Jane Kion Zinda HOun | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1229
میں اور اکبر بچپن کے ساتھی تھے۔ قریبی رشتے دار تھے، پردے کی پابندی نہ تھی۔ جب بڑے ہوئے کم سنی کے خوابوں میں گہرے رنگ بھرنے لگے، تب دعا کرتی تھی۔ اے اللہ! اگر ہم دونوں کے نصیب میں تو نے جدائی لکھ دی ہے تو پھر آج ہی جدا کردے۔ وقت کے ساتھ بچپن کی یہ محبت اور گہری ہوتی جائے گی تب جدائی زیادہ تکلیف دہ ہوجائے گی۔
دل سے نکلی دعا قبول ہوگئی۔ جدائی کا منہ دکھانے سے پہلے ہی اللہ نے ہمیں ایک بندھن میں باندھ دیا۔ ہمارے ماں، باپ نے فیصلہ کردیا کہ ہمیں ایک ساتھ عمر گزارنی ہے۔ ان کے اس فیصلے پر ہم کتنے خوش تھے، بیان نہیں کرسکتی۔
اکبر مجھے دل و جان سے چاہتے تھے۔ اگر میں ایک پھول کی تمنا کرتی، وہ سارا باغ خریدنے پر آمادہ ہوجاتے۔ کہتے کہ تمہارے بغیر زندگی ایسی ہے جیسے نور کے بغیر آنکھیں۔ تمہیں پا کر سب کچھ پا لیا ہے۔ اب کسی شے کی تمنا نہیں ہے۔ اگر تم ایک پل کو جدا ہوجائو تو میں جی نہ پائوں گا۔
انسان جب ایسی باتیں کرتا ہے تو تقدیر کو ہنسی آجاتی ہے۔ جب کل ہماری دسترس میں نہیں تو غیب پر خود کو غالب سمجھنے کی سزا بھی کڑی ملتی ہے۔ مشکل جب آتی ہے تو ساری خوشیاں جھپٹ لے جاتی ہے۔ تب خالی دامن کو آنکھوں سے لگا کر رونا پڑتا ہے۔
جانے مجھ سے کیا غلطی ہوگئی کہ پھولوں بھری زندگی میں انگاروں کا بادل اس شدت سے برسا کہ تمام مسرتیں جل کر راکھ ہوگئیں۔ شروع میں تو اس بات کا یقین نہ آتا تھا کہ میری جنت کا بٹوارہ ہوسکتا ہے۔ مجھ سے کوئی عورت ناگن بن کر اس خزانے کو لوٹ سکتی ہے جسے شوہر کا پیار کہتے ہیں۔ مثلاً جب ناگن کا زہر رفتہ رفتہ میری ہنستی بستی زندگی کو نیلا کرنے لگا تو میں ٹھٹھر کر رہ گئی۔ جینے کو دل نہ چاہتا تھا اور مرنا اختیار میں نہ رہا تھا۔ آہستہ آہستہ اکبر مجھ سے اتنے دور ہوگئے کہ میں دنیا کے ایک کنارے پر کھڑی تھی اور وہ دوسرے۔
ان دنوں میں تیسرے بچے کی ماں بننے والی تھی اور ڈاکٹر نے ہدایت کردی تھی اگر میں نے بیڈ ریسٹ نہ کیا تو ناگہانی حالات کا شکار ہوجائوں گی۔ ہمارے گھر میں ان دنوں میرے اور اکبر کے علاوہ کوئی اور بچوں کو دیکھنے والا نہ تھا۔ ساس، نند کے گھر براجمان تھیں اور سسر بیمار تھے۔ ان کی خدمت مجھے ہی کرنی تھی۔ وہ فالج کے مریض تھے۔ اکبر صبح جاتے شام کو لوٹتے تھے۔ میری بچیاں چھوٹی چھوٹی تھیں۔ ہم نے فون کرکے اپنی پریشانی کا ذکر آپا رخشندہ سے کیا تاکہ وہ کم ازکم اپنی والدہ کو بھیج دیں۔ میری نند نے جواب دیا کہ میں خود بیمار ہوں، چوتھا بے بی آنے والا ہے۔ امی جان ان دنوں نہیں آسکتیں۔ تمہارے مسئلے کا ایک حل ہے ،ایک مصیبت زدہ خاندان نے اپنی ایک لڑکی ہمیں دی ہوئی ہے، اگر چاہو تو اسے تمہارے پاس بھجوادوں۔
