Kab Say Tha Intazaar | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2350
اُن دِنوں میرے شوہر جنوبی پنجاب کے ایک شہر میں اعلیٰ پوسٹ پر لگے ہوئے تھے۔ علاقے کی حفاظت، انتظام، ترقی کے کاموں کی نگرانی، غرض یہ سارے اہم امور اُن کی ذمّہ داری تھے۔ ہم کو بڑا سا سرکاری گھر ملا ہوا تھا۔ نوکر چاکر بھی حکومت کی طرف سے ملے تھے۔ غرض اپنے وطن میں گویا اپنا راج تھا۔
میرے بچّے ان دِنوں اس قدر چھوٹے تھے کہ مجھے ہمہ وقت ایک مددگار عورت کی ضرورت تھی۔ میں چھوٹے چھوٹے تین بچوں کو سنبھالنے سے قاصر تھی۔ آئے دن میرے میاں کے ماتحت افسران کے گھروں میں دعوتوں کا سلسلہ جاری رہتا۔ وہاں جانا لازمی ہوتا کہ یہ ہماری سرکاری ملازمت کا ایک لازمہ تھا۔
میں لیڈیز کلب کی چیئرپرسن تھی، کیونکہ ڈپٹی کمشنر کی بیگم تھی۔ شہر کی سماجی و ثقافتی خواتین کی تقاریب میں شرکت کرنا ضروری ہوتا۔ گرلز اسکول اور کالج کی تقریبات میں بھی بطور مہمان خصوصی بلائی جاتی۔
مجھے بچوں کے ساتھ ان اُمور کی بجاآوری میں سخت دُشواری کا سامنا تھا۔ مرد ملازمین پر بچے نہیں چھوڑے جا سکتے تھے۔ کوئی ڈھنگ کی ’’میڈ‘‘ نہ مِل پا رہی تھی کہ جو باشعور اور کچھ پڑھی لکھی ہو اور دِن رات میرے پاس رہے۔
ایک بار مجھے عید کے موقع پر محکمہ سوشل ویلفیئر کی جانب سے ’’دارالامان‘‘ میں بطور مہمان خصوصی بلایا گیا کیونکہ وہاں پناہ لینے والی خواتین اور بچوں میں عید کے تحفے تقسیم کرانے تھے۔
جب میں وہاں گئی تو دارالامان میں موجود ایک نوجوان لڑکی نے مجھے بے حد متاثر کیا، جس کا نام عائشہ تھا۔ وہ بہت سُلجھی ہوئی اور کچھ تعلیم یافتہ لگ رہی تھی۔ صورت شکل اچھی تھی، سنجیدہ اور متین سی یہ لڑکی مجھے بہت اچھی لگی۔
میں نے سوشل ویلفیئر آفیسر سے اس بارے سوال کیا تو اُس نے بتایا کہ یہ عرصہ دو سال سے یہاں مقیم ہے۔ واقعی بہت اچھی لڑکی ہے۔ اس کے وارث تو ہیں مگر اب لاوارث ہے۔ ماں تھی جو اس کے ساتھ یہاں آئی تھی۔ پچھلے برس اُس کا انتقال ہوگیا تب سے یہ اور بھی اُداس رہتی ہے۔
مجھے اُس کی داستان سن کر افسوس ہوا۔ سوچنے لگی وارثوں کے ہوتے بھی یہ بیچاری لاوارث ہے۔ اس کا کیا بنے گا اور یہ کب تک ایسے یہاں پڑی رہے گی۔ گھر آ کر میاں سے عائشہ کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا، تم کو ایک ’’میڈ‘‘ کی ضرورت ہے۔ اگر کہو تو اُسے یہاں رکھ لیتے ہیں۔ گھر جیسا ماحول ملے گا۔ یقیناً یہ جگہ دارالامان سے زیادہ اچھی ہے۔ وہ خوشی خوشی تمہارے سب کام کر دیا کرے گی۔ میں نے ہامی بھرلی۔
