Kab Hoge Subha | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2597
آج جب دودھ والا سو روپے کلو کے حساب سے دودھ دے کر گیا تو بہو نے کہا۔ یہ دودھ ہے کہ سفید پانی ہے۔ دیکھئے دسیوں بار دودھ والے سے کہا ہے بھائی، ہم پر نہیں تو ہمارے بچوں پر رحم کرو جن کی یہ بنیادی غذا ہے۔ یہ تم دودھ کے نام پر کیا دے جاتے ہو؟ مگر اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔
شبانہ بیٹی، تم اس دودھ والے کو بدل کیوں نہیں دیتیں؟ کسی اور کو لگا لیتے ہیں۔ اماں جی! کئی بدلے ہیں مگر سبھی دودھ کے نام پر زہر بیچ رہے ہیں اور ہم لینے پر مجبور ہیں۔ کیا کریں چائے نہ پئیں، کیا بچوں کو نہ دیں جن کی یہ ابتدائی غذا ہے۔
ابھی یہ بات ہورہی تھی کہ ہماری ملازمہ پروین آگئی۔ میں نے پوچھا۔ پروین! تم کہاں تھیں، اتنے دن بعد آئی ہو؟ وہ دکھیاری روہانسی ہوکر بولی۔ اماں جی! آپ کو بتایا تو تھا کہ میرے چھوٹے بچے کو جلاب لگے ہیں۔
ٹھیک نہیں ہوا کیا ابھی تک؟ کیسے ہوتا اماں۔ ڈاکٹر کہتا تھا ڈبے کا دودھ دو، وہ بہت مہنگا ہے، ہم نہیں خرید سکتے تھے۔ میں دکان والا یہی دودھ دیتی تھی۔ وہ بیچارا فوت ہوگیا، اسی وجہ سے کام پر نہیں آسکی۔
آہ بیچاری پروین! میرے دل سے ٹھنڈی آہ نکلی۔ سارا دن دوسروں کے گھروں کا کام کرکے بچوں کا پیٹ پال رہی تھی۔ اپنے سات ماہ کے بچے سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ اسہال کی بیماری نے معصوم کی جان لے لی آخر۔ ماں کا دودھ بچے کی اصل غذا ہے۔ جب اصل دودھ ملتا نہیں تو اپنا دودھ چھڑا کر یہ سفید زہر اسے کیوں پلاتی تھیں؟ بہو نے تاسف سے کہا۔ بیگم صاحب! گھر گھر بچے کو ساتھ نہیں لے جاسکتی تھی اور بنگلوں پر صبح کام کیلئے نکلتی تو شام سات بجے گھر جانا نصیب ہوتا۔ بچہ سارا دن بھوکا تو نہیں رہ سکتا تھا؟ میری ساس دکان سے دودھ لا کر پلا دیتی تھیں مگر بچہ مسلسل دستوں کی بیماری کب تک سہہ سکتا تھا، آخر اپنے خالق کے پاس چلا گیا۔
پروین تم لوگ اپنا گائوں چھوڑ کر کیوں شہر آجاتے ہو؟ اپنے معصوم بچوں کو یہ سفید زہر پلوانے؟ گائوں میں دودھ تو صحیح مل جاتا ہے۔ پیٹ کی خاطر بی بی۔ وہاں نہ گھر ہے نہ مکان اور نہ روزی روٹی۔ اس پیٹ کی آگ کی خاطر ہی تو ہم دربدر ہیں۔ یہاں کام تو مل جاتا ہے۔ وہ سچ کہہ رہی تھی لیکن پاکستان بنانے والوں نے یہ سوچا نہ ہوگا کہ وقت گزرنے کے ساتھ لوٹ مار کرنے والوں نے اس پاک سرزمین کا کیا حشر کردینا ہے۔ مجھے وہ دن یاد آگیا جب میں نے اپنے گائوں سے ہجرت کی تھی۔ آگ اور خون کے دریا کو پار کیا تھا۔ آہ کیسا ہولناک سفر تھا وہ۔
