Kala Jadu | Episode 22

133
سلامت علی صاحب چلتے ہوئے لڑکھڑا رہے تھے۔ مجھے ان کی حالت کا اندازہ ہوگیا۔ وہ خود کو لاکھ سنبھالنے کی کوشش کررہے تھے مگر خوف سے ان کا برا حال تھا۔ غلطی کی تھی انہوں نے ان جادوگروں کی زد میں آسکتے تھے۔ میں نے انہیں سہارا دیا اور انتہائی مشکل سے یہ طویل سفر طے ہوا۔ ہم گھر میں داخل ہوگئے۔
’’اب کیاکرو گے؟‘‘ انہوں نے پوچھا اور میں مسکرا دیا۔
’’اللہ بہتر جانتا ہے۔‘‘
’’میں جائوں…؟‘‘
’’جی۔ آرام کیجیے۔‘‘ میں نے جواب دیا۔ سلامت علی اندر چلے گئے اور میں اپنی رہائش گاہ میں داخل ہوگیا۔ پھر نہ جانے کب تک بستر پر میں اس بارے میں سوچتا رہا تھا۔ دوسری صبح معمول کے مطابق تھی ناشتے پر سلامت علی سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ فراست بھی نہیں ملا تھا۔ فرخندہ کچھ دیر کے بعد نظر آئی کچھ پریشان تھی۔
’’کیا بات ہے؟‘‘
’’ابو کا بخار اور تیز ہوگیا ہے۔‘‘ اس نے تشویش سے کہا اور میں چونک پڑا۔
’’سلامت علی صاحب کو بخار آگیا ہے۔ مجھے کسی نے بتایا بھی نہیں۔‘‘
شدید بخار ہے۔ بے ہوشی طاری ہے۔ بحرانی کیفیت ہے اور نہ جانے کیا کیا بڑبڑا رہے ہیں۔ کبھی ’’بھینسا بھینسا چیختے ہیں۔ کہتے ہیں ہٹ جائو سینگ مار دے گا۔ کبھی کہتے ہیں لے گیا لے گیا سر لے گیا…!‘‘ فرخندہ نے بتایا… اور میں نے گہری سانس لی۔ اس بات کا خدشہ تھا مجھے رات ہی کو ان کی کیفیت کا اندازہ ہوگیا تھا۔
’’فراست کہاں ہیں؟‘‘
’’کسی کام سے گئے ہیں۔ آپ چاہیں تو ابو کے پاس چلیں۔‘‘
’’ہاں ضرور…!‘‘ میں نے کہا۔ سلامت علی کا چہرہ سرخ ہورہا تھا۔ کبھی آنکھیں کھول کر دیکھتے کبھی عجیب عجیب سا منہ بناتے کسی پر نگاہ نہیں جما رہے تھے۔ میں نے ان کی پیشانی پر ہاتھ رکھا تو وہ چیخ پڑے۔
’’ٹکر مار دی۔ سر پھٹ گیا۔ گردن کٹ گئی اور دیکھو وہ دیکھو گردن لے گیا۔‘‘
’’سلامت علی صاحب۔ مجھے دیکھیے میں کون ہوں۔‘‘ میں نے کہا اور انہوں نے آنکھیں کھول دیں۔ پھر گردن گھما کر مجھے دیکھا۔ میں نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ دل میں ایک آیت کا ورد کیا اور وہ مجھے دیکھتے رہے۔ پھر انہوں نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔ اتنی دیر میں فراست واپس آگیا۔
’’ڈاکٹر اشتیاق بھی گئے ہوئے ہیں۔ میرا خیال ہے میں…‘‘
’’نہیں فراست، ضرورت نہیں ہے۔ بخار ابھی تھوڑی دیر میں اتر جائے گا۔‘‘ میں نے کہا۔ فراست نے عجیب سے انداز میں مجھے دیکھا اور پھر ماں کی طرف دیکھنے لگا سب پریشان تھے۔ فراست میرے ساتھ باہر نکل آیا پھر بولا۔
’’کچھ دیر پہلے میں نے ٹمپریچر دیکھا تھا۔ تم یقین کرو ایک سو پانچ بخار ہے یہ بہت خطرناک ہے۔‘‘
’’نہیں ٹھیک ہوجائیں گے فکر مت کرو…!‘‘
’’مسعود ایک بات بتائو گے؟‘‘ فراست عجیب سے لہجے میں بولا۔
’’ہوں۔ ضرور۔‘‘
’’پچھلی رات تم اور ابو کہاں گئے تھے۔‘‘ فراست عجیب سے لہجے میں بولا اور میں چونک کر اسے دیکھنے لگا۔ اس نے کہا اس وقت میں جاگ رہا تھا۔ میں نے تمہیں اور ابو کو آتے ہوئے دیکھا اور پھر صبح کو… امی نے بتایا کہ بخار رات ہی کو چڑھ آیا۔ وہ سردی سے کپکپا رہے تھے۔ مجھے گمان ہوا کہ فراست کسی بدگمانی کا شکار ہورہا ہے۔ ایک لمحے سوچنے کے بعد میں اسے ہاتھ پکڑ کر اپنے کمرے میں لے گیا۔ پھر میں نے کہا۔
’’رات کو میں کالی موری گیا تھا۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ سلامت علی صاحب میرا پیچھا کررہے ہیں۔ وہ کالے جادو کی بستی ہے۔ بس وہاں پہنچ کر وہ ڈر گئے ہیں اور کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
’’گویا ہمارا اندازہ ٹھیک تھا۔ فرخندہ کہہ رہی تھیں کہ تم مانو یا نہ مانو مسعود اس ساحرہ کا شکار ہوگئے ہیں، ان کے انداز سے پتہ چلتا ہے۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ میں حیرت سے بولا۔
’’اس کا حسن شیطانی صفات کا حامل ہے اس کی آنکھوں میں سحر ہے جسے دیکھ لیتی ہے وہ مصیبت میں پھنس جاتا ہے وہ ضرور جادو گرنی ہے۔‘‘
’’کون… خدا کے بندے۔‘‘ میں نے حیرت سے کہا۔
’’بننے کی کوشش مت کرو، میں پوجا کے بارے میں کہہ رہا ہوں۔‘‘ فراست نے سرد لہجے میں کہا۔ میں حیران نگاہوں سے اسے دیکھتا رہا۔ پھر میں نے ملامت آمیز لہجے میں کہا۔
’’فراست، وہ ہندو ہے اور میں خدا کے فضل سے مسلمان، میرے اور اس کے درمیان ایسا کوئی رابطہ بھلا کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘ فراست نے سنجیدہ نگاہوں سے مجھے دیکھا۔ پھر بولا۔
’’اگر ایسی کوئی بات نہیں ہے تو پھر تم کالی موری کیوں گئے تھے؟‘‘