میاں صاحب نے مجسٹریٹ سے بات کی پھر کچھ قانونی کارروائی پوری کرنے کے بعد ہم عائشہ کو اُس کی رضا سے گھر لے آئے۔ وہ بھی وہاں کے ماحول سے بور ہو چکی تھی۔ میرے ساتھ آتے ہی گھل مِل گئی۔
بے شک وہ زیادہ حسین نہ تھی مگر بڑی بڑی جاندار آنکھوں میں اُس کا تمام حسن چُھپا ہوا تھا۔ تاہم اُداسی اس کے ملیح چہرے پر ہر وقت پڑائو ڈالے رکھتی تھی۔ وہ کم گو تھی زیادہ تر خود میں گم رہتی تھی۔
اُسے میرے گھر آئے چھ ماہ بیت گئے۔ ایک دن بھی شکایت کا موقع نہ دیا۔ میرے بچوں کو سنبھالتی، ہر وقت تابعداری اور ہر کام سلیقے سے انجام دیتی، لیکن بہت زیادہ لیے دیئے رہنا اس کی عادت تھی۔ اس کی یہی عادت مجھے پسند نہ تھی۔ وہ سخت محتاط تھی، کسی صورت کھلنے میں نہ آتی… اور میں چاہتی تھی وہ مجھ پر اعتماد کرے، مجھ پر کھل جائے۔ حالِ دِل کہے اور میں اس کے دُکھ سُکھ میں شریک ہو جائوں۔ اس کے چہرے کا تاثر عجب تھا۔ انسان اس سے یہ نہ کہہ پاتا کہ اپنا دُکھ بتا دو۔ جب ایسا سوچ کر اُس کے سامنے جاتی گونگی بن جاتی اور کچھ کہہ نہ پاتی۔
ایک دِن جب آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے۔ میں لان میں بیٹھی تھی کہ وہ چائے کی ٹرے لے کر وہاں آ گئی۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ موسم بڑا حسین تھا، خنک جھونکے گالوں کو چھو کر عجیب تازگی اور فرحت کا احساس جگا رہے تھے۔ میں نے عائشہ کی جانب دیکھا۔ اس کے مُکھ پر فرحت اور تازگی کے احساس کی جگہ آنسو تھے جن کو وہ دُوپٹّے کے پلّو سے جلدی جلدی صاف کر رہی تھی۔
آج موقع مل گیا کہ اُس کے دِل کے چور کو پکڑ لوں۔
کیا اپنا دُکھ مجھے نہ بتائو گی۔ میں نے بڑے پیار سے کہا اور سامنے پڑی کرسی کی طرف اِشارہ کیا۔ چائے کی پیالی اس کے ہاتھ میں تھما کر دلاسا دیا۔ دیکھو … کسی کو اپنا غم بتانے سے جی ہلکا ہو جاتا ہے۔ مجھے اپنی بڑی بہن سمجھ کر بتا دو۔ وہ ذرا سا ہچکچائی پھر یوں گویا ہوئی۔
ہم کسان لوگ ہیں۔ زمینوں پر محنت ہمارا ورثہ ہے۔ ہمارا خاندان مختلف علاقوں میں بٹا ہوا تھا۔ ماموں کہیں رہتے تھے تو خالہ کہیں اور اَبّا جنوبی پنجاب کے ایک گائوں میں آباد تھے۔ شادی بیاہ کے موقعوں پر اپنے رشتہ داروں کے علاقوں میں سفر کرتے رہتے تھے۔
میری پیدائش کے کچھ عرصہ بعد والد نے کھیتی باڑی کے پیشے کو ترک کر دیا اور نزدیکی شہر میں سکونت اختیار کرلی تا کہ شہر میں رہ کر محنت مزدوری کی جا سکے۔ دراصل وہ بچوں کو پڑھانا چاہتے تھے۔
میری ماں کو تمام خاندان میں ایک خاص مقام حاصل تھا۔ وہ سب کے دُکھ سُکھ میں کام آیا کرتی تھیں۔ وہ بہت ہمدرد اور نیک دِل تھیں۔ ہمارے خاندان میں رواج تھا کہ لڑکیوں کی شادی رشتہ داروں میں ہو۔ جب میں چوتھی میں پڑھتی تھی میرے ماموں کی بیٹی فاخرہ نئی نویلی بھابی بن کر ہمارے آنگن میں آ گئی۔
