Kala Jadu | Episode 23

119
شیروانی والا شخص پروقار چال چلتا ہوا میرے سامنے آگیا۔ ان دونوں افراد نے میری طرف اشارہ کردیا۔ دوسرے فقیر ابھی ناشتہ ہی کر رہے تھے۔
’’آپ ناشتہ نہیں کر رہے میاں صاحب۔‘‘ پُر رعب شخص نے مجھے بغور دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ایل لو، کیسے ناشتہ کرے بے چارہ، وہ کالیا کلّن جو چار سو بیسی کر کے اس کا ناشتہ لے گیا۔ بے چارے کو اور دے دو میاں جی بھوکا ہے۔‘‘ عورت نے سفارش کی۔
’’آپ کو تھوڑی سی زحمت دینا چاہتا ہوں میاں صاحب، غریب خانے تک زحمت کرنی ہوگی۔‘‘
’’مم میں… وہ…وہ۔‘‘ میں گھبرا کر کھڑا ہوگیا۔
’’بعد میں آپ جہاں حکم دیں گے وہاں پہنچا دیا جائے گا، خدارا انکار نہ کیجیے۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں گا۔ میاں فتح محمد کوئی تانگہ کر کے میاں صاحب کو احترام سے گھر لے آئو۔ وہ دیکھو، وہ خالی تانگہ گزر رہا ہے۔‘‘ اس شخص نے ایک سمت اشارہ کیا، اور دوسرا آدمی تانگے کی طرف دوڑ گیا۔ میں گہری سانس لے کر خاموش ہوگیا۔ تقدیر کے فیصلے اہم ہوتے ہیں۔ ہر تحریک کا ایک مقصد ہوتا ہے۔ آخر مجھے کسی کام کے لیے ہی یہاں بھیجا گیا ہے اور کام… وہ تو شاید میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا۔
تانگہ آگیا، اس شخص نے مجھے اپنے سامنے تانگے میں سوار کرایا۔ دونوں ملازم نما آدمی بھی تانگے میں بیٹھ گئے اور شیروانی والے نے تانگے والے سے کہا ’’ہماری گاڑی کے پیچھے پیچھے آ جائو۔‘‘
’’جی سرکار عالی۔‘‘ تانگہ گھوڑا گاڑی کے پیچھے چلتا رہا۔ میں دونوں طرف بنی عمارتوں کو دیکھ رہا تھا۔ کوئی بڑا شہر تھا مگر میرے لیے اجنبی تھا۔ اپنا تجسس نہ روک سکا اور پوچھ بیٹھا۔
’’یہ کونسا شہر ہے بھائی…‘‘ میرے قریب بیٹھے دونوں ملازم چونک پڑے۔ ’’تانگے والا بے اختیار بول پڑا۔‘‘
’’دلی ہے بھائی میاں، کہیں باہر سے آئے ہو۔‘‘
’’تم تانگہ چلائو شیخ جی، میاں صاحب کا بھیجہ ٹلاّ ہے۔‘‘فتح محمد نے کہا اور دوسرا ملازم اسے گھورنے لگا۔
’’تیری کترنی کبھی قابو میں نہیں آئے گی، فتے چپکا بیٹھ…‘‘
’’اماں تو مرچی کائے کو چبارئے ہو، میں نے کیا کر دیا؟‘‘ فتح محمد نے برا مانتے ہوئے کہا۔
’’بس تو چپکا بیٹھا رہ…‘‘
’’کمال ہے۔ عمر قید نہیں۔ کائے کو میرے اوپر حکم چلاتے رہتے ہو، تمہارا دبیل ہوں؟‘‘
’’ لڑنا بری بات ہے بھائی تحمل سے کام لو…‘‘ میں نے انہیں ٹوکا۔
’’ابے لے، بول پڑے مرلی داس، میاں بھائی سب تمہارا کیا دھرا ہے۔‘‘ فتح محمد نے کہا۔
’’میرا؟‘‘
’’تو اور کیا میاں بھائی، وہ سانپ کاں سے نظر آگیا تمہارے کو…‘‘
’’سانپ۔‘‘ میں آہستہ سے بولا۔
’’سن لو بندو خاں صاحب، میاں جی بھول گئے، اور سنائو بڑے میاں صاحب کو سانپ کی کہانی۔‘‘
’’خدا کے لیے چپ رہو ۔ گھر جاکر بات کرلینا۔‘‘ دوسرے ملازم نے کہا۔
’’یہ شہر دہلی ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’اماں تم کیا بارہ بنکی سے آئے ہو۔‘‘
’’ہاں، میں یہاں اجنبی ہوں۔‘‘
’’کاں کے رہنے والے ہو۔‘‘ فتح محمد بولا۔
’’چندوسی سے آیا ہوں۔‘‘
’’تو یہ نہیں پتا کہ دلی میں اترے ہو۔ ابے بھائی میاں کیا ہوائی جہاز سے گر گئے تھے۔‘‘
’’نہیں بس یونہی۔‘‘ میں نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
’’دلی میں ہو پہلوان اور فتح پوری کی جمعہ مسجد پر بیٹھے تھے۔ اب سمجھ میں آگئی مگر وہ سانپ کاں سے نظر آگیا تمہیں۔‘‘
فتح محمد بولنے کا مریض تھا…!
