Kala Jadu | Episode 42

1313
میں نے خواب و خیال میں بھی نہیں سوچا تھا کہ جس کے ساتھ میں نے زندگی کا اتنا وقت گزار دیا، جس کے لیے میں نے نجانے کس کس کو قربان کردیا، وہ انسان نہیں بلکہ ایک گندی آتما ہے۔ دھنی سچ کہہ رہا تھا۔ وہ سچ ہی کہہ رہا تھا اور اب اس کی کسی بات میں کوئی شک نہیں رہا تھا۔ مجھ سے محل میں جو داسیاں گم ہوگئی تھیں، یقیناً ان کے جسموں کی ہڈیاں اسی تہہ خانے میں پڑی سوکھ رہی ہوں گی۔ وہ عورت ان سب کی قاتل تھی۔ اس نے انہیں کھا لیا تھا اور یہ تصور میرے لیے اتنا بھیانک تھا کہ میرا بدن ہی میرا ساتھ چھوڑ گیا تھا۔ سوچنے سمجھنے کی قوتیں سلب ہوگئی تھیں۔ روپ کلی بھی یاد آرہی تھی۔ میری وفادار بیوی! جس پر میں نے اس پاپن کی وجہ سے شک کیا تھا۔ کالی داس میرا وفادار ساتھی، میرے بچپن کا دوست! اب اس میں کوئی شبہ نہیں تھا کہ وہ اسی پاپن کا بیر تھا۔ مجھے ابھی تک اپنی ذات کو درپیش کسی خطرے کا احساس نہیں ہوا تھا۔ اسی کے جال میں جکڑا ہوا تھا۔ وہ شاید اپنا پیٹ بھر چکی تھی۔ اس کے بعد اس نے مجھے دیکھا، مسکرائی اور بلی کی طرح دونوں ہاتھ آگے کرکے اور پائوں پیچھے کرکے اس نے انگڑائی لی پھر زمین پر دوچار لوٹیں لگائیں اور اس طرح آنکھیں بند کرکے لیٹ گئی جیسے سو گئی ہو لیکن میں نے اس کے وجود کو تبدیل ہوتے ہوئے دیکھا۔ اس کے بدن کی سیاہی چھٹ گئی اور وہ بالکل پہلے جیسی ہوگئی۔ اس نے قریب ہی پڑا ہوا سفید لباس اپنے کاندھوں پر ڈالا اور پھر آہستہ آہستہ چلتی ہوئی میرے سامنے پہنچ گئی۔ اب اس کی آنکھیں بھی بالکل ٹھیک تھیں۔ میرے جسم میں جیسے دوبارہ زندگی دوڑ گئی۔ میں نے ایک پھریری سی لی اور خونخوار نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ میں نے پھٹی پھٹی آواز میں کہا۔
’’مہاوتی! تو کون ہے؟ آج تیری اصل شکل میرے سامنے آگئی۔ بتا مجھے تو کون ہے؟ میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا، تو… تو میری روپ کلی کی قاتل ہے اور تو نے اتنی داسیوں کو اپنی بھینٹ چڑھایا ہے۔ بتا تو کون ہے… کون ہے تو…؟‘‘
’’آرام سے بیٹھ کر باتیں کرو چندر بھان! یہ جگہ تمہیں کیسی لگی…؟‘‘
’’میں تجھ سے پوچھتا ہوں مرنے سے پہلے مجھے اپنے بارے میں بتا دے تو اچھا ہے۔ تجھے زندہ چھوڑنا میری زندگی کا بدترین گناہ ہوگا۔‘‘
’’کالکی ہوں۔ کالی مائی کی پجارن ہوں اور کیا بتائوں تمہیں! گیان حاصل کررہی ہوں، شکتی حاصل کررہی ہوں، جیون بڑھا رہی ہوں اپنا، یہ انسانی گوشت، انسانی خون میری زندگی کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ سمجھ رہے ہو نا اور کیا پوچھنا چاہتے ہو؟‘‘
’’مگر تو… تو…؟‘‘
’’ہاں… ہاں بولو…‘‘
’’تو نے مجھے دھوکا دیا۔ تو مجھے وہاں انسانی روپ میں ملی تھی۔‘‘
’’یہ تو ہمارا کام ہے چندر بھان جی! اگر میں وہاں تمہارے من کو نہ بھاتی تو تم مجھے یہاں تک کیسے لے آتے؟ اگر میں تمہیں سب کچھ سچ سچ بتا دیتی تو سوگندکھا کر کہو، وہی کرتے تم، جو تم نے کیا، مجبوری تھی ایسی کون سی بات ہے، مگر تمہیں اس کھوج میں پڑنا نہیں چاہیے تھا۔ جو کچھ میں کررہی تھی، مجھے کرنے دیتے۔ یہ سب کچھ تو سیکڑوں سال سے کررہی ہوں، سیکڑوں سال سے…!‘‘
’’کیا مطلب…؟‘‘
’’اب سارے ہی مطلب جان لو گے۔ ڈھائی سو سال ہے میری عمر سمجھے! ہوسکتا ہے اس سے بھی کچھ زیادہ ہو۔ ڈھائی سو سال سے جی رہی ہوں میں اور… اور ہزاروں سال جینا چاہتی ہوں، ہزاروں سال جیتی رہوں گی۔ تھوڑا سا کام کرنا ہے مجھے بس! شکتی حاصل کرنا میری زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہے اور میں کافی شکتیاں حاصل کرکے اپنے آپ کو امر کرلینا چاہتی ہوں۔‘‘
’’دوسروں کی زندگیوں سے کھیل کر…؟‘‘