میں چھوٹی سی تھی۔ بھابی بہت پیاری لگتی اور میں اس کے گرد پروانہ کی طرح گھومتی رہی۔ ہمارا گھر سکون کا گہوارہ تھا۔ پھر جیسے اس سکون کو کسی کی نظر لگ گئی۔ اسکول میں تھی کہ آیا نے بتایا جلدی گھر جائو تمہارے گھر سے رونے کی آوازیں آ رہی ہیں۔ اس وقت چھٹی کی گھنٹی بجی تھی۔ میں دوڑی ہوئی گھر کی طرف لپکی۔ پتہ چلا چچا جان کو بیل نے ٹکر مار دی ہے، اور وہ اس کے سموں سے شدید زخمی ہیں کیونکہ ٹکر سے جب چچا زمین پر گرے تو بیل نے اُن کو اپنے پیروں سے روند دیا تھا۔ انہیں جلدی سے شہر کے اسپتال لائے۔ سب چچا کو دیکھنے گئے۔ ان کا بُرا حال تھا۔ جسم سارا کچل گیا تھا، بڑا کٹھن وقت تھا۔ چچی اور اُن کے دونوں بچّے رو رہے تھے۔ باپ کے پلنگ کی پٹّی سے لگے کھڑے تھے۔ ہم سب چچا کی زندگی کی دُعائیں مانگ رہے تھے۔
ذرا دیر کو چچا ہوش میں آئے۔ سامنے امی کھڑی تھیں۔ بہ دِقّت اس قدر کہہ پائے۔ بھابی سلیمہ… خدارا میرے بچوں کا خیال رکھنا یہ میرے بچّے نہیں تمہارے بچّے ہیں۔ میں ان کو اللہ کے بعد تمہارے سُپرد کر رہا ہوں۔ اتنا کہا کہ رُوح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی۔
چچا ہم سے ہمیشہ کے لیے جُدا ہو چکے تھے۔ شروع کچھ دِن رشتہ دار ان کے بیوی بچوں کے ہمراہ رہے۔ ایک ایک کر کے وہ سب بھی اپنے گھروں کو سُدھار گئے۔ چچی اور ان کے بچّے اکیلے رہ گئے کہ جن کی کفالت کرنے والا اب کوئی نہ تھا۔
امی کو دیور کے آخری الفاظ یاد تھے بلکہ ان کے دِل پر لکھ گئے تھے۔ وہ اپنی بیوہ دیورانی اور ان کے دونوں بچوں کو گھر لے آئیں اور یہ لوگ ہمارے گھر میں رہنے لگے۔ امی تو پہلے ہی دُوسروں پر مہربان ہوتی تھیں یہ تو پھر اپنے تھے۔
میری ماں اب اپنے بچوں سے زیادہ مرحوم چچا کے بچوں کا خیال کرتی تھیں۔ والد بھی میری ماں کے اس رویئے سے خوش تھے۔ یونہی دِن گزرتے گئے اور ہم باشعور ہوگئے۔
ایک روز امی اور چچی ساتھ بیٹھی ساگ بنا رہی تھیں کہ بچوں کی شادی بیاہ کا ذکر چل نکلا۔ چچی نے کہا دیکھو آپا اگر تم ناصر کے لیے میری بیٹی کا رشتہ لے لو تو گھر کی لڑکی گھر میں رہے گی اور میں بھی اِدھر اُدھر ڈولتی نہ پھروں گی۔
اس سے اچھی اور کیا بات ہوگی۔ میری ماں نے جواب دیا… تو چچی کے چہرے پر خوشی کے پھول سے کھل گئے۔
تو پھر ہلکی سی رَسم بھی کر لیتے ہیں۔ منگنی کی چنری عائشہ پر ڈال دیتے ہیں۔
دونوں بیبیوں نے صلح سے دِن طے کیا اور دوچار رشتہ کی عورتوں کو بُلوا کر مٹھائی کے ایک ڈبّے سے رسمِ منگنی کرلی۔
