Kala Jadu | Episode 35

1622
’’نہیں…! میں ہر شام اپنا کام کرکے اس طرح گھر واپس آئوں گا جس طرح پرندے اپنے گھونسلوں میں بسیرا کرنے کے لیے واپس پلٹتے ہیں۔‘‘
وہ متاثر نگاہوں سے مجھے دیکھنے لگی۔ پھر بولی۔ ’’اگر تم وعدہ کرتے ہو تو ٹھیک ہے۔‘‘
یہ مرحلہ بھی طے ہوگیا تھا۔ میں کسی کے لیے بھی اپنے مقصد کو قربان نہیں کرسکتا تھا۔ جو ہدایات دی گئی تھیں، ان میں پہلا مرحلہ یہی تھا کہ کم ازکم میں کسی کے شانوں پر نہ پڑا رہوں۔ اب تک تو ایسا ہی ہوتا آیا تھا۔ کبھی رمضان کے ہوٹل پر تو کبھی کسی کے گھر…! یہاں سے نکلا تو وہاں جا بیٹھا، وہاں سے نکلا تو دوسری جگہ جا بیٹھا۔ کئی بار ہاتھ، پائوں چلانے کی کوشش کی تھی لیکن راستے بند ہوگئے تھے۔ ایک دلچسپ بات جو اب تک میں نے محسوس کی تھی، وہ یہ تھی کہ اس وقت کے بعد جب مجھے سورج کے ساتھ سفر کرکے ایک منزل پر پہنچنا پڑا تھا اور وہاں میرے لیے عدالت لگی تھی، میرے بیروں کا کہیں پتا نہیں تھا۔ میں کہیں بھی ہوتا، ان کی چاپ سنتا رہتا، ان کی حرکتیں میرے ذہن تک پہنچتی رہتیں لیکن اس عدالت سے واپسی کے بعد یہ بیر میرے گرد نہیں چکراتے تھے۔ دل میں خیال تو آیا تھا کئی بار۔ لیکن انہیں آواز دینے کی جرأت نہیں ہوئی تھی۔ جو غلطیاں کرچکا تھا، انہی سے بمشکل تمام جان بچی تھی۔ اب کوئی اور حماقت کرکے اپنے لیے مزید مشکلات نہیں خریدنا چاہتا تھا۔ صبر کرنا تھا، انتظار کرنا تھا۔ صبر اور انتظار یہی دو چیزیں مجھے میری منزل تک پہنچا سکتی تھیں اور میں اپنی زندگی کے اس سفر میں لاتعداد مصیبتیں اٹھانے کے باوجود منزل کی طلب سے اپنے آپ کو دور نہیں کر پایا تھا۔ بہرحال کسی بھی شخصیت کو، کسی بھی واقعے کو اپنے آپ پر مسلط کرنے سے راستے رک جاتے ہیں۔ بے شک رما رانی مجھے یہاں تک لے آئی تھیں لیکن اگر وہ میرے راستے کی رکاوٹ بنتیں اور مجھے یہاں سے باہر نکلنے کا موقع نہ ملتا تو بحالت مجبوری ایک بار پھر دھوکا دے کر یہاں سے نکلنا پڑتا لیکن اب کشنا بھی تیار تھی اور رما رانی نے بھی مجھے نوکری تلاش کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے حالات بھی بہتر نہیں تھے۔ چنانچہ میدان عبور کرکے اس آبادی میں اور اس آبادی سے بنارس کی سڑکوں پر پہنچ گیا۔ بنارس معمولی جگہ نہیں تھی۔ ہندوستان میں بہت بڑی حیثیت کا حامل ہے یہ شہر اور شاید تقدیر میری رہنمائی بھی کررہی تھی۔
شام کے تقریباً چار بجے تھے۔ میں نے ایک شخص کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھا۔ قدم لڑکھڑا رہے تھے، ادھر ادھر ہاتھ مار کر سہارا حاصل کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ آس پاس کوئی اور موجود نہیں تھا۔ سنسان سی جگہ تھی۔ جگہ جگہ درخت کھڑے ہوئے تھے۔ ایک لمحے میں، میں نے محسوس کیا کہ اگر یہ شخص کوئی سہارا پانے میں ناکام رہا تو یقینی طور پر زمین پر گر پڑے گا۔ لوگ اس کی جانب متوجہ نہیں تھے۔ میں تیزی سے آگے بڑھا اور میں نے اس شخص کو سنبھال لیا۔ پورا جسم پسینہ پسینہ ہورہا تھا۔ مسلمان لگتا تھا لباس سے، چہرے مہرے سے! ہاتھوں میں بید کی چھڑی تھی اور اس کی حالت غیر ہوتی جارہی تھی۔ اس نے مجھے ڈوبتی نگاہوں سے دیکھا اور بولا۔ ’’مم… میں…! میں دل کا مریض ہوں۔ میری شیروانی کی جیب میں میرے گھر کا پتہ رکھا ہوا ہے۔ اس وقت میری حالت بہت خراب ہے۔ خدا کے لیے میری مدد کرو…!‘‘
میں نے ادھر ادھر دیکھا۔ کچھ فاصلے پر تانگے آتے جاتے نظر آرہے تھے لیکن وہاں تک پہنچنا ناممکن تھا۔ بڑی پریشانی کے عالم میں، میں اسے سہارا دیتے ہوئے ایک درخت کے نیچے لے آیا۔ اس کے سینے پر ہلکی ہلکی مالش کی اور پانی کی تلاش میں ادھر ادھر نگاہیں دوڑانے لگا۔ اتفاق کی بات یہ کہ تھوڑے فاصلے پر ناریل کا ایک درخت نظر آیا۔ پانی اور تو کہیں موجود نہیں تھا۔ ناریل کے درخت کے قریب پہنچا۔ درخت کو زور زور سے ہلایا، پتھر اٹھا کر اوپر مارے، تب دو ناریل ٹوٹ کر نیچے گر پڑے اور اس کے بعد انہیں توڑ کر اس شخص کے منہ میں پانی ڈالنا میرے لیے مشکل نہ ثابت ہوا۔ ناریل کا پانی شاید اکسیر ثابت ہوا تھا اس کے لیے! ایک دم اس کی کیفیت بحال ہونے لگی۔ اس نے درخت کے تنے سے گردن ٹکا دی اور گہری گہری سانسیں لینے لگا۔ میرے دل میں انسانیت اور ہمدردی کا سمندر موجزن تھا۔ یہ شخص