’’ہاں…! یہی تو کالی شکتی کی مانگ ہوتی ہے۔ کالے جادو کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تم! یہی وجہ ہے چندربھان جی! اور عام لوگوں کو جاننا بھی نہیں چاہیے۔ جو جان لیتے ہیں، وہ شکتی مان بن جاتے ہیں یا پھر شکتی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ اب تم دیکھو نا جنہوں نے جان لیا، وہ پتھر کے مجسموں میں تبدیل ہوگئے مگر تمہارے ساتھ ایسا کرنا ذرا ٹھیک نہیں رہے گا۔ چندر بھان جی! پتی ہو نا تم میرے، راج محل کے مالک ہو۔ پتا نہیں کہاں تمہاری ضرورت پیش آجائے۔ میں اپنے کام تو کرسکتی ہوں لیکن جو کام تمہیں کرنے ہوتے ہیں، وہ کون کرے گا؟ اس کا ایک ہی طریقہ ہے چندر بھان مہاراج! وہ یہ
کہ تم جیتے رہو اور ایسے جیو کہ سنسار سے تمہارا کوئی واسطہ نہ رہے۔ واسطہ رکھو گے تو میرے خلاف کام کرتے پھرو گے۔ جوگیوں، سادھوئوں اور سنتوں کے چکر میں پڑتے پھرو گے، مجھے بھی پریشانی ہوگی، تمہیں بھی اور انہیں بھی! اس سے بچائو کا ایک ہی طریقہ ہے تم بیمار ہوجائو چندر بھان! سمجھے، تم بیمار ہوکر اسی پرانی حویلی میں رہو ،کوئی تکلیف نہیں ہوگی تمہیں، جیتے رہو گے مگر ایسے نہیں کہ یہاں سے کہیں باہر چلے جائو اور میرے لیے پریشانیاں پیدا کرو۔‘‘
’’تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا میں! تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ وہ ہنس پڑی پھر اس نے زمین پر سے کوئی چیز اٹھائی، منہ کے قریب لا کر اس پر کوئی منتر پڑھا اور میری جانب اچھال دیا۔ مجھے یوں لگا جیسے میرے بدن میں آگ لگ گئی ہو۔ ایسی آگ کہ میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔ میرے کپڑے جل رہے تھے، نہ کہیں سے بدبو اٹھ رہی تھی، نہ دھواں نکل رہا تھا۔ لیکن مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے شعلے مجھے چاٹ رہے ہوں۔ میرے حلق سے دہشت بھری آوازیں نکل رہی تھیں اور میرا شریر جل رہا تھا۔ میں زمین پر گر کر لوٹنے لگا اور اس کے قہقہے تہہ خانے میں گونجتے رہے۔ پھر یہ آگ رفتہ رفتہ ٹھنڈی پڑتی چلی گئی۔ آگ ہی ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی مسعود، بلکہ میرا دماغ بھی ٹھنڈا ہوگیا تھا۔ جب ہوش آیا تو اس کمرے میں تھا جس کمرے میں تم اب مجھے دیکھ رہے ہو۔ میں اب بہتر کیفیت میں تھا۔ بس ایسے لگ رہا تھا جیسے کسی نے بدن کا سارا خون نچوڑ لیا ہو، جان ہی نہیں رہی تھی میرے ہاتھوں، پیروں میں! زمین پر چت پڑا ہوا تھا میں۔ بہت دیر اسی طرح گزر گئی پھر ذرا بدن میں کچھ جان واپس آئی تو ہمت پکڑی۔ اٹھ کر بیٹھ گیا اور ان واقعات کے بارے میں سوچنے لگا۔ پرانی حویلی کے اس کمرے کو میں اچھی طرح پہچانتا تھا۔ ظاہر ہے میرے پرکھوں کی حویلی تھی۔ اس نے مجھے قید کردیا تھا اور یہ بات مجھے اچھی طرح معلوم تھی کہ وہ دروازہ کھولے بغیر میں باہر نہیں نکل سکتا اور دروازہ باہر سے بند ہو تو کوئی بڑے سے بڑا سورما اسے توڑ نہیں سکتا۔ یہ پرانے دور کے بنے ہوئے دروازے ہیں۔ ان پر بڑی ضربیں لگائی جائیں تب بھی ٹس سے مس نہ ہوں جبکہ میرے پاس یہاں کچھ نہیں تھا، خالی ہاتھ تھا میں۔ تب پہلی بار میں نے مچنڈا کو دیکھا۔ وہ آدمی جو اس دن تمہیں بھی نظر آیا تھا۔ گونگا مچنڈا! وہ کون ہے، کیا ہے، میں نہیں جانتا۔ شکل و صورت سے وہ بھی مجھے کوئی گندی آتما ہی لگتی ہے مگر میں مچنڈا کو دیکھ کر کھڑا ہوگیا۔ وہ میرے لیے کھانے پینے کی چیزیں لایا تھا جو ایک تھال میں رکھی ہوئی تھیں۔ اس نے یہ تھال رکھا واپس پلٹا تو میں نے اس پر چھلانگ لگا دی اور اسے دبوچ لیا۔ وہ گینڈے جیسی طاقت رکھتا ہے۔ کسی بھینسے کی طرح ٹکر مار کر دیواریں ہلا سکتا تھا مگر مقابلہ چندنا سے ہوگیا تھا اور چندنا کے بارے میں، میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ اس کا ثانی بھٹنڈہ اور اس کے آس پاس کہیں نہیں تھا۔ میں اس سے زور آزمائی کرتا رہا۔ وہ مجھ پر حملے نہیں کررہا تھا بلکہ اپنا بچائو کررہا تھا۔ بالآخر میں نے اسے کندھے پر اٹھا کر زمین پر دے مارا اور اس کے سینے پر چڑھ کر بیٹھ گیا لیکن مجھے یہ محسوس ہوا کہ پیچھے کوئی آیا ہے اور ایک بار پھر میرے حلق سے دہشت بھری چیخیں نکلنے لگیں۔ اسی آگ نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ آہ…! دوبارہ میں اس آگ سے دوچار ہوچکا ہوں اور شاید الفاظ میں تمہیں اس کی جلن نہ بتا سکوں۔ ایسی شدید آگ ہوتی ہے وہ کہ بھگوان ہر انسان کو اس سے محفوظ رکھے۔ وہ نرکھ کی آگ ہے مسعود! نرکھ کی آگ ہے۔ اس آگ نے ایک بار پھر مجھے بے ہوش کردیا اور اس کے بعد جب دوبارہ مجھے ہوش آیا تو آگ ٹھنڈی ہوچکی تھی لیکن میرے ہاتھوں، پیروں اور کمر میں یہ زنجیریں پڑی ہوئی تھیں۔ زنجیروں کی لمبائی اتنی ہے کہ بس میں تھوڑی ہی دور تک پہنچ سکوں۔ مچنڈا آتا ہے میرے لیے کھانے پینے کی چیزیں لاتا ہے۔ مجھے جنگل پانی کو لے جاتا ہے مگر اپنا فاصلہ اتنا رکھتا ہے وہ کہ میں اس تک نہ پہنچ پائوں اور اس وقت سے میں اسی طرح جی رہا ہوں۔ بھگوان کی سوگند ایک بار مجھے ان زنجیروں سے نجات مل جائے تو میں کم ازکم مچنڈا کو ضرور ہلاک کردوں۔ اس پاپی کو جو گونگا ہے لیکن اس عورت کا ہرکارہ ہے۔ یہ ہے میری کہانی مسعود! میں نجانے کب سے یہاں قید ہوں۔ اس نے مجھے بیمار مشہور
کررکھا ہے، کسی کو میرے پاس نہیں آنے دیتی۔ بہت چالاک ہے وہ نجانے کس کس طرح لوگوں کو ٹالتی رہتی ہے۔ میں جانتا ہوں جب تک میں جیتا ہوں، وہ میری ضرورت محسوس کرتی ہے۔ مر جائوں گا تو وہ اس وقت تک سارا نظام سنبھال چکی ہوگی۔ کبھی کبھی وہ مجھ سے کاغذوں پر دستخط کرانے آتی ہے اور میں اس کے جادو کے زیراثر اس کے کہنے پر عمل کرلیتا ہوں مگر جب وہ چلی جاتی ہے تو جادو کا اثر مجھ پر سے ختم ہوجاتا ہے اور اس وقت اس کے لیے میرے دل میں نفرت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ایسی زندگی گزار رہا ہوں میں! یہ زندگی گزار رہا ہوں۔‘‘
میں شدت حیرت سے گنگ تھا۔ زبان کچھ کہنے سے قاصر تھی۔ اس نے مہاوتی کی جو شکل بتائی تھی، اس شکل میں، میں بھی مہاوتی کو دیکھ چکا تھا۔ ایک لفظ جھوٹ نہیں معلوم ہوتا تھا چندر بھان کا اور اس طرح مہاوتی کی شخصیت بھی سامنے آجاتی تھی۔ کس جال میں پھنس گیا میں…! نہ مجھے اس جادوگرنی کی زندگی سے کوئی دلچسپی تھی، نہ موت سے…! میں تو یہاں سے واپس جانا چاہتا تھا۔ حاجی فیاض الدین احمد نے نجانے مجھے کس مصیبت میں پھنسا دیا تھا۔ کم بخت نوشاد چلا گیا تھا۔ بھگوتی پرشاد اپنی جان بچا کر نکل گیا تھا اور میں یہاں اس عذاب میں گرفتار ہوگیا تھا۔ اس نے مجھے کیوں قید کررکھا ہے۔ کیا وہ میرا بھی گوشت کھانا چاہتی ہے؟ لیکن اب تک تو جو بات علم میں آئی ہے، وہ یہ ہے کہ وہ عورتوں ہی کو کھاتی ہے اور اس دن بھی میں نے ایک عورت ہی کے جسم کو دیکھا تھا یعنی رجنا وتی! معصوم اور مظلوم رجنا وتی…! چند لمحات کے بعد چندر بھان کی آواز سنائی دی۔ ’’ڈر گئے … ڈر گئے تم…؟‘‘
’’نہیں چندر بھان! سوچ رہا ہوں اس کے بارے میں۔‘‘
’’کوئی اس کے بارے میں ڈرے بغیر بھی سوچ سکتا ہے مگر تم سے وہ ضرور کچھ چاہتی ہوگی۔ دیکھو مشورہ دیتا ہوں تمہیں۔ بھاگ سکتے ہو تو بھاگ جائو اور اگر نہیں بھاگ سکتے تو پھر جو کچھ وہ کہہ رہی ہے، وہ کرلو… ورنہ پتھر بنا دیئے جائو گے۔ ہوسکتا ہے اگر تم سے اس کا مقصد پورا ہوجائے تو وہ تمہیں نکل جانے دے یا پھر تمہیں اپنا مستقل ساتھی بنا لے۔ اگر ایسا بھی ہوجائے تو تمہارا ہی نہیں بہتوں کا بھلا ہوگا۔ اس سے یہ معلوم کرنا کہ وہ کیسے کسی جال میں پھنس سکتی ہے اور ہم سب کیسے بچ سکتے ہیں۔‘‘
’’چندر بھان! اگر مچنڈا ہلاک ہوجائے تو میں تمہیں یہاں سے رہا کرانے کی کوشش کرسکتا ہوں۔‘‘
’’مچنڈا تمہارے بس کی بات نہیں ہے، کسی کے بھی بس کی بات نہیں ہے۔ میں ہی مار سکتا ہوں اسے! ایک بار وہ میرے قبضے میں آجائے۔ یقین کرو جو زبان سے کہہ رہا ہوں، کرکے دکھا دوں گا۔ نہ کروں تو کتا کہہ دینا، چندر بھان مت کہنا۔‘‘
