Kala Jadu | Episode 47

1404
آنے والے نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ’’اسی لیے مہاراج رات کی تاریکی میں آیا ہوں آپ کو دُکھ دیا معاف کر دیں۔‘‘ اس کی آواز آنسوئوں میں گندھی ہوئی تھی۔
’’تمہارا معاملہ قدرت کے ہاتھ ہے خدا کا یہ گناہ گار بندہ اگر تمہاری کچھ مدد کر سکتا ہے تو اس سے گریز نہیں کرے گا۔‘‘
’’بپتا سنو گے میری؟‘‘ وہ بولا۔
’’ضرور سنوں گا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’بنسی راج بہادر ہے میرا نام… کھرا برہمن ہوں ، بیس باغ کا مالک ہوں اور ہزاروں بیگھے زمین چھوڑی ہے پرکھوں نے، ساتھ میں یہ نصیحت بھی کہ اپنے علاوہ سب کو نیچ سمجھو، دولت سنسار کی سب سے بڑی بڑائی ہے۔‘‘
’’کیسا پایا اس نصیحت کو۔‘‘
’’مار دیا سسروں نے مجھے یہ سوچ دے کر… سنسار میں سب سے نیچا کر دیا مجھے۔‘‘
’’اب تم کیا ہو۔‘‘
’’ایک بے بس اَپرادھی… جو کسی مدد کرنے والے کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر تلاش کر رہا ہے بیس باغ اور ہزاروں بیگھے زمین بھی اس کا ساتھ نہیں دے رہی۔‘‘
اس کی سسکیاں جاری ہوگئیں، میرے دل میں اس کے لیے ہمدردی کا جذبہ بیدار ہوگیا۔ میں نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ ’’تمہارے دھرم کے بارے میں، میں کچھ نہیں کہتا لیکن میرا دین کہتا ہے کہ اگر کسی نے گناہ کیا ہے تو اس کی سزا دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اگر تم کسی کے کام آ سکتے ہو تو اس سے گریز نہ کرو۔ پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ تمہارا معاملہ تمہارے اور خدا کے درمیان ہے۔ میری ذات سے اگر تمہیں کوئی فائدہ ہو سکتا ہے تو میں ضرور تمہارے لیے جو کچھ بھی مجھ سے بن پڑے گا کروں گا۔ اب وقت ضائع نہ کرو اپنے بارے میں جو کچھ بھی بتانا چاہتے ہو بتا دو۔‘‘
’’تھوڑا بہت تو بتا چکا ہوں مہاراج اس سوچ نے مجھے سنسار سے دُور کر دیا تھا۔ ہر ایک کو نیچ سمجھنا میرا کام بن گیا تھا۔ کسی کو اپنے خلاف پایا پکڑوایا۔ جوتے لگا دیئے، کسی نے زیادہ سرکشی کی تو ہاتھ پائوں تڑوا دیئے، بڑے بڑے عزت داروں کی عزت اُچھال دی میں نے، پانچ بیٹے تھے میرے دو بیٹیاں اور یہ سب میری نگاہوں میں دھونی پور کے سب سے اُونچے لوگ تھے کیونکہ میری اولادوں میں سے تھے۔ ایک بہن بھی ہے میری۔ ہرناوتی نام ہے اس کا، میری بیٹیوں سے دو چار سال ہی بڑی تھی، کہانی لمبی نہیں سنائوں گا مہاراج، ہرناوتی بہک گئی جوانی کے جوش میں، اس نے پرکھوں کے ریت رواج بھلا دیئے اور ایک نیچ ذات سے پریم کر بیٹھی۔ ہیرا تھا اس کا نام، لاکھو کا بیٹا تھا۔ دھونی پور کے ایک مشرقی گوشے میں گھر بنا کر رہتا تھا، نوکر تھا ہمارا مہاراج، ہماری زمینوں پر کام کرتا تھا، باپ بیٹے ہمارا دیا کھاتے تھے۔ پھر بھلا ٹھاکر بنسی راج بہادر یہ کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ ہیرا پوری آنکھیں کھول کر ہرناوتی کو دیکھے، پر ایسا ہوا نہ جانے کب اور کہاں ملے تھے وہ لوگ، ہرناوتی، ہیرا کے پریم میں گرفتار ہوگئی اور چھپ چھپ کر اس سے ملنے لگی، بستی والوں نے دیکھا کسی کی مجال تو نہیں تھی کہ کوئی ہم سے آ کر یہ بات کہہ سکے لیکن آپس میں کانا پھوسیاں کرتے تھے، ہمیں اس سمے تک کچھ نہیں معلوم تھا لیکن پھر میری دھرم پتنی نے ایک رات ہرناوتی کو گھر سے چوری چوری نکلتے ہوئے دیکھا تو چونک گئی، دن بھر اور رات بھر سوچتی رہی اور مجھے بتا دیا، میرے تو تن بدن میں آگ لگ گئی تھی۔ مہاراج دُوسری رات میں نے ہرناوتی کا پیچھا کیا اور دیکھا کہ چاندنی رات میں میرے ہی باغ کے ایک گوشے میں وہ لاکھو کے بیٹے ہیرا کے پاس بیٹھی ہوئی ہے۔ دونوں باتیں کر رہے ہیں اور سنسار سے بے خبر ہوگئے ہیں۔ خون اُتر آیا تھا میری آنکھوں میں۔ سوچتا رہا کہ کیا کروں اور جب برداشت نہ کر سکا تو ان کے سامنے پہنچ گیا، میں نے ان کے پاس پہنچ کر کڑک دار آواز میں دونوں کو مخاطب کیا تو دونوں تھر تھر کانپنے لگے۔ ہیرا میرے قدموں میں گر گیا اور میں نے زوردار ٹھوکر مار کر اس کا سر پھوڑ دیا۔ وہ ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوگیا لیکن میری بہن ہرناوتی نے اپنی ساڑھی کا پلو پھاڑ کر میرے ہی سامنے اس کے ماتھے پر پٹی کسی اور پھر آنکھیں نکال کر مجھ پر کھڑی ہوگئی۔ اس نے کہا کہ مجھے یہ حق کس نے دیا ہے کہ میں اس کے پتی کو اس طرح ٹھوکر ماروں، اس بات پر میں جو کچھ نہ کر ڈالتا کم تھا لیکن عقل سے کام لیا، خون میرا ہی تھا، ہرناوتی کی یہ مجال کبھی نہ ہوئی تھی کہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی بھی ہو جائے لیکن اس سمے وہ جس طرح بات کر رہی تھی وہ چونکا دینے والی بات تھی، میں نے اسے خونی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’یہ تیرا پتی کہاں سے ہوگیا ری کمینی؟‘‘
’’تم اسے پاپ کہہ سکتے ہو بھیا جی مگر اب یہ پاپ میں کر چکی ہوں۔‘‘
’’کب کیسے…؟‘‘
’’ہیرا سے میں بہت پہلے سے پریم کرتی ہوں، ہم دونوں کا پریم پوتر تھا اور جب میں نے ہیرا کو مجبور کیا کہ وہ میرے ساتھ پھیرے کر لے تو میرے مجبور کرنے سے ہیرا بھی مجبور ہوگیا اور اس نے رام مندر میں جا کر پجاری شونارائن کے سامنے اگنی کے گرد میرے ساتھ پھیرے کر لیے اور میں اس کی پتنی بن گئی۔ ہم جانتے تھے مہاراج کہ آپ کو پتا چلے گا تو آپ کا من سلگ اُٹھے گا اس لیے چھپ چھپ کر یہاں ملتے ہیں اور اس سمے کا انتظار کر رہے ہیں جب آپ ہم دونوں کو ساتھ رہنے کی آگیا دے دیں گے۔‘‘
’’تو سچ کہہ رہی ہے…؟‘‘
’’بھیا جی کی سوگند بالکل سچ…‘‘
’’ٹھیک ہے گھر جا بات کروں گا میں تجھ سے پھر۔‘‘ میں نے سمجھ داری سے کام لیتے ہوئے کہا۔ بہن کو بیٹی ہی کی طرح پالا تھا میں نے… ماتا پتا جی تو پہلے ہی مر چکے تھے محبت بھی تھی مجھے اس سے لیکن اپنی اَنا، اپنا مان سب سے پیارا تھا یہ سوچ کر ہی کلیجہ منہ کو آنے لگتا تھا کہ کل کا دن اگر بستی والوں کو یہ بات پتا چلے تو میری کیا عزت رہ جائے گی، کوئی کام تو کرنا تھا ایسا جس سے یہ بات راز میں رہ جائے چاہے اس کے لیے مجھے کتنی ہی انسانی زندگیوں کی قربانی دینی پڑے۔ بہرحال میں نے اپنے ایک خاص آدمی امرناتھ کو اس کام کے لیے آمادہ کیا۔ جب دُوسری رات میں نے امرناتھ کو بلا کر اسے یہ کہانی سنائی تو امرناتھ گردن جھکا کر بولا کہ مہاراج مجھے تو یہ بات پہلے سے معلوم تھی۔ بڑا غصہ آیا مجھے امرناتھ پر اور میں نے غرا کر اس سے کہا۔ ’’کمینے، نمک حرام، اگر تجھے یہ بات معلوم تھی تو مجھ سے کیوں نہ کہا تو نے؟‘‘
’’ہمت نہیں پڑی تھی مہاراج، ہمت نہیں پڑی تھی۔‘‘
’’اب یہ بتا کہ کیا کیا جائے…؟‘‘
’’مہاراج سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہرناوتی جی ہی سب کے سامنے یہ سب کچھ کہنے کو تیار ہیں۔ آپ نے پہلے کبھی غور نہیں کیا مگر میں یہ دیکھ چکا ہوں کہ وہ اس شادی کو چھپانا نہیں چاہتیں اور بڑی ہمت سے سنسار کے سامنے آنے کو تیار ہیں۔‘‘