صورت ہی سے کوئی نیک انسان معلوم ہوتا تھا۔ جب اس کی کیفیت کافی بہتر ہوگئی تو میں نے اس سے کہا۔
’’اب براہ کرم مجھے اپنا پتہ دے دیجئے، میں کوشش کرتا ہوں کہ آپ کو آپ کے گھر پہنچا دوں۔‘‘ اس شخص نے لرزتے ہاتھ سے شیروانی کی جیب میں رکھا ہوا ایک کاغذ نکالا اور بولا۔
’’زیادہ باتیں نہیں کرنا چاہتا۔ اس کاغذ پر میرا پتہ دیکھ لو۔‘‘ میں نے پتہ دیکھا اور اس کے بعد اس سے کہا۔
’’اگر آپ اجازت دیں تو میں تھوڑے فاصلے پر جاکر تانگہ لے آئوں۔‘‘ اس شخص نے ممنونیت کے انداز میں گردن ہلا دی۔ میں نے کاغذ پر ایک بار پھر اس کا نام اور پتا دیکھا۔ نام تھا مہتاب علی اور محلہ شیر خان کے مکان نمبر ایک سو ستائیس میں رہتا تھا۔ کچھ فاصلے سے گزرتے ہوئے تانگے والے کو اشارہ کیا اور اس کے بعد تانگہ لے کر اس کے پاس آگیا۔ مہتاب علی کو میں نے تانگے کی پچھلی نشست پر سوار کرایا اور اس کے قریب ہی بیٹھ گیا۔ مہتاب علی نے آہستہ سے کہا۔
’’بہت تکلیف ہورہی ہے تمہیں! لیکن انکار نہیں کروں گا کیونکہ انسان ہی انسان کی مدد کا طالب ہوتا ہے اور انسان ہی انسان کے کام آتا ہے۔ مجھے میرے گھر پہنچا دو، اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا۔‘‘
’’آپ بالکل اطمینان سے بیٹھے رہیں، مجھے کوئی تکلیف نہیں ہورہی۔‘‘ تھوڑی دیر کے بعد تانگہ مطلوبہ جگہ پہنچ گیا۔ میں نے سہارا دے کر مہتاب علی کو نیچے اتارا، تانگے والے کو اپنی جیب سے پیسے ادا کئے اور اس کے بعد اس شخص کو سہارا دیتے ہوئے گھر کے دروازے تک پہنچ گیا۔ اس نے دروازے کی کنڈی بجانے کا اشارہ کیا اور چند لمحات کے بعد ایک نوجوان لڑکی نے دروازہ کھولا۔ مجھے دیکھ کر عجیب سے انداز میں پیچھے ہٹ گئی اور میں اسے سہارا دے کر اندر لے گیا۔ فوراً ہی ایک معمر خاتون اور ایک آٹھ نو سالہ بچی میرے پاس پہنچ گئے۔
’’کیا ہوا، کیا ہوگیا۔ خدا خیر کرے۔ ارے کیا طبیعت خراب ہوگئی آپ کی…؟‘‘
’’اندر چلو… اندر چلو۔‘‘ مہتاب علی نے کہا اور تھوڑی دیر کے بعد اسے ایک بستر پر لٹا دیا گیا۔ ’’میری حالت اب بہتر ہے۔ کمزوری بے پناہ ہوگئی ہے۔ تم بیٹھو میاں! بیٹھ جائو یوں سمجھو کہ آج تم مسیحا بن کر میرے پاس پہنچے ورنہ اس کمبخت منحوس علاقے میں نہ تو کوئی تانگہ ملتا اور نہ کوئی سہارا…!‘‘
’’مگر… مگر…!‘‘
’’بس بی بی! اگر مگر سے کیا فائدہ! دورہ پڑ گیا تھا مجھے ایک بار پھر، لیکن… لیکن مسیحا کچھ فاصلے پر ہی موجود تھا۔‘‘ معمر عورت نے میرا شکریہ ادا کیا۔ نوجوان لڑکی بھی نگاہوں کے سامنے تھی اور چھوٹی بچی بھی! سب کے سب سہمی ہوئی نگاہوں سے اس شخص کو دیکھ رہے تھے۔ میں نے اجازت مانگی تو اس نے کہا۔
’’میاں! اگر کوئی بہت زیادہ مصروفیت نہ ہوتو تھوڑی دیر بیٹھ جائو۔ یوں بھی مریض کی تیمارداری انسانی فریضہ ہے اور پھر تم تو اس وقت…!‘‘
’’آپ بار بار مجھے یہ الفاظ کہہ کر شرمندہ کررہے ہیں۔‘‘
’’تو کچھ دیر رک جائو میں… میں تم سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں، دل چاہ رہا ہے۔‘‘
’’کوئی ہرج نہیں ہے۔‘‘ میں نے جواب دیا۔ معمر شخص نے عورت سے کہا۔ ’’جائو بھئی اب میں بالکل ٹھیک ہوں۔ میری دوا لے آئو اور مجھے دوا پلا دو اور ذرا مہمان کے لیے چائے وغیرہ کا بندوبست کرو۔ میاں نام کیا ہے آپ کا…؟‘‘
’’مسعود احمد میرا نام…!‘‘
’’اللہ تعالیٰ زندگی عطا فرمائے، صحت دے، ترقی دے، بلندی دے۔ بڑی مدد کی ہے تم نے ہماری مسعود بیٹے! کہاں رہتے ہو؟‘‘
’’بس! یہیں ایک جگہ ہے، نام وغیرہ نہیں جانتا اس کا چونکہ بنارس آئے ہوئے بہت زیادہ عرصہ نہیں ہوا اور اس سے واقفیت حاصل نہیں ہے۔‘‘
’’اوہو اچھا… اچھا! کہیں اور سے آئے ہو…؟‘‘
’’جی…!‘‘
’’اللہ تعالیٰ خوش رکھے۔ یہاں آنے کا کوئی مقصد تو ہوگا بیٹے…؟‘‘
’’جی ہاں! بس… بس تلاش رزق میں نکلا ہوا ہوں۔‘‘
’’کوئی نوکری ملی…؟‘‘ مہتاب علی نے پوچھا۔
’’نہیں…! لیکن مل جائے گی انشاء اللہ تعالیٰ! کوشش کررہا ہوں۔‘‘ مہتاب علی خاموش ہوگئے۔ کچھ دیر آنکھیں بند کئے سوچتے رہے۔ پھر بولے۔
’’کس کے ساتھ رہتے ہو یہاں؟‘‘
’’ایسے ہی کچھ شناسا ہیں۔‘‘
’’میاں! دیکھو یہ نہ سمجھنا کہ ہم تمہارے قرض چکا رہے ہیں۔ بعض قرض ایسے ہوتے ہیں کہ زندگی بھر چکائے جائیں تو ادا نہیں ہوتے لیکن وہی مسئلہ ہے کہ انسان ہی انسان کے کام آتا ہے۔ اگر کچھ اور وقت دے سکو ہمیں تو ہم تم سے کچھ