کوئی چارہ نہ دیکھ میں نے آپا سے کہا کہ بھجوا دیں۔ انہوں نے کہا۔ تم بالکل بے فکر ہوجائو۔ یہ لڑکی بہت سگھڑ اور اچھی ہے، تمہارا گھر سنبھال لے گی، بچوں کو بھی دیکھے گی، کھانا عمدہ پکاتی ہے، بس تم بستر پر لیٹی رہنا۔ یہ ابا جی کا بھی سارا کام کردے گی۔ دو دن کے بعد شیزا کو انہوں نے اپنے بوڑھے ڈرائیور گورش کے ساتھ ہمارے گھر بھجوا دیا۔ دراصل یہی لڑکی کا والد تھا جو اپنی بیٹی کو ہمارے حوالے کرنے آیا تھا۔ گورش، شیزا کو پہنچا کر واپس چلا گیا۔ شیزا کیا تھی جنت کی حور تھی۔ گویا سرخ و سفید رنگ، نیلی آنکھیں، سیاہ زلفیں! ایسی حسین ماہ جبین میں نے کبھی نہ دیکھی تھی۔
سولہ برس کی شیزا جو شہزادی سے کم حسین نہ تھی۔ کسی اچھے خاندان کی لگتی تھی مگر جنگ کی وجہ سے یہ لوگ پاکستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے۔ ان کے گائوں میں ان کی زندگیوں کو امان نہ تھی، گولہ باری نے گھروں کو تباہ کیا تھا، فصلیں اور باغات جل کر راکھ ہوگئے تھے اور ان کے پاس زخموں اور بھوک کے سوا کچھ رہنے نہ دیا تھا۔ رخشندہ آپا پشاور میں رہتی تھیں اور ان کے شوہر وہاں کسی محکمے میں ملازم تھے۔ ایک بوڑھا گورش ان کو پناہ گزین کیمپ میں ملا۔ اس کی داستان دلخراش سن کر انہوں نے اس کو ڈرائیور رکھ لیا۔
گورش کی بیوی اور تین جوان بچیاں تھیں جبکہ دو جوان بیٹے شہید ہوچکے تھے۔ گورش کی یہ بچی آپا گھر لے آئیں اور اب جب مجھے ضرورت پڑی تو انہوں نے اپنے ڈرائیور کو راضی کرلیا کہ وہ شیزا کو ہمارے پاس چھوڑ دے۔
آتے ہی شیزا نے گھر کا تمام کام سنبھال لیا۔ وہ خاموشی سے صبح سے رات تک کام کرتی رہتی۔ شیزا کے آنے سے مجھے بہت سکون ملا۔ سسر صاحب کی دیکھ بھال سب سے مشکل کام تھا۔ اس لڑکی نے ان کی ایسے خدمت کی کہ سگی بیٹی بھی ہوتی تو اتنا خیال نہ کرتی۔ شیزا کے آجانے سے گھر کا بکھرا ہوا شیرازہ سمٹ گیا۔ اکبر کو بھی سکون مل گیا اور میں بڑے چین سے تھی۔ اپنی نند اور ساس کو دعائیں دیتی تھی جنہوں نے شیزا کو بھجوا کر میری ایک بڑی مشکل حل کردی تھی۔
میری عادت شک کی نہ تھی، پھر اکبر مجھ سے اتنا پیار کرتے تھے کہ شک کرنے کی گنجائش ہی نہ تھی۔ میں سارا دن مزے سے اپنے بیڈ روم میں سوئی رہتی اور گھربار، بال بچے حتیٰ کہ شوہر بھی اس کے حوالے کردیا تھا۔ دراصل میںنے اکبر سے سچا پیار کیا تھا۔ انہوں نے بھی مجھے والہانہ انداز میں چاہا تھا۔ ہم میں اعتماد کا گہرا رشتہ استوار تھا اور میں اس رشتے پر فخر کرتی تھی۔ وہ میرے چچازاد تھے۔ ہمارا بچپن ایک گھر میں بیتا تھا۔ سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ وہ بدل جائیں گے لیکن کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ مرد کو بدلتے دیر نہیں لگتی۔
سولہ سترہ سال کی اس حسین و جمیل پری وش نے نجانے کس لمحے ان پر ایسا جادو کیا کہ وہ اس کے گرویدہ ہوگئے۔ ایک روز میں نے فون پر اکبر کو اپنی بہن سے بات کرتے سن لیا۔ وہ کہہ رہے تھے اگر ان کی رسم یہ ہے کہ شادی کے وقت رقم ادا کرنی ہوتی ہے تو جتنی رقم کہیں گے، دے دوں گا۔ تم اس کے باپ سے بات کرو، ہمیں اس کی سخت ضرورت ہے۔