’’تو پھر ٹھیک ہے چندر بھان! میں کوشش کروں گا کہ مچنڈا تمہارے ہاتھ لگ جائے۔‘‘ چندر بھان نے کوئی جواب نہیں دیا۔ یقینی طور پر میری بات ہی اس کی سمجھ میں نہیں آئی ہوگی لیکن یہ الفاظ بھی بلاوجہ نہیں کہے تھے۔ دروازے کے اوپر ایک ایسی چھوٹی سی جگہ بنی ہوئی تھی جو دروازے ہی کا ایک حصہ تھی لیکن…! لیکن کچھ کیا جاسکتا تھا وہاں سے، کچھ کیا جاسکتا تھا اور میں اس بارے میں سوچتا رہا۔ پھل ختم ہوگئے۔ گل سڑ گئے اور مجھے بہت سی مشکلات سے گزرنا پڑا۔ غالباً تیسرا دن تھا جب آج مچنڈا پھر آیا۔ گلے سڑے پھل اٹھا کر لے گیا، نئے پھل رکھ گیا۔ ابھی تک مہاوتی کی طرف سے مجھے نہ تو کوئی پیام ملا تھا اور نہ ہی کسی نے میری خبرگیری کی تھی۔ مچنڈا کے بارے میں یہ اندازہ میں نے لگا لیا کہ وہ تیسرے ہی دن پھر آئے گا۔ اس دوران میری اور چندر بھان کی باتیں ہوتی رہتی تھیں۔ اپنے بارے میں تو میں نے چندر بھان کو کوئی خاص بات نہیں بتائی۔ مگر وہ اپنے پرکھوں کے بارے میں نجانے کیا کیا کہانیاں سناتا رہتا تھا۔ معذرت بھی کرتا تھا۔ مجھ سے کہ وہ زیادہ بولتا ہے مگر میں نے اسے اجازت دے دی تھی۔ میں جانتا تھا کہ انسان کی ذہنی کیفیت تنہا رہ کر کیا ہوجاتی ہے۔ پھر چھٹا دن ہوگیا۔ کچھ پھل بچ گئے تھے، زیادہ تر میں نے کھا لیے تھے۔ کمرے میں ناقابل برداشت بدبو پھیل چکی تھی۔ طبیعت ویسے ہی ہر وقت متلاتی رہتی تھی۔ آج زندگی اور موت کی بازی لگانے کا فیصلہ کرچکا تھا۔ پہلے مچنڈا سے نمٹ لیا جائے اور اگر اس میں کامیابی ہوجائے تو ٹھیک ہے ورنہ پھر جو بھی ہوگا، دیکھا جائے گا۔ یہاں رہنا اب میرے لیے ممکن نہیں رہا تھا۔ مچنڈا کے آنے کا وقت
میں نے اپنے جسم کو سمیٹا اور دروازے کے اوپر بنی ہوئی چھوٹی سی جگہ چڑھ گیا۔ اس مختصر جگہ پر خود کو سنبھالنا بہت مشکل کام تھا لیکن یہ زندگی بچانے کا معاملہ تھا اور ایسے اوقات میں انسان وہ کچھ کر جاتا ہے جو عام حالات میںکسی طور ممکن نہ ہو۔ میں چھپکلی کی طرح وہاں چپکا رہا۔ خوش قسمتی سے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ دروازے پر آہٹ ہوئی، دروازہ کھلا اور مچنڈا نئے پھل اٹھائے اندر داخل ہوگیا۔ وہ جھونک میں سیدھا آگے بڑھ گیا۔ یہی موقع تھا میں نے بدن کو سکوڑ لیا اور جھپاک سے دروازے سے باہر رینگ گیا۔ مجھے نہ پا کر مچنڈا کی کیا کیفیت ہوئی، اس کا اندازہ لگانا تو ممکن نہیں تھا لیکن اس وقت صورتحال اچانک دہری شکل اختیار کر گئی۔ یہاں سے نکل کر بھاگ سکتا تھا۔
ایسی سمت اختیار کرسکتا تھا جس سے محل سے ہی باہر نکل جائوں۔ لیکن یہاں ایک مصیبت زدہ اور تھا۔ تنہا بے آسرا…! یہ غیر انسانی عمل تھا۔ اپنی ذات سے پیار کسی اور سے اپنی ذات کے لیے اجتناب تو پوری زندگی نہیں کیا تھا، اب کیا کرتا۔ سوچنے کا وقت نہیں تھا۔ جو کچھ بھی کرنا تھا، برق رفتاری سے کرنا تھا۔ چنانچہ آگے بڑھ کر چندر بھان کے کمرے کی کنڈی کھولی اور دروازے کا پٹ بھی تھوڑا سا کھول دیا۔ چندر بھان کی بتائی ہوئی کچھ باتیں یاد تھیں اور اس وقت ان پر عمل کرنا تھا۔ چھپنے کے لیے ایک ستون تلاش کیا ہی تھا کہ مچنڈا کی غراہٹیں سنائی دیں۔ وہ آندھی طوفان کی طرح باہر نکلا اور ادھر ادھر دوڑنے لگا۔ اس پر دیوانگی سی طاری تھی۔ میں ستون کی آڑ میں چھپ کر اسے دیکھنے لگا۔ پھر مچنڈا کی نگاہ چندر بھان کے قید خانے کے دروازے پر پڑی۔ وہ اس طرف دوڑا۔ دروازے کو پورا کھولا اور اندر داخل ہوگیا۔ مچنڈا کمرے میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا اور چندر بھان اٹھ کر کھڑا ہوگیا تھا۔ شاندار تن و توش کے مالک چندر بھان کے چہرے پر مچنڈا کے لیے نفرت کے آثار تھے۔ اس نے مجھے دیکھ لیا جبکہ مچنڈا کی پشت میری طرف تھی۔ دروازے سے اندر گھستے ہی میں نے خود کو سنبھالا اور پھر پوری قوت سے مچنڈا کو آگے دھکیل دیا۔ اس کے ساتھ ہی میں نیچے گر گیا۔
