Kala Jadu | Episode 33

1496
’میرا نام مسعود احمد ہے … اوم پرکاش جی۔‘‘
’’تو پھر چل رہے ہو کاشی ہمارے ساتھ۔‘‘
’’آپ سے اتنا متاثر ہوا ہوں کہ ضرور چلوں گا۔‘‘
’’کوئی بھی سوگند لے لو۔ ہم نے یہی سوچا تھا کہ وہ جو سنسار کے لیے جیتے ہیں کسی جگہ کے نہیں ہوتے ان کے لیے تو سارا سنسار ایک جیسا ہے، تمہارے ساتھ سے ہمیں خوشی ہوئی۔‘‘
میں خاموش ہوگیا۔ اوم پرکاش جی بڑے گیانی تھے۔ بہت اچھی باتیں کرتے تھے انہوں نے ہنستے ہوئے کہا۔ ’’ایک بات کہوں مسعود جی۔‘‘
’’جی!‘‘
’’تمہارے بارے میں ان میں سے کسی کو نہیں بتائوں گا، ان سب کے بارے میں تمہیں بتا دوں۔ وہ میری دھرم پتنی ہیں۔ اوم پرکاش نے مجھے سب کے بارے میں بتایا پھر بولے۔ ’’اگر میں انہیں بتا دوں کہ تم کون ہو تو جینا حرام کر دیں گی تمہارا۔ کیونکہ انہیں میں نے اس لڑکی کی کہانی سنا دی تھی اور یہ بہت متاثر ہوئی تھیں۔ خاص طور سے ہماری دھرم پتنی۔‘‘
’’جی…!‘‘ میں ہنس کر بولا۔
دلّی آ گئی یہاں سے دُوسری ٹرین پکڑنا تھی مگر اوم پرکاش جی کے ایک دوست یہاں ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ وہ اس خاندان کو ساتھ لے گئے۔ مجھے انہوں نے حیرت سے دیکھا تھا کیونکہ میرا حلیہ کسی معزز انسان کا سا نہیں تھا اور خود مجھے اس کا احساس تھا۔
’’یہ سادھو سنت آدمی ہیں۔ ان کے حلیے پر نہ جانا مادھولال۔‘‘ اوم پرکاش نے کہا۔
’’اوہ۔ سادھو!‘‘ مادھولال نے کہا اور خاموش ہوگیا۔ بنیاقسم کا آدمی تھا شاطر اور چالاک۔ اس کے گھر دو دن رُکے۔ یہاں سے آگے جانے کا بندوبست کرنا تھا۔ گھر جا کر جب اطمینان سے بیٹھنے کا موقع ملا تو مادھولال نے کہا۔
’’سنت جی مہاراج۔ آپ اتنی چھوٹی سی عمر میں سنت کیسے بن گئے؟‘‘ اوم پرکاش نے چونک کر اسے دیکھا اور میرے بجائے خود بول پڑے۔
’’عمر کا گیان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘
’’ہے!‘‘ مادھولال پُرزور لہجے میں بولا۔
’’تم کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘
’’صرف ایک بات۔ ان دنوں گلی کوچوں میں سادھو ہی سادھو نظر آتے ہیں۔ گیروا کپڑے پہنے، ہاتھ میں کمنڈل پکڑا اور خود کو سادھو کہلانا شروع کر دیا۔ ایسے ناکارہ نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ دھرم کا مذاق اُڑانے والی بات ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ جس کے پاس گیان شکتی ہوتی ہے اسے ہی سنت کہلانے کا حق ہوتا ہے۔‘‘
’’مگر میں نے تو گیروا کپڑے نہیں پہنے مادھولال جی۔ کمنڈل بھی میرے پاس نہیں ہے۔‘‘
’’آ جائے گا کچھ عرصے بعد۔‘‘
’’آپ گیان شکتی کسے کہتے ہیں؟‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’کوئی چمتکار دکھائیں مہاراج۔ کچھ تو دیا ہوگا آپ کو تیاگ نے۔‘‘ مادھولال نے مذاق اُڑانے والے انداز میں کہا۔
اوم پرکاش جی نے بے چین ہو کر کہا۔ ’’تم کچھ غلط باتیں نہیں کر رہے مادھولال؟‘‘
’’چرن چھو کر معافی مانگ لوں گا سنت مہاراج سے مگر جاننا چاہتا ہوں انہیں کتنا گیان ملا ہے۔ کوئی چمتکار دکھایئے مہاراج۔‘‘ رات کا وقت تھا اور ہم لوگ اس وقت مادھولال جی کی حویلی کی چھت پر بیٹھے ہوئے تھے اور یہ چھت بہت بڑی تھی۔ مجھے بھی نہ جانے کیا سوجھی، دراصل ان باتوں میں مزا آ رہا تھا اور کچھ دیر کے لیے دل بہل گیا تھا۔
’’بیکار باتیں مت کرو مادھولال تم میرے…!‘‘
’’آپ خود بتایئے مادھولال جی۔ کیا چمتکار دیکھنا چاہتے ہیں آپ؟‘‘ میں نے اوم پرکاش کی بات کاٹ کر کہا۔
’’کوئی بھی۔ کچھ بھی۔‘‘
