Kala Jadu | Episode 38

1307
’’تم جانور ہو بالکل!‘‘ وہ گرجی۔
’’یہ دوا بھیجی ہے حاجی صاحب نے! یہ تینوں گولیاں انہیں کھلا دیں۔‘‘
’’گدھوں کی طرح منہ اٹھائے گھس آئے۔ تم نے اندر آنے کی جرأت کیسے کی؟‘‘ نہ جانے کیوں مجھے ترس آگیا۔ میں نے اسے گھورا اور آہستہ سے بولا۔ ’’گولیاں لے لیجئے۔‘‘
’’میری بات کا جواب دو!‘‘
’’آپ بہری ہیں کیا… یہ گولیاں بھیجی گئی ہیں میرے ہاتھ! آپ یہ انہیں کھلا دیں یا آپ باہر نکل جائیں، میں کھلا دوں گا۔‘‘ درشہوار کا منہ حیرت سے کھل گیا۔ وہ ایک دم خاموش ہوگئی۔ مجھے گھورتی رہی پھر مڑی اور اس کمرے سے باہر نکل گئی۔ میں نے عظیم میاں کو گولیاں کھلائیں اور پھر باہر نکل آیا۔ عجیب سا ماحول ہوگیا تھا۔ حاجی صاحب نے مجھے حکم دیا کہ آج واپس نہ جائوں، نہ جانے کس وقت عظیم میاں کی وجہ سے میری ضرورت پیش آجائے۔ میں نے گردن جھکا دی۔ پکنک سے تو تھوڑی دیر کے بعد ہی واپسی ہوگئی تھی۔ سارا مزا کرکرا ہوگیا تھا پکنک پر جانے والوں کا!
وقت گزرتا رہا، رات ہوگئی۔ عظیم میاں کو تیز بخار ہوگیا تھا اور اہل خانہ شدید تشویش میں مبتلا ہوگئے تھے۔ سب ان کے کمرے میں جمع تھے۔ میں باہر موجود تھا اور آج کے واقعہ کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ ایک ملازمہ نے میرے قریب آکر کہا۔ ’’اندر آئو… تمہیں بلایا گیا ہے۔‘‘
میں اس کے ساتھ اندر داخل ہوگیا۔ ملازمہ میری رہنمائی کررہی تھی۔ ایک دروازے کے سامنے رک کر اس نے کہا۔ ’’اندر جائو۔‘‘ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔ اندر تیز روشنی تھی اور اس روشنی میں مجھے ایک عجیب الخلقت شے نظر آئی… چہرہ درشہوار کا تھا مگر اس کے پورے بدن پر بال اُگے ہوئے تھے۔ بہت سی ٹانگیں نظر آرہی تھیں۔ بدن کا انداز بدلا ہوا تھا۔ بس یوں لگتا تھا جیسے ایک بہت بڑی مکڑی کھڑی ہوگئی ہو…! وہ اپنی منحوس پیلی آنکھوں سے مجھے گھور رہی تھی۔
بھوریا چرن میرا پرانا دوست، یہ بھوریا چرن ہی کا رُوپ تھا مگر اس کی جھلک صرف ایک لمحے کیلئے نظر آئی، اس کے بعد وہ صرف درشہوار رہ گئی۔ اپنی اصل شکل میں آگئی تھی، شعلۂ جوالا بنی ہوئی اورآنکھوں میں سخت طیش کے آثار۔ پھر اس نے غرائی ہوئی آواز میں کہا۔
’’ڈرائیور تمہاری موت تمہیں اس جگہ لائی ہے، سمجھے۔ تمہارے لیے میں نے صرف یہی فیصلہ کیا ہے کہ تمہیں مر جانا چاہیے۔ میں نے زندگی میں کسی کو زخمی بھی نہیں کیا لیکن تم نے مجھے قتل جیسے بھیانک اقدام پر مجبور کر دیا ہے اور اب تم خاموشی سے مر جائو، بالکل خاموشی سے۔‘‘ اچانک درشہوار نے پستول مجھ پر تان لیا۔ یہ پستول پہلے سے اس کے ہاتھ میں چھپا ہوا تھا۔ میں ساکت کھڑا اسے گھورتا رہا۔ ابھی تو میرے ذہن سے یہ تاثر ہی ختم نہیں ہوا تھا کہ میں اسے بھوریا چرن کے رُوپ میں دیکھ چکا ہوں، وہ کچھ اور ہے کچھ اور…
درشہوار کا کچھ اور خیال تھا، شاید وہ سوچ رہی تھی کہ پستول دیکھ کر میں خوف سے تھر تھر کانپنے لگوں گا۔ دہشت سے میرا رنگ بدل جائے گا اور میں نہ جانے کیا اول فول بکنے لگوں گا۔ لیکن میں اسے پلک جھپکائے بغیر دیکھ رہا تھا۔
’’تم سمجھ رہے ہو میں گولی نہیں چلا سکتی۔‘‘ اس نے کہا۔ میں پھر بھی چپ رہا تو وہ پھر بولی۔ ’’تمہیں موت کا خوف نہیں ہے اپنی دلیری کا سکہ جمانا چاہتے ہو مجھ پر۔‘‘ اب وہ سو فیصدی درشہوار تھی۔ اگر وہ بھوریا چرن کا رُوپ ہے، اگر وہ پورنی ہے تو دیکھ لوں گا اسے۔ اس وقت سنبھلنا ضروری ہے۔
’’آپ نے مجھے بلایا ہے۔‘‘ میں نے پتھریلے لہجے میں کہا۔
’’ہاں۔‘‘ اس نے کہا۔
’’کوئی کام ہے مجھ سے؟‘‘
’’جو کچھ میں نے کہا ہے وہ تم نے نہیں سنا؟‘‘
’’سن لیا ہے۔‘‘
’’تم نے مجھے بہری کہا تھا؟‘‘
’’اُس وقت کہا تھا۔‘‘
’’میرے بارے میں تمہیں علم ہے کہ میں کون ہوں؟‘‘
’’اب ہوگیا ہے۔‘‘ میں نے معنی خیز لہجے میں کہا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ اس نے سخت لہجے میں سوال کیا۔
’’کچھ نہیں۔‘‘
’’مجھے تو… مجھے تو تم پاگل لگتے ہو۔‘‘
’’میں واپس جا سکتا ہوں۔‘‘
