Saturday, July 13, 2024

Kala Jadu | Episode 39

’’کیا…؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’ساڑھیاں کم دیکھ رہی تھیں، تمہیں زیادہ دیکھ رہی تھیں۔‘‘ نوشاد آنکھ دبا کر بولا۔
’’بیکار باتیں ہیں۔‘‘ میں نے جھینپے ہوئے لہجے میں کہا اور نوشاد قہقہہ لگا کر ہنس پڑا پھر بولا۔’’نہیں بھائی یہ رانیاں، مہارانیاں ایسی ہی ہوتی ہیں، کسی کی تقدیر ساتھ دے جائے تو سمجھ لو کہ وارے نیارے ہو جاتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اب جب تم واپس بنارس آئو گے تو نہ جانے کیا بن کر آئو گے۔‘‘
’’نوشاد میں یہاں نہیں رکنا چاہتا۔‘‘
’’ارے باپ رے۔ کیسی خوفناک باتیں کر رہے ہو۔ بھلا رانی صاحبہ کا حکم اور اس کی تعمیل نہ ہو۔ انہوں نے پوچھنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی کہ تم رکنا چاہتے ہو یا نہیں۔ اور پھر حماقت کی باتیں مت کرو، میں نے تو تم سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ راج محلوں کی کہانیاں ذرا مختلف ہوتی ہیں اور تقدیر بننے میں دیر نہیں لگتی۔ ہو سکتا ہے یہ میری غلط فہمی ہی ہو لیکن چانس لینے میں کیا حرج ہے۔‘‘
’’کیا یہ نہیں ہو سکتا نوشاد کہ تم یہاں رک جائو۔‘‘
’’آہ کاش! ایسا ہو سکتا مگر جسے پیا چاہے وہی سہاگن، ہمیں بھلا کون پوچھتا ہے۔ چلو ٹھیک ہے بہرطور تمہیں یہاں رہنا ہو گا بس ذرا احتیاط رکھنا، بس ان لوگوں کے دماغ پھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ دولت اچھے اچھوں کا ستیاناس کر دیتی ہے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو اس دنیا کا باسی نہیں سمجھتے۔ بس تھوڑی سی احتیاط، رانی صاحبہ کے احکامات کی تعمیل اور پھر یار یہ تو خوش بختی ہے۔ کتنی حسین ہیں وہ، عمر کتنی ہی ہو لیکن کیا شان ہے، کیا انداز ہیں، چلو بھیا عیش کرو، ہماری طرف سے پیشگی مبارکباد۔‘‘
میں الجھا ہوا تھا ویسے تو مجھے کوئی ایسی خاص پریشانی نہیں تھی۔ رانی صاحبہ مجھے لقمۂ تر سمجھ کر نگل تو نہیں جائیں گی لیکن بس الجھن تھی۔ ایسی کیا بات پائی ہے انہوں نے مجھ میں اور بات اگر رانی صاحبہ ہی کی ہوتی تو چلو مان لیتا کہ نوشاد کا کہنا درست ہے لیکن اس سے پہلے مہاراج کالی داس نے بھی مجھے چونک کر ہی دیکھا تھا۔ کیوں، آخر کیوں؟
کام ختم ہو گیا۔ نوشاد اور بھگوتی پرشاد چلے گئے۔ کالی داس نے مجھے محل کے خادموں کے حوالے کر دیا۔ حویلی یا محل کے بغلی حصے میں بنے ہوئے مہمان خانے میں مجھے جگہ دے دی گئی تھی۔ ہر طرح کا خیال رکھا گیا، پھل، سبزیاں وغیرہ کھانے میں دی گئیں۔ میرے دماغ میں بہت سے خیالات تھے مگر بے سکونی نہیں تھی۔ وہم میں الجھ کر سکون برباد کرنے سے آج تک تو کچھ حاصل نہیں ہو سکا تھا اب میں نے ہر طرح کے حالات میں جینا سیکھ لیا تھا۔
رات خوشگوار گزری، دوسرا دن بھی گزر گیا، کوئی ایسی بات نہ ہوئی جو قابل ذکر ہوتی۔ شام کو کالی داس آیا۔ اس نے مجھے دیکھتے ہی کہا۔ ’’تم حاجی فیاض الدین کے آدمی ہو نا؟‘‘
’’جی دیوان جی۔‘‘
’’رانی مہاوتی تمہیں کچھ ڈیزائن دینا چاہتی ہیں، بہت بڑا کام ہو گا، تمہیں اس کے لئے کئی دن رکنا پڑے گا۔ کوئی جلدی تو نہیں ہے تمہیں؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’ارے جب سے آئے ہو اندر گھسے رہتے ہو، تم مہمان ہو قیدی نہیں۔ محل بہت بڑا ہے گھومو پھرو۔ اس جگہ رہنا پسند نہ ہو تو جہاں چاہو بندوبست کر دیا جائے۔‘‘
’’نہیں دیوان جی۔ یہاں ہر طرح کا آرام ہے۔‘‘
’’کیا نام ہے تمہارا؟‘‘
’’مسعود۔‘‘
’’ایں…‘‘ کالی داس چونک پڑا۔
’’مسعود احمد۔‘‘ میں نے اسے دوبارہ نام بتایا۔ اس کے چہرے پر پھر شک کی سی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ پھر وہ بولا۔
’’مسلمان ہو؟‘‘
’’جی بالکل۔‘‘
’’اچھا…‘‘ وہ حیرت سے بولا۔ مجھے دیکھتا رہا پھر ایک دم واپس پلٹ آیا۔ کچھ سوچ کر دروازے میں رکا۔ میری طرف دیکھا اور مسکرا کر بولا۔ ’’یہاں داسیاں باندیاں بھی بہت سی ہیں، کسی کو کسی سے ملنے پر پابندی نہیں۔ ہنسی خوشی سمے گزارو۔ تم مہاوتی کے مہمان ہو، کسی ایرے غیرے کے نہیں۔ میں تمہارے پاس سندری کو بھیجتا ہوں، تمہیں پسند آئے گی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ باہر نکل گیا۔
