Kala Jadu | Episode 36

914
میں نے پھرتی سے آگے قدم بڑھا دیئے۔ اب کم ازکم دل کو یہ اطمینان ہوگیا تھا کہ میں نے جو کچھ کیا ہے، وہ غلط نہیں ہے۔ باہر مکمل طور پر سناٹا اور خاموشی طاری تھی۔ رما رانی، لکشمی اور تمام افراد اپنی اپنی جگہ آرام کی نیند سو رہے تھے، اس ڈرامے سے بے خبر جو میرے کمرے میں ہورہا تھا۔ میں کشنا کا پیچھا کرتا ہوا صحن میں آگیا۔ تب میں نے وہاں بہت سے سوگواروں کو دیکھا۔ ٹوٹے پھوٹے سوگوار گردنیں جھکائے گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے درمیان ایک عجیب سی شے لکڑی کے تختوں پر رکھی ہوئی تھی۔ میں نے اس شے کو دور ہی سے پہچان لیا، یہ ارتھی تھی۔ ویسی ہی جیسے ہندو اپنے مردوں کو لے جانے کیلئے تیار کرتے ہیں۔ بانس لگے ہوئے تھے، درمیان میں چارپائی جیسی جگہ تھی۔ کشنا اس طرح آگے بڑھتی ہوئی ارتھی تک پہنچ گئی اور سوگواروں نے سر اٹھا دیئے۔ ان کے حلق سے مدھم مدھم آوازیں نکل رہی تھیں۔ کسی نے بھی گردن موڑ کر میری جانب نہیں دیکھا تھا۔ کشنا ارتھی پر بیٹھی اور پھر پائوں سیدھے کرکے لیٹ گئی۔ تب سارے سوگوار کھڑے ہوگئے۔ ان سب نے ارتھی اپنے کاندھوں پر اٹھائی اور مخصوص انداز میں لڑھکتے چلتے آہستہ آہستہ کچھ کہتے دروازے کی جانب بڑھ گئے اور تھوڑی دیر کے بعد وہ ارتھی دروازے سے باہر نکل کر غائب ہوگئی۔ غائب ہونے کی بات میں نے اس لئے کی کہ جب وہ دروازے سے باہر نکل گئے تب میں نے ہمت کرکے قدم آگے بڑھائے۔ میں اب ان واقعات کا اس قدر عادی ہوچکا تھا کہ کسی بھی مسئلے میں بہت زیادہ خوف و دہشت پیدا نہیں ہونے پاتی تھی۔ دروازے سے باہر جھانکا تو دور دور تک کسی کا نشان نظر نہیں آرہا تھا۔ یوں پوری جگہ سنسان پڑی ہوئی تھی اور کہیں بھی کسی کا پتا نہیں تھا۔ دل کو بڑا سکون محسوس ہوا۔ بڑا اطمینان ہوا کہ جو کچھ ہوا ہے، وہ غلط نہیں ہے۔ سات پورنیوں میں سے ایک پورنی ختم کردی تھی میں نے… حسب سابق یہ بھی ایک انتہائی انوکھا تجربہ تھا میرے لئے۔ اس کا مطلب ہے کہ پورنیاں ایسی شکلوں میں بھی میرے سامنے آسکتی ہیں جو میرے لئے باعث احترام ہوں، قابل قدر ہوں۔
میں ان سے اتنا متاثر ہوں کہ ان کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ہوں۔ ہاں یہی تو کہا گیا تھا مجھ سے کہ لغزش کی گنجائش نہیں ہے۔ لغزش ہوئی تو بیڑا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے غرق ہوجائے گا۔ یہ تو ایک مہلت دی گئی تھی مجھے میرا حساب کتاب کرکے اور میں اپنے پہلے قدم میں کامیاب رہا تھا۔ تب دل میں خوشی کی ایک لہر جاگی۔ آہ کاش… آہ کاش! میرا یہ قدم درست ہو اور میرے مستقبل کے راستوں کو استوار کرسکے۔ اپنے کمرے میں آکر بستر پر لیٹ گیا۔ یہاں کا ماحول بڑا بھیانک ہو رہا تھا۔ ابھی وقت ہی کتنا گزرا تھا۔ ایک ایک لمحہ خوف و دہشت کا حامل تھا لیکن اپنے آپ کو اس خوف سے آزاد کیا اور بستر کی چادر جھاڑ کر دوبارہ بچھائی۔ پھر اس پر لیٹ گیا۔ دروازہ پہلے ہی اندر سے بند کرلیا تھا۔ لیٹنے کے بعد بھی خیالات کے ہجوم سے کہاں چھٹکارا ملتا۔ اب صبح کو رما رانی کا سامنا ہوگا۔ کشنا کی تلاش کی جائے گی لیکن میں اس میں بہت سرگرمی کا مظاہرہ نہیں کروں گا۔ یہ تو میری خوش بختی تھی کہ وہ لوگ اسے اٹھا کر لے گئے تھے پھر دفعتاً ایک اور خیال میرے ذہن میں آیا اور اس خیال نے مجھے چونکا دیا۔ کیا وہ واقعی کشنا تھی؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ اصل کشنا اپنی جگہ موجود ہو اور پورنی یہ روپ دھار کر میرے پاس پہنچی ہو۔ مجھے ورغلانے کیلئے، مجھے مزید گندا کرنے کیلئے تاکہ میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بھوریا چرن کی غلاظت میں گرفتار ہوجائوں۔ اگر ایسا بھی ہے تو میرے خیال میں یہ ایک اچھی بات تھی۔ اس طرح کم ازکم ضمیر کو سکون ملے گا۔ کاش! وہ کشنا نہ ہو۔ کاش! وہ کشنا نہ ہو… میں نے سوچا اور اس کے بعد آنکھیں بند کرلیں۔ انتہائی کوشش کے باوجود نیند نہیں آئی تھی لیکن غنودگی نے طبیعت کسی قدر بحال کردی تھی۔ صبح کو میں نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ معمول کے مطابق اپنی ملازمت پر چلا جائوں گا۔ ہوسکتا ہے صبح ہی صبح اس بات کا انکشاف نہ ہو کہ کشنا گھر میں موجود ہے یا نہیں…! بے شک میرے دل میں یہ تجسس باقی رہے گا لیکن اچھا ہے سوچنے کیلئے پورا دن مل جائے گا۔ چنانچہ معمول کے مطابق تیاریاں کیں اور اس کے بعد باہر نکلا۔ میں جانتا تھا کہ میرے لئے ناشتہ تیار ہوگا۔ مالتی فوراً ہی
مجھے ناشتے کی خبر دے گی۔ دل میں فیصلہ کرلیا تھا کہ کسی سے کسی حیرت کا اظہار نہیں کروں گا اور اپنی ڈیوٹی پر پہنچ جائوں گا۔
کمرے سے باہر نکلا لیکن سامنے کوئی موجود نہیں تھا۔ میں نے ادھر ادھر نگاہیں دوڑائیں۔ ایک عجیب سی خاموشی، ایک عجیب سا سناٹا محسوس ہوا جیسے سب اپنے اپنے کمروں میں ہوں۔ ایسا نہیں ہوتا تھا بلکہ اس وقت تو زندگی کے معمولات ہنگاموں سے پُر ہوا کرتے تھے۔ سب ہی اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوا کرتے تھے۔ کیا ہوا ان لوگوں کو؟ کہیں رات کے واقعات کا پتا تو نہیں چل گیا۔ رما رانی اس بات سے ناواقف نہیں تھیں کہ کشنا سولہ سنگھار کررہی ہے۔ انہیں یقینی طور پر علم ہوگا کہ یہ سولہ سنگھار کس کیلئے کئے جارہے ہیں۔ رما رانی کے کمرے ہی کی جانب بڑھ گیا۔ دروازے پر آہستہ سے دستک دی مگر دستک ہی سے دروازہ تھوڑا سا اندر دب گیا۔ میں نے دروازہ کھول کر اندر نظر ڈالی اور آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ وہاں تو جھاڑو پھری ہوئی تھی۔ جو کچھ نظر آیا، اسے دیکھ کر تو دماغ پھٹنے کے قریب ہوگیا۔ کمرہ بالکل سنسان اور ویران پڑا ہوا تھا۔ دیواروں پر مکڑیوں کے جالے لگے ہوئے تھے، اندر سے سیلن کی بو آرہی تھی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے یہ کمرہ طویل عرصے سے نہ کھولا گیا ہو۔ سامان نام کی کسی چیز کا کوئی نشان نہیں تھا حالانکہ صرف چند گھنٹے پہلے، میں نے اس کمرے کو جگمگاتا ہوا دیکھا تھا۔
باقی باتیں تو اپنی جگہ لیکن دیواروں پر لگے ہوئے جالے، ادھڑا ہوا پلاسٹر اور پھیلی ہوئی ویرانی ناقابل یقین تھی۔ ایک دہشت بھری چیخ کے ساتھ دروازہ دھڑ سے بند کیا اور پیچھے ہٹ کر دوسرے کمرے میں پہنچ گیا۔ دل میں اب یہ احساس جاگ رہا تھا کہ وہاں بھی کچھ نہیں ہوگا اور یہی ہوا۔ پوری عمارت آسیب زدہ محسوس ہورہی تھی۔ کسی بھی کمرے میں زندگی کے آثار موجود نہیں تھے، کوئی بھی وہاں نہیں تھا۔ اپنے کمرے کی جانب آگے بڑھنے کی ہمت نہیں ہوئی اور خوف زدہ انداز میں وہاں سے پلٹا اور بھاگتا ہوا عمارت سے باہر نکل آیا۔ نہ جانے کیوں اس وقت مجھ پر خوف و دہشت کا اس قدر غلبہ ہوگیا تھا کہ عمارت سے نکلنے کے بعد بھی دیر تک دوڑتا رہا اور پھر اس میدان کے دوسرے سرے پر آکر دم لیا جس کے دوسری جانب یہ عمارت تھی۔ سر چکرا رہا تھا، ذہن میں سائیں سائیں ہورہی تھی۔ یہ سب… یہ سب کھیل تھا، یہ سب کالا جادو تھا، یہ سب سفلی علم تھا جس کی بنیاد پر وہ میری نگاہوں کے سامنے آئے تھے، اس کا مقصد ہے کہ رما رانی، رادھا، لکشمی جتنے بھی کردار سامنے آئے تھے، وہ اصل نہ تھے، وہ حقیقت نہ تھے بلکہ وہ سب جادوئی حیثیتوں کے حامل تھے۔ اُف میرے خدا… میرے خدا…! دل چاہا کہ کسی جگہ بیٹھ کر اپنے آپ کو معتدل کروں لیکن کوئی ایسی جگہ نظر نہیں آئی۔ تب خود کو سنبھال کر آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا۔ اس کیفیت میں حاجی صاحب کی حویلی پہنچوں گا تو کیا میری اس کیفیت کو شناخت نہ کرلیا جائے گا۔ بہرحال ایک تانگے میں بیٹھا اور اسے حاجی صاحب کی حویلی کا پتہ بتا دیا۔ سارے راستے اپنے آپ کو معتدل کرنے کی کوشش میں مصروف رہا تھا اور کچھ دیر کے بعد اس میں کامیابی بھی نصیب ہوگئی تھی۔ حاجی صاحب کے ہاں کوئی قابل ذکر بات نہیں ہوئی۔ خود حاجی صاحب میرے ساتھ دو تین جگہ گئے، حویلی واپس آئے۔ ان کے کارخانے میں نے دیکھے، بہت بڑا کام تھا۔ شام کو ایک اور شخصیت سے ملاقات ہوئی۔ دیو نما انسان یا انسان نما دیو تھا۔ شاندار لباس میں ملبوس، رنگ چمکدار سفید۔ حاجی صاحب نے جیبی گھڑی میں وقت دیکھتے ہوئے کہا۔
’’مسعود میاں! ابھی کچھ وقت باقی ہے۔ عظیم میاں کو مبارک پورہ پہنچا دو۔ گاڑی واپسی میں ساتھ لے جانا، صبح کو آجانا۔ دوسری گاڑی موجود ہے۔‘‘ میں نے گردن خم کردی۔ عظیم میاں صاحب تھے۔ میں نے ادب سے پچھلا دروازہ کھول دیا اور عظیم میاں اندر بیٹھ گئے۔ حاجی صاحب نے خود ہی کہا۔
’’عظیم میاں! راستہ بتاتے جانا۔‘‘ میں نے گاڑی اسٹارٹ کرکے آگے بڑھا دی۔ حویلی سے نکل کر کچھ دور ہی پہنچا تھا کہ عقب سے عظیم میاں کی گھبرائی ہوئی آواز سنائی دی۔
’’روکو… روکو…!‘‘ اور میں نے بریک لگا دیئے۔ ویسے عظیم میاں کی آواز بڑی عجیب تھی۔ ایسی خوفناک جسامت پر یہ آواز ناقابل یقین
تھی۔
’’جناب عالی…!‘‘ میں نے کہا۔
’’تمہیں نظر تو آتا ہے نا…؟‘‘ عظیم میاں بولے۔
’’جی…!‘‘ میں نے حیرانی سے کہا۔
’’مم… میرا مطلب ہے دیکھ تو سکتے ہو نا؟‘‘ عظیم میاں بدستور گھبرائی ہوئی آواز میں بولے۔
’’میں سمجھ نہیں پایا جناب…؟‘‘
’’ماموں میاں نے یہ کیوں کہا تھا کہ راستہ بتاتے جانا یعنی وہ جیسے اندھے کو سڑک پار کرائی جاتی ہے۔‘‘
’’اوہ۔‘‘ میں نے عجیب سی نظروں سے عظیم میاں کو دیکھا۔ اب کچھ کچھ سمجھ میں آرہے تھے۔ آواز کے ساتھ عقل بھی چربی کی تہوں میں پھنسی معلوم ہوتی تھی۔ بہرحال حاجی صاحب کے شناسا تھے بلکہ حاجی صاحب کو ماموں میاں کہہ رہے تھے، اس لئے احترام کرنا تھا۔ میں نے کہا۔ ’’وہ دراصل مجھے بنارس کے راستے نہیں معلوم۔ آپ جہاں تشریف لے جا رہے ہیں، وہاں کے راستے بتا دیجئے۔‘‘
’’اچھا… اوہ! میں تو ڈر گیا کہ نہ جانے ماموں میاں نے…! بعض اوقات بے وقوفی کی باتیں کرنے لگتا ہوں۔ میرے گھر کا راستہ تو بہت آسان ہے، یہاں سے چھپن ٹولہ چلو۔ اس کے بعد گوبھی بازار سے نکلتے ہوئے بانس منڈی پھر مبارک پورہ…! سیدھا سا پتا ہے۔‘‘
’’خوب، آگے بڑھوں…؟‘‘ میں نے مسکرا کر کہا۔
’’ایں…! نہیں… گاڑی ہی میں چلو…‘‘ وہ جلدی سے بولے اور میں نے ٹھنڈی سانس لے کر گاڑی آگے بڑھا دی۔ عظیم میاں دلچسپ شخصیت تھے۔ سیدھی سڑک پر گاڑی کی رفتار میں نے سست ہی رکھی تھی۔ کچھ دیر کے بعد وہ کہنے لگے۔ ’’تمہارا نام کیا ہے…؟‘‘
’’مسعود کہہ سکتے ہیں آپ!‘‘
’’گاڑی بڑی اچھی چلاتے ہو۔ دراصل مجھے تیز گاڑیاں چلتے دیکھ کر بڑا ڈر لگتا ہے۔ یہ بھی کوئی بات ہوئی، خواہ مخواہ سڑکوں پر ایسے دوڑے جا رہے ہیں جیسے پیچھے سے آفت آرہی ہو، دل اچھل اچھل پڑتا ہے۔ کیا نام بتایا ہے تم نے اپنا…! کیا کہہ سکتا ہوں میں تمہیں؟‘‘
’’مسعود…!‘‘ میں نے دوبارہ بتایا۔
’’بڑے اچھے آدمی لگتے ہو۔ ماموں میاں بھی بہت اچھے ہیں۔ تم ان کے پاس نوکری کرتے رہنا، تنخواہ میں بڑھوا دوں گا…‘‘
’’بہت بہت شکریہ عظیم میاں! حاجی صاحب آپ کے ماموں ہیں؟‘‘
’’ہاں… ہاں…! کیوں کیا ہوا؟‘‘ وہ حیران لہجے میں بولے۔
’’نہیں کچھ نہیں ہوا۔‘‘
’’اماں! سیدھے ہاتھ پہ کیوں نہیں مڑے، سیدھے کہیں اور جارہے ہوکیا؟‘‘
’’جی۔‘‘ میں نے گاڑی سائیڈ میں کرکے اسے بریک لگاتے ہوئے کہا۔
’’چھپن ٹولہ نہیں چلو گے کیا۔ وہیں سے تو ہمارے گھر کا راستہ آتا ہے۔‘‘
’’وہ سیدھی سڑک جو مڑ رہی تھی، اس پر جانا تھا…؟‘‘
’’تو اور کیا…؟‘‘
