Sunday, May 19, 2024

Juraat Say Kaam Liya | Teen Auratien Teen Kahaniyan

میں والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ بہت نازو نعم میں پلی۔ آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ایک امیر کبیر بزنس مین نے اپنی اکلوتی بیٹی کو کس انداز میں پرورش کیا ہوگا۔ والد صاحب کی خواہش تھی کہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کروں۔ وہ مجھے بیرون ملک میں تعلیم دلوانا چاہتے تھے، لیکن مجھے پڑھائی سے شغف نہ تھا۔ ان کی لاکھ کوشش کے باوجود میں نے انٹر کے بعد کالج کو خیرباد کہہ دیا۔
والد صاحب کو بے حد قلق ہوا مگر ماں نے سمجھایا کہ ماہم نہیں پڑھنا چاہتی تو رہنے دیں، اتنی تعلیم کافی ہے۔ لڑکیوں کو گھر بسانا ہوتا ہے۔ اس کی وقت پر شادی کردیں گے، یہ اپنے گھربار میں خوش وخرم ہوجائے گی۔ مجھے دیکھئے میں کون سا پڑھی لکھی ہوں لیکن آپ کا گھر خوش اسلوبی سے سنبھالا ہوا ہے۔ آپ کو سکون دیا ہے۔ تبھی آپ اتنی دولت کما سکے ہیں۔ امی کی باتیں والدصاحب کی سمجھ میں آگئیں اور وہ میرے رشتے کی تلاش میں سرگرداں ہوگئے۔ چند قریبی دوستوں سے ذکر کیا کہ بیٹی کا رشتہ کرنا چاہتا ہوں، کوئی اچھا رشتہ تمہاری نظر میں ہو تو بتانا۔
ایک دن ابو کسی تقریب میں شرکت کرنے گئے، وہاں ایک دیرینہ واقف کار مل گیا۔ اکرم صاحب والد کے کلاس فیلو رہ چکے تھے۔ جب اکرم صاحب کو علم ہوا کہ ندیم کو اپنی بیٹی کے لئے رشتہ چاہئے تو ابا جان کے سر ہوگئے کہ آپ کو کہیں ادھر ادھر بھٹکنے کی ضرورت نہیں۔ ہمارا لڑکا لائق، خوبصورت اور پڑھا لکھا ہے۔ تم نے نادر کو اس کے بچپن میں دیکھا تھا شاید یاد نہ رہا ہو۔ بہرحال تصویر دکھا دیتا ہوں۔ ہم دیکھے بھالے لوگ ہیں، کہیں اجنبیوں میں پھنس گئے تو ممکن ہے کہ مسائل ہوں۔ والد صاحب نے کہا کہ سوچ کر بتائوں گا۔ دو دن گزرے تھے کہ اکرم صاحب بیوی کو لے کر آگئے اور انہوں نے امی جان سے اپنے بیٹے کے قصیدے بیان کرنے شروع کردیئے۔ ساتھ تصویر بھی دکھائی۔ لڑکے کی عمر تصویر میں پچیس برس لگتی تھی۔ جانے کب کی فوٹو لائی تھیں۔ کہا کہ حال ہی میں بھجوائی ہے۔ بہرحال نادر وجیہ نوجوان لگا۔ لندن پڑھنے گیا تو وہیں رہ گیا۔ آنٹی صفیہ کا کہنا تھا کہ میرا بیٹا مشرقی لڑکی چاہتا ہے، تبھی باربار اصرار کرتا ہے کہ پاکستانی دلہن چاہئے۔