میں دروازے کو گھورتا رہ گیا۔ الٰہی کیا ماجرا ہے۔ اس دنیا میں رہنے والے کیا تمام لوگ میری ہی طرح پراسرار واقعات سے دوچار ہوتے رہتے ہیں۔ کیا سبھی کو زندگی میں قدم قدم پر ایسے انوکھے واقعات پیش آتے ہیں۔ کبھی سنا تو نہیں، یہاں تو طویل عرصہ سے ایسا ہی ہو رہا تھا۔
کچھ دیر
کے بعد دروازے سے ایک سندری داخل ہوئی۔ سندری ہی تھی۔ بڑا جاذب نگاہ چہرہ تھا۔ اندر آ گئی اور مسکراتی نظروں سے مجھے دیکھ کر بولی۔ ’’میرا نام سندری ہے۔‘‘
’’جی۔‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔
’’کیسی ہوں؟‘‘ وہ شوخی سے بولی۔
’’جی…؟‘‘ میری گھبرائی ہوئی آواز ابھری۔
’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘
’’مسعود۔‘‘
’’سچ بتا دونا!‘‘ وہ ناز بھرے انداز میں بولی۔
’’تعجب ہے، تم میری بات کو جھوٹ کیوں سمجھ رہی ہو۔‘‘ میں نے کہا اور وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ پھر بولی۔
’’آئو باہر چلیں۔ باہر بڑی سندر ہوا چل رہی ہے۔ تمہیں پھول پسند ہیں؟‘‘
’’پھول کسے پسند نہیں ہوتے۔‘‘
’’اور پھول وتی۔‘‘ وہ پھر اسی طرح کھلکھلا کر ہنسی اور آگے بڑھ کر میرا ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی۔ ’’آئو میں تمہیں پھول کنڈ لے چلوں… آئو نا…!‘‘ میں نے آہستہ سے اس سے ہاتھ چھڑا لیا مگر اس کے ساتھ باہر نکل آیا۔ میرے اس طرح ہاتھ چھڑانے پر اس نے گہری نظروں سے مجھے دیکھا مگر کچھ بولی نہیں۔ میں اس کے ساتھ باہر آ گیا۔ وہ مجھے محل کے عقبی حصے میں لے آئی جہاں گھاس کا فرش بچھا ہوا تھا، ہر طرف ہریالی تھی، جگہ جگہ حوض، فوارے بنے ہوئے تھے، ان کے گرد سنگی مجسمے استادہ تھے۔ انتہائی حسین سنگی مجسمے جنہیں بڑی مہارت سے تراشا گیا تھا۔ یہ سب مختلف شکلیں رکھتے تھے۔ ویسے اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ ان مجسموں نے باغ کا حسن بڑھا دیا تھا۔ محل کے عقبی حصے میں یہ علاقہ بے حد خوبصورت تھا۔ ابھی مدھم مدھم روشنی بکھری ہوئی تھی لیکن شام تیزی سے جھکتی چلی آ رہی تھی۔ ہوا چل رہی تھی اگر موسم اور ماحول کے لحاظ سے دیکھا جاتا تو یہ جگہ انتہائی حسین کہی جا سکتی تھی، عجیب و غریب خوشبوئیں چاروں طرف بکھری ہوئی تھیں، ایک موڑ مڑنے کے بعد میں نے جو منظر دیکھا وہ ناقابل یقین سا تھا۔ انسانی ہاتھوں کا کارنامہ تو معلوم ہی نہیں ہوتا تھا، پھول جیسے دیواروں میں لگائے گئے تھے، کہیں بلند، کہیں پست، کہیں اونچے، کہیں نیچے۔ سب کے رنگ مختلف تھے اور پھول کے بیچوں بیچ مجسمے اس طرح آویزاں تھے جیسے کوئی پھولوں کے درمیان چلتے چلتے رک گیا ہو۔ ایک چوکور حوض اس طرف بنا ہوا تھا جس کے کنارے بیٹھنے کی جگہ بھی تھی۔ اسے مجسموں کا علاقہ کہا جاتا تو غلط نہ ہوتا۔ شوقین لوگ ایسے سنگی مجسمے آویزاں کرتے ہیں لیکن اتنی تعداد میں نہیں۔ بہرحال عام لوگ راجہ اور رانی بھی تو نہیں ہوتے۔
سندری مجھے لئے ہوئے اس سمت آ گئی۔ حوض کے پاس رک کر اس نے مسکراتی نگاہوں سے مجھے دیکھا اور بولی۔ ’’یہ ہے ہمارا پھول کنڈ…‘‘
’’بہت خوبصورت جگہ ہے۔‘‘ میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا۔
’’راجہ چندر بھان جی پھولوں کے رسیا ہیں، بس یوں سمجھ لیں کہ انہوں نے اس حصے کو پھولوں سے آراستہ کرنے کے لئے اتنی دولت خرچ کی ہے کہ اس سے ایک گائوں بسایا جا سکتا تھا۔‘‘
’’راجہ چندر بھان جی؟‘‘ میں نے سوالیہ نگاہوں سے سندری کو دیکھا۔
’’مالک ہیں ہمارے، اس محل کے مالک ہیں۔ رانی مہاوتی جی انہی کی تو دھرم پتنی ہیں۔ یہ میں اس لئے بتا رہی ہوں کہ تم بنارس سے آئے ہو، جانتے نہ ہو گے بھٹنڈا کے بارے میں۔‘‘
’’ہاں ایسی ہی بات ہے۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’بیٹھو… بیٹھ جائو نا۔ تم مجھے کچھ عجیب سے لگ رہے ہو، گھبرائے گھبرائے سے۔ کیا مجھ سے پریشان ہو؟‘‘
’’نہیں… نہیں۔‘‘ میں نے نرم لہجے میں کہا۔
’’میں نے ہاتھ پکڑا تھا تمہارا، تم نے ایسے چھڑا لیا جیسے، جیسے…‘‘ وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر خاموش ہو گئی۔
’’راجہ چندر بھان جی کو میں نے کبھی نہیں دیکھا۔‘‘
’’لو آئے ہوئے سمے ہی کتنا بیتا ہے تمہیں۔ ویسے بھی وہ بیمار ہیں۔‘‘