’’نکال دوں گا اسے گھر سے باہر، ٹکڑے ٹکڑے کا محتاج کر دوں گا۔‘‘
’’اگر آپ یہ بات ہرناوتی جی سے کہیں گے تو وہ آپ کے چرن چھوئیں گی اور خوشی خوشی گھر سے چلی جائیں گی۔ محبت کی کہانیاں ایسی ہی ہوتی ہیں مہاراج، آپ کو اس سے کوئی خاص کامیابی نہیں حاصل ہوگی۔‘‘
’’تو پھر میں کیا کروں امرناتھ، مجھے بتا میں کیا کروں؟‘‘
’’میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا مہاراج آپ مجھ سے کہیں بڑا دماغ رکھتے ہیں۔‘‘
’’سب نے میرے ساتھ غداری کی ہے۔ ایک ایک کو دیکھ لوں گا میں اور وہ پجاری شونارائن اس نے پھیرے کرا دیئے میری بہن کے ایک نیچ ذات کے ساتھ، جیتا رہ سکے گا وہ؟ پہلے اسی کی زبان بند کروں گا، امرناتھ پہلے میں اسی کی زبان بند کروں گا، جیتا نہیں چھوڑوں گا اسے۔‘‘
’’مندر کا معاملہ ذرا دُوسرا ہوتا ہے مہاراج۔ ویسے بھی آپ یہ بات جانتے ہیں کہ دولت
مندوں کو اچھی نگاہوں سے نہیں دیکھا جاتا۔ دھونی پور کے لوگ آپ سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے اس قدم سے وہ آپ کو نقصان پہنچانے پر تل جائیں۔‘‘
’’ایک ایک کو مروا دوں گا، ایک ایک کو ختم کرا دوں گا۔‘‘ میں نے غرا کر کہا۔
’’نہیں مہاراج دھونی پور کے ساروں کو آپ نہیں مار سکتے۔ آپ کو کچھ اور ہی سوچنا ہوگا۔‘‘ امرناتھ کی بات سمجھ میں آنے والی تھی۔ میں سوچتا رہا پھر میں نے کچھ فیصلے کر لیے، میں نے کہا۔ ’’تو یہ کام خاموشی ہی سے کرنا ہوگا امرناتھ اور تجھے میرا ساتھ دینا پڑے گا، اتنی دولت دوں گا تجھے کہ جاگیردار بن کر جیون بسر کرے گا۔ میری عزت بچانا اس وقت تیرا بھی کام ہے۔‘‘
’’امرناتھ اپنی جان دینے کو تیار ہے مہاراج منہ سے بول کر دیکھیں۔‘‘ تب میں نے امرناتھ کے ساتھ مل کر ایک ایسا منصوبہ بنایا جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ یہی کیا میں نے، بادلوں بھری ایک رات ہم گھر سے باہر نکلے، امرناتھ کو میں نے جو ہدایات دے دی تھیں وہ ان پر عمل کر رہا تھا، اس بیچ میں نے ہرناوتی سے کوئی بات نہیں کی تھی بلکہ جب دُوسری رات وہ چوری چوری گھر سے باہر نکلی تب بھی میں نے اسے نہ روکا حالانکہ میں نے اسے دیکھ لیا تھا۔ وہ اس پاپی اچھوت کے ساتھ وقت گزارتی رہی مگر میں اپنا کام آگے بڑھانے کا پورا پورا منصوبہ بنا چکا تھا، میں اور امرناتھ رام مندر پہنچے، پجاری شونارائن جی کو اُٹھایا اورا ن سے پوچھا کہ کیا یہ بات سچ ہے، پجاری جی سچّے آدمی تھے، انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ دو پریم کرنے والے ایک ہونا چاہتے تھے، انہوں نے سنسار کی ریت کے مطابق وہ سب کچھ کر دیا جو انہیں ایک کر دیتا، تب میں نے زہر کی شیشی شونارائن جی کو دیتے ہوئے کہا۔
’’اور آپ نے جو کچھ کیا شونارائن جی اس کے نتیجے میں آپ کو یہ موت قبول کرنا ہوگی۔‘‘ شونارائن مسکراتے ہوئے بولے۔