’’جی بہتر!‘‘ میں نے گاڑی کو تھوڑا سا آگے بڑھایا، سڑک سنسان دیکھ کر موڑا اور واپسی کا راستہ اختیار کرلیا۔ اس سیدھی سڑک پر مڑتے ہوئے میں نے کہا۔ ’’اب جدھر بھی مڑنا ہو، آپ ذرا مجھے پہلے بتا دیجئے۔‘‘
’’کہیں نہیں مڑنا بس سیدھے گوبھی بازار سے بانس منڈی کی طرف مڑیں گے۔‘‘
’’گوبھی بازار اس سڑک پر آتا ہے…؟‘‘
’’ہمیشہ سے یہیں ہے کوئی تبدیلی تھوڑی ہوئی ہے۔‘‘ عظیم میاں نے کہا اور میں نے گردن ہلا دی۔ عظیم میاں تھوڑی دیر خاموش رہے پھر بولے۔ ’’درشہوار نے تمہیں تو نہیں ڈانٹا کسی بات پر؟‘‘
’’جی؟‘‘ میں نے سامنے نگاہیں جماتے ہوئے پوچھا۔
’’بہت ڈانٹتی ہے۔ میری جگہ اگر وہ ہوتی تو غلط سمت گاڑی لے جانے پر تمہاری جان کو آجاتی۔ ویسے تو اس میں ساری باتیں بہت اچھی ہیں بس یہی ایک خرابی ہے۔ بس ذرا سی بات پر ڈانٹ دیتی ہے۔ اماں دیکھو اب اس وقت بھی کوئی بات تھی آخر بگڑنے کی مگر… مگر خیر سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ اللہ مالک ہے۔‘‘
عظیم میاں کی کوئی بات ابھی تک تو میری سمجھ میں نہیں آئی تھی سوائے اس کے کہ وہ عقل سے کچھ پیدل معلوم ہوتے تھے اور احمقانہ گفتگو کرتے تھے۔ بہرطور دلچسپ آدمی تھے۔ محترمہ درشہوار کا تذکرہ میں نے دوسری بار سنا تھا۔ ابھی تک حقیقی معنوں میں میری ان سے مڈبھیڑ نہیں ہوئی تھی۔ مہتاب علی نے بھی خصوصی طور پر انہی کی طرف سے ہوشیار کیا تھا لیکن ان میں سے کوئی نہیں جانتا تھا کہ میری شخصیت کیا ہے۔ میں تو اپنی ذات میں خوشی محسوس کرتا ہوں۔ دل میں جو احساس بیٹھ گیا تھا، وہ یہی تھا کہ میری جس قدر ذلت ہوگی اسی قدر میرے گناہوں میں کمی واقع ہوگی اور بخشش کے راستے آسان ہوجائیں گے۔
بہرحال گوبھی بازار اور اس کے بعد عظیم میاں کے بتائے راستوں پر چلتا ہوا ان کے گھر تک پہنچ گیا


اتارا اور واپس پلٹ پڑا۔ اب صحیح معنوں میں مشکل وقت آگیا تھا۔ سوچ تو دن بھر ہی ذہن پر طاری رہی تھی اور یہ فیصلہ کرنے سے قاصر رہا تھا کہ اب میں کیا کروں؟ جہاں تک رزق حلال کا تعلق تھا تو میرے خیال میں یہ نوکری میرے لئے انتہائی مناسب تھی۔ اس سے پہلے جو کچھ بھی کرنے کی کوشش کی تھی، اس میں واقعات بدل گئے تھے مگر حاجی صاحب کا گھرانہ کافی بہتر نظر آرہا تھا۔ پھر ایک پورنی کی ہلاکت کے بعد میرے اندر کچھ اعتماد بھی بیدار ہوگیا تھا۔ ان کا نظر آجانا شرط ہے، میں اپنی انتہائی کوششیں صرف کرکے گلوخلاصی حاصل کرنے کی کوشش کروں گا… پھر ذہن میں مہتاب علی آئے… وہی ایک گوشۂ عافیت تھا۔ بہت اچھے لوگ تھے۔ اگر مجھے وہاں پناہ مل جائے تو بڑا ہی اچھا ہو۔
ہمت کرکے مہتاب علی کے گھر کی جانب چل پڑا۔ گاڑی ان کے دروازے کے سامنے روک دی اور اسے مقفل کرکے مہتاب علی کے گھر کے دروازے پر دستک دی۔ دروازہ مہتاب علی صاحب نے ہی کھولا تھا۔ مجھے دیکھ کر بے حد خوش ہوگئے۔
’’آجائو، آجائو۔ اوہو! گاڑی میں آئے ہو…؟ خوب… خوب! آؤ اندر آئو میاں! تکلف کیسا۔‘‘ وہ مجھے اندر لے گئے۔ رخسانہ صاحبہ دوڑتی ہوئی آئیں اور بڑی محبت کا اظہار کرتے ہوئے میرا استقبال کیا۔ مہتاب علی صاحب نے بیٹھنے کی پیشکش کی اور بولے… ’’کل سے میں بھی اپنے کام پر آرہا ہوں۔ بہت سے معاملے گڑبڑ ہوگئے ہیں۔ ذرا حساب کتاب رکھنا پڑتا ہے حاجی صاحب کے اخراجات کا۔ انہوں نے مجھے پرائیویٹ طور پر اپنا خزانچی مقرر کیا ہے۔ وہیں اس حویلی میں میرا ایک چھوٹا سا دفتر بنا ہوا ہے۔ باہر کے کام باہر ہوتے ہیں لیکن سارے حسابات کی آخری جانچ پڑتال میرے سپرد ہے۔ ویسے میاں مسعود! ذرا بے تکلفی سے بتانا وہ جگہ کچھ مشکل تو محسوس نہیں ہورہی؟ ویسے تو سب ہی لوگ بہت اچھے ہیں، بس ذرا درشہوار اور جیسا کہ میں نے تمہیں بتایا کہ کبھی کبھی بیگم صاحبہ بھی اوقات سے باہر ہوجاتی ہیں۔ بس انہی دونوں کی طرف سے تھوڑا سا تردد ہے ورنہ باقی تو سب ٹھیک ٹھاک ہے۔‘‘