’’او اچھا۔‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔ وہ مجھے دیکھ کر مسکرانے لگی۔ پھر بولی۔ ’’بہت کم بولتے ہو تم۔ ویسے کیا تم سچ مچ مسلمان ہو؟‘‘
’’کیا؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔
’’نہیں میرا مطلب ہے، میں نے مسلمان نہیں دیکھے۔ شروع ہی سے یہاں پلی بڑھی ہوں۔ اسی محل میں پیدا ہوئی، اسی میں پروان چڑھی اور یہیں رہتی ہوں۔‘‘
’’مسلمانوں کے سینگ نہیں ہوتے، جیسے تم لوگ ہوتے ہو، ویسے ہی ہم۔‘‘
’’ہاں اب تو یہی اندازہ ہوتا ہے مجھے۔‘‘ وہ بات بات پر ہنسنے کی عادی تھی۔ پھر بولی۔ ’’اچھا اب یہ بتائو کیا پیو گے؟‘‘
’’کچھ نہیں…‘‘
’’واہ ایسا خوبصورت موسم، چاروں طرف بکھرے ہوئے
پھول، میں دارو منگواتی ہوں تمہارے لئے…؟‘‘
’’سنو، سنو رک جائو، ایسی کوئی شے ہم مسلمان نہیں پیتے۔ یقینی طور پر اس محل میں رہ کر تمہیں یہ بات بھی معلوم نہیں ہوئی ہوگی۔‘‘
’’تو پھر میں کیا کروں تمہارا۔ ادھر دیوان کالی داس جی ہیں جو کہتے ہیں کہ مہمان کو کوئی تکلیف نہ ہو، اس کا دل بہلائو، اس سے باتیں کرو، وہ جو چاہے اس کی ہر سیوا کرو اور تم ہو کہ ٹھیک سے بول بھی نہیں رہے مجھ سے۔‘‘ اس نے ادا سے منہ بنایا اور میں نے گردن جھٹکتے ہوئے کہا۔
’’نہیں سندری جی ایسی کوئی بات نہیں ہے، بس یہ جگہ بہت پیاری ہے، مجھے بڑی پسند آئی اور کیا باتیں کروں آپ سے۔‘‘ وہ کچھ سوچنے لگی۔ پھر بولی۔
’’اچھا رکو، میں ابھی آتی ہوں۔ گھبرائو گے تو نہیں۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ میں نے گہری سانس لے کر کہا۔
’’جانا بھی نہیں یہاں سے، میں یہ گئی اور وہ آئی۔‘‘ وہ پھر ہنسی اور پھر آگے بڑھ گئی۔ میں اسے جاتے دیکھتا رہا۔ جب وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئی تو میں اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ رات کی دھندلاہٹیں پھیل گئی تھیں۔ پھولوں کے رنگ ماند پڑتے جا رہے تھے۔ بڑا طلسمی ماحول تھا۔ ہر طرف ایک پراسرار اداسی فضا پر چھائی ہوئی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے کچھ ہونے والا ہے، اچانک ہی کچھ ہو جائے گا۔ پھولوں کا سکوت، ان کے درمیان خاموش کھڑے مجسمے۔ سب کسی انہونی بات کے منتظر تھے یا پھر اس ماحول نے یہ احساس میرے دل میں پیدا کر دیا تھا۔ کچھ عجیب سے حالات تھے۔ وہ لڑکی یاد آئی جو املی کے درخت سے اتری تھی اور میرے دل پر ایک عجیب سا نقش چھوڑ گئی تھی۔ رجناوتی تھا اس کا نام۔ باتیں بڑی عجیب تھی اس کی۔ ہو سکتا ہے پاگل ہو، یہ بھی ہو سکتا ہے اس انداز میں نہیں سوچا تھا۔ اچانک اچھل پڑا۔ ’’شی‘‘ کی ایک آواز سنائی دی۔ بالکل ایسی آواز جیسے کوئی کسی کو مخاطب کرتا ہے۔ آواز صاف سنی تھی، وہم نہیں تھا۔ دوسری بار وہ آواز دو مرتبہ سنائی دی۔ ’’شی۔ شی…‘‘ میں اچھل کر کھڑا ہو گیا۔ یقینا کوئی رازداری سے مجھے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتا تھا مگر کون۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا مگر خاموشی، پھولوں اور پتھریلے مجسموں کے سوا اور کوئی نظر نہیں آیا۔
اچانک کچھ فاصلے پر روشنی ابھری اور میرے حلق سے آواز نکل گئی۔ اس روشنی میں، میں نے دو انسانی سائے دیکھے تھے۔ میں نے ان پر نظریں جما دیں۔ وہ روشنی کے پاس سے ہٹ گئے اور کچھ دیر کے بعد مجھے ان سایوں کا راز معلوم ہو گیا۔ محل کے ملازم تھے جو جگہ جگہ لوہے کے پول میں لگے ہوئے کاربائیڈ کے شیشے والے لیمپ روشن کرتے پھر رہے تھے۔ یہ لیمپ رنگین شیشوں والے تھے اور ان کے روشن ہونے سے اس جگہ کا حسن بڑھنے لگا تھا۔ ملازم اپنا یہ کام کرتے ہوئے میرے قریب سے گزرے۔ انہوں نے رک کر مجھے دیکھا پھر معنی خیز نظروں سے ایک دوسرے کو اور پھر مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ خدایا… خدایا یہ سب کیا ہے۔ یہ محل، یہ حویلی کوئی حقیقت ہے یا ویسا ہی کوئی طلسم جیسا میں نے رمارانی کے سلسلے میں دیکھا تھا۔ وہاں بھی تو ایک دنیا آباد تھی۔ سب کچھ تھا۔ مکمل زندگی تھی لیکن پورنی کی ہلاکت کے بعد وہاں جھاڑو پھر گئی۔ سب کچھ طلسم ثابت ہوا۔ دھوکا ثابت ہوا۔ اصل لوگ اپنی جگہ تھے مگر یہاں ذرا مشکل ہے۔ نوشاد حقیقت تھا، بھگوتی پرشاد جی حقیقت تھے۔ اس بار میں تنہا نہیں تھا… پھر… پھر…!