’’زندہ نہیں جا سکتے سمجھے۔ تم نے اپنی حیثیت سے تجاوز کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہاں لوگ میری صورت دیکھ کر ہکلانے لگتے ہیں اور… اور تمہاری یہ جرأت… تمہیں معافی مانگنا ہوگی۔‘‘
’’مجھے حاجی صاحب نے یہاں بھیجا تھا۔ ان کے حکم کی تعمیل مجھ
پر فرض تھی۔‘‘
’’میرا حکم ان سے افضل ہے۔‘‘
’’شاید… مجھے بتایا نہیں گیا۔‘‘
’’آج سن لیا ہے۔‘‘
’’سن تو لیا ہے لیکن اس پر عمل کرنے کا حکم حاجی صاحب ہی دے سکتے ہیں۔‘‘
’’اوہ… تم… تم… شاید تم مرنا ہی چاہتے ہو… میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی بالکل نہیں چھوڑوں گی۔ مجھے معلوم ہے تم… وہاں تم… پکنک پر ہمارا پیچھا کیوں کر رہے تھے۔‘‘
’’پیچھا؟‘‘
’’بالکل پیچھا کر رہے تھے۔ تم اس وقت وہاں کیوں موجود تھے جب عظیم صاحب گڑھے میں گرے تھے۔‘‘
’’مجھے علم نہیں تھا کہ وہ اتنا بڑا کارنامہ سرانجام دینے والے ہیں۔‘‘
’’تم نے ہماری باتیں چھپ کر سنی تھیں۔‘‘
’’جی سنی تھیں۔‘‘
’’اور اب تم وہ تمام باتیں حاجی صاحب کو بتانے کیلئے بے چین ہوگے، یہی بات ہے نا۔‘‘
میں نے چونک کر اسے دیکھا یہ باتیں تو عجیب تھیں مگر ان میں معصومیت تھی۔ اس گفتگو سے اس کی فطرت کا اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ ایک خود سر مغرور لڑکی تھی، ذہنی طور پر اس قدر برتر نہیں تھی جتنا ظاہر کرتی تھی۔ پھر مجھے جو کچھ نظر آیا کیا وہ صرف میرا واہمہ تھا۔ کوئی غلط فہمی ہوئی تھی مجھے… مگر سوچنے کا وقت نہ ملا۔ اس نے پھر اپنا سوال دُہرایا تھا۔
’’جی نہیں… میں کسی کو کچھ بتانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔‘‘
’’سچ بول رہے ہو…؟‘‘ اس نے مشکوک انداز میں کہا۔
’’جی ہاں۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’اگر نہ بھی بول رہے ہو تو تم میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اوّل تو ویسے بھی تمہاری بات پر کوئی تفتیش نہیں کرے گا پھر خود عظیم بھائی گواہی دیں گے کہ وہ خود گڑھے میں گرے تھے۔ تمہارے لیے میں اس سے بھی زیادہ گہرا گڑھا کھود دوں گی۔ میں کہہ دوں گی کہ یہ شخص مجھے بلیک میل کر رہا ہے۔‘‘
’’جی بہتر۔‘‘
’’تو اب یہاں کیوں مر رہے ہو؟‘‘
’’آپ مجھے قتل کرنا بھول گئیں شاید۔‘‘ میں نے کہا۔
’’دفعان ہو جائو، میں دو کوڑی کے نوکروں کو منہ نہیں لگاتی۔‘‘ اس نے جھلا کر کہا اور میں اس کے کمرے سے نکل آیا۔ اس کی گفتگو کا ایک لفظ بھی ذہن پر چسپاں نہیں ہوا تھا مگر اس کے کمرے میں داخل ہو کر مجھے اس کی جو شکل نظر آئی تھی اس نے مجھے بے چین کر دیا تھا۔ اس وقت تو میرے ذہن میں دُور دُور تک بھوریا چرن کا تصور نہیں تھا پھر درشہوار مجھے ایسی کیوں نظر آئی۔
یہ رات یہیں گزری۔ عظیم میاں کی وجہ سے سب پریشان تھے لیکن صبح کو وہ بہتر ہوگئے اور پھر بتدریج ٹھیک ہونے لگے۔ شام تک وہ اُٹھ کر بیٹھ گئے تھے۔ شہاب علی کو بھی ساری صورت حال معلوم تھی۔ ان میں چچی جان اور فرحانہ بھی حاجی صاحب کی کوٹھی میں آئے تھے اور دیر تک رہے تھے۔ بہرحال یہ ڈرامہ ختم ہوگیا۔ آج دن میں دو بار درشہوار نظر آئی تھی وہی انداز تھا، وہی پُرغرور تنی ہوئی گردن تھی۔ مجھے اس وقت کے واقعہ کی حقیقت پر خود شک ہوگیا، مگر نہ جانے ایسا کیوں ہوا تھا۔ رات کو معمول کے مطابق واپس آ گیا۔ کھانا وغیرہ کھایا اور آرام سے سو گیا۔ پچھلی رات بے چین رہا تھا اس لیے نیند آ گئی۔ رات کے دو بجے تھے جب آنکھ کھل گئی، پُرسکون نیند ٹوٹ گئی۔ نہ جانے کیوں… ذہن پوری طرح جاگ گیا تھا۔ چھت کو گھورتا رہا پھر بغلی کھڑکی کی طرف نگاہ اُٹھ گئی اور بری طرح اُچھل پڑا۔ کھڑکی میں ایک چہرہ نظر آیا تھا۔ خد و خال واضح نہیں تھے مگر آنکھیں روشن تھیں۔ یہ آنکھیں کینہ توزی سے مجھے گھور رہی تھیں۔ ان میں نفرت تھی اور یہ آنکھیں، یہ درشہوار کی آنکھیں تھیں، اُچھل کر بیٹھ گیا۔ ’’کون ہے؟‘‘ میرے حلق سے آواز نکلی اور آنکھیں فوراً غائب ہوگئیں۔ جھپٹ کر کھڑکی پر پہنچ گیا۔ یہ کھڑکی مکان کے عقب میں گلی میں کھلتی تھی۔ پرانے طرز کی موٹی سلاخیں لگی ہوئی تھیں۔ ان سے گزر کر کسی کا اندر آنا ناممکن تھا مگر وہ چہرہ، وہ آنکھیں… گلی کے انتہائی سرے پر ایک سایہ نظر آیا جو فوراً غائب ہوگیا تھا۔ یقیناً کوئی بھاگتا ہوا وہاں تک پہنچا تھا مگر کون… کیا درشہوار…؟ ان آنکھوں کو میں بھول نہیں سکتا تھا مگر درشہوار۔
