Sunday, May 19, 2024

Kabhi Socha Na Thaa | Teen Auratien Teen Kahaniyan

ہمارے گھر کے قریب ایک ماسٹر صاحب رہتے تھے، نہایت شریف آدمی تھے۔ ان کی بیوی بھی شریف اور با اخلاق تھیں ۔ یہ متوسط درجے کے لوگ تھے پھر بھی محلے کی کوئی ضرورت مند عورت ماسٹرنی کے گھر آ جاتی اور ان سے اپنی ضرورت بیان کرتی تو وہ اس کی مدد کرنے کی حتی المقدور کوشش کرتی تھیں۔
امی جان سے ان خاتون کی بہت بنتی تھی ،دونوں ہم مزاج تھیں۔ کوئی دن ایسا نہ جاتا تھا کہ وہ امی کو کچھ نہ کچھ پکا کر نہ بھیجتیں ۔ والدہ بھی اسی طرح موسم کی ہر سوغات انہیں بھجواتیں۔
ماسٹر صاحب بے اولاد تھے۔ ماسٹرنی سارا دن گھر میں اکیلی ہوتیں ،محلے کی کوئی عورت آ جاتی تو نہال ہو جاتیں۔امی جان مجھے اکثر ان کے پاس بھیج دیا کرتیںکہ کام میں ہاتھ بٹانے چلی جائو اور درس قرآن بھی لے لینا، یوں میرا ان سے بہت واسطہ رہتا۔وہ پابند صوم و صلوٰۃ تھیں۔ میں نے کبھی ان کو بیکار بیٹھے نہ دیکھا ،کسی نہ کسی کام میں مشغول رہتی تھیں۔
اللہ تعالیٰ نے خوش حالی دی تھی ،عزت بھی تھی مگر اولاد کی نعمت سے محروم تھیں۔ جس کا ان کو بہت قلق رہتا تھا ۔وہ مجھے اور میرے بھائی صابر کو اپنے بچوں کی طرح چاہتی تھیں۔ عید بقر عید پر نئےجوڑے اور عیدی دیتیں۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے نیک اور اچھے بندوں سے پیار ہوتا ہے۔ شاید اسی لئے اپنے پیاروں کو جلد اپنے پاس بلا لیا کرتا ہے۔ماسٹرنی جی بھی جلد اس دنیا سے سدھار گئیں اور ماسٹر صاحب اکیلے رہ گئے۔
کچھ دن وہ بے حد سوگوار رہے۔امی جان اکثر کھانا صابر بھائی کے ہاتھ بھجوا دیا کرتیں مگر ایسے سلسلے زیادہ دنوں تک نہیںچلتے۔ ماسٹر صاحب کو کھانے اور دیگر گھریلو کاموں کے لئے بہت تکلیف رہنے لگی تب ایک دن انہوں نے والد صاحب سے کہا کہ بھابی جان سےکہو ہمارے لئے کوئی مناسب خاتون کا رشتہ تلاش کر دیں ہمیں گھر کی دیکھ بھال کیلئے دقت رہتی ہے۔
والد نے امی جان سے تذکرہ کیا۔ وہ بولیں۔ ماسٹر صاحب کی عمر پچاس کے لگ بھگ ہو گی ۔کوئی ادھیڑ عمر خاتون عقد ثانی کے لئے مناسب رہے گی، میں محلے میں ذکر کروں گی ، ایسا کوئی رشتہ مل گیا تو ضرور یہ نیک کام کرا دیں گے۔ والدہ تو ڈھونڈتی رہ گئیں، ایک دوست کے توسط سے ماسٹر صاحب کو عقد ثانی کے لئے رشتہ مل گیا۔ جھٹ پٹ بیاہ ہو گیا اور نئی بیوی ان کے گھر آگئی۔
ہم بھی نئی بیگم کو دیکھنے گئے ۔دیکھ کرحیران رہ گئے۔ یہ نئی بیگم بمشکل اٹھارہ بیس برس کی ہوں گی۔ خوش شکل، گوری چٹی اور فیشن ایبل ۔ان کی چال ڈھال میں جیسے بجلیاں بھری ہوئی تھیں۔ ہاتھ بھر کر کانچ کی چوڑیاں پہنتی تھیں ،سرخی پائوڈر، خوشبو کی شوقین ۔ایسا زیور پہنتی تھیں جو کھنکتا ہو۔،ان کا نام نیلوفر تھا۔
سب کا خیال تھا نئی دلہن ہے، اس لئے اتنی بنی سنوری رہتی ہے لیکن نہیں۔ ان کا بنائو سنگھار ہمیشہ قائم رہا نئی دلہن جیسا۔ اگرچہ شادی کو چار برس بیت گئےتھے۔