رات کی تاریکیوں نے اس ماحول کو نگلنا چاہا مگر ان روشنیوں نے رات کا منصوبہ ناکام بنا دیا بلکہ رنگین شیشوں نے اس ماحول کو اور خواب ناک بنا دیا تھا اور اب ہر چیز کو صاف دیکھا جا سکتا تھا۔ انہی سوچوں میں گم تھا کہ ’’شی شی‘‘ کی آواز دوبارہ ابھری اور میرے اعصاب تن گئے پھر ایک سرگوشی ابھری۔
’’ادھر… اس طرف… اس طرف…! بائیں سمت…!‘‘ میں بے اختیار بائیں سمت گھوم گیا۔ میری بائیں سمت پھولوں کے درمیان سنگ مرمر کا ایک بے جان مجسمہ ایستادہ تھا۔ پتھریلا اور ساکت۔
’’ہاں ٹھیک ہے۔ میرے پاس آ جائو… سنو جلدی کرو ورنہ سندری آ جائے گی۔‘‘ آواز مجسمے سے ہی ابھری تھی۔
لاکھ خود کو سنبھالا، ہمت کرنے کی کوشش کی لیکن پورے بدن میں تھرتھری سی دوڑ گئی۔ میں دہشت بھری نظروں سے اس مجسمے کو دیکھنے لگا۔ اس کے پتھریلا ہونے میں کوئی شک نہیں تھا مگر وہ بول رہا تھا۔
بھٹنڈہ میں داخل ہوتے ہی جن واقعات سے سابقہ پڑا تھا، وہ احساس دلاتے تھے کہ
سنسنی خیز واقعات نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا ہے۔ آہ! کیسی آرزو تھی دل میں، کیسا جی چاہتا تھا کہ کچھ وقت ایسا گزر جائے جس میں کچھ نہ ہو۔ جیسے دوسرے لوگ زندگی گزارتے ہیں، ویسے ہی میں بھی گزاروں۔ سادہ سادہ عام لوگوں جیسی زندگی…! لیکن ایسا نہیں ہوتا تھا، ہر طرح کی کوشش کرلی تھی۔ ملازمت اس لئے کررہا تھا کہ محنت کی روٹی ملے۔ کبھی کسی کے در پر جا پڑتا تھا، کبھی کسی کے! پیٹ بھر جاتا تھا مگر دوسروں کے رحم و کرم کی وجہ سے…! ان دنوں جی کچھ خوش تھا مگر تقدیر کو یہ گوارہ نہیں تھا۔ پھر کسی جال میں آپھنسا تھا۔ نہ جانے اب کیا ہوگا۔ عام آدمی مجسمے کی آواز پر اس کے پاس جانے کا تصور بھی نہ کرتا بلکہ خوف سے ہوش ہوجاتا مگر میں…! آہستہ قدم اٹھاتا ہوا اس کے قریب پہنچ گیا۔ نوجوان آدمی کا بت تھا، پتھریلا بے جان! پھر اس کے ہونٹوں سے آواز ابھری۔
’’بھاگ جائو یہاں سے! بھاگ جائو! یہ کال نگر ہے، کایا جال پڑ گیا ہے تم پر…! ایک بار جال اوڑھ لیا تو پھر کبھی نہ جاسکو گے۔ بھاگ جائو یہاں سے، بھاگ جائو!‘‘
’’تم کون ہو…؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’بھاگ جائو! جلدی بھاگ جائو۔ دیکھو وہ آگئی۔‘‘ مجسمہ خاموش ہوگیا۔ میں نے گردن گھما کر دیکھا۔ سندری آرہی تھی۔ اس کے ساتھ کچھ اور لڑکیاں بھی تھیں۔ چھ، سات لڑکیاں تھیں۔ مجسمہ خاموش ہوگیا تھا۔
’’تم کون ہو…؟ مجھے بتائو، وہ ابھی دور ہیں۔‘‘ میں نے سوال کیا مگر مجسمے کی آواز دوبارہ نہ سنائی دی۔ مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ اب نہ بولے گا۔
سندری قریب آگئی۔ دوسری لڑکیاں کچھ فاصلے پر رک گئیں۔ وہ بہت خوبصورت جھلملاتے لباس پہنے ہوئے تھیں۔ ان کے پیروں میں بجنے والے زیور تھے اور ہاتھوں میں پھلوں اور میووں کے تھال! میں انہیں دیکھتا رہا۔ انہوں نے پھولوں کے درمیان گھاس کے فرش پر چاندنی بچھا دی، تھال سجا دیئے۔ سندری بولی۔
’’آئو بیٹھو! کیسی لگی یہ جگہ…؟ کیا یہ سنسار کا سورگ نہیں ہے؟ تم نے کہیں ایسا دیکھا؟‘‘
’’یہ مجسمے کس نے بنائے ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’سنگ تراش نے! جس طرح چندر بھان مہاراج نے یہاں پھول لگوائے ہیں، اسی طرح مجسمہ سازوں نے یہاں یہ بت تراشے ہیں۔ کیسے لگے تمہیں…؟‘‘ سندری نے پوچھا۔