میں پھر بھی نہ سمجھی کہ اکبر اپنے لئے شیزا کو لینے کی بات کررہے ہیں۔ میں نے ان دنوں چوتھی بیٹی کو جنم دیا تھا اور زچگی کے بعد سے شدید علیل تھی۔ آپریشن نے مجھے ادھ موا کردیا تھا۔ پانی تک پینے سے قاصر تھی۔ ایسے مشکل وقت میں شیزا نے میری خدمت چھوٹی بہن کی طرح کی تھی۔ وہ میرا خیال نہ کرتی تو شاید میں مر ہی جاتی۔ بھلا کیسے میں اس کے بارے میں کوئی منفی سوچ ذہن میں پال سکتی تھی۔ میں اس کی ازحد مشکور تھی کہ اس نے وفاداری اور اخلاص کا حق ادا کردیا تھا۔ کیا جانتی تھی کہ کب میرے شوہر کا دل اس نوخیز کلی پر آجائے گا۔ میں بیمار پڑی تھی اور وہ اس کے ساتھ شادی کا بندھن باندھنے کے منصوبے بنا رہے تھے۔
مجھے نہیں معلوم میری ساس بھی اس کھیل میں شامل تھیں مگر میری نند نے اکبر کا پورا پورا ساتھ دیا اور انہوں نے شیزا سے نکاح کی اجازت کیلئے پانچ لاکھ روپے گورش کو بھجوا دیئے۔ اکبر نے شیزا سے شادی کرلی۔ اس وقت مجھے کانوں کان خبر نہ ہوئی مگر بعد میں یہ راز بھی خود اکبر نے یہ کہہ کر فاش کردیا کہ تم بیمار رہتی ہو، ابا جان فالج کے مریض ہیں، تمہارے اور بچوں کے سکھ کی خاطر ایک مستقل کام کرنے والی خاتون کی گھر میں ضرورت تھی لہٰذا تمہارے آرام کیلئے شیزا سے نکاح کرلیا ہے۔ یہ انکشاف ایٹم بم بن کر گرا مگر بچوں کی خاطر اپنے کرچی کرچی وجود کو سنبھال کر اس گھر میں ہی رہنا تھا۔ روٹھی، روئی اور اپنے اکبر کو آوازیں دیں مگر انہوں نے میری کوئی آواز، کوئی پکار نہ سنی۔
کہتے ہیں محبت سے دل جیت لئے جاتے ہیں مگر میں اپنا آپ مٹا کر بھی اپنے اکبر کا دل نہ جیت سکی۔ اب ان کی بے وفائی کے تیر، ان کی بے رخی کے طمانچے، ان کی بیزاری کے گھائو سبھی دکھ دل پر سہنے تھے۔ کئی بار پرانی محبت کے واسطے دیئے کہ اس عورت سے اب ناتا توڑ لو مگر ان پر میری کسی التجا کا اکثر نہ ہوا۔ نوبت یہاں تک پہنچی اکبر نے مجھ سے بات چیت ترک کی اور میرے کمرے میں آنا چھوڑ دیا۔ بچوں کو بھی بہت کم وقت دیتے۔ دفتر سے آکر شیزا کے ہاتھ کا کھانا کھاتے اور کچھ دیر آرام کرنے کے بعد سیر کو چلے جاتے۔ وہ شیزا کو ساتھ لے جاتے اور بچوں سے کہتے کہ تم لوگ تیار رہنا، ابھی آتا ہوں، پھر تمہیں گھمانے لے جائوں گا۔ وہ مجھے پوچھتے تک نہ تھے کہ تم بھی چلو گی یا نہیں؟
اپنی ماں کی اجازت کے بغیر انہوں نے شیزا کو اپنی دلہن بنا لیا تھا۔ میں ساس کے پائوں پکڑ کر کہتی کہ آپ ماں ہیں، آپ اس ناگن کو گھر سے نکلوا سکتی ہیں۔ بیٹے کو سمجھایئے کہ وہ شیزا کو طلاق دے دیں لیکن وہ اس بات کا کوئی جواب نہ دیتیں بلکہ مجھے کہتیں کہ بیٹا صبر کرو، اللہ تعالیٰ تم کو صبر کا اجر دے گا۔ شیزا ایک مصیبت زدہ لڑکی ہے۔ جس روز انہوں نے بتایا تھا کہ شیزا سے نکاح کیا ہے، اس دن میرا دل ٹوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا تھا، جیسے سارے جہاں کے شیشے میرے دل میں اتر گئے ہوں۔ کئی دنوں تک گھر کے کونے کھدروں میں چھپ چھپ کر روتی رہی تھی۔
