Friday, July 12, 2024

Jeetay Ji Mar Chuki | Teen Auratien Teen Kahaniyan

میں اور سجاد ایک ہی بینک میں کام کرتے تھے۔ جب ٹریننگ پر تھے تو سجاد کی نشست میرے برابر تھی۔ میری انگریزی زیادہ اچھی نہ تھی۔ سجاد نے محسوس کرلیا کہ کسی لمحے میرا قلم رک جاتا ہے اور میں سوچنے لگتی ہوں۔ وہ نہایت ذہین آدمی تھا، فوراً بھانپ جاتا اور جو لفظ میں ذہن کے نہاں خانوں میں ڈھونڈ رہی ہوتی، فوراً کاغذ پر لکھ کر آگے کردیتا۔ اس امتحان میں سجاد نے میری کافی مدد کی۔ میں اس کی ازحد مشکور ہوگئی۔ ٹریننگ ختم ہوگئی۔ ہم اپنے آفس میں لوٹ آئے۔ ہماری تعیناتی ایک ہی فلور پر ہوئی۔ میری سیٹ عین اس کی سیٹ کے سامنے تھی۔
میں ایک پاکیزہ خیال، سیدھی سادی اور سادہ لوح لڑکی تھی۔ فیشن کی الف۔ب نہ جانتی تھی۔ ڈیوٹی کے اوقات میں سارا دن سر پر دوپٹہ اوڑھے رہتی۔ چست لباس نہ پہنتی تھی، میک اَپ کا دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ دور جدید میں جہاں چمکتی دمکتی لڑکیاں کھٹ کھٹ کرتی آتیں، میں پائوں میں سادہ چپل ڈالے، خاموشی سے اپنی کرسی پر آکر بیٹھ جاتی۔ سر جھکائے تمام وقت کام کرتی رہتی، کسی سے بات نہ کرتی اور کینٹین تک نہ جاتی۔ پرس میں بسکٹ یا گھر سے سینڈوچ بنا کر لاتی اور اسی پر گزارہ کرلیا کرتی۔
سجاد کو اپنا محسن سمجھتی۔ سامنے گزرتے ہوئے اسے سلام ضرور کرتی لیکن اس سے زیادہ راہ و رسم نہ رکھی۔ جب کبھی آفس ورک میں کچھ دشواری محسوس کرتی، سجاد سے پوچھ لیتی اور وہ پوری توجہ سے میری رہنمائی کردیتا۔ پہلے وہ میرا محسن تھا، اب میں نے اسے اپنا استاد بھی تسلیم کرلیا تھا اور زیادہ ادب اور لحاظ کرنے لگی۔ نرمی اور انکساری سے بات کرتی۔ وہ کہتا یہاں اچھے لوگ کم اور برے زیادہ ہیں۔ جانتی نہیں ہو یہ اپنے ساتھ کام کرنے والی لڑکیوں کے بارے میں بعد میں کیسی کیسی باتیں کرتے ہیں۔ اگر سن لو تو دفتر آنا چھوڑ دو۔ میں دفتر آنا کیسے چھوڑ سکتی تھی۔ اتنی مشکل سے مجھے ملازمت ملی تھی، وہ بھی مرحوم والد کے ایک دوست کی سفارش پر…! مجھے اپنی بیوہ ماں، دو چھوٹی بہنوں اور ایک بھائی کی کفالت کرنی تھی جو ابھی اسکول میں پڑھ رہے تھے۔
سجاد کی ہر ہدایت پر عمل کرتی رہتی۔ کسی سے دفتر میں بلاضرورت بات نہ کی۔ میری فطرت ہی نہ تھی غیر مردوں سے بلاوجہ باتیں کرنے یا فری ہونے کی۔ برانچ میں ایک اچھی اور نیک نام لڑکی جانی جانے لگی۔ کچھ دنوں سے محسوس کررہی تھی کہ آفس کی چھٹی کے بعد وہ سڑک پر کھڑا ہوجاتا ہے۔ میں نے دیگر لڑکیوں کے ساتھ وین لگوا لی تھی۔ جب تک وین میں سوار نہ ہوجاتی، وہ وہاں کھڑا رہتا۔ ایک روز میری ساتھی لڑکی نے کہا۔ عتیقہ! یہ سجاد کو کیا ہوگیا ہے، آدھ گھنٹے تک دھوپ میں کھڑا رہتا ہے۔ جب تک ہماری وین نہیں چل پڑتی، تب تک یہ اپنی گاڑی میں نہیں بیٹھتا۔ لگتا ہے جیسے یہ ہم لڑکیوں میں سے کسی کی نگرانی کرتا ہے۔ اس لڑکی کے اشارے پر بھی مجھ بے وقوف کی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ میری نگرانی کرتا ہے۔ ایک روز امی کی طبیعت خراب ہوگئی۔ میں نے چھٹی کرلی۔ دو روز بعد دفتر آئی تو اسے بے تاب پایا۔ پوچھا کیوں غیر حاضر تھیں؟ امی بیمار ہیں۔ میں نے بتایا۔ کیا میں ان کی عیادت کے لئے تمہارے گھر آسکتا ہوں؟ امی سے پوچھ کر بتائوں گی۔ میں نے جواب دیا۔ اگلے روز امی کے لئے پھر مجھے چھٹی کرنا پڑی۔ آفس ٹائم کے بعد وہ ہمارے گھر آگیا۔ میرا پتا اس نے میری آفس فائل سے نجانے کب نوٹ کرکے رکھا ہوا تھا۔
دروازے پر اسے کھڑا دیکھا تو حیران رہ گئی۔ کیا اندر آنے کو نہ کہو گی، اب اتنی تو بداخلاق نہیں ہو تم…! مجھے کہنا پڑا۔ آجایئے۔ تمہاری والدہ کی عیادت کرنے آیا ہوں، ان سے ملوائو۔ میں امی کے کمرے میں لے گئی۔ ان کے پاس کرسی پر بیٹھ کر سجاد نے باتیں شروع کردیں۔ باتوں کا وہ ماہر تھا، امی کو خوب اپنی باتوں سے لبھایا۔ آپ مجھے اپنا بیٹا سمجھئے۔ آپ کا بیٹا ابھی چھوٹا ہے۔ یہ میرا فون نمبر ہے۔ جب ضرورت پڑے، ڈاکٹر کے پاس جانا ہو، اسپتال جانا ہو، مجھے فون کردیجئے، حاضر ہوجائوں گا۔
امی اس کی باتوں سے کافی متاثر ہوئیں۔ میں نے چائے پلائی اور رخصت کیا۔ اس کے بعد یہ ہونے لگا کہ میں آفس میں اور وہ آفس ٹائم میں میرے گھر امی کے پاس بیٹھا دکھ سکھ کررہا ہوتا۔ ان سے باتیں کرکے ان کو شیشے میں اتار لیا۔ میں چھٹی کے بعد گھر پہنچتی۔ امی بتاتیں سجاد آیا تھا۔ یہ کیک لایا ہے، میری عیادت کے لئے چھٹی کرلی تھی اس نے! حیرت سے میں تصویر بن جاتی۔ میں تو چھٹی نہیں کرتی۔ اسے میری ماں کی زیادہ فکر تھی کہ چھٹی کرکے آبیٹھتا تھا میری ماں کے پاس…! ایک روز اس نے اپنا مدعا بیان کر ہی دیا۔ والدہ سے میرا ہاتھ مانگ لیا وہ بھی میری غیر موجودگی میں! وعدہ کیا کہ میرے بھائی کی نوکری لگوا دے گا۔ ہمارا مکان خستہ حال تھا، بینک سے لون لے کر دیا اور مرمت کے وقت مزدوروں کے ساتھ کھڑا رہا۔
والدہ اس کے بھرے میں آگئیں۔ مجھے سمجھاتیں۔ بہت شریف انسان ہے، رشتہ مانگ رہا ہے تمہارا عزت سے، تمہاری شادی کی یہی عمر ہے۔ کہیں عمر نہ نکل جائے۔ وعدہ کیا ہے کہ تم کو ملازمت سے منع نہیں کرے گا اور تنخواہ سے ایک پائی نہ لے گا۔ تم میرے پاس ہی رہو گی۔ ہر شرط ماننے کو تیار ہے بس تم ہاں کہہ دو۔ غرض امی نے میرا پیچھا پکڑ لیا، مجھے ہاں کہتے بنی۔ اس کی صرف ایک مجبوری تھی کہ بزرگوں کو نہیں لا سکتا تھا۔ دوستوں کو نکاح کے وقت لے آئوں گا، نکاح سادگی سے ہوگا۔ فی الحال بینک میں بھی ہم کسی کو نہ بتائیں گے کہ ہماری شادی ہوگئی ہے، الگ الگ رہیں گے، جب تک بھائی برسرروزگار نہیں ہوجاتا۔ ہم ماں، بیٹی بے وقوف یا حددرجہ سادہ دل تھے کہ گہرائی میں سوچا ہی نہیں کہ یہ آدمی شادی شدہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس کے بارے میں کسی سے معلوم تو کرنا چاہئے وہ کیوں شادی کو اس قدر خفیہ رکھنے پر اصرار کررہا ہے۔