ستمبر کا مہینہ تھا۔ مشرقی پنجاب کے بعد اب دہلی کی باری تھی۔ بلوائی محلے اُجاڑتے، ہر چیز کو آگ لگاتے چڑھے چلے آرہے تھے۔ یہ بلوائی ہمارے در پر بھی آپہنچے۔ والد اور والدہ کو ان کے کمرے میں قتل کردیا۔ میں نے ان کی چیخیں سنیں تو اپنے کمرے سے نکل کر زینے کے ذریعے چھت پر آگئی۔ بری طرح کانپ رہی تھی۔ چھت پر کاٹھ کباڑ پڑا تھا۔ میں اس کی اوٹ میں چھپ گئی اور خالی بوریاں اپنے اوپر ڈال لیں۔ شام سات سے اوپر کا سمے تھا۔ سورج ڈوب رہا تھا اور رات کا اندھیرا پھیل چکا تھا۔ میں دم سادھے تھی۔ جان گئی تھی کہ یہ بلوائی اب میری جان ہی نہیں عزت بھی لے کر ٹلیں گے۔
اتنے میں بلوائی چھت پر پہنچ گئے جیسے ان کو کسی نے مخبری کردی تھی کہ اس گھر میں ایک جوان لڑکی بھی رہتی ہے۔ وہ میری تلاش میں اوپر آئے تھے۔ سردی کافی تھی، بارش بھی ہوچکی تھی۔ اب ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ مجھے سانس روکے دیر ہوگئی تھی اور یہ تھے کہ جانے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ سارا گھر دیکھ لیا یا تو نکل بھاگی ہے یا پھر ادھر کہیں چھپی ہے۔ کسی نے کہا۔ سر میں درد کی شدید لہر کے ساتھ ناک میں سنسناہٹ ہوئی اور باوجود ضبط کے چھینک آگئی۔ بس پھر کیا تھا جیسے ان کو خزانے کا سراغ مل گیا ہو۔ قہقہہ مار کر ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر بولے۔ لو جی مل گئی جس کو کھوج رہے تھے۔ وہ تیزی سے میری جانب آئے اور بھیگی ہوئی بوریاں جو میں نے اپنے اوپر ڈال رکھی تھیں، کھینچ لیں۔ میں اب کانپتی، لرزتی ان کے سامنے تھی۔ دوسرے نے ٹارچ کی روشنی مجھ پر ڈالی۔ ہیر ہے ہیر… کیوں وڈے سردار جی!
آہو چلو ہن تھلے۔ گاڑی میں ڈالو اسے، چلتے ہیں جتھے دار کے پاس پیش کریں گے، اس ہیر کو تو انعام ملے گا۔ ان میں سے ایک نے میری کلائی پکڑی اور لے چلا۔ باہر ہولناکی کا راج تھا۔ تمام علاقے میں لوٹ مار، قتل و غارت گری، جوان لڑکیوں کا اغوا آٹھ نو بجے تک بڑے زوروشور سے جاری رہا۔ اس کے بعد چیخ و پکار، گولیاں چلنے اور بم پھٹنے کی آوازوں میں کمی واقع ہوگئی۔ بلوائی جو مجھے لے چلے تھے، تعداد میں چار تھے۔ دو آگے گاڑی میں اور دو پچھلی نشست پر تھے۔ مجھے عقبی نشست والوں نے اپنے درمیان بٹھا لیا تھا۔ خوف سے سسکیاں حلق میں پھنسی تھیں اور آنسو گالوں پر بہتے جارہے تھے۔ایک جگہ دیکھا کہ انسانوں کا سیلاب عورت، مرد، بچے جو کچھ ہاتھ لگا ساتھ لیے ایک قافلے کی شکل میں چلے جاتے تھے۔
عید گاہ پر ایک لمبا چوڑا سکھ کھڑا تھا۔ انہوں نے گاڑی اس کے پاس روک کر کہا۔ بادشاہو! یہ بڑی دیر بعد ملی اسی لئے لیٹ ہوگئے۔ یہ چھت پر چھپی ہوئی تھی۔ میں زاروقطار رو رہی تھی مگر ان ظالموں کو مجھ پر رحم نہ آیا۔ اس شخص نے جس کو یہ جتھے دار کہہ رہے تھے، بڑی للچائی نظروں سے مجھے دیکھ کر کہا۔ یہاں سب کام پروگرام کے مطابق چل رہا ہے، بس کچھ کام ابھی باقی ہے۔ جو میرے ساتھ تھے، ان میں سے دو گاڑی سے اتر گئے۔ بولے۔ جو کام باقی ہے، اسے ہم دیکھ لیتے ہیں، آپ اس کڑی کو لے کر چلیں۔
