیز کے لیے وظیفہ دیا جاتا تھا۔ کم عمر یتیم و یسیر بچوں کے لیے بھی اس نے ایک یتیم خانہ تعمیر کروایا تھا۔
وقت گزرتا رہا۔ شاہ جہاں کے بیٹے جوان ہوتے رہے اور شاہ جہاں کمزور اور ناتواں ہوتا گیا۔ وہ ایک اداس شام تھی۔
شاہ جہاں سخت علیل تھا اور ایسے میں اس کا چہیتا بیٹا دارا شکوہ اور لاڈلی بیٹی جہاں آرا اس کے پاس تھے۔ شاہ جہاں اپنی زندگی سے مایوس ہوچکا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ ایسے اقدام کرے کہ سلطنت کے اندر تنازع نہ پیدا ہو۔ دوسری طرف شاہ جہاں کے تینوں بیٹے شاہ شجاع، مراد بخش اور اورنگزیب دارالسلطنت کی طرف کان اور آنکھیں لگائے بیٹھے تھے اور سب کو ہی یہ خدشہ تھا کہ شاہ جہاں اپنے چہیتے بیٹے دارا شکوہ کو برسراقتدار نہ کرجائے۔ شاہ شجاع کے ایک معرکے میں کام آنے کے بعد اب مراد بخش اور اورنگزیب رہ گئے تھے۔ اورنگزیب نے مراد بخش کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا اور ایک بڑا لشکر لے کے آگرہ کی طرف بڑھا۔ شاہ جہاں موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا بسترمرگ پر پڑا تھا۔ اس کے باوجود اس نے لشکر کی سپہ سالاری کا ارادہ کیا مگر دارا نے اسے یہ کام کرنے نہ دیا اور خود لشکر لے کے اورنگزیب کے مقابلے کو چلا مگر یہ مقابلہ اورنگزیب کے ہاتھ رہا۔ دارا مارا گیا اور اورنگزیب فاتحانہ انداز میں قلعے میں داخل ہوا۔ شاہ جہاں کو اس کی خواب گاہ میں نظربند کردیا گیا جبکہ جہاں آرا کو حکم ملا کہ وہ دہلی چلی جائے مگر جہاں آرا نے بیمار اور کمزور باپ کو چھوڑ کر جانے سے انکار کردیا۔
اورنگزیب کا برتائو شاہ جہاں کے ساتھ نہایت مہربانی اور ادب والا رہا۔ وہ تاحیات اپنے بوڑھے باپ کی حتیٰ الوسع خاطرداری کرتا اور کثرت سے تحفے تحائف بھیجتا رہتا تھا اور سلطنت کے بڑے بڑے معاملات میں اس کی رائے اور مشورے کو بے حد اہمیت دیتا تھا۔
جہاں آرا، شاہ جہاں کی زندگی کے آخری لمحے تک اسی کے ساتھ رہی۔ اس کے انتقال کے بعد وہ دہلی چلی گئی۔ اورنگزیب نے اس کے لیے ایک خصوصی محل تعمیر کروایا تھا۔ وہ اپنی خادمہ افروزن اور خواجہ سرا نثار کے ساتھ اسی محل میں رہائش پذیر تھی۔ تب ایک شام اسے ایک فقیر کی آواز سنائی دی جو نہایت کرب بھری آواز میں ہجر و فراق کا ایک نغمہ الاپ رہا تھا۔ آواز سنتے ہی جہاں آرا کے دل پر چوٹ لگی تھی۔ دماغ میں سنسناہٹ سی جاگ اٹھی تھی۔ اس کے کہنے پر خادمہ نے باہر جاکر دیکھا تو حیرت زدہ رہ گئی کیونکہ وہ فقیر کوئی اور نہیں، مرزا یوسف چغتائی تھا۔ جہاں آرا کے عشق اور فراق نے اسے برباد کردیا تھا۔ داڑھی اور بال بڑھے ہوئے تھے، لباس خستہ اور حال شکستہ تھا۔ وہ ٹھوکریں کھاتا اور لڑکھڑاتا چلتا جاتا تھا اور اپنی بچھڑی محبوبہ کی یاد میں فراق کے گیت گاتا جاتا تھا۔
’’مرزا چغتائی!‘‘ افروزن نے کرب بھرے لہجے میں اسے پکارا۔ ’’آپ! اور اس حال میں۔ یہ کیا صورت بنا رکھی ہے؟‘‘
مرزا چغتائی ایک دم ساکت رہ گیا۔ ’’افروزن؟‘‘ اس نے بے یقین لہجے میں اسے پکارا۔ ’’تم یہاں ہو تو جہاں آرا بیگم صاحب کہاں ہیں؟‘‘
’’وہ بھی یہیں ہیں، یہ مرمر کا محل انہی کا ہے۔‘‘ افروزن نے محل کی طرف اشارہ کرکے بتایا۔ وہ لرزیدہ سا افروزن کے قدموں پر گر گیا۔