’’وہ کون صاحب ہیں جو شیروانی پہنے ہوئے تھے؟‘‘
’’شیخ عبدالقدوس اچھے نواب بہت بڑی سرکار ہے۔ آدھی دلی ان کی ہے اللہ کے فضل سے۔‘‘ فتح محمد بولا۔
وہ دونوں لڑکیاں کون تھیں…؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ایک مہر النسا، شیخ صاحب کی چھوٹی بٹیا اور دوسری…‘‘
’’فتح محمد قسم کھا رہا ہوں اچھے نواب سے تیری شکایت ضرور کروں گا۔ رستے میں بک بک کیے جارہا ہے یہ کوئی اچھی بات ہے۔‘‘ ملازم بندو خان نے کہا اور فتح محمد برا سا منہ بناکر خاموش ہوگیا۔
میں نے بھی خاموشی اختیار کرلی لیکن حالات کا کچھ اندازہ ضرور ہو رہا تھا۔ وہ لڑکی میرے لیے معمہ بنی ہوئی تھی جس کے جسم پر میں نے پورے ہوش و حواس کے عالم میں سانپ لپٹے ہوئے دیکھا تھا۔ مگر دوسرے اس سے لاعلم تھے۔ کیوں آخر کیوں پھر ایک قدیم طرز کی شاندار حویلی کے احاطے کے سامنے تانگہ رک گیا۔ گھوڑا گاڑی اندر داخل ہوگئی تھی۔ ہم تانگے سے نیچے اتر آئے۔ گھوڑا گاڑی کی سواریاں اندر چلی گئی تھیں۔ شیروانی والے شیخ صاحب ہمارا انتظار کررہے تھے۔ ان کے پاس ایک اور شخص کھڑا ہوا تھا جسے دیکھ کر اچانک میرے دماغ میں ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ یہ چہرہ، یہ چہرہ میں پہچان گیا تھا۔
یہ وہی نواب قسم کا آدمی تھا جسے میں نے اس وقت دیکھا تھا جب لوگ مجھے رتنا کہتے تھے۔ اسی شخص کے ساتھ میں نے ماموں ریاض کو شکنتا کے کوٹھے پر جاتے ہوئے دیکھا تھا اور بعد میں یہ مجھے نہیں مل سکا تھا۔ مجھے اس کا نام نہیں یاد تھا مگر اتنا پتا چلا تھا کہ یہ لوگ الٰہ آباد کے رہنے والے تھے۔ بعد میں ان لوگوں کا کوئی پتا نہیں چل سکا تھا۔ آہ کیا ماموں ریاض بھی اس کے ساتھ ہیں۔ شیخ عبدالقدوس احترام سے آگے بڑھے اور بولے۔
’’تکلیف دہی کی معافی چاہتا ہوں قبلہ! دلی آرزو ہے کہ ایک مختصر وقت کے لیے مجھے شرف میزبانی بخشیں۔‘‘
’’آپ کو کوئی کام ہے ہم سے۔‘‘ میں نے پوچھا۔
’’اس حقیقت سے انکار کرکے جھوٹ بولنے کا جرم نہیں کروں گا۔‘‘ شیخ صاحب بولے۔
’’اگر آپ کا خیال ہے کہ ہم آپ کے کسی کام آسکتے ہیں تو ہم حاضر ہیں۔ اگر آپ کا کام ہم سے نہ ہوسکے تو ہمیں مجرم قرار نہ دیجیے گا۔‘‘
’’وہ میری تقدیر ہوگی۔ آپ کے قدموں کی برکت ہی سے فیضیاب ہولوں گا۔‘‘ شیخ صاحب نے کہا۔ پھر فتح محمد سے بولے۔ ’’میاں فتح محمد! میاں صاحب کو مہمان خانے لے جائو اور عزت و احترام سے وہاں قیام کرائو۔ تمہاری خدمات ان کے لیے ہیں، انہیں کوئی تکلیف ہوئی تو سزا پائو گے۔‘‘
’’جی سرکار۔‘‘ فتح محمد نے خم ہوکر کہا۔ پھر میرے سامنے گردن جھکا کر بولے۔ ’’آیئے میاں صاحب!‘‘ میں شانے ہلا کر اس کے ساتھ چل پڑا۔ مہمان خانہ حویلی کے بغلی حصے میں تھا۔ اس میں داخل ہونے کا راستہ بھی دوسری سمت سے تھا۔ اس طرف آم اور شریفے کے درختوں کی بھرمار تھی۔ تین چوڑی سیڑھیاں عبور کرکے ایک عریض دالان آیا اور فتح محمد نے دالان میں بنے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا۔
’’سب سے بڑھیا کمرہ دے رہا ہوں میاں صاحب! تمہارے کو قسم اللہ کی نصیب کھل گئے تمہارے تو۔ ابھی چار دن پہلے نواب مینڈو گئے ہیں۔ اس کمرے سے جاتے ہوئے سو روپے دے گئے تھے میرے کو، کہنے لگے میاں فتح! جب بھی یاں سے نوکری چھوڑو، میرے پاس آجائیو نہال کردوں گا۔ ویسے بھائی میاں! کونسی بینٹی گھما دی تم نے ہمارے شیخ صاحب پر! بڑا دم بھر رہے ہیں تمہارا۔‘‘
’’تم واقعی بہت زیادہ بولتے ہو فتح محمد!‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’میاں صاحب! ہم تو یہ سوچیں ہیں کہ زندگی زندہ دلی کا نام ہے اور مردہ دلی کو دلی سے باہر نکال پھینکنا چاہیے۔ بالکل ٹھیک کہا ہے مرزا جی نے! میاں ہنس بول کر زندگی گزار لو۔‘‘
’’ہاں! یہ تو ٹھیک ہے۔ ایک بات بتائو فتح محمد! یہ شیخ صاحب کے ساتھ جو ایک صاحب کھڑے ہوئے تھے، وہ کون تھے؟‘‘
’’نبّن میاں!‘‘
’’میں ان کا نام نہیں جانتا۔‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔
’’ابے وہ ہاں… ایل لو… میاں صاحب! وہ اچھے نواب کی بڑی بٹیا فخرالنساء کے ممیا سسر ہیں۔ نام ہے ان کا الیاس خان الٰہ آبادی امرود… پیار سے سب لوگ انہیں نبّن میاں کہتے ہیں۔ ایک بات بتائوں پتے کی۔‘‘
’’بتائو!‘‘
’’بس میاں کھائو کمائو ہیں۔ کبھی اس کے گھر جا پڑے، کبھی اس کے گھر جا پڑے۔ شیخ صاحب بٹیا کے سسرال کا خیال کرتے ہیں۔ اب کوئی بیس دن ہوگئے یاں پڑے ہوئے، کھا رہے ہیں، اینڈ رہے ہیں۔‘‘
’’الٰہ آباد کے رہنے والے ہیں۔‘‘
’’ہاں! بڑی بٹیا کی سسرال الٰہ آباد میں ہے۔‘‘
’’ان کے ساتھ کوئی اور بھی ہے۔‘‘