جتھے دار نے مجھے اپنی کار میں ڈالا اور دو مسلح کارندے میرے دائیں بائیں بیٹھ گئے۔ کار اب تیزی سے عید گاہ روڈ پر دوڑ رہی تھی۔ جونہی سڑک طیبہ کالج کی طرف مڑی، میں سمجھ گئی مجھے بھٹیاری محل کی طرف لے جارہے ہیں۔ آگے وہ جگہ آگئی جو کافی سنسان تھی اور یہاں ان لوگوں کے کیمپ لگے ہوئے تھے۔ کالج کے موڑ پر ایک نوجوان کھڑا ملا۔ دراز قد، چوڑے شانے، مردانہ وجاہت ایسی کہ اعلیٰ گھرانے کا فرد لگا۔ کلائی پر برساتی ڈالے تھا کہ بارش چند گھنٹے قبل ہوچکی تھی۔ یہاں بجلی غائب تھی اور بجلی ٹھیک کرنے والے آدمی کھمبے پر چڑھے ہوئے تھے۔ بجلی کے کچھ تار بھی ٹوٹے ہوئے سڑک پر گرے نظر آرہے تھے۔ گاڑی کی لائٹ تاروں پر پڑی تو بلوائیوں میں سے ایک بولا۔ اوئے! یہ بھی کوئی وقت ہے بجلی ٹھیک کرنے کا۔ اب ہم سامنے والی سڑک پر کیسے نکلیں۔ یہاں تو تار پڑے ہیں۔ تبھی اس نے تاروں کے پاس کھڑے اس آدمی کو اشارہ کیا جو کلائی پر برساتی ڈالے تھا۔
تم ادھر کیوں کھڑے ہو، کیا نام ہے تمہارا؟ نام نہ بتا کر کہا۔ میری ڈیوٹی ہے تبھی کھڑا ہوں۔ مُسلا لگتا ہے، ذرا اتر کر دیکھو تو۔ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہوئے شخص نے کہا تو اس کے ساتھ والا شخص اتر گیا۔ ہاتھ میں تلوار تھی۔
اوئے نام بتا، ڈیوٹی بتا۔ وہ بولا۔ ہم سرکاری ڈیوٹی پر ہیں، بجلی کی سپلائی بحال کرنے آئے ہیں۔ تم کو نام سے کیا کام؟ نام کیوں نہیں بتا رہا؟ سکھ نے تلوار گھمائی۔ وہ شخص ڈرا نہیں اور نہ بھاگا بلکہ برساتی زور سے گھما کر حملہ آور کے منہ پر ماری کہ وہ لڑکھڑا گیا اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔ نوجوان نے لپک کر تلوار اٹھا لی اور ایسا وار کیا کہ وہ زخمی ہوکر دور جاگرا۔
اب میرے پاس بیٹھا دوسرا شخص کار سے اتر پڑا۔ اس نوجوان نے چیتے کی سی پھرتی سے اس پر بھی وار کردیا۔ ایک دلخراش چیخ منہ سے نکلی اور وہ تار پر جاگرا۔ تار میں کرنٹ تھا۔ کرنٹ لگتے ہی وہ ختم ہوگیا۔ اب ایک باقی بچ گیا تھا اور یہ جتھے دار تھا۔ وہ گالیاں دیتا گاڑی سے اترا۔ نوجوان نے اسے بھی ٹھکانے لگا دیا اور کار میں جھانکا۔ تم کو یہ بلوائی لے جارہے تھے؟ نوجوان نے ٹارچ کی روشنی مجھ پر ڈالی۔ میں جواب دینے کے لائق کب تھی۔ خوف، غم اور بے یقینی کے کرب سے ریزہ ریزہ ہوئی مسلسل رو رہی تھی۔
سمجھ گیا تمہیں یہ ساتھ لے جارہے تھے۔ شاید اللہ نے تمہاری مدد کے لیے مجھے یہاں بھیجا تھا۔ یہ کہہ کر اس نے گاڑی کا اسٹیئرنگ سنبھال لیا۔ بلوائی زخمی تھے یا مرچکے تھے، نہیں معلوم ان کو سڑک پر پڑا چھوڑ کر اس نے گاڑی کو بھگایا۔ اب ہمیں محفوظ جگہ کی تلاش تھی۔ وہ موتیا کھان کا چکر کاٹ کر جھنڈے والی سڑک پر آگیا۔ یہاں شہر کی نسبت کچھ امن تھا۔ اس نوجوان نے کہا۔ میرا نام سلیمان احمد ہے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے بلوائیوں کے حملوں کی وجہ سے شہر میں کوئی جگہ محفوظ نہیں۔ چاہو تو میں تمہیں تمہارے گھر پہنچا سکتا ہوں۔ یہ بات سن کر غم سے میرا کلیجہ کٹنے لگا۔ بمشکل اتنا کہہ پائی۔ والدین کو انہوں نے مار دیا ہے، گھر لٹ گیا ہے، اب وہاں کوئی نہیں ہے۔