’’آپ کی مرضی‘‘ میں نے کہا اور پھر پہلی بار میں نے اپنے بیروں کو پکار کر کہا۔ ’’سنو، سامنے نہ آنا ورنہ مادھولال جی مر جائیں گے۔ یہ میرے میزبان ہیں بہت بڑے ساہوکار ہیں یہ، اور پھر مجھے ان سے بڑی عقیدت ہے میں ان پر عقیدت کے پھول نچھاور کرنا چاہتا ہوں۔ اتنے پھول برسائو ان پر کہ مادھو لال جی پھول جیسی چیز سے پریشان ہو جائیں، آیئے اوم پرکاش جی ہم ذرا پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔‘‘ میں نے اوم پرکاش کا ہاتھ پکڑ کر انہیں پیچھے ہٹاتے ہوئے کہا۔ میں جانتا تھا کہ وہی ہو گا جو میں نے کہا ہے، اور میرے منہ سے ان الفاظ کو نکلے ہوئے کچھ لمحات ہی گزرے تھے کہ دفعتاً فضا سے پھولوں کی بارش شروع ہوگئی۔ طرح طرح کے پھول، موتیا، گلاب، گیندا اور نجانے کیا کیا۔ یہ پھول ہزاروں کی تعداد میں مادھولال جی پر آ آ کر گر رہے تھے اور مادھولال جی پریشان ہو کر کھڑے ہوگئے تھے۔ حویلی کی وسیع و عریض چھت کا گوشہ گوشہ پھولوں سے لدتا چلا جا رہا تھا۔
مادھولال جی کے منہ سے ارے ارے ارے… کی آوازیں نکل رہی تھیں اور وہ بے وقوفوں کی طرح ادھر گردن گھما رہے تھے، پھول برستے رہے، صرف وہ جگہ خالی رہ گئی تھی جدھر میں اور اوم پرکاش جی کھڑے ہوئے تھے۔ ورنہ حویلی کی ساری چھت پر منوں پھولوں کے انبار لگتے جا رہے تھے، مادھولال جی آدھے بدن سے پھولوں سے ڈھک گئے، تو انہوں نے ہاتھ اُٹھا کر کچھ کہنا چاہا، لیکن حلق سے آواز ہی نہیں نکل پا رہی تھی۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے چاروں طرف دیکھ رہے تھے، خود اوم پرکاش جی پر سکتہ طاری تھا دفعتاً مادھولال نے گھبرا کر کہا۔
’’ارے بھائی رُکو تو سہی، میں پھولوں میں دَب کر مر جائوں گا، ارے رُکو، ارے رُکو۔‘‘ لیکن رُکنے والے جانتے تھے کہ کس کے حکم پر رُکنا ہے، بھلا وہ کیوں رُکتے، پھول مادھولال جی کے شانوں تک پہنچ گئے تو میں نے ہی دونوں ہاتھ اُٹھائے اور کہا۔
’’بس کرو، ورنہ مادھولال جی کی سمادھی انہی پھولوں میں بن جائے گی۔ بہت بڑے ساہوکار ہیں یہ، بہت بڑے آدمی ہیں اب ایسا کرو، ہماری طرف سے انہیں کچھ بھینٹ دے دو۔ سونا، چاندی بس یہی چیزیں انسان کو زیادہ پسند ہوتی ہیں۔‘‘ میرے بیروں کو پہلی بار مجھ سے کوئی حکم ملا تھا، سو تھال کے تھال پھولوں پر آ کر سجنے لگے اور اوم پرکاش جی نے آنکھیں بند کرلیں ان سے دیکھا نہیں جارہا تھا۔ مادھولال جی کے چاروں طرف ان تمام اشیاء کے انبار لگ گئے۔ میں نے سوچا کہ کہیں ان چیزوں کو دیکھ کر ان کا دَم ہی نہ نکل جائے چنانچہ ہنس کر ہاتھ اُٹھائے اور کہا۔ ’’بس کرو۔ بس کرو۔ اگر پھولوں کی طرح ان کی چھت سونے چاندی سے بھی بھر گئی تو حویلی ہی بیٹھ جائے گی، بس جائو تمہاری چھٹی۔‘‘ اور سونے چاندی کی آمد بند ہوگئی۔ اوم پرکاش جی نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں اور یہ سب کچھ دیکھا۔ مادھولال پتھرائے ہوئے کھڑے تھے، میں نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’ہمارے دو دن کے قیام کا یہ معاوضہ آپ کے لیے میرے خیال میں کافی ہوگا مادھولال جی، اب پھولوں سے باہر نکل آیئے۔ کیا فائدہ کہ آپ یہیں کھڑے کھڑے مر جائیں۔‘‘ مادھولال جی نے کچھ کہنا چاہا لیکن آواز نہیں نکل سکی اوم پرکاش جی آہستہ سے بولے۔
’’مسعود۔ مسعود یہ سب کچھ۔‘‘ میں نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور کہا جو آگیا ہے وہ واپس نہیں جا سکتا، باقی باتیں آپ جانیں اور آپ کے دوست۔ مجھے اب ان چیزوں سے کوئی غرض نہیں ہے…‘‘ میں نے کہا اور اس کے بعد ہم بمشکل تمام مادھولال جی کو نیچے لانے کے لیے سہارا دے کر چل پڑے۔
پھولوں پر چلنا ان کیلئے مشکل ہو رہا تھا۔ میں نے مسکرا کر کہا۔ ’’آپ آپ کو بیٹھنے کیلئے کوئی دُوسری جگہ چاہئے ہوگی مادھولال مہاراج!‘‘
’’نیچے نیچے چلو۔‘‘ وہ گھٹے گھٹے لہجے میں بولے۔ ہم سب نیچے آ گئے۔ ’’مجھے کہیں بٹھا دو۔ دوسروں کو۔ بھگوان کیلئے دُوسروں کو کچھ نہ بتانا۔‘‘
نیچے بھی بہت بڑا صحن تھا۔ یہاں بھی پھلواری لگی ہوئی تھی۔ ایک جگہ بیٹھ کر مادھولال جی نے کچھ دیر سانس درست کی۔ پھر دونوں ہاتھ جوڑ کر میرے سامنے گر پڑے۔ ’’شما کردیں مہاراج۔ شما کر دیں۔ بڑی بھول ہوگئی مجھ سے۔ بڑی بھول ہوگئی؟‘‘
’’کوئی بات نہیں مادھولال جی۔‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔
’’ارے اب ان پھولوں کا کیا ہوگا۔ کیا بتائوں گا میں دُوسروں کو؟‘‘
’’اب یہ آپ کا کام ہے مہاراج۔‘‘
’’اور وہ۔ وہ جو اُوپر ہے۔ ارے باپ رے۔ وہ تو کروڑوں کا مال ہے۔ کروڑوں کا۔‘‘