اور باتیں کریں۔ لو چائے آگئی، ذرا چائے پیو۔‘‘ چائے کا سامان ہمارے سامنے رکھ دیا گیا۔ بیگم صاحبہ جو مہتاب علی کی بیوی تھیں، محبت بھرے انداز میں چائے بنانے لگیں اور پھر انہوں نے ایک پیالی بڑے اہتمام سے مجھے پیش کی اور میں نے شکریہ ادا کرکے قبول کرلی۔ نوجوان لڑکی چلی گئی تھی لیکن چھوٹی عمر کی لڑکی وہیں بیٹھی ہوئی عجیب سی نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔
’’اس کا نام رخسانہ ہے۔‘‘ مہتاب علی نے اپنی بیٹی کی طرف محبت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اور ان کا نام ابو…؟‘‘
’’سنا نہیں تم نے مسعود احمد ہے۔‘‘
’’ہم انہیں کیا کہیں۔‘‘ لڑکی نے پوچھا۔
’’تمہارا کچھ کہنا ضروری ہے کیا…؟‘‘
’’تو نہ کہیں کیا…؟‘‘ لڑکی بولی۔
’’نہیں… نہیں بھئی! ہم بھلا تمہیں کہاں روکیں گے۔ مسعود میاں! بس اللہ نے مجھے دو بیٹیاں عطا کی ہیں، بیٹے سے محروم ہوں اور یہی وجہ ہے کہ سڑکوں، میدانوں اور ویرانوں میں تنہا پھرتا رہتا ہوں۔ بس ایسے ہی اجنبی سہارے مجھے سنبھالے ہوئے ہیں یا پھر اللہ کا سہارا ہے۔ خیر یہ کوئی غم ناک گفتگو نہیں ہے۔ تعارف کرا رہا تھا اپنا! دل کی تکلیف ہوگئی ہے کافی عرصے سے، کبھی کبھی ایسی حالت ہوجاتی ہے۔ دو تین بار ہوچکی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ عجیب و غریب کیفیت ہے۔ اسے باقاعدہ دل کا دورہ بھی نہیں کہا جاسکتا چونکہ تین دوروں یا دو دوروں میں تو انسان کبھی کا آسمان پر پہنچ چکا ہوتا ہے لیکن میرا خیال ہے میری یہ کیفیت کئی بار ہوچکی ہے۔ علاج کررہا ہوں۔ کبھی کبھی تو بالکل ٹھیک ہوجاتا ہوں اور کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے مرض پھر سے واپس آگیا۔‘‘ میں خاموشی سے مہتاب علی کی صورت دیکھتا رہا اور چائے پیتا رہا۔ انہوں نے خود چائے نہیں پی تھی۔ بیگم صاحبہ نے میری پیالی خالی ہونے کے بعد اسے دوبارہ بھرنے کے لیے کہا لیکن میں نے معذرت کرلی۔
’’ہاں تو بیٹے! کیا تم ہماری تھوڑی سی خدمت قبول کرو گے؟‘‘
’’جی… میں سمجھا نہیں!‘‘
’’کل دن میں آسکتے ہو کسی وقت…؟‘‘
’’جی ہاں! کیوں نہیں۔‘‘
’’یہ پتہ یاد رہے گا…؟‘‘
’’اگر یاد نہ رہا تو اسے لکھ کر اپنے پاس رکھ لیتا ہوں۔ تلاش کرتا ہوا آجائوں گا۔ کوئی حکم ہے میرے لیے…؟‘‘
’’حکم نہیں بیٹے! التجا ہی سمجھو۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر میں تمہاری ملازمت کے لیے کوشش کروں تو…؟‘‘ میں مسکرانے لگا۔ مہتاب علی فوراً بولے۔
’’دیکھا نا وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ تم سوچ رہے ہو کہ ایک اتنے بڑے احسان کا صلہ چکانا چاہتا ہوں میں! ایسی بات نہیں ہے۔‘‘
’’بخدا میں بھی یہ نہیں سوچ رہا۔‘‘
’’تو پھر کیا ہرج ہے میاں! تم انسانی محبت سے مجبور ہوکر مجھے اپنا وقت برباد کرکے یہاں تک لائے۔ کیا تمہارے خیال میں میرے دل میں انسانی محبت نہیں جاگ سکتی، جو کچھ کرسکتا ہوں، اگر تم اسے قبول کرلو تو مجھے بھی خوشی ہوگی۔‘‘
’’یہ میری ضرورت ہے مہتاب علی صاحب! آپ حکم دیتے ہیں تو حاضر ہوجائوں گا۔ ویسے بھی آپ کی دوبارہ خبرگیری کرنا چاہتا تھا۔ آپ فرمایئے کس وقت حاضر ہوجائوں؟‘‘
’’میاں! کل گیارہ بجے… ہم اس کیفیت میں اپنی ملازمت پر تو نہیں جاسکیں گے لیکن کچھ حالت بہتر ہوگئی تو تمہارے ساتھ ضرور چلیں گے۔ باقی تفصیلات تمہیں کل دن ہی میں بتائی جائیں گی۔‘‘ مہتاب علی بولے۔ اس کے بعد میں نے ان سے اجازت طلب کرلی۔ راستے ذہن میں رکھے تھے۔ کشنا کے گھر کے سامنے چوپال لگی ہوئی تھی۔ مالتی، رما رانی، رادھا لکشمی سب ہی باہر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے درمیان کشنا بھی تھی۔ مجھے دیکھ کر سب خوشی سے کھل اٹھے۔
’’رتنا آگیا… رتنا آگیا۔‘‘ آوازیں ابھریں۔
’’گھر میں سانپ نکل آئے ہیں کیا، سب لوگ باہر کیوں بیٹھے ہوئے ہیں۔‘‘ میں نے پوچھا۔
’’اس بائولی نے ناک میں دم کررکھا تھا۔ اسے ابھی تک تم پر بھروسہ نہیں ہے۔ کہتی تھی کہ تم نہ آئو گے۔‘‘