’’موت اور جیون بھگوان کی لین دین ہے، اگر اس زہر سے میری موت لکھی ہے تو مجھے یہ ہر حالت میں پینا پڑے گا اور اگر ابھی کچھ جیون باقی ہے تو یہ زہر میرا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔‘‘ سو میں نے دیکھا کہ شونارائن جی زہر کی پوری شیشی حلق میں اُنڈیل گئے اور تھوڑی ہی دیر کے بعد ان کے ہاتھ پائوں مڑ گئے۔ ہم نے پہلے سے سارا بندوبست کر رکھا تھا، زہر نکلے ہوئے ایک سانپ کی دُم مروڑ کر اسے شونارائن جی کے پائوں سے چپکا دیا اور سانپ کے دانت شونارائن جی کے پائوں میں گڑھ گئے تاکہ دیکھنے والے یہی سمجھیں کہ پنڈت شونارائن مہاراج سانپ کے ڈسے سے مرے۔ اس طرح ہم نے ہرناوتی اور ہیرا کی شادی کے اس سب سے بڑے گواہ کو ختم کر دیا لیکن بات یہیں تک محدود نہیں رہنی تھی۔ دُوسرا انتظام بھی کرنا تھا۔ شونارائن جی کی موت پر کسی نے کوئی شبہ نہیں کیا۔ ہرناوتی چھ راتیں ہیرا سے ملتی رہی مگر ساتویں رات ہیرا کے جیون میں کبھی نہیں آئی۔ منصوبے کے مطابق ہرناوتی کو دُوسرے گائوں بھیجا گیا اور وہ سب کے ساتھ خوشی خوشی گئی تھی مگر میں اور امرناتھ آٹھ آدمیوں کے ساتھ تیار تھے۔ ہم لوگ رات کی تاریکی میں لاکھو کے گھر پہنچے دروازہ بجایا تو لاکھو نے دروازہ کھول دیا۔ میرے آدمیوں میں سے ایک نے اس کے سر پر لاٹھی ماری اور لاکھو ’’ہائے‘‘ کہہ کر ڈھیر ہوگیا، تب ہیرا باہر نکلا اور ہم نے اسے بھی لاٹھیوں پر رکھ لیا، پھر گھر کی تین عورتوں، باپ، بیٹے اور ایک بچّے کو ہم نے ہاتھ پائوں باندھ کر وہیں ڈال دیا اور اس کے بعد پورے گھر پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا دی، اتنی تیز آگ لگائی تھی ہم نے اور اتنا تیل ڈالا تھا کہ کوئی ان کی مدد نہ کر پائے۔ بیس گھر جلے تھے اس آگ سے اور ہیرا اور لاکھو اپنے مزید پانچ گھر والوں کے ساتھ جل کر بھسم ہوگئے تھے اس گھر میں۔ تب میرے دل کو سکون ملا۔ ہرناوتی واپس آگئی، بستی والے کبھی یہ نہ جان سکے کہ آگ کیسے لگی۔ بس انہوں نے کوئلہ ہوئی لاشیں نکالی تھیں اور ان کا کریا کرم کر ڈالا تھا مگر ہرناوتی مجھے شبہے کی نظروں سے دیکھتی تھی اور پھر ایک رات وہ میرے پاس پہنچ ہی گئی۔ میں اس وقت اپنے کسی کام میں مصروف تھا۔ ہرناوتی کا چہرہ دیکھ کر میں چونک پڑا اور میں نے اس سے پوچھا کہ اس کا کیسے آنا ہوا تو اس نے پُراسرار لہجے میں کہا۔ ’’میرا سہاگ کیسے بھسم ہوا مہاراج؟‘‘
’’مجھے کیا معلوم۔‘‘ میں نے غصے سے کہا۔
’’مگر مجھے معلوم ہوگیا ہے۔‘‘
’’کیا معلوم ہو گیا ہے۔‘‘
’’میرے سسر لاکھو کے گھر میں آگ لگی نہیں لگائی گئی تھی۔‘‘
’’لگائی گئی تھی، کس نے لگائی؟‘‘
’’امرناتھ، بھیل چند، شکتی لعل، پرسی رام، رگھو، شنکر، راجن اور سونا آگ لگانے والے تھے اور آپ آگ لگوانے والے۔‘‘
’’کیا بک رہی ہے۔‘‘ میں غصے سے دھاڑا۔ مگر میرے بدن میں سردی دوڑ گئی تھی، سارے نام سچے تھے کس نے مخبری کر دی نہ جانے کس نے زبان کھول دی۔ ہرناوتی حیرت انگیز طور پر پُرسکون تھی اس نے کہا۔
’’شبہ تو مجھے پہلے ہی تھا بھیا جی۔ آخر آپ میرے بھیا ہیں، ہم نے ایک ماں کی کوکھ سے جنم لیا ہے مگر آپ نے جو انیائے کیا، وہ اچھا نہیں تھا۔ سارے کنبے کو مروا دیا، بچّے کو بھی نہ چھوڑا، دوش تو ہیرا کا تھا مہاراج، سب کا تو نہیں تھا۔ آپ کو رحم نہ آیا ان پر، زندہ جلوا دیا آپ نے انہیں آگ میں۔‘‘
’’ہرناوتی، جو کچھ میں نے تیرے ساتھ آج تک کیا ہے اس کا یہ بدلہ دے رہی مجھے، الزام لگا رہی ہے میرے اُوپر، ٹھیک ہے اگر ایسی بات ہے تو جا تھانے چلی جا میرے خلاف رپٹ درج کرا دے، گرفتار کرا دے مجھے ان سب کے قتل کے الزام میں۔‘‘ ہرناوتی عجیب سے انداز میں ہنسی پھر بولی۔