چھوٹی سی عمر میں میرے سر پر سُرخ دوپٹّہ ڈالنے والی میری چچی تھیں۔ جو ہمارے ہی گھر رہتی تھیں۔ ان دِنوں پتا بھی نہ تھا کہ اس طرح چُنری اُڑھانے سے … سرخ دُوپٹے کی کیا اہمیت ہوتی ہے۔
دن گزرتے گئے شعور بڑھتا گیا۔ اب سبھی مجھے ناصر کی منگ کہتے۔ میں نے صرف پانچویں تک پڑھا۔ کیونکہ ہمارے گائوں میں پانچویں تک اسکول تھا۔ شہر کا اسکول کافی دُور تھا۔ پھر مجھے بھی پڑھنے سے کچھ ایسا خاص لگائو نہیں تھا۔
چچا مرحوم کی بیٹی سائرہ سے میرا دِل لگ گیا تھا۔ سارا دن ہم ساتھ ہوتیں، مجھے بھی شاید ایک ہم عمر ساتھی کی ضرورت تھی۔ سائرہ کی صورت میں وہ ساتھی مل گئی۔ سارا دن اُوٹ پَٹانگ باتیں کرتیں۔ صحن میں بھاگتی دوڑتیں اور خوش ہوتیں۔ یہ بڑا سنہرا زمانہ تھا۔ بچپن تو معصوم ہوتا ہے۔ جب ذرا عقل آئی تو معاشرتی پابندیوں کا احساس جاگا۔
میں بہت سادہ سی لڑکی تھی۔ ناصر سے ہنس ہنس کر باتیں کرتی۔ معلوم نہ تھا کہ یہ میرا منگیتر ہے تو اس کے ساتھ یوں فری ہو کر نہ بولنا چاہئے، لیکن بھابی ہماری غلط ذہن کی تھیں، ٹوہ میں رہنے لگیں۔ ہماری تو معصوم باتیں تھیں لیکن وہ ہمارے خلاف مواد جمع کر رہی تھیں۔ دراصل ان کو میری بیوہ چچی کا بچوں سمیت ہمارے ساتھ رہنا ناگوار تھا۔ چاہتی تھیں کہ کسی طور ان لوگوں سے نجات ملے۔ آخر وہ میرے بھائی کی توجّہ اس جانب مبذول کرانے میں کامیاب ہوگئیں۔
بھائی کو ہر وقت بتاتیں دیکھو اس لڑکی کو اتنی بڑی ہوگئی ہے دوپٹہ ٹھیک سے نہیں لیتی اور اس کا ناصر سے باتیں کرنے کا انداز غلط قسم کا ہے۔ گھر میں یہ کیا ڈراما چل رہا ہے۔ یہ سب کچھ بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے۔ آج ناگوار ہے کل ناقابلِ برداشت ہوگا۔ تب کیا کرو گے جب پانی سر سے گزر جائے گا۔
بھلا کونسا بھائی بہن کے بارے ایسے اندیشے برداشت کر سکتا ہے۔ بھائی نے امی پر دبائو ڈالا کہ چچی کو کہیں وہ اپنے گھر جا کر رہیں اب تو ان کے بچے بڑے ہوگئے ہیں۔ الگ رہ سکتی ہیں۔ چچی کا کوئی نہ تھا۔ ابو بھی ان کو بے آسرا نہ کرنا چاہتے تھے مگر ابو کی کون سنتا… بھابی نے چچی کو بہانے بہانے اتنا پریشان کیا کہ وہ ایک روز خود ہی اپنا سامان اُٹھا بچوں کو ساتھ لے کر چلی گئیں۔
ان کے ایک پڑوسی نے جو حالات سے واقف تھے۔ ناصر کو ویزا کرا دیا اور سعودی عربیہ بھجوا دیا جہاں ایک مشہور کمپنی میں ان کو ملازمت مل گئی۔ ناصر نے وہاں محنت کی اور کمائی اپنی والدہ کو بھجوانے لگے۔
چچی امی سے ملنے آتی تھیں اور کہتی تھیں کہ تمہاری بیٹی میری بہو بنے گی۔ وعدہ کیا تھا تم نے تو اس وعدے کو یاد رکھنا۔ امی جواب دیتیں، ایسا ہی ہوگا۔ خاطر جمع رکھو میں وعدہ کر کے مکرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔
ناصر میرے لیے بہت محنت کر رہا تھا تاکہ جلدی سے اس قابل ہو کہ مجھے عزت سے بیاہ کر لے جائے۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنا پرانا گھر نیا بنا لے اور اس میں نیا فرنیچر ہو۔ زندگی کی سب سہولتیں ہوں تا کہ جب میں اُس کی دُلہن بن کر اس کے گھر جائوں تو سب طرح کا آرام ملے۔
یہ باتیں مجھے سائرہ بتاتی جب وہ مجھ سے ملتی کہ میرا بھائی خطوں میں امی کو ایسی ہی باتیں لکھتا ہے۔ سائرہ کی باتیں سُنتی تو خوش ہوتی۔
میری اپنی کزن کے ساتھ دوستی اب بھی قائم تھی اور میں بہت خوش تھی۔ ناصر کی محنت رنگ لائی۔ جب آیا تو بہت کما کر لایا۔ پانچ سال بعد لوٹا تھا۔ آتے ہی سب سے پہلے مکان کو نیا کیا، پھر ٹی وی، ریفریجریٹر، غرض زندگی کی ہر سہولت سے گھر کو پُر کیا۔ اَب ان کا گھر ہمارے گھر سے زیادہ اچھا اور کشادہ تھا۔ انہوں نے ساتھ والا خالی پلاٹ بھی خرید کر اپنے احاطے میں شامل کرلیا تھا۔
بھابی کا ایک بھائی نکھٹّو تھا۔ وہ جب آتا کن انکھیوں سے تکتا اور مجھے اس کا یوں دیکھنا بُرا لگتا۔ اس سے پردہ کرنے لگی۔ بھابی کو میری یہ بات بھی پسند نہ آئی جبکہ کاشف بہانے بہانے سے میرے سامنے آنے کی کوشش کرتا۔ مجھ سے ازخود مخاطب ہونے لگتا۔ میں اس کو سخت ناپسند کرتی تھی۔
ایک دن یہ معاملہ رنگ لے آیا۔ بھائی نے امی سے کہا کہ میں چاہتا ہوں عائشہ کی شادی کاشف سے ہو جائے۔ امی تو بھائی کا منہ تکنے لگیں اور میں سکتے میں رہ گئی۔ اب بھابی کی مخالفت کا مطلب سمجھ میں آ گیا۔ کاشف تو مجھے ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ کجا میری اس سے شادی کی بات ہو رہی تھی۔ میں نے رونا شروع کر دیا۔ پہلے تو امی نے سمجھایا کہ یہ مناسب نہیں ہے۔ میں بیوہ دیورانی کو زبان دے چکی ہوں۔ جب بھابی اور بھائی نے زیادہ زور ڈالا اور ممانی بھی آ کر رشتے کے لیے بیٹھ گئیں تب امی ڈٹ گئیں۔
امی کی جرأت پر خوش تھی کیونکہ میں نے تو دِن رات ناصر کے سپنے دیکھے تھے۔ پانچ برس اُس کا انتظار کیا تھا۔ اب تو ان کے حالات بھی سُدھر چکے تھے۔ جب بھابی نے دیکھا کہ گھی سیدھی اُنگلی سے نہیں نکل رہا تو بھائی کے ہمراہ چچی کے گھر گئیں اور ان کو بتایا کہ عائشہ کا رشتہ میں اپنے بھائی کے لیے لے رہی ہوں اور یہ رشتہ لڑکی کی مرضی سے ہوا ہے۔ ناصر نے یہ بات سُنی تو وہ گھر سے نکل گیا۔ یوں بھائی اور بھابی میرے دل کا نگر اُجاڑ کر آ گئے۔ مگر امی اور مجھے علم نہ ہو سکا کہ یہ کیا وہاں کہہ کر آ گئے ہیں۔