’’تمہارے خیال میں کیوں جاسکتا تھا؟‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’بھئی ہمارے ذہن میں تو صرف یہی آتا ہے کہ تم بھی اس کے حسن سے متاثر ہوگئے اور اس کے چکر میں مارے مارے پھر رہے ہو۔‘‘
’’میرا خیال تو یہ ہے کہ بلکہ تھا فراست کہ چونکہ سری رام جی اور سلامت علی صاحب کے انتہائی گہرے دوستانہ تعلقات ہیں بلکہ یہ بات بھی میرے علم میں آئی ہے کہ تمہاری دادی جان کی دعائوں سے سری رام جی کے ہاں پوجا پیدا ہوئی تھی، ایسے حالات میں تم دونوں بہن بھائی کے بھی اس سے گہرے تعلقات ہوں گے، لیکن یوں لگتا ہے جیسے تم دونوں کے دل میں اس کے لیے کوئی کدورت ہے یا پھر یا پھر…‘‘
’’نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے مسعود صاحب، حقیقت یہ ہے کہ ہم لوگوں نے بچپن ساتھ گزارا ہے۔ پوجا بہت حسین ہے اسے اپنے حسن پر ناز بھی تھا لیکن ہمارے لیے وہ صرف چاچا جی کی بیٹی ہے۔ ہم نے کبھی اسے نہ بہت زیادہ حسین سمجھا اور نہ کوئی مختلف شے مگر بس عجیب و غریب فطرت کی مالک ہے وہ اور پچھلے کچھ عرصے سے تو اس کی کیفیت عجیب ہی ہوگئی ہے، کسی کو منہ ہی نہیں لگاتی لیکن ہمیں ہمیں…‘‘
فراست نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
’’ہاں کہو آگے کہو…‘‘
’’نہیں بس، فرخندہ کا یہ خیال تھا کہ تم اس میں غیر معمولی دلچسپی لینے لگے ہو۔‘‘
’’دلچسپی تو میں اس میں لے رہا ہوں فراست…‘‘
’’کیوں…؟‘‘
’’اس کے متعلق جو کہانیاں میں نے سنی ہیں وہ بڑی سنسنی خیز ہیں۔‘‘
’’کوئی خاص کہانی نہیں سنی ہوگی، سوائے ابو کی زبانی، ابو نے جوکچھ تمہیں بتایا ہوگا، بس اتنا ہی ہوگا اور ابو بھلا حقیقتیں کیسے بتاسکتے ہیں کیونکہ معاملہ ان کے دوست سری رام کا ہے۔‘‘
’’اچھا کچھ اور حقیقتیں بھی ہیں؟‘‘
’’ہاں ہیں، بہت سے لوگ جانتے ہیں، مگر مجھے معلوم ہے کہ یہاں چندوسی میں تمہاری ملاقات ہوئی ہی کتنے لوگوں سے ہے۔‘‘
’’کیا کہانی ہے فراست مجھے بتائو…؟‘‘
’’کوئی طویل کہانی نہیں ہے، بس یوں سمجھ لو کہ گووندا اور اس کا خاندان ہندوئوں کی زبان میں نیچ ذات لوگوں کا خاندان ہے۔ گووندا کے ماں باپ سری رام کے نوکر تھے۔ گووندا خود بھی بچپن سے سری رام کی چاکری کرتا رہا تھا اور اسی دوران اسے پوجا سے محبت ہوگئی۔ پوجا بھی سب کچھ بھول کر کہ وہ نیچ ذات ہے یا اونچ ذات اس سے محبت کرنے لگی۔ اب یہ کوئی ایسی بات تو نہیں تھی۔ دونوں جوان ہوگئے اور پھر سری رام جی کو یہ بات معلوم ہوگئی کہ دونوں ایک دوسرے کو چاہتے ہیں۔‘‘
’’اوہ تو تمہارا مطلب ہے کہ پوجا بھی گووندا کو چاہتی ہے؟‘‘
’’یقینی طور پر ایسے معاملات یکطرفہ نہیں ہوتے اور اس کے بعد جب سری رام جی کو یہ بات معلوم ہوگئی تو بس یوں سمجھو کہ گووندا کے خاندان پر عتاب نازل ہوگیا۔ ان کا ذریعۂ معاش ہمیشہ سے سری رام جی کی ملازمت تھا۔ سری رام جی نے انہیں اس سے محروم کردیا۔ وہ بھوکے مرنے لگے۔ گووندا کی ماں مرگئی۔ کچھ عرصے کے بعد باپ مرگیا، بس خاندان کے دوسرے لوگ باقی رہ گئے تھے۔ خود گووندا کی حالت بھی بہت زیادہ خراب تھی۔ سری رام جی نے جب اس سے پوچھا کہ کیا یہ سچ ہے کہ وہ پوجا کو چاہتا ہے تو اس نے سچائی سے اظہار کردیا تھا۔ نتیجے میں اسے چار دن تک بھوکا پیاسا سری رام جی کے گھر کے ایک بند کمرے میں رہنا پڑا اور جب سری رام جی نے یہ محسوس کیا کہ وہ بھوک سے مرجائے گا اور اپنی ضد نہیں چھوڑے گا تو اسے جوتے مار کر وہاں سے نکلوادیا کہ کہیں وہ ان کے گھر میں ہی نہ مرجائے۔ نجانے کیا کیا تکلیفیں اٹھائیں بے چارے گووندا نے، اور اس کے بعد وہ یہاں سے غائب ہوگیا تھا، پھر اس نے کیا کیا، یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ واپس آیا تو وہ شیطان کے مقابلے میں شیطان بن چکا تھا۔ اب یہ دیکھو ناں مسعود کہ اونچی اور نیچی ذات کیا ہوتی ہے۔ ہمارے مذہب میں تو اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اس کے بعد اب گووندا نے سری رام جی کو صحیح طور پر سنبھال رکھا ہے۔‘‘
’’پوجا خود کچھ نہیں کہتی۔‘‘
’’نہیں وہ پاکباز خاتون بس خاموش رہتی ہیں ہر ایک سے ملنا جلنا بات کرنا چھوڑ دیا ہے۔ سری رام جی سے بھی کوئی شکایت نہیں کرتیں اور جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ کرنے پر آمادہ ہوجاتی ہیں، لیکن لیکن یہ سب دکھاوا ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ بھی گووندا کی سازش میں شریک ہے۔‘‘