’’لو ان کے ساتھ اور کون ہوگا۔ آگے ناتھ نہ پیچھے پگا! بس یار دوست ہیں اور رنگ رلیاں…! ابے کیا بتائوں میاں صاحب!‘‘ فتح محمد کی بات ادھوری رہ گئی۔ بندو خان ناشتہ لے آئے تھے۔
’’تم میاں باتیں منٹھار رہے ہوگے۔ پتا ہے میاں صاحب نے ناشتہ نہیں کیا تھا۔‘‘
’’اماں ہاں… لو! بھول ہی گیا۔ تم بھی خدمت کر لو میاں صاحب کی۔ ایک سٹے کا نمبر مل گیا تو وارے نیارے ہوجائیں گے۔‘‘ فتح محمد نے ہنستے ہوئے کہا۔ ناشتہ بڑے اہتمام سے لایا گیا تھا۔ میری بھوک پھر چمک اٹھی۔ میں خاموشی سے ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگیا۔ بندو خان نے فتح محمد کو کوئی کام بتا کر وہاں سے بھیج دیا تھا۔ خود بندو خان سمجھدار اور سنجیدہ آدمی تھا۔ خاموش بیٹھا رہا۔ میں نے بھی اس سے کوئی بات نہیں کی تھی۔ پھر وہ برتن اٹھا کر چلا گیا۔ مہمان خانے کا یہ کمرہ بے مثال سجاوٹ کا حامل تھا۔ مسہری بے حد قیمتی تھی، دوسری چیزیں بھی اسی معیار کی تھیں۔ میں گہری سانسیں لے کر ایک گوشے میں جا بیٹھا۔ جو کچھ ہوا تھا، اس پر غور کررہا تھا۔ چندوسی سے ریل میں بیٹھا تھا۔ کمبل پوش کے الفاظ سنے تھے اور بس! اس کے بعد یہ سب کچھ۔ وہ کمبل اب میرے پاس تھا۔ اس سے بڑی حقیقت اور کیا ہوسکتی تھی۔ مگر دل سے سوال کرتا تو جواب ملتا کہ مجھے یہاں بھیجا گیا ہے اور یہ سب کچھ بے مقصد نہیں ہے۔ مجھے اس مقصد کے سامنے آنے کا انتظار کرنا چاہیے۔ البتہ دل میں رہ رہ کر الٰہ آباد کے الیاس خان کا خیال آرہا تھا۔ اس شخص سے اگر ماموں ریاض کے بارے میں کچھ معلوم ہوسکے تو۔ باہر آہٹیں ابھریں۔ پھر شیخ عبدالقدوس اندر داخل ہوگئے۔ میں نے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا۔
’’مجھے گناہ گار نہ کیجیے میاں صاحب! آپ تشریف رکھیے۔ کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں آپ سے!‘‘
’’حکم فرمایئے۔‘‘
’’میاں صاحب! اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی رحمت سے نواز دیتا ہے۔ وہی جانتا ہے کہ اس نے آپ کو کیا دولت عطا کی ہے۔ آپ نے میری بچی کو دیکھ کر کچھ سانپ کا حوالہ دیا تھا، وہ کیا تھا؟ تانگے میں بیٹھ کر میرے ملازموں نے یہ تذکرہ کیا تھا اور میرا دل بے اختیار چاہا تھا کہ آپ کو غریب خانے پر زحمت دوں۔‘‘
’’وہ خاتون آپ کی صاحبزادی ہیں۔‘‘
’’جی! میری دو
بیٹیاں ہیں۔ معبود کریم نے یہی دو بیٹیاں عنایت فرمائی ہیں۔ بڑی کے فرض سے سبکدوش ہوچکا ہوں، چھوٹی کے لیے ابھی کچھ نہیں سوچا تھا کہ وہ اس مصیبت کا شکار ہوگئی۔‘‘
’’وہ مصیبت کیا ہے؟‘‘
’’آپ کے سوال کا جواب دینا میرا فرض ہے۔ حالانکہ میرا سوال تشنہ رہ گیا ہے۔ آپ نے اس وقت سانپ، سانپ کیوں کہا تھا؟‘‘
’’کیا آپ لوگ ان کے بدن سے لپٹے ہوئے سانپ سے خوف زدہ نہیں ہوتے؟‘‘
’’بدن سے لپٹے ہوئے سانپ سے…؟‘‘ شیخ صاحب نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔
’’ہاں! اس کا پھن ان کے سر پر رکھا ہوا تھا۔ وہ نیلا، چمکیلا سانپ گہرا سیاہ تھا اور وہ ان کے پورے بدن کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھا۔‘‘ میں نے کہا اور شیخ صاحب دہشت زدہ نظروں سے مجھے دیکھنے لگے۔ کچھ دیر کے بعد انہوں نے کہا۔ ’’وہ آپ کو نظر آیا تھا؟‘‘
’’آپ کو نظر نہیں آتا؟‘‘
’’نہیں! ہمیں یہ بصیرت نہیں ملی، حضرت! اب میں آپ کو پوری تفصیل بتانا چاہتا ہوں۔ مختصر عرض کرتا ہوں۔ میں دہلی کا قدیم باشندہ ہوں، اجداد دور مغلیہ سے یہاں آباد تھے، یہ حویلی بھی اسی دور کی ہے۔ دہلی میں تھوڑی بہت جائداد اور کاروبار ہے۔ اللہ کے کرم سے عزت سے گزر رہی ہے۔ اولاد نرینہ سے محروم ہوں اور یہی دو بچیاں سرمایۂ حیات ہیں۔ مہرالنساء میری چھوٹی بچی کا نام ہے۔ کوئی آٹھ ماہ پہلے وہ ایک خوش گفتار، ہنس مکھ اور زندگی سے بھرپور بچی تھی۔ اچانک ایک رات وہ خواب کے عالم میں ڈر گئی اور سانپ، سانپ چیخنے لگی۔ ہم سب جاگ گئے اور اسے بیدار کیا تو وہ پسینے میں ڈوبی ہوئی تھی اور دہشت زدہ نظروں سے چھت میں لٹکے ہوئے فانوس کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے بتایا کہ فانوس میں سانپ ہے۔ وہ نیچے لٹکا ہوا تھا اور اس پر گرنا چاہتا تھا۔ ہمارا خیال تھا کہ وہ خواب دیکھ رہی تھی۔ تاہم اس وقت سارے ملازموں کو بلا کر بھاری فانوس اتارا گیا اور اس کے سامنے چکناچور کردیا گیا۔ سانپ کہیں نہیں تھا۔ اسے اطمینان تو ہوگیا تھا مگر وہ بدستور سہمی رہی۔ پھر دوسری صبح اس نے اپنی والدہ کو بتایا کہ وہ یہ سانپ کئی دن سے دیکھ رہی ہے۔ کبھی یہ اسے پائیں باغ کے کسی درخت کی جڑ میں بیٹھا نظر آتا ہے، کبھی پھولوں کے کسی کنج میں مگر پھر وہ غائب ہوجاتا ہے لیکن اس کی ننھی، چمکدار آنکھیں اسے نظر آتی رہتی ہیں۔ نذر نیاز کی گئی، صدقے اتارے گئے۔ جو ممکن تھا، کرلیا گیا مگر اسے افاقہ نہ ہوا۔ وہ ملول اور خوف زدہ رہنے لگی۔ دو تین بار اس نے سانپ کا تذکرہ کیا اور پھر خاموش ہوگئی۔ اس کے بعد بارہا اس سے سانپ کے بارے میں پوچھا گیا مگر اس نے کچھ نہیں بتایا بلکہ اس تذکرے پر وہ خاموش ہوجاتی ہے۔ اس میں وہ تمام صفات ختم ہوگئیں۔ پہلے وہ بلبل کی طرح چہکتی رہتی تھی، اب بالکل خاموش بلکہ ایک طرح سے نیند کے عالم میں رہتی ہے۔ بس کبھی کبھی وہ اس خول سے نکلتی ہے۔ اس سے کچھ پوچھا جاتا ہے تو رونے لگتی ہے۔ ساتھ ہی کچھ عجیب و غریب واقعات رونما ہوئے ہیں جو ناقابل فہم ہیں۔‘‘
’’وہ کیا…؟‘‘ میں نے دلچسپی سے پوچھا اور شیخ صاحب کسی سوچ میں گم ہوگئے جیسے ان عجیب و غریب واقعات کو یاد کر رہے ہوں۔ پھر انہوں نے کہا۔
’’اس کے کمرے میں خوشبوئیں بکھری رہتی ہیں۔ گلدانوں میں ایسے ایسے حسین پھولوں کے گلدستے سجے نظر آتے ہیں جو شاید پورے ہندوستان میں کہیں نہ ملیں، دہلی تو کیا۔ شادی کی ایک تقریب میں شرکت کرنا تھی۔ اس کے لباس کی الماری میں اطلس کا ایک ایسا جوڑا ملا جس میں ہیرے ٹنکے ہوئے تھے۔ وہ آدھی آدھی رات کو باغ میں چلی جاتی ہے اور وہاں بیٹھی رہتی ہے۔ بس ایک بار رات کا چوکیدار اسے دیکھ کر اس کے پاس چلا گیا تھا دوسری صبح وہ بے ہوش ملا اور پھر پاگل ہوگیا۔ ایسے ہی کچھ اور واقعات!‘‘
’’انہوں نے سانپ کا تذکرہ دوبارہ نہیں کیا۔‘‘
’’نہیں! اس کے بعد نہیں۔‘‘
’’آپ لوگوں نے ان کے پاس کسی سانپ کو نہیں دیکھا؟‘‘
’’کبھی نہیں!‘‘
’’آج کل بھی نہیں؟‘‘
’’بالکل نہیں۔‘‘
’’آپ نے انہیں کسی ڈاکٹر کو نہیں دکھایا؟‘‘
’’میرے خاندان کے بزرگوں نے منع کردیا۔‘‘
’’کیوں…؟‘‘
’’ان کا کچھ اور خیال ہے۔‘‘
’’کیا…؟‘‘
’’مجھے منع کیا گیا ہے کہ اپنے منہ سے کچھ نہ کہوں۔‘‘
’’آٹھ ماہ سے ان کی یہ حالت ہے۔‘‘
’’ہاں… لگ بھگ!‘‘
’’کوئی ایسا واقعہ جس کا رابطہ ان واقعات سے کیا جاسکے؟‘‘
’’ہاں!‘‘ شیخ صاحب نے جھجکتے ہوئے کہا۔
’’بتایئے۔‘‘
’’دہلی سے کچھ فاصلے پر غازی آباد ہے۔ غازی آباد میں بھی میری زمینیں اور جائداد ہے۔ وہیں ایک قدیم حویلی بھی ہے جو کوئی سو سال سے ویران پڑی ہے۔ ایک ہندو بنیے نے اس پر اپنا حق جتا دیا اور ہمارے درمیان مقدمہ بازی شروع ہوگئی۔ میں وہ مقدمہ جیت گیا۔ مقدمے کے دوران حویلی سیل کردی گئی تھی۔ مجھے اس کا قبضہ دیا گیا اور چونکہ یہ تنازع عرصے سے چل رہا تھا اس لیے جب ہم قبضہ لینے گئے تو تمام گھر والے ساتھ تھے۔ مہرالنساء بھی تھی۔ حویلی تباہ حال پڑی ہوئی تھی، جھاڑ جھنکاڑ سے بھری ہوئی۔ میں نے ایک کمرہ صاف کرایا اور ہم نے ایک رات وہاں قیام کیا تھا۔‘‘
’’جی۔ پھر…؟‘‘
’’بس! اس کے بعد ہی مہر النساء کی یہ کیفیت شروع ہوگئی۔‘‘
’’اس رات کے قیام میں کوئی واقعہ پیش آیا تھا۔‘‘
’’بالکل نہیں۔ خوشگوار چاندنی رات تھی۔ بچے صاف ستھرے علاقے میں ساری رات آنکھ مچولی کھیلتے رہے تھے۔‘‘
’’آپ نے کسی عالم سے رجوع کیا؟‘‘
’’نہیں! دراصل میرا ذہن کچھ مختلف ہے۔ اس بارے میں، میں نے اپنے اہل خاندان سے اختلاف کیا ہے مگر اب۔ اور پھر میاں صاحب! آپ نے براہ راست مجھے متاثر کیا ہے۔ ایسے کام میں کرتا رہتا ہوں۔ اس کا صدقہ اتارتا رہتا ہوں، کھانا وغیرہ اس طرح تقسیم کرتا رہتا ہوں جس طرح آج آپ نے دیکھا۔‘‘
’’میں کیا خدمت کرسکتا ہوں؟‘‘
’’آپ بہتر سمجھتے ہیں میاں صاحب! اللہ کا حکم ہوا ہے تو آپ میری مدد کریں۔ وہ بچپن سے اپنے پھوپھی زاد بھائی سے منسوب ہے۔ میری بہن، بہنوئی یورپ میں رہتے ہیں اور ہمارے درمیان طے ہے کہ ہم دونوں بچوں کی شادی کریں گے۔ سلطان میاں کی تعلیم مکمل ہونے والی ہے۔‘‘
’’صاحبزادی اپنے منگیتر سے مطمئن ہیں؟‘‘
’’اس نے خالص مشرقی ماحول میں میری والدہ سے تربیت حاصل کی ہے اور مشرقی لڑکیاں صرف اتنا سوچتی ہیں جتنا انہیں بتایا جائے۔ اس کی اداسی اور غم آلود کیفیت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اسے اپنے مستقبل کا خیال ہے۔‘‘ شیخ صاحب نے کہا اور میں سوچ میں ڈوب گیا۔ نہ میں عالم تھا، نہ درویش! ان حالات پر اپنا تبصرہ کیا کرتا۔ مجھے تو رہنمائی درکار تھی۔ سوچنے لگا کہ شیخ صاحب کو کیا جواب دوں۔ بالآخر کہا۔
