Saturday, May 18, 2024

Jo Guzar Gaye Din | Teen Auratien Teen Kahaniyan

یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب ہم امرتسر سے نزدیک ایک گائوں میں رہتے تھے اور برصغیر کا ابھی بٹوارہ نہ ہوا تھا۔ ہمارا اور چچا میاں کا گھر قریب تھا بلکہ ملا ہوا تھا۔ میں زیادہ تر چچی کے گھر رہتی کہ وہ مجھے بہت پیار کرتی تھیں۔ ان کے بچوں کے ساتھ اسکول جاتی، انہی کے ساتھ کھیلتی تھی۔ وقت گزرتا گیا اور پھر ایک دن میری منگنی انہی چچا کے بیٹے لاڈلے میاں سے ہوگئی۔
میرے منگیتر عادتاً شوخ مزاج تھے۔ مجھے بھی چھیڑنے سے باز نہیں آتے تھے۔ ایک ہی گھر تھا۔ جب تنہا دیکھتے تنگ کرنے آجاتے۔ میں ان کے سائے سے بھاگتی تھی۔ ان کو دور سے دیکھ کرہی کھسکنے لگتی تھی مگر یہ حضرت بھی جیسے سایےکی طرح میرے تعاقب میں لگے رہتے۔ بڑی ڈھٹائی سے مجھے دیکھ کر آہیں بھرتے، اشاروں سے چاہت جتلاتے مگر کبھی حد سے آگے نہ بڑھے کہ بھرا پرا گھرتھا ،پھر ابا اور چچا کا رعب بھی کافی تھا۔
گھر سے باہر کے بھی ان کے قصے بڑے مشہور تھے۔ چچا جان نے کئی بار لتے لئے ،یہ باز نہ آئے بہرحال حضرت اپنی جگہ ذہین اور ہوشیار بھی تھے۔ پڑھنے میں کسی سے پیچھے نہ تھے۔ خوبرو، گورے چٹے اور خوش لباس سارے گھر کے چہیتے … لہٰذا سبھی ان کی شوخیوں اور شرارتوں کو نوعمری کی بھول جان کر نظرانداز کر جاتے تھے۔
وہ دن بھی آگیا کہ ہماری ان سے شادی ہوئی گھراور خاندان بھر نے سکھ کا سانس لیاکہ اب کھونٹے سے لاڈلے میاں بندھے ہیں سدھر ہی جائیں گے… مگر وہ جو کہتے ہیں کہ چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے تو صحیح کہتے ہیں۔
شادی کے بعد بھی یہ حضرت تانکا جھانکی سے باز نہ آتے۔ کئی بار روٹھی، منالیا… ناراض ہوتی ،بنتی کرکے راضی کرلیتے۔ میرے لئے ان کی انوکھی محبت میں کوئی فرق نہ آیا۔ یوں زندگی گزر رہی تھی کبھی پیار سے اور کبھی بیزاری سے … جیسا کہ عام گھروں میں ہوتا ہے کہ یہی زندگی کا حسن گرداناجاتا ہے… میاں بیوی کا رشتہ ہی اسی طرح کا ہے کہ ٹوٹ ٹوٹ کر جڑ جاتا ہے۔جڑتا ہے تو کبھی ایک بارگی ٹوٹ جاتا ہے،لیکن خدا کسی جوڑے کی زندگی میں وہ دن نہ لائے کہ جڑا ہوا یہ رشتہ ہمیشہ کو ٹوٹ جائے۔
ہم بھی کبھی ہنستے اور کبھی چپ چپ رہتے… شکر کہ کوئی بڑا غم نہ دیکھا اللہ کا دیا سبھی کچھ تھا۔ میاں موڈ میں ہوتے تو یہی کہتے کہ بیگم اب تو خوش ہو کہ صراط مستقیم پر چل رہا ہوں۔ پہلے کی بات تھی کہ بھٹک گیا تھا مگر صبح کا بھولا شام کو گھر آجائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔
بڑے بھیا کی شادی تھی۔ اماں نے مجھے اور بڑی بہن کو ایک ماہ پہلے بلوالیا تھا کہ تم دونوں نے بھائی کی شادی کی تیاری کرنی ہے۔ ان دنوں ’’ہینڈز پمپ‘‘ نہیں ہوتے تھے بلکہ گھروں میں کنویں ہوا کرتے تھے۔ ہمارے گھر میں بھی کنواں تھا، ڈول سے پانی کھینچ کر نکالتے تھے۔
شادی میں ایک روز رہ گیا، میری ساس اور نند بھی آگئیں۔ دور و قریب کے سبھی رشتہ دارآچکے تھے۔، ان میں تاجی بھی تھی۔وہ جھیل جیسی گہری آنکھوں والی پرکشش لڑکی تھی۔ ہماری ساس کی دور کی رشتہ دار تھی۔
وہ بڑی پھرتیلی تھی، دوڑ دوڑ کر کام کرنے والی۔ اس کے آتے ہی اماں کا بہت سا کام ہلکا ہوگیا۔ اس نے بہت مدد کی۔ ہم منع کرتے کہ بس اب آرام کرلو، وہ نہ مانتی ہمارا ہاتھ بٹاتی رہتی۔ شادی کے گھر میں ایک میلہ سا ہوتا ہے، کس کو کس کی خبر اور کس کا ہوش… لیکن ایسا بھی نہ تھا کہ اس ہنگامے میں چھوٹے بڑوں کا ادب بھول جاتے۔ اس وقت وہ صحن میں چھڑکائو کررہی تھی کہ میرے لاڈلے شوہر کی نظر اس پر پڑ گئی۔ تاجی نے بھی ان کی بھڑکیلی نگاہوں کو تاڑ لیا۔
بس یہی کہوں گی کہ اپنے جیسے نے اپنے جیسے کوپہچان لیا تھا۔ دونوں میں نگاہوں نگاہوں سے خاموش پیغامات کا تبادلہ ہوا اور ان کہے وعدےو پیمان طے پا گئے کوئی نہ جان سکا مگر میں نے جان لیا اور غصے میں پیچ و تاب کھانے لگی کہ دیکھو اب بھی یہ باز نہیں آرہے ہیں جبکہ چاربچوں کے باپ ہیں۔
کچھ دیر گزری کہ دونوں کچن کی منڈیر کے پاس باتیں کرتے ملے ۔حیران تھی تاجی کی دیدہ دلیری پر کہ میرے ہوتے کس بے باکی سے ان کے ساتھ آنکھیں مٹکا مٹکا کر باتیں کررہی تھی۔ اس کا اضطراب بتا رہا تھا کہ بالی عمریا نہیں سنبھل رہی ہے دوپٹے کا پلو سنبھلتا تھا اور نہ قدم زمین پر ٹک رہے تھے۔
بارات دلہن کو لے کر آگئی۔ انہیں کھانا وغیرہ کھلا کر کام سمیٹا اور میں تھک کر چور ہو کر صحن میں بچھے لکڑی کے تخت پر جا لیٹی۔ جانے کب نیند نے دبوچ لیا، صحن میں بہت سی چارپائیاں بچھی تھیں جن پر عزیز عورتیں لیٹی ہوئی تھیں۔
رات کے تقریباً نو بجے ہوں گے۔ حلق میں جلن سی ہوئی۔ آنکھ کھل گئی جیسے شدت کی پیاس نے گلے کو جکڑ لیا ہو اٹھ کر بیٹھ گئی ۔گرمیوں کی رات تھی۔ کنویں کے پاس ہی کئی گھڑونچیاں رکھی تھیں جن پر گھڑے دھرے تھے۔ نگاہ ادھر کو گئی اور میں آہستہ آہستہ چلتی پانی پینے اس طرف کو چل دی۔ نیند کا خمار تھا، جاتے ہوئے اماں کو جگایا۔ ہوشیار رہنا، میں کنویں کی جانب پانی پینے جارہی ہوں۔