’’افروزن! اللہ کے واسطے ایک بار مجھے ان سے ملوا دو۔ مرنے سے پہلے میں ایک بار ان کا دیدار کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’میں بادشاہ بیگم سے پوچھ کر ہی کوئی جواب دے سکتی ہوں۔‘‘ افروزن نے جواب دیا اور اندر کی طرف چل دی۔


حرماں نصیب کوئی اور نہیں، مرزا یوسف چغتائی ہے تو بے ساختہ اس کی آنکھیں نم ہوگئیں اور زیرلب اس نے ایک شعر پڑھا۔ ’’اے عشق تیرا برا ہو تو نے کس طرح لوگوں کو برباد کیا۔ کوئی محل میں رہ کر تہی دست و تہی دامن رہا تو کوئی کشکول لیے در در کی خاک چھان رہا ہے۔‘‘
جہاں آرا نے مرزا چغتائی سے ملنے سے انکار کردیا۔ افروزن رنجور اسے بتانے چل دی۔ مرزا نے سنا تو افروزن کا ہاتھ تھام کر لجاجت بھرے لہجے میں بولا۔ ’’افروزن! تم دیکھ سکتی ہو عشق نے میری روح کو کھوکھلا کردیا ہے اور محبوب سے فرقت گھن بن کر میرے تن بدن کو چاٹ گئی۔ میں زیادہ عرصے نہ جی پائوں گا۔ ایک مرتے ہوئے شخص کی آخری خواہش سمجھ کر میری یہ گزارش بیگم صاحب تک پہنچا دو۔‘‘
’’دیکھئے مرزا۔‘‘ افروزن نے مجبور لہجے میں کچھ کہنا چاہا۔
مرزا نے اس کا دامن تھام لیا۔ ’’میں کچھ نہیں سنوں گا۔ آپ سے بس ایک وعدہ چاہتا ہوں کہ آپ آج مجھے ضرور میری حاصل زندگی سے ملوا دیں گی۔ بس اک نگاہ کا سوال ہے۔‘‘
مرزا کے شدید اصرار پر افروزن کو وعدہ کرتے ہی بنی۔ وہ بوجھل قدموں سے چلتی جہاں آرا کے پاس پہنچی۔ جہاں آرا رحل پر قرآن مجید رکھ چکی تھی۔ گویا تلاوت کرنے جارہی تھی۔
’’بادشاہ بیگم!‘‘ افروزن نے اس کے ہاتھ تھام لیے۔ ’’میں جانتی ہوں آپ نے صاحب عالم دارا شکوہ سے وعدہ کیا تھا کہ جیتے جی کبھی مرزا سے نہیں ملیں گی… مگر اب تو دارا شکوہ اس دنیا میں نہیں ہیں اور میں اس بندئہ درماندہ سے وعدہ کربیٹھی ہوں کہ ایک بار اسے آپ سے ضرور ملوا دوں گی۔ میری عمر بھر کی خدمت کے نام پر آپ میری گزارش قبول کرلیجئے۔ مجھے وعدہ خلافی کی شرمندگی سے بچا لیجئے۔‘‘
جہاں آرا نے آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا۔ افروزن دوڑتی ہوئی باہر کی جانب گئی اور جہاں آرا نے اپنا سر رحل پر دھرے قرآن پر رکھ کر باری تعالیٰ سے التجا کی۔ ’’رب کریم! افروزن نے عمر بھر کی خدمت کا صلہ مانگا تھا، انکار کیسے کرتی… مگر تجھ سے گزارش ہے تو مجھے دارا کے سامنے وعدہ خلافی کی شرمندگی سے بچا لینا۔ مرزا چغتائی کے آنے سے پہلے مجھے اس جہانِ فانی سے اپنے پاس بلا لے۔‘‘
جانے قبولیت کی کیسی گھڑی تھی کہ دعا شرف قبولیت پا گئی تھی۔ افروزن، مرزا کو لے کے جہاں آرا کے پاس پہنچی تو روح قفس عنصری سے پرواز کرچکی تھی۔ مرزا چغتائی نے ایک آہ سردبھری اور جہاں آرا کے قدموں میں گر کے اپنی جان نچھاور کردی۔
خواجہ سرا نثار نے سارے واقعات شہنشاہ اورنگزیب کے حضور پیش کئے تو وہ آبدیدہ ہوگیا۔ اس نے اپنے جد امجد شہنشاہ اکبر کے اس فرمان کو ہمیشہ کے لیے منسوخ کردیا۔ جہاں آرا بیگم کو ’’صاحب الزمانی‘‘ کے خطاب سے نوازا اور حضرت نظام الدین اولیاء ؒ کے مزار کے احاطے میں واقع جہاں آرا کی قبر پر شاندار مقبرہ تعمیر کروایا۔
(ختم شد)