’’چندر بھان! سنبھالو اسے!‘‘ مچنڈا سنبھل نہ پایا اور چندر بھان سے کچھ فاصلے پر جاگرا۔ چندر بھان فوراً میرا مقصد سمجھ گیا۔ اپنی وزنی زنجیریں سنبھالے وہ مچنڈا کے پیچھے آگیا۔
’’کھڑا ہوجا اے مہاوتی کے کتے! بڑا لمبا حساب کرنا ہے تجھ سے۔‘‘ اس نے ہاتھ پھیلا کر کہا۔
مچنڈا کے چہرے پر خوف کے آثار صاف نظر آرہے تھے۔ وہ بھاگنے کا راستہ تلاش کررہا تھا چندربھان چیخا۔ ’’دروازہ… دروازہ…!‘‘ میں نے پھرتی سے پلٹ کر دروازہ بند کردیا۔ مچنڈا نے بھیانک چیخ ماری اور ایک طرف ہوکر نکل بھاگنے کی کوشش کی لیکن چندر بھان نے زنجیر اٹھا دی اور وہ الجھ کر گر پڑا۔ ’’بڑے دنوں کی پیاس ہے سسرے! آج بجھے گی۔‘‘ اس کے ساتھ ہی وہ مچنڈا پر ٹوٹ پڑا۔ اس نے مچنڈا پر گرفت قائم کرلی اور مچنڈا اس کی گرفت سے نکلنے کے لیے زور لگانے لگا۔ چندر بھان بولا۔ ’’تم مسعود ہو نا۔‘‘
’’ایں… ہاں!‘‘
’’میں نے تمہیں چندنا کے بارے میں بتایا تھا؟‘‘
’’ایں… ہاں!‘‘
’’تو دیکھو چندنا کو! یہ حرام خور مہاوتی کا کتا ہے۔ گندی آتما کی پیداوار…! مگر جب چندنا اکھاڑے میں ہوتا ہے تو پھر چندنا ہی ہوتا ہے۔ ذرا دیکھو اس کو، یہ کلی پٹکا ہے، چندنا کا مخصوص دائو!‘‘ چندر بھان نے مچنڈا کے اوپری سمت آکر پہلے اس کی ٹانگوں میں دونوں ہاتھ پھنسائے، اپنی ٹھوڑی اس کی ریڑھ کی ہڈی پر رکھی اور اس کے بعد اپنے ہی لمبے ہاتھوں سے مچنڈا کی دونوں کلائیاں پکڑ لیں، حالانکہ زنجیریں اسے اس برق رفتاری سے اپنا عمل کرنے کا موقع نہیں دے رہی تھیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ چندر بھان جسمانی طور پر کسی ہاتھی جیسی قوت کا مالک تھا۔ مچنڈا کو اس طرح اٹھا لینا کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں تھی۔ ٹھوڑی اس کی ریڑھ کی ہڈی سے ٹکا کر اور اس کے دونوں ہاتھوں کی کلائیاں پکڑ کر چندر بھان نے اپنے گھٹنے زمین پر ٹکائے اور مچنڈا کے دونوں ہاتھ پیچھے سے گھسیٹ کر اسے اپنے شانوں پر لیے کھڑا ہوگیا اور اس کے بعد وہ برق رفتاری سے دوڑا اور مچنڈا کو دیوار سے دے مارا۔ مچنڈا کے حلق سے نکلنے والی چیخ اس قدر زور دار تھی کہ کانوں کے پردے جھنجھنا کر رہ گئے۔ اس کا سر پھٹ گیا تھا اور


خون کی دھاریں بہنے لگی تھیں۔ چندر بھان نے ایک ہی دائو میں اسے ادھ مرا کردیا تھا لیکن اس کے باوجود مچنڈا نے زمین پر لوٹ کر اپنے آپ کو سنبھالا۔ چندر بھان ہی کی زنجیروں کا سہارا لیا اور اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ اس کا چہرہ خون سے سرخ ہوکر اتنا بھیانک لگ رہا تھا کہ کمزور دل والا آدمی اسے دیکھ لیتا تو وہیں اس کے دل کی حرکت بند ہوجاتی۔ اس کے فوراً بعد وہ اندھوں کی طرح چندر بھان پر لپکا تھا لیکن چندر بھان اپنی پہلوانی کے دائو پیچ دکھا رہا تھا۔ اس نے ایک بار پھر اپنے بدن کو بل دیا۔ مچنڈا کی کمر میں دونوں ہاتھ ڈالے اسے اٹھا کر کندھے پر رکھا اور پشت کی طرف سے زمین پر دے مارا۔ ایک ضرب چہرے پر لگی تھی، دوسری سر کے پچھلے حصے میں شانے اور گردن پوری قوت سے زمین سے ٹکرائی تھیں۔ مچنڈا کے حلق سے اب درد بھری آوازیں نکلنے لگی تھیں۔ اس نے پھر اپنے آپ کو بچا کر نکلنا چاہا لیکن اس بار وہ جونہی گھٹنوں کے بل اٹھا، چندر بھان پہلے سے تیار تھا۔ اس نے موٹی کڑیوں والی زنجیر مچنڈا کے گلے میں لپیٹ دی اور اسے دو بل دینے کے بعد مچنڈا کی پشت پر سوار ہوگیا۔ درحقیقت اس وقت چندر بھان ایک وحشی جانور لگ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر شدید نفرت کے آثار تھے، دانت بھنچے ہوئے تھے اور وہ مچنڈا کی گردن زنجیر سے دبا رہا تھا۔
