Kala Jadu | Episode 31

1665
میں یہ اعتراف کرنے میں شرم نہیں محسوس کرتا کہ خود میری بھی سٹی گم ہوگئی تھی۔ ایسے واقعات سے کبھی واسطہ تو نہیں پڑا تھا لیکن دوسروں سے قصے بہت سنے تھے۔ اتنی بھی ہمت نہیں ہوسکی کہ کھلے دروازے سے باہر جاکر دیکھتا۔ زیب النساء نے جو کچھ بتایا تھا، وہ مجھے اپنی آنکھوں کے سامنے محسوس ہورہا تھا۔ ثبوت کے طور پر کارنس سے مورتی بھی غائب تھی۔ زیب النساء سے تسلی کے الفاظ بھی نہیں کہہ سکا۔ وہ بری طرح ڈری ہوئی تھی، ساری رات نہ خود سوئی، نہ مجھے سونے دیا۔
صبح کو اس نے کہا۔ ’’تم چلے جائو گے شاہد اور میں خوف سے مرتی رہوں گی۔‘‘
’’کام ضروری ہیں ورنہ میں نہ جاتا۔ تم ہمت رکھو۔ وہ جو کچھ بھی تھا، چلا گیا۔ اب خوف بیکار ہے۔‘‘
’’بچے اسکول چلے جائیں گے، میں تنہا رہوں گی۔‘‘ بڑی مشکل سے میں نے اسے سمجھایا بجھایا اور پھر جیپ لے کر چل پڑا۔ سائٹ پر پہنچا تو وہاں دوسری مصیبت انتظار کررہی تھی۔ مزدوروں نے کام نہیں شروع کیا تھا بلکہ وہ باغ سے بہت فاصلے پر بیٹھے میرا انتظار کررہے تھے۔ حالانکہ عام حالات میں وہ کام شروع کردیتے تھے۔ سب میرے گرد جمع ہوگئے۔
’’کیا بات ہے…؟‘‘
’’ہم یہاں کام نہیں کریں گے ٹھیکیدار! یہ بھوت باغ ہے، ہمارا ایک آدمی زخمی ہوگیا۔‘‘
’’کیسے…؟‘‘ میں نے پوچھا اور مزدور مجھے تفصیل بتانے لگے۔ یہاں کام کرنے والے مزدوروں نے اپنے لیے ایک گوشے میں آرام گاہ بنا رکھی تھی۔ پہلے کسی نے ایک مزدور کو اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا اور وہ ہکابکا رہ گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ ایسا کس نے کیا۔ ابھی دوسرے مزدور اس پر حیرت کررہے تھے کہ ایک اور مزدور کھڑا ہوگیا۔ اس نے اپنا لباس اتار پھینکا اور بھیانک آواز میں چیخ چیخ کر گانا شروع کردیا۔ وہ ناچ بھی رہا تھا۔
’’صاحب! میں اپنے بچوں کی قسم کھاتا ہوں کہ جھوٹ نہیں بول رہا۔ منجو کی زبان کوئی آٹھ انچ باہر نکل آئی تھی اور آنکھیں اتنی تیز روشنی دے رہی تھیں کہ اس روشنی میں آس پاس دیکھا جاسکتا تھا۔ وہ ناچتا رہا اور پھر ہماری وہاں رکنے کی ہمت نہیں پڑی۔ منجو وہیں رکا رہا اور ہم سب وہاں سے بھاگ آئے۔ صبح کو وہ زخمی حالت میں واپس آگیا۔ اس نے کہا کہ یہاں کام بند کردو ورنہ سب مارے جائو گے۔ ہم کام نہیں کریں گے ٹھیکیدار! ہمارا حساب کردو۔‘‘ میں نے مزدوروں کو سمجھایا۔ ان سے کہا کہ وہ بیشک کچھ دن کے لیے کام بند کردیں مگر وہ نہ رکے اور کام بند کرنا پڑا۔ میرا ہزاروں روپے کا سامان وہاں پڑا تھا، ہزاروں خرچ ہوچکے تھے۔ بڑا پریشان ہوگیا میں! پھر یہ سوچا کہ شہر سے مزدور لے کر آئوں گا۔ کام تو شروع کرانا ہی ہے۔ جو بن پڑا، کیا اور پھر زیب النساء کے خیال سے واپس چل پڑا۔ دھڑکتے دل سے گھر میں داخل ہوا۔ دل بری طرح پریشان تھا مگر زیب النساء کو پرسکون دیکھ کر اطمینان ہوا۔ بچوں کے بارے میں پوچھا تو زیب النساء نے بتایا کہ اسکول سے آنے کے بعد کھانا کھا کر سو گئے ہیں۔
’’تم ٹھیک ہو…؟‘‘
’’ہاں…!‘‘
’’کھانا پکایا ہے؟‘‘
’’ہاں!‘‘ اس نے کہا۔ عجیب ٹھہرا ٹھہرا لہجہ تھا۔ وہ اپنے مزاج کے خلاف بول رہی تھی۔ ہمارے درمیان بہت محبت ہے، ایک دوسرے کے مزاج سے آشنائی رکھتے ہیں۔ اس نے میری واپسی کے بارے میں بھی نہیں پوچھا تھا۔ بہت عجیب سا لگا۔ وہ کھانا لینے چلی گئی تھی۔ پھر وہ ٹرے لیے اندر داخل ہوگئی۔ ٹرے سینٹرل ٹیبل پر رکھی، واپس مڑی اور دروازہ بند کردیا۔ یہ بھی سمجھ میں نہ آنے والا عمل تھا۔ میں نے گردن جھٹکی۔ بھوک لگ رہی تھی۔ سالن کی قاب سے ڈھکن اٹھایا تو حلق سے چیخ نکل گئی۔ بہت سی مردہ چھپکلیاں پیلے رنگ کے بدنما شوربے میں تیر رہی تھیں۔ میں نے بے اختیار چیختے ہوئے قاب اٹھا کر پھینک دی۔ پھر وحشت زدہ نظروں سے زیب النساء کو دیکھا اور میرا سانس بند ہونے لگا۔ وہ سیدھی کھڑی تھی۔ اس کے دانت ایک ایک انچ لمبے ہوگئے تھے، آنکھوں کا رنگ سرخ تھا اور ان کی پتلیاں غائب ہوچکی تھیں۔ سر کے بال اس طرح بار بار سیدھے ہورہے تھے جیسے سانپ کلبلا رہے ہوں۔ اس کی یہ ہیبت ناک صورت دیکھ کر میرا رواں رواں کانپ اٹھا، اعصاب بے جان ہوگئے۔ بولنے کی کوشش کی مگر آواز نہیں نکلی۔ دہشت سے اسے دیکھتا رہا۔ اس نے کچھ دیر مجھے گھورا پھر زمین پر پڑی چھپکلیوں کو دیکھنے لگی۔ پھر آگے بڑھ کر ان کے قریب بیٹھ گئی اور الٹی ہوئی قاب سیدھی کرکے چھپکلیاں چن چن کر اس میں رکھنے لگی۔ میں سکتے کے عالم میں اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ اپنے کام میں منہمک تھی اور میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں۔ پھر میں نے محسوس کیا جیسے وہ اونگھ رہی ہے۔ بار بار اس کے سر کو جھٹکے لگ رہے تھے۔ کچھ دیر کے بعد وہ وہیں فرش پر سیدھی سیدھی لیٹ گئی۔ مجھے محسوس ہوا جیسے وہ بے ہوش ہوگئی ہو۔ اس کے چہرے میں بھی تبدیلیاں رونما ہونے لگی تھیں اور وہ اپنی اصلی صورت میں واپس آگئی تھی۔ میرے اعصاب بھی آہستہ آہستہ سنبھلنے لگے اور میں اپنی جگہ سے ہلنے کی کوشش میں کامیاب ہوگیا۔ اسے چھوڑ کر بھاگ بھی نہیں سکتا تھا۔ میری بیوی تھی، میرے بچوں کی ماں تھی۔ صرف اپنی ہی زندگی بچانا تو مقصود نہیں تھا۔ وہ جس عذاب میں گرفتار ہوئی تھی، اسے بھی دیکھنا تھا۔ قریب پہنچا۔ اب اس کی صورت بالکل ٹھیک ہوگئی تھی، سانس چل رہی تھی اور اطراف میں پڑی ہوئی مردہ چھپکلیاں بڑا گھنائونا منظر پیش کررہی تھیں لیکن میں نے اسے نظر انداز کردیا اور زیب النساء کی گردن اور پائوں میں ہاتھ ڈال کر اسے اٹھانے کی کوشش کی لیکن مجھے پسینہ آگیا۔ حالانکہ وہ ایک نرم و نازک جسم کی مالک، پھول جیسے وزن والی عورت تھی لیکن اس وقت یوں لگ رہا تھا جیسے اس کا بدن ٹھوس پتھر سے تراشا گیا ہو۔ میں اسے جنبش بھی نہ دے پایا۔ میری دہشت اور خوف انتہا کو پہنچا ہوا تھا کہ دفعتاً ہی زیب النساء نے آنکھیں کھول دیں۔ میرا جسم اس کے جسم سے بالکل قریب تھا اور میرا چہرہ اس کے چہرے کے سامنے! جونہی اس کی آنکھیں کھلیں، ہونٹ بھی اوپر اٹھ گئے اور لمبے لمبے دانت باہر جھانکنے لگے۔ اس نے ایک بھیانک قہقہہ لگایا اور دونوں ہاتھ اٹھا کر مجھے دبوچنے کی کوشش کی اور میں نے بندر کی طرح الٹی چھلانگ لگا دی۔ اس کے بعد میرا اس کمرے میں رکنا ممکن نہ رہا۔ ساری محبت، سارے جذبات اپنی جگہ لیکن جو منظر تھا، وہ ایسا ہولناک تھا کہ میں ہی کیا، کوئی بھی ہوتا وہاں نہ ٹک سکتا تھا۔ دوڑتا ہوا بچوں کے کمرے میں آیا اور دروازہ کھول کر اندر گھس گیا۔ اس کے بعد دروازہ ہی اندر سے بند کرلیا تھا۔ میرا دل سینے سے نکلا جارہا تھا۔ جو بپتا مجھ پر پڑی تھی، وہ ایسی تھی کہ حال خراب سے خراب تر ہوگیا تھا۔ بچوں کے پاس بیٹھ گیا۔ ان کے جسموں پر ہاتھ رکھے اور یہ سوچنے لگا کہ یہ کیا مصیبت آگئی اور اب اس مصیبت سے چھٹکارہ کیسے ممکن ہے۔ یہ ساری باتیں، یہ ساری کہانیاں، جن بھوت، کالے علم، سفلی علوم! ان کے بارے میں سن تو رکھا تھا لیکن گزری پہلی ہی بار تھی حالانکہ اس آسیب زدہ باغ کی کہانیاں مجھے سنائی گئی تھیں لیکن میں نے تو شاید سنجیدگی سے کوئی بات سنی ہی نہیں تھی اور اب یہ سب کچھ میری نگاہوں کے سامنے آگیا تھا۔ بہت خوفناک تھا یہ سب! چلیں ٹھیکہ جہنم میں جائے۔ جو رقم پھنس گئی ہے، وہ بھی غرق ہوجائے۔ مجھے اس کا افسوس نہیں ہوتا لیکن میرا گھر، میری بیوی، میرے بچے اس مصیبت سے کیسے چھٹکارہ حاصل کیا جائے۔ قرب و جوار میں لوگ رہتے تھے۔ اگر کسی کو صورتحال بتاتا تو پتا نہیں لوگوں پر کیا اثرات ہوتے۔ تاہم کچھ نہ کچھ کرنا ہی تھا۔ بڑی مشکل سے ہمت کی۔ سوتے ہوئے بچوں کو جگایا، ساتھ لیا اور کمرے سے باہر نکل آیا لیکن سامنے ہی زیب النساء نظر آگئی۔ عجیب اداس اداس سی کھڑی تھی۔ بالکل مناسب حالت میں، مناسب کیفیت میں۔ میں نے خوف بھری نگاہوں سے اسے دیکھا۔ اس نے بوجھل لہجے میں بچوں کے نام لے کر انہیں پکارا اور دونوں بچے اس کے پاس پہنچ گئے۔ پھر اس نے میری طرف دیکھا اور تعجب سے بولی۔ ’’آپ… آپ کب آئے، آگئے آپ…؟‘‘
’’ہیں… ہاں…!‘‘ میں نے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا۔ اس کے پوچھنے کے انداز میں بالکل مصنوعی پن نہیں تھا۔ صورتحال پر غور کرنے لگا۔ زیب النساء بچوں کے ساتھ میرے قریب آگئی اور بولی۔ ’’خیریت تو ہے؟ رنگ پیلا پڑ رہا ہے آپ کا… کیا ہوگیا تھا آپ کو…؟ کیا بات ہے، جلدی کیسے آگئے۔‘‘
’’تمہاری وجہ سے زیب النساء! تمہاری وجہ سے۔ تم کہاں تھی اور کیا کررہی تھیں؟‘‘
’’بس! دوپہر کا کھانا کھایا، بچوں کو سلایا اور خود بھی اپنے کمرے میں آکر سو گئی۔ گہری نیند آگئی تھی۔ کچھ آوازیں سنیں تو آنکھ کھل گئی۔ باہر آکر دیکھا تو آپ تھے۔‘‘
’’ہوں… ہاں…! میں جلدی آگیا۔‘‘ میں نے نجانے کس طرح اپنے دل و دماغ پر قابو پا کر کہا۔ جو کچھ مجھ پر بیت چکی تھی، وہ تو ایک الگ کہانی تھی لیکن اگر زیب النساء کو ساری کہانی سنا دیتا تو اس کا تو خوف کے مارے دم ہی نکل جاتا۔ اس کا مطلب ہے کہ جو کچھ اس پر بیتی ہے، وہ اس کے علم میں بالکل نہیں ہے۔ خاموشی ہی مناسب سمجھی۔ بعد میں زیب النساء کی کیفیت خاصی بہتر رہی اور اس طرح رات ہوگئی۔ بچوں کو آج ہم نے اپنے کمرے میں ہی سلا لیا تھا۔ زیب النساء نے اس کے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا۔