’’کہا تھا میں نے ہیرا سے بھیا جی، کہا تھا مگر اس نے کہا کہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، بنسی راج مہاراج بڑے اختیار والے ہیں۔ پولیس کو اپنے جال میں پھانس لیں گے مال و دولت دے دیں گے اسے اور بات ختم ہو جائے گی لیکن اب اپنا کام ہیرا خود ہی نبٹائے گا بنسی راج مہاراج۔‘‘
’’کک… کیا بک رہی ہے تو… تو… تو کہتی ہے اور… اور وہ ہیرا… ہیرا۔‘‘ بات میری سمجھ میں نہیں آئی تھی ہرناوتی نے آہستہ سے کہا۔
’’آیا تھا ہیرا میرے پاس۔ پہلے مجھ سے اس نے اپنی ساری بپتا سنائی اور اس کے بعد کہنے لگا کہ اگر اکیلا مار دیا جاتا اسے تو یہ سوچ کر خاموش ہو جاتا کہ چلو ہرناوتی کے بھیا نے مارا ہے مگر سارے مار دیئے پتا جی کو بھی مار دیا، کہہ رہا تھا کہ سب نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ اپنا بدلہ وہ خود لیں گے تم سے، سمجھے بنسی راج مہاراج میں تمہیں یہی بتانے آئی تھی۔ ہیرا تو کہہ رہا تھا کہ کیا فائدہ یہ سب کچھ کہنے سے، جب بدلہ شروع ہوگا تو بنسی راج مہاراج خود ہی دیکھ لیں گے، کہنے سننے سے کوئی فائدہ نہیں ان کی سمجھ میں نہیں آئے گا۔‘‘ میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے ہرناوتی کو دیکھتا رہا شاید پاگل ہوگئی تھی، وہ ہمدرد نگاہوں سے مجھے دیکھتی ہوئی واپس چل پڑی۔ میں نے اسے روکتے ہوئے کہا۔
’’کہاں جا رہی ہے تو…؟‘‘
’’اب کہاں جائوں گی بھیا جی، میرا سسرال تو ختم ہی ہوگیا۔‘‘ اس نے رُندھے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’بے حیا، بے شرم، نیچ ذات تھے وہ… اس گھر کو اپنا سسرال کہتے تجھے شرم نہیں آتی؟‘‘ جواب میں اس نے مجھے حقارت بھری نگاہوں سے دیکھا اور کمرے سے نکل گئی، مگر مجھے کچھ کرنا تھا۔ اگر اس نے کسی اور کے سامنے زبان کھول دی تو میرے لیے بڑی مشکلات پیدا ہو جاتیں، چنانچہ میں نے اسے دوسرے ہی دن ایک الگ تھلگ جگہ رکھ دیا، میری حویلی پرکھوں کی بنائی ہوئی ہے۔ دو حصے ہیں، اس کا ایک حصہ ویران پڑا رہتا ہے۔ میں نے اسی ویران حصے کو صاف ستھرا کرایا اور اسے وہاں پہنچا دیا، میری پتنی پہلے تو حیران ہوئی بعد


میں مجھے اسے اپنا رازدار بنانا پڑا۔ امرناتھ وغیرہ سے میں نے ہرناوتی کی کہی ہوئی باتوں کی پوری تفصیل نہیں بتائی تھی کہ کہیں وہ ڈر نہ جائے لیکن ہرناوتی کی قید کی نگرانی کرنے کے لیے اسی کو منتخب کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ ہرناوتی کو اس بات کا شبہ ہوگیا ہے کہ لاکھو کے گھرانے کو مارا گیا ہے۔ امرناتھ میرا وفادار آدمی تھا آنکھیں بند کر کے اپنے کام میں لگ گیا مگر میری نیندیں حرام ہوگئی تھیں۔ مہاراج میں یہ سوچتا تھا کہ ہرناوتی، ہیرا کا نام کیسے لیتی ہے۔ وہ یہ بات کیسے کہہ رہی تھی کہ ہیرا نے اسے یہ تفصیل بتائی تھی۔ ویسے تو میں نہ مانتا مگر اس نے ان تمام لوگوں کے نام بالکل ٹھیک ٹھیک لیے تھے جو لاکھو کے گھرانے میں آگ لگانے گئے تھے۔ پھر ایک خوفناک واقعہ پیش آیا، امرناتھ اور اس کے دو ساتھی جو رات کو وہیں سویا کرتے تھے جہاں ہرناوتی قید تھی، اچانک ہی آدھی رات کو دہشت سے چیختے ہوئے دوڑتے نظر آئے، ان تینوں کے جسموں میں آگ لگی ہوئی تھی اور شعلے اتنے بلند تھے کہ حویلی کے دُوسرے ملازموں نے انہیں دیکھ لیا، سب اکٹھے ہوگئے، لوگ کہتے ہیں میں تو اس وقت موجود نہیں تھا، کہ انہوں نے آگ بجھانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر ان کے جسموں میں لگی آگ نہ بجھی اور تینوں کے تینوں ایسے جل گئے جیسے کوئلہ جل کر سخت ہو جاتا ہے، پتا ہی نہ چل سکا کہ ان کے جسموں میں آگ کیسے لگی۔ اس واقعہ سے بڑا خوف پھیل گیا تھا میں ضروری کارروائیوں میں مصروف رہا۔ بستی والوں کو اس بارے میں بس اتنا ہی پتا چل سکا تھا کہ کسی طرح تین آدمی جل کر بھسم ہوگئے۔ اصل بات کسی کے کانوں تک نہیں پہنچی تھی۔ ہرناوتی سے میں خود ملا تو وہ مطمئن نظر آئی، ہنس کر بولی۔