اکرم انکل امیر لوگ تھے۔ بنگلے میں رہتے تھے، نوکرچاکر غرض کوئی کمی نہ تھی، البتہ ان کا کہنا تھا کہ وہاں نادر کی ملازمت ایسی ہے کہ فی الحال پاکستان نہیں آسکتا۔ شادی کی تاریخ طے ہوجائے گی، تب وہ آئے گا اور دلہن کو ساتھ لے جائے گا۔ فی الحال فون پر نکاح ہوگا اور کچھ عرصے اس کی آمد کا انتظار بھی کرنا ہوگا۔ وہ تمام قانونی تقاضے جو بیوی کو ساتھ لے جانے کے لئے ان ملکوں کو درکار ہوتے ہیں، وہ اسے مکمل کرنے ہوں گے، تاہم زیادہ عرصہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ آپ لوگ فکر نہ کریں، ہم آپ لوگوں کے لئے اجنبی نہیں ہیں، نہ آپ ہمارے لئے انجان ہیں۔ سوچنے میں وقت نہ لگایئے، فوراً ہاں کہہ دیجئے تاکہ اگلی بار منہ میٹھا کرانے کا اہتمام کرلیں۔ والدہ گھبرا گئیں۔ ابو سے کہا۔ ان لوگوں کو بہت جلدی ہے۔ ایسا بھی کیا ہے کہ ہتھیلی پر سرسوں جمانا چاہ رہے ہیں۔ بے شک آپ کے جاننے والے ہیں، آپ مطمئن ہوں گے مگر میں بچی کو بیرون ملک بیاہنے کے حق میں نہیں ہوں۔ میری اکلوتی بچی ہے، ہماری دولت، جائداد اور سرمائے کی یہی مالک ہے۔ ذرا دھیرج سے کام لیں۔ اپنے وطن میں اچھے رشتوں کی کمی نہیں ہے۔ ماہم کو ایک سے بڑھ کر ایک رشتہ مل سکتا ہے، ذرا مجھے کوشش کرنے دیجئے۔
کرلو کوشش۔ ابا جان نے فرمایا۔ میں اکرم کو برسوں سے جانتا ہوں، تم خواہ مخواہ پریشان ہورہی ہو۔ لڑکے کا پاکستان نہ آنا ایک مجبوری ہے کہ وہاں کے کچھ اور قانون و قاعدے ہیں جنہیں پورا کرنا لازم ہے۔ میں نے بھی ان لوگوں کو فوراً ہاں نہیں کہی ہے بلکہ سوچنے کے لئے وقت لیا ہے۔ اس دوران اور کوئی اچھا رشتہ مل گیا تو انہیں منع کردیں گے۔ میری بدقسمتی کہ کئی رشتے آئے۔ کچھ امی اور کچھ ابو کو پسند نہ آئے۔ ادھر انکل اکرم اور ان کی بیگم نے اپنی تگ و دو جاری رکھی، وہ تواتر سے ہمارے گھر کے چکر لگاتے رہے اور منت سماجت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ بالآخر والد صاحب کو ہاں کہتے بنی۔ ان کے نزدیک یہ رشتہ بہت مناسب تھا، بس ایک ہی رکاوٹ تھی درمیان میں اور وہ یہ تھی کہ لڑکے کو بغیر دیکھے محض تصویر دیکھ کر قبول کرنا تھا۔ نکاح ٹیلیفون پر ہونا تھا اور رخصتی دو سال بعد ہونی تھی۔
یہ عرصہ میرے والدین کے لئے زیادہ نہ تھا۔ میں اکلوتی تھی۔ ان پر بوجھ نہ تھی۔ میں ابھی صرف سترہ سال کی تھی۔ والدہ چاہتی تھیں کہ بیس برس کی ہوجائوں تو وداع کریں۔ وائے قسمت کہ جونہی والد نے انکل اکرم کو میرے رشتے کے لئے ہاں کہی، اچھے رشتے دھڑا دھڑ آنے لگے، مگر اگلے وقتوں کے لوگ اپنے وعدوں اور زبان کے پکے ہوا کرتے تھے، سو انہوں نے یہی جواب دیا کہ جہاں اللہ کو منظور تھا، رشتہ ہوگیا ہے، اب اپنی زبان پر قائم ہوں۔ ہاں کہہ کر زبان سے نہیں پھروں گا۔ والدہ دبے دبے لفظوں میں کہتی رہ گئیں کہ بیٹی کا معاملہ ہے اور پردیس کی بات ہے، ہماری اکلوتی بچی ہے، ذرا سوچ لو ابھی صرف ہاں کی ہے، منگنی نہیں ہوئی ہے۔ دوسرے رشتے بہتر ہیں، ان میں سے کسی پر غور کرلو بیٹی وطن میں ہوگی تو دکھ سکھ میں خبر تو لے سکیں گے۔
تم عورتوں کی تو باتیں نرالی ہوتی ہیں۔ جہاں زودرنج ہوتی ہیں وہاں وہمی بھی ہوتی ہیں۔ ارے بھئی لندن کون سا دور ہے ہمارے لئے، ہمارے پاس کوئی دولت کی کمی ہے۔ جب چاہیں گے اپنی بیٹی کے پاس چلے جائیں گے۔ غرض شوہر کے دبائو سے مجبور ہوکر ماں چپ ہوبیٹھیں۔ دل ان کا نادر کے رشتے پر راضی نہ تھا، یہی خوف کہ لڑکا دیکھا نہیں ہے اور بات پردیس کی ہے۔ مجھ سے کہتی تھیں ۔بیٹی! تو اگر راضی نہیں تو ابھی کہہ دے بعد میں کچھ نہ کرسکوں گی۔
میں کیا کہتی مجھے تب اتنی عقل سمجھ نہ تھی، یہی جواب دیا۔ امی! آپ اور ابو جو فیصلہ کریں گے، مجھے منظور ہے۔ میری اپنی کوئی مرضی نہیں ہے۔ معلوم نہیں والدہ کو کیوں یہ فیملی پسند نہیں آئی۔ دبی زبان سے کہتیں۔ مجھے یہ لوگ لالچی لگتے ہیں، ان سے خلوص کی خوشبو نہیں آتی۔ ایک دن میں نے پوچھ لیا۔ امی! آخر کیوں آپ کو ایسا لگتا ہے؟ بیٹی…! اس وجہ سے کہ خوشامد بہت کرتے ہیں اور خوشامدی لوگ مطلبی ہوتے ہیں۔ یہی بات کھٹکتی ہے میرے دل کو… رشتہ لینے والے نیاز مندی تو دکھاتے ہیں بیٹی…! دادی انہیں سمجھانے لگتیں۔ اب جو فیصلہ ہوگیا، اس پر دل سے راضی ہوجائو اور زیادہ مین میخ مت نکالو۔ اچھے کاموں میں بھروسہ ہی خوشیوں تک پہنچاتا ہے۔ بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔ دعا کرو کہ لڑکی کی قسمت اچھی ہو ورنہ بہت دیکھ بھال، چھان پھٹک کے باوجود کبھی کبھی سودا مہنگا پڑ جاتا ہے۔ ہماری ماہم قسمت والی ہوگی۔ دیکھ لینا سب ٹھیک رہے گا۔ ہاں ماں جی…! دعا ہی کرتی ہوں ورنہ کل کی کسے خبر ہے۔
انہی وسوسوں میں وہ دن بھی آہی گیا جب اکرم انکل اور آنٹی میرے نکاح کی تاریخ لینے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔ مٹھائی کے ٹوکرے لائے اور پھولوں کا گہنا کہ اصل بری اور زیور تو انہوں نے نکاح کے بعد چڑھانا تھا۔ والدہ نے مجھے نادر کی تصویر دکھائی تھی اور میں نے ایک نظر دیکھ کر حیا سے سر جھکا لیا تھا۔ فوٹو میں وہ کوئی شہزادے لگتے تھے تاہم میری کیا پسند اور کیا ناپسند…! آج تک کسی کو دل میں بسایا نہ تھا۔ میرا ذہن سلیٹ کی طرح صاف تھا۔ ایک دن مقررہ تاریخ اور وقت پر انکل اور آنٹی اپنے چار عزیزوں کے ہمراہ آگئے۔ مولوی صاحب کو بھی ساتھ لائے تھے۔ پلک جھپکتے میں ٹیلیفون پر نکاح ہوگیا اور میں بن دیکھے نادر کی منکوحہ ہوگئی۔