بس یونہی! پچھلی رات والے واقعہ سے میں بھی کافی متاثر ہوگیا ہوں۔ ویسے جو کام میں کررہا ہوں، وہ بھی کچھ دن کے لئے رک گیا ہے۔ میرا خیال ہے اب چند روز تک میں جائوں گا نہیں۔‘‘ زیب النساء میری مزاج شناس تھی۔ بیوی تھی، طویل عرصے کی رفاقت تھی۔ مجھے دیکھتے ہوئے بولی۔
’’کوئی بات ہے جو آپ مجھ سے چھپا رہے ہیں۔‘‘
’’نہیں… کوئی خاص بات نہیں ہے زیب النساء! بس رات کے واقعہ کے بارے میں سوچتا رہا۔ آخر وہ سب کیا تھا۔ اس کے بعد تمہیں تو کوئی احساس نہیں ہوا؟‘‘
’’نہیں! کوئی خاص بات نہیں لیکن بس دماغ گم گم سا رہا۔ ایسا محسوس ہوتا رہا ہے دن بھر جیسے پورے وجود پر کوئی بوجھ طاری رہا ہے۔ ایسا انوکھا بوجھ جسے میں کوئی معنی نہیں دے سکتی۔‘‘
میں اس کی بات سن کر خاموش ہوگیا تھا لیکن دل میں ہزاروں وسوسے جنم لے رہے تھے۔ یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ مصیبت باقاعدہ مجھ سے منسلک ہوگئی ہے اور چونکہ ان واقعات کا اس سے پہلے کوئی اندازہ نہیں تھا اس لیے یہ بھی نہیں سمجھ میں آرہا تھا کہ ان سے چھٹکارہ کیسے حاصل
ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ سب کچھ خودبخود ہی ٹھیک ہوجائے لیکن ذہن پر جو بوجھ طاری تھا، وہ سونے میں رکاوٹ بن رہا تھا جبکہ تھوڑی دیر کے بعد زیب النساء سو گئی تھی۔ بچے پہلے ہی گہری نیند سو رہے تھے۔ میں پریشانی کے عالم میں بہت سی باتیں سوچتا رہا۔ ٹھیکے کا مسئلہ بھی درمیان میں تھا۔ جو وعدہ کیا تھا اس فارم ہائوس کو مکمل کرنے کا، اس میں رکاوٹ پیدا ہوگئی تھی۔ شہر سے مزدوروں کو تلاش کرنا اور وہاں تک لانا اور پھر اس کے بعد یہ بھی ہوسکتا تھا کہ یہ شہری مزدور بھی فرار ہوجائیں۔ کیا کروں؟ کیا ٹھیکہ کینسل کردوں لیکن ساٹھ، ستر ہزار روپے نقصان اٹھانا پڑے گا اور بھی بہت سے ایسے معاملات تھے جو اس ٹھیکے کو کینسل کرنے کی وجہ سے پیدا ہوسکتے تھے۔ انہی سوچوں میں گم تھا۔ رات کے تقریباً سوا دو بجے تھے۔ زیب النساء کو میں نے گہری نیند سوتے ہوئے دیکھا تھا لیکن اچانک ہی میں چونک پڑا۔ وہ اس طرح اٹھ کر بیٹھ گئی جیسے کسی نے اسے مشینی انداز میں اٹھا دیا ہو۔ منہ کھول کر اس سے کچھ پوچھنے ہی والا تھا کہ میں نے اسے دونوں ہاتھ سیدھے کئے، اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا اور جس چیز نے میری زبان بند کردی، وہ اس کا چہرہ تھا جو انگارے کی طرح روشن ہوکر چمکنے لگا تھا۔ آنکھیں بند تھیں، سر کے بال چھتری کی مانند کھڑے ہوگئے تھے۔ وہی کلبلاتے بال جیسے کچھ سانپ لہرا رہے ہوں۔ وہ آہستہ آہستہ ہاتھ سیدھے کئے ہوئے دروازے کی جانب بڑھنے لگی اور پھر میرے خوف میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب میں نے دیکھا کہ وہ ہاتھ ہلائے بغیر دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوگئی ہے یا پھر دروازہ جو اندر سے بند تھا، خودبخود کھل گیا۔
زیب النساء رات کی تاریکی میں کھلے ہوئے دروازے سے باہر نکل گئی۔ میرا بدن کانپنے لگا، پورا جسم پسینے سے تر ہوگیا تھا۔ اعصاب کہہ رہے تھے کہ ہوش و حواس سے عاری ہوجائوں، گہری نیند سو جائوں تاکہ اس خوف سے نجات مل جائے لیکن بیوی تھی، آخر میرے بچوں کی ماں! پورا مستقبل میرے سامنے تھا۔ نجانے کونسی قوت نے مجھے بھی اپنی جگہ چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ میں آہستہ آہستہ دبے پائوں اٹھا اور دروازے کے قریب پہنچ گیا۔ جھانک کر باہر دیکھا۔ زیب النساء آگے جارہی تھی۔ میرے مکان کا احاطہ بہت وسیع ہے اور اس کا آخری گوشہ کافی فاصلے پر ہے۔ آخری گوشے پر بھی میں نے ایک کمرہ بنا رکھا تھا جس میں کاٹھ کباڑ بھرا رہتا تھا۔ یہ کاٹھ کباڑ عموماً کنسٹرکشن کے سامان سے تعلق رکھتا تھا۔ زیب النساء کا رخ اسی کمرے کی جانب تھا۔ کمرے کے بالکل قریب ایک بڑ کا درخت تھا جس کا سایہ پورے کمرے پر رہتا تھا۔ زیب النساء بڑ کے اس درخت کے قریب پہنچ گئی اور پھر میں نے اسے درخت کی جڑ میں کچھ ٹٹولتے ہوئے دیکھا۔ ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ آگے بڑھ کر اس کے قریب پہنچ جائوں چنانچہ احاطے کی دیوار کا سہارا لیتا ہوا بالکل بلی جیسے قدموں سے چل کر اتنے قریب پہنچ گیا کہ وہاں سے اس کی حرکات و سکنات کا جائزہ لے سکوں۔ وہ اسی طرح زمین کھود رہی تھی جیسے بلی اپنے پنجوں سے زمین کھودتی ہے۔ گھٹنوں کے بل بیٹھی ہوئی تھی اور کچھ دیر کے بعد میں نے اس کے ہاتھ میں کوئی شے دیکھی۔ چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔ ویسے بھی سامنے کے حصے پر ہمیشہ ایک طاقتور بلب روشن رہتا تھا۔ یہی میری ہمیشہ کی عادت تھی۔ ان دونوں روشنیوں میں نے جو منظر دیکھا، وہ دل کی حرکت بند کردینے کے لیے کافی تھا۔ بھلا اس مورتی کو میں کیسے نہ پہچانتا جسے میں خود مصیبت بنا کر اپنے ساتھ گھر لایا تھا۔ وہی مورتی تھی جو کارنس سے غائب ہوئی تھی۔ زیب النساء نے اسے درخت کی جڑ میں ایک اونچی جگہ پر رکھا پھر تقریباً چار فٹ پیچھے ہٹی اور گھٹنوں کے بل ہاتھ اسی طرح سیدھے کئے ہوئے بیٹھ گئی۔ اس کے بعد اس نے ایک عجیب و غریب عمل شروع کردیا۔ سامنے کے ہاتھ اس نے زمین پر ٹکائے اور خود اس کے ساتھ جھکتی چلی گئی۔ پھر سیدھی ہوئی اور پیچھے کی سمت جسم کو موڑنے لگی۔
اس کے بعد اسی انداز میں اس کی رفتار تیز ہونے لگی۔ وہ ہاتھ سیدھے کرکے سر نیچے جھکا کر زمین سے لگاتی اور پھر اسی طرح پیچھے ہوکر اپنا سر عقب میں زمین پر لگاتی۔ میں اسے اس عالم میں دیکھتا رہا۔ دل رو رہا تھا لیکن آگے بڑھنے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی۔
زیب النساء کے اس انداز میں جنبش کرنے کی رفتار تیز ہونے لگی اور پھر اتنی تیز ہوئی کہ اس پر نگاہیں جمانا مشکل ہوگیا۔ میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہورہا تھا۔ وہ میری بیوی تھی۔ اس انداز میں جنبش کرنے سے اس کی ہڈیوں کی جو کیفیت ہوسکتی تھی، مجھے اس کا احساس تھا۔ فطرتاً نازک طبع تھی لیکن اس وقت، اس وقت…! اس وقت میں دونوں ہاتھ دل پر رکھے اسے دیکھتا رہا اور میری آنکھوں میں نمی پیدا ہوگئی۔ بڑے پریشان کن حالات تھے۔ تقریباً پندرہ منٹ تک زیب النساء وہی عمل دہراتی رہی اور اس کے بعد آہستہ آہستہ اس کی رفتار مناسب ہوگئی۔ میں نے اسے مورتی کو اٹھا کر واپس اس کی جگہ رکھتے ہوئے دیکھا۔ پھر وہ اس کام سے فارغ ہوکر غالباً واپس پلٹی تو میں جلدی سے دوڑتا ہوا اپنے کمرے کی جانب چل پڑا۔ دل کی جو کیفیت ہورہی تھی، اس کا اندازہ بس خدا ہی کو تھا۔ کسی سے کیا کہہ سکتا تھا۔ بستر پر آکر لیٹ گیا مگر جسم جیسے ہوا میں اڑا جارہا تھا، دماغ قابو میں نہیں تھا۔ آہ…! کیا ہوگیا، یہ کیا ہوگیا زیب النساء کو، کچھ بتانا بیکار ہی تھا۔ وہ جس کیفیت میں تھی، اس سے مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ ایسے عالم میں وہ اپنے ہوش و حواس سے عاری ہوتی ہے لیکن دوسرے دن میں نے سنجیدگی سے غور کرنا شروع کردیا۔ اس طرح تو وہ ہلاک ہوجائے گی اور میرے بچے ماں سے محروم ہوجائیں گے۔ کیا کروں، کسی سے کوئی مشورہ کروں، واقعات چونکہ ایسے انوکھے تھے کہ کسی کو بتاتے ہوئے بھی شرم آتی تھی۔ لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے بلکہ بعض اوقات تو الزام لگانے سے بھی نہیں چوکتے۔ کوئی یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ میری بیوی مجھے ناپسند کرتی ہے اور اس نے یہ کھیل مجھ سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے شروع کیا ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں! بھلا کہنے والی زبان کو کون روک سکتا ہے۔ سانسی کے بہت سے علاقوں میں، میں نے ایسے بورڈ دیکھے تھے جن پر جادو ٹونوں اور سفلی علم کا توڑ کرنے کے دعوے تحریر تھے۔ ظاہر ہے میری معلومات اس سے زیادہ تو تھی نہیں چنانچہ میں نے ایسے لوگوں سے رجوع کرلیا۔ ایک صاحب ملے۔ کوئی سنیاسی باوا تھے جن کا تجربہ ستر سال تھا اور عمر چالیس سال…! بہرحال جو کچھ بھی تھا، انہی سے رجوع کیا۔ سب سے پہلے انہوں نے مجھ سے کچھ رقم طلب کی اور یہ دیکھا کہ میرا مسئلہ کیا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے ایک تجربہ کیا اور اس تجربے نے مجھے کافی متاثر کیا۔ پھر میں نے ساری صورتحال سنیاسی باوا کو بتائی اور انہوں نے اپنا حساب کتاب بنا کر بل میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ بل کی مجھے پروا نہیں تھی۔ میں نے ان سے یہ کہا کہ اگر وہ میری بیوی کو بالکل ٹھیک کردیں اور اسے مصیبت سے نکال دیں تو میں انہیں منہ مانگی رقم دوں گا۔ سنیاسی باوا میرے ساتھ میرے گھر آگئے۔ میں نے انہیں وہ درخت دکھایا جس کی جڑ میں وہ خوفناک مورتی دفن تھی۔ جو پہلے وہاں سے برآمد ہوئی اور اس کے بعد میرے گھر کے کارنس سے غائب ہوگئی۔ سنیاسی باوا نے عمل کے ذریعے اس مورتی کو باہر نکالنے کا فیصلہ کیا۔ لکڑی کی ایک چھڑی سے انہوں نے درخت کی جڑ کے گرد ایک دائرہ قائم کردیا اور مجھ سے کچھ چیزیں طلب کرنے کے بعد مجھے واپس کردیا۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ چیزیں دینے کے بعد اپنے کمرے میں جاکر بند ہوجائوں اور اپنی بیوی پر نظر رکھوں۔