’’اسے میں سمجھا لوں گا۔‘‘ میں نے کہا اور سب کے ساتھ اندر گیا۔ نئے حالات کے تحت ان لوگوں میں ضم ہونے میں کوئی حرج نہیں تھا۔ کشنا کو سمجھایا۔ رما رانی کو بتایا کہ نوکری کی کوشش کررہا ہوں، مل جائے گی، امید پیدا ہوگئی ہے۔ اس سے حالات بہتر ہوجائیں گے۔‘‘
رما رانی غمزدہ ہوگئیں۔ ’’کیا کچھ نہیں تھا، ہمیں بھلا روپے پیسے کی کمی تھی مگر اور پھر ایک طرح سے اچھا ہوا، صدیوں کی ریت تو ٹوٹی۔ ایک بیسوا
کبھی شریف زادی بنی وہ بھی پورے پریوار کے ساتھ…! عادی ہوجائیں گے، سمے بھی بیت ہی جائے گا۔ روکھی سوکھی کھا کر اور اگر ایسا ہوگیا تو سب ہی کا جیون سنور جائے گا۔ یہاں ہمیں کون جانتا ہے اسی لیے الگ تھلگ پڑے ہیں۔ پیٹ بھرنے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکل ہی آئے گا۔‘‘ رما رانی کے خیالات بہت بدل گئے تھے۔ میں پھر جذباتی ہوا تھا لیکن دل ہی دل میں توبہ استغفار کرلی تھی۔ اسی جذباتیت نے تو اس منزل پر لا ڈالا تھا۔
دوسرے دن ٹھیک گیارہ بجے مہتاب علی صاحب کے گھر پہنچ گیا۔ یہاں بھی ایک محترمہ دروازے پر موجود تھیں اور جیسے ہی میں اس دروازے کے سامنے رکا، انہوں نے دروازہ کھول دیا۔ رخسانہ تھی۔ مسکراتی نگاہوں سے مجھے دیکھا اور معصوم لہجے میں بولی۔
’’ایک ایک منٹ گن رہی تھی اور یہ سوچ رہی تھی کہ کہیں ہمارے بھیا جی وعدہ خلافی نہ کر ڈالیں۔ ہم ذرا وعدے کے پابند آدمی ہیں۔ ابا جی نے ہمیشہ یہی سکھایا ہے کہ بیٹا جب کسی سے کوئی وعدہ کرو تو اسے اپنا ایمان بنا لو۔ ہم تو وعدے کو ایمان بنا لیتے ہیں بھیا جی! آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں؟‘‘
رخسانہ کی معصوم باتوں نے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دی تھی۔ میں نے پیار سے کہا۔ ’’بھئی بہت اچھی خاتون ہیں بلکہ یوں سمجھ لیں کہ آپ تو بیٹھے بٹھائے ہماری استاد بن گئیں۔ ایسا سبق سکھایا ہے ہمیں کہ زندگی بھر یاد رکھیں گے۔‘‘
’’اور کبھی وعدہ خلافی نہیں کریں گے؟‘‘
’’جی بالکل! آپ سے وعدہ کیا جاتا ہے۔‘‘
’’تو پھر پہلا وعدہ یہ کیجئے کہ اندر جاکر کسی کو نہیں بتائیں گے کہ ہم نے آپ سے اس طرح گفتگو کی ہے۔ ہم سے کہا جاتا ہے کہ سب سے ادب و احترام سے پیش آیا جائے۔ کسی بڑے سے ضرورت سے زیادہ باتیں نہ کی جائیں مگر ہم کیا کریں۔ یہاں تو بس تین بڑے ہی بڑے ہیں۔ نہ کوئی ہمارے برابر کا ہے اور نہ کوئی ہم سے چھوٹا! بڑوں سے ہنس کر بات کی جائے تو گستاخی ہوجاتی ہے اور چھوٹوں کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ اب بتایئے رخسانہ کرے تو کیا کرے۔ آیئے بھیا جی! اندر آیئے۔ کان دروازے پر لگے ہوں گے۔ گیارہ بج رہے ہیں اور ابا میاں آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ ہمیں حکم دیا گیا تھا کہ دروازے پر رکیں۔‘‘
’’کیسی طبیعت ہے مہتاب علی صاحب کی؟‘‘
’’اللہ کے فضل سے ٹھیک ہیں۔ اب آجایئے نا کہہ دیا جائے گا کہ ہم نے آپ کو باتوں میں لگا رکھا تھا۔‘‘ رخسانہ کی شوخ و چنچل باتوں نے جی خوش کردیا تھا۔ مہتاب علی صاحب کی حالت کافی بہتر ہورہی تھی۔ چہرے پر رونق آگئی تھی۔ بیگم صاحبہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، تیار تھے، چھڑی کرسی کے ساتھ لگی رکھی تھی، جوتے پہنے ہوئے تھے۔ سلام دعا ہوئی۔ کہنے لگے۔
’’بس میاں! ویسے تو تمہاری خاطرداری ہم پر فرض ہے لیکن چلنا ضروری ہے۔ ہوسکتا ہے حاجی صاحب کہیں نکل جائیں۔ ان کے جانے سے پہلے ان تک پہنچنا ضروری ہے۔ ویسے ان کا ملازم آیا تھا، ہم نے اپنی بیماری کی اطلاع دے دی ہے۔ بہت ہی اچھے انسان ہیں۔ چلو راستے میں باتیں ہوں گی۔ اچھا بھئی ہم چلتے ہیں اور واپس یہیں آئیں گے اور دوپہر کے کھانے میں آپ کو کیا انتظام کرنا ہے، اس کی ہدایت تو آپ کے پاس موجود ہے ہی، آج کی بات تو نہیں ہے۔‘‘ مہتاب علی نے اپنی بیگم سے کہا۔ میں نے کچھ کہنا چاہا تو وہ جلدی سے بولے۔
’’نہیں میاں! ظاہر ہے مہمان میزبانوں سے تکلف کی باتیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کی کیا ضرورت ہے لیکن میزبان سمجھتے ہیں کہ کس چیز کی کیا ضرورت ہے۔ اب آئو دیر ہوجائے گی، تانگہ بھی تلاش کرنا ہوگا۔‘‘