’’کمال ہے، کمال ہے۔‘‘ میں نے کہا اور اس کے بعد میں خاموش ہوگیا۔ یہ کہانی واقعی عجیب اور دلچسپ تھی اور اب میں الجھ کر رہ گیا تھا۔ فراست تو کچھ دیر میرے پاس بیٹھنے کے بعد چلا گیا۔ میں نے اسے اطمینان دلایا تھا کہ ایسا کوئی احمقانہ تصور میرے ذہن میں موجود نہیں ہے، اور شاید اسے یقین بھی آگیا تھا لیکن اب میرے لیے ذرا الجھن کا مقام پیدا ہوگیا تھا۔ اونچ نیچ ذات کا معاملہ تھا۔ گووندا نے شیطانی علوم سیکھ لیے تھے اور اس کے ذریعے اب وہ طاقت حاصل کرچکا تھا لیکن مجھے اب اس سلسلے میں کیا کرنا چاہیے، دو محبت کرنے والے جن کا تعلق ایک دوسرے سے روحانی تھا، میری وجہ سے کسی عذاب میں گرفتار نہ ہوجائیں۔ یہ مجھے نہیں کرنا چاہیے اور جواب دینے والا ضمیر تھا، اور ضمیر میرے اس خیال سے غیر مطمئن نظر نہیں آرہا تھا۔ میں نے دل میں فیصلہ کیا کہ کسی بھی طرح اس کے اس مسئلے میں ٹانگ اڑانا مناسب نہیں ہے۔ اگر میں گووندا کو کوئی نقصان پہنچادوں تو یہ ظلم ہوگا۔ کیونکہ وہ ظلم سے مجبور ہونے کے بعد شیطانی حرکتوں پر اترا ہے، البتہ میں اس کی کسی شیطانی حرکت میں اس کا ساتھ بھی نہیں دے سکتا تھا۔ بہت غور کرنے کے بعد میں نے یہی فیصلہ کیا کہ اس مسئلے میں سری رام جی کی کوئی مدد نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی گووندا کا کوئی ساتھ دیا جاسکتا ہے۔ مجھے ان دونوں کے معاملات سے الگ ہوکر چندوسی سے نکل جانا چاہیے۔ پابند تو تھا نہیں کسی کا، کوئی قید نہیں تھی میری مرضی تھی، جس مسئلے میں چاہتا ٹانگ اڑاتا اور جس میں نہ چاہتا نہ
اڑاتا۔ یہ فیصلہ قطعی اور آخری تھا لیکن اب ایسی مصیبت بھی نہیں آئی تھی کہ میں فوراً ہی یہاں سے فرار ہوجاتا۔
کافی وقت یہاں گزرا، فراست تو پہلے ہی چلا گیا تھا، میں اپنی آرام گاہ میں خاصا وقت گزارنے کے بعد باہر نکلا تو فرخندہ نظر آگئی۔ میں نے اسے روک کر سلامت علی صاحب کے بارے میں پوچھا تو اس نے پرسکون لہجے میں بتایا کہ بخار اتر چکا ہے اور اب وہ گہری نیند سو رہے ہیں۔ مجھے یقین تھا کہ بخار اتر جائے گا۔ فرخندہ اب خاصی مطمئن نظر آرہی تھی۔
تھوڑی دیر کے بعد میں تیار ہوکر چل پڑا۔ گووندا سے ملاقات کرنا چاہتا تھا۔ پچھلی رات ہی کو اس سے ملتا، اگر سلامت علی صاحب میرا پیچھا کرتے ہوئے وہاں نہ پہنچ جاتے۔ گھر سے نکل آیا، پیدل چلتا رہا۔ کالی موری کا فاصلہ اچھا خاصا تھا۔ دھوپ آہستہ آہستہ تیز ہوتی جارہی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد میں کالی موری کے کھنڈرات میںداخل ہوگیا۔ یہاں وہی لامتناہی سناٹا چھایا ہوا تھا اور کہیں کوئی نظر نہیں آتا تھا۔ میں گووندا کو تلاش کرتا ہوا آگے بڑھنے لگا اور پھر میں نے اسے آواز دی۔ میرے آواز دینے پر وہ ایک بڑے سے پتھر کے پیچھے سے باہر نکل آیا۔ عجیب سا حلیہ بنا رکھا تھا۔ چہرے پر سنگین خاموشی طاری تھی۔ میں اسے دیکھ کر مسکرادیا اور وہ سنجیدہ نگاہوں سے مجھے دیکھتا رہا۔ میں نے کہا۔
’’تمہیں مبارکباد دینا چاہتا ہوں گووندا کہ تم نے نہ صرف اپنا قول نبھایا بلکہ اپنے دشمن کا خاتمہ بھی کردیا…‘‘
’’وہ ہمارا دشمن نہیں تھا میاں جی۔ وہ، بس یوں سمجھ لیں کہ ہم نے یہ سب کچھ نہیں چاہا تھا۔ کالا جادو کرتے ہیں مگر کسی کا جیون نہیں لیتے، پر آپ نے ایسی بات کہہ دی تھی اور، اور وہ نہ ماننے والوں میں سے تھا۔ سو ہم نے اس سے مقابلہ کیا اور وہ ہمارے سامنے شکست کھاگیا۔‘‘
’’مجھے اس کا علم ہے گووندا اور تمہاری کہانی بھی میرے علم میں آگئی ہے۔ تم پوجا سے محبت کرتے ہو…‘‘ گووندا کے چہرے پر عجیب سے آثار پھیل گئے، اس نے کہا۔
’’یہ کہانی، میاں جی! تمہیں چندوسی والوں ہی نے سنائی ہوگی لیکن چندوسی والے سری رام جی کے خوف سے ہمیشہ ادھوری کہانی سناتے ہیں۔ اگر پوری کہانی سننا چاہو تو میں تمہیں سنا سکتا ہوں۔‘‘
’’نہیں گووندا میں نے پوری کہانی ہی سنی ہے۔ مجھے علم ہوگیا ہے کہ سری رام جی نے تمہارے اہل خاندان کے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے اور اور تمہیں بھی کافی اذیتیں پہنچائی ہیں۔‘‘
’’اگر سن چکے ہو میاں جی تو پھر خود فیصلہ کر لو کہ ہمارا کیا قصور ہے۔ میں سری رام جی کے مظالم سے تنگ آکر باہر نکل گیا۔ میرے اندر ہمت تھی، میں اگر چاہتا تو بے شمار دولت کما کر ایک امیر آدمی بن سکتا تھا لیکن سری رام جی جیسے ہٹ دھرم کبھی اس بات کو تسلیم نہ کرتے اور یہ نہ مانتے کہ، کہ ایک نیچ ذات ان کا برابر والا ہوسکتا ہے۔ بس اس خیال نے میاں جی دماغ گھمادیا اور پھر میں نے سوچا کہ کیوں نہ ایسی طاقتیں حاصل کی جائیں جن کے ذریعے سری رام جی کو مجبور کردیا جائے۔ میں نے یہاں پر بھی دھوکہ نہیں کیا اور سری رام جی کو یہ سمجھا دیا کہ میرے پاس کالی قوتیں ہیں۔ وہ اگر سیدھی طرح نہ مانیں گے تو پھر میں بھی انگلیاں ٹیڑھی کر لوں گا۔ میاں جی سب کچھ کر سکتا تھا میں ان کالی قوتوں کو حاصل کرنے کے بعد لیکن میں نے کچھ نہیں کیا۔ میں سری رام جی کو دھوکہ بھی دے سکتا تھا۔ پوجا کو ایسے نقصانات پہنچا سکتا تھا کہ اس کے بعد سری رام جی اسے اپنے ہاتھوں سے نکال کر گھر سے باہر ڈال دیتے، مگر، مگر میں پوجا کو اسی عزت کے ساتھ اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں جس طرح لڑکیاں اپنے گھروں سے وداع ہوتی ہیں۔ یہ اس کی عزت کے لیے ہے میاں جی کیونکہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ ورنہ میرے کالے جادو کے سامنے کیا سری رام جی اور کیا ان کی اوقات۔‘‘ گووندا نے کہا۔ میں اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔ پھر میں نے کہا۔
’’ٹھیک ہے گووندا، بہرطور میں تمہیں دعائیں ہی دے سکتا ہوں، اس کے علاوہ اور کیا کرسکتا ہوں۔‘‘
’’میاں جی، دیکھو ہمارے کالے علم نے بتایا ہے کہ تم کالے علم کے خلاف عمل کرتے ہو۔ ہمارے ساتھ ایسا مت کرنا۔ اگر تم نے ایسا کیا تو یہ ایک مظلوم کے ساتھ اور ظلم ہوگا۔ بس اس کے علاوہ ہم تم سے اور کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘‘
گووندا نے کہا اور میں پُرخیال انداز میں گردن ہلانے لگا۔ پھر میں نے کہا۔
’’نہیں گووندا۔ یہ سب کچھ معلوم کرنے کے بعد میں تمہارے خلاف کچھ نہیں کرنا چاہتا مگر تم سے کچھ اور کہنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کہو مہاراج…‘‘
’’گووندا۔ میرا تجربہ زیادہ نہیں ہے لیکن ایک بات سب ہی جانتے ہیں محبت آسمانی جذبہ ہوتا ہے۔ تمہارے دین دھرم میں بھی اسے بھگوان کا روپ کہا جاتا ہے۔ بھگوان کے اس سندر روپ کو تم نے شیطان کی آغوش میں کیوں دے دیا؟‘‘
گووندا میری صورت دیکھتا رہا۔ پھر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ سسکیاں لیتے ہوئے بولا۔ ’’جیون سے زیادہ پیاری ہے وہ ہمیں۔ بچپن سے ہماری ہے وہ۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کے سوا کچھ نہیں سوچا۔ بچپن میں بھی وہ کہتی تھی کہ گووندا ہم ہمیشہ ساتھ کھیلا کریں گے، چاہے بوڑھے ہوجائیں، چاہے مرجائیں۔ جوانی میں بھی اسے پوری امید تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ ماتا پتا کی اکیلی ہے وہ اس کے لیے جیون دے دیں گے۔ وہ اس کے لیے اونچ نیچ کی ساری دیواریں گرادیں گے اور ہمیں ایک کردیں گے، مگر یہ نہ ہوا۔ سری رام جی اتنے کٹھور ہوگئے کہ انہوں نے ان پر بھی دیا نہ کی جنہوں نے جیون بھر ان کی سیوا کی۔ ہم نے اپنے ماتا پتا اپنے پریم کی بھینٹ چڑھا دیئے۔ میاں جی ہمیں یہ حق نہ تھا۔ ہزار بار مرجاتے ہم اپنے ماتا پتا کے لیے مگر۔ مگر سری رام جی نے۔ پھر ہم پر شیطان آگیا اور، اور ہم شیطان بن گئے۔ سب کچھ کھودیا ہم نے۔ جیون میں بس ایک آشا ہے، پوجا۔ نہیں میاں جی، اتنا بڑا بلیدان دینے کے بعد ہم پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ جو ہونا تھا وہ ہوچکا اب… پوجا ہماری ہوگی… ورنہ کسی کی نہ ہوسکے گی۔ وہ بھی اس سنسار سے جائے گی ہم بھی جائیں گے۔ شیطان اب انسان نہیں بن سکتا میاں جی، ہمیں معاف کردینا۔‘‘ وہ مڑا اور واپس چلاگیا۔ یہ بات میں خود بھی جانتا تھا کہ شیطان انسان نہیں بن سکتا۔ نتیجہ کیا ہوگا۔ مگر نتیجہ کچھ بھی ہو میرے لیے اب یہ معاملہ غیر اہم ہوگیا تھا۔ میں وہ نہیں کرسکتا تھا جو سری رام چاہتے تھے۔ کچھ دیر کے بعد میں واپس چل پڑا…
سلامت علی کی حویلی کا ماحول عجیب ہورہا تھا۔ چچی جان یعنی بیگم سلامت علی سب سے پہلے نظر آئی تھیں، مجھے دیکھ کر یکدم ساکت ہوگئیں۔ پھر بے اختیار مجھے سلام کیا اور غڑاپ سے کمرے میں گھس گئیں۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا تھا۔ حیران حیران اپنے کمرے میں داخل ہوگیا۔ ایک ملازم کھانے کے لیے پوچھنے آیا تو میں نے کہا۔
’’کھانا نہیں کھائوں گا۔ فراست کہاں ہے؟‘‘
’’اندر ہیں۔‘‘
’’میرے پاس بھیج دو۔‘‘ میں نے کہا اور ملازم چلاگیا۔ میں انتظار کرنے لگا۔ کافی دیر گزر گئی فراست نہیں آیا تھا۔ نہ جانے کیا قصہ تھا۔ صورت حال معلوم کرنے کے لیے نکلنا ہی چاہتا تھا کہ دروازے پر آہٹیں محسوس ہوئیں پھر فرخندہ اور فراست ایک ساتھ اندر آئے تھے۔ دونوں نے سر پر ہاتھ رکھ کر مجھے سلام کیا تھا۔ میں مسکراتی نظروں سے انہیں دیکھنے لگا، پھر میں نے کہا۔ ’’یہ کوئی نیا ڈرامہ ہے؟‘‘
’’ہمارا قصور نہیں ہے۔ ہمیں بتایا ہی نہیں گیا تھا…‘‘ فرخندہ نے کہا۔
’’جو بدتمیزی ہوئی صرف اس خیال کے ساتھ ہوئی کہ آپ ابو کے دوست کے بیٹے ہیں اور پھر آپ ہمارے ہم عمر بھی ہیں۔‘‘ فراست بولا۔