’’قبلہ شیخ صاحب! میں آپ سے اس بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ میں خود بھی ایک ناواقف انسان ہوں۔ ہاں اس اعتراف سے گریز کرکے جھوٹ کا مرتکب نہ ہوں گا کہ میں نے مہرالنساء کے جسم سے ایک پتلا، لمبا سانپ لپٹے ہوئے دیکھا تھا جس کا پھن ان کے سر پر رکھا ہوا تھا، اسی لیے ناشتے کے دونے میرے ہاتھ سے گر گئے تھے۔ میرا خیال تھا کہ آپ سب لوگ بھی اسے دیکھ رہے ہوں گے مگر اللہ کا حکم! اگر اس نے مجھے یہ بینائی بخشی ہے تو اس کی کچھ وجوہ بھی ہوں گی۔ میں دہلی میں نووارد ہوں، چندوسی سے آیا ہوں۔ بس یوں سمجھ لیجیے خدا کے نیک بندوں سے فیض حاصل کرنے نکلا ہوں۔ ہوسکتا ہے اس بارے میں، میں کوئی خدمت سرانجام دینے میں کامیاب ہوجائوں۔ آپ کے درِ دولت پر چند روز قیام کا خواہشمند ہوں۔ دو وقت کی روٹی کے سوا کچھ درکار نہ ہوگا۔ اگر بزرگان دین سے کچھ رہنمائی حاصل ہوئی تو یہاں ٹھہروں گا ورنہ آپ سے اجازت لے کر چلا جائوں گا۔ خدارا مجھے ایک گناہ گار انسان کے سوا کچھ تصور نہ فرمایئے گا۔ ہوسکتا ہے صاحبزادی کی صحت یابی کی سرخروئی مجھے عنایت ہوجائے۔‘‘
’’سبحان اللہ۔ میاں صاحب! آپ کا لب و لہجہ بتاتا ہے کہ اللہ نے آپ کو بہت کچھ دیا ہے۔ جسے عاجزی اور انکساری کی دولت مل جائے، اس سے زیادہ امیر کون ہوسکتا ہے ورنہ یہاں تو دو ٹکوں پر اچھلنے والوں کی بہتات ہے۔ آپ کا قیام میرے لیے بڑی ڈھارس کا باعث ہوگا۔ آپ یہاں قیام فرمایئے، میں آپ کا احسان مانوں گا۔ ویسے حضور! کوئی نام تو ہوگا آپ کا؟‘‘
’’جی! آپ مجھے مسعود احمد کہہ سکتے ہیں۔‘‘
’’جس شے کی حاجت ہو، ارشاد فرما دیجیے گا۔‘‘
’’شکریہ! مہرالنساء بیگم سے ملتے رہنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ مجھے ان کے لیے بھائی کا درجہ دیا جائے اور حویلی کے اندرونی حصے میں داخل ہونے کی اجازت بھی!‘‘
’’سب کو ہدایت مل جائے گی۔ آپ اطمینان رکھیں۔‘‘
’’مہرالنساء پر کسی بھی وقت کوئی خاص کیفیت طاری ہو، مجھے ضرور اطلاع دیجیے گا۔‘‘
’’بہت بہتر۔ ویسے آپ چاہیں تو ابھی اس کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ نورجہاں میری بھتیجی ہے اور مہر کے ساتھ رہتی ہے۔ اسے سب سے زیادہ مہر سے لگائو ہے میں اسے بھی ہدایت کردوں گا۔‘‘
’’ابھی کچھ توقف فرمایئے، بعد میں ان سے ملاقات کرلوں گا۔‘‘ میں نے کہا اور شیخ صاحب اٹھ گئے۔ رخصتی الفاظ ادا کرکے وہ باہر نکل گئے اور میں احمقوں کی طرح دروازہ دیکھتا رہ گیا۔ کیا میں اس سلسلے میں کچھ کرسکوں گا، مگر کیسے۔ میرا عمل کیا ہونا چاہیے۔ بابا فضل میں نابینا ہوں، میں کچھ نہیں جانتا۔
’’آرام بڑی چیز ہے، منہ ڈھک کے سویئے۔‘‘ میرے کانوں میں آواز ابھری اور میں اچھل پڑا۔ آواز اتنی صاف تھی کہ کوئی دھوکا نہیں ہوا تھا اور یہ آواز… یہ آواز! میری نگاہ اس کمبل کی طرف اٹھ گئی۔ اس کمبل کا ان الفاظ سے گہرا تعلق تھا۔ مگر اس وقت پھر میرے ذہن میں ایک خیال آیا اور اس طرح آیا کہ میں خود کو اس سے باز نہ رکھ سکا۔ میں نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور کمبل کو بڑے احترام سے اٹھا کر مسہری کی طرف بڑھ گیا۔ مسہری پر دراز ہوکر میں نے کمبل اوڑھ لیا۔ تاریکی پھیل گئی۔ سب کچھ نگاہوں سے اوجھل ہوگیا مگر میں صبر و سکون سے لیٹا رہا۔ پھر اچانک میری نظروں میں روشنی کا ایک نکتہ ابھرا۔ یہ نکتہ رفتہ رفتہ پھیل رہا تھا۔ پھر احساس ہی نہ رہا کہ میں کہاں ہوں، کس حال میں ہوں۔ میرے اطراف تیز روشنی تھی اور اس روشنی میں، میں بہت کچھ دیکھ رہا تھا، سن رہا تھا، سمجھ رہا تھا۔ میرے ذہن کے دریچے کھلتے جارہے تھے اور ان دریچوں
جانے کیا کیا تھا۔
دروازہ زور زور سے پیٹا گیا تو میں جاگا اور آنکھیں پھاڑ کر چاروں طرف دیکھنے لگا۔ مہمان خانہ ہی تھا۔ میں مسہری پر تھا اور دروازہ مسلسل پیٹا جارہا تھا۔ کمبل احترام سے تہہ کرکے میں نے ایک طرف رکھا اور اٹھ کر دروازہ کھول دیا۔ فتح محمد تھا۔
’’اماں بھائی میاں روٹی نئیں کھائو گے کیا، ڈیڑھ بج رہا ہے۔ اماں گھوڑے بیچ کر سو گئے تھے کیا؟‘‘
’’نہیں فتح محمد! کھانا لے آئے ہو کیا؟‘‘
’’اماں کھانا لانے میں کونسی دیر لگے گی، ابھی لائے۔‘‘ فتح محمد نے کہا اور چلا گیا۔ میرا سر چکرا رہا تھا۔ جو کیفیت طاری ہوئی تھی، وہ نیند نہیں تھی بلکہ کچھ اور تھا اور اس میں جو کچھ بتایا گیا تھا، اس نے مجھے بہت اعتماد بخشا تھا۔ کھانے کے بعد فرصت تھی۔ کچھ دیر آرام کیا پھر غسل کرکے لباس سلیقے سے پہنا۔ فراست کا دیا ہوا یہ لباس قیمتی تھا۔ مجھے وہ حلیہ بنانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی جو درویشوں اور گوشہ نشینوں کا ہوتا ہے۔ کہا گیا تھا۔