اچھا! پھر مہاجر کیمپ چلتے ہیں، وہاں مرد، عورت اور بچے ہوں گے لیکن چاہتا ہوں کہ رات کا ایک پہر اور گزر جائے۔ شاید اس میں آگے جانے کی اس وقت ہمت نہ تھی۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے ہائی کمشنر کے دفتر کا رخ کرلیا جہاں بہت سی گاڑیاں کھڑی تھیں۔ اس نے وہاں کار لگا دی۔ اس وقت میرا سر درد سے پھٹا جارہا تھا۔ اس کا بھی تھکن سے برا حال تھا۔ بولا۔ گاڑی میں ہی کچھ دیر آرام کرلیتے ہیں، صبح سوچیں گے کیا کرنا ہے۔
نیند کس کافر کو آنی تھی، مجھ پر تو خوف کے بادل چھائے تھے۔ پچھلی نشست پر مُردہ سی پڑی تھی اور وہ آگے والی نشست پر ٹیک لگائے خاموش بیٹھا تھا۔ صبح کے آثار نمودار ہوگئے، روشنی کی چادر آہستہ آہستہ پھیلنے لگی۔ یہ کیسا سویرا تھا کہ آنکھوں میں والدین کے چہرے اور کانوں میں ان کی چیخیں باقی رہ گئی تھیں۔ اب نہ کوئی اپنا تھا اس دنیا میں اور نہ کوئی گھردر رہا تھا۔
میرا بھی اس دنیا میں کوئی نہیں رہا ہے۔ سلیمان نے کہا۔ صبح ہورہی ہے لیکن ہماری زندگی میں ڈھیر سارا اندھیرا ہے۔ ان لوگوں نے بہت لوٹ مار کی ہوگی۔ میں دیکھتا ہوں۔ وہ کار سے اتر کر ڈکی کی طرف چلا گیا۔ اس کو کھولا۔ ایک بیگ میں رقم اور زیورات اور کچھ سوٹ کیس رکھے ہوئے تھے۔ اس نے سوٹ کیس کھول کر ایک مردانہ اور ایک زنانہ جوڑا نکالا۔ مجھے جوڑا دے کر کہا کہ ابھی پوری طرح روشنی نہیں ہوئی، میں ذرا دور جاتا ہوں، تم گاڑی میں کپڑے بدل لو اور اوپر یہ شال لپیٹ لو ورنہ سردی سے مر جائو گی۔
میں ننگے پائوں تھی لیکن اسے بتانے کی مجھ میں ہمت نہ تھی کہ میرے پیروں میں جوتے نہیں ہیں۔ وہ کچھ فاصلے پر کھڑا ہوگیا۔ میرے کپڑے، بوریاں اپنے اوپر ڈالنے سے خراب اور گیلے ہوچکے تھے۔ بے حد سردی لگ رہی تھی۔


جوڑا بدلنے میں ہی عافیت جانی۔ جلدی جلدی گاڑی میں کپڑے تبدیل کرکے اس کی دی ہوئی شال لپیٹ لی۔ اب کچھ جان میں جان آئی مگر کمزوری کی وجہ سے بیٹھا نہ جاتا تھا۔ سامنے ایک چائے کا ہوٹل کھلا ہوا تھا۔ وہ جاکر وہاں سے چائے لے آیا۔ چائے پیتے ہی مجھے چکر آنا بند ہوگئے اور اس کے بھی اوسان بحال ہوگئے۔ سچ ہے حالات جو بھی ہوں، بھوک انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔
صبح کی روشنی پوری طرح اجاگر ہوگئی، دن نکل آیا تھا۔ ہائی کمشنر کے دفتر کے اندر اور باہر ایک ہجوم جمع تھا۔ یہ سب نئے وطن جانے کے لیے بے چین تھے۔سلیمان نے کہا۔ بی بی! تم دھیان سے بیٹھنا اور ڈرنا نہیں۔ میں ابھی دفتر کے اندر سے ہوکر آتا ہوں۔ سلیمان کے جاتے ہی کسی نے کار کی کھڑکی کا شیشہ کھٹکھٹایا۔ یہ ایک سپاہی تھا۔ اس نے پوچھا۔ بی بی! کیا آپ اس کار میں پاکستان جارہی ہیں؟ کون ہے آپ کے ساتھ؟ میں خوف زدہ ہوگئی۔ بے اختیار منہ سے نکل گیا۔ میرا گھر والا ہے، وہ دفتر کے اندر گیا ہے، ابھی واپس آجائے گا، پوچھ لینا۔ تھوڑی دیر میں سلیمان آگیا۔ میں نے سپاہیوں کی جانب اشارہ کیا۔ یہ دو تھے اور اسلحہ ان کے پاس تھا۔ انہوں نے سلیمان سے کہا۔ ہم بڑی مشکل سے بھاگ کر یہاں تک آئے ہیں، اگر آپ پاکستان جارہے ہیں تو ہمیں ساتھ لے لیں، آپ کی راستے بھر حفاظت کریں گے۔ سلیمان نے ان پر بھروسہ کرلیا اور ساتھ بٹھا لیا۔ ساتھ بٹھانے سے پہلے مجھ سے پوچھا۔ تم نے ان کو کیا بتایا تھا میرے بارے میں کہ کون ہوں؟ جھجکتے ہوئے جواب دیا۔ ڈر گئی تھی اس لیے آپ کو گھر والا کہہ دیا۔ چلو جو تمہاری زبان سے اللہ نے کہلوایا، اچھا ہی ہوگا۔ ان میں سے ایک ڈرائیور تھا۔ سلیمان نے کہا۔ بھائی قادر! پہلے جامع مسجد چلو، نماز ادا کرلیں پھر اللہ پر توکل کرکے اسی کار سے پاکستان چلتے ہیں۔
جامع مسجد پر مجھ سے کہا۔ اگر اجازت ہو تو آپ کا محرم بن کر ساتھ چلوں۔ یہ احسن ہوگا اور ہم دونوں ایک مقدس رشتے میں بندھ کر سفر کا آغاز کریں گے۔ ہمارا ایک دوسرے کے سوا اب اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ میں نے اقرار میں سر جھکا دیا۔ سلیمان نے امام صاحب کو احوال بتا کر نکاح کے لیے استدعا کی۔ انہوں نے مجھ سے میری رضامندی جاننے کی خاطر چند ضروری سوالات کیے اور نکاح پڑھا دیا۔ اب میں کسی اجنبی کے ہمراہ نہیں بلکہ اپنے شوہر کے ہمراہ نئے وطن کی طرف جارہی تھی۔ ایک بجے انبالہ پہنچے۔ سامنے جب سروسز کلب نظر آیا، ہمارے ڈرائیور نے محفوظ جگہ دیکھ کر گاڑی روک دی۔ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد تقریباً دو بجے انبالہ سے نکل گئے۔ اللہ کا شکر کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا البتہ لاتعداد لاشیں راستے میں پڑی نظر آئیں۔ ایسے مناظر کہ میں آنکھیں بند کرلیتی تھی۔ گائوں کے گائوں جلے ہوئے نظر آئے۔
تمام راستے میں اللہ کو یاد کرتی رہی۔ امرتسر پر رسمی پوچھ گچھ کی گئی اور پھر واہگہ بارڈر کراس کرنے کی اجازت مل گئی۔ جب پاکستان کی سرزمین میں داخل ہوئے تو بے اختیار اس سرزمین پر سر رکھ دینے کو جی چاہا۔ اللہ کے حضور بخیریت پہنچ جانے پر شکرانے کے سجدے کرنے کو دل مچلنے لگا کہ جان سے زیادہ عزت آبرو کے بچ جانے کی خوشی تھی۔ آگ اور خون کے دریا سے نکل کر کس طرح بخیر وطن آئے، یقین نہ آتا تھا۔ بس اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال تھی کہ زندہ سلامت تھے۔ آج اس سفر کو یاد کرتی ہوں تو آنکھیں نیر بہانے لگتی ہیں کہ یہ وہ پاکستان تو نہیں جس کا خواب قائداعظمؒ نے اور علامہ اقبالؒ نے دیکھا تھا۔ آج اس پاک سرزمین کو کرپشن، بدعنوانی، بددیانتی اور بدنظمی نے کیسا تارتار کیا ہے کہ ہر شخص فقروفاقہ میں مبتلا نظر آتا ہے۔ اللہ ہم سب پر اپنی رحمتیں نازل کرے۔
(ش۔ت … کراچی)