’’بالکل جیتے جاگتے!‘‘ میں نے کہا اور وہ پھر کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ اپنی مخصوص ہنسی جو ذہن کو گرفت میں لیتی تھی۔ کم بخت بڑے پراسرار طریقے سے ہنسنا جانتی تھی۔ انسان کے ذہن پر نغمگی کی ایک لہر سی دوڑتی محسوس ہوتی تھی اور ذہن اس کی گرفت میں جانے کے لئے بے چین ہوجاتا تھا۔ ہنس کر بولی۔ ’’اصلی ہی تو ہیں۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’بس! پتھر کے بت بنانے والوں نے انہیں اصلی جیسا ہی بنایا ہے۔ آئو بیٹھو، ہوا میں پھیلی خوشبو لگ رہی ہے تمہیں… آئو نا!‘‘ اس نے ناز سے میرا ہاتھ پکڑا اور میں نے اس سے بڑی آہستگی سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔ آگے بڑھا اور چاندنی پر جا بیٹھا۔ سامنے رکھے ہوئے میووں کے تھال میں سونے کے گلاس اور سونے ہی کی صراحی رکھی ہوئی تھی۔ اس نے میرے سامنے دوزانو بیٹھ کر ان گلاسوں میں کوئی رنگین مشروب انڈیلا اور مسکراتی نگاہوں سے مجھے دیکھنے لگی۔ وہ لڑکیاں جو اس کے ساتھ آئی تھیں، قطار بنا کر بیٹھ گئیں۔ ان میں سے کسی کے ہاتھ میں بربط تھا تو کسی کے ہاتھ میں طنبورہ…! ایک خوبصورت نغمے کی دھن چھیڑ دی گئی۔ ماحول ویسے ہی رنگینیوں سے رنگا ہوا تھا۔ خوشنما اور خوشبوئیں بکھیرتے ہوئے پھول، آسمان پر مدھم مدھم دھندلاہٹیں، ستاروں کی ٹمٹماہٹ، نیچے رنگین شیشوں سے ابلتی ہوئی روشنی کی شعاعیں جو مخصوص زاویوں سے ان لڑکیوں کو سحرانگیز بنا رہی تھیں۔ سامنے سندری اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا، ایک انسان پر قدرتی طور پر سحر طاری کرنے کیلئے کافی تھیں لیکن صرف اس انسان پر جس کا واسطہ زندگی میں پہلی بار کسی سحر سے پڑا ہو، میں تو سحر زدہ تھا ہی ایسے ایسے وار ہوئے تھے مجھ پر کہ سنبھلنا ممکن نہیں تھا۔ پتا نہیں کون کون سی قوتیں ایک دوسرے سے برسرپیکار تھیں جو میں بال بال بچ جاتا تھا۔ یقینی طور پر ان قوتوں کا تعلق نہ میری قوت ارادی سے تھا، نہ میری ذہنی پاکیزگی سے! بس یوں لگتا تھا جیسے کوئی مجھے بچا لیتا ہو اور جب بھی یہ خیال دل میں آتا، بڑی ڈھارس ملتی، بڑا سہارا ملتا۔ نجانے کیا کیا کچھ یاد آجاتا۔ درشہوار ہی کا


معاملہ تھا۔ اس سے پہلے کشنا کا معاملہ تھا۔ انسان ہی تھا ایک لمحہ بھٹک جانے کیلئے کافی ہوتا لیکن بچایا گیا تھا۔ مجھے بچایا گیا تھا اور اس وقت اس وقت بھی ماحول کا یہ سحر میرے حواس پر فطری طور پر نہیں چھایا تھا اور میں مسلسل خود کو سنبھالے ہوئے تھا۔ نغمے کی دھن آہستہ آہستہ تیز ہوتی گئی۔ سندری نے گلاس اٹھایا اور میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’یہ امرت جل ہے۔ میرے ہاتھ سے پی لو اور امر ہوجائو۔‘‘ میرے ہونٹوں پر ایک تلخ مسکراہٹ پھیل گئی۔ میں نے آہستہ سے کہا۔ ’’میں تمہیں بتا چکا ہوں سندری کہ میں مسلمان ہوں۔‘‘
’’دین دھرم سارے کھیل کایا کے کھیل ہیں۔ انسان تو ہو، اس سمے، اس ماحول میں جب بھگوان نے تمہیں یہ سب کچھ دے دیا ہے تم دین دھرم کے جال میں الجھے ہوئے ہو۔ تھوڑی دیر کیلئے سب کچھ بھول جائو۔ یہ نغمہ سنو، اسے اپنے دل میں اتارو، امرت جل پیو اور امر ہوجائو… میں تمہاری ہوں۔‘‘ اس نے جھک کر اپنی پیشانی میری پیشانی سے ٹکرائی اور گلاس میرے ہونٹوں کے نزدیک لانے کی کوشش کی۔ میں نے آہستہ سے اس کے گلاس پر ہاتھ رکھتے ہیوئے کہا۔
’’نہیں سندری! تمہاری بدقسمتی ہے یا میری کہ میں اپنے دین کو نہیں بھول سکتا اور میرے دین میں یہ سب کچھ جائز نہیں ہے۔‘‘ وہ ایک دم پیچھے ہٹ گئی۔ اس نے عجیب سی نظروں سے میری طرف دیکھا اور پھر ادھر ادھر دیکھتی ہوئی بولی۔ ’’تو میں کیا کروں، مجھے بتائو میں کیا کروں…؟‘‘ اس کے لہجے میں جھلاہٹ تھی۔
’’خود کو ناکام تصور کرلو سندری! اور اگر ہوسکے تو مجھے یہ بتائو کہ تم یہ سب کیوں کررہی ہو؟‘‘ سندری نے ہونٹ سکوڑ کر گلاس واپس تھال میں رکھ دیا اور بولی۔ ’’میں کیوں کرتی یہ سب کچھ! بس مجھے تو حکم دیا گیا تھا کہ مہمان کا جی خوش کروں، اسے بہلائوں اور ذرا بھی اداس نہ ہونے دوں۔ میں تو یہی سوچ رہی تھی کہ امرت جل کے دو گلاس پی لو تم تو میں تمہیں ناچ دکھائوں۔‘‘