امی بیچاری زمانے کے چلتر کیا جانیں۔ ان کو تو بس اس بات کی پڑی تھی میری بیٹی کی جلد شادی ہوجائے، لڑکا بینک آفیسر ہے، خوبصورت اور مہذب ہے۔ اچھے خاندان کا لگتا ہے۔ ہر شرط پر راضی ہے، بیٹی بھی میرے ساتھ رہے گی۔ سجاد کو پیسے کا لالچ نہیں ہے۔ ہماری کفالت بھی کرتی رہے گی، مرد کا سہارا مل جائے گا۔ امی کے گھر پر نکاح خواں اور اپنے چار دوست لے آیا اور اس کا مجھ سے سادگی سے نکاح ہوگیا۔ واقعی اس نے مجھے ماں سے جدا نہ کیا، بہنوں کی شادیوں میں بھی مدد کی، بھائی کی نوکری لگوا دی لیکن امی کی وفات کے بعد بتایا کہ میں شادی شدہ ہوں، پانچ بیٹوں کا باپ ہوں۔ تم کو عمر بھر گھر نہیں لے جاسکتا۔ شادی کو بھی زندگی بھر خفیہ رکھنا پڑے گا۔ اپنے شناختی کارڈ پر تم مسز سجاد کبھی نہ لکھ سکو گی اور نہ اپنے ’’ب‘‘ فارم میں، پہلی بیوی جو حشر میرا اور تمہارا کرے گی، تم سوچ بھی نہیں سکتیں۔ تم ہمیشہ اپنی ماں کے گھر پر رہو گی اور میں کبھی کبھی آیا کروں گا، وہ بھی دن میں…! رات کو کبھی یہاں نہیں رہوں گا۔ بیوی اس کی اجازت نہ دے گی۔ اسے شک میں نہیں ڈال سکتا۔ تمہاری ذمہ داریاں پوری ہوچکی ہیں، اب تم میری ذمہ داریوں میں ہاتھ بٹائو گی۔ میرے لڑکوں کی تعلیم کا بہت خرچہ ہے، وہ مہنگے اداروں میں پڑھ رہے ہیں اور میں پانچ لڑکوں کی فیسیں نہیں دے سکتا۔ میرے تین لڑکوں کی فیسیں تم دو گی اور اپنا خرچہ بھی خود اٹھائو گی، کیونکہ میرے پاس اتنا پیسہ ہی نہیں ہوتا کہ اپنی دوائیں لے سکوں۔ اگر یہ سب منظور ہے تو میری بیوی رہو ورنہ آزادی کا پروانہ لے سکتی ہو۔ اس گھاگ شخص نے کتنی دور کی سوچی تھی، کیا زبردست منصوبہ بندی کی تھی۔ سجاد کے اس انکشاف پر میں حیران رہ گئی۔ بہت دکھ ہوا کہ کتنے دنوں تک مجھے دھوکے میں رکھا، جھوٹ بولتا رہا اور اب حقیقت آشکار کی ہے تو آزادی کا پروانہ دینے میں بھی نہیں ہچکچاہٹ…!
میں ایک شریف لڑکی تھی۔ ہمارے خاندان میں کبھی کسی لڑکی نے طلاق نہیں لی تھی۔ طلاق لے کر کیا کرتی۔ اس نے اولاد پیدا نہ کی۔ کہا کہ میری اولاد ہے اور تم سے اولاد ہوگئی تو اپنے خاندان والوں اور بچوں پر ظاہر نہ کرسکوں گا۔ جب تمہیں بیوی ظاہر نہیں کرسکتا تو اولاد کو باپ کا نام کیونکر دے سکتا ہوں۔ دل پر ایک گھونسا سا لگا۔ سوچا کہ جو شخص اولاد پیدا کرنا نہیں چاہتا، وہ میرا کیسے ہوسکتا ہے لیکن اب طلاق لے کر بھی کیا کرتی۔ جیسی زندگی ملی، اسے قبول کرلیا۔ اس کے تین بچوں کی فیسیں دیتی رہی۔
سجاد کے تمام لڑکے پڑھ لکھ کر اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوگئے، ان کی شادیاں ہوگئیں۔ وہ اپنی بیوی، بچوں، پوتے، پوتیوں میں گم ہوگیا اور میںاپنے گھر میں کسی سائے کی طرح گم ہوگئی۔ ریٹائر ہونے کے بعد بڑھاپے کی لاچار عمر میں چار دیواری میں قید ہر آہٹ پر انتظار کرتی ہوں۔ کبھی سجاد آجائے گا، دکھ سکھ پوچھے گا، مجھ بیمار کو ڈاکٹر کے پاس لے جائے گا مگر اس کو اپنوں سے فرصت نہیں ہے کیونکہ اس کا گھر، اس کا کنبہ تو مکمل ہے۔ بھائی امریکا چلا گیا، وہ بھی ہمیںبھول گیا ہے۔ بہنیں کبھی کبھی آجاتی ہیں تو لگتا ہے زندہ ہوں ورنہ جیتے جی مر چکی ہوں۔ (ع… فیصل آباد)

Latest Posts

Related POSTS