’’باقیوں کے ساتھ بھی یہی سب کچھ ہونا ہے مہاراج تھوڑا سا انتظار کرلیں اور اس کے بعد آپ کی باری آئے گی۔‘‘
’’تیرا دماغ خراب ہوگیا ہے، دُشمن ہوگئی ہے تو ہماری۔‘‘
’’نہیں مہاراج میں نے تو ایسا نہیں کیا، ہیرا مجھے پہلے ہی بتا گیا تھا کہ ابتداء وہ امرناتھ اور ان دونوں آدمیوں سے کرے گا، میرے اُوپر پہرہ لگانے کی ضرورت نہیں ہے مہاراج، بچا سکتے ہو تو ان کے گھروں کو اور انہیں بچا لینا جنہیں تم نے اس کام کے لیے آمادہ کیا تھا، میں کہاں جائوں گی میرا کون سا ٹھکانہ ہے۔‘‘ میں واقعی پریشان ہوگیا تھا، میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ میں کیا کروں، امرناتھ میرا مشیر تھا، ہر طرح کے رازداری کے مشورے میں اسی سے کرتا تھا وہ نہ رہا تھا، مجھے اس کی موت کا بہت افسوس تھا، بہرحال پریشانیوں کا آغاز تو اسی دن سے ہوگیا تھا مہاراج جس دن سے مجھے یہ پتا چلا تھا کہ ہرناوتی نے اس نیچ ذات سے شادی کرلی ہے اور اب یہ پریشانیاں عروج کو پہنچتی جا رہی تھیں۔ میرے بیٹے عیش و عشرت کی زندگی میں پروان چڑھے تھے۔ بڑے بیٹے کی شادی کرنے والا تھا میں، مگر کوئی بات سمجھ میں ہی نہیں آ رہی تھی۔ پھر ایک دن پتا چلا کہ رگھو اور شنکر جو کھیت پر کام کر رہے تھے، سانپ کے ڈسنے سے مر گئے۔ کسی ایسے ناگ نے ڈسا تھا انہیں جو بہت زہریلا تھا، دونوں کی لاشیں تک نہ اُٹھائی جا سکی تھیں بدن کا سارا گوشت گل کر پانی کی طرح بہہ گیا تھا اور ہڈیوں کے ڈھانچے کھیتوں میں پڑے نظر آئے تھے۔ جہاں جہاں ان کا پانی بہا تھا، وہاں زمین ایسی کالی ہوگئی تھی کہ جیسے آگ لگا دی گئی ہو اور اس کے بعد مہاراج وہ کھیت پھر سے سرسبز نہ ہو سکے، پھر اس کے بعد دُوسرے لوگوں کی باری آئی، بیر چند اور شکتی راج بھی مارے گئے۔ راجن اور سونا تو پہلے ہی امرناتھ کے ساتھ بھسم ہوگئے تھے۔ بیرچند اور شکتی کہیں سے آ رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی ٹکرا گئی اور اس طرح ان کا قیمہ قیمہ ہوا کہ ان کی لاشیں بھی نہ اُٹھائی جا سکتی تھیں۔ اب میرے حواس جواب دینے لگے تھے، میں بیمار ہوگیا تھا اتنا بیمار کہ بخار اُترے نہ اُترتا تھا کہ ایک دن ایک وید جی میرے پاس آئے، بھدّی سی شکل کے مالک تھے، میرا بیٹا کپور چند انہیں لے کر آیا تھا، دوائوں کا بکس ان کے پاس تھا۔ کپور چند نے کہا کہ یہ بہت نامی گرامی وید جی ہیں اور بڑا اچھا علاج کرتے ہیں، میں آپ کو انہیں دکھانا چاہتا ہوں پتا جی، میں تیار ہوگیا وید جی نے کہا کہ وہ تنہائی میں مجھ سے کچھ باتیں کریں گے، سب چلے گئے۔ وید جی نے مجھے اپنے تھیلے سے دوائوں کی دو پڑیاں نکال کر دیں اور کہا کہ میں انہیں پانی کے ساتھ کھا لوں، میں نے ایسا ہی کیا۔ پڑیاں کھانے کی دیر تھی کہ مجھے اپنے بدن میں بڑی طاقت محسوس ہوئی اور یوں لگا جیسے میں ٹھیک ہوتا جا رہا ہوں۔ میں نے عقیدت بھری نگاہوں سے وید جی کو دیکھا تو وہ ہنسنے لگے پھر بولے۔