’’وہ روپ ہوتا ہے، بہروپ نہیں۔ اور روپ ملتا ہے، بنایا نہیں جاتا۔ جذب کی وہ منزل عمر ناتمام کی گرفت میں نہیں ہاں کسی مرد حق کی نظر ہوجائے۔ سو جو بہروپ بھرتے ہیں، وہ جھوٹے ہوتے ہیں اور جھوٹ سے ہمیشہ خسارہ ہوتا ہے۔ سو دنیا کو دنیا داروں ہی کی طرح گزارنا بہتر ہے اور بہروپ بھرنا گناہ!‘‘ تب میں نے سوچا کہ مجھے دوسرے لباس بھی درکار ہیں اور میرے ہاتھ، پائوں مضبوط۔ کسی کے چھوٹے موٹے کام کے لیے اس کے در پر جانا پڑتا۔ رزق حلال کا حصول تو نہیں۔ اس کے لیے تو بساط بھر محنت کرنی ہوتی ہے۔ لیکن ابھی کچھ ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں۔ اس کے بعد یہ سوچوں گا کہ کیا کرنا چاہیے۔‘‘
شام کے چھ بجنے والے تھے۔ مہمان خانے سے نکلا اور حویلی کے باغ کی بہار دیکھتا ہوا درختوں کی آڑ میں دور نکل آیا۔ تب ایک برگد کا قدیم درخت نظر آیا جو کئی سو سال پرانا ہوگا۔ اس کی داڑھیاں بے شمار تھیں اور نیچے آکر زمین کی گہرائیوں میں اتر گئی تھیں مگر مجھے جس شے نے اپنی طرف متوجہ کیا وہ ایک زنگ خوردہ کلسا تھا جو تانبے کا بنا ہوا تھا اور زنگ تانبہ کھا گئی تھی مگر کلسے میں سونا چمک رہا تھا۔ کلسا چمکدار سونے کی گنیوں سے بھرا ہوا تھا اور یہ مال تھا زمانہ قدیم کے ایک سود خور بنیے کا جس نے ہر اچھے برے ذریعے سے اسے جمع کیا اور یہاں دفن کردیا مگر وہ اسے استعمال نہ کرسکا اور مر گیا اور اب اسے کسی کی ملکیت بن جانا چاہیے مگر میری نہیں۔ نہ ہی میرے دل میں اس کی طمع پیدا ہوئی تھی مگر میں نے پائوں سے اس جگہ کو کرید کر دیکھا اور اندازہ ہوگیا کہ کلسا گہرائی میں ہے۔ پھر کچھ باتیں کرنے کی آوازیں سنائی دیں اور گردن گھوم گئی۔ وہ دونوں اسی طرف آرہی تھیں اور زیادہ دور نہیں تھیں۔ میں نے انہیں پہچان لیا اور انہوں نے مجھے مگر وہ خود میری طرف بڑھ آئی تھیں۔ اور اس وقت مہرالنساء سانپ کی گرفت میں نہیں تھی۔
’’لو دیکھ لو یہی ہیں۔‘‘ نورجہاں نے شوخی سے مسکرا کر کہا اور مہرالنساء نے اسے ٹہوکا دیا۔ ’’مجھے کیوں پیٹ رہی ہو۔ خود ہی تو دیکھنا چاہ رہی تھیں مگر کمال ہے اس عمر میں فقیری! مجھے تو کچھ اور ہی لگتا ہے۔ کیوں جناب شاہ صاحب! آپ کچھ بتائیں گے؟‘‘
’’کیا بتائوں…؟‘‘
’’انہیں تو پہچان لیا ہوگا آپ نے؟‘‘ نورجہاں نے مہرالنساء کی طرف اشارہ کرکے کہا۔
’’جی ہاں!‘‘
’’اس وقت ہم نے بھی آپ کو غور سے نہیں دیکھا تھا۔ مگر بعد میں آپ کی بڑی تعریفیں سنیں۔ وہ تعریفیں سچ ہیں یا کوئی اور قصہ ہے؟‘‘
’’قصہ کیا ہوسکتا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’بس وہی کہ اک محلے میں تھا ہمارا گھر۔ وہیں رہتا تھا ایک سوداگر یعنی مثنوی زہرعشق۔ یا پھر زیب النساء اور عاقل خان والا معاملہ۔‘‘ نورجہاں بہت تیز اور شوخ تھی۔
’’اتنی بے لگامی اچھی نہیں ہوتی نورجہاں!‘‘ مہرالنساء نے واپس ہوتے ہوئے کہا۔
’’سنو تو، ارے رکو تو۔‘‘ نورجہاں نے کہا۔ مگر مہرالنساء تیزی سے آگے بڑھ گئی تھی۔ مجبوراً نورجہاں کو بھی اس کے پیچھے جانا پڑا۔ میں خاموشی سے ان دونوں کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا اور دوبارہ اس وقت چونکا جب ایک درخت کے عقب سے تالیاں بجنے کی آوازیں سنیں۔ دیکھا تو الیاس خان، فتح محمد کے ساتھ نظر آئے اور درخت کے عقب سے نکل کر میرے پاس پہنچ گئے۔
’’سڑکوں پر بھیک مانگنے والے بھی بعض اوقات بڑے ذہین نکل آتے ہیں جیسے ہمارے شاہ صاحب! مگر تمہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ نورجہاں سچ کہہ رہی تھی۔‘‘ میں نے الیاس خان کو دیکھ کر سلام کیا۔ اس شخص سے میں بھی راہ رسم چاہتا تھا۔ ’’جیتے رہو، جیتے رہو۔ ہمارا کیا جاتا ہے۔‘‘ الیاس خان مکاری سے بولا۔ صورت سے ہی شاطر آدمی معلوم ہوتا تھا۔
’’کیسے مزاج ہیں خان صاحب؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’میاں! ہم تو سدابہار ہیں مگر تمہارا چکر ذرا سمجھنے سمجھانے کا ہے۔‘‘ الیاس خان صاحب نے معنی خیز نگاہوں سے مجھے دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا۔
’’میں سمجھا نہیں خان صاحب!‘‘
’’خیر سمجھ تو سب کچھ گئے ہوگے۔ یہ دوسری بات ہے کہ بننے کی کوشش کررہے ہو۔ مگر سنو! ہم تو یاروں کے یار ہیں۔ بڑے چکر چلا چکے ہیں خود بھی جوانی کی عمر کا اندازہ ہے ہمیں! یہ عمر ایسے ہی کھیل کھیلنے کے لیے ہوتی ہے مگر کسی سمجھدار کو رازدار بنا لینا اچھا ہوتا ہے۔ کیا چکر ہے جان من؟‘‘ الیاس خان نے ایک آنکھ دبا کر مسکراتے ہوئے کہا اور میں بھی مسکرا دیا۔
’’گو آپ کی باتیں واقعی میری سمجھ میں نہیں آئیں لیکن سمجھنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’ملی بھگت چل رہی ہے، کس سے! نورجہاں سے یا مہرالنساء سے؟‘‘
’’اوہ یہ بات ہے۔ نہیں خان صاحب! ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ آپ کا یہ خیال غلط ہے۔‘‘