ہم تو انتظار کر رہے تھے کہ ناصر ہمارے گھر آئے گا مگر ہفتہ گزر گیا وہ نہ آیا… اللہ کی کرنی انہی دنوں والد صاحب بیمار پڑ گئے اور دو تین دنوں کے بخار میں ہی چٹ پٹ ہوگئے۔ اب امی کا زور ٹوٹ گیا اور گھر کے فیصلوں پر بھائی کا راج چلنے لگا۔ انہوں نے ابو کے چہلم کے بعد کہہ دیا کہ یا تو عائشہ کی شادی کاشف سے کر دو نہیں تو اپنی لڑکی لے کر چچی کے گھر چلی جائو۔ جب تم نے بُرے دنوں میں ان کو رکھ لیا تھا وہ بھی تم کو رکھ لیں گی۔
امی بیٹے کے منہ سے ایسے نازیبا کلمات سُن کر بس دنگ ہی تو رہ گئیں۔ انہوں نے ماموں سے شکایت کی۔ وہ بیوی کے ڈر سے کچھ نہ بولے۔ ممانی بیٹی سے ملی ہوئی تھیں۔ اب امی کے لیے مشکل ہوگئی کہ میرا نکاح ناصر سے کیسے کریں، جبکہ چچی چاہتی تھیں کہ میرا بھائی بھی نکاح میں شامل ہو اور میرا ولی بنے۔ اسی کشمکش میں ناصر دوبارہ سعودیہ چلا گیا اور امی پر بھائی اور بھابی کا اَزحد دبائو بڑھ گیا کہ عائشہ کا نکاح کاشف سے کر دیں۔
جب امی اور میں نے بھائی کی نہ سنی تو انہوں نے ہمارا جینا دوبھر کیا اور بھابی نے تو ناطقہ ہی بند کر دیا۔ محلے میں ہر ایک سے کہتی تھیں کہ عائشہ کی منگنی تو کاشف سے ہے لیکن غلط تعلقات اس کے چچا کے بیٹے ناصر سے ہیں جس کا یہ انتظار کر رہی ہے۔
خدا ایسی بھابی کسی کو نہ دے۔ سارے خاندان، سارے محلے میں یہ بات پھیلا دی کہ عائشہ کی منگنی تو بچپن میں ٹوٹ گئی تھی اور اب ناصر نے بھی اس کو ٹھکرا دیا ہے کیونکہ یہ صحیح لڑکی نہیں ہے۔
چچی کے کانوں تک بھی باتیں پہنچ رہی تھیں۔ چاہئے تو یہ تھا کہ وہ آ کر امی کو اپنے گھر لے جاتیں لیکن وہ نہ آئیں بلکہ شرط رکھ دی جب تک تمہارا بیٹا بہن کی شادی میں شامل نہ ہوگا ہم شادی نہ کریں گے۔ اس بات سے میری ماں کا دِل ٹوٹ گیا، کہ یہی وہ دیورانی ہے کہ جب بیوہ ہوئی، میں نے بُرے وقت میں اپنے گھر رکھا۔ ان کے بچوں کو کھلایا پلایا۔ پروان چڑھایا اور ان کا یہ حال ہے کہ لوگوں کی باتوں سے ڈر کر ہم کو ٹھکرا رہی ہیں۔
بھائی اور بھابی کی بدسلوکی بھی حد سے بڑھ گئی تو امی مجھے لے کر دارالامان آ گئیں۔ خیال تھا کہ ناصر آ جائے گا تو وہی ہمارا وسیلہ اور سہارا بنے گا۔ وہ بھی نہ آیا امی نے بیٹے کی رضامندی کو بھی کھو دیا۔ آخر ان کا دارالامان میں ہی انتقال ہوگیا۔ جب انتقال کی خبر بھائی کو ملی وہ آئے۔ مرحومہ امی کو تو دفنانے لے گئے۔ مگر میں بھائی کے ساتھ نہ گئی کیونکہ مجھے اب ان لوگوں سے نفرت ہو چکی تھی۔ میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ دارالامان میں رہ کر ناصر کا انتظار کروں گی۔