میں مہتاب علی صاحب کے ساتھ باہر نکل آیا۔ ایسے بہت سے کرم فرما، محبت کرنے والے مجھے زندگی میں مل چکے تھے اور ایسے لوگوں سے محروم نہیں رہا تھا۔ بہرحال یہ میری خوش قسمتی تھی کہ اس دنیا میں صرف نفرتیں ہی میری ہم رکاب نہیں رہی تھیں بلکہ محبتوں کا توازن بھی ساتھ ساتھ چلتا رہا تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جینا کس قدر مشکل ہوتا، اس کا مجھے بخوبی اندازہ تھا۔ تانگہ تھوڑی دیر کے بعد ہی مل گیا اور مہتاب علی صاحب نے اسے پتا بتا دیا۔ تانگہ آگے بڑھا تو مہتاب علی صاحب نے کہا۔
’’ہم نوکری کرتے ہیں حاجی فیاض احمد صاحب کے ہاں اور یہ حاجی فیاض احمد صاحب بنارس میں تلے اور زری کے کام کے سب سے بڑے تاجر ہیں۔ یوں سمجھ لو سولہ کارخانے ہیں ان کے جن میں بنارسی کپڑا اور بنارسی ساڑھیاں وغیرہ تیار ہوتی ہیں


ہندوستان بھر میں تقسیم ہوجاتی ہیں۔ اللہ نے خوب نوازا ہے زر و جواہر سے اور جواہر پارے بکھیر دیئے ہیں انہوں نے پورے ہندوستان میں! لیکن طبیعت کے ایسے نیک اور نفیس کہ آج بھی اپنے ملازمین کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں اور کوئی تکلف نہیں ہوتا لیکن چونکہ خود اپنے بازوئوں سے کمایا ہے اور خاندانی ورثہ منتقل نہیں ہوا ہے، اس لیے خود تو نیک نفس اور ملنسار آدمی ہیں لیکن اہل خانہ کا ان کی کمائی سے خانہ خراب ہوگیا ہے۔ خصوصاً صاحبزادی درشہوار موجودہ دور کی عکاسی کرتی ہیں اور چونکہ حاجی صاحب کی بیگم نے ان کے نزول کے بعد حاجی صاحب سے صاف صاف کہہ دیا کہ یہ اول سے آخر تک ہیں اور اس سے آگے اولاد کا تصور نہ کیا جائے۔ چنانچہ حاجی صاحب نے بھی قناعت کرلی اور درشہوار بری طرح بگڑ گئیں۔ میں اپنے مالک کی بیٹی کی برائی نہیں کررہا۔ بچی بہت اچھی ہے۔ نیک طبیعت اور اچھے عادات و خصائل کی مالک! لیکن بس طبیعت میں غرور ہے۔ ملنا جلنا اپنے ہم پلہ لوگوں سے ہے اس لیے عام لوگوں کو خاطر میں نہیں لاتی۔ ساری باتیں اس لیے کہہ دی ہیں میاں مسعود کہ ہوسکتا ہے تقدیر یاوری کرے اور تمہارا واسطہ انہی لوگوں سے پڑے۔ جہاں تک رہا بیگم فیاض کا معاملہ تو یوں سمجھ لو کہ وہ نہ تیتر ہیں، نہ بٹیر! جب کبھی خاندانی کیفیت ابھر آتی ہے تو وہ انسان ہوتی ہیں اور جب زمانے کے رنگوں میں رنگی ہوئی ہوں، تب ان کی رنگینیاں کچھ اور بڑھ جاتی ہیں۔ تمہیں یہ سب کچھ بتانا اس لیے ضروری ہے کہ ہم کریں گے آج تمہاری نوکری کے لیے بات چیت اور اللہ کی ذات سے امید تو یہی ہے کہ نوکری مل جائے گی۔ دیکھو میاں! ابھی اسی وقت اس تانگے میں اپنی پسند بتا دو۔ ہم تو حاجی صاحب سے یہ کہیں گے کہ ہمارا اپنا بچہ ہے، کوئی بھی جگہ دے دی جائے لیکن اگر تمہاری کوئی پسند ہو تو۔‘‘
میں نے حیرانی سے مہتاب علی کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’نہیں مہتاب صاحب! مجھے صرف ملازمت چاہئے۔ اس میں کوئی تخصیص نہیں، کوئی پسند نہیں۔‘‘
’’خدا خوش رکھے۔ ویسے بھی مذہب نے رزق حلال کے لیے محنت کو افضل قرار دیا ہے۔ لوگ تو تن آسانی تلاش کرتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر حصول رزق میں پسینہ نکل آئے تو یوں سمجھ لو موتیوں سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔ بہرحال مسرت ہوئی۔‘‘
جس حویلی کے ساتھ تانگہ رکا تھا، وہ اس بات کا اظہار کرتی تھی کہ بنارس کے کسی رئیس کی حویلی ہے لیکن بنارس کے یہ رئیس جو سادہ سے کرتے، پائجامے اور دو پلی ٹوپی میں ملبوس تھے، کسی بھی طرح اس حویلی کے مالک نظر نہیں آتے تھے۔ دور ہی سے لپکے لپکے آئے تھے اور مہتاب علی کے قریب پہنچ گئے تھے۔
’’اماں مہتاب! کیوں پریشان کرتے رہتے ہو تم مجھے! بار بار بیمار پڑ جاتے ہو اور میں کہتا ہوں کہ تم آئے کیوں۔ ایں…! میں تو خود آنے والا تھا تمہارے پاس، نجانے کس سے دل لگا بیٹھے ہو۔ میں کہتاہوں اس عمر میں دل کا روگ پالنا ضروری تھا کیا…؟‘‘ مہتاب علی صاحب نیاز مندی سے مسکرائے اور بولے۔
’’اس بچے کو لے کر حاضر ہونا ضروری تھا حاجی صاحب! ورنہ نہ آتا۔‘‘
’’اماں! تو بچے کو بھیج دیا ہوتا۔ کون ہے یہ۔‘‘ انہوں نے میری طرف دیکھا تو میں نے انہیں سلام کیا۔ حاجی صاحب مجھے دیکھتے رہے پھر بولے۔
’’کون ہیں یہ مہتاب میاں…؟‘‘
’’بس یوں سمجھ لیجئے عزیز ہے میرا، نوکری کا خواہشمند ہے۔‘‘
’’اچھا… اچھا! کہاں کس کارخانے میں لگنا ہے، کوئی کام جانتے ہیں یہ یا کوئی اور نوکری دینا چاہتے ہیں آپ…! ارے ہاں میاں! ذرا ایک بات تو بتائو گاڑی چلانا آتی ہے؟‘‘