’’دیکھو میاں! جب آدمی بہت زیادہ چالاک بننے کی کوشش کرے تو اگلے کو بھی غصہ آسکتا ہے اور پھر یہ تو تمہیں پتا چل ہی گیا ہوگا فتح محمد سے، فتح محمد نے ہمیں بتایا تھا کہ تم ہمارے بارے میں بھی پوچھ رہے تھے۔ تو یہ تو تمہیں معلوم ہو ہی گیا ہوگا کہ اس گھر میں ہماری رشتے داری ہے دور کی سہی۔ مگر آتے ہیں، کھاتے پیتے ہیں اور پھر بیچارے اپنے شیخ عبدالقدوس اللہ میاں کی گائے ہیں بلکہ اللہ میاں کے بیل! ایک منٹ میں ہر ایک پر اعتبار کرلیتے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہے کہ ملی بھگت کی بات ہے اور کوئی کھیل کھیل رہے ہو۔ صورت سے بھی فقیر نہیں معلوم ہوتے، یہ سوٹ بھی بڑھیا پہنا ہوا ہے، حلیہ بگاڑنے سے کیا ہوتا ہے۔ تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں لیکن یاروں سے یاری کرنا زیادہ اچھا ہوتا ہے۔ یہ فتح محمد تو بائولا ہے، کہنے لگا کہ خان صاحب ذرا شاہ جی سے بات چیت کرکے سٹے کا نمبر معلوم کریں، اسی لیے پیچھے لگا آیا تھا۔ ہم نے تمہیں مہمان خانے میں دیکھا اور پھر اس طرف آتے ہوئے تب پتا چلا کہ صاحبزادے کوئی دوسرا ہی کھیل کھیل رہے ہیں۔ رازدار بنا لو، فائدہ ہی فائدہ ہوگا۔‘‘ میں بدستور مسکراتا رہا۔ میں نے کہا۔
’’خان صاحب! سٹے کا نمبر معلوم کرنا چاہتے ہیں آپ…؟‘‘
’’پہلے تو یہی سوچا تھا کہ فتح محمد کی بات پر یقین کرلیں مگر اب جو کچھ سامنے آیا ہے، وہ کچھ اور ہے۔‘‘
’’ہوں! آپ سے اس کے علاہ بھی کچھ باتیں کرنی ہیں مجھے خان صاحب!‘‘
’’ابے دیکھا، بھائی فتے بھیا! اپنی عمر سے اونچی اڑان اڑنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ہم نے بھی اچھے اچھوں کے حوصلے پست کردیے ہیں۔ چلو بولو کیا بات ہے، کیا قصہ ہے، ہوسکتا ہے ہم کام آہی جائیں۔‘‘
’’تنہائی میں آپ سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’چل بے فتح محمد پھوٹ لے اور سن زبان بند رکھیو۔ ورنہ تو جانتا ہے الیاس خان کو۔‘‘
’’نہیں خان صاحب! ہم تو نوکر ہیں آپ کے جی! مجال ہے قسم اللہ کی کہ ادھر سے ادھر ہوجائیں، مگر ایک وعدہ کرلینا بھائی میاں! کچھ ہاتھ لگے تو اس میں تھوڑا سا حصہ ہمارا بھی ہونا چاہیے۔‘‘
’’اب جاتا ہے یا لگائوں لات!‘‘ الیاس خان نے کہا اور فتح محمد ہنستا ہوا آگے بڑھ گیا۔ الیاس خان ایک بینچ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے۔
’’آئو پہلوان! بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ کسی اچھے گھرانے کے لگتے ہو۔ صورت شکل سے بھی، حلیے اور لباس سے بھی! کیا چکر تھا مہرالنساء سے کوئی معاملہ چل رہا ہے یا نورجہاں سے! ویسے آدمی ذہین ہو۔ سانپ وانپ کا قصہ سن لیا ہوگا کہیں سے اور عین موقع پر پوبارہ کردیے اور شیخ عبدالقدوس تمہیں یہاں لے آئے۔‘‘
’’خان صاحب! میں آپ کو جانتا ہوں۔‘‘ میں نے کہا اور الیاس خان چونک پڑے۔ چند لمحات میرا چہرہ دیکھتے رہے پھر بولے۔
’’فتح محمد سے پوچھا ہوگا میرے بارے میں؟‘‘
’’نہیں! میں نے آپ کو شکتی پور میں دیکھا تھا۔‘‘
’’کہاں…؟‘‘ خان صاحب چونک کر بولے۔
’’شکتی پور میں، شکنتا کے کوٹھے پر! آپ کے ساتھ چند افراد اور تھے اور آپ شکنتا بائی کے ہاں رقص و سرود دیکھنے گئے تھے۔‘‘ الیاس خان صاحب نے حیران نگاہوں سے مجھے دیکھا۔ دیکھتے رہے پھر ایک دم ہنس پڑے اور بولے۔
’’تم وہاں کیا کررہے تھے شہزادے۔‘‘
’’آپ کے ساتھ جو افراد تھے، الیاس خان صاحب! میں ان کے بارے میں تفصیل جاننا چاہتا ہوں۔ جہاں تک آپ کے اس خیال کا معاملہ ہے کہ میں یہاں مہرالنساء یا نورجہاں کے چکر میں آیا ہوں تو بہتر یہ ہوگا کہ اسے دل سے نکال دیجیے۔ میں کوئی فقیر یا درویش نہیں ہوں، ایک گناہ گار بندہ ہوں اللہ کا! بس کبھی کبھی نظر عنایت ہوجاتی ہے اللہ والوں کی اور حکم ملتا ہے کہ کسی کا کوئی کام کردیا جائے تو کوشش کرتا ہوں۔‘‘
’’لے وہ کتے کی دم والی بات ہورہی ہے کہ بارہ برس نلکی میں رہی مگر ٹیڑھی کی ٹیڑھی! یعنی اب تمہیں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہم نے اور تم پھر وہی رام کہانی سنا رہے ہو ہمیں۔‘‘ الیاس خان صاحب نے مجھے گھورتے ہوئے کہا۔
’’میں آپ کو یقین دلا دوں گا الیاس خان صاحب! لیکن ان لوگوں کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں جو شکتی پور میں آپ کے ساتھ تھے۔‘‘
’’چلو ٹھیک ہے مگر تمہاری اس معلومات سے ہمارے اوپر کیا فرق پڑتا ہے، بھائی دنیا دار ہیں، کم ازکم فقیر بن کر عشق و محبت کا ناٹک نہیں کھیلتے، جیسے تم کھیل رہے ہو۔ رنگین مزاج ہیں، شوق رکھتے ہیں، مال خرچ کرتے ہیں، کوٹھوں پر جاتے ہیں۔ اگر تمہیں یہ پتا چل گیا تو اس سے ہمارا کوئی نقصان نہیں ہوگا شہزادے! مگر تم ان لوگوں کے بارے میں
کیوں پوچھ رہے ہو؟‘‘