میں نے آنکھیں بند کرکے گردن ہلاتے ہوئے کہا… ’’آپ اس بارے میں بالکل مطمئن رہیں مہتاب علی صاحب! میں ایسی باتوں پر غور نہیں کرتا۔ ویسے بھی ابھی تک میری بیگم صاحبہ یا درشہوار سے مڈبھیڑ نہیں ہوئی ہے لیکن اگر کوئی ایسی ویسی بات بھی ہوئی تو ملازمت بہرحال ملازمت ہوتی ہے۔‘‘
مہتاب علی صاحب پرخیال نگاہوں سے مجھے دیکھنے لگے۔ پھر ایک ٹھنڈی سانس لے کر رخسانہ کی طرف رخ کرکے بولے۔ ’’رخسانہ بیٹی! جائو بھائی آئے ہیں، کچھ خاطر مدارات کا بندوبست کرو۔‘‘
’’نہیں مہتاب علی صاحب! براہ کرم پہلے میری ایک مشکل سن لیجئے گا اس کے بعد خاطر مدارات کی بات کریں۔‘‘
’’ارے تو پہلے کیوں نہ بتایا؟‘‘
’’ہمت کررہا تھا۔‘‘ میں نے کہا اور مہتاب علی صاحب عجیب سی نگاہوں سے مجھے دیکھنے لگے۔ پھر خاموشی سے میرے بولنے کے منتظر رہے۔ تب میں نے کہا۔ ’’میں کوئی پناہ گاہ چاہتا ہوں مہتاب علی صاحب! اور بے تکلفی سے یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ اس کیلئے مجھے آپ ہی کا سہارا درکار ہوگا۔ کوئی ایسی جگہ جہاں میں رات کو سو سکوں، ممکن ہو تو مجھے عنایت کردیں۔ کوئی صلہ دینے کی بات نہیں کروں گا۔ کیا دے سکتا ہوں میں آپ کو…! لیکن اگر کوئی خدمت سونپی گئی تو اسے پورا کرنا میں اپنی خوش بختی سمجھوں گا۔ دراصل اب میرے پاس رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔‘‘
مہتاب علی صاحب نے شاید اس لفظ ’’اب‘‘ پر چونک کر مجھے دیکھا تھا۔ صاحب ظرف انسان تھے۔ ایک لمحے خاموش رہے پھر بولے۔
’’مسعود میاں! بات دراصل یہ ہے کہ بہت سی باتیں دل میں ہوتی ہیں لیکن انہیں زبان پر لانا مشکل ہوجاتا ہے۔ ہم صرف چار افراد ہیں اس گھر میں اور ویسے بھی بدقسمتی سے دوسرے عزیزواقارب سے محروم ہیں۔ تفصیل میں جانا بیکار ہی ہوگا۔ یوں سمجھو کہ یہ گھر کسی نئی آواز کو ترسا ہوا ہے۔ اگر ہمیں یہ سعادت حاصل ہوجائے تو یہ تو ہماری خوش بختی ہے۔ تم سونے کیلئے ایک چارپائی کی جگہ کی بات کرتے ہو، میں کہتا ہوں میرے گھر کے کسی بھی فرد سے پوچھ لو، وہ تمہیں دل میں بٹھانے کو تیار ہوجائے گا۔ میاں! اس سے اچھی کوئی بات اور کیا ہوسکتی ہے جو تم نے اس وقت کہی۔ میں تم سے یہ سوال بالکل نہیں کروں گا کہ اچانک ہی تمہیں اس کی ضرورت کیوں پیش آئی کیونکہ یہ استفسار، تفتیش
حال تصور کیا جاسکتا ہے جبکہ اس کی یہاں چنداں ضرورت نہیں۔‘‘
’’دراصل میں…!‘‘ میں نے کہنا چاہا مگر مہتاب علی نے مجھے روک دیا اور بولے۔ ’’نہیں! تمہارا ذاتی معاملہ ہے۔ مجھے بس وہ ضرور بتا دینا جو تمہاری مشکل ہو اور اب ذرا اجازت دو یہ خوشخبری دوسروں کو بھی سنا دوں۔‘‘ مگر محترمہ رخسانہ ان سے پہلے اندر دوڑ گئی تھیں۔
میں گہری سانس لے کر سوچوں میں گم ہوگیا۔ اس بات پر کئی بار غور کرچکا تھا کہ یہ دنیا مجھ پر بہت تلخ نہیں ہوئی تھی۔ مصائب کے پہاڑ ٹوٹے تھے تو سہارا دینے والے بھی ملتے رہے تھے۔ اس طرح صورتحال متوازن رہی تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو دو ہی صورتیں ہوتیں یا تو زندگی ختم کرلیتا یا بھٹک جاتا اور ایمان کھو بیٹھتا لیکن بھوریا چرن کی وجہ سے جتنی صعوبتیں اٹھانی پڑی تھیں، اتنے ہی بے لوث محبت کرنے والے بھی ملے تھے۔
مہتاب علی کی بیگم کے ساتھ ان کی دوسری بیٹی بھی آگئی تھی۔
’’جی خوش کردیا تم نے مسعود میاں…! خدا تمہیں خوش رکھے بیٹے! ہم بے لوث، بے غرض لوگ ہیں۔ محبتوں کو ترسے ہوئے، ہمیں بس اپنائیت دے دینا، اس سے زیادہ ہماری طلب کبھی کچھ اور نہ ہوگی۔ تم سے وعدہ…! سر آنکھوں پر رہو مگر اپنوں کی طرح، کوئی تکلف نہ کرنا۔ اس گھر کا ہر گوشہ دیکھ لو جو پسند آئے، وہ تمہارا۔‘‘