’’اب وہ آپ کا ہے۔ یاد کرلیا کریں گے اپنے دوست اوم پرکاش کو، کہ انہوں نے آپ کو کروڑوں کا مالک بنا دیا۔‘‘ میں نے کہا اور مادھولال نے دونوں ہاتھ سینے پر رکھ لیے۔ ’’کوئی سونے کی جگہ مل جائے گی اوم پرکاش جی۔ مجھے نیند آ رہی ہے۔‘‘
’’میں بتاتا ہوں۔‘‘ مادھولال جی ایک دم کھڑے ہوئے اور گرتے گرتے بچے۔ بڑی مشکل سے وہ ہمیں ساتھ لے کر آئے اور ایک کمرے تک پہنچا دیا۔ ’’یہ کمرہ آپ کیلئے ہے مہاراج۔ اوم پرکاش جی کے اہل خاندان کیلئے الگ انتظام کیا گیا تھا۔‘‘ میں چلتا ہوں۔ مادھولال بولے اور باہر نکل گئے۔ اوم پرکاش البتہ میرے پاس بیٹھے رہے تھے، گم صم اور خاموش۔ بہت دیر کے بعد انہوں نے زبان کھولی۔
’’اور آپ کے پاس ٹکٹ خریدنے کے پیسے بھی نہ تھے۔‘‘ میں ہنسنے لگا۔ ’’مگر اب کیا ہوگا۔‘‘
’’کیوں اوم پرکاش جی؟‘‘
’’اُوپر جو کچھ ہے۔ اس کا کیا ہوگا؟‘‘
’’اب کیا ہوسکتا ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’وہ واقعی کروڑوں کی دولت ہے۔‘‘
’’جو کچھ بھی ہے۔ اس کی واپسی ممکن نہیں ہے۔‘‘
’’اس کے تو دن پھر گئے۔‘‘
’’میں کیا کہہ سکتا ہوں۔‘‘
’’چمتکار دیکھ لیا اس نے اب ان ساری چیزوں کو واپس ہو جانا چاہئے، آپ ایسا ضرور کریں مسعود جی، یہ تو۔ یہ تو مناسب نہیں ہوگا، میں محسوس کررہا تھا کہ خود اوم پرکاش جی کی حالت بہتر نہیں ہے۔ ان دولت کے متوالوں کو یہی سب کچھ دُنیا کی سب سے بڑی چیز محسوس ہوتی تھی لیکن کوئی مجھ سے پوچھتا کہ کائنات کی سب سے بڑی دولت کیا ہے ماں باپ کی قربت، بہن بھائیوں کا ساتھ، ایک پرسکون جدوجہد سے پُرزندگی جس میں صبح کو تلاش رزق کیلئے گھر سے باہر نکلنا اور اس کے بعد ضرورتیں پوری ہو جانے کی حسرتیں لے کر واپس لوٹنا ہی اصل زندگی ہے، ساری خواہشیں پوری ہو جائیں تو پھر کس حساب میں جیا جائے، جو چھن گیا ہو اس کو پانے کی آرزو اور اس آرزو کی تکمیل ہی کائنات کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ اوم پرکاش جی بھی چلے گئے اور میں نجانے کب تک سوچوں کے دھارے پر بہتا رہا۔ میں نے سوچا کہ جلد بازی میں یا ان واقعات سے متاثر ہو کر میں نے یہ دُوسرا عمل غلط تو نہیں کر ڈالا۔ ایک عمل کیا تھا تو کمبل چھن گیا اور اب اس عمل سے نجانے کیا کیا چھن جائے گا۔ مگر کیا کروں کیسے جیئوں، یہ تنہا سوچیں، یے بے یقینی، یہ ناطلب قوتیں، ان سب کا کیا کروں۔ کتنا لڑ سکتا
ہوں، موت کیلئے تو تیار ہوں، اگر یہ سب کچھ ناقابل معافی گناہ ہے تو مجھے موت چاہیے۔ نہیں جیا جارہا اس طرح۔ ہر آنکھ میں گناہگار بن کر۔‘‘
’’بیروں۔‘‘ میں نے آواز دی۔ ’’سامنے نہ آنا، مجھ سے بات کرو۔‘‘ اور بے شمار آوازیں میرے کانوں میں اُبھرنے لگیں۔ وہ نجانے کیا کیا کہہ رہے تھے۔
’’سنو سنو، میری بات سنو، جو کچھ تم نے میرے کہنے سے چھت پر لا پھینکا ہے اسے واپس اُٹھا لو۔ جہاں سے لائے ہو وہاں واپس پہنچا دو۔‘‘
’’نہیں پورنا، نہیں بھگت، وہ پورنا دان ہے تیری پہلی مانگ ہے وہ واپس نہ کر۔ ہماری بھینٹ سوئیکار کر۔ نہیں بھگت ایسا نہ کر۔ یہ ہماری موت ہوگی۔‘‘ آوازیں آئیں اور میں خاموش ہوگیا۔
دُوسری صبح بڑی افراتفری مچی ہوئی تھی۔ حویلی کے رہنے والے بری طرح بھاگ دوڑ کر رہے تھے۔ میں باہر نکل آیا۔ بڑی مشکل سے اوم پرکاش جی ہاتھ لگے تھے۔
’’کچھ ہو گیا کیا؟‘‘
’’وہی جو ہونا تھا۔‘‘ اوم پرکاش جی آہستہ سے بولے۔
’’کیا؟‘‘
’’پوری حویلی میں بھگدڑ مچی ہوئی ہے۔ چھت پر پھولوں کے انبار سب کو پاگل بنائے ہوئے ہیں۔ سب اُوپر جا رہے ہیں اور نیچے آ رہے ہیں۔‘‘
’’مادھولال جی کیا کر رہے ہیں۔‘‘ اوم پرکاش نے فوراً جواب نہیں دیا کچھ دیر سوچ کر بولے۔
’’تقریباً پاگل ہو چکا ہے۔ ساری رات چھت سے سونے چاندی کے تھال اُتارتا رہا ہے۔ حویلی کے نیچے قیدخانے میں اس نے وہ سارے تھال چھپا دیئے ہیں۔ خود یہ سب کچھ کیا ہے اور تھک کر نڈھال ہوگیا ہے۔ میرے کمرے میں بھی آ گھسا تھا۔ میرے پیروں سے لپٹ کر بھوں بھوں روتا رہا ہے۔ کہتا ہے کہ آدھی دولت میں لے لوں۔ بڑی مشکل سے میں نے اسے باہر نکالا۔ اب دُوسرے کمرے میں دری بچھائے لیٹا ہے اور سر پر برف کی تھیلیاں رکھوا رہا ہے۔‘‘