بچوں کو اسکول بھیج دیا تھا۔ بیوی کو ان صاحب کے بارے میں کوئی خاص بات نہیں بتائی تھی۔ بس یہ کہہ دیا تھا کہ میرے ایک شناسا ہیں جو کچھ عمل کرنے کے لیے آئے ہیں۔ سنیاسی باوا نے حکم دیا تھا کہ انہیں ان کے کام میں مداخلت کرکے پریشان نہ کیا جائے۔ ایک گھنٹہ، دو گھنٹے پھر ڈھائی گھنٹے گزر گئے اور اس کے بعد میں برداشت نہ کرسکا اور باہر نکل آیا لیکن جیسے ہی صحن میں قدم رکھ کر درخت کی طرف دیکھا، ہوش و حواس رخصت ہوگئے۔ سنیاسی باوا بے ہوش پڑے ہوئے تھے اور ان کا پورا لباس دھجی دھجی ہورہا تھا۔ سر کے بال جگہ جگہ سے نچے ہوئے تھے، چہرے اور جسم کے مختلف حصوں میں خون کی لکیریں نظر آرہی تھیں۔ کئی جگہ بری طرح نیل پڑے ہوئے تھے۔ ایک آنکھ رخسار تک بالکل کالی پڑ چکی تھی۔ میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ جلدی سے پانی لے کر آیا اور سنیاسی باوا پر انڈیلنے لگا۔ میرے پیچھے ہی پیچھے زیب النساء بھی آگئی تھی۔ اس نے حیرانی سے انہیں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ارے یہ کیا ہوگیا۔ یہ تو… یہ تو یوں لگتا ہے جیسے کسی سے لڑائی ہوگئی ہے ان کی…؟‘‘
’’ہاں! ایسا ہی لگتا ہے۔‘‘ میں نے گہری سانس لے کر کہا۔
’’یہ آپ کے ہی دوست ہیں نا جو آپ کے ساتھ آئے تھے؟‘‘ زیب النساء نے پوچھا۔
’’ہاں…!‘‘
’’مگر یہ یہاں کر کیا رہے تھے؟‘‘
’’خدا جانے…!‘‘
’’کیا کہہ رہے ہیں آپ…! آپ کو یہ معلوم نہیں کہ یہ یہاں درخت کے پاس بیٹھے ہوئے کیا کررہے تھے؟‘‘ زیب النساء حیرت سے بولی۔
میں نے گہری نگاہوں سے زیب النساء کو دیکھا۔ لیکن اس کے چہرے پر بالکل سادگی اور معصومیت تھی۔ وہ کہنے لگی۔ ’’آپ مجھے کیا دیکھ رہے ہیں؟‘‘
’’نہیں سوچ رہا ہوں کہ یہ واقعی ہوا کیا… ہوش ہی میں نہیں آرہا یہ تو؟‘‘ زیب النساء اور پانی لے آئی اور بمشکل تمام تھپڑ مار مار کر ہم نے سنیاسی باوا کو ہوش دلایا۔ وہ اٹھے، متوحش نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھتے رہے۔ مجھ پر نظر پڑی، میری بیوی کو دیکھا اور اس کے بعد اس بری طرح بھاگے کہ اپنا ایک جوتا بھی پیچھے چھوڑ گئے۔ دروازے سے ٹکرائے تھے، گرے تھے اور اٹھ کر پھر اسی طرح بھاگ لیے تھے۔ زیب النساء کو ہنسی آگئی۔
اس نے کہا۔ ’’یہ کوئی تماشا کرنے آئے تھے یہاں…؟‘‘
’’پتا نہیں۔‘‘ میں نے گہری سانس لے کر کہا۔ اب یہ اندازہ ہورہا تھا کہ سنیاسی باوا کے ساتھ جو سلوک ہوا ہے، اس نے ان کے ہوش درست کردیئے ہیں۔ آئے تو تھے رقم کمانے کے لیے لیکن مار کھا کر گئے ہیں۔ بس میرے دوست یہ ہے میری کہانی…! سانسی آگیا ہے اور میں اپنے گھر پہنچنے والا ہوں۔ اس تمام مصیبت کو مجھ پر نازل ہوئے خاصے دن گزر گئے ہیں۔ بہت سے لوگوں سے رجوع کرچکا ہوں، کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی کہ کیا کروں۔ جس مصیبت میں گرفتار ہوا ہوں، میں جانتا ہوں اور

جی جانتا ہے۔ وہاں باغ پر چند لوگوں کو اس سامان کی نگرانی پر رکھا ہوا ہے جو کافی قیمتی ہے اور وہاں موجود ہے۔ شمسو میرا ملازم ہے۔ ذہنی طور پر بالکل غیر حاضر رہتا ہوں۔ کبھی کبھی وہاں چلا جاتا ہوں۔ کالے جادو کے ماہروں، مولویوں اور عالموں کے لیے نجانے کہاں کہاں چکر لگا چکا ہوں۔ کیفیت وہی ہے۔ وہ راتوں کو اٹھتی ہے، درخت کی جڑ میں جاکر بیٹھ جاتی ہے اور عمل کرتی ہے۔ اب تو بچے بھی اس سے خوف زدہ رہنے لگے ہیں۔ مجھے خطرہ ہے کہ اگر یہ کیفیت زیادہ عرصے تک رہی تو کہیں بچوں کو کچھ نہ ہوجائے۔ جہاں تک تمہاری ملازمت کا تعلق ہے، یقین کرو میں خلوص دل سے تمہیں اپنے گھر رکھنے کے لیے تیار ہوں۔ جو مانگو گے دے دیا کروں گا، بچوں کا خیال رکھنا ہوگا، گھر کی چھوٹی موٹی ذمہ داریاں سنبھالنی ہوں گی لیکن اول تو راستہ بھی کاٹنا تھا۔ پھر تم نے مجھ سے خود ملازمت کی فرمائش کی ہے۔ چنانچہ تمہیں حقیقت حال سے آگاہ کرنا ضروری تھا تاکہ یہ نہ کہو کہ میں نے تمہیں دھوکے میں رکھا لیکن اس صورتحال میں فیصلہ کرنا تمہارا کام ہے کہ تم اس گھر میں ملازمت کرسکو گے یا نہیں۔‘‘