میں اب ان کے گھر پہلے کی طرح نہیں جاتی تھی کیونکہ ماسٹرنی کی بات اور تھی امی مجھے نیلوفر کے پاس بھیجنا زیادہ پسند نہ کرتی تھیں ۔انتہائی ضرورت کے تحت چلی جاتی تھی البتہ صابر کو وہ کسی نہ کسی کام سے روز بلوا لیتیں۔ چاہے بجلی کا بل بھروانا ہو یا نل ٹھیک کرانا ہو، پہلے بھی وہ ماسٹر صاحب کے اس طرح کے چھوٹے چھوٹے کام کر دیا کرتا تھا اور اب بھی کر دیتا تھا کیونکہ ماسٹر صاحب نے اس کو پڑھایا تھا۔ جب امتحان ہوتے باقاعدگی سے اسے گھر آ کر امتحان کی تیاری کراتے تھے۔
اس خاتون سے بھی ماسٹر صاحب کے ہاں اولاد نہ ہو سکی، تاہم نیلوفر کو اس بات پر قلق نہ تھا وہ ہمیشہ خوش باش نظر آتی۔ البتہ محلے والیاں بہت جلد اس کے بارے میں عجیب و غریب باتیں کرنے لگیں جو کسی طرح بھی خوش آئند نہ تھیں۔ ان باتوں کا چرچا سارے محلے میں رہتا تاہم ماسٹر صاحب بیچارے ان سے بالکل بے خبر تھے۔


بانکا ہمارے محلے سے اگلے محلے میں رہتا تھا ۔ اصل نام تو ابرار تھا مگر اس کے لباس اور وضع قطع کی وجہ سے ان حضرت کو سب بانکاکہتے تھے ۔یہ لمبا چوڑا،خوبرو ،کسرتی بدن کا نوجوان تھا ۔عمر میں کوئی چوبیس کے قریب ہو گا، مگر ادائیں لڑکوں والی تھیں اور شوخ رومال گلے میں لپیٹے رہتا تھا۔
بانکا کھاتے پیتے گھرانے کا تھا، تبھی اسے کمانے کی فکر نہیں تھی ۔سارا وقت محلے کےبیکار اور نکمے لڑکوں میں گزار دیتا تھا۔ ان سے ملنے یہ دوسرے تیسرے دن یہاں آ جاتا اس دوران اس کی جان پہچان کسی طرح نیلوفر بیگم سے ہو گئی۔ ماسٹر صاحب اکثر کام صابر بھائی کے ذمے لگا جاتے تھے مثلاً سبزی لا دینا، سوئچ بورڈ ٹھیک کرا دینا، یہ کام صابر ان کے گھر جا کر کرآتا تھا۔
ایک دن صابر کسی کام سے استاد صاحب کے گھر گیا۔نیلوفر گھر کا بیرونی دروازہ بند کرنا بھول گئی تھی۔ صابر جونہی کمرے کی طرف گیا اس نے بانکے کو نیلوفر کے ساتھ بیٹھے دیکھا۔ وہ چکرا گیا کہ اس آوارہ منش کا ادھر کیا کام۔وہ نو عمر لڑکا تھا پس گھبرا کر الٹے قدموں لوٹ آیا۔ اور اس بات کا کسی سے تذکرہ نہ کیا ۔
نیلوفر نے بھائی کو پلٹ کر جاتے دیکھ لیا تھا وہ سہم گئی ۔اس کا خیال تھا کہ ضرور صابر ماسٹر صاحب سے اس بات کا تذکرہ کرے گا مگر صابر نے انہیں نہیں بتایا۔ سوچ کر کہ کہیں بات طلاق یا خون خرابے تک نہ پہنچ جائے وہ چپ سادھ گیا۔
اس دن کے بعد صابر ان کے گھر جانے سے کترانے لگا مجھے بھی منع کر دیا کہ اگر ماسٹرنی بلائے تو بھی مت جانا۔ اب میرے دل میں کسک ہوئی کہ ماسٹر صاحب بیچارے کتنے سیدھے سادے اور شریف ہیں مگر، ان کی بیوی ان کو دھوکا دے رہی ہے۔ وہ صبح ہی گھر سے نکل جاتے۔ ان کے جانے کے بعد یہ اکیلی من مانی کرتی ۔اب سمجھ میں آیا کہ محلے کی عورتیں کیوں اس سے ملنا پسند نہیں کرتیں اور اسے برا بھلا کہتی ہیں۔ مجھے نیلوفر سے نفرت محسوس ہونے لگی ۔