’’اگر ابھی سے مرگئے ٹھاکر بنسی راج تو بعد کے کام کیسے دیکھ سکو گے۔ میرا تمہارے پاس آنا تو بہت ضروری تھا تمہیں ابھی جیتے رہنا ہے مہاراج بہت عرصے تک جیتے رہنا ہے۔ تم نے میرے پریوار کو ختم کیا ہے۔ اپنا پریوار ختم ہوتے ہوئے بھی تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔‘‘ اور جب میں نے حیران ہو کر وید جی کے چہرے پر نظر ڈاتی تو یہ دیکھ کر میری جان ہی نکل گئی کہ وہ ہیرا تھا ہیرا جسے میں نے جلا کر بھسم کیا تھا وہ مجھے شریر آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔
’’بھگوان کے ہاں کوئی ذات نہیں بنائی جاتی نہ اُونچی ذات نہ نیچی ذات اور دل تو بھگوان نے سبھی کو دیا ہے۔ ہم نے تو پھیرے کئے تھے آپ کی بہن سے مہاراج کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔ سوئیکار کرلیتے ہمیں تو کیا ہو جاتا اور پھر دوشی تو ہم تھے۔ ہمارے پتا جی کو بھی مار دیا تم نے ماتا جی کو بھی مار دیا، ہمارے بھتیجے کو بھی مار دیا، کیسا انیائے کیا تم نے مہاراج ہم تو ہرناوتی کی وجہ سے خاموش ہو جاتے، معاف کر دیتے تمہیں مگر دُوسرے معاف کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ تو مارے گئے جنہوں نے ہمارا گھر پھونکا تھا اور اب تمہارے پریوار کی باری ہے مہاراج، پانچ بیٹے ہیں تمہارے۔ دو بیٹیاں ہیں، بیٹیوںکی تو شادی کر دی تم نے ان کا نمبر سب سے بعد میں آئے گا۔ پہلے اپنے ان پانچ ستونوں کو گرتے ہوئے دیکھ لو ہم ایسا کر دیں گے مہاراج کہ تمہارے گھر میں پھر کبھی روشنی نہ آئے، ہم تمہاری ساری دیوالیاں بجھا دیں گے، ہم سب نے یہی فیصلہ کیا ہے مگر تمہیں جینا ہے، بیمار رہو گے تو رہو یہ تمہاری مرضی ہے مگر زندہ رہو تاکہ اپنے کئے کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھو۔‘‘ یہ کہہ کر ہیرا دروازے سے باہر نکل گیا، میرے پورے جسم میں سرد لہریں دوڑ رہی تھیں، کوئی شبہ نہیں تھا، کوئی دھوکا نہیں تھا جو کچھ دیکھا تھا اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، جو کچھ سنا تھا اپنے کانوں سے سنا تھا اور دل خون ہو کر رہ گیا تھا۔ اس نے میرے بیٹوں کی طرف اشارہ کیا تھا اور مجھے اپنی اولاد اپنی جان سے زیادہ عزیز تھی، بڑا بدحواس ہوگیا تھا میں، کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔ میرا بیٹا جو سب سے بڑا تھا میری اس بیماری پر کافی توجہ دے رہا تھا۔ ایک بار اس نے پوچھا کہ میرے من کو کیا روگ لگ گیا ہے، کچھ بتائو تو سہی؟ میری دھرم پتنی بھی ضد پر آ گئی تو میں نے ساری کہانی ان لوگوں کو سنا دی۔ میرا بڑا بیٹا ہنسنے لگا پھر بولا۔
’’یہ آپ کا وہم ہے مہاراج آپ کے دل میں چور بیٹھ گیا ہے۔ وہ سارے کے سارے جو مرے آپ کو ان کی موت کی وجہ معلوم ہے، حادثے ہی ہوئے تھے ان کے ساتھ۔‘‘
’’وہ کیسے حادثے ہوئے تھے ذرا مجھے بھی بتا دو، انسانی جسموں میں آگ لگ جائے، ناگ ایسے کاٹیں کہ بدن پانی ہو جائے، یہ سارے کھیل کیا تم انسانی کھیل سمجھتے ہو یا صرف حادثہ کہہ سکتے ہو۔‘‘ وہ لوگ بھی کچھ متاثر ہوگئے تھے لیکن کوئی بات سمجھ میں نہ آ سکی اور پھر مہاراج میرا سب سے بڑا