میں نے مسکراتے ہوئے گردن ہلائی اور کہا۔ ’’اگر آپ واقعی مجھے ملازم رکھنا چاہتے ہیں تو میں خلوص دل سے آپ کے گھر ہر طرح کی خدمت سرانجام دینے کے لیے حاضر ہوں۔‘‘ شاہد علی نے حیران نگاہوں سے مجھے دیکھا، دیکھتا رہا پھر ایک دم ہنس پڑا۔ دیر تک ہنستا رہا۔ جیپ آبادی میں داخل ہوگئی تھی۔
میں نے اس سے کہا۔ ’’آپ ہنس کیوں رہے ہیں شاہد صاحب! مجھے بتایئے؟‘‘
’’بس ہنس رہا ہوں یار! کسی بات پر، میرا خیال ہے تم نے میری کہانی کو صرف کہانی سمجھا ہے اور مجھے ایک کہانی گو، لیکن مجھے وہ سنیاسی باوا یاد آرہے ہیں جن کا تجربہ ستر سالہ تھا اور عمر چالیس سال! لیکن اس ستر سالہ تجربے نے انہیں بڑی مار کھلوائی۔ اگر تم بھی اس کہانی کو غلط سمجھ رہے ہو تو دیکھو سب کچھ تمہارے اپنے حساب میں ہوگا مجھ پر دھوکا دہی کا الزام مت لگانا۔‘‘
’’آپ مطمئن رہیں شاہد صاحب! ایسا بالکل نہیں ہوگا۔‘‘ میں نے کہا اور اس نے عجیب سے انداز میں گردن اور شانے ہلائے۔ پھر بولا۔ ’’اگر یہ بات ہے تو میرے لیے تو اس سے زیادہ خوشی کی اور کوئی بات ہو ہی نہیں سکتی کہ ایک ایسا شخص وہاں میرے ساتھ موجود ہو جو ان تمام حالات سے اچھی طرح واقف ہو۔‘‘ میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
تھوڑی دیر کے بعد جیپ ایک وسیع و عریض احاطے والے مکان کے سامنے کے حصے میں رک گئی۔ دروازہ عام مکانوں جیسا تھا لیکن اس کے پیچھے بڑا وسیع احاطہ تھا۔ جیپ کو کھڑا کردیا گیا اور اس کے بعد شاہد علی مجھے اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کرکے دروازے پر پہنچ گیا۔ دستک دینے پر دروازہ زیب النساء نے ہی کھولا تھا۔ میں نے ایک نگاہ اس کے چہرے کو دیکھا۔ نرم اور دلکش خدوخال کی مالک خاتون تھیں۔ چہرہ بالکل زرد پڑ رہا تھا، آنکھوں کے گرد حلقے چھائے ہوئے تھے، لباس بھی سلیقے سے پہنا ہوا تھا، سر پر دوپٹہ بھی اوڑھے ہوئے تھیں۔ مجھے دیکھ کر جھجکیں تو شاہد علی نے کہا۔
’’نہیں زیب النساء ان سے پردہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا تعارف اندر چل کر کرائوں گا۔ آئو مسعود اندر آجائو۔‘‘ میں خاموشی سے اندر داخل ہوگیا۔ زیب النساء چند قدم آگے چل رہی تھی۔ احاطہ عبور کرکے ہم سامنے والے چھوٹے سے برآمدے میں پہنچ گئے۔ یہاں چارپائیاں اور مونڈھے بچھے ہوئے تھے۔
شاہد علی نے کہا۔ ’’آئو ابھی یہیں بیٹھتے ہیں۔ بھئی زیب النساء آج تو تم ہمارے مہمان کی خاطر کرو پھر ہمارے یہ مہمان تمہاری خدمت کریں گے۔‘‘ بات پتا نہیں زیب النساء کی سمجھ میں آئی تھی یا نہیں لیکن وہ خاموشی سے اندر چلی گئی اور میں نے شاہد علی کی طرف دیکھا۔
’’اب سے چند روز پہلے اس کا رنگ سرخ و سفید تھا۔ چہرہ گلاب کی مانند کھلا ہوا رہتا تھا لیکن جو کچھ ہوگیا ہے، بس کیا بتائوں۔ دیکھو مسعود! ایک بار پھر کھلے دل سے کہہ رہا ہوں کہ تمہاری یہاں آمد میرے لیے بہت ہی خوشی کا باعث ہے لیکن ان حالات کی ذمہ داری تمہیں خود قبول کرنا ہوگی۔ وہ دیکھو سامنے وہ کاٹھ کباڑ والا کمرہ ہے اور اس کے برابر جو درخت نظر آرہا ہے، اس کی جڑ میں وہ مورتی پوشیدہ ہے۔‘‘
میں نے گردن ہلائی، کوئی جواب نہیں دیا۔ کچھ دیر کے بعد زیب النساء چائے اور اس کے ساتھ کچھ بسکٹ وغیرہ لے کر آگئی تھی اور میں شاہد علی کے ساتھ چائے پینے میں مصروف ہوگیا تھا۔ شاہد علی باہمت انسان تھا۔ جن حالات سے گزرا تھا۔ وہ سخت پریشان کن تھے۔ اس کے باوجود وہ ہنس بول رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ اس دوران اسے کتنے دلچسپ تجربات ہوئے ہیں۔ جن بھوت اتارنے والے، سفلی عمل کا توڑ کرنے والے اور نہ جانے کون کون سے اور انہوں نے نہ جانے کیا کیا کیا۔ اس نے مجھ سے بھی چند باتیں پوچھیں اور میں نے محتاط جواب دے دیئے۔ اس کے بچے بھی ملے۔ پھول جیسے تھے مگر سہمے سہمے… رات ہوگئی۔ اس نے بتایا کہ گھر کے عقبی حصے میں ایک کمرہ ہے جسے میرے لیے درست کردیا جائے گا۔ آج رات اندر کسی بھی کمرے میں گزارہ کرلوں۔
’’اگر میں یہیں، اسی برآمدے میں سو جائوں تو کوئی حرج ہے؟ یہاں یہ چارپائی موجود ہے۔‘‘
’’یہاں برآمدے میں…؟‘‘
’’ہاں…!‘‘
’’بالکل حرج نہیں ہے مگر تمہیں الجھن نہیں ہوگی۔‘‘ وہ لفظ خوف استعمال نہیں کرسکا تھا۔
’’نہیں! میں یہاں خوش رہوں گا۔‘‘
’’تمہاری مرضی ہے۔ مجھے تو اور ڈھارس ہوجائے گی۔‘‘ چارپائی پر دری، چادر بچھا دی گئی۔ تکیہ رکھ دیا گیا۔ اس دوران کئی بار زیب النساء سامنے آئی تھی۔ ایک پاکیزہ چہرہ تھا اور آنکھوں میں شرافت اور حیا نظر آتی تھی۔ کوئی جنبش مشکوک نہیں تھی۔