واقعات مسلسل پُراسرار تھے۔ میرا احاطہ کئے ہوئے تھے۔ مہلت نہیں مل رہی تھی۔ سات پورنیوں میں سے ایک ہلاک ہو چکی تھی اور وہ سب کچھ رمارانی، رادھا اور کشنا… ابھی تک میری عقل کوئی فیصلہ نہیں کر پائی تھی۔ صبح کو سب کچھ معمول کے مطابق ہوا۔ ذہن میں کرید تھی، زیادہ تر درشہوار کا جائزہ لیتا رہا۔ اس کی آنکھیں غور سے
دیکھیں اور شبہ نہ رہا یہی آنکھیں میری نگراں تھیں مگر کیوں… درشہوار کیا واقعی مجھ سے خوف زدہ ہوگئی تھی اور مجھے ہلاک کرنا چاہتی تھی۔ ممکن ہے اس نے سمجھداری سے کام لیا ہو، اگر وہ اپنے کمرے میں واقعی مجھے گولی مار دیتی تو میرے قتل کا الزام اس پر آتا اور اب وہ میری تاک میں ہو۔ اس خیال پر مجھے ہنسی آ گئی۔ اگر وہ ایسا کرنا چاہتی ہے تو ضرور کر دے۔ یہ ناپاک زندگی ختم ہو جائے۔ میں تو دل سے چاہتا تھا، یہ بے مقصد زندگی مجھے بوجھ لگتی تھی۔ خود اپنا خاتمہ کر کے اپنی عاقبت خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔
شام کو کسی کام سے دُرشہوار کے کمرے کے سامنے سے گزرا۔ کھلے دروازے سے اندر نگاہ گئی تو اُچھل پڑا، وہ نماز پڑھ رہی تھی۔ جائے نماز پر بیٹھی وہ مقدس اور پاکیزہ لگ رہی تھی۔ آگے بڑھ گیا اب اس کے علاوہ اور کچھ نہیں سوچ سکتا تھا کہ وہ میرا وہم تھا صرف وہم… لیکن اس رات پھر اُلجھ گیا۔ کھڑکی بند کر کے سویا تھا۔ ٹھیک دو بجے تھے، آنکھ کھلی۔ کھڑکی سے وہی آتشی آنکھیں جھانک رہی تھیں۔ پورے ہوش و حواس کے عالم میں، میں نے وہ آنکھیں دیکھی تھیں۔ برق کی سی تیزی سے میں نے پلنگ سے کھڑکی کی طرف چھلانگ لگائی اور اسی تیزی سے وہ چہرہ وہاں سے غائب ہوا لیکن آج میں نے دیر نہیں کی۔ گلی طویل نہیں تھی پھر بھی وہ آدھی گلی عبور کر چکی تھی اور اس کے جسم کو دیکھ کر مجھے شبہ نہ رہا وہ درشہوار ہی تھی، سو فیصدی وہی تھی۔ دماغ گھوم کر رہ گیا یہ کیا اسرار ہے۔ حاجی صاحب کے گھر سے یہاں تک طویل فاصلہ تھا۔ وہ اتنی رات کو یہ فاصلہ عبور کر کے آتی ہے اور کھڑکی سے مجھے گھورتی ہے۔ کیوں… آخر کیوں… کیا چاہتی ہے وہ۔ اسے نماز پڑھتے دیکھ کر بھرم قائم ہوا تھا مگر اس وقت سب کچھ تہہ و بالا ہو گیا تھا۔
مہتاب علی صاحب سے بات کرنے کا موقع مل گیا۔ ’’اَرواحِ خبیثہ سے متعلق کچھ معلومات ہیں آپ کو چچا جان؟‘‘
’’نہ ہونے کے برابر… کیوں۔‘‘
’’ویسے ہی مجھے کچھ دلچسپی ہے۔‘‘
’’ارے… اس دلچسپی کی کوئی وجہ۔‘‘
’’کوئی خاص نہیں، بس کچھ مشاہدات۔‘‘
’’مثلاً۔‘‘
’’صرف ایک سوال… کوئی مسلمان لڑکی خواہ وہ کسی بھی حیثیت کی مالک ہو، ایک خبیث رُوح کی شکل میں نظر آئے، اس کی حرکات و سکنات پُراسرار ہوں، مگر بعد میں وہ نماز پڑھتی نظر آئے تو کیا کوئی گندی رُوح اس میں حلول کر سکتی ہے۔‘‘
’’مسلمان لڑکی۔‘‘ شہاب علی کچھ سوچنے لگے پھر بولے۔ ’’اس سلسلے میں میرا ایک سوال ہے۔‘‘
’’جی۔‘‘
’’تم نے خبیث رُوح کا تعین کیسے کیا۔‘‘
’’ایک ایسی شکل جس کے بارے میں علم ہو کہ وہ کالے جادو سے تعلق رکھتی ہے۔‘‘
’’کسی مسلمان لڑکی پر جن کا سایہ ہو سکتا ہے۔ اس پر سفلی عمل کر کے اسے معطل کیا جا سکتا ہے، اگر اس پر کسی جن کا سایہ ہو تو مختلف اشکال بن سکتی ہیں۔ بھیانک، خوفناک، دُوسروں کو ڈرانے کیلئے، دُور رکھنے کیلئے لیکن وہ کوئی ایسی شکل نہیں اختیار کرسکتی جس کے بارے میں علم یقینی ہو کہ اس کا تعلق کالے جادو سے ہے۔ اگر کسی بدبخت مسلمان نے ایمان کھو کر کالا جادو سیکھ لیا توہ دائرۂ اسلام سے تو اسی وقت خارج ہو گیا۔ نماز جیسی پاکیزہ شے کا تو تصور ہی اسے ہلاک کر دے گا۔ یہ تو اللہ سے رابطہ ہے اور مجال ہے کہ کوئی باطل قوت اللہ سے رابطہ کر سکے۔ اسی لمحے فنا ہو جائے گی، ہاں کوئی غلیظ قوت اس پر عارضی طور پر اثرانداز ہو سکتی ہے، جیسا کہ میں نے کہا کہ بہرحال سفلی علوم کے ذریعے کسی کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔‘‘ میں حیرانی سے مہتاب علی کی صورت دیکھنے لگا۔ وہ ایک ناواقف انسان تھے۔ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے لیکن اس وقت مجھے ایسا لگا تھا جیسے میرے تمام سوالات ان کے سینے میں اُتر گئے ہوں اور یہ جواب کسی اور کی زبان سے ان کے ہونٹوں سے پھوٹا ہو۔ اس جواب سے نہ صرف میری تشفی ہوئی تھی بلکہ اس جواب نے مجھے نئی فکر دی تھی، ہوشیار کیا تھا اور اب مجھے جو کچھ کرنا تھا وہ سوچ سمجھ کر کرنا تھا۔
عظیم میاں ٹھیک ہوگئے کوئی کہانی نہیں بنی۔ درشہوار سے کئی بار واسطہ پڑا، کچھ کھسکی ہوئی ہی لگتی تھی۔ مجھ سے تو کبھی سیدھے منہ بات ہی نہیں کرتی تھی بلکہ اگر اسے کبھی ڈرائیور کی ضرورت پیش آتی تو وہ دُوسرے ڈرائیور کو ترجیح دیتی تھی۔ بحالت مجبوری مجھے برداشت کر لیتی تھی۔ وہ بھی اگر دوسرے ساتھ ہوں تو، اکیلے وہ کبھی میرے ساتھ
نکلتی تھی لیکن میں اب بھی پریشان تھا۔ وہ مسلسل مجھے گھورتی تھی۔ کئی بار راتوں کو وہ مجھے نظر آئی، اس وقت جب اس کے آنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ کوئی تدبیر ایسی نہیں ہو سکی جس سے میں اسے پکڑ سکوں حالانکہ کئی راتیں میں نے مہتاب علی کے گھر کے پچھواڑے گلی میں گزاریں۔ ان راتوں میں وہ نہیں آئی۔ مجھے تجسس تھا۔ کئی بار میں نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ بہرحال وقت بہتر گزر رہا تھا۔ کم از کم یہاں عزت سے گزارہ ہو رہا تھا اور رزق حلال مل رہا تھا۔
مہتاب علی کے رشتے داروں کے ہاں ایک شادی کا اہتمام ہوا۔ بہت قریبی رشتہ تھا۔ ہم سب گھر والوں کے ساتھ وہاں مصروف ہوگئے۔ دن رات کا آنا جانا تھا۔ حاجی صاحب نے ان دنوں مجھے حویلی ہی میں رہنے کی ہدایت کر دی تھی اور میرے لیے انتظام بھی کر دیا
تھا۔ اس وقت اتفاق سے درشہوار کو میرے ساتھ حویلی آنا پڑا۔ تقریباً ساڑھے گیارہ بجے وہ کار میں آ بیٹھی۔
’’گھر چلو۔‘‘ اس نے کہا۔ ’’اور سنو راستے سے یہ دوا لینی ہے… بازار سے گزرنا۔‘‘ اس نے ایک پرچہ آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ میں نے پرچہ لے کر رکھ لیا اور کار آگے بڑھا دی۔ پھر بازار پہنچ کر میں نے کار ایک ڈرگ اسٹور کے سامنے روکی اور دوا لینے اُتر گیا۔ دوا لے کر واپس آیا تو وہ آگ بگولا ہو رہی تھی۔ ’’تم‘‘ اس نے چنگھاڑتے ہوئے کہا۔
’’جی؟‘‘ میں حیرانی سے بولا۔
’’دُوسرا ڈرائیور کہاں مر گیا۔‘‘
’’کسی اور کام سے گیا تھا۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’تم نے بتایا کیوں نہیں کہ یہ تم ہو۔‘‘
’’کس طرح بتاتا۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’میڈم مجھے حکم ملا تھا آپ کو گھر لے جائوں۔ آپ گاڑی میں آ بیٹھیں۔ میں نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ اب میں آپ سے یہ کہتا کہ یہ میں ہوں آپ میرے ساتھ نہ بیٹھئے۔‘‘
’’بکواس مت کرو… گاڑی آگے بڑھائو۔‘‘
’’جی…!‘‘ میں نے کہا اور گاڑی آگے بڑھا دی۔ مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ غصے سے کھول رہی ہے۔ کچھ دیر کے بعد اس نے کہا۔
’’تم آخر خود کو سمجھتے کیا ہو۔‘‘
’’جی صرف ڈرائیور۔‘‘
’’اور اس دن تم نے مجھے بہری کہا تھا۔‘‘
’’میں اس کیلئے آپ سے معافی مانگ چکا ہوں۔‘‘
’’مگر یہ بات کبھی نہیں بھول سکتی میں، نہ جانے کیوں میں نے تمہیں معاف کر دیا ورنہ… ورنہ۔‘‘ میں نے خاموشی اختیار کرلی۔ اس کے بعد حویلی آ گئی۔ وہ خود ہی دروازہ کھول کر اندر چلی گئی تھی۔ میں خاموش کھڑا سوچتا رہا۔ مجھے ہدایت ملی تھی کہ اس کے بعد میں حویلی میں آرام کروں۔ حویلی کے دُوسرے مکین شادی والے گھر میں تھے۔ میں اپنی رہائش گاہ پہنچ گیا۔ بستر پر لیٹ کر میں نے آنکھیں بند کرلیں۔ تقریباً پون گھنٹہ گزر گیا پھر دروازے پر دستک سنائی دی اور میں چونک پڑا۔
’’کون ہے؟‘‘
’’جمیلہ ہوں بھیّا۔‘‘
’’کیا بات ہے جمیلہ۔‘‘ میں نے دروازے پر آ کر پوچھا۔ جمیلہ گھر کی ملازمہ تھی۔