’’اوہ۔ یہ تو برا ہوا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’مجھے تو لگتا ہے پاگل ضرور ہو جائے گا۔ ویسے یہ بہت بڑی سزا ہے اس کے لیے اور… اور مجھے اس سے بڑی عبرت حاصل ہوئی ہے۔ آپ سے بھلا کیا چھپا سکوں گا مسعود صاحب۔ آپ جو کچھ ہیں میری توقع سے کہیں بڑی بات ہے، میں تو حیران ہوں کہ ایسی مہان شخصیت مجھے کیسے مل گئی۔ آپ آکاش سمان ہیں مسعود صاحب دُوسروں کو آپ یہ سب کچھ دے سکتے ہیں اور خود ریلوے کے بابو سے کہتے ہیں کہ میرے پاس ٹکٹ نہیں ہے۔ رات مجھ پر بھی کٹھن گزری ہے اس دولت کے بارے میں سوچتا رہا ہوں جو چھت پر پڑی ہوئی تھی۔ لالچ بھی آیا دل میں۔ مگر… اب آپ کے بارے میں سوچتا ہوں۔ آپ نے سب کچھ ٹھکرا رکھا ہے تو اس کی بھی کوئی وجہ ہوگی۔ ضرور کچھ وجہ ہوگی۔‘‘
میں نے ان باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اوم پرکاش جی بولے۔ ’’کاشی چلو گے میرے ساتھ۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ میں نے ہنس کر پوچھا۔
’’بس یونہی پوچھ رہا ہوں۔‘‘
’’ضرور چلوں گا۔‘‘
’’دراصل میں نے اپنے بیٹے کو ریلوے اسٹیشن بھیج دیا ہے۔ ٹکٹ لینے کیلئے، ہمیں فوراً چلنا ہے۔ اس پاگلخانے میں میرا دَم گھٹ رہا ہے۔ میں فوراً یہاں سے نکل چلنا چاہتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ اب ایک ایک کر کے یہ سب پاگل ہو جائیں گے۔ چمتکار دیکھنا چاہتا تھا مادھول لال۔ دیکھ بیٹا۔ اب خوب دیکھ چمتکار۔‘‘ اوم پرکاش جی نے اس انداز میں کہا کہ مجھے ہنسی آ گئی۔
پنڈت اوم پرکاش جی کو اپنا ایمان بچانا مشکل ہورہا تھا۔ بال، بچوں کے ساتھ مقدس یاترا کو نکلے تھے اور یہاں پڑے جا رہے تھے دولت کے پھیر میں۔ مادھو لال نے آدھی دولت کی پیشکش کردی تھی اور یہ آدھی دولت اتنی تھی کہ اوم پرکاش جی نے ساری عمر نہیں کمائی تھی۔ انہیں پارس پتھر ملا تھا مگر یہ پتھر ان کے بجائے مادھو لال کو چھو گیا تھا۔ ان سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ تقدیر کو انہیں اس مصیبت سے نکالنا تھا کہ ان کے بیٹے کو بنارس کے ٹکٹ مل گئے۔ بارہ بجے ریل روانہ ہونے والی تھی۔ مادھو لال تو واقعی دیوانہ ہوگیا تھا۔ کسی سے مل ہی نہیں رہا تھا۔ رخصت ہوتے ہوئے ہم مادھو لال کے اس کمرے کے دروازے پر پہنچے جسے وہ بند کئے بیٹھا تھا۔
’’پتا جی… دروازہ کھولیے۔‘‘ مادھولال کے بیٹے نے آواز لگائی۔
’’ابے کیوں بار بار آجاتا ہے؟ میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘
’’اوم پرکاش چاچا جارہے ہیں۔‘‘
’’کہاں جارہے ہیں…؟‘‘
’’بنارس۔‘‘
’’کہاں ہیں؟‘‘
’’یہ کھڑے ہیں دروازے پر۔‘‘ مادھو لال کا بیٹا بولا۔
’’تو بھاگ جا یہاں سے، بات کروں گا میں ان سے۔‘‘ مادھو لال کا بیٹا تو نہ گیا مگر مادھو لال دروازے پر آگئے تھے۔ ان کی آواز ابھری۔ ’’اوم پرکاش! آدھی لے لو۔ تمہیں بھگوان کا واسطہ، آدھی لے لو۔‘‘
’’میں جارہا ہوں مادھو لال! جیتا رہا تو واپسی میں تم سے ملوں گا۔‘‘
’’میں الگ کرلوں گا۔ دھرم ایمان سے آدھی تمہاری…‘‘ مادھو لال بولا اور اوم پرکاش جی وہاں سے پلٹ آئے۔کچھ دیر کے بعد ہم لوگ اسٹیشن پہنچ گئے اور پھر ریل ہمیں لے کر چل پڑی۔ اوم پرکاش میرا بڑا احترام کررہے تھے۔ ویسے حالت ان کی بھی زیادہ بہتر نہیں تھی۔
’’مسعود جی۔ بھگوان نے یہ سونا چاندی بھی کیا چیز بنائی ہے۔ اس کے سارے کھیل نیارے ہیں مگر ساتھ ہی اس نے منش کو صبر بھی دیا ہے۔ ایک وہ ہے جو ہنسی ہنسی میں دھن دولت کے انبار لگا کر پھینک دیتا ہے اور ایک وہ جو ان پھینکی ہوئی چیزوں کو اٹھا کر پاگل ہوجاتا ہے۔‘‘
’’ہاں اوم جی۔ ملتا کسی کو کچھ نہیں ہے۔‘‘
’’وہ کونسی شکتی ہے مسعود جی جو انسان کو دھن دولت سے نفرت کرا دیتی ہے۔‘‘