ایک دن میر ی کاپی ختم ہو گئی ۔ہوم ورک کرنا تھا ، نئی کاپی لینے محلے کی قریبی دکان پر گئی۔ واپسی پر کیا دیکھتی ہوں کہ نیلوفر دروازے پر کھڑی ہے ۔مجھے دیکھ کر آواز دی ۔شاد بی بی ذرا ادھر آنا ۔مجھے کچھ چیزیں منگوانی ہیں وہ لکھ دو ۔صابر سے کہنا لادے۔ مجبوراً میں ان کے گھر چلی گئی۔ انہوں نے کاپی پینسل لا کر دی اور سودالکھوانے لگیں۔ مجھے ماسٹرنی کے گھر میں جاتے صابر نے دیکھ لیا تھا۔ چونکہ منع کر چکا تھا کہ میں ان کے گھر نہ جایا کروں، غصے سے میرے پیچھے آ گیا اور گھورنے لگا ۔ ماسٹرنی سمجھ گئی ۔بولی ۔صابر اس پر کیوں غصہ نکال رہے ہو۔ تم نہیں آئو گے تو کسی کو تو بلائوں گی۔ بھائی نے کاپی پینسل میرے ہاتھ سے لے لی۔تم گھر چلو۔ میں جو سودا انہوں نے منگوایا ہے ، ان کو لا کر دے دیتا ہوں۔
میں ڈری سہمی گھر آ گئی۔بھائی نے سودا لا کر دیا نہیں۔ معلوم نہیں مگر اصل واقعہ کے چند دنوں بعد ہی پھر وہ واقعہ پیش آیا کہ جس نے سارے محلے کو ہلا کر رکھ دیا۔
ماسٹر صاحب حسب معمول صبح سویرے اپنی ڈیوٹی پر چلے گئے۔ کسی محلے دار نے بانکے کو ان کے گھر کے اندر جاتے دیکھ لیا۔ اس نے گھر سے تالا لا کر ماسٹر صاحب کے بیرونی دروازے کو باہر سے مقفل کر دیا۔ اور محلے کے لوگوں کو گھر کے دروازے پر کھڑا کر کے ماسٹر صاحب کو بلانے چلا گیا۔ لوگوں کی آوازوں پر بانکے کو خطرے کا احساس ہو گیا ۔وہ کسی طرح گھر کی پچھلی دیوار سے کود کر فرار ہو گیا۔ جب ماسٹر صاحب گھر پہنچےتو لوگوں نے بتایا کہ کوئی تمہارے گھر کے اندر ہے، اسی لئے ہم نے تالا لگا دیا ہے ۔اکثر یہ تمہاری غیر موجودگی میں گھر میں جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ تم خود اس سے نمٹ لو اور اس کے آنے کا سبب دریافت کرو۔
بیچارے ماسٹر صاحب کا
رنگ سفید پڑ گیا۔ کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا۔ جب اندر گئے تووہاں کوئی موجود نہ تھا صرف نیلوفر بیگم تھیں ۔بہرحال اتنے سارے محلے کے لوگوں کی بات کو وہ نظر انداز نہیں کر سکتے تھے ۔بیوی سے پوچھا کہ وہ کون ہے جو میری غیر موجودگی میں یہاں آتا ہے ۔
نیلوفر نے خاموشی اختیار کر لی تو ماسٹر صاحب نے غصے میں اسے پیٹنا شروع کر دیا۔ شور کی آواز سن کر محلے کے دو بزرگ گھر کے اندر گئے۔ اور انہوں نے استاد صاحب کو مار پیٹ سے روکا اور مشورہ دیا کہ اس خاتون کو ان کے میکے چھوڑ آئیں اور وہاں ان کے بز رگوں کی موجودگی میں اس معاملے کا فیصلہ کرلیا جائے۔
نیلوفر کا میکہ گائوں میں تھا۔شام ہی کو ماسٹر صاحب نے سامان بندھوایا اور بیوی کو میکے چھوڑنے چلے گئے۔ چار دن بعد وہ واپس آئے مگر اکیلے ،بیوی ساتھ نہیں آئی تھی۔محلے والے یہ سمجھ رہے تھے کہ نیلوفر کو میکے چھوڑ آئے ہیں مگر دو روز بعد ہی پولیس آ گئی اور ماسٹر صاحب کو گرفتار کر کے لے گئی۔