’’ان میں ایک صاحب میرے شناسا تھے۔ ان کے بارے میں آپ سے معلومات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کیا نام تھا…؟‘‘ الیاس خان نے پوچھا۔
’’ریاض…!‘‘ میں نے جواب دیا اور الیاس خان سوچ میں ڈوب گئے۔ پھر بڑبڑاتے ہوئے بولے۔
’’اس دن ہمارے ساتھ رشید خان صاحب تھے، غلام علی تھا، فرید احمد تھے۔ ہاں… ہاں! یاد آگیا۔ تم منشی ریاض کی بات کررہے ہو، بالکل ٹھیک ہے۔ فرید احمد کے ہاں منشی ہے وہ شخص! فرید احمد ذرا یارباش قسم کا آدمی ہے، نوکروں سے بھی دوستی ہی رکھتا ہے۔ کسی کام سے گئے تھے ہم لوگ شکتی پور، منشی ریاض بھی ساتھ تھا اور جب ہم گانا سننے گئے تو منشی ریاض کو بھی ساتھ لے گئے تھے۔ بس اس کے علاوہ اور کوئی ریاض نہیں تھا ہمارے ساتھ…!‘‘ میرا دل دھڑکنے لگا۔ میں نے حسرت بھرے لہجے میں پوچھا۔
’’کیا منشی ریاض صاحب، فرید احمد کے ساتھ الٰہ آباد میں رہتے ہیں؟‘‘
’’ہاں بھئی فرید احمد الٰہ آباد کا ایک بڑا کاروباری ہے۔ منشی ریاض بہت عرصے سے اس کے ساتھ کام کرتا ہے۔‘‘
’’آپ کو کچھ اور بھی معلوم ہے اس شخص کے بارے میں…؟‘‘ میں نے دھڑکتے دل سے پوچھا اور الیاس خان مجھے گھورنے لگے۔
’’ابے عقل کی بات کرو بھائی! کسی آدمی کے منشی کے بارے میں، میں اس سے زیادہ اور کیا جان سکتا ہوں؟‘‘
’’میرا مطلب ہے کہ منشی ریاض اس وقت بھی الٰہ آباد ہی میں ہیں۔‘‘
’’جب فرید احمد الٰہ آباد میں ہے تو منشی ریاض الٰہ آباد میں کیوں نہ ہوں گے مگر تمہارا اس شخص سے کیا تعلق ہے؟‘‘ میں گہری سانس لے کر خاموش ہوگیا۔ الیاس خان کہنے لگے۔ ’’اچھا! اب تو بتا دو کہ قصہ کیا ہے؟‘‘
’’اگر کوئی قصہ ہے بھی خان صاحب تو آپ اس میں دلچسپی کیوں لے رہے ہیں؟‘‘
’’تمہارے بھلے کے لیے سمجھے، تمہارے بھلے کے لیے! ہوسکتا ہے ہم تمہارے کسی کام آجائیں ویسے سچ مچ بتا دو یہ روپ بدلا ہے ناں تم نے یا کچھ جانتے بھی ہو۔‘‘
’’ان باتوں کو جانے دیجیے الیاس خان صاحب! آپ اپنی بات کیجیے۔ سٹے کا نمبر معلوم کرنا چاہتے ہیں آپ…؟‘‘
’’چلو بے وقوف بنانا شروع کردیا تم نے ہمیں! بتا سکتے ہو تم سٹے کا نمبر…؟‘‘ الیاس خان نے پوچھا۔
’’نہیں! لیکن آپ کی خواہش پوری کرسکتا ہوں۔‘‘ میں نے جواب دیا اور الیاس خان چونک پڑا۔
’’کیا مطلب…؟‘‘
’’میں آپ کو سٹے سے حاصل ہونے والی رقم یہیں اور اسی جگہ دے سکتا ہوں لیکن اس کے لیے ایک شرط ہوگی۔‘‘
الیاس خان نے کوئی جواب نہیں دیا۔ خاموشی سے مجھے گھورتا رہا۔ غالباً بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ میں نے مسکرا کر کہا۔ ’’سٹے کا نمبر معلوم کرکے ظاہر ہے آپ سٹہ کھیلیں گے، اس سے آپ کو رقم حاصل ہوگی۔ وہ سب کچھ اگر یہیں مل جائے تو کیا حرج ہے؟‘‘
’’کیا آسمان سے دولت برسے گی؟‘‘ الیاس خان کہا۔
’’نہیں! زمین سے حاصل ہوگی، لیکن الیاس خان صاحب! آپ پر وہ دولت اس وقت حلال ہوگی جب آپ میرا بھی ایک کام کردیں۔‘‘ الیاس خان عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔ میں نے پھر کہا۔ ’’میں آپ کو ایک چھوٹا سا خزانہ دے رہا ہوں لیکن اس کے بدلے جب آپ الٰہ آباد جائیں تو فرید احمد کے ہاں موجود منشی ریاض سے ملاقات کریں اور ان سے کہیں کہ ایک شخص کچھ عرصے کے بعد آپ سے ملنے آرہا ہے، کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔ اس شخص کا آپ سے ملنا بے حد ضروری ہے، آپ اس کا انتظار کریں، اس کا نام مسعود احمد ہے اور اس کے باپ کا نام محفوظ احمد بتایئے الیاس خان صاحب، آپ میرا یہ کام کردیں گے؟‘‘
’’یہ سب کچھ تو خیر میں کر ہی دوں گا مگر تم وہ دولت والی بات کیا کہہ رہے تھے؟‘‘
’’آپ وعدہ کرتے ہیں کہ میرا یہ کام کردیں گے؟‘‘ میں نے پھر کہا۔ دل بری طرح دھڑک رہا تھا، آنکھوں میں امیدوں کی چمک آگئی تھی۔ الیاس خان نے شانے ہلاتے ہوئے کہا۔ ’’کردیں گے بھائی! کردیں گے چلو وعدہ کرتے ہیں۔ مگر وہ بات ادھوری رہ گئی۔‘‘
’’دولت کی ضرورت ہے؟‘‘
’’کس کو نہیں ہوتی؟‘‘ الیاس خان نے کہا۔
’’تمہاری ضرورت برگد کے اس درخت کے اس حصے کو کھود کر پوری ہوسکتی ہے جہاں وہ اس کی سب سے چوڑی داڑھی زمین میں پیوست ہوگئی ہے۔‘‘
’’کیا مطلب…؟‘‘
’’میاں! تانبے کا ایک کلسا گڑھا ہوا ہے جس میں سونے کی اشرفیاں بھری ہیں۔‘‘ میں نے کہا۔
الیاس خان مجھے گھورنے لگا۔ پھر بولا۔ ’’کیوں بے تکی چھوڑ رہے ہو شہزادے! وہاں اشرفیاں گڑھی ہوئی ہیں اور تم یہاں بیٹھے ہوئے ہو…‘‘ اس نے مذاق اڑانے والے انداز میں کہا۔
’’وہ تمہارے لیے ہیں۔ لیکن انہیں نکالنے کے لیے مناسب وقت کا تعین کرنا اور پا لو تو میری بات کا خیال رکھنا۔ صلے میں مجھے بس وہی چاہیے جو میں نے تم سے کہا ہے۔‘‘
(جاری ہے)