’’ایمان… اللہ پر ایمان! جو کچھ اس کائنات میں ہے، اس کا ہے۔ اسے اپنا سمجھنا حماقت ہے۔ جو سامنے آجائے، اسے اس کا سمجھ کو دیکھو۔ اپنا سمجھ کر نہیں، تمہارا کچھ بھی نہیں ہے۔ جب تمہاری سانسیں تمہاری اپنی نہیں تو اور کیا چیز ہوگی۔ لالچ اور ہوس سے دوسروں سے چھین کر جو چاہو اکٹھا کرلو، اسے کہیں لے جائو تو مانیں۔ سب کچھ رہ جائے گا اور تم ہاتھ پسارے چلے جائو گے۔‘‘
’’ اوم پرکاش! سوچ میں ڈوب گئے۔ پھر میرے ہاتھ پکڑ کر بولے۔ ’’ایسے کچھ بول اور بول دو مہاراج…! میرا بھلا ہوجائے گا۔‘‘
’’کیوں اوم پرکاش جی۔‘‘ میں نے مسکرا کر پوچھا۔
’’نیک دلی سے تیرتھ یاترا کو نکلا تھا کہ یہ کھیل سامنے آگیا۔ غلطی میری بھی نہ تھی۔ مجھے معلوم نہ تھا اور اب من ادھر ہی اٹکا ہوا ہے۔ مادھو لال تو کروڑ پتی بن گیا اور… چولہے میں جائے سب کچھ! ارے کیا کروں گا میں سونے چاندی کا، سب دوسروں کے کام ہی آئے گا۔‘‘ اوم جی خود کو سمجھا رہے تھے۔ سفر جاری رہا۔ ان پر کیا بیت رہی ہے، میں نہیں جانتا تھا میرے اپنے ہی تفکرات کیا کم تھے۔ اب تو درد حد سے گزر چکا تھا، دوا کی حاجت ہی ختم ہوتی جارہی تھی۔ دل چاہ رہا تھا کہ خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دوں۔ خود کچھ نہ کروں۔ کوئی کچھ کرتا ہے تو کرنے دوں۔ آنکھیں بند کرکے سو جانے کو جی چاہتا تھا۔
بنارس آگیا۔ مندروں کی دنیا! ہندو، مسلمان کی ملی جلی آبادی، یاتریوں کے ہجوم۔ عقیدت مندوں کے ڈیروں کے درمیان اوم پرکاش جی نے بھی ڈیرہ جما لیا۔ دولت مند انسان تھے۔ جیسا چاہتے، بندوبست کرسکتے تھے مگر بڑی عقیدت سے آئے تھے اس لئے سارے عمل وہی کرنا چاہتے تھے جو ان کے دھرم کے مطابق ہوں۔ مجھے ساتھ تو لے آئے تھے مگر اب شاید سوچ رہے تھے کہ میرا کیا کریں۔ وہ خود اپنے مخصوص انداز میں پوجا پاٹ کرنا چاہتے تھے۔ ایسے میں میرا ساتھ چھوڑنا ضروری تھا۔ بولے۔ ’’مسعود میاں! تمہارا جہاں جی چاہے سیر کرو، ہم پوجا کریں گے۔ ڈیرہ تمہارا ہے۔ جیسے من چاہے رہو، شام یہاں بتا لیا کرو۔‘‘
’’آپ بالکل بے فکر رہیں اوم پرکاش جی! میں اپنی جگہ تلاش کرلوں گا۔‘‘ میں نے انہیں اطمینان دلا دیا۔ پھر میں ڈیرے سے چل پڑا۔ کاشی واقعی ہندو دھرم کی بڑی مقدس جگہ ہے۔ ہندوستان کے ہر گوشے سے لوگ آئے ہوئے تھے بلکہ شاید نیپال، سری لنکا اور بھوٹان کے یاتری بھی تھے۔ طرح طرح کے چہرے، طرح طرح کے نقوش! عورتیں، مرد، بچے، بوڑھے، نوجوان لڑکیاں، طرح طرح کے سوانگ اور روپ!
رات کے کوئی دس بجے تھے۔ ایک پرانے مندر کے قریب بیٹھا میں آنے جانے والے یاتریوں کو دیکھ رہا تھا۔ چار آدمی ایک لمبے تڑنگے شخص کے پیچھے بڑی عقیدت سے چلتے ہوئے میرے قریب سے گزرے۔ لمبے تڑنگے شخص کے سر کے بال کمر تک لٹکے ہوئے تھے۔ اس نے سر سے پائوں تک دھوتی جیسا لباس لپیٹا ہوا تھا، بازو کھلے ہوئے تھے، سینے تک داڑھی تھی، آنکھوں پر چشمہ لگا ہوا تھا۔ مجھ سے چند قدم آگے بڑھ کر وہ رک گیا۔ ادھر ادھر دیکھا اور پھر اس کی نظریں مجھ پر جم گئیں۔ وہ چاروں آدمی بھی میری طرف متوجہ ہوگئے تھے۔ وہ شخص پلٹ کر میرے قریب آکھڑا ہوا اور میں بھی کسی قدر گھبرائے ہوئے انداز میں کھڑا ہوگیا۔ اس نے میرے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔
’’آپ یہاں مہاراج… آپ یہاں کب آئے؟‘‘
’’آج…‘‘ میں نے بدستور گھبرائے ہوئے انداز میں کہا۔ میں اسے بالکل نہیں پہچان سکا تھا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو دیکھ کر کہا۔
’’مجھے میرے بہت پرانے دوست ملے ہیں، کچھ دیر ان سے بات کروں گا۔ آپ لوگ اپنے استھان پر جائیں اور آرام کریں، کل پھر ملیں گے۔‘‘ وہ چاروں ہاتھ جوڑ کر جھکے اور واپس چلے گئے۔ جب وہ دور نکل گئے تو اس نے مجھے گھورتے ہوئے کہا۔ ’’کالی شکتی والے! یہ بھگوان دوار ہے، یہاں تیرا کیا کام…؟‘‘
’’تم کون ہو، میں نے تمہیں نہیں پہچانا۔‘‘
’’ساگر سروپ ہے ہمارا نام! تو ہمیں کیا پہچانے گا۔ ہم نے تجھے اوش پہچان لیا ہے۔‘‘
’’کیا جانتے ہو میرے بارے میں۔‘‘
’’تیرے شریر سے کالی بساندھ اٹھ رہی ہے۔ تیری پہچان کے لیے یہ کافی ہے۔‘‘