’’جی!‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’بس ٹھیک ہے اور کوئی حکم جناب مہتاب علی صاحب۔‘‘
’’نہیں حضور! بس آپ کی نوازشوں کے سائے میں پروان چڑھ رہا ہوں۔‘‘
’’مصرع ثانی بھی عرض کر ڈالیے!‘‘ حاجی صاحب نے ظرافت سے کہا اور مہتاب علی مسکرانے لگے۔ تب حاجی صاحب نے مڑ کر کسی کو آواز دی اور ایک دبلا پتلا سا آدمی قریب آگیا۔
’’گاڑی کی چابی کہاں ہے۔‘‘ حاجی صاحب نے پوچھا۔
’’یہ ہے سرکار!‘‘ اس شخص نے چابی نکال کر حاجی صاحب کے حوالے کردی۔
’’پیٹرول ہے گاڑی میں…؟‘‘
’’ٹنکی بھری ہوئی ہے۔‘‘ وہ بولا۔
’’ٹھیک ہے جائو۔‘‘ حاجی صاحب بولے اور پھر چابی مجھے دیتے ہوئے کہا۔ ’’تو میاں! آپ اپنی ملازمت کا آغاز یوں کریں کہ سب سے پہلے ان مہتاب علی کو ان کے گھر پہنچا دیں۔‘‘
’’ایک اور
ہے۔‘‘ مہتاب علی بولے۔
’’ارشاد۔‘‘
’’یہ بنارس کے گلی کوچوں سے واقفیت نہیں رکھتے، اس میں قباحت ہوگی۔‘‘
’’میاں! جسے جہاں جانا ہوگا، راستہ خود بتائے گا۔ آپ جایئے۔‘‘ راستے میں مہتاب، علی حاجی صاحب کے بارے میں بہت کچھ بتاتے رہے تھے۔ گھر جاکر وہ لنچ بھی کینسل کرنا پڑا تھا جس کی ہدایت مہتاب علی کر آئے تھے۔ پھر میں واپس حاجی صاحب کی کوٹھی پہنچ گیا۔ حاجی صاحب نے ایک معقول تنخواہ کی پیشکش کی تھی، بہت سی مراعات سے نوازا تھا۔ صبح آٹھ بجے یہاں پہنچنے کی ہدایت کی تھی، واپسی کا کوئی تعین نہیں تھا لیکن یہ سب کچھ بور نہیں تھا۔ دل خوشی سے منور ہوگیا تھا۔ دو تین جگہ کے کام سونپے گئے تھے اور میں نے خوش اسلوبی سے سرانجام دیئے تھے۔ سورج چھپے چھٹی دی گئی اور واپسی میں حاجی صاحب نے کچھ رقم جیب میں ٹھونس دی۔
’’نہ یہ قرض ہے نہ بخشش نہ انعام! یہ فرض ہے جو آج میں پورا کررہا ہوں۔ کل تم پورا کرنا اور جسے کچھ دو، اسے ہدایت کرنا کہ جب وہ صاحب استطاعت ہو تو اسے کسی اور کو واپس کردے۔ ضد یا رد و قدح کرکے میرے اصولوں کو مجروح نہ کرنا۔ جو مجھے کسی اور نے دیا تھا، وہ میں تمہیں دے رہا ہوں۔‘‘ میں نے خاموشی سے گردن ہلا دی تھی۔
رما رانی کے سامنے وہ پیسے رکھ دیئے۔ ’’ارے یہ کیا ہے۔‘‘
’’میری کمائی…!‘‘ میں نے کہا۔ رما رانی کے چہرے پر عجیب سے تاثرات پھیل گئے۔ وہ کچھ دیر خاموش رہیں پھر انہوں نے مجھے عجیب سے انداز میں دیکھا اور خاموشی سے وہاں سے چلی گئیں۔ میں ان کی کیفیات سمجھ نہیں پایا تھا۔ کھانے کے بعد البتہ انہوں نے کہا۔
’’تمہاری حیثیت اتنی معمولی ہے رتنا۔‘‘
’’سمجھا نہیں رما رانی!‘‘
’’مجھے تو تمہاری پیشانی جگمگاتی نظر آتی ہے۔ لگتا ہے دھرتی پر پائوں مارو گے تو دولت ابل پڑے گی۔‘‘ میں مسکرا دیا۔ میں نے آہستہ سے کہا۔
’’ میں دھرتی پر پائوں مارنا نہیں چاہتا رمارانی۔‘‘
’’سادھوئوں، رشیوں، منیوؤں اور دیوتائوں جیسی باتیںکرتے ہو، سنسار طاقت کی زبان سمجھتا ہے اور سنسار میں سب سے زیادہ طاقتور دولت ہوتی ہے۔ ایک بار دولت کے ڈھیر لگا لو، جیون بھر کے لیے دیوتا اوتار بن جائو۔ سوچنا میری بات پر۔ وہ بائولی تمہارے لیے سولہ سنگھار کررہی ہے۔‘‘
میں ان کے جانے کے بعد ان کی باتوں کے بارے میں سوچتا رہا مگر کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ دولت کے انبار میرے پیروں تلے تھے مگر حلال کی کمائی کے چار لڈو میں کبھی نہیں بھول سکتا تھا۔ سوچا پھر کبھی ان سے بات کروں گا، مطلب پوچھوں گا ان باتوں کا! البتہ جس بائولی کے سولہ سنگھار کے بارے میں انہوں نے مجھ سے کہا تھا، وہ رات گئے میرے کمرے میں گھس آئی۔ کشنا تھی اور شعلۂ جوالہ بنی ہوئی تھی۔ سرخ رنگ کا لباس، دمکتے ہوئے گہنے، پھولوں کے مہکتے ہوئے ہار! ہونٹوں پر نشہ آلود مسکراہٹ اور آنکھوں میں انوکھا خمار…! بوجھل بوجھل ارمان بھرے احساسات سے لڑکھڑاتی ہوئی۔
’’رتنا…!‘‘ اس کی نغمہ بار آواز ابھری۔
’’تمہیں کیا ہوگیا کشنا…‘‘
’’دلہن بنی ہوں تمہارے لیے! ماں نے اجازت دے دی ہے۔ مجھے اپنے چرنوں میں سوئیکار کرلو۔ ہمارا پریم امر ہوجائے گا۔ آج پورن ماشی ہے رتنا! بڑی رات ہے۔ آج کی رات اور بڑی ہوجائے گی۔ مجھے سوئیکار کرلو رتنا!‘‘ اس نے میرے پائوں پکڑ لیے۔
’’ارے… ارے کشنا! تمہیں کیا ہوگیا۔‘‘ میں نے جلدی سے پائوں سکوڑ کر اس کے ہاتھ پکڑ لیے۔ مگر اچانک میری گھگھی بندھ گئی۔ میری نظریں اس کے مہندی رچے ہاتھوں پر جم گئیں۔ اس کے دونوں ہاتھوں میں سات سات انگلیاں تھیں۔