’’چچی جان… کوئی رسمی جملہ عرض نہ کر پائوں گا بس اعتماد کا طلب گار ہوں۔ جو جگہ آپ میرے لئے مخصوص کریں گی، وہ مجھے پسند ہوگی۔‘‘
’’بھئی یہ قابل بحث مسئلہ نہیں ہے۔ بغلی کمرہ مسعود میاں کیلئے مناسب ہے۔ اس کا راستہ اندر بھی ہے اور باہر بھی بس اسے ٹھیک کرا دیں۔‘‘
’’فرحانہ… جائو رخسانہ کے ساتھ وہ کمرہ درست کردو۔‘‘ اس کے بعد باتیں ہوتی رہی تھیں۔ ضرورتوں کی تکمیل ہوئی تھی اور اس کے بعد مجھے تنہائی مل گئی تھی۔ بہت بڑے واقعے سے گزرا تھا مگر سکون تھا بلکہ خوشی تھی، البتہ یہ نہ سمجھ پایا تھا کہ رما رانی اور دوسرے لوگ کیا تھے۔ کشنا تو پورنی تھی۔ اس کی تصدیق اس وقت ہوگئی تھی جب اس کے بیر اس کی ارتھی اٹھا کر لے گئے تھے مگر وہ… کیا سب کچھ جال تھا، فریب تھا؟ آہ! اگر ایسا تھا تو کتنا انوکھا فریب تھا۔ کس طرح میرے جذبات سے کھیلا گیا تھا۔ کیسا انوکھا انتخاب کیا گیا تھا۔ سچ تو ہے بھوریا چرن تو میرے ہر پہلو سے واقف ہے۔ میری اس زندگی کا ایک ایک لمحہ اس کی نگاہ میں ہے، وہ آئندہ بھی ایسے کردار منتخب کرسکتا ہے جن کا مجھ سے گہرا تعلق ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوگا۔ ہمیشہ محتاط رہنا ہوگا۔
دوسری صبح مہتاب علی نے دروازہ بجا کر جگایا۔ اٹھ جائو مسعود میاں! ساڑھے سات بج گئے ہیں۔ میں ہڑبڑا کر اٹھ گیا۔ ناشتہ تیار تھا۔ خود مہتاب علی بھی تیار تھے۔ بولے۔ ’’تمہارے ساتھ ہی چلوں گا۔‘‘
’’جی… چلیں…!‘‘
’’تمہیں یہ نوکری ناپسند تو نہیں ہے؟‘‘
’’بالکل نہیں مہتاب علی صاحب۔‘‘
’’میاں چچا جان کہہ لیا کرو، ہم بھی کیا یاد کریں گے۔‘‘ مہتاب علی خوش دلی سے بولے۔
’’بہتر ہے۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’ورنہ وہ محترمہ طنز کریں گی ہم پر… بہت خوش تھیں اس بات پر کہ تم نے انہیں چچی جان کہہ کر مخاطب کیا۔ ہمارا خطاب بھی ضروری ہے۔‘‘
’’یقینا…!‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا اور ہم حویلی پہنچ گئے۔ یہاں کے معمولات میں کوئی تبدیلی نہیں تھی۔ حاجی صاحب سامنے ہی نظر آئے۔ ہم گاڑی سے اترے تو ہمارے پاس پہنچ گئے۔ سلام کا جواب دے کر مہتاب علی سے مخاطب ہوئے۔ ’’جی فرمایئے… کوئی کام ہے؟‘‘
’’دفتر جانا چاہتا ہوں، چابیاں مرحمت ہوجائیں۔‘‘
’’کیا جلدی ہے…؟ چہرہ دیکھ رہے ہو آئینے میں، نقاہت سے بھرپور ہے۔‘‘
’’محبت کی نگاہ ہے ورنہ اب بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘ تھوڑی دیر تک رد و قدح ہوتی رہی۔ اس کے بعد مہتاب علی کو دفتر کی چابیاں مل گئیں۔ میں گاڑی صاف کرکے اس کا تیل پانی چیک کرنے لگا تھا۔
پورے ایک ہفتے کے بعد مس درشہوار کی زیارت ہوئی تھی۔ ساتھ میں بیگم صاحبہ بھی تھیں۔ کار کے قریب آئیں اور مجھے دیکھتے ہوئے پوچھا گیا۔ ’’ڈرائیور کہاں ہے…؟‘‘
’’جی! میں حاضر ہوں۔‘‘
’’نور کہاں ہے…؟‘‘
’’حاجی صاحب کے ساتھ گیا ہے۔‘‘
’’تم نئے ڈرائیور ہو…؟‘‘ یہ سوال بیگم صاحبہ نے کیا۔
’’جی ہاں…!‘‘
’’ہوں… چلو…!‘‘ دونوں خواتین میں درشہوار بلاشبہ خوبصورت تھی۔ حسن کے معیار پر مکمل مگر چہرے ہی
مغرور اور نخوت سے بھری معلوم ہوتی تھی۔ ہونٹ حسین تراش کے مگر مسکراہٹ سے عاری!
’’کہاں جانا ہے بیگم صاحبہ…؟‘‘ میں نے پوچھا اور ایک جگہ کا نام لے دیا گیا۔ کچھ دیر خاموشی رہی پھر درشہوار کی آواز ابھری۔ ’’اس سے پہلے تانگہ ہانکتے رہے ہو؟‘‘
’’جی…؟‘‘
’’یہ گاڑی چلا رہے ہو یا تانگہ…! کار اس رفتار سے چلائی جاتی ہے؟‘‘
’’ٹھیک چلا رہا ہے شہوار…! تیز رفتاری اچھی نہیں ہوتی۔‘‘
’’میں نے آپ کو ساتھ چلنے کی دعوت کب دی تھی؟‘‘
’’اب تو میں چل ہی رہی ہوں۔‘‘
’’تو پھر کار میں چلئے… تانگے میں نہیں…! تیز چلائو گاڑی۔‘‘ کڑک کر کہا گیا۔ میں نے رفتار تیز کردی اور تیز اور تیز…!
