Jald Bazi Main Nuqsan Hai

636
حسب ِمعمول نماز عشاء کی ادائیگی کے بعد جوں ہی دادا جی گھر میں داخل ہوئے، سب بچّے دروازے کی طرف لپکے اور دادا جی سے لپٹ گئے۔
ننھی رِدا توتلی زبان میں بولی۔’’دادا جی! تہانی چھننی (کہانی سننی) ہے۔‘‘ دادا جی اسے بانہوں میں اٹھاتے ہوئے دوسرے بچوں سے بولے۔ ’’کیا کہہ رہی ہے میری ننھی کلی؟‘‘
’’داداجی یہ کہہ رہی ہے کہ مجھے کہانی سننی ہے۔‘‘ اسد فوراً بولا۔
’’کیوں نہیں بھئی، ضرور سنائیں گے۔‘‘ دادا اپنے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے بولے۔ سب بچّے دادا کے ساتھ ہی ان کے کمرے میں پہنچ گئے۔
دادا جی، اپنا چشمہ، ٹوپی اور تسبیح سامنے کی ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولے۔ ’’تو بتائو بچّو! آج کون سی کہانی سنو گے؟‘‘
’’چھیر (شیر) والی۔‘‘ ننھی ردا جھٹ سے بولی۔
’’اچھا یہ تو بتائو کہ کیا آپ لوگوں نے ہوم ورک مکمل کر لیا ہے۔‘‘ دادا جی سب بچّوں سے پوچھنے لگے۔
’’جی کر لیا ہے۔‘‘ سب یک زبان ہو کر بولے۔
’’شاباش! کتنے پیارے بچّے ہیں۔‘‘ دادا جی داد دیتے ہوئے بولے اور کہانی سنانی شروع کی۔
’’پیارے بچّو! ایک بہت بڑے جنگل میں سب جانور ہنسی خوشی رہ رہے تھے۔ ایک دن جنگل کے بادشاہ شیر نے ایک دعوت کا اہتمام کرنا چاہا، اس نے اپنے قبیلے کے سب شیروں سے مشورہ کیا۔ طے پایا کہ جنگل کے سب جانوروں کو اس دعوت میں مدعو کیا جائے۔ دعوت کا پیغام پہنچانے کے لئے انہوں نے لومڑی کو ذمہ داری سونپی۔ لومڑی جنگل کے بادشاہ کی طرف سے ملی ہوئی ہدایات کے مطابق سب سے پہلے قریبی لگڑ بگڑوں کی آبادی میں پہنچی۔ لومڑی ان سب کو مخاطب کر کے کہنے لگی۔ ’’آپ سب کو کل بادشاہ سلامت (شیر) نے اپنے دربار میں بلایا ہے…!
لگڑبگڑ لومڑی کی پوری بات سنے بغیر ہی اپنے گھروں سے بھاگ نکلے کہ شاید بادشاہ ہم سے کسی بات پر ناراض ہو گیا ہے اور ہمیں سزا دینا چاہتا ہے۔ وہ سرپٹ دوڑ رہے تھے اور راستے میں ملنے والے جانوروں کو بھی بھاگ جانے کا کہہ رہے تھے۔ اس طرح سب جانوروں نے جنگل چھوڑ کر بھاگنا شروع کر دیا۔
اگلے موڑ پر زرافہ کھڑا تھا، وہ سب ساتھیوں کو اس طرح بھاگتا دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ اس نے پوچھا۔ ’’کیوں بھئی ،آج سب کہاں جا رہے ہیں؟‘‘
سب جانوروں نے ہانپتے ہوئے بات کرنا شروع کی…زرافہ سمجھ دار تھا، بات کو توجّہ سے سننے لگا اور پوری بات سننے کے بعد کہنے لگا۔ ’’اگر ایسا ہے تو یہ بڑی بری بات ہے، بادشاہ کو اس طرح نہیں کرنا چاہئے۔‘‘
اتنے میں لومڑی بھی دوڑتی ہوئی وہاں آن پہنچی اور زرافے کی موجودگی کو غنیمت جانتے ہوئے فوراً بولی۔ ’’دراصل میں تو یہ پیغام لے کر آئی تھی کہ بادشاہ سلامت نے ہم سب کے لئے بہت بڑی ضیافت کا اہتمام کیا ہے، جس میں ہم سب خوب کھائیں، پئیں اور موج مستی کریں گے۔‘‘
’’اچھا یہ بات ہے! پھر اس میں تو کوئی ایسی بات نہیں ہے، جس کی وجہ سے ہمیں اس جنگل سے ہجرت کرنی پڑے۔‘‘ زرافہ سب کو مخاطب کر کے کہہ رہا تھا۔
لومڑی فوراً بولی! ’’یقیناً ایسا ہی ہے۔‘‘
اب سب جانور اصل بات جان کر شرمندہ ہوئے کہ ہم نے کیوں بے وقوفی کی، ہمیں چاہئے تھا کہ پہلے بات کو توجّہ سے سنتے پھر کوئی قدم اٹھاتے تاکہ ہم اپناوقت اور محنت کے ضائع ہونے سے بچ جاتے۔‘‘
دادا جی مزید کہنے لگے۔ ’’پیارے بچّو! ہمیں بھی والدین اور اساتذہ کی طرف سے ملنے والی ہدایات کو غور سے سننا چاہئے، سمجھ نہ آئے تو دوبارہ پوچھ لینا چاہئے۔ اپنا ہوم ورک اور دیگر کام، دی گئی ہدایات کے مطابق حکمت عملی اور نظم و ضبط سے کام لیتے ہوئے مکمل کرنا چاہئے تاکہ بعد میں پچھتاوا نہ ہو۔‘‘
کہانی دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ نصیحت آموز بھی تھی، اس لئے سب بچّوں نے خوب انجوائے کیا۔ اتنے میں امی کی آواز سنائی دینے لگی کیونکہ سونے کا وقت ہو چکا تھا چنانچہ سب بچّے دادا جی کو شب بخیر کہتے ہوئے اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے اور سونے کی تیاری کرنے لگے۔