رات کے کھانے کے بعد کچھ دیر باتیں ہوتی رہیں پھر شاہدعلی اندر چلا گیا اور میں چارپائی پر دراز ہوگیا۔ مکمل خاموشی چھا گئی۔ دور سے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ نہ جانے کیا کیا خیالات دل میں آتے رہے کہ جانے کتنی رات ہوگئی۔ پھر اچانک میں چونک پڑا۔ اندر کا بند دروازہ کھلا اور میں نے زیب النساء کو باہر نکلتے ہوئے دیکھا۔ شب خوابی کے لباس میں تھی۔ چہرہ الائو کی طرح دہک رہا تھا، زبان باہر نکلی ہوئی تھی، چلنے کا انداز بے حد بھیانک تھا۔ میری طرف رخ کئے بغیر وہ آگے بڑھ گئی۔ ابھی میں اسے دیکھ رہا تھا کہ دروازے سے کوئی اور باہر نکلا۔ شاہد علی کے سوا کون ہوسکتا تھا۔ اسے دیکھ کر میں چارپائی پر اٹھ کر بیٹھ گیا۔ دوسرے لمحے وہ میری طرف لپکا اور میرے پاس آگیا۔ بری طرح کانپ رہا تھا۔ کچھ بولنا چاہتا تھا لیکن آواز ہچکیوں کی شکل میں نکل رہی تھی۔
’’حوصلہ رکھو… حوصلہ رکھو۔ بیٹھ جائو۔‘‘ میں نے اس کا بازو پکڑ کر اسے بٹھا دیا۔ وہ انگلی سے زیب النساء کی طرف اشارہ کرنے لگا۔ مجھے اس کے بارے میں بتانا چاہتا تھا۔
’’ہاں! میں نے دیکھ لیا ہے۔ تم آرام سے بیٹھو، میں اسے قریب سے دیکھتا ہوں۔‘‘میں وہاں سے آگے بڑھا۔ اس وقت دل میں کوئی احساس، کوئی خیال نہیں تھا بس ہمت تھی۔ احاطہ طے کرکے زیب النساء کے عقب میں پہنچ گیا۔ وہ زمین کھود رہی تھی۔ پھر اس نے مورتی نکال لی، اسے سامنے رکھا اور اس کے سامنے دو زانو ہوگئی۔ میں نے اس مورتی کا حجم بڑھتے ہوئے دیکھا۔ پھر وہ ایک انسانی جسم کے برابر ہوگئی مگر اس کی نگاہ مجھ پر تھی۔ ایک نہایت مکروہ شکل ادھیڑ عمر آدمی تھا۔ اس نے بھاری لہجے میں کہا۔
’’یہ کسے ساتھ لے آئی ہے تو…؟‘‘ زیب النساء نے گردن گھمائی، میں کھڑا تھا مگر وہ حواس میں کہاں تھی۔ ’’کاہے آیا ہے مورکھ! موت گھیرن لا گے رہے گا۔‘‘
’’کون ہے تو…؟‘‘ میرے منہ سے نکلا۔
’’اٹھ ری ہمارے سامنے سے! ہم ای کا بتائیں کہ ہم کون ہیں۔ سسروا لونا چماری کے کنٹھ کو نا جانے۔ اٹھ جرا ای کا بتائی ہے۔‘‘ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ زیب النساء سامنے سے سرک گئی تھی۔ اس نے اپنا ہاتھ اٹھا کر سامنے کیا اور دفعتاً اس کی انگلیاں لمبی ہونے لگیں۔ لمبی اور لچکدار…! ان کے سرے سانپوں کے منہ بن گئے جن کی زبانیں لہرا رہی تھیں۔ یہ لمبے سانپ میری طرف بڑھ رہے تھے مگر پھر اچانک اس کے حلق سے چیخ کی سی آواز نکلی، انگلیاں غائب ہوگئیں۔ اس کا بازو کندھے کے پاس سے کٹ گیا تھا اور اس سے خون کا فوارہ بلند ہوگیا تھا۔ اس نے حیرت سے اپنے بازو کو دیکھا۔ پھر قہقہہ لگا کر بولا۔ ’’تو ای بات رہے۔ ٹھیک ہے رہے۔ بات مکابلے کی رہے تو مکابلہ ہوئی ہے پر تیری بیڑ کا رہے ہمکا بتائی دے؟‘‘
مجھے علم نہیں تھا کہ اس کا بازو کیسے کٹا لیکن اپنے قرب و جوار میں بے شمار سرسراہٹیں میں بخوبی سن رہا تھا اور ان کے بارے میں اندازہ بھی ہوچکا تھا کہ وہ کون ہیں۔ میرے ایک سو اکہتر بیر۔ البتہ شاید وہ بدروح ان کے بارے میں نہیں جانتی تھی۔ اس نے اپنا دوسرا ہاتھ کٹے ہوئے بازو پر رکھا اور خون کی سیاہ دھار بند ہوگئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں سے دوسرا بازو برآمد ہوگیا۔ اس نے دونوں بازوئوں کو جنبش دی اور انہیں عجیب انداز میں لہرانے لگا۔ دفعتاً فضا میں پروں کی پھڑپھڑاہٹ بلند ہوئی اور پھر لاتعداد پرندے غوطہ لگا کر میرے سر پر پہنچ گئے۔ ان کی چونچیں لمبی اور آنکھیں سرخ تھیں۔ عین ممکن تھا کہ وہ مجھے نوچ کر پھینک دیتے لیکن اچانک پٹ، پٹ کی آوازیں سنائی دینے لگیں اور وہ فضا میں پھٹنے لگے۔ ان کے خون کے چھینٹوں سے زمین کا یہ حصہ، میں اور زیب النساء سرخ ہوگئے۔ پرندے گھبرا کر اونچے اٹھنے لگے اور لونا چماری کے خادم نے غرائی ہوئی آواز میں پکارا۔
’’بھیروں…!‘‘ اسی وقت میرے سامنے زمین پر سیاہ رنگ کا ایک ریچھ جیسا انسان برآمد ہوگیا۔ اس کا چہرہ گول اور بہت خوفناک تھا۔ شکل کسی بن مانس سے ملتی جلتی تھی۔ پہلے وہ چاروں ہاتھ، پائوں سے چلتا ہوا اس شخص کے پاس پہنچا اور اس کے پیروں سے چہرہ ملنے لگا۔ پھر سیدھا کھڑا ہوگیا۔ ’’ارے دیکھ اسی حرام کھور کا۔ کون رہے اے۔‘‘
’’پورنا ہے دھیر مکٹ پورنا ہے۔ کاہے مرنے جائو ہو۔‘‘ بھیانک ریچھ کے حلق سے انسانی آواز ابھری۔
’’ہیں۔ کا۔ ارے کا…؟‘‘ خبیث روح کی آواز بلند ہوئی۔ اس کے چہرے پر خوف نظر آنے لگا۔
’’کوڑی بیروں کا مقابلہ کرو گے دھیر مکٹ…؟‘‘