ایک دن میں اتنی رو رو کر نڈھال ہوئی کہ بے ہوش ہوگئی، تب چچی اماں نے مجھے میکے بھیج دیا کہ چند دن کیلئے آرام کرو وہاں جاکر۔ یہ سچ ہے کہ آدمی اپنے جسم کے ٹکڑے ہوتے قبول کرسکتا ہے مگر اپنی محبت کے ٹکڑے ہوتے دیکھ کر سہہ نہیں سکتا۔ میکے میں بھی بچوں کی جدائی کی وجہ سے چین نہ ملا۔ رات کو سوتے سوتے اٹھ بیٹھتی اور بچوں کو پکارنے لگتی۔
امی اور بھائی کہتے کہ اب اس بے وفا کے پاس ہرگز مت جانا مگر یہ اپنے بس کی بات نہ تھی۔ بچوں کی ممتا کے علاوہ میرے دل میں اپنے شوہر کی محبت بھی ایسے پیوست ہوئی تھی جیسے زمین کے دل میں پہاڑ ایستادہ ہوتا ہے۔
میری سوکن کی گود ہری ہوگئی۔ میری چار بیٹیاں تھیں۔ اسے اللہ نے بیٹا دے دیا اور وہ باقاعدہ اس گھر کی بہو تسلیم کرلی گئی، پھر میں ایسی ہوگئی جیسے اس گھر میں کبھی میرا وجود تھا ہی نہیں۔ پہلے ہر کام میرے مشورے سے ہوتا تھا۔ ساس، سسر مجھے بیٹی جانتے تھے، پھر سبھی کام شیزا کے مشورے سے سرانجام پانے لگے اور میں منہ تکتی رہ جاتی۔ حیرت کی بات یہ کہ وہ پڑھی لکھی بھی کم تھی۔ اپنے وقت میں یہ خوشحال لوگ تھے تبھی بچپن میں اسکول گئی تھی، چند جماعتیں پڑھ لی تھیں۔ اب اس کی ماں بھی آنے لگی تھی۔ باقی بہنوں کی شادیاں ان کی خوبصورتی کی وجہ سے اچھے گھروں میں بیاہ گئیں لیکن رسم کے طور پر ان کے والد نے بیٹیوں کو بیاہتے وقت خرچہ ضرور لیا تھا۔ یہ ان کا رواج تھا۔ وہ اپنی لڑکی شادی کے وقت بیچتے نہیں تھے۔ یہ تاثر غلط ہے لہٰذا بیٹی کو بیاہنے کے بعد بھی اس کے سسرال والوں کے ساتھ دوستانہ میل جول رہتا ہے۔
شیزا کی ماں بہت سلجھی ہوئی عورت تھی۔ وہ مجھے بیٹی پکارتی اور شیزا سے کہتی کہ ہر بات ان سے پوچھ کر کیا کرو۔ ان کے قدم چھوئو کیونکہ انہوں نے تمہیں اپنے ساتھ برداشت کیا ہے تو یہ چھت، عزت اور تحفظ تمہیں ملا ہے۔ اس خاتون کے سمجھانے پر شیزا میرے سامنے اونچی آواز میں بات نہ کرتی، اگر کبھی میں اسے غصے میں برا بھلا کہتی اور کوستی تب بھی وہ خاموش رہتی اور اطاعت گزاری کے ساتھ تحمل سے کام لیتی۔ مجھے گھر کا کوئی کام نہ کرنے دیتی۔ میں اس کی ان ساری خوبیوں کے باوجود اسے دیکھنے کی روادار نہ تھی۔ اگر میری چار بیٹیاں نہ ہوتیں تو کبھی کا گھر چھوڑ کر میکے جا چکی ہوتی۔
کہتے ہیں اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔ اس میں بھی مصلحت تھی کہ اچانک ایک دن میری بیٹی بے ہوش ہوگئی۔ ڈاکٹر کے پاس لے گئے، چیک اپ کروایا۔ پتا چلا کہ اسے خون کی بیماری ہے جس میں بچی کے بدن میں اتنا خون نہیں بنتا جتنی اسے ضرورت تھی۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ کزن میرج کی وجہ سے بچی کو یہ بیماری لاحق ہوئی ہے۔ آپ لوگ مزید بچے پیدا کرنے میں احتیاط سے کام لیں اور بچوں کو بھی یہ مرض ہوسکتا ہے۔