’’چھوٹی بٹیا نے کچھ دوائیں منگوائی تھیں تم سے، وہ کہاں ہیں۔‘‘
’’ارے… وہ تو گاڑی میں ہی رہ گئیں۔‘‘
’’منگوا رہی ہیں۔ گاڑی سے نکال کر انہیں پہنچا دو، کچھ طبیعت خراب ہے اس لیے شادی والے گھر سے آگئیں۔ مجھ سے یہی کہلوایا ہے۔‘‘
’’ابھی پہنچاتا ہوں۔‘‘ میں نے کہا۔ گاڑی کی چابی تکیئے کے سرہانے تھی۔ پلٹ کر چابی نکالی اور باہر آ گیا۔ ملازمہ جا چکی تھی اس میں میرا کوئی قصور نہیں تھا۔ اس نے روشنی میں مجھے دیکھتے ہی بکنا جھکنا شروع کر دیا تھا اور میں اسے اس کی منگوائی ہوئی دوائیں دینا بھول گیا تھا۔ وہ گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ کے برابر والی سیٹ پر رکھی رہ گئی تھیں۔ گاڑی سے دوائیں نکال کر میں اس کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ اندازہ تھا کہ وہ کیا کہے گی۔ دروازہ آہستہ سے بجایا اور اندر سے آواز سنائی دی۔
’’آ جائو۔‘‘ میں دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا۔ کمرے میں تیز روشنی تھی۔ وہ رات کے لباس میں ملبوس مسہری پر نیم دراز تھی اور مسکرا رہی تھی۔ ایک لگاوٹ بھری مسکراہٹ۔
’’آگے آئو۔‘‘ اس نے کہا اور میں آگے بڑھ گیا۔ ’’میری طرف دیکھو۔‘‘ اس کی نشہ آلود آواز اُبھری۔ میں نے نظریں اُٹھائیں اور جھکا لیں وہ کچھ عجیب نظر آ رہی تھی۔
’’جی۔‘‘ میں گھبرائے ہوئے لہجے میں بولا۔
’یہ ہاتھ میں کیا ہے۔‘‘
’’دوائیں۔‘‘
’’یہاں رکھ دو… آئو بیٹھو۔‘‘ میں نے اس کے اشارے پر دوائیں رکھ دیں اور پھر واپسی کیلئے مڑا مگر


جانے کب، نہ جانے کیسے وہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر میرے سامنے آگئی۔ مجھے احساس تک نہ ہوا تھا۔ ’’کہاں جا رہے ہو۔‘‘
’’مجھے کہاں جانا چاہیے۔‘‘
’’چلے جانا… گھر میں کوئی نہیں ہے۔ مجھے اکیلے ڈر لگے گا۔ آئو کچھ دیر بیٹھو آئو نا۔‘‘ اس نے کہا اور میرے دماغ میں غصّے کا طوفان اُمنڈ آیا۔ میں نے اسے زور سے جھٹکا دیا مگر اس نے میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا تھا۔ ’’امر کر دوں گی، سنسار میں تمہارے جیسا کوئی نہ ہوگا۔ سب تمہارے پیروں تلے بچھ جائیں گے، بس مجھے سوئیکار کر لو… مجھے سوئیکار کر لو۔‘‘ اس نے کہا اور میرا دل دہشت سے دھڑک اُٹھا۔ پورنی… دُوسری پورنی ایک مسلمان لڑکی کے رُوپ میں؟ میری نگاہیں بے اختیار اس کے ہاتھوں پر پڑیں مگر اس کے ہاتھوں میں صرف پانچ پانچ اُنگلیاں تھیں۔ صرف پانچ اُنگلیاں… میں ایک دم سنبھل گیا بڑی ڈھارس ہوئی تھی۔ اس نے پھر کچھ کہا اور مجھے گھسیٹنا چاہا مگر میرا زناٹے دار تھپڑ اس کے گال پر پڑا اور وہ چیخ کر نیچے گر پڑی۔
مجھے اب یقین ہوگیا تھا کہ وہ پورنی نہیں ہے اس لئے ہمت بڑھ گئی۔ میں نے نفرت بھرے لہجے میں کہا۔
’’میں نہیں جانتا یہ سب کیا ہے لیکن… لیکن مجھ میں ہمت ہے ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کی… تم مجھے زیر نہیں کر سکتیں۔ میں مالک کا وفادار کتّا ہوں، میں رزق حلال کھائوں گا سمجھیں۔‘‘
’’مجھے سوئیکار کر لو… مجھے…‘‘ وہ پھر اُٹھ گئی مگر اس بار میں نے اس کی گردن دبوچ لی تھی۔ مگر ایسے نہیں جیسے میں نے کشنا کی گردن دبوچی تھی۔ میں نے گردن پر ہلکا سا دبائو ڈال کر اسے بے ہوش کر دیا تھا۔ جب اس کا بدن بے سدھ ہوگیا تو میں نے اسے اُٹھا کر پلنگ پر ڈال دیا۔ سانس پھول گیا تھا، بُرا حال ہو رہا تھا۔ ایک آہٹ سی ہوئی اور میرا رُواں رُواں کانپ گیا۔ کوئی آ گیا اور اب… اب ایک دم گھوم کر دیکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ بڑی مشکل سے گردن گھمائی اور آنے والے کو دیکھا۔ بھوریا چرن تھا۔ ہنس رہا تھا۔ اپنی تمام شیطانی صفات کے ساتھ میرے سامنے تھا وہ۔
’’پورنی ماری ہے رے بہادر سورما۔ واہ رے مالک کے وفادار کتّے۔ ارے تے نے مالک کی بٹیا مار ڈالی اور خود کو کہے ہے مالک کا وفادار کتّا! ارے وہ پورنی نا ہے ہوشیار۔ تورے مالک کی لونڈیا ہے۔‘‘
’’بھوریا چرن ۔‘‘ میں نے سرد لہجے میں کہا۔