میں ساکت کھڑا طاقت کا یہ کھیل دیکھتا رہا۔ مچنڈا کے حلق سے نکلنے والی غراہٹیں اب خرخراہٹوں میں تبدیل ہونے لگی تھیں اور اس کے اعضاء ڈھیلے پڑتے جارہے تھے۔ دونوں ہاتھ سیدھے ہوکر بار بار نیچے گر رہے تھے۔ زبان باہر نکل آئی تھی۔ اب وہ زنجیر پکڑنے کی کوشش بھی نہیں کررہا تھا۔ غالباً اس کے ہاتھوں میں اتنی جان ہی نہیں رہی تھی کہ وہ اس کی مرضی کے مطابق رخ تبدیل کرسکیں۔ چندر بھان نے چند لمحات اس طرح اس کی گردن پر طاقت صرف کی اور پھر اسے چھوڑ دیا۔ اس کے چہرے پر شدید وحشت نظر آرہی تھی۔ پھر اس نے ادھر ادھر دیکھا اور میری نگاہیں اس کی نگاہوں سے ملیں تو وہ کچھ معتدل ہوا۔ مچنڈا زمین پر بے حس و حرکت پڑا ہوا تھا۔ چندر بھان نے اس کے سینے پر پائوں رکھتے ہوئے کہا۔
’’یہ ہے مہاوتی کا بیر سمجھے مسعود، دیکھا تم نے چندنا کو میرے مدمقابل جب بھی اکھاڑے میں میرے سامنے آتے تھے، ان کے بدن پر پہلے ہی کپکپی طاری ہوجاتی تھی کیونکہ اس سے پہلے وہ میری دوسری کشتیاں دیکھ چکے ہوتے تھے۔ اپنے مدمقابل کے لیے میرا دل یہ کبھی نہیں چاہتا کہ وہ اپنے پیروں سے اکھاڑے سے واپس جائے۔ بعض اوقات تو بارہا میرے دل میں یہ خواہش ابھری کہ لوگ مجھے یہ بتائیں کہ جس نے مجھ سے کشتی لڑی تھی، وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے مگر میرے دوست اوہو… اوہو! تم… تم!‘‘ چندر بھان کو اب اس بات کا احساس ہوا تھا کہ یہ سب کیا ہوگیا۔ میرا اس قید خانے سے نکل آنا اور اس کے بعد مچنڈا کو چندر بھان کی طرف دھکیل دینا، ان ساری باتوں پر اب اسے حیرت ہوئی تھی۔ میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ میں نے کہا۔
’’اور جو منصوبہ میں نے بنایا تھا چندر بھان! وہ اس حد تک کامیاب ہوگیا…؟‘‘
’’مگر تم نکلے کیسے وہاں سے…؟‘‘
’’بس! ایک تدبیر کارگر ہوگئی تھی۔‘‘
’’آہ! مچنڈا سے تو ہمیں نجات مل گئی ہے لیکن اس زنجیر کو اور ان کڑوں کو توڑنا میرے بس کی بات نہیں ہے۔ یہاں مچنڈا کے علاوہ اور کوئی پہریدار نہیں ہوتا تھا۔ تم…تم کوئی ایسی چیز تلاش کرو مسعود! جس سے میری زنجیریں کھل جائیں۔ کوئی بڑا ہتھوڑا، کوئی ایسی چیز یہ سب کچھ یہ سب کچھ توڑنا میرے بس کی بات نہیں ہے۔ ہزار کوششیں کرچکا ہوں۔ بس کلائیاں زخمی ہوجاتی ہیں، پائوں زخمی ہوجاتے ہیں، کمر دکھنے لگتی ہے اور کچھ نہیں ہوتا۔‘‘
میں نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری، ان کڑوں کو ایک بار پھر قریب سے دیکھا۔ کھینچا تانی کی لیکن یہ ساری کارروائی مجھے مضحکہ خیز ہی لگ رہی تھی۔ یہ سب کچھ کرنا میرے بس کی بات نہیں تھی اور اب اس کے علاوہ اور کوئی چارئہ کار نہیں تھا کہ باہر نکل کر کوئی ایسی چیز تلاش کروں۔ میں نے چندر بھان سے کہا۔
’’ہمت نہیں ہارنا چندر بھان! میں اگر چاہتا تو اکیلا بھی بھاگ سکتا تھا لیکن میںنے یہی سوچا کہ پہلے مچنڈا سے نجات حاصل کرلی جائے۔ اس کے بعد دونوں یہاں سے فرار کا پروگرام بنائیں گے۔‘‘ چندر بھان کے چہرے پر شکر گزاری کے آثار نظر آئے۔اس نے کہا۔
’’دیر نہ کرو، جائو کوئی
چیز تلاش کرو جس سے یہ کڑیاں کھل سکیں اور کچھ نہ ہوسکے تو یہ زنجیروں کی کڑیاں ہی درمیان سے ٹوٹ جائیں۔ کام بن جائے گا۔‘‘ میں نے دروازے کی جانب رخ کیا۔ دل ڈر رہا تھا کہ مہاوتی اس طرح یہ سارا معاملہ مچنڈا کے شانوں پر چھوڑ کر بے خبر تو نہ ہوگئی ہوگی۔ پہلے صرف چندر بھان اس کا قیدی تھا۔ چلو ٹھیک ہے چندر بھان کے بارے میں وہ سب کچھ جانتی تھی لیکن میرے بارے میں بھی جانتی تھی۔ کہیں یوں نہ ہو کہ ساری محنت اکارت چلی جائے لیکن اب جبکہ اتنا عمل کرچکا تھا تو چندر بھان کو بے سہارا چھوڑنا حماقت کی بات تھی۔ میں وہاں سے نکلا اور چاروں طرف بھٹکنے لگا۔ یہ پرانی حویلی عجیب و غریب طرز تعمیر کا نمونہ تھی۔ پیچ در پیچ کمرے، پتلی پتلی راہداریاں جن کا کوئی جواز سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ ایک طرح سے بھول بھلیاں ہی بنی ہوئی تھیں اور میں ان بھول بھلیوں میں سے گزر کر چاروں طرف نگاہیں دوڑاتا ہوا کسی ایسی چیز کی تلاش میں تھا جس سے چندر بھان کے ان کڑوں کی زنجیریں توڑی جاسکیں لیکن یقین نہیں تھا۔ ایسی کون سی مضبوط چیز ہاتھ آسکتی ہے۔ وہ ایک کمرہ تھا جس میں، میں داخل ہوا۔ نیم تاریک ماحول میں وہاں مجھے کچھ چیزیں نظر آئیں اور جب میری آنکھوں نے ایک وزنی ہتھوڑا دیکھا تو خوشی سے چمک اٹھیں۔ یہ ہتھوڑا ایک سمت سپاٹ اور دوسری طرف سے چھینی کا سا ڈیزائن رکھتا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے یہ اسی مقصد کے لیے یہاں رکھا گیا ہو کہ میں چندر بھان کی زنجیر کاٹ دوں۔ پھرتی سے ہتھوڑے کی طرف لپکا اور میں نے اس کا دستہ پکڑ کر اسے اٹھانا چاہا۔ دستہ جونہی سیدھا ہوا، مجھے اپنے عقب میں سرسراہٹیں محسوس ہوئیں۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو لوہے کا ایک فولادی جنگلہ میرے اور اس دروازے کے درمیان حائل ہوگیا تھا جس سے میں اندر داخل ہوا تھا۔ عقبی سمت سپاٹ دیواریں تھیں اور بہت چھوٹی سی جگہ تھی۔ میں حیرت سے اس ہتھوڑے کو دیکھنے لگا۔ میں نے دیکھا کہ وہ اپنی جگہ جتنا میں اسے اٹھا چکا تھا، وہاں ساکت ہوگیا ہے۔ اس کا اگلا سرا زمین پر ویسے ہی پڑا ہوا تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا جیسے نیچے سے وہ زمین میں پیوست ہو۔ چند لمحات کے بعد یہ بات میری سمجھ میں آئی کہ یہ کوئی ہتھوڑا نہیں تھا بلکہ ایک ایسی چیز تھی جسے اس آہنی دروازے کا کنٹرول سسٹم کہا جاسکتا ہے۔ یعنی اس کا دستہ اٹھانے سے آہنی دروازہ چھت سے نکل کر دستہ اٹھانے والے اور دروازے کے درمیان حائل ہوجائے۔ ناقابل یقین سی بات تھی۔ یہ سب کچھ کیسے سوچا گیا تھا ۔کیا مہاوتی مجھ پر نگاہیں رکھ رہی ہے، کیا یہ سب کچھ اس کی اسکیم کے مطابق ہے۔ اس کے علاوہ اور کیا سوچا جاسکتا تھا۔ ہتھوڑے کے دستے کو میں نے بدن کی پوری قوت سے نیچے دبانے کی کوشش کی۔ یہ سوچ کر کہ شاید آہنی دروازہ واپس اپنی جگہ چلا جائے لیکن وہ اس طرح ساکت ہوگیا تھا کہ ٹس سے مس نہیں ہورہا تھا۔ گویا میں قید ہوگیا۔
بیچارہ چندر بھان… بیچارہ چندر بھان! اس کی تقدیر میں شاید آزادی نہیں۔ فولادی سلاخوں والے دروازے کو میں نے بری طرح جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر دیکھا لیکن اس میں کوئی جنبش نہیں تھی۔ بالکل سوچی سمجھی اسکیم تھی، بالکل سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ میں ایک قید خانے سے نکل کر دوسرے قیدخانے میں جا پڑا تھا اور اب مچنڈا بھی یہاں موجود نہیں تھا۔ بہت دیر تک جدوجہد کرتا رہا۔ ہتھوڑے پر بھی جس قدر طاقت صرف کرسکتا تھا، کرلی اور جب تھک ہار گیا تو ننگے فرش پر دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ بلاشبہ تعجب خیز بات تھی لیکن کم ازکم میرے لیے نہیں کیونکہ اب تک جن حالات سے گزر چکا تھا، ان میں انہونے واقعات اس قدر ہوئے تھے کہ کسی بھی واقعے پر بہت زیادہ حیرت نہیں ہوتی تھی۔ دکھ ہورہا تھا یہ سوچ سوچ کر چندر بھان کی نگاہیں دروازے پر لگی ہوں گی۔ اس کے دل میں آس پیدا ہوگئی ہوگی۔ ہر آہٹ پر منتظر ہوگا اس بات کا کہ میں واپس پہنچوں اور اسے اس طویل ترین قید سے نجات مل جائے۔ درحقیقت اپنی کوئی فکر میں نے پہلے بھی نہیں کی تھی، اب بھی نہیں تھی لیکن بیچارہ چندر بھان ان تمام سوچوں کے علاوہ اس وقت اور کچھ نہیں رہ گیا تھا۔ اب دیکھنا یہ تھا کہ اس نئی قید میں میرا کیا حشر ہوتا ہے۔ مہاوتی کو میری اس نئی قید کے بارے میں معلوم ہے بھی یا نہیں اور جب اسے یہ معلوم ہوگا کہ مچنڈا مرچکا ہے تو اس پر کیا ردعمل ہوگا۔ وقت