’’جن لوگوں نے یہ سب کچھ کیا ہے سندری! انہیں واپس جاکر یہ بتادو کہ بدقسمتی سے ایک مسلمان ان کے جال میں پھنسا ہے اور اسے ان تمام چیزوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ نہ امرت جل پی کر امر ہونا چاہتا ہے، نہ رقص و موسیقی سے لطف اندوز ہوکر اپنا ایمان کھونا! بس اس سے زیادہ مجھے اور کچھ نہیں کہنا تم سے!‘‘میں اپنی جگہ سے اٹھا۔ خوف تھا کہ کہیں اس کی ضد پر کوئی قدم بہک نہ جائے چنانچہ یہاں سے چلے جانا ہی زیادہ اچھا تھا۔ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا آگے بڑھا اور مہمان خانے کے قریب پہنچ گیا۔ پلٹ کر نہیں دیکھا تھا لیکن اندازہ ہورہا تھا کہ وہ سب بری بری نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی ہیں۔ ہنسی آگئی۔ کم بخت ایک کے بعد ایک مصیبت گلے آپڑتی ہے۔ بھلا اس میں بھی کوئی شک کی بات تھی کہ یہ سب کچھ… یہ سب کچھ ایک گہری چال تھی، کوئی گہرا جال تھا اور اس کارروائی کے عقب میں ہوسکتا ہے بھوریا چرن وہیں بیٹھا ڈوریاں ہلا رہا ہو۔ امکانات تھے اس بات کے! مکمل طور پر امکانات تھے۔ میں اپنے کمرے میں آگیا۔ یہاں کا ماحول بدل گیا تھا۔ غالباً بستروں پر نئی چادریں بچھائی گئی تھیں، کچھ اور چیزیں بھی لا کر رکھی گئی تھیں۔ ایک طرف ایک فریم دیوار پر ٹنگا ہوا تھا اور اس فریم میں ایک تصویر آویزاں تھی۔ یہ تصویر ایک عجیب و غریب چہرے کی تھی۔ قدیم طرز کا کوئی راجپوت یا ایسا سورما جو جنگ و جدل میں حصہ لیتا رہا ہو۔ اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں خون کی آمیزش تھی اور یہ آنکھیں درحقیقت بڑے جاندار رنگوں سے بنائی گئی تھیں۔ بالکل اصلی اور گھورتی ہوئی محسوس ہوتی تھیں۔ ایک لمحے کیلئے ذہن اس تصور میں بھی الجھ گیا کہ یہ تبدیلیاں کیوں رونما ہوئی ہیں۔ بہرحال سب کچھ ہوسکتا تھا، سب کچھ…! میں بھلا کر ہی کیا سکتا تھا۔ دروازہ بند کرلیا۔ یہ احساس دل میں تھا کہ ہوسکتا ہے سندری پھر اندر آجائے اور مجھے پریشان کرنے کی کوشش کرے حالانکہ میں نے اب وہ راستہ تو نہیں چھوڑا تھا کہ وہ میری جانب رخ کرے لیکن اندازہ یہ ہوتا تھا کہ اس کی ڈور بھی کسی اور ہی کے ہاتھ میں ہے۔
کافی وقت گزر گیا سندری نے دروازہ نہیں بجایا اور پھر میں سونے کی کوشش کرنے لگا۔ مدھم مدھم روشنی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی، پوری طرح اندھیرا نہیں تھا۔ یوں ہی اتفاقیہ طور پر تصویر پر نظر جا پڑی اور میں لیٹے لیٹے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ یہ نظر کا دھوکا نہیں تھا، آنکھوں کی
کوئی خرابی بھی نہیں تھی اور نہ ہی ذہن کا کوئی انتشار…! لیکن فریم میں لگی ہوئی تصویر بے شک بدل گئی تھی۔ یہ تصویر اب مجھے کچھ اور ہی شکل میں نظر آئی تھیں۔ آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ بستر سے کود کر تصویر کے نزدیک آیا۔ رانی مہاوتی کی تصویر تھی۔ وہ سورما تصویر کے فریم سے غائب ہوگیا تھا جسے میں نے پہلے دیکھا تھا۔ پھٹی پھٹی آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھا اور کوئی تصویر بھی نہیں تھی۔ پھر گہری سانس لے کر اپنے بستر کی جانب آگیا اور اس کے بعد بھلا نیند آنکھوں میں کہاں آتی۔ کبھی کبھی پلکیں جھپک جاتیں پھر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر تصویر کی جانب دیکھنے لگتا۔ اب اندازہ ہورہا تھا کہ یہ تبدیلیاں بلاوجہ رونما نہیں ہوئی تھیں۔ ایک بار پھر پلکوں پر جھپکی سی آگئی اور اچانک ہی تصویر کا تصور ذہن میں آیا تو چونک کر اسے دیکھا۔ اف میرے خدا… میرے خدا! میں نے دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ لیا۔ تصویر پھر بدل چکی تھی اور اگر میری آنکھیں دھوکا نہیں کھا رہی تھیں تو یہ تصویر کالی داس کی تھی۔ ہاں… دیوان کالی داس کی! فریم میں بار بار تصویریں بدل رہی تھیں اور اب یہ بات دعوے سے کہہ سکتا تھا کہ یہ تصویریں نہیں تھیں۔ یہ وہ خبیث روحیں تھیں جو تصویری شکل میں آآ کر میرا جائزہ لے رہی تھیں، مجھے دیکھ رہی تھیں، میرے بارے میں اندازے لگا رہی تھیں۔ دل چاہا کہ دروازہ کھول کر باہر بھاگ جائوں، کس طلسم خانے میں آپھنسا۔ نوشاد اور بھگوتی پرشاد تو جا چکے تھے اور مجھے اس عذاب میں گرفتار کرگئے تھے۔ کیا کروں، کیا کروں یا تو لاپروا ہوکر آنکھیں بند کرلوں اور گہری نیند سو جائوں۔ زیادہ سے زیادہ میرا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے لیکن انسانی فطرت کے خلاف تھا۔ بھلا اس عالم میں نیند آسکتی تھی؟ آہ کیسے اس طلسم خانے سے بھاگ جائوں۔ اگر یہ سب کچھ چھوڑ کر چلا جاتا ہوں تو حاجی صاحب کے کام میں مداخلت ہوتی ہے۔ رانی مہاوتی آخر ہیں کیا چیز…! اندازہ تو اسی وقت ہوگیا تھا جب دیوان کالی داس نے مجھے مشتبہ نگاہوں سے دیکھا تھا اور اس کے بعد میرے یہاں قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ڈیزائن لینے کیلئے بھگوتی پرشاد بھی ہوسکتا تھا، نوشاد بھی! لیکن اشارہ میرے لئے کیا گیا تھا۔ گویا اب یہ طے شدہ بات تھی کہ پھر کوئی جال مجھ پر ڈالا جارہا تھا۔ باغ میں سجے ہوئے مجسمے کے الفاظ یاد آئے۔ ’’یہ کال نگر ہے، کال نگر…!‘‘ میں اس کی بات سے پوری طرح متفق ہوگیا۔ بستر پر بیٹھ کر نجانے کتنی دیر سوچتا رہا کہ اب کیا کروں؟ خاموشی سے بھاگ بھی سکتا تھا لیکن دل نے ڈھارس دی اور کہا کہ مسعود! دیکھ تو سہی آگے کیا ہوتا ہے؟ تیرا آج تک کسی نے کیا بگاڑ لیا جو اب بگاڑ لے گا۔ ذرا ان رانی مہاوتی جی کا کھیل بھی دیکھ لے۔ ان تمام تصورات کے ساتھ ایک بار پھر نظر اس فریم پر ڈالی لیکن وہاں ہر بار کوئی ایسا منظر نظر آتا تھا جو دل کو مٹھی میں جکڑ لیتا تھا۔ اس بار تصویر کا فریم خالی تھا۔ سب جا چکے تھے، سب جا چکے تھے۔ میرے حلق سے ایک ہذیانی سا قہقہہ نکل گیا۔ میں نے غرائی ہوئی آواز میں کہا۔
’’اجازت ہو تو اب سو جائوں؟‘‘ اور اس کے بعد میں نے بستر پر لیٹ کر کروٹ بدلی اور آنکھیں مضبوطی سے بھینچ لیں۔ غالباً کوئی ایسا عمل خودبخود ہوگیا تھا جس نے مجھے نیند کی آغوش میں پہنچا دیا اور نیند بھی ایسی پرسکون کہ صبح کو سورج کی روشنی ہی نے جگایا۔ کرنیں کمرے کے مختلف کونوں کھدروں سے رینگتی ہوئی اندر آگئی تھیں اور مجھے دیکھ رہی تھیں۔ منتظر تھیں کہ میں اپنی جگہ سے اٹھوں اور زندگی کے پراسرار معاملات پھر سے جاری ہوجائیں۔ پہلی شکل سندری ہی کی نظر آئی تھی۔
’’جاگ گئے مہاراج…؟‘‘
’’ہاں سندری…! تم ٹھیک ہو؟‘‘
’’خاک ٹھیک ہوں۔ تم میری کوئی بات مانتے نہیں ہو، سب میرا مذاق اڑا رہے ہیں۔‘‘
’’رانی مہاوتی جی سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘ میں نے کہا اور وہ چونک پڑی۔ ’’کیوں…؟‘‘
’’میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ مجھے یہاں کب تک رہنا پڑے گا۔ میں جانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’اوہ…!‘‘ اس نے گہری سانس لے کر کہا جیسے وہ مطمئن ہوگئی ہو۔ پھر اس نے کہا۔ ’’کوئی جلدی ہے؟‘‘
’’سندری! میں جانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’مہاوتی جی تو صبح ہی صبح کہیںگئی ہیں۔ دیوان جی بھی ان کے ساتھ ہی گئے ہیں۔ ان سے پوچھے بنا تمہارا جانا اچھا نہیں ہوگا۔‘‘
’’تمہیں پتا
کب تک آجائیں گے؟‘‘