جب عائشہ نے اپنی کہانی مکمل کرلی تو وہ رو رہی تھی۔ اس کی ہچکی بندھ گئی۔ میں نے گلے سے لگایا، تسلی دی اور وعدہ کیا کہ میں خود اس کی چچی کے پاس جائوں گی۔ ان کو سمجھائوں گی۔ پھر ہم ناصر سے بھی رابطہ کریں گے اور میں تم کو اپنے گھر سے دُلہن بنا کر تمہارے کزن کے گھر رُخصت کروں گی۔
کچھ دن بعد میں عائشہ کی چچی کے گھر گئی تاکہ ان کو بتا سکوں کو عائشہ میرے پاس ہے۔ بھائی کے گھر وہ نہیں جانا چاہتی اور ماں اس کی مر چکی ہے۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی جب اس کی چچی نے کہا کہ ہم عائشہ سے بیٹے کا رشتہ کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ اس کے بارے میں اس کی بھابی اور بھائی نے طرح طرح کی باتیں پھیلائی ہیں۔ میرا بیٹا بھی اسی وجہ سے بددِل ہو کر واپس چلا گیا ہے اور اب ہمارا ارادہ عائشہ کو بہو بنانے کا نہیں ہے۔
اس عورت کے منہ سے ایسی بات سن کر میں تو ششدر رہ گئی کہ جس لڑکے کے لیے اس کی ماں نے گھر چھوڑ کر دارالامان رہنا قبول کیا۔ جس سے وعدہ نبھانے کو اس کی جیٹھانی نے گھر کو خیرباد کہہ دیا، وہی آج رشتے سے انکار کر رہی تھی۔
مجھ میں حوصلہ نہ تھا کہ میں عائشہ کو یہ بات بتاتی۔ پھر بھی بتانا تو تھا ہی، جب اُسے حقیقت سے آگاہ کیا اُسے اتنا صدمہ ہوا کہ بیمار پڑ گئی اور پھر مرتے مرتے بچی، بہرحال غم کتنا بھی ہو آخر انسان جھیل لیتا ہے۔ اس نے بھی جھیل لیا۔
میرے روز و شب کے سمجھانے سے بالآخر وہ شادی پر راضی ہوگئی اور میں نے اس کی شادی اپنے ایک کزن سے کرا دی جو کہ خوشحال کھاتے پیتے لوگ ہیں۔ میں نے منّان کو عائشہ کے بارے جب بتایا اس نے کہا کہ تم اس لڑکی کو مجھ سے شادی پر آمادہ کرلو تو میں اُسے زندگی کی تمام خوشیاں دوں گا اور یہ اپنے پچھلے سارے دُکھ بھول جائے گی اور ایسا ہی ہوا۔
عائشہ کی شادی منّان سے ہوگئی۔ اس نے اس لڑکی کو اتنا پیار دیا کہ وہ ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر حال کی خوشیوں میں کھو گئی۔
دو بیٹے ہوگئے اور پھر بیٹی ہوگئی تو وہ اپنی دُنیا میں جینے لگی۔ اب تو بُھول کر بھی ناصر کو یاد نہیں کرتی۔ کئی بار منّان نے کہا کہ چلو اب بھائی اور بھابی سے صلح کرلو ان کو معاف کر دو… خونی رشتے جو اتنے قریبی ہوں کم از کم وہ نہیں ٹوٹنے چاہئیں لیکن وہ نہیں مانی۔ اس نے کہا کہ وہ مرتے دَم تک ان سے ملے گی اور نہ ان کی شکل دیکھے گی۔ جنہوں نے بڑھاپے میں ماں کو گھر سے نکالا اور دارالامان پہنچا دیا۔ میرے لیے وہ مرگئے اور میں ان کے لیے مر گئی۔ وہ آج بھی اپنوں سے برگشتہ ہے اور ان کا نام تک سننا گوارا نہیں کرتی۔
(مسز۔ الف… کراچی)