گزرتا رہا۔ رات گئی۔ بیٹھے بیٹھے تھک گیا تو لیٹ گیا۔ روشندانوں سے سفید چاندنی چھن رہی تھی۔ اب تک کوئی آواز نہیں سنائی دی تھی۔ کسی کو میری اس افتاد کے بارے میں نہیں معلوم ہوسکا تھا۔ اب جو ہوگا، دیکھا جائے گا۔ بھاڑ میں جائے سب کچھ! رات گزری، صبح ہوئی، دوپہر پھر شام! گھپ اندھیرا پھیل گیا اور اچانک مجھے کچھ سرسراہٹیں محسوس ہوئیں۔ سلاخوں دار دروازہ یونہی تھا لیکن پچھلی دیوار کھسک رہی تھی اور اس سے روشنی کی لکیریں اندر آنے لگی تھیں۔ پھر دیوار پوری ہٹ گئی اور سامنے وہی باغ نظر آنے لگا جسے میں دیکھ چکا تھا۔ ہوائوں کے جھونکے اندر آگئے اور بڑی تازگی محسوس ہوئی۔ دوڑ کر باہر نکل آیا مگر باہر قدم رکھتے ہی ٹھٹھک گیا۔ سامنے ہی سندری نظر آرہی تھی۔ وہ خاموشی سے مجھے دیکھ رہی تھی۔ اس نے بڑے سکون سے کہا۔
’’آئو!‘‘ میں آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا اس کے قریب پہنچ گیا۔ اس کے نزدیک خوش رنگ پھلوں کے تھال رکھے ہوئے تھے۔ ’’بیٹھو!‘‘ وہ بولی۔
’’تم یہاں کیا کررہی ہو۔‘‘ میں نے پوچھا۔
’’تمہارا انتظار! بیٹھو نا؟‘‘
’’نہ بیٹھوں تو…؟‘‘ میں نے کہا اور وہ عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھنے لگی۔ پھر بولی۔ ’’کوئی فائدہ نہ ہوگا۔‘‘
’’کیا مطلب…؟‘‘
’’اپنی سمجھ سے کام نہیں لیتے۔‘‘
’’جو کچھ کہہ رہی ہو، صاف الفاظ میں کہو۔‘‘
’’اس سے پہلے تم اپنے قید خانے سے نکل سکے۔ تم خود جانتے ہو کہ تمہیں نکالا گیا ہے اور جب نکالا گیا ہے تو یہ بھی سوچا گیا ہوگا کہ تم بھاگ سکتے ہو گے۔ یہ سوچا ہوگا تو بندوبست بھی کیا گیا ہوگا کہ بھاگ نہ سکو۔ کیا فائدہ ایک کے بعد دوسری مصیبت میں پھنسنے سے!‘‘
’’خوب! بات تو سمجھداری کی ہے۔‘‘ میں نے مسکرا کر کہا۔
’’تو بیٹھو۔‘‘ اس نے کہا اور میں گہری سانس لے کر بیٹھ گیا۔
’’گویا اب میں ایک آزاد قیدی ہوں۔‘‘
’’لو پھل کھائو۔ تم بھوکے ہو۔‘‘
’’کیا چھپا ہے ان پھلوں میں؟‘‘
’’تمہاری سوگند یہ پوتر ہیں، پیڑوں سے اترے ہوئے۔‘‘
’’قسم بھی میری کھا رہی ہو۔‘‘
’’ہاں! اس کی وجہ ہے۔‘‘
’’کیا؟‘‘ میں نے پوچھا اور سندری خاموش ہوگئی۔ دیر تک کچھ نہ بولی۔ پھر اس نے عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھا اور مدھم لہجے میں بولی۔
’’پہلے میں صرف مہا دیوی کے حکم سے تم سے ملتی تھی۔ اب بھی انہی کے حکم سے یہاں آئی ہوں مگر میرے من میں تمہاری ہمدردی اتر آئی ہے۔ تم میرے محسن ہو، تم نے مجھ پر احسان کیا ہے۔‘‘
’’میں نے … احسان…؟‘‘
’’تو اور کیا…! مجھے شنکھا اٹھا لے گیا تھا بھینٹ چڑھانے، کوئی میری رکھشا نہ کرسکا تھا۔ اگر تم شنکھا کی بات ماننے سے انکار نہ کردیتے تو میرا جیون چلا گیا تھا۔ اس لیے اب تمہارا یہ احسان مجھ پر ہے۔‘‘
’’اوہو…! اچھا تو پھر اس احسان کے کچھ اور بدلے بھی چکائو۔‘‘
’’کہو۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے گردن ہلائی۔
’’کچھ باتیں پوچھنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’یہ پھل کھائو، ان میں کوئی کھوٹ نہیں ہے، پیڑوں سے اتارے ہوئے ہیں۔‘‘ اس نے کہا۔
’’کھا لوں گا۔ مجھے جلدی نہیں ہے۔‘‘
’’عجیب ہو۔ خیر پوچھو کیا پوچھنا چاہتے ہو؟‘‘
’’بہت سے سوال ہیں۔‘‘
’’پوچھو۔‘‘
’’پہلا سوال۔ مجھے کیوں نکالا گیا ہے؟‘‘
’’میں نہیں جانتی۔ بس مجھے یہاں تمہاری سیوا کے لیے بھیجا گیا ہے۔‘‘
’’مہاوتی کہاں ہے؟‘‘
’’محل میں۔‘‘
’’اسے میری نئی قید کے بارے میں معلوم تھا؟‘‘
’’کیوں نہیں! جو ہورہا ہے، مہا دیوی کی مرضی سے ہورہا ہے۔ ویسے تمہارے لیے مہا دیوی بھی حیران ہیں۔‘‘
’’کیوں…؟‘‘
’’شمبھو مہاراج اور وہ باتیں کرتے ہیں۔ مہا دیوی کہتی ہیں کہ تم بڑے شکتی مان ہو۔ بہت کچھ کرسکتے ہو مگر نہیں کرتے۔ نہ جانے کیوں؟‘‘
’’اب وہ کیا چاہتی ہے؟‘‘
’’تمہاری ہی سوگند مجھے نہیں معلوم۔‘‘
’’سندری! تمہیں شنکھا اٹھا لے گیا تھا۔ فرض کرو اگر میں اس کی بات مان لیتا تو تمہاری زندگی تو ختم ہوگئی تھی۔‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’مہاوتی نے تمہاری مدد نہیں کی؟‘‘
’’اوّل تو مہادیوی کالی جاپ کرنے گئی ہوئی تھیں اور پھر شنکھا سے تو وہ مقابلہ نہیں کرسکتی تھیں۔‘‘
(جاری ہے)