’’چھوڑیں گے نا تجھے حرام کھور۔ جیون کھراب کر دیا ہے تے نے ہمارا۔ تیرے جیون کو شانتی نا لینے دیں گے ہم وچن دیا ہے ہم نے بھی اپنے آپ کو۔‘‘
’’یہاں کیوں آیا ہے۔‘‘
’’تیرا رزق حلال بھنڈ کرنے… ہم تو رہیں ہی تیری ناک میں ہیں۔ سات پورنیوں میں سے ایک مار دی تے نے۔ ارے بدنصیب کسی سے پوچھ تو لیتا پورنی کا ہووے ہے۔ سارا جیون تیاگ دیں ہیں رشی منی ایک پورنی پانے کیلئے۔ ہم نے توکا سات دے دیں اور تے ان کا مارت ہے۔ ان کا دیا نہ کھائے ہے نہ پیئے ہے۔ کبھی مانگ تو سنسار میں کچھ ان سے۔ مہاراجہ بنا دیں گی تجھے، پر تیرا نصیب ہی بھنڈ ہے۔ کتّے جیسی درگت ہوگئی تیری پر اب بھی دھرم کی لاٹھی اُٹھائے ہوئے ہے۔ ایک پورنی مار دی تے نے۔ ہم سمجھ گئے کسی نے توکا بھٹکائی دیا تب ہم نے یہ سوچا کہ اب توکا سبق دئی ہیں۔ ہم نے تیرے مالک کی لونڈیا کو بگاڑا اور تے سمجھا او پورنی ہے۔ اب بیٹا آگے دیکھ ملے گا توکا رزق حلال… سب مار مار کر تیرا بھرکس نہ نکال دیں تو ہمارا نام نا ہے۔ کھا رزق حلال…!‘‘ وہ مڑا اور باہر نکل گیا۔
میرا دل دھاڑ دھاڑ کر رہا تھا۔ تیزی سے دروازے سے نکل کر دیکھا وہ غائب ہو چکا تھا۔ واپس درشہوار کے پاس آیا۔ میرا اندازہ دُرست نکلا تھا۔ آہ بھوریا چرن کو یہ معلوم نہیں تھا کہ میں پورنیوں کی پہچان جانتا ہوں، وہ یہ بات نہیں جانتا تھا۔ درشہوار گہری گہری سانسیں لے رہی تھی۔ اسے سنبھال کر لٹایا۔ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔ خدایا تیرا شکر ہے۔ اللہ تیرا احسان ہے۔ میں نے دل میں کہا۔ اس وقت باہر شور سنائی دیا اور پھر دروازے سے بہت سی آوازیں اُبھریں۔ حویلی کے ملازم تھے۔
’’کیا بات ہے… کیا شور تھا ڈرائیور صاحب…‘‘ ایک ملازم نے مجھے مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’شور، کہاں…؟‘‘ میں نے حیرت سے کہا۔
’’چھوٹی بٹیا کیوں چیخ رہی تھیں۔‘‘
’’وہ تو ایک بار بھی نہیں چیخیں۔ تمہیں دھوکا ہوا ہے لیکن وہ شاید بے ہوش ہوگئی ہیں۔‘‘
’’بے ہوش؟‘‘ بہت سی آوازیں
اُبھریں۔
’’ہاں۔‘‘
’’تم یہاں کیا کر رہے ہو۔‘‘ ایک معمر ملازم نے پوچھا۔
’’یہ دوائیں لے کر آیا تھا۔‘‘
’’اس وقت۔‘‘
’’ہاں میں تو اپنے کمرے میں تھا۔‘‘ جمیلہ نے کہا تھا کہ چھوٹی بی بی دوائیں منگوا رہی ہیں۔ میں گاڑی سے دوائیں لے کر یہاں آیا تو انہیں بے ہوش دیکھا۔
’’مگر ہم ان کے شور کی آوازیں سن کر آئے ہیں۔‘‘
ملازم عورتیں درشہوار کے پاس آ کر اسے ٹٹولنے لگیں۔ ملازموں کو مجھ پر شک ہوگیا تھا۔ معمر ملازم حیات خان نے دو ملازموں سے کہا کہ وہ شادی والے گھر جا کر درشہوار بی بی کے بے ہوش ہونے کی اطلاع دیں اور حاجی صاحب کو بلا لائیں۔ وہ دونوں چلے گئے تو ملازم عورتوں کو درشہوار کی خبرگیری کرنے کیلئے کہا اور مجھ سے بولا۔
’’آئو… باہر آ جائو…‘‘ میں باہر نکل آیا۔ تب وہ مجھ سے سے بولا۔ ’’ڈرائیور صاحب برا مت ماننا۔ میں بیس سال سے اس گھر کا نمک کھا رہا ہوں۔ بڑا فرض ہے مجھ پر۔ اس حویلی کی حفاظت کا کام مجھے ہی دیا گیا ہے۔ ڈرائیور صاحب، ہمیں چھوٹی بٹیا کی چیخیں سنائی دیں۔ ہم یہاں پہنچے تو وہ ہمیں بے ہوش ملیں اور تم ان کے کمرے میں، ہمیں تم پر شک ہوگیا ہے۔ اس لیے جب تک مالک نہ آ جائیں تم ہمارے ساتھ رہو گے کہیں جائو گے نہیں۔‘‘
’’میں کہیں نہیں جا رہا حیات بابا۔‘‘
’’اپنے کمرے میں چلو۔‘‘ حیات خان نے کہا اور میں خاموشی سے اپنے کمرے میں آ گیا۔ حیات خان نے دُوسرے ملازموں کی ڈیوٹی لگائی۔ کچھ کو میرے کمرے کے سامنے میری نگرانی کے لیے چھوڑا کچھ کو باہر ڈیوٹی پر لگا دیا اور پھر خود کمرے میں آ گئے۔
’’جی حیات بابا…!‘‘ میں نے انہیں بیٹھتے دیکھ کر کہا۔
’’کچھ نہیں ڈرائیور صاحب۔‘‘
’’آپ یہاں کیسے بیٹھے ہیں؟‘‘
’’وہ بس…! ذرا بڑے مالک آ جائیں۔‘‘
’’آپ فوراً باہر چلے جایئے۔ اس کمرے کے دروازے کے باہر بیٹھ کر آپ اپنا حق نمک ضرور ادا کریں، مجھے اعتراض نہیں۔‘‘
’’تم برا مان گئے ڈرائیور صاحب۔ دراصل…!‘‘