وہاں قریب پہنچی تو دیکھا کہ سایہ سا کنویں کی منڈیر کے پاس ہے سوچا کوئی اور عزیزہ بھی پانی پینے کو پہلے سے ادھر آگئی ہوگی۔ آواز دی۔ کون ہے۔ جواب کسی نے نہ دیا بلکہ سایہ اور نیچے کو دبک گیا تو ذرا سا جی کو ڈر آیا کہیں چور تو نہیں ہے۔دوبارہ آواز لگائی۔ اماں جاگتی ہونا… ذرا ادھر کو آنا۔ دیکھو تو کون ہے یہاں۔ اماں جاگ رہی تھیں، بولیں۔ ابھی آتی ہوں ڈرو نہیں میں جاگ رہی ہوں۔
اماں کی آواز سے دل کو تقویت ملی اب نیند کا خمار بھی اتر چکا تھا۔ آگے دو قدم بڑھا کر غور سے دیکھا۔ میرے میاں اور تاجی پاس پاس بیٹھے تھے مگر کچھ اس طرح کہ مجھ ہی کو نظریں چرانی پڑ گئیں۔ ان کی بے تکلفی پر غصے سے کپکپانے لگی۔ وہ بھی رات گئے اس وقت… جبکہ چودھویں کا چاند بھی پوری آب تاب سے ان کے سروں پر دمک رہا تھا۔ اتنی دیر میں اماں بھی آگئیں۔
تاجی نے میرے پیر پکڑ لئے۔بولی۔ بجیا معاف کردو۔ اللہ کے لئے شور نہ مچانا میری عزت تمہارے ہاتھ ہے ورنہ میری منگنی بھی ٹوٹ جائے گی۔مجھے دوپٹہ دے دو۔
اماں نے مجھ سے کہا کہ اس سے پوچھو کہ دوپٹہ کہاں گیا ہے۔ شاید کنویں میں گر گیا ہو گا۔ وہ لجا کر بولی۔ بجیا کنویں کی منڈریا پر رکھا تھا۔
بے حیا کہیں کی۔ اماں نے کہا، پھر چپل اتار کر دکھائی۔ ادھر نکل، ابھی بتاتی ہوں تجھے۔ اب کیا چارہ تھا۔ اماں نے مجھے کہا ۔تو یہاں کھڑی رہ میں لاتی ہوں اس کے لئے اندر سے دوپٹہ۔ وہ جاکر لے آئیں اور میں نے ان کو مطلوبہ کپڑے تھما دئیے۔
میاں جی تو سرپٹ بھاگے اور کنڈی کھول کر گھر سے باہر نکل گئے ۔کافی دن تک گھر نہ آئے یہاں تک کہ چچا جان ان کو لعنت ملامت کرکے پھپھو کے گھر سے لے کر آئے، آتے ہی میرے پیر پکڑ کر گڑگڑانے لگے کہ میں تو ادھر کو نہیں جارہا تھا یہی چال باز مجھ کو لے آئی کہ چند باتیں کرنی ہیں ضروری، معاف بھی کردو اب۔ معاف نہ کرتی تو کیا کرتی۔ میرے چار بچوں کے باپ تھے۔ روٹھ کر میکے رہ جاتی تو دنیا والوں سے کیا کیا وضاحتیں نہ کرنا پڑتیں۔
اس واقعے کو برسوں گزر گئے جب بھی تاجی کہیں نظر آتی مجھ سے آنکھیں چرا لیتی تھی۔ اب تو مرکھپ گئی ہوگی اور لاڈلے میاں بھی اللہ ان کی مغفرت کرے کب کے اس جہان سے سدھار گئے۔ میں پوتوں ،پڑ پوتوں، پوتیوں ،نواسوں، نواسیوں والی ہوگئی ہوں۔
جب بھی بچے کہتے ہیں اپنی گزری زندگی کا کوئی ناقابلِ فراموش واقعہ سنائیے یہ واقعہ ذہن کے افق پر ابھر کر آجاتا ہے مگر میں کوئی اور قصہ سنانے لگتی ہوں اس واقعے کو زبان پر نہیں لاتی کہ جب وہ دن گزر گئے اور وہ
لوگ بھی گزر گئے تو ان کی یادوں کو دہرا کر مدفن رازوں کو طشت ازبام کرنے سے کیا حاصل۔ (س الف… کراچی)

Latest Posts

Related POSTS