’’اوہ! میں سمجھا کچھ اور جانتے ہو تم میرے بارے میں۔‘‘ میں نے گہری سانس لے کر طنزیہ لہجے میں کہا۔
’’کیا کررہا ہے یہاں…؟‘‘
’’یاترا!‘‘ میں نے کہا اور ہنس پڑا۔
’’بھسم ہوجائے گا۔‘‘
’’کیوں…؟‘‘
’’کالی گندگی لے کر تو بھگوان کے چرنوں میں جائے گا۔‘‘
’’تم بڑے گیانی معلوم ہوتے ہو۔ فوراً کالی شکتی کو پہچان لیا۔ اس سے آگے بھی کچھ جانتے ہو یا اتنا ہی…؟‘‘ وہ مجھے غور سے دیکھنے لگا۔ پھر اس نے کہا۔
’’اپنے دونوں ہاتھ سامنے کرو۔‘‘ اس نے کہا اور میرے پاس بیٹھ گیا۔ میں نے اس کی ہدایت پر عمل کیا تھا۔ تھوڑی بہت روشنی ہر جگہ سے چھن رہی تھی۔ وہ میرے پھیلے ہوئے ہاتھوں


کو دیکھ رہا تھا۔ دیر تک وہ میرے ہاتھوں پر نظریں جمائے رہا۔ پھر اس کے منہ سے ایک چونکی ہوئی آواز سنائی دی۔ ’’ارے اوہ… اوہ…‘‘ اس نے غور سے میرا چہرہ دیکھا اور پھر ہاتھ آگے بڑھا کر میرے دونوں ہاتھ پکڑ لیے پھر آہستہ سے بولا۔
’’جیوتش ودیا پر وشواس رکھتے ہو؟‘‘
’’خود بولتے رہو ساگر سروپ جی! ہم سے کچھ نہ پوچھو۔‘‘
’’ہم نے تھوڑا سا جیوتش کا علم سیکھا ہے۔ تمہاری ریکھائوں میں جو نظر آرہا ہے، وہ عجیب ہے۔ کچھ کہہ سکو گے؟ کچھ پوچھیں بتائو گے؟‘‘
’’اگر بتانے کی بات ہوئی تو!‘‘
’’ہندو دھرم سے نہیں ہو۔‘‘وہ میرے ہاتھوں پر نظریں جما کر بولا۔
’’آگے چلو!‘‘
’’وقت کے مارے ہو، مگر شکتی مان ہو۔ بڑا دل رکھتے ہو مگر دکھوں سے بھرا…! کالا جادو جانتے ہو مگر… مگر…! کرتے نہیں ہو۔‘‘
’’اورٖٖ!‘‘
’’حیرانی کی بات ہے۔ سمجھ میں نہ آنے والی تمہاری ریکھائیں عجیب ہیں۔ ریکھائوں میں سارے جیون کی کہانی نہیں ہوتی۔ ستاروں کی چال بدلتی رہتی ہے، ریکھائیں بنتی بگڑتی رہتی ہیں مگر سب سے زیادہ ایک بات حیران کررہی ہے۔‘‘
’’کیا…؟‘‘
’’تمہارا دھرم کیا ہے…؟‘‘
’’کیا کالا جادو صرف ہندو جانتے ہیں؟‘‘
’’نہیں جو بھی شیطان سے قریب ہوجائے، جو اسے دیوتا مان لے، دھرم کی قید نہیں ہوتی لیکن شیطان کا ایک ہی دھرم ہوتا ہے یعنی شیطنت! نہ پھر ہندو، ہندو ہوتا ہے نہ مسلمان، مسلمان! وہ سب شیطان کے چیلے ہوتے ہیں۔‘‘
’’تم خود کیا ہو؟‘‘
’’صرف انسان! بچپن سے گیان دھیان سے دلچسپی تھی۔ سب کچھ چھوڑ کر اس کی کھوج میں لگ گیا۔‘‘
’’کیا پایا…؟‘‘
’’شانتی… صرف شانتی!‘‘
’’جیوتش سیکھی؟‘‘
’’ہاں! ایک مہان آتما مل گئی تھی، اس نے اپنا گیان دے دیا۔‘‘
’’اور…!‘‘ میں نے کہا اور وہ مسکرا دیا۔
’’میری ایک بات پوری نہیں کی۔ اپنی پوچھے جارہے ہو۔‘‘
’’میں کچھ بھی نہیں ہوں، دو کوڑی کا انسان ہوں، کالا جادو نہیں جانتا۔ بس اس کے جال میں پھنس گیا ہوں۔ راستے کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں۔ تلاش کرتا رہوں گا اس وقت تک جب تک موت نہ آجائے۔‘‘
’’اتنا انتظار کیوں کرتے ہو؟‘‘
’’پھر کیا کروں…؟‘‘
’’سورج کا سفر! دوڑنا پڑے گا۔ کرنوں کے ساتھ دوڑنا پڑے گا۔ رک گئے تو کبھی منزل نہ پائو گے اور پہنچ گئے تو فیصلہ ہوجائے گا۔ منزل کتنی دور ہے، کوئی نہیں جانتا مگر چلنا پڑتا ہے، دوڑنا پڑتا ہے، وہیں فیصلہ ہوجائے گا۔‘‘
’’سورج کا سفر…؟‘‘
’’ہاں!‘‘
’’کیسے…؟‘‘
’’میں بتا سکتا ہوں۔‘‘
’’بتائو!‘‘
’’ایسے نہیں۔ گرو ماننا پڑے گا، گرودچھنا دینا پڑے گی۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’کیا…‘‘ میں نے پوچھا۔
’’محنت سے کمائی کرکے چار لڈو۔ جب ہوجائیں، اسی جگہ آجانا۔ انتظار کروں گا۔‘‘ اس نے کہا اور آگے بڑھ گیا۔ میں اے دیکھتا رہ گیا۔ عجیب سا آدمی تھا۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ بہت بڑا ہو مگر چھوٹا بنتا ہو۔ سورج کا سفر، گرودچھنا، محنت کی کمائی سے، محنت کی کمائی سے۔ کہاں سے کمائوں؟‘‘
رات ہوگئی۔ بہت دور نکل آیا تھا۔ اوم پرکاش کا ڈیرہ کہاں ہے، یاد ہی نہیں رہا تھا۔ ساگر سروپ یاد تھا۔ وہ جو کچھ کہہ گیا تھا، جی کو لگ رہا تھا۔ ایک سنسان گوشہ دیکھ کر وہیں پڑ رہا۔ وہاں صبح ہوگئی۔ کوئی دس بجے تھے۔ میں نے ایک ادھیڑ عمر مرد کو دیکھا ٹین کا صندوق سر پر رکھے، اس پر بستر رکھ ہوا تھا ساتھ میں اسی کی عمر کی عورت تھی جو دو وزنی تھیلے لٹکائے ہوئے تھی۔ ڈگمگاتے قدموں سے آگے بڑھ رہا تھا۔ میرے قریب سے گزرا تو گردن گھما کر مجھے دیکھا اور صندوق سے بستر گر پڑا۔ اس نے صندوق بھی بستر پر پھینک دیا اور وہیں بیٹھ گیا۔ عورت نے تھیلے زمین پر پٹخ دیئے۔