’’کیا ہوگیا تم دونوں کو؟‘‘
’’ہمیں اصل بات پتا چل گئی ہے۔‘‘
’’کونسی اصل بات…؟‘‘
’’سری رام چچا، ابو کے پاس آئے تھے۔ ہم دونوں نے ان کی باتیں سنیں اور ہمیں سب معلوم ہوگیا۔ رات کو گنگولی مارا گیا نا…؟‘‘
’’ہمیں معاف کردیجیے شاہ صاحب! ہم نے واقعی آپ کی شان میں بڑی گستاخیاں کی ہیں۔‘‘
’’ارے خدا تمہیں سمجھے۔ تم نے مجھے ایک اور نام دے دیا۔ آئو بیٹھو کیا بات ہوئی سری رام جی اور سلامت علی صاحب کے درمیان…‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔ دونوں بڑے احترام سے میرے سامنے بیٹھ گئے۔ پوری طرح سنجیدہ نظر آرہے تھے۔
’’چاچا جی ابو کے بخار کی سن کر آئے تھے، مگر ابو تو اسی وقت ٹھیک ہوگئے جب آپ نے کہا تھا کہ بخار ابھی تھوڑی دیر میں اتر جائے گا۔ ان کی بحرانی کیفیت بھی اسی وقت ٹھیک ہوگئی تھی۔ ابو نے چاچا جی سے کہا کہ سری رام میں تمہیں ایک ایسی خوشخبری سناتا ہوں کہ تم خوشی سے پاگل ہوجائو گے۔ ہمیں بھی دلچسپی پیدا ہوگئی اور ہم دونوں نے چھپ کر ان کی باتیں سنیں تب ہمیں معلوم ہوا۔‘‘
’’کیا معلوم ہوا…؟‘‘
یہی کہ آپ ایک نوجوان درویش ہیں اور جمال گڑھی میں آپ نے بہت کچھ کیا ہے جس کی بناء پر بھلاّ صاحب اور سری رام آپ کو وہاں سے بلاکر لائے اور پچھلی رات آپ کے علم سے گنگولی مارا گیا۔
’’یہ غلط ہے۔ اسے گووندا نے مارا ہے لیکن تم دونوں نے… اوہ میرے خدا کیاچچی جان کو بھی سب کچھ معلوم ہوگیا ہے… تبھی… وہ بھی سلام کررہی تھیں… تو یہ قصہہے۔‘‘
’’شاہ صاحب۔ آپ ہمیں معاف کردیں۔ فرخندہ نے کہا۔ ’’ہم نے انجانے میں بڑی گستاخیاں کی ہیں۔ میں نے تو نہ جانے کیا کیا بکواس کی ہے۔‘‘
’’میں نے کیا کم حماقتیں کی ہیں۔‘‘ فراست بولا۔
’’بھئی تم لوگوں نے خوب روپ بدلا ہے۔‘‘ میں بدستور ہنستے ہو ئے بولا۔
’’آپ اتنی چھوٹی سی عمر میں درویش کیسے بن گئے شاہ صاحب …اور یہ سب کچھ آپ کو کیسے آگیا؟‘‘
’’چلو تم لوگوں کو یہ معلوم ہو ہی گیا تو میں تم سے ایک سوال کرتا ہوں خوب غور کر کے مجھے جواب دینا۔‘‘
’’جی شاہ صاحب!‘‘
’’گووندا پوجا سے محبت کرتا ہے۔ پوجا بھی اسے چاہتی ہے۔ تم لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہوگا۔ سری رام جی اپنی جیسی کر کے ہار گئے اور اب وہ میرے ذریعہ گووندا کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ جائز ہوگا؟‘‘
’’بالکل نہیں!‘‘ فرخندہ نے فوراً کہا۔
’’ہمارے مذہب میں تو اونچ نیچ نہیں ہے، جو صدق دل سے کلمہ پڑھتا ہے وہ دوسرے کلمہ گو کا ہم پلہ ہے اور پھر سری رام نے گووندا کے ساتھ کیا نہیں کیا۔ اب اگر اس نے مجبور ہو کر شیطانی طاقتوں کا سہارا لے لیا ہے تو سری رام چاچا بھاگتے پھر رہے ہیں۔ ’’فراست بولا اور
مسکرا خاموش ہوگیا۔ ان دونوں کے الفاظ نے مجھے ڈھارس دی تھی۔ شام کو سری رام جی پھر آگئے ۔ میں سلامت علی کے پاس آکر بیٹھا ہی تھا اور ہم کوئی گفتگو شروع بھی نہ کر پائے تھے کہ سری رام جی کے آنے کی اطلاع ملی تھی۔ سلامت علی نے انہیں یہیں بلوا لیا۔ سری رام جی ہاتھ جوڑے اندر آگئے تھے۔ آج ان کی کھیسیں نکلی ہوئی تھیں۔
’’جے ہو مہاراج کی۔ اندھے ہیں، ہم کیا جانیں کہ کونسا روپ مہان ہے وہ سیوا نہ کر پائے آپ کی جو کرنی چاہیے تھی۔آپ نے تو مشکل ہی ختم کردی ہماری۔ ہمارے آدمی دیکھ آئے سلامت ، پاپی گنگولی کا ڈیرہ اجڑا پڑا ہے۔ بدبو پھیلی ہوئی ہے چاروں طرف… سڑاند اٹھ رہی ہے، جے ہو مہاراج کی اب اس پاپی گووندا کا کریا کرم اور کر دیں مہاراج، جان چھوٹ جائے کمینے سے۔‘‘
’’کچھ کہنا ہے آپ سے سری رام جی، اچھا ہے آپ آگئے۔‘‘
’’حکم دیں مہاراج حکم دیں۔‘‘ سری رام مجسم نیاز بنے ہوئے تھے۔
آپ کا ذاتی معاملہ ہے ہم کسی بات پر زور نہیں دیں گے مگر پتا چلا ہے کہ آپ کی بیٹی بھی بچپن سے گووندا کو چاہتی ہے اور اب بھی ایسا ہی ہے۔‘‘
’’بچے تو بچے ہی ہوتے ہیں مہاراج، بال ہٹ جانتے ہیں آپ، مگر ذات پات بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ریت رواج بھی کچھ ہوتے ہیں، ہم کھرے برہمن ہیں اور وہ سسرا اچھوت ہے، کوئی جوڑ تو ہو، کوئی میل تو ہو۔ ہمارے در کے ٹکڑے کھا کر جوان ہوا ہے۔ ہمارے برابر کیسے کھڑا ہوسکتا ہے۔ ذات برادری ہے ہماری، بھول کر بھی ایسی بات نہیں سوچ سکتے۔‘‘
’’آپ نے اس پر سختیاں بھی بہت کی ہیں۔‘‘
’’غلطی بھی کی ہے ہم نے۔ رحم کھا گئے اس پر‘‘ زندہ پھنکوا دیا۔ بس اسی کئے کی سزا بھگت رہے ہیں۔ اسی وقت کھیل ختم کر دیتے تو اچھا تھا مگر سمے گزر گیا، اب آپ ہی اسے ٹھکانے لگا سکتے ہیں مہاراج۔‘‘