’’نا رے نا! بھول ہوگئی۔ جے پورن بھگت! ہمیں کا معلوم تھا کہ… کہ…! اری اٹھ انجائی کھڑی ہوجا۔ اری اٹھ!‘‘ یہ الفاظ اس نے زیب
سے کہے تھے۔
زیب النساء کھڑی ہوگئی۔ ’’ہم جات ہیں پورنا! اب کبھو نہ آئی ہے رے۔ ہمکا پتا نہ رہے جات ہے پورنا!‘‘ وہ جھکا اور سجدے کی سی کیفیت میں آگیا۔ پھر اس کا اور اس کے طلب کئے ہوئے بھیروں کا بدن وہیں تحلیل ہوگیا۔ میں نے کچھ نہیں کیا تھا۔ جو کچھ کیا تھا، بھوریا چرن کے بیروں نے کیا تھا۔ البتہ کام ہوگیا تھا۔ میں نے زیب النساء سے کچھ نہ کہا اور خاموشی سے واپس اپنی جگہ آگیا مگر یہاں ایک اور مشکل انتظار کررہی تھی۔ شاہد علی صاحب نے یقیناً یہ مناظر دیکھے ہوں گے چنانچہ اس کے نتیجے میں وہ اوندھے ہوگئے تھے۔ اس کے پائوں چارپائی پر تھے اور خود وہ زمین پر لٹک رہے تھے۔ بڑی مشکل سے انہیں سیدھا کیا۔ پیچھے پیچھے زیب النساء وہاں آگئی۔
’’ارے انہیں کیا ہوا…؟‘‘ میں نے چونک کر اسے دیکھا۔ پریشان نظر آرہی تھی۔ میں نے شاہد علی کو سیدھا لٹاتے ہوئے کہا۔ ’’کوئی بات نہیں۔ بس! ایسے ہی ٹہلنے کے لیے باہر نکل آئے تھے۔ سو گئے ہیں شاید۔‘‘
’’اس طرح غافل ہوکر سوتے ہیں۔ جگائو انہیں، اندر پہنچا دو۔‘‘ وہ حضرت جاگتے تو کیا، بڑی مشکل سے انہیں اندر پہنچایا گیا۔ میرے باہر نکلنے کے بعد زیب النساء نے دروازہ بند کرلیا تھا۔ میں برآمدے میں چارپائی پر بیٹھ گیا۔ نگاہیں اس درخت کی طرف اٹھی ہوئی تھیں جہاں تھوڑی دیر قبل ایک معرکہ ہوچکا تھا مگر میں نے کیا کیا، بلکہ جو کچھ ہوا، میرے نام پر ہوا۔ اس میں بھی بھوریا چرن کا ہاتھ ہے۔ سامنے ہی کچھ نظر آیا اور میں سنبھل کر بیٹھ گیا۔ لمبے لمبے ہاتھ، پائوں والی بھیانک مکڑی تھی جس کا رخ میری طرف تھا۔ چارپائی کے نزدیک آکر وہ رکی۔ اگلے ہاتھ اوپر اٹھائے، پچھلے پیروں سے کھڑی ہوگئی۔ پھر اس کا قد بڑھتا چلا گیا۔ آج میں نے ایک خاص بات پر غور کیا۔ بھوریا چرن انسان نما مکڑا تھا۔ صرف اضافی پائوں اس میں اور مکڑی میں تفریق کرتے تھے ورنہ شکل و صورت، جسمانی ہیئت سب مکڑی جیسی تھی۔ وہ میرے سامنے کھڑا مجھے گھورتا رہا پھر وہیں زمین پر بیٹھ گیا۔
’’تجھ سے دو باتیں ہوجائیں۔ بول کرے گا۔‘‘
’’کیوں نہیں بھوریا چرن!‘‘ میں نے بے خوفی سے کہا۔
’’تیرا ہمار کیا رشتہ ہے؟‘‘
’’نفرت کا۔ نظریات کا۔ دین، دھرم سے اختلاف کا!‘‘
’’ہمارا کوئی دین، دھرم کہاں ہے رے۔ ماتا، پتا کا دھرم ہوگا۔ پیدا ہوئے تو نام بھوریا رکھ دیا۔ کسی مسلّے کے گھر پیدا ہوتے تو تیرا جیسا کوئی نام ہوتا۔ اصل نام تو ہوش آنے کے بعد ملتا ہے۔‘‘
’’وہ کیسے…؟‘‘
’’کرموں سے۔ کرم ہی سارے راستے بتاتے ہیں۔ ہم نے گیتا پڑھی، رامائن پڑھی پھر برہمنوں کو دیکھا۔ خوب غور سے دیکھا۔ پنڈت کتھائوں کا پاٹ کرتے ہیں، نرکھ اور سورگ دکھاتے ہیں۔ اپنے سورگ انہوں نے اپنے گھروں میں بنا رکھے ہیں۔ میں نے ان کے سورگ دیکھے، ان سے سبق لیا۔ جب کرم نرکھ اور سورگ بناتے ہیں تو وہ ایسے کیوں نہ ہوں جن کا نتیجہ فوراً ملے۔ ہمارے لیے مرن یگ اور، اپنے لیے سارا جیون سورگ ہی سورگ! سو ہم نے بھی اپنا سورگ تلاش کرلیا۔ کالا جادو سیکھا۔ جس طرح ایک پتی ہزار پتی بن کر لکھ پتی بننے کے خواب دیکھتا ہے۔ پھر کروڑ پتی اور ارب پتی بن کر اس کا من چاہتا ہے کہ اب وہ سارے سنسار کا پتی ہو، اسی طرح طاقت کے ہر کھیل میں ہوتا ہے۔ میں نے بھی سارے کھیل کھیلے، شنکھا تک بنا اور پھر کھنڈولا بن کر مہان شکتی حاصل کرنا چاہی مگر دھوکا کھا گیا۔ تجھے پرکھ لینا چاہئے تھا مجھے۔ دیکھ لینا چاہئے تھا کہ تو اندر سے کیا ہے۔ تو اوپر سے تو ٹھیک تھا۔ میرے کام کا تھا مگر اندر سے دوسرا نکلا۔ میں مارا گیا مگر تو آج بھی اتنا ہی بائولا ہے۔ ارے پاپی! اس سنسار میں صرف طاقت کھیل رہی ہے۔ آنکھ کھول کر دیکھ! جو شکتی مان ہے، اس نے اپنی سورگ دھرتی پر اتار لی ہے۔ اس میں عیش کررہا ہے اور تو! اتنی بڑی شکتی لے کر نوکریاں کرتا پھر رہا ہے۔ تو نے دیکھا وہ لونا کا بھیروں تجھے دیکھ کر دم دبا کر بھاگ گیا۔ پورنیوں کے بیروں نے اسے چک گھنی بنا کر بھگا دیا۔ یہ تیری اپنی شکتی ہے۔ ابھی تو تو نے اس کے چمتکار ہی نہیں دیکھے۔ اسے استعمال کرے گا تو آنکھیں کھل جائیں گی۔ میں نے تیرے لیے بڑا کام کیا ہے کہ اگر تو خود کرتا تو تیرا آدھا جیون لگ جاتا۔ بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے مگر تجھے پکی پکائی مل گئی، اس لیے قدر نہیں کررہا۔ میں تجھ سے ایک بار پھر بات کرنے آیا ہوں۔‘‘
’’وہ کیا بھوریا…؟‘‘ (جاری ہے)