’’مالک، نوکروں کو بتا کر نہیں جاتے۔ ویسے میرا خیال ہے کہ شام تک ضرور آجائیں گے۔ تم یہاں کسی گوشے میں بیٹھ کر اپنے دین کی پوجا کرو پجاری… ہونہہ!‘‘ اس نے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
چلچلاتی دوپہر تھی، دھوپ حد سے زیادہ تیز، ماحول بڑا سنسان تھا۔ دن کی روشنی میں میں نے ان مجسموں کو دیکھا تھا، چھو کر دیکھا تھا سب کے سب انسانی ہاتھوں کی تراش معلوم ہوتے تھے۔ کوئی شبہ نہیں تھا اس بات میں مگر پچھلی رات کی بات بھی وہم نہیں تھی۔ میں نے اس مجسمے کو بھی دیکھا تھا جو مجھ سے بولا تھا مگر وہ صرف پتھر تھا۔ دور تک نکل گیا۔ واقعی یہ عمارت بڑے وسیع احاطے میں تھی۔ جگہ جگہ تعمیرات تھیں۔ سرخ پتھروں سے بنی ہوئی ایک عمارت کے پاس سے گزر رہا تھا کہ ایک جھروکے سے آواز ابھری۔
’’سنو… سنو…! ارے… ادھر ادھر!‘‘ میں رک گیا۔ یہ اندازہ فوراً ہوگیا تھا کہ آواز جھروکے سے آرہی ہے مگر جھروکا اونچا تھا۔ میں اس میں نہیں جھانک سکتا تھا۔ ’’سیدھے چلتے ہوئے دائیں سمت مڑ جائو۔ دروازے سے اندر آجائو، وہ گہری نیند سو رہا ہے۔‘‘ آواز پھر ابھری۔
’’کون ہو تم…؟‘‘
’’ڈرو مت، تمہارے جیسا انسان ہوں۔‘‘
’’یہاں کیا کررہے ہو؟‘‘
’’ہمت کرو، اندر آجائو، ڈرو مت! اس وقت کوئی خطرہ نہیں ہے۔ آئو جلدی کرو، آجائو۔‘‘
’’آرہا ہوں، تمہیں بھی دیکھ لوں۔‘‘ میں نے طنزیہ آواز میں کہا اور آگے بڑھ گیا۔ اس کا کہنا درست تھا۔ آگے چل کر بائیں طرف مڑا تو دروازہ نظر آگیا۔ اندر سے بند نہیں تھا۔ میں نے دھکا دیا تو کھل گیا۔ دوسری طرف ایک وسیع چبوترہ بنا ہوا تھا۔ اس کے تین طرف کمرے تھے۔ چبوترہ بھی سرخ پتھر سے بنا ہوا تھا۔ ان کے بیچوں بیچ پیپل کا درخت تھا جو باہر سے بھی نظر آتا تھا۔ ایک گوشے میں پیپل کے سوکھے پتوں کے انبار لگے ہوئے تھے۔ ان کے قریب جھاڑو بھی پڑی ہوئی تھی۔ وہ کمرہ بھی اس عمارت میں دائیں سمت کا ہوسکتا تھا۔
کمرہ اختتامی دیوار کے ساتھ تھا، چنانچہ میں اس کے قریب پہنچ گیا۔ باہر سے لوہے کی مضبوط کنڈی لگی ہوئی تھی۔ میں نے بہ آہستگی اس کنڈی کو کھولا اور پھر آہستہ سے دروازے کے کواڑ کو دھکا دیا۔ چرچراہٹ کی آواز کے ساتھ دروازہ کھل گیا۔ اندر تاریکی نہیں تھی، روشندان سے دھوپ پڑ رہی تھی۔ دھوپ نے کمرے کو روشن کردیا تھا۔ کمرہ چونکہ کسی قدر بلندی پر تھا اس لئے اس شخص نے مجھے دیکھ لیا تھا جسے میں باہر سے نہ دیکھ سکا تھا۔ وہ ایک توانا آدمی تھا۔ اچھے قدو قامت کا مالک! مگر اس کے پیروں میں زنجیریں بندھی ہوئی تھیں۔ ایک زنجیر کمر سے بھی بندھی ہوئی تھی اور یہ تمام زنجیریں موٹے آہنی کڑوں سے بندھی ہوئی تھیں۔
’’کون ہو تم…؟‘‘
’’اگر تمہاری آنکھوں میں روشنی ہے تو مجھے دیکھ لو۔ غور سے دیکھو، کون ہوں میں؟‘‘ اس نے کہا۔
’’میں تمہیں نہیں جانتا۔‘‘
’’نہیں جانتے… کیوں…؟‘‘ وہ حیرت سے بولا۔ میں نے پھر اسے غور سے دیکھا۔ اس کا حلیہ بہت خراب تھا۔ کپڑے چیتھڑوں کی شکل میں جھول رہے تھے، چہرے اور جسم کے دوسرے حصوں پر زخموں کے کھرنڈ تھے۔
’’تمہاری بات کا کیا جواب دوں میں…؟‘‘
’’بے وقوف…! میں چندر بھان ہوں… چندر بھان!‘‘
’’کیا…؟‘‘ میں اچھل پڑا۔
’’اس نے مجھے بیمار مشہور کردیا ہے۔ لوگ مجھے بیمار سمجھتے ہیں۔ بھگوان کی سوگند میں پاگل نہیں ہوں۔ میں تمہارا مہاراج ہوں۔ میں تمہارا مہاراج ہوں سمجھے! میں تمہارا ان داتا ہوں۔ میں تمہارا مہاراج ہوں سمجھے…!‘‘
’’تم چندر بھان ہو… مہاوتی کے شوہر…؟‘‘
’’ہاں! میں وہی بدنصیب ہوں۔ سنو میری مدد کرو۔ بس ایک بار… صرف ایک بار مجھے یہاں سے آزادی دلا دو، جیون بھر تمہارا احسان مانوں گا۔ ارے بھائی! ایک بار، بس ایک بار!‘‘ اس کے لہجے میں بڑا درد تھا۔ وہ امید بھری نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ (جاری ہے)

Latest Posts

Related POSTS