سات انگلیاں جو میری آنکھوں کا دھوکا نہیں تھیں، میری نگاہوں کے سامنے تھیں اور مجھے ان سات انگلیوں سے ہوشیار کردیا گیا تھا۔ دماغ پر ہتھوڑے برسنے لگے۔ کشنا اور سات انگلیوں والی! کیا یہ پورنی ہے…؟ بھوریا چرن کی جادوگرنیاں! مگر میں کیا کروں، مجھے کیا کرنا چاہئے؟ کشنا کی نگاہیں مجھ پر نہیں تھیں۔ وہ جیسے نشے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اس کی آنکھیں جھکی جا رہی تھیں اور انداز میں بے پناہ بے خودی تھی۔ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا کہ کیا کروں۔ بہرطور میں نے اسے سنبھالا، بستر پر بٹھا دیا اور خود اس سے کئی فٹ دور ہوکر کھڑا ہوگیا۔ یہ بات اب آہستہ آہستہ میری سمجھ میں آرہی تھی کہ کشنا کا یہ عمل کس مقصد کے تحت ہے۔ مجھے آگاہ کردیا گیا تھا اور
اگر سب کچھ جاننے کے بعد کسی اور لغزش کا شکار ہوجائوں تو پھر کچھ نہیں ہوسکے گا۔ جو فیصلہ مجھے دیا گیا تھا، اس پر عمل کرکے ہی میرے جرم کا خاتمہ ہوسکتا تھا لیکن اس سے متعلق وہ سب رما رانی، رادھا، لکشمی، مالتی، اگر میں…! اگر میں اس ہدایت پر عمل کر ڈالوں تو ان سب کے سامنے کیا کہوں گا… اندر سے دل نے چیخ کر کہا۔ تجھے سب کی پڑی ہے، اپنی سوچ! جو غلاظت تیرے وجود میں اتار دی گئی ہے، اسے کم کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ اس سے گریز کیوں کررہا ہے۔ جلدی کر، اس سے پہلے شیطان سے نجات حاصل کر، جلدی کر جلدی کر…! آواز تیز ہوتی چلی گئی اور میرے حواس پر چھا گئی۔ میں نے خونی نگاہوں سے کشنا کو دیکھا۔ اس کے ہونٹوں پر نشیلی مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔
’’داسی ہوں تمہاری… جیون وار دوں گی تم پر! سنسار میں اتنا اونچا کردوں گی کہ کوئی تمہارے چرنوں کی دھول بھی نہ پا سکے، مہان ہوجائو گے۔ مہان ہوجائو گے… مہان ہوجائو گے… مجھے سوئیکار کرو رتنا جی! مجھے سوئیکار کرلو۔‘‘ اس نے دونوں بازو میری جانب پھیلا دیئے۔ حسن و جمال کی ایک ایسی تصویر جسے دیکھ کر آنکھیں بچھانے کو جی چاہے، خوب صورتی کا ایسا بے مثال مرقع کہ مصور اس کی صحیح تصویر نہ بنا سکے، میری نگاہوں کے سامنے تھا لیکن اب میری کیفیات میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہونے لگی تھیں۔ بدن میں چنگاریاں دوڑنے لگی تھیں، پورے وجود میں سنسناہٹ پھیل گئی تھی اور اس کیفیت نے مجھے سہارا دیا۔ آنکھوں میں خون اترتا محسوس ہورہا تھا، ہر شے سرخ سرخ نظر آرہی تھی اور ذہنی کیفیت بہت عجیب ہورہی تھی۔ میں ایک قدم آگے بڑھا اور اس کے ہونٹوں پر استقبالیہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے اپنے جسم کو تھوڑا سا پیچھے سرکا لیا جیسے مجھے اپنے قریب جگہ دینا چاہتی ہو۔ میں اس کے قریب بیٹھ گیا۔ اس کے سیاہ لمبے لمبے بال بکھرے ہوئے تھے، سر پر زیورات سجے ہوئے تھے۔ میری انگلیاں آہستہ آہستہ آگے بڑھیں۔ میں نے اس کے بالوں کو اپنی انگلیوں کی گرفت میں لیا اور اس کے چہرے سے پیچھے ہٹا دیا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ میرے شانوں پر رکھ دیئے تھے اور میرے ہاتھ اس کے بالوں کو پیچھے ہٹاتے ہوئے اس کی گردن کے عقب میں پہنچ گئے تھے۔ تب اس کی آنکھیں بند ہوگئیں اور میں نے آہستہ سے ہاتھ آگے بڑھا کر اس کی گردن پر رکھ دیئے اور پھر میرے ہوش و حواس پر تاریکی سی چھانے لگی۔ میں نے درحقیقت کوئی خون نہیں کیا تھا، کبھی نہیں کیا تھا۔ جتنے الزامات مجھ پر عائد کئے گئے تھے، ان میں میرا کوئی قصور نہیں تھا بلکہ وہ صرف بھوریا چرن کا عمل تھا لیکن اس وقت…! اس وقت میں پہلا خون کرنے جارہا تھا۔ اگر اس وقت کوئی کمزوری دکھائی تو کبھی کچھ نہیں کرسکوں گا۔ جو کرنا ہے، کر ڈالنا چاہئے۔ دیر کرنا کسی طور مناسب نہ ہوگا۔ وہ اسی طرح نڈھال ہوگئی تھی جیسے اسے یقین ہوگیا ہے کہ اب… اب… اب…! میں پوری طرح اس سے متاثر ہوگیا ہوں لیکن جیسے ہی میری انگلیوں کی گرفت اس کی گردن پر سخت ہوئی، اس نے چونک کر آنکھیں پھاڑ دیں اور درحقیقت دیکھنے کے اس انداز میں ایک دوسری ہی کیفیت تھی جیسے اسے میری نیت کا احساس ہوگیا ہو۔ اب ان آنکھوں میں خمار نہیں تھا بلکہ خوف تھا، تیزی تھی، تندی تھی۔ اس کے ہاتھ اوپر اٹھے لیکن میں نے دانت کچکچا کر اس کے نرخرے کو دبوچ لیا اور بدن میں جتنی قوت تھی، ایک لمحے میں ہاتھوں میں منتقل کردی۔ میری انگلیاں جیسے موم سے گزر رہی تھیں۔ میں نے اتنی قوت سے اس کا گلا دبایا کہ اس کی زبان باہر نکل آئی، آنکھیں ابل پڑیں۔ اس کا بدن صرف ایک لمحے کیلئے پھڑپھڑایا اور اس کے بعد میں نے اس کی آنکھوں میں بے رونقی دیکھی۔ زبان ہونٹوں سے کئی انچ باہر نکل آئی تھی، منہ کھلا ہوا تھا۔ چہرے پر دہشت منجمد ہوگئی تھی لیکن میری انگلیاں اس طرح اس کی گردن میں پیوست تھیں جیسے کوئی شکنجہ پوری قوت سے کس دیا جاتا ہے۔
مجھے ایک دم یہ احساس ہوا کہ اگر میں ان انگلیوں کو اس کی گردن سے ہٹانا بھی چاہوں تو یہ میری قوت سے باہر ہے۔ میں اسے دیکھتا رہا۔ اب اس کے وجود میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہیں تھی۔ چہرہ آہستہ آہستہ بھیانک ہوتا جارہا تھا البتہ جسمانی کیفیت پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔ رفتہ رفتہ میری کیفیت بھی اعتدال پر آنے لگی۔ اس یقین کے بعد کہ کشنا مرچکی ہے، میں نے اپنے ہاتھوں پر توجہ دی۔
انگلیوں کو بمشکل تمام اس کی گردن سے جدا کیا اور چند قدم پیچھے ہٹ گیا۔ میرے گردن چھوڑنے پر وہ بستر پر گر پڑی تھی۔ ایک بے جان وجود میرے سامنے تھا اور میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ درحقیقت یہ پہلا خون تھا۔ دل میں ایک لمحے کیلئے بہت سے وسوسے، بہت سے احساسات جاگ اٹھے۔ کہیں وہ حقیقت میں کشنا نہ ہو۔ رما رانی نے اس کی جو کیفیت بتائی تھی، اس میں دیوانگی کا خصوصی طور پر تذکرہ تھا اور پھر اتنے دن سے میں خود بھی اسے دیکھ رہا تھا۔ کشنا محبت میں پاگل ہوگئی تھی اور اس کے اندر کوئی بھی کیفیت، کسی بھی وقت پیدا ہوسکتی تھی۔ یہ جانا بوجھا خون میں نے پوری طرح ہوش و حواس کے عالم میں کیا تھا۔ یعنی یہ کہ مجھے اندازہ تھا کہ میں ایک انسانی خون کررہا ہوں لیکن اندرونی طور پر جو احساسات میرے ذہن میں موجود تھے، ان کا تعلق صرف میری ذات سے تھا۔ کیا یہ واقعی پورنی ہے اور اگر نہیں ہے تو کیا صرف اس بنیاد پر میں نے اس کا خون کر ڈالا ہے کہ اس کے ہاتھ میں سات انگلیاں تھیں۔ اس سے پہلے کبھی کشنا پر اتنا غور کرنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ اول تو میں نے اسے اتنی گہری نگاہوں سے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس وقت بھی جب میں رما رانی کے ہاں رتنا کی حیثیت سے مقیم تھا اور اب بھی اتنے دنوں میں ایک بار بھی میرے ذہن میں یہ تصور نہیں جاگا تھا کہ اسے بھرپور نگاہ سے دیکھوں۔ ہوسکتا ہے یہ انگلیاں… ہوسکتا ہے یہ انگلیاں… دفعتاً میرے دل کو دہشت کا ایک اور جھٹکا لگا۔ نگاہیں چونکہ کشنا پر ہی جمی ہوئی تھیں اور اس کے بارے میں سوچ رہا تھا اس لئے اس کے پپوٹوں کی وہ جنبش میری نگاہوں سے نہ بچ سکی۔ اچانک ہی اس نے پلکیں کھول دی تھیں۔
ایک لمحے کیلئے میرے بدن میں جھرجھری سی دوڑ گئی۔ میرا دل دہشت سے لرزنے لگا۔ کیا میں اسے ہلاک کرنے میں ناکام رہا ہوں، کیا میرے ہاتھوں کی قوت نے بھرپور طریقے سے میرا ساتھ نہیں دیا؟ میں اسے دیکھتا رہا۔ اس کی کھلی آنکھیں بڑی عجیب لگ رہی تھیں۔ پھر اس نے زبان بھی منہ کے اندر کرلی اور ہونٹ بند کرلئے لیکن اس کے بعد اس کے اٹھنے کا جو انداز تھا، اس نے مجھے کسی حد تک مطمئن کردیا کہ یہ سب… یہ سب کالا جادو ہے، گندے اور غلیظ اجسام! کشنا نے مسہری پر ہاتھ نہیں جمائے تھے بلکہ اس کا آدھا دھڑ مشینی انداز میں اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔ پھر مسہری سے بھی کھڑی ہوگئی تھی وہ! اس کے دونوں ہاتھ سیدھے تھے۔ گردن بالکل تنی ہوئی تھی، آنکھیں سامنے جمی ہوئی تھیں اور میں اس کی آنکھوں کی زد سے الگ تھا۔ پھر وہ اسی انداز میں دروازے کی جانب مڑی اور میں نے ایک اور منظر دیکھا۔ وہ قدم نہیں اٹھا رہی تھی بلکہ یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی چیز اسے دھکیلتی ہوئی لے جارہی ہو۔ اس کا رخ دروازے کی جانب تھا۔ دروازہ بند تھا لیکن جیسے ہی وہ دروازے کے قریب پہنچی، دروازہ کھل گیا۔ (جاری ہے)