’’اب آگے ناہیں بڑھو گے کا؟‘‘ عورت غصے سے بولی۔
’’ارے چپ! آگے کی بچی… کھپڑیا پچک کر سڑا ہوا خربوزہ بن گئی اور تے کہے ہے آگے بڑھو۔‘‘ مرد جھلائے ہوئے لہجے میں بولا۔
’’اور پکڑو پائی پائی داتن سے۔ یاترا کو آویں کی کا جرورت تھی؟ گھر کو ہی کاسی جی بنا لیتے۔‘‘
’’اور ریل کا کرایہ تے جیسے تیرے میکے سے آیا تھا۔ وہ سسر پندرہ روپے مانگ رہا تھا۔ ہم نے آٹھ لگا دیئے تب بھی نہ مانا۔‘‘ مرد نے کہا اور پھر اس کی نگاہ مجھ پر پڑی۔ وہ جلدی سے کھڑا ہوگیا۔ ’’ارے بھائی اورے بھائی! ارے ذرا ادھر آنا میرے بھائی! ارے مزدوری کرے گا کیا رے۔ یہ سامان اٹھا کے ذرا تلسی نواس پہنچا دے بھیا! ایک بکس اور ایک بسترا ہے رے بھائی!‘‘
’’ارے ارے تمہاری کھوپڑیا تے سچی مچی کھربوجا بن گئی ہے۔ وہ مجدور لاگے ہے تمہیں کا۔‘‘ عورت نے مرد کو گھورتے ہوئے کہا۔
’’ایں؟‘‘ مرد مجھے دیکھنے لگا مگر میرے ذہن میں چھناکا ہوا تھا۔ مزدوری، محنت کی کمائی۔ یہ محنت کی کمائی ہی ہوگی۔ چنانچہ میں نے آگے بڑھ کے کہا۔
’’کتنے پیسے دو گے؟‘‘
’’ارے چار روپئے دیں گے پورے!‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ میں نے گردن ہلا دی اور پھر وزنی بکس بستر اٹھا کر سر پر رکھ دیئے۔ عورت نے دونوں تھیلے میرے بازوئوں میں لٹکا دیئے تھے۔ میں چل پڑا اور پھر انہیں تلسی نواس مندر پہنچا دیا۔ بہت سے یاتری یہاں موجود تھے۔ مرد نے سامان ایک جگہ رکھوا دیا اور پھر انٹی سے مڑے تڑے نوٹ نکالے اور گھگھیا کر بولا۔ ’’ارے تین روپے لے لے بھائی تیرا بھلا ہوگا۔‘‘
’’بھگوان تمہیں سیدھا کرے۔ نکالو پانچ روپے اور اسے دو۔‘‘ عورت جھلا کر بولی۔
’’اری او ساہوکارنی! پانچ روپے کاہے کے ری۔‘‘
’’یہ تھیلے جو اٹھائے ہیں اس نے!‘‘’’تے یہ سامان نہیں کیا… ارے لے بھائی! ایک روپیہ اور لے۔ تو جا اس ساہوکارنی کو تو ہم دیکھ لیں گے۔‘‘ مرد نے ایک روپیہ اور دے کر جان چھڑائی۔ میں چار روپے لے کر پلٹا تو اپنے عین سامنے اوم پرکاش جی کو کھڑے پایا۔ وہ تند نظروں سے مجھے دیکھ رہے تھے۔
’’یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’مزدوری…!‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔
’’کیوں…؟‘‘
’’میری بھی ضرورتیں ہیں اوم پرکاش جی! آیئے یہاں کہاں؟‘‘
’’مجھے دکھ ہوا ہے مسعود میاں! میرے دل میں تمہارا کیا مقام ہے، بتا نہیں سکتا اور تم…!‘‘
’’دوسرے لوگ کہاں ہیں؟‘‘
’’وہ موجود ہیں۔ رات کو بھی ڈیرے پر واپس نہیں آئے؟‘‘
’’بس! آپ کی کاشی دیکھ رہا ہوں۔‘‘
’’ایسے…؟‘‘ وہ شکایتی انداز میں بولے۔
’’ہاں! اپنا اپنا انداز ہے۔‘‘ میں نے کہا۔ دوپہر ڈھلے تک اوم پرکاش کے ساتھ رہا پھر موقع پا کر دوبارہ نکل بھاگا۔ وہ لوگ پوجا پاٹ میں مصروف تھے، مجھے موقع مل گیا۔ تلاش کرکے میں نے ایک دکان سے لڈو خریدے۔ دو روپے کے مل گئے تھے۔ ایک فقیر نے ہاتھ پھیلایا تو بچے ہوئے دو روپے اس کے ہاتھ پر رکھ دیئے۔ پھر اس جگہ پہنچ گیا جہاں ساگر سروپ ملا تھا۔ بے شمار لوگ ادھر سے ادھر گھوم پھر رہے تھے۔ ایک شخص ٹاٹ کی بوری سر پر رکھے گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھا تھا۔ متجسس نظروں سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ تبھی مجھے ’’شی شی!‘‘ کی آواز سنائی دی اور میں چونک کر پلٹا۔ ساگر سروپ نے بوری اُتار کر بغل میں دبائی اور اُٹھ کھڑے ہوئے۔
’’تمہارا انتظار کررہا تھا۔ آئو چلیں یہاں سے!‘‘ ہم دونوں آگے بڑھ گئے۔ پھر وہ کافی دور جاکر ایک پتھر پر بیٹھ گئے اور مسکرا کر بولے۔ ’’لڈو لے آیا بیٹا…؟‘‘