والد صاحب پتا کرنے گئے۔ پتا چلا کہ استاد صاحب نے ایک پہاڑی نالے کے پاس بیٹھ کر بیوی کو اعتماد میں لیا اور معافی کا وعدہ کر کے سچی بات کہنے پر اصرار کیا۔ میٹھی ٹھنڈی باتیں کیں اور یہ قسم بھی کھائی کہ اگر تم سچ بتا دو گی تو جسے تم پسند کرتی ہو، طلاق دے کر تمہاری شادی اسی سے کروا دوں گا۔
وہ بے قوف ان کے بھرے میں آ گئی۔ بتا دیا کہ آپ کے ساتھ مطمئن زندگی نہیں گزار سکتی۔آپ مجھ سے عمر میں بہت بڑے ہیں۔ میں اولاد کی آرزو رکھتی ہوں،مجھ پر رحم کریں، اور آزاد کر دیں۔ میں بانکے کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہوں ۔یہ بات میرے والد اور بھائیوں کو نہ بتانا ورنہ وہ میرا نہیں آپ کا ساتھ دیں گے اور مجھے دوبارہ آپ کے ساتھ جانے پر مجبور کر دیں گے۔
ساری رام کہانی ماسٹر صاحب نے ٹھنڈے دل سے سن لی اور پھر اسی وقت بیوی کو بہتے نالے میں دھکا دے کر اس سے خلاصی حاصل کرنے کے بعد وہ تین دن ایک دوست کے گھر میں سکون سے رہتے رہےاور چوتھے روز گھر آ گئے۔
نجانے کس نے پولیس کو اطلاع کر دی اور یوں جب پولیس نے ان کو دھر لیا تو انہیں پولیس کے سامنے اعتراف کرنا پڑا کیونکہ مار پیٹ کے وہ متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔ نیلوفر کو اونچائی سے دھکا دیا گیا تھا۔ تیز بہائو میں بہتی لاش آ گے جا کر ایک پتھر میں اٹک گئی۔
ماسٹر صاحب تو اپنی دانست میں نیلوفر کا کام تمام کرکے گھر لوٹ آئے تھے مگر لاش مل جانے کی وجہ سے ان کی بیوی کے میکے والوں نے ان کے خلاف رپورٹ درج کرا دی۔ اس طرح پولیس ان کو گرفتار کر کے لے گئی۔
مجھے آج بھی یہ سوچ کر دکھ ہوتا ہے کہ ماسٹر صاحب جیسے اچھے آدمی کے ساتھ حالات نے کیا ستم کیا ،کہ قتل جیسا جرم ان سے سرزد ہوا۔ کاش نیلوفر اچھی عورت ہوتی تو ان کو جیل نہ کاٹنی پڑتی ۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ماسٹر صاحب کو سوچ سمجھ کر دوسری شادی کرنی چاہئے تھی۔آخر انہوں نے کیوں اپنے سے خاصی کم عمر لڑکی سے بیاہ کر لیا اور بیاہ کیا تو اس بات کا دھیان نہ رکھا کہ ہر لڑکی کو شادی کے بعد اولاد کی آرزو ہوتی ہے۔
ہر عورت اولاد کی خوشی دیکھنا چاہتی ہے۔ اگر ان کے ہاں اولاد نہیں ہو سکتی تھی تو کسی عمر رسیدہ بیوہ سے بیاہ کر لیتے، جس کے بچے ہوتے تاکہ اس عورت کا کلیجہ ٹھنڈا رہتا ۔ان کے بچوں کی کفالت کا ثواب بھی ان کو ملتا۔
غرض جتنے منہ اتنی باتیں لیکن ہم ماسٹر صاحب کے احسان مند تھے کہ ہمیں پڑھایا تھا اور بڑی ماسٹرنی کو یاد کرتے تھے جو ہم سے پیار کرتی تھیں۔ یہ گھرانہ محلے میں مثالی تھا جو حالات کی ستم ظریفی سے تباہ ہوا۔ سچ ہے زندگی کا ہر اہم فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے ،ورنہ کبھی کبھی تباہی مقدر بن جاتی ہے اور انسان اس بربادی سے پہلو نہیں بچا سکتا۔
(م۔گوجرانوالہ)

Latest Posts

Related POSTS