’’نہیں سری رام جی، یہ کام ہم نہیں کرتے، ہمارا ہر قدم اللہ کے حکم سے اٹھتا ہے۔ کسی انسان کو دوسرے انسان کی زندگی لینے کا حق نہیں ہے۔ اگر اس کا عمل شیطانی ہے تو اسے قدرت سے سزا ملے گی۔ ہم اس کے جادو کا توڑ کر سکتے تھے مگر اس کا ایک مقصد ہے۔ وہ برائی کے راستے چھوڑ کر نیک راستوں پر آسکتا ہے۔ ہمارے دین میں اونچ نیچ نہیں ہوتی۔ انسان سب ایک جیسے ہوتے ہیں، نہ کوئی اچھوت نہ برہمن۔ وہ اگر چاہتا تو شیطانی طاقتوں کا سہارا لے کر کبھی کا آپ کی بیٹی کو اٹھا لے جاتا لیکن بقول آپ کے نیچ ذات ہو کر بھی اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے اپنے پیار کی بے حرمتی نہیں کی۔ وہ اب بھی یہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ آپ نے اس کے کالے جادو کی قوتیں اب تو خود دیکھ لیں، میرے خیال میں اب ضد نہ کریں اسے اپنالیں ورنہ وہ آپ کو آسانی سے تباہ کرسکتا ہے۔‘‘
’’یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔‘‘ سلامت علی نے کہا۔
’’ہاں سلامت علی صاحب، بات ذات پات کی آگئی ہے اور یہ تفریق ہمارے مذہب میں گناہ ہے۔ میں اس بنیاد پر کچھ نہیں کرسکتا، مجبوری ہے اگر کوئی شیطان، سفلی قوتوں کا سہارا لے کر کسی بے گناہ کو نقصان پہنچا رہا ہوتا تو دوسری بات تھی مگر یہاں معاملہ دوسرا ہے۔‘‘
ارے یہ کیا کہہ رہے ہیں۔ سلامت انہیں سمجھائو، کیا میں، کیا میں اپنی بیٹی اس اچھوت کو، اس چمار کو دے دوں۔‘‘ سری رام کلس کر بولے۔
’’ایسا ہوتا نہیں ہے مسعود میاں۔‘‘ سلامت علی بولے۔
’’اللہ جانے، میں معذور ہوں۔‘‘
’’ڈر گئے ہو گووندا سے میاں جی، یہ کیوں نہیں کہتے۔‘‘ سری رام بولے۔
’’آپ کو سب کچھ کہنے کا اختیار ہے، سری رام جی۔‘‘
’’ارے بھائی، ہمارا کام کر دو۔ جو مانگو گے دیںگے۔ بیس ہزار، پچاس ہزار بولو کیا لو گے۔ سلامت انہیں سمجھائو۔‘‘ سری رام بے حواس ہوتے جارہے تھے۔
’’یہ پیشکش آپ گووندا کو دیں، ممکن ہے وہ راضی ہو جائے۔ ویسے میری یہی رائے ہے۔ آپ چاہیں تو خاموشی سے کسی دوسرے شہر جا کر یہ کام خاموشی سے کردیں، کچھ بھی کریں یہ ہوگا ضرور۔‘‘
’’ہوں، ٹانگ برابر چھو کرے ہو میاں جی… باتیں لمبی کرتے ہو۔ بڑے آئے پیر ٹنڈن شاہ بن کر۔ ارے تم سن رہے ہو اس کی باتیں سلامت علی۔‘‘ سری رام بگڑ گئے۔ میں مسکراتا رہا۔ سلامت علی دم بخود تھے۔ سری رام کھڑے ہوگئے۔ پھر بولے۔’’ میں جارہا ہوں سلامت، آگ لگا دی ہے میرے من میں اس نے۔ اسے سمجھائو، نہ مانے تو …تو… تم جانو تمہارا کام۔‘‘ وہ تیزی سے آگے بڑھ گئے۔ سلامت علی مسلسل خاموش تھے…! میں نے مسکرا کر انہیں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’جی محترم سلامت صاحب، کیا حکم ہے آپ کا۔‘‘ سلامت علی خاموشی سے کچھ سوچ رہے تھے۔ پھر انہوں نے کہا۔
’’دوستی دنیا تک ہے۔ مسعود شاہ صاحب، اس کے بعد قبر میں جانا ہے۔ ایک ایسے کام کی حمایت کیسے کرسکتا ہوں، جس کی اجازت مذہب نہ دیتا ہو۔ آپ سب کچھ بہتر سمجھتے ہیں، میں بھلا یہ بینائی کہاں رکھتا ہوں۔ آپ کا فیصلہ بہتر ہے اب وہ جانے اور اس کا کام۔‘‘
’’شکریہ… بیشک وہ ہمارے ہم مذہب نہیں مگر جیتے جاگتے انسان ہیں۔ خیر میرا فیصلہ اٹل ہے مگر اب یہاں میرا رکنا مناسب نہیں ہے۔ آپ کی دوستی میں رخنہ پڑے گا۔ سری رام میرے یہاں رہنے سے خوش نہیں ہوگا چنانچہ آپ مجھے اجازت دیجیے۔‘‘
’’ابھی… اسی وقت۔‘‘
’’ہاں جب ایک کام کرنا ہے تو دیر مناسب نہیں ہے۔ آپ سری رام سے کہہ دیں کہ اس گفتگو کے بعد میں یہاں نہیں رکا۔‘‘ میں نے کہا اور سلامت علی صاحب افسردہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا۔
’’ہمیں تو خدمت کی سعادت حاصل ہی نہ ہو سکی۔ کم نگاہ تھے کہ آپ کو سمجھ ہی نہ سکے۔ بچے آپ کے جانے سے اداس ہو جائیں گے۔‘‘ میں نے سلامت صاحب سے کہا کہ وہ فراست اور فرخندہ کو کچھ نہ بتائیں ورنہ وہ مجھ سے رکنے کی ضد کریں گے۔ انہیں دونوں کی وجہ سے میں جلدی وہاں سے چل پڑا۔ سلامت علی کو میں نے اسٹیشن تک چلنے کے لیے منع کردیا تھا اور خود تانگے میں بیٹھ کر چل پڑا تھا۔ چندوسی کے چھوٹے سے اسٹیشن پر کہیں سے ایک ٹرین آکر رکی تھی۔ میں خاموشی سے اس میں سوار ہوگیا۔ سلامت علی نے انتہائی خوشامد کر کے کچھ پیسے دے دیئے تھے۔ مجبوری تھی کیونکہ میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا، ٹکٹ وغیرہ خریدنے کے جھمیلے میں اس لیے نہیں پڑا تھا کہ کہیں فراست اور فرخندہ کو میری روانگی کے بارے میں معلوم نہ ہو جائے اور وہ جذباتی ہو کر اسٹیشن دوڑ پڑیں۔ ٹرین کہاں سے آئی ہے کہاں جائے گی، کچھ پتا نہیں تھا، چند لمحات کے بعد اس نے اسٹیشن چھوڑ دیا۔ نچلے درجے کا ڈبہ تھا۔ معمولی قسم کے مسافر بھرے پڑے تھے۔ ایک مسافر نے اپنے قریب جگہ دے دی اور میں بیٹھ گیا۔ ٹرین کی آواز ذہن کو سلائے دے رہی تھی، رات کے بارہ بجے کے قریب ٹکٹ کلکٹر آگیا اور سوتے ہوئے مسافروں کو جگا جگا کر ٹکٹ مانگنے لگا۔ میں نے جیب سے پیسے نکال لیے اور ٹکٹ کلکٹر کے قریب آنے کا انتظار کرنے لگا، جب وہ قریب پہنچا تو میں نے پیسے اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’چندوسی کے اسٹیشن سے سوار ہوئے ہیں بھائی، یہ ریل جہاں جا رہی ہے وہاں کا ٹکٹ دے دو۔‘‘ ٹکٹ چیکر نے چونک کر مجھے دیکھا اور پھر سلام کر کے آگے بڑھ گیا۔ میں ہاتھ میں پیسے لیے منہ کھولے اسے دیکھتا رہ گیا۔ میرے برابر ہی ایک میلے کچیلے سے کمبل میں منہ ڈھک کر سوتے ہوئے شخص نے کمبل کا کونہ سرکایا اور ’’شی شی‘‘ کا اشارہ کر کے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔ ایک بوڑھا باریش آدمی تھا، ہنس کر بولا۔
’’آرام بڑی چیز ہے، منہ ڈھک کر سوئیے۔‘‘ میں نہیں سمجھ سکھا کہ اس نے یہ الفاظ کیوں کہے تھے۔ اس نے دوبارہ کمبل منہ پر ڈھک لیا تھا۔ میں پریشان نظروں سے دور پہنچ جانے والے ٹکٹ چیکر کو دیکھنے لگا تو اچانک باریش شخص نے میرا ہاتھ پکڑا اور بڑی زور سے مجھے اپنی طرف گھسیٹ لیا اور پھر کمبل میرے چہرے پر بھی ڈھک دیا۔ میرے بدن میں سناٹا سا پھیل گیا تھا۔ کمبل کی تاریکی میں ایک لمحے کے لیے گھٹن کا احساس ہوا اور پھر فنا ہوگیا۔ مدھم مدھم سے مناظر نگاہوں میں ابھرنے لگے۔ آہستہ آہستہ عجیب سی روشنی پھیلتی جارہی تھی۔ میں حیرانی سے اس روشنی کو دیکھنے لگا۔ ایک شخص ہاتھ میں جھاڑو لیے قریب آتا ہوا محسوس ہوا اور پھر مجھ سے کچھ فاصلے پر رک کر اس نے جھاڑو دینا شروع کردی۔ گرد اُڑ رہی تھی۔ میں نے گرد سے بچنے کے لیے کمبل سر پر اوڑھ لیا اور چہرہ ڈھک لیا۔ جھاڑو کی آوازیں مسلسل ابھر رہی تھیں۔ جب وہ دور چلی گئیں تو میں نے چہرہ کھول کر دیکھا۔ صبح کا سہانا وقت تھا۔ کافی فاصلے پر لال رنگ کے پتھروں سے بنی ہوئی ایک عمارت نظر آرہی تھی۔ غالباً مسجد تھی، اس کی سیڑھیوں سے نمازی نماز پڑھ کر نیچے اتر رہے تھے۔ دماغ کو ایک جھٹکا سا لگا، چونک کر چاروں طرف دیکھا۔ نہ ٹرین تھی، نہ ٹرین کے مسافر اور نہ ہی وہ کمبل پوش مسافر، لیکن کمبل میرے پاس تھا اور سو فیصدی وہی تھا جس میں مجھے چھپا لیا گیا تھا۔ دل کو احساس ہوا جیسے میرے پاس کائنات کی ساری دولت آگئی ہو، مگر حیرانی اپنی جگہ تھی۔ یہ سب ہوا کیا۔ ہوش و حواس کے عالم میں ریل میں بیٹھا تھا اور سب کچھ غائب ہوگیا۔ یہ کونسی جگہ ہے اور… آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چاروں طرف دیکھنے لگا۔ زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ دور سے ایک گھوڑا گاڑی نظر آئی جو اسی طرف آرہی تھی۔ میرے قریب سے گزر کر وہ مسجد کے سامنے رک گئی۔ اس سے کچھ لوگ نیچے اترے اور کچھ سامان اتارنے لگے۔ پھر کچھ خواتین گھوڑا گاڑی سے نیچے اتر آئیں۔ قیمتی لباس پہنے ہوئے تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے آس پاس سے بہت سے گدڑی پوش مرد عورتیں گھوڑا گاڑی کے پاس آگئے اور ہنگامہ آرائی ہونے لگی، لیکن گاڑی سے اترنے والے چار آدمیوں نے انہیں دھکے دے کر پیچھے ہٹایا اور پھر شاید ان کے کہنے سے وہ قطار بنا کر بیٹھ گئے۔ میں دلچسپی سے یہ تماشا دیکھنے لگا۔ انہیں شاید کھانا تقسیم کیا جارہا تھا۔ میرے پیٹ میں ایک دم کھلبلی مچ گئی۔ شدید بھوک کا احساس ہوا مگر قدم اس طرف نہ اٹھ سکے۔ میں خاموشی سے ادھر دیکھتا رہا۔ اچانک ایک آدمی میری طرف بڑھا اور قریب آگیا۔
’’ناشتہ لے لو بابا جی۔ ادھر قطار میں آجائو۔‘‘ ایک دم سے دل میں انا جاگی۔ میں فقیر تو نہیں ہوں مگر ذہن نے فوراً ٹوکا۔ رزق ٹھکرانا گناہ ہے اور جھوٹی انا دشمنی۔ رزق کے لینے کے لیے بڑھنے والے ہاتھ انسان کے سامنے نہیں اللہ کے سامنے پھیلتے ہیں۔ اٹھا اور اس شخص کے ساتھ چل پڑا… کمبل جسم سے لپٹا ہوا تھا۔ اس لیے جسم کا صاف ستھرا لباس چھپا رہا، فراست کے