دو سال کا عرصہ پلک جھپکتے بیتا۔ اس دوران والدین نے میرا خوب سارا جہیز بنا لیا۔ رخصتی سے دو روز پہلے نادر لندن سے تشریف لے آئے اور دھوم دھام سے میری رخصتی ہوگئی۔ تین ٹرکوں پر جب میرے جہیز کا سامان ان کے بنگلے کے احاطے میں اتارا گیا تو ساس، سسر کی باچھیں کھل گئیں۔ والد صاحب نے ایک بنگلہ شادی سے قبل میرے نام کیا ہوا تھا۔ شاندار گاڑی بھی انہوں نے جہیز میں دی تھی، حالانکہ معلوم تھا کہ مجھے نادر کے ہمراہ لندن جانا ہے مگر شفقت پدری سے مجبور تھے۔ چاہتے تھے بیٹی کی رخصتی کے وقت سبھی کچھ جہیز میں دے دیں، حالانکہ بظاہر میرے ساس، سسر نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ہمیں بس لڑکی سے غرض ہے۔ جہیز دیں یا نہیں، آپ کی خوشی ہے۔
والدین کی زندگی میں ایسی خوشی کا دن دوبارہ کب آنا تھا۔ میں ان کی واحد اولاد، ہر شے ان کی مجھے ہی ملنی تھی۔ سو انہوں نے سب ارمان نکالے۔ رخصتی ہوگئی اور میں دلہن بن کر نادر کے گھر آگئی لیکن ایک بات سب نے محسوس کی کہ دولہا گرچہ وجیہ تھا مگر کچھ سہما سہما تھا، حالانکہ لندن پلٹ تھا۔ اعتماد کی کمی لگتی تھی۔ کسی نے کہا کہ بیرون ملک سے آیا ہے اس لئے الگ سا لگ رہا ہے۔ کسی نے کہا کہ شاید والدین کے مجبور کرنے پر پاکستان میں شادی کرلی ہے۔ غرض جتنے منہ، اتنی باتیں تھیں۔
میں پھولوں کی سیج پر دلہن بنی بیٹھی تھی۔ رش کم ہوگیا اور رات کا ایک بج گیا مگر دولہا صاحب کمرے میں نہ آئے۔ بیٹھے بیٹھے کمر دکھنے لگی۔ جی چاہتا تھا کہ بستر پر لیٹ جائوں اور سو جائوں۔ اکیلی کمرے میں گھونگھٹ کاڑھے بیٹھی تھی۔ بالآخر قدموں کی آہٹ ہوئی، نادر صاحب اندر آئے اور سامنے پڑے صوفے پر بیٹھ گئے۔ میں انتظار میں تھی کچھ بات کریں گے، مگر انہوں نے کوئی بات کی اور نہ گھونگھٹ اٹھا کر میرا چہرہ دیکھا بلکہ سگار سلگا لیا اور کش لینے لگے۔ اس حرکت پر وحشت زدہ ہوکر میں نے خود ہی گھونگھٹ اٹھا دیا، سوچا شاید لندن میں دلہنیں اس طرح گھونگھٹ نکال کر نہ بیٹھتی ہوں گی، تبھی انہیں معلوم نہیں ہے کہ دلہن کا گھونگھٹ اٹھانا ہوتا ہے اور اسے منہ دکھائی بھی دینی ہوتی ہے۔