’’ہاں… یہ ہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ گرو بھگتی کر۔ ایک لڈو ہمارے منہ میں رکھ۔‘‘ انہوں نے کہا اور میں نے ان کی ہدایت پر عمل کیا۔ انہوں نے ایک لڈو اٹھا کر میرے منہ میں رکھا اور بولے۔ ’’اب ہمارے چرن چھو کر ماتھے سے لگا۔ ہاتھ جوڑ کر ہمارے سامنے دوزانو بیٹھ جا۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ میں حیرت سے بولا۔
’’ہاں! یہ گرو کا احترام ہے۔‘‘
’’نہیں ساگر سروپ جی! یہ میرے لیے ممکن نہ ہوگا۔ کچھ ہو یا نہ ہو مگر یہ نہیں ہوگا۔‘‘ میں کئی قدم پیچھے ہٹ گیا اور ساگر سروپ مجھے غور سے دیکھنے لگے۔ پھر مسکرا کر بولے۔
’’مسلما ن ہے۔ مسلمان ہے تجھ سے تیرا دھرم کون چھین سکتا ہے بھلا۔ سب سسرے بے وقوف ہیں، پاگل ہیں۔ آ یہاں بیٹھ جا میں تجھے بتائوں سورج کا سفر کیا ہے۔ آ بیٹھ جا! تو فولاد ہے، تجھے کوئی آسانی سے نہیں توڑ سکتا۔‘‘ میں بیٹھ گیا۔ ’’میرے ساتھ چلنا ہوگا تجھے۔‘‘
’’کہاں…؟‘‘
’’زیادہ دور نہیں۔ بس کسی بھی ایسی جگہ جہاں رکاوٹیں نہ ہوں۔ جو بتائوں وہ کرنا ہوگا۔‘‘
’’میرے حکم نہ ماننے سے آپ ناراض تو نہیں ہوئے ساگر جی!‘‘
’’نہیں! تیرا دھرم پتا چل گیا۔ مسلمان کسی کو وہ تعظیم نہیں دیتے جو ان کے رب کے لیے مخصوص ہے۔ اس پر تو لاکھوں گردنیں کٹی ہیں، اتنا مجھے معلوم ہے۔ خیر ان باتوں کو چھوڑو۔ کیا کہتا ہے چلیں…؟‘‘
’’جیسا آپ پسند کریں۔‘‘
’’تو نے لڈو کھلایا ہے بھائی! اتنا تو کرنا ہی پڑے گا۔‘‘ ساگر سروپ ہنستے ہوئے اٹھ گئے اور پھر ہم وہاں سے چل پڑے۔ ساگر سروپ نے کہا تھا کہ کچھ دور جانا ہوگا مگر ایسا نہیں ہوا تھا۔ ہم آبادیوں کو پیچھے چھوڑ آئے۔ جنگل شروع ہوگئے۔ جھٹپٹا ہوا، چڑیوں کا شور، بندروں کی خوں خوں ابھرتی رہی۔ پھر رات ہوگئی۔ نہ وہ رکے نہ میں! نہ وہ تھکے نہ میں اور جب چاند نکلا تو ہم ایک ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں ایک بدشکل ویرانہ پھیلا ہوا تھا۔ چاروں طرف ابھری ہوئی ناہموار زمین، سوکھے درخت، مکمل خاموشی اور سناٹا چھایا ہوا تھا۔
’’یہ جگہ ہے۔‘‘ ساگر سروپ نے کہا اور رک گیا۔ چاروں طرف دیکھتا رہا پھر بولا۔ ’’سورج وہاں سے بلند ہوگا۔‘‘ اس نے انگلی سے ایک طرف اشارہ کیا تھا۔
’’مجھے کیا کرنا ہوگا؟‘‘
’’راستہ چاہتا ہے نا…؟‘‘
’’ہاں! راستہ چاہتا ہوں۔‘‘
’’سورج تجھے راستہ بتائے گا۔ اجالا ہونے سے پہلے تیار ہوجانا، اپنے بدن کو ہوا کا بدن بنا لینا، کسی سے مدد نہ مانگنا پھر جب سورج سر ابھارے گا تو اس کی کرنیں زمین کی طرف لپکیں گی۔ جو کرن پہلے زمین کو چھوتی ہے، وہ سرتاج ہوتی ہے۔ اس کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ اس میں ہزار رنگ تڑپ رہے ہوتے ہیں۔ وہ زمین پر دوڑتی ہے، دور تک سورج کا پیغام لے جانے کے لیے! اس دن کی بادشاہی اسے ملتی ہے۔ تجھے سرتاج کرن کے ساتھ ساتھ دوڑنا ہوگا۔ اس کی رفتار کے ساتھ۔ کرن کھو گئی تو تیرا مستقبل بھی کھو جائے گا اور تو نے اس کا ساتھ دے لیا تو منزل پر
پہنچ جائے گا۔ وہاں تجھے تیرا مستقبل مل جائے گا۔ بس یہی بتانا تھا تجھے!‘‘
’’یہ سب کیا ہے؟‘‘
’’بھگوان ہی جانے!‘‘ ساگر سروپ نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا۔
’’مجھے تو یہ کہانی لگتی ہے۔‘‘
’’یہ سچی کہانی ہے۔‘‘
’’پہلے میں نے یہ کرن کہانی نہیں سنی۔‘‘
’’بہت سوں نے نہ سنی ہوگی، تو ہی کیا لیکن یہ کرن سب کے لیے ہوتی ہے۔ سورج کی اس کرن کو پکڑ لیا جائے تو سارے کام بن جاتے ہیں۔ تو نہیں جانتا، بہت سے نہیں جانتے مگر پنکھ پکھیرو جانتے ہیں۔ وہ پرواز کرتے ہیں، اس کرن کے ساتھ…! تو کیا سمجھتا ہے پنکھ پکھیرو بھگوان کے داس نہیں ہوتے، سب اسے جانتے ہیں، سب اسے پہچانتے ہیں، اس کی پوجا کرتے ہیں، اس کی عبادت کرتے ہیں، اسے سانچی مانتے ہیں۔ صبح کو سورج نکلنے سے پہلے اسے یاد کرتے ہیں۔ کرن کے ساتھ دوڑنے میں کچھ رہ جاتے ہیں، کچھ پار لگ جاتے ہیں۔ جو رہ جاتے ہیں، وہ دوسری صبح پھر جاگ جاتے ہیں اور کرن کے پیچھے دوڑتے ہیں۔‘‘
’’کرن کہیں جاکر رکے گی؟‘‘
’’ہاں! کرنوں کا ملاپ ہوجائے گا، دھوپ پھیل جائے گی۔‘‘
’’وہاں میں کیا کروں گا؟‘‘ (جاری ہے)