ہوئے کپڑے تھے، قیمتی اور خوبصورت۔ ان لوگوں نے دیکھ لیا تو کیا سوچیں گے۔ اس لیے کمبل اور سنبھال لیا۔ اس شخص نے مجھے بھی قطار میں بٹھا دیا۔ حلوہ پوریاں اور ترکاری تھی۔ یہ چیزیں بڑے بڑے تھالوں میں سجی ہوئی تھیں۔ ڈھاک کے پتوں کے دونے بنے ہوئے تھے۔ ایک شخص تھال سنبھالے ہوئے تھا۔ دو اس کے پیچھے تھے۔ دونوں جوان لڑکیاں جو قیمتی پوشاک پہنے ہوئے تھیں تھال کے ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔ ایک لڑکی دونے اٹھا کر دوسری کو دیتی اور دوسری یہ دونے فقیروں کو دے دیتی۔ غالباً یہ خیرات دوسری لڑکی کے ہاتھوں تقسیم کرائی جارہی تھی۔ تھال خالی ہوتا تو دوسرا تھال گھوڑا گاڑی سے آجاتا۔ آہستہ آہستہ وہ میرے قریب پہنچتے جارہے تھے۔ دونوں لڑکیاں بے حد خوبصورت تھیں۔ میں نے ایک نگاہ ان پر ڈال کر جھکائی مگر اس سرسری نگاہ ہی سے مجھے ایک انوکھا احساس ہوا۔ میں نے کچھ دیکھا تھا… اور جو کچھ دیکھا تھا ناقابل یقین تھا۔ گہرے کالے رنگ کا ایک ناگ ایک لڑکی کے جسم کے گرد بل ڈالے لپٹا ہوا تھا۔ وہ بہت لمبا اور پتلا تھا۔ اس کا نچلا حصہ لڑکی کی کمر سے لپٹا ہوا تھا اور باقی بدن بل کھاتا اوپر چلا گیا تھا۔ اپنے اس شہبے کو یقین کی شکل دینے کے لیے میں نے جلدی سے گردن اٹھائی، اسے دوبارہ دیکھا۔ وہ دونوں اب میرے سامنے تھیں۔ دونے لڑکی کے ہاتھ میں تھے اور وہ مجھے دینے کے لیے جھک رہی تھی۔ میں نے اس بار سانپ کو بخوبی دیکھ لیا، اس کا پھن لڑکی کے سر کے اوپر رکھا تھا اور اس کی آنکھیں بند تھیں۔ ایک دم انسانی کمزوری کا غلبہ ہوا۔ لڑکی جھکی تو میں چیخ مار کر پیچھے ہٹ گیا۔ اور میرے منہ سے آواز نکلی۔
’’سانپ، سانپ۔‘‘
دونے لڑکی کے ہاتھ سے نیچے گر گئے اور ان کا سامان بکھر گیا۔ سب چونک پڑے تھے۔ دونوں لڑکیاں بھی متوحش ہوگئی تھیں۔
’’کہاں ہے سانپ… کیسا سانپ؟ ‘‘ تھال سنبھالنے والوں نے کپکپاتے ہوئے بمشکل تھال سنبھال کر نیچے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’یہ… یہ… میں انگلی سے سانپ کی طرف اشارہ کر کے ایک دم کھڑا ہوگیا۔ سانپ کا اونگھتا ہوا سر جنبش کرنے لگا۔ اس نے ایک دم آنکھیں کھول دیں اور اس کی ننھی سرخ چنگاریوں جیسی آنکھیں مجھے گھورنے لگیں۔ ان میں کینہ توزی کی جھلک تھی۔ میرا اشارہ چونکہ لڑکی کے جسم کی طرف تھا اس لیے ان لوگوں نے لڑکی کو بھی دیکھا۔ پھر ایک بولا۔
’’پاگل لگتا ہے۔ اٹھا یہ رزق… سب کچھ گرا دیا۔‘‘
’’تم لوگ…تم لوگ۔‘‘ میرے منہ سے نکلا۔ میرے چہرے سے کمبل سرک گیا تھا۔ دوسری لڑکی نے عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھا اور پھر سے دونے اٹھا کر تقسیم کرنے والی لڑکی کو دے کر بولی۔
’’لو مہر، زمین پر گری چیزیں خراب ہوگئی ہیں اور دے دو!‘‘ میں شدت حیرت سے گنگ ہوگیا۔ یہ لوگ لڑکی کے جسم سے لپٹے سانپ کو دیکھ نہیں پا رہے یا…! اس بار دونے میرے ہاتھوں میں آگئے تھے مگر میں نے کچھ پیچھے ہٹ کر انہیں لیا تھا۔ وہ آگے بڑھ گئیں مگر میں پاگلوں کی طرح انہیں دیکھ رہا تھا۔ یا الٰہی یہ کیا قصہ ہے۔ کالے سانپ نے لڑکی کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے اور یہ لوگ نہ تو اس سے خوف کھا رہے ہیں اور نہ اسے کوئی اہمیت دے رہے ہیں۔ دونوں لڑکیاں ناشتہ تقسیم کرنے والے آخری فقیروں کو بھی ناشتہ دے چکے تو واپس پلٹے۔ انہوں نے مجھے دیکھا میں اسی طرح دونے پکڑے بیٹھا ہوا تھا۔ اس بار انہوں نے مجھے ہمدردی سے دیکھا تھا۔ سب گھوڑا گاڑی میں بیٹھ گئے اور کوچوان نے اپنی جگہ سنبھال لی۔
’’ابے پیٹ بھرا ہوا ہے کیا پہلوان۔‘‘ میرے برابر بیٹھے ہوئے فقیر نے للچائی ہوئی نظروں سے میرے دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ایں…! میں چونک پڑا۔
’’میرے کو دے دے خلیفہ، کلّن کا پیٹ چار پوریوں سے نہیں بھرنے کا۔ دے دے استاد اللہ تیرا بھلا کرے گا۔‘‘ اس نے لجاجت سے کہا اور میں نے دونے اس کی طرف بڑھا دیئے۔
’’ارے ارے، کھانے دے اسے کلن، اللہ تیرا پیٹ کبھی نہیں بھرے گا۔‘‘ قریب بیٹھی ایک عورت نے کہا۔ اس کے ساتھ دو بچے تھے جو جلدی سے نیچے گری ہوئی پوریاں اور حلوہ اٹھا کر بھاگے۔
’’اے بی تمہیں کیا ہو رہا ہے۔ اپنی خوشی سے دیا ہے اس نے، آئیں کہیں سے بی ہمدرد۔ کلّن نے پوریوں کے نوالے بناتے ہوئے کہا۔ اسی وقت دوسرا فقیر چیخا۔
’’لو اور ناشتہ آرہا ہے کلّن استاد… ‘‘ گھوڑا گاڑی پھر واپس آرہی تھی۔ کلّن نے سرگوشی میں کہا۔
’’میاں بھائی۔ تیرے کو اگر ضرورت نہیں ہے تو میرے لیے لے لیجیئو۔ اللہ تجھے خوش رکھے میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔‘‘ گھوڑا گاڑی کچھ فاصلے پر رک گئی۔ اس بار اس سے عورتیں نیچے نہیں اتری تھیں بلکہ ایک بھاری جسامت کا دراز قامت شخص نیچے اترا تھا۔ اس کے جسم پر قیمتی شیروانی تھی، چوڑی دار پاجامہ، سیاہ وارنش کے پمپ پہنے ہوئے تھا۔ اس کے پیچھے ہی دونوں آدمی بھی نیچے اترے تھے جو پہلے تھال اٹھائے ہوئے تھے۔ وہ تینوں اس طرف بڑھنے لگے۔ کلّن نے انہیں غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ابے لو، پھوٹ لے خلیفہ… کوئی اور چکر ہے‘ نکل لے، نکل لے۔‘‘ وہ جلدی سے اٹھا اور پیچھے کھسک گیا۔
(جاری ہے)