بچی کو ہر ماہ خون لگانا ہوتا تھا اور خون کا انتظام ایک مشکل مرحلہ ہوتا۔ پہلے مہینے میں ایک بار پھر پندرہ دن بعد ایک بار بلڈ لگتا تھا۔ ہم اِدھر اُدھر سے انتظام کرتے۔ بلڈ خریدنا بھی پڑتا۔ شیزا کا بلڈ بھی ٹیسٹ ہوا، اس کا خون میری بیٹی کو لگ سکتا تھا۔ شیزا ہر ماہ اپنا بلڈ دینے لگی پھر اس کی والدہ اور بہنوں نے بھی اصرار کیا کہ احتیاطاً ہمارے خون کی رپورٹ بھی لے لیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے بعض اوقات عین وقت پر بلڈ کا انتظام نہیں ہو پاتا۔ میں تو اب سوتن کا دکھ بھول کر اپنی بچی کے دکھ میں مبتلا ہوگئی۔ شکر ہے کہ میری باقی بچیاں اس مرض سے محفوظ تھیں ورنہ میرا جینا محال ہوجاتا۔ اس مرض میں مبتلا ہوکر میری فرح پندرہ برس تک زندہ رہی اور اس دوران میری سوکن کی تمام فیملی نے میرے خاوند کا بہت ساتھ دیا۔
جب خون کا انتظام نہ ہوسکتا اور فرح کی جان لبوں پر آجاتی تو یہ لوگ ہمارے ساتھ تعاون کرتے اور اپنے خون کا نذرانہ پیش کردیتے۔ وہ اپنے سب رشتے داروں کو لاتے۔ اس طرح جن کے خون کا گروپ بچی کے خون سے نہ بھی ملتا تو وہ بلڈ بطور عطیہ بلڈ بینک کو دے دیتے جس کے بدلے میں وہاں سے فرح کے بلڈ گروپ کا خون مل جاتا تھا۔ وہ لوگ جن کو میں پہلے اپنا دشمن جانتی تھی، اب وہی مجھے عزیز از جان ہوگئے۔ فرح کی وفات کے بعد میری خوشیاں اور امیدیں ہی ختم ہوگئیں۔ اس بچی سے قبل پیدا ہونے والی یعنی تیسرے نمبر کی بیٹی کی صحت بھی متاثر تھی۔ اگرچہ اسے بلڈ نہیں لگتا تھا مگر اسے بھی کچھ ایسا مسئلہ تھا۔ اس کے جسم میں گٹھلیاں سی بن جاتی تھیں۔ یہ میری بچی بھی سترہ برس بعد وفات پا گئی۔ دو بچیوں کی موت کا درد سہہ کر میں صاحب فراش ہوگئی۔ اب دنیا سے جی اچاٹ تھا اور گھربار بچوں کو شیزا سنبھالتی تھی۔ ساس، سسر کی وفات کے بعد میں بالکل ہی زندگی کی کشش سے بیگانہ ہی ہوگئی تھی۔ اکبر میرا بہت خیال رکھنے لگے تھے لیکن جب دل مرجھا جائے تو یہ دنیا بیکار ہوجاتی ہے۔
آج میرا بڑھاپا ہے۔ شیزا اب بھی میرا خیال رکھتی ہے، خدمت کرتی ہے، کھانا ہاتھ میں دیتی ہے لیکن میرا زندہ رہنے کو جی نہیں چاہتا۔ دونوں بیٹیوں کی شادیاں ہوگئی ہیں۔ وہ اپنے گھروں میں بس رہی ہیں، اللہ کا شکر ہے۔ میرے ساتھ میرے بچوں کی یاد ہے یا پھر یاد اللہ ہے۔ اب زندگی کا مقصد سمجھ میں آگیا ہے جو یہ ہے کہ خود بھی جیو اور دوسروں کو بھی جینے دو اور جب کسی کو آپ کی ضرورت ہو، اس کے کام آئو۔
یہی عمل پسندیدہ ٔرب ہے، باقی ہر شے فنا ہونے والی ہے، ہر شے بیکار ہے کیونکہ انجام بالآخر موت ہے اس فانی زندگی کا۔ ہم مٹی سے بنے ہیں اور ہمیں مٹی میں مل جانا ہے، صرف اللہ کی ذات کو باقی رہنا ہے اور اسی کو دوام ہے۔ (مسز الف … کراچی)