’’حیات خان، فوراً باہر نکل جائو۔‘‘ میں نے کرخت لہجے میں کہا اور حیات خان اُٹھ گئے۔ مجھے ان کا یہاں رُکنا بہت بُرا لگا تھا۔ ان کے باہر نکلنے کے بعد میں نے دروازہ بند کر لیا تھا۔ اور پھر میں اس بارے میں سوچنے لگا۔ بڑی خطرناک چال چلی تھی بھوریا چرن نے۔ خدانخواستہ اگر میں اسے پورنی سمجھ کر ہلاک کر دیتا۔ بڑا رحم ہوا تھا مجھ پر، اوّل تو مجھے پورنیوں کی اہم شناخت بتا دی گئی تھی۔ دوم مہتاب علی سے ہونے والی گفتگو نے مجھے سوچنے کا موقع دیا تھا۔
بستر پر لیٹ گیا۔ سوچتا رہا پھر نیند آ گئی۔ صبح ہی آنکھ کھلی تھی۔ رات کے واقعات یاد آئے اور دل دھک دھک کرنے لگا۔ اندازہ لگانے کیلئے دروازے پر پہنچا۔ دروازہ کھول کر باہر جھانکا، کوئی نہیں تھا۔ مگر بہت دُور کچھ فاصلے پر جمیلہ کی جھلک نظر آئی تھی۔ منہ ہاتھ وغیرہ دھو کر فارغ ہوا تھا کہ جمیلہ تیزی سے آتی نظر آئی۔ میرے قریب پہنچ کر بولی۔
’’بڑے مالک بلا رہے ہیں ڈرائیور صاحب…!‘‘ حاجی فیاض صاحب اپنے کمرے میں تھے۔ ایک سمت حیات خان کھڑا ہوا تھا۔ میرے سلام کا جواب دے کر حاجی صاحب بولے۔
’’مسعود میاں۔ وہ رات کو کچھ غلط فہمی ہوگئی تھی حیات خان کو۔ تم سے کچھ بدتمیزی کر بیٹھے یہ۔‘‘
’’درشہوار بی بی کی طبیعت اب کیسی ہے۔‘‘ میں نے بے اختیار پوچھا۔
’’ٹھیک ہے، کوئی بات بھی نہیں تھی دراصل وہ زیادہ رش سے گھبرا جاتی ہے۔ اعصابی دبائو کا شکار ہو گئی تھی۔ سب بالکل ٹھیک ہے۔‘‘
’’جی!‘‘
’’حیات خان رات کے واقعے پر شرمندہ ہیں تم سے معافی مانگنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’کوئی بات نہیں ہے۔ ان کا شک دُور ہوگیا۔‘‘
’’جی ڈرائیور صاحب ہم شرمندہ ہیں۔‘‘
’’میں نے آپ کی وفاداری کا بُرا نہیں مانا۔‘‘
بات ختم ہوگئی، شادی کے ہنگامے ابھی باقی تھے۔ وہ دن گزر گیا دُوسرے دن دوپہر کو درشہوار نے مجھے بلایا۔ اس وقت بھی تمام لوگ وہیں گئے ہوئے تھے۔ میں نے دو چکر لگائے تھے اور آخر میں مجھے شام کو درشہوار کو لے کر جانا تھا جس کیلئے ہدایت کر دی گئی تھی۔ میں اس کے کمرے میں پہنچ گیا۔
’’جی چھوٹی بٹیا؟‘‘
’’یہ پتہ رکھ لو مسعود۔ تھوڑی دیر کے بعد یہاں چلے جانا ، میری دوست صفیہ تمہارے ساتھ یہاں آ جائے گی۔ شام کو اسے ہمارے ساتھ جانا ہے۔‘‘
میں نے کاغذ لے لیا۔ ’’پڑھ سکتے ہو…؟‘‘
’’جی ہاں…!‘‘
’’کوئی پونے گھنٹے
جانا۔‘‘
’’جی بہتر…!‘‘ میں بیٹھا تو اس نے مجھے پھر پکارا۔
’’سنو…!‘‘ اور میں رُک گیا۔ ’’جلدی ہے جانے کی…؟‘‘
’’جی نہیں۔‘‘
’’مجھ سے بات کرنا پسند کرو گے؟‘‘ اس نے عجیب سے لہجے میں پوچھا اور میں چونک کر اسے دیکھنے لگا۔ درشہوار کا لہجہ بدلا ہوا تھا۔
’’حکم دیجئے…؟‘‘
’’میں نے تم سے بہت بدتمیزی کی ہے۔ بہت سختی سے پیش آئی ہوں تمہارے ساتھ، مجھے اس پر شرمندگی ہے۔ میں تم سے معافی مانگنا چاہتی ہوں مسعود…!‘‘
’’نہیں چھوٹی بی بی۔ آپ میرے مالک کی بیٹی ہیں۔‘‘
’’مگر تم فرشتہ صفت انسان ہو۔ مسعود میری کیفیت کے بارے میں کچھ بتائو گے۔‘‘
’’جی؟‘‘
’’پلیز مجھے بتائو، مجھے ایک ایک لمحہ یاد ہے۔ مجھے یاد ہے میں تم سے کیا کہہ رہی تھی۔ میں بہت بے باک ہوگئی تھی مسعود۔ مگر خدا کی قسم میں اپنے حواس میں نہیں تھی۔ مجھے یوں لگتا تھا جیسے کوئی انجانی قوت میرے وجود میں داخل ہوگئی ہو۔ وہی مجھ سے یہ سب کہلوا رہی ہو۔ میں اس کے ہاتھوں بے بس ہوگئی تھی۔ کیا تم میری باتوں پر یقین کر سکو گے؟‘‘
’’کیوں نہیں۔ آپ سچ کہہ رہی ہوں گی۔‘‘
’’اس نے مجھے بے بس کر دیا تھا مگر مسعود تم نے مجھے بچا لیا۔ خدا تمہیں اس کا اَجر دے۔‘‘
’’اب آپ ٹھیک ہیں؟‘‘
’’ہاں! وہ شرمندہ لہجے میں بولی، پھر اس نے کہا۔ ’’تم نے کسی سے اس کا تذکرہ تو نہیں کیا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’آئندہ بھی مت کرنا، تمہارا احسان ہوگا مجھ پر۔‘‘
’’آپ بالکل اطمینان رکھیں۔‘‘
’’تم بہت شریف انسان ہو، تم نے میرا ہر راز راز رکھا ہے۔ بس میری طبیعت بہت چڑچڑی ہے۔ نہ جانے کیوں ہر بات پر بہت جلد غصہ آ جاتا ہے۔ لوگ بھی تو مجھے چڑاتے ہیں۔ تم عظیم کے بارے میں جانتے ہو؟‘‘
’’کیا…؟‘‘