منہ دکھائی گئی بھاڑ میں، بات تو کرتے مگر خاموشی اتنی گہری کہ میرا دم گھٹنے لگا۔ سوچا کہ گونگے تو نہیں ہیں، ٹیلیفون پر آواز سنی تھی میں نے، اب کیوں بیٹھے ہیں۔ بالآخر تنگ آکر خود ہی اپنا گھونگھٹ اٹھا کر دیکھا تو صوفے پر پڑے سو رہے ہیں۔ سوچا لمبا سفر کرکے آئے تھے، آتے ہی شادی کے کاموں میں حصہ لیا ہوگا اور تھک گئے ہوں گے۔ اتنے کہ صوفے پر بیٹھتے ہی سو گئے۔ میں بھی بستر پر لیٹ گئی مگر اب نیند کوسوں دور جا چکی تھی۔ گھنٹہ بھر یونہی پڑی سوچتی رہی۔ پیاس محسوس ہوئی اور پھر حلق میں کانٹے سے چبھنے لگے تو اٹھ بیٹھی۔ دبے قدموں پلنگ سے اتری اور نادر کا کندھا ہولے سے ہلایا۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے۔ میں نے کہا۔ بہت پیاس لگی ہے۔ انہوں نے میز کی جانب دیکھا جہاں پانی کا کولر اور گلاس رکھے ہوئے تھے، تبھی میں کچھ شرمندہ سی ہوگئی۔ وہ اٹھے کولر سے گلاس میں پانی بھرا اور ایک گولی دے کر کہا۔ پانی کے ساتھ یہ بھی کھا لو، شاید تھکن سے تمہارے سر میں درد ہورہا ہوگا، تبھی نیند نہیں آرہی۔ میں نے چپ چاپ گولی ان سے لے کر پھانک لی اور کیا کرتی۔ وہ نیند سے بھری سرخ آنکھوں سے میری طرف ایسے دیکھ رہے ہیں جیسے کوئی خواب میں کسی تصویر کو تکتا ہو۔ سوچا یہ نیند پوری کرلیں تو اچھا ہے۔
گولی کے اثر سے میں دیر تک سوتی رہی۔ جب جاگی، دن چڑھ آیا تھا اور دولہا صاحب کمرے میں موجود نہ تھے۔ دن بھر مہمان داری ہوتی رہی۔ دولہا نجانے باہر کن کاموں میں مصروف تھے۔ رات آدھی بیت چکی، تب کمرے میں قدم رکھا۔ بولے۔ گولی کھا لو۔ میں نے کہا۔ میں نے تو نہیں مانگی، آج میرے سر میں درد نہیں ہے۔ پھر بھی کھا لو، نیند سکون سے آجائے گی۔
مجھے نیند کے لئے گولی کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا ہاتھ پیچھے کردیا۔ بولے۔ کھا لو، کل ہم نے سفر پر روانہ ہونا ہے۔ لمبا سفر ہے، بہت تھکن ہوگی۔ آج کی رات بھرپور اور پوری نیند لینا ضروری ہے۔ میں سمجھ گئی کہ معاملہ کیا ہے۔ نادر کو شادی کی ضرورت نہ تھی۔ والدین نے مجبور کیا تھا۔ یہ ایسا معاملہ تھا کہ کچھ لڑکیاں خاموش رہ کر اپنی شرافت کا ثبوت دیتی ہیں اور کچھ کے گھر ٹوٹ جاتے ہیں یا وہ کسی اور جانب راغب ہوجاتی ہیں۔ مجھے غصہ آگیا۔ گولی میں نے ان کے ہاتھ سے لے کر پرے پھینک دی۔ سوچا کہ یہ ایک رات وطن میں گزارنی ہے تو گزر جائے گی۔ صبح ہو تو سب سے پہلے امی، ابو کو آگاہ کرتی ورنہ وطن سے دور مجھ پر جو بیتے گی، تب میں کیا کر پائوں گی۔ بے زبان گائے کی طرح تو ہرگز اس شخص کے ساتھ نہ جائوں گی۔ نہ ان لالچی لوگوں کی بھینٹ اپنا جہیز چڑھائوں گی۔ اپنی زندگی کی یہ غیر فطری قربانی ہرگز نہ دوں گی۔