’’ارے بھیا! ارے بیرا… ارے ارے … ارے…! خدا تمہیں نیکی دے۔ ارے مارو گے کیا…! ارے آہستہ کرو۔‘‘ بیگم صاحبہ کا دم نکلنے لگا اور میں نے رفتار سست کردی۔ مگر شکر ہے کوئی اور فرمائش نہیں ہوئی اور منزل آگئی۔ نیچے اترتے ہوئے در شہوار صاحبہ نے کہا۔ ’’لباس روزانہ تبدیل نہیں کرتے؟‘‘
’’جی نہیں…!‘‘
’’یہ تمہارا کالر سیاہ ہو رہا ہے بالکل… جب کبھی میرے ساتھ چلو تو اتنے صاف رہو کہ اعتراض کی گنجائش نہ رہے۔‘‘ دونوں ماں، بیٹیاں اندر چلی گئیں اور میں مسکرانے لگا۔ تو یہ ہیں مس درشہوار…!
حاجی صاحب کی حویلی اور مہتاب علی کا گھر، رخسانہ خاموش طبع اور شرمیلی فرحانہ…!ان تمام لوگوں کا ساتھ تھا۔ زندگی ایک ٹھہرائو اختیار کرنے لگی تھی۔ کوئی مشکل پیش نہیں آرہی تھی۔ مہتاب علی صحت مند ہوگئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر انسان کو زندگی میں ایک ایسا سہارا درکار ہوتا ہے جو اس کیلئے غیر متوقع ہو اور اگر اسے کوئی ایسا سہارا مل جائے تو اس کے وجود میں بہت سی تبدیلیاں آجاتی ہیں۔ میں ان کیلئے ایسا ہی سہارا ثابت ہوا ہوں۔ ایک اور دلچسپ شخصیت عظیم میاں کی تھی۔ حاجی صاحب کی مرحوم بہن کے بیٹے تھے۔ حاجی صاحب کی آنکھوں کا تارا…! حاجیانی بھی انہیں بہت چاہتی تھیں اور وہ درشہوار کو چاہتے تھے۔ کسی رازدار کیلئے بے چین تھے۔ ایک دن مجھ سے بولے۔ ’’تم نے محبت کی ہے؟‘‘
’’کس سے عظیم صاحب؟‘‘
’’کسی لڑکی سے…!‘‘
’’نہیں… کیوں؟‘‘
’’یار…! کسی ایسے تجربے کار آدمی سے ملائو جو بہت سی محبتیں کرچکا ہو۔‘‘
’’کیا کریں گے؟‘‘
’’بس! اس سے محبت کرنے کے طریقے سیکھوں گا۔‘‘
’’آپ کو نہیں آتے؟‘‘
’’بالکل نہیں آتے… پریشان رہتا ہوں۔ کبھی شہوار سے کچھ کہتا ہوں تو وہ ناراض ہوجاتی ہے۔ کوئی استاد مل جائے تو کچھ مشورہ کروں اس سے!‘‘
’’آپ مس درشہوار سے محبت کرتے ہیں؟‘‘ میں نے کہا اور عظیم میاں کا منہ حیرت سے کھل گیا۔ انہوں نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔ ’’تت… تمہیں کیسے معلوم…؟‘‘
’’جی…!‘‘ میں حیرانی سے بولا۔ ابھی انہوں نے میرے سامنے درشہوار کا نام لیا تھا۔ بہرحال مجھے ان کے بارے میں اچھی طرح اندازہ ہوچکا تھا چنانچہ میں نے بھی لطف لینے کی غرض سے کہا۔ ’’آپ کی آنکھوں سے پتا چلتا ہے۔‘‘
’’ایں! کیا آنکھوں سے یہ پتا چل جاتا ہے کہ کون کس سے محبت کرتا ہے؟‘‘
’’کیوں نہیں!‘‘
’’ابے تو تم خود ہی اچھے خاصے تجربہ کار ہو۔ پیارے بھائی! مجھے بتائو میں کیا کروں۔ تھوڑی بہت معلومات تو تمہیں ضرور ہوںگی اس بارے میں کہ محبت کیسے کی جاتی ہے، حالانکہ ماموں میاں اور ممانی جان مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ وہ یہی چاہتے ہیں کہ درشہوار سے میری شادی ہوجائے مگر ماموں میاں نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ بیٹی کی خواہش کے بغیر وہ اس کی شادی کہیں نہیں کریں گے، ہاں! اگر میں درشہوار کو اس شادی پر رضامند کرنے میں کامیاب ہوجائوں تو پھر کوئی مشکل نہیں ہوگی اور ماموں میاں میری شادی کردیں گے۔‘‘
’’افسوس! میں اس سلسلے میں بالکل واقفیت نہیں رکھتا ورنہ آپ کی مدد ضرور کرتا۔‘‘
’’تو پھر کسی ایسے آدمی کو تلاش کرو جو اس سلسلے میں کارآمد ہو۔ ویسے وہ نوشاد آدمی تو اچھا ہے مگر مجھے پسند نہیں۔ ہمیشہ میرا مذاق اڑاتا ہے۔‘‘
’’کون نوشاد؟‘‘
’’رشتہ دار ہی ہے ہمارا… بڑا یارباش آدمی ہے مگر ہے چار سو بیس! میں اس کی کسی بات پر بھروسہ نہیں کرسکتا۔ ہمیشہ الٹے سیدھے مشورے دیتا ہے مجھے۔ آدمی ویسے بہت اچھا ہے۔ تو تم میرے لئے کوشش کرو۔ اگر کوئی تجربہ کار آدمی مجھے دے سکو تو میں تمہیں انعام بھی دوں گا۔‘‘
’’جی بہتر ہے۔ میں کوشش کروں گا۔‘‘