’’مجھے اس سے منسوب کیا جاتا ہے۔ حاجی صاحب کی عقل خبط ہوگئی ہے، وہ گوشت اور ہڈیوں کا پہاڑ۔ عقل سے عاری انسان میری تقدیر کا مالک بنایا جا رہا ہے۔ مجھے ساری زندگی کے عذاب میں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ کیسے دماغ پر قابو رکھوں، یہ تصور ذہن میں آتا ہے تو خون خرابہ کرنے کو جی چاہتا ہے۔ دیکھو نا کیسی زبردستی ہے، میرے سانس بھی مجھ سے چھینے جا رہے ہیں۔ دل چاہتا ہے کہ کسی طرح وہ اس دُنیا سے چلا جائے یا میں۔‘‘
’’میرا خیال ہے حاجی صاحب آپ پر اپنا فیصلہ مسلط نہیں کریں گے۔‘‘
’’ارے تم انہیں نہیں جانتے، بڑے عجیب و غریب انسان ہیں وہ۔‘‘
’’خدا کرے ایسا نہ ہو۔‘‘
’’میرا دل ہلکا ہوگیا ہے تم سے معافی مانگ کر، مجھ سے تمہارے بارے میں پوچھا گیا تھا۔‘‘
’’کیا…؟‘‘
’’اس بے وقوف حیات خان نے تم پر شک کیا تھا، میں نے خود بھی اسے خوب ڈانٹا ہے، کچھ ضرورت سے زیادہ ہوشیار بنتا ہے وہ۔‘‘
’’وفادار ہے۔‘‘
’’جانوروں سے زیادہ، ارے ہاں مسعود تم کتنے لکھے پڑھے ہو؟‘‘
’’ضرورت کے مطابق۔‘‘
’’لکھنے پڑھنے کا کام نہیں کر سکتے؟‘‘
’’کر سکتا ہوں۔‘‘
’’پھر ڈرائیور کیوں ہو؟‘‘
’’یہ بھی کام تو ہے۔‘‘
’’تم نے اپنی خوشی سے اپنایا ہے؟‘‘
’’حاجی صاحب نے حکم دیا تھا۔‘‘
’’میں ان سے بات کروں گی، اب تم جائو ایک بار پھر تمہارا شکریہ۔‘‘ میں باہر آ گیا، مجھے خود بھی خوشی تھی۔
شادی کے ہنگامے ختم ہوگئے، زندگی معتدل ہوگئی مجھے درشہوار سے ہونے والی گفتگو یاد بھی نہ رہ گئی تھی لیکن حاجی صاحب نے مجھے بلایا۔
’’مسعود تم کھاتے وغیرہ دیکھ سکتے ہو۔ کاروباری پارٹیوں سے مل سکتے ہو؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’آپ جو حکم دیں گے کروں گا۔‘‘
’’نہیں میرا مطلب ہے تم پڑھے ہوئے ہو نا۔‘‘
’’جی ہاں۔‘‘
’’کمال ہے اس بات پر غور نہیں کیا تھا میں نے، مہتاب علی بھی خوب ہیں کل میں تمہیں دفتر لے جائوں گا۔‘‘ دُوسرے دن وہ مجھے اپنے ساتھ دفتر لے گئے۔ اپنے منیجر نوشاد مجید کو بلایا اور مجھے اس سے ملواتے ہوئے کہا۔ ’’نوشاد میں انہیں تمہارا اسسٹنٹ بنا رہا ہوں، انہیں پورا کام سکھائو۔ تم بہت دنوں سے ایک اسسٹنٹ کی فرمائش کر رہے تھے۔ نوشاد کوئی 35 سال کی عمر کا خوش شکل آدمی تھا، بعد میں وہ خوش مزاج بھی ثابت ہوا۔ اب میں اس کے ساتھ ہی بیٹھتا تھا۔ دفتر کے بہت سے کام میں نے سنبھال لیے تھے۔ میری تنخواہ میں اضافہ کر دیا گیا تھا اور سب سے زیادہ مہتاب علی اس بات سے خوش ہوئے تھے۔ کوٹھی سے اب کوئی رابطہ نہیں رہا تھا اس لیے ادھر بالکل جانا نہیں ہوتا تھا البتہ یہ بھی جانتا تھا کہ یہ سب کچھ
مہربانی سے ہوا ہے۔ اس دن حاجی صاحب خاص طور سے دفتر آئے انہوں نے نوشاد سے کہا۔
’’نوشاد… وہ رانی مہاوتی کی ساڑھیاں بالکل تیار ہوگئی ہیں۔‘‘
’’جی حاجی صاحب… رگھبیر نے مجھے آج ہی خبر دی ہے۔‘‘
’’تم نے دیکھ لیں؟‘‘
’’ابھی نہیں۔‘‘
’’کل صبح کارخانے چلے جائو، آخری نگاہ ڈال کر انہیں پیک کرا دو، اور پھر بھٹنڈہ چلے جائو، رانی صاحبہ کا آدمی دو بار آ چکا ہے اب دیر نہیں ہونی چاہئے۔‘‘
’’جی حاجی صاحب۔‘‘
’’بلکہ مسعود کو بھی ساتھ لے جائو، ایسے کاموں سے ان کی واقفیت ضروری ہے۔‘‘
’’بہت بہتر۔‘‘ حاجی صاحب کے جانے کے بعد نوشاد نے کہا۔ ’’چلو اچھا ہے سیر و تفریح بھی ہو جائے گی، بہت دن سے بنارس سے باہر جانا نہیں ہوا۔‘‘
’’جی نوشاد صاحب۔‘‘
’’یار ایک تو تمہاری یہ سعادت مندی سے مجھے چڑ ہے۔ میں تمہیں دوست بنانا چاہتا ہوں مگر تم صرف ماتحت بننے پر تلے ہوئے ہو۔‘‘
’’ماتحت تو میں ہوں نوشاد صاحب۔‘‘
’’گویا دوست نہیں بن سکتے؟‘‘
’’یہ آپ کی مہربانی ہے۔‘‘
’’تو برادرم یہ مہربانی قبول کر لو۔ ویسے دورے بڑے دلچسپ ہوتے ہیں، ہمارا مال تو پورے ہندوستان میں سپلائی ہوتا ہے مگر ایسی رانیوں اور راجکماریوں کے آرڈر بھی آتے رہتے ہیں جو چاہتی ہیں کہ ان کے لباس پورے ہندوستان میں منفرد ہوں اوریہ ڈیزائن صرف ان کیلئے بنائے جائیں۔ آنکھیں بند کر کے قیمت دیتی ہیں، ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے جو عیش ہوتے ہیں وہ منافع میں۔‘‘(جاری ہے)