صبح ساس ناشتے کی ٹرے لائیں تو میں نے کہا کہ امی سے بات کرنی ہے۔ بولیں۔ وہ عصر کے وقت آئیں گی۔ انہوں نے فون پر بتا دیا ہے۔ مجھے ابھی بات کرنی ہے آنٹی…! آپ فون پر میری بات کرایئے۔ میرے لہجے کی سختی سے وہ ڈر گئیں۔ فون ملا کر دیا۔ میں نے کہا۔ امی…! ابو کو لے کر فوراً آجایئے۔ وہ گھبرا کر بولیں۔ خیر تو ہے! ابھی اسی وقت؟
ہاں! خیر ہے۔ بس آپ آجایئے۔ ذرا دیر بعد دونوں آپہنچے۔ میں نے انہیں بتایا کہ نادر کے والدین نے اس کی زبردستی شادی کی ہے۔ اس نے مجھے قبول نہیں کیا ہے، میرا گھونگھٹ تک نہیں اٹھایا۔ نیند کی گولی دے کر سوجانے کو کہتا ہے۔ پردیس میں جو مجھ پر بیتے گی، وہ کس سے کہوں گی؟ میں ہرگز اس کے ساتھ لندن نہیں جائوں گی۔ آپ لوگ ٹرک لایئے، پہلے میرا جہیز اٹھایئے اور پھر مجھے ہمراہ لے جایئے۔ ابو نے نادر کو بلایا۔ وہ بولا۔ آپ کی بیٹی صحیح کہہ رہی ہیں۔ میں نے والدین کی خاطر شادی کی۔ انہوں نے مجبور کیا تھا۔ میں اس بندھن کا اہل نہیں ہوں۔ آپ بے شک ابھی اس بندھن کو ختم کریں۔ والد صاحب نے ٹرک والوں کو فون کیا۔ ساس، سسر بولے۔ ارے بھائی صاحب! یہ آپ کیا کررہے ہیں؟
آپ کے بیٹے سے بات ہوگئی ہے۔ میں جو کررہا ہوں، ٹھیک کررہا ہوں۔ جی ہاں…! یہ جو کررہے ہیں، ٹھیک کررہے ہیں۔ نادر نے کہا۔ آپ لوگ انہیں مت روکئے اور نہ کوئی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کرے۔ مجھے جلد واپس جانا ہے، کوئی اڑچن نہ ڈالیں۔ میں نے بہت منع کیا تھا پر آپ لوگ نہیں مان رہے تھے۔ اب آگئی ہے بات سمجھ میں آپ کے…؟ ان کو حق مہر بھی ادا کیجئے، جتنا ان کا حق بنتا ہے اور شرافت سے سامان واپس کردیجئے۔ مجھ سے کہا۔ مجھے معاف کردینا۔ نادر نے یہ کہہ کر ہم مجبوروں کی مشکل آسان کردی ورنہ جانے کتنا جھگڑا ہوتا۔
میں اور والدین اس المیے پر سخت افسردہ تھے لیکن قدرت جو کرتی ہے، اچھا ہی کرتی ہے۔ دو سال کی اداسی کے بعد بالآخر ایک اچھا رشتہ آگیا اور میری دوبارہ شادی ہوگئی۔ اس بار اللہ تعالیٰ نے کرم کیا۔ شوہر ہیرا جیسے ملے اور آج ان کے ساتھ ایک خوشگوار زندگی گزار رہی ہوں۔ شکر کرتی ہوں اس وقت اللہ نے ہمت دی اور میں نے جرأت سے کام لیا۔ اگر نادر کے ہمراہ لندن چلی جاتی تو جانے کتنی خوار ہوتی۔ (ن… ملتان)

Latest Posts

Related POSTS