میں نے جواب دیا مگر ہنسی آئی تھی مجھے! کچھ دل بھی لگ گیا تھا یہاں اور وقت اچھا خاصا گزر رہا تھا۔ پھر ایک دن درشہوار صاحبہ اپنی چند دوستوں کے ساتھ پکنک منانے کیلئے تیار ہوئیں۔ ہم دونوں ڈرائیوروں کو ہدایت کردی گئی تھی کہ گاڑیاں تیار رکھیں اور بچوں کو پکنک پر لے جائیں۔ ایک اور گاڑی بھی تھی جس میں کچھ نوجوان تھے۔ بزرگوں میں کوئی نہیں تھا۔ بہرطور تیاریاں ہوئیں اور ایک پُرفضا مقام پکنک کیلئے منتخب کرلیا گیا۔ بلاشبہ عمدہ جگہ تھی لیکن میں اس سے پوری طرح لطف اندوز نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ میری حیثیت ایک ڈرائیور کی تھی۔ درشہوار کی وہی کیفیت تھی۔ ناک چڑھی ہوئی، پیشانی پر بل…! پکنک کے مقام پر بھی اس کے مزاج میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ بہرحال ہم لوگ سیر و سیاحت کرنے لگے۔ کچھ فاصلے پر ایک بہت گہرا گڑھا تھا جو نیچے سے گھاس سے اَٹا ہوا تھا۔ کچھ سوکھے ہوئے درخت اس گڑھے میں اُگے ہوئے تھے اور کافی گہرائی تھی اس میں۔ اتفاق سے میں وہیں موجود تھا جب درشہوار اپنی تین دوستوں کے ساتھ پہنچ گئی۔ بھلا پکنک پر عظیم میاں کیوں نہ ہوتے۔ میں نے انہیں عجیب و غریب انداز میں درشہوار کے پیچھے لگے ہوئے دیکھا تھا۔ درشہوار کو شاید کوئی شرارت سوجھی۔ عظیم میاں زیادہ فاصلے پر نہیں تھے، میں بھی دور نہیں تھا، اس نے اچانک ہی عظیم میاں کی طرف دیکھا، اپنی ساتھی لڑکیوں سے کچھ کھسر پھسر کی اور ان کی جانب متوجہ ہوکر شاید انہیں آواز دی۔ عظیم میاں سر کے بل تو نہیں پہنچے تھے البتہ فوراً ہی اس کے قریب آگئے تھے۔ میں اتنے فاصلے پر تھا کہ ان کے درمیان ہونے والی گفتگو سن سکتا تھا۔ درشہوار، عظیم میاں سے کہنے لگیں۔ ’’عظیم صاحب عشق و محبت کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟‘‘ اس براہ راست سوال پر عظیم میاں کا منہ حیرت سے کھل گیا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے درشہوار کو دیکھنے لگے۔ پھر تھوک نگلتے ہوئے آہستہ سے بولے… ’’کچھ نہیں… میرا مطلب ہے کچھ نہیں!‘‘
’’اوہ! تو پھر آپ سے پوچھنے سے کیا فائدہ؟‘‘
’’نہیں… نہیں آپ ضرور پوچھئے، میں جواب دوں گا۔‘‘
’’یہ میری دوست ہما ہے۔ آپ اسے جانتے ہیں؟‘‘
’’کیوں نہیں۔‘‘
’’اس کا کہنا ہے کہ محبت کرنے والے جان پر کھیل جاتے ہیں، کیا یہ درست ہے؟‘‘
’’بالکل… بالکل!‘‘ عظیم میاں نے زور زور سے گردن ہلائی۔
’’میں نہیں مانتی۔ یہ کہتی ہے کہ اگر کوئی محبوبہ کسی محبت کرنے والے کو کوئی حکم دے تو وہ فوراً اس کی تعمیل کرتا ہے۔‘‘
’’بالکل… بالکل۔‘‘ عظیم میاں اسی انداز میں گردن ہلاتے ہوئے بولے۔
’’میں نہیں مانتی اگر میں آپ سے کہوں کہ آپ اس گڑھے میں کود جائیں تو کیا آپ کود جائیں گے؟‘‘ در شہوار بولی اور عظیم میاں گڑھے میں جھانکنے لگے۔ پہلے بوکھلائی ہوئی نظروں سے در شہوار کو دیکھا پھر ادھر ادھر …پھر بولے۔ کیوں نہیں…!
’’تو کود جایئے۔‘‘
’’اچھا! کوشش کرتا ہوں۔‘‘ وہ بولے، آنکھیں بند کیں اور گڑھے میں کود گئے۔ میں اچھل کر کھڑا ہوگیا۔ میں نے گڑھے میں جھانکا۔ عظیم میاں گھاس کے ڈھیر پر پڑے ہوئے تھے۔ سر پھٹ گیا تھا اور خون بہہ رہا تھا۔ میں نے ملامت آمیز نظروں سے درشہوار کو دیکھا۔ اس کی ساتھی لڑکیاں چیخنے لگیں، تمام لوگ جمع ہوگئے اور شوروغوغا ہونے لگا۔ عظیم میاں جیسے گوشت کے تودے کو اتنے گہرے گڑھے سے نکالنا بھی آسان کام نہیں تھا۔ نہ جانے کیا کیا جتن کئے گئے تھے تب کہیں عظیم میاں باہر گھسیٹے گئے۔ بے ہوش تھے، خوب چوٹیں لگی تھیں، ساری پکنک ایسی تیسی میں مل گئی۔ فوراً ہی واپسی کی تیاریاں کی گئیں۔ اصل بات صرف وہ لڑکیاں جانتی تھی یا میں اور درشہوار کو شاید اس کا احساس تھا۔ حویلی آئے، عظیم میاں اسپتال لے جائے گئے، ہوش میں آگئے پھر پٹیاں بندھوا کر واپس حویلی لے آئے گئے۔ عجیب سی فضا ہوگئی، سب پریشان تھے۔ درشہوار نے ایک لمحے کیلئے عظیم میاں کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا۔ اس وقت بھی وہ کمرے میں ان کے پاس تھی جب کوئی اور نہیں تھے۔ مجھے ایک دوا دے کر اندر بھیجا گیا اور جب میں اندر داخل ہوا تو درشہوار کی آواز سنائی دی۔ ’’وعدہ کرتے ہیں؟‘‘
’’ہاں…!‘‘
’’آپ کیا کہیں گے؟‘‘
’’یہی کہ پائوں پھسل گیا تھا۔‘‘ عین اس وقت درشہوار نے مجھے دیکھا اور چونک پڑی پھر اس کی آنکھیں سرخ ہوگئیں۔ (جاری ہے)