; آہ… میرا سب سے بڑا بیٹا ایک صبح جب گھر والوں نے اسے نہ پایا تو اس کے کمرے میں اسے پکارنے گئے تو نوکر نے اس کی لاش چھت کے کنڈے سے لٹکی ہوئی دیکھی تھی۔ اس کی زبان اور آنکھیں باہر نکل پڑی تھیں۔ یہ نہیں پتا چلا تھا کہ کس نے اسے سولی پر لٹکایا ہے۔ زمین سے آٹھ فٹ اُونچا لٹک رہا تھا وہ، گردن میں رسّی ڈلی ہوئی تھی اور رسّی کنڈے میں۔ کوئی بات سمجھ میں نہیں آئی پولیس کو بلا لیا گیا۔ پولیس نے اپنا سارا کام کیا مگر مجھے ہیرا کی بات یاد تھی۔ میرا دماغ اسی طرف جا رہا تھا جو حشر ہو سکتا تھا میرے من کا مہاراج آپ کو پتا ہے۔ اسی بیٹے کی شادی میں کرنے والا تھا سب کچھ چوپٹ ہو کر رہ گیا تھا آہ… مہاراج میں اپنی جیون بھر کی کمائی لٹا بیٹھا تھا اپنے ہاتھوں، ہرناوتی کے پاس پہنچا ہاتھ جوڑ کر اس کے چرنوں میں جھک گیا اور اس سے میں نے کہا کہ اگر ہیرا اس سے ملتا ہے تو ہیرا سے کہے کہ وہ ہم پر رحم کرے۔ ہرناوتی نے مسکراتی نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’آپ نے کسی پر رحم کیا ہے مہاراج آج تک، آپ رحم کا نام جانتے ہیں؟‘‘
’’تو بھی تو ان کی موسی ہے ہرناوتی تیرے بھی تو کچھ لگتے ہیں وہ۔‘‘ میں نے رو کر کہا۔
’’کوئی رشتہ نہیں ہے تم سے میرا… قیدی ہوں میں تمہاری… میرا تمہارا صید و صیّاد کا رشتہ ہے بس، تم نے اس کا پورا کٹم مار دیا… اس نے سوگند کھائی ہے کہ وہ بھی ایسا ہی کرے گا۔‘‘
’’ہرے رام ایسا مت کہہ ہرنا… ایسا مت کہہ بچا لے اپنے بھتیجی بھتیجوں کو… بچا لے انہیں۔‘‘
’’خون کا بدلہ خون… سب مریں گے، سب مریں گے کوئی نہیں بچے گا۔‘‘ وہ پاگلوں کی طرح بولی اور پھر ہنسنے لگی، پھر چیخنے لگی، پھر رونے لگی اور اس کے بعد کچھ کہنے کو باقی نہ رہا، کچھ نہیں بگاڑ سکا میں اس کا۔ اس مہینے کے بعد میرا گووندا مار دیا گیا۔ وہ بھائیوں میں سب سے تگڑا جوان تھا۔ سب سے خوبصورت جوان تھا، دیکھنے والے اسے دیکھتے تھے تو اس کی جوانی پر رشک کرتے تھے۔ مہاراج میرا گووندا رات کو کھاپی کر آرام سے سویا، آدھی رات کواس کے کمرے سے چیخنے کی آوازیں سنائی دیں، وہ حلق پھاڑ پھاڑ کر چیخ رہا تھا، سب کو پکار رہا تھا، ہم سب اُٹھ کر اس کے کمرے کی طرف بھاگے دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر دروازہ اندر سے بند تھا، بہت سے نوکروں نے مل کر اسے توڑا تو اندر کمرے میں دُھواں بھرا ہوا تھا مہاراج۔ گہرا گاڑھا کالا دُھواں جس میں کچھ نظر نہیں آ رہا تھا اور اب گووندا کی آواز بھی سُنائی نہیں دے رہی تھی۔ پہلے جب اس کی چیخیں سنائی دی تھیں تو پوری طاقت سے چیخ رہا تھا وہ بعد میں اس کی آواز مدھم ہوتی چلی گئی تھی۔ دروازے کھڑکیاں سب بند تھے، پتا ہی نہیں چلا تھا کہ دُھواں کہاں سے آیا، نوکروں نے روشنیاں جلائیں لیکن گہرے گاڑھے کالے دھویں کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ دروازے کھڑکیاں کھول دیئے گئے جس طرح بھی ممکن ہوسکا کمرے کا دُھواں باہر نکالا گیا اور میں نے، میں نے اپنے کڑیل گووندا کی لاش زمین پر اکڑی ہوئی پائی، اس کا چہرہ بڑا بھیانک ہوگیا تھا مہاراج یوں لگ رہا تھا جیسے کسی نے اس کی گردن دبا کر اسے مار دیا ہو اور پھر ہمیں ایک قہقہہ سنائی دیا۔ بھلا میں اس قہقہے کو نہ پہچانوں گا، اسی پاپی کا تھا، اسی پاپی ہیرا کا قہقہہ تھا وہ جیسے اپنی کامیابی سے بڑا خوش ہو مہاراج ہم پر جو بیتی ہمارا من ہی جانتا ہے۔ جو کر بیٹھے تھے وہ تو کر ہی بیٹھے تھے مگر اس کے بعد، اس کے بعد مہاراج جو ہو رہا تھا وہ سپنے میں بھی نہیں سوچا تھا۔ ایک بار پھر میں ہرناوتی کے پاس گڑگڑاتا ہوا پہنچا مگر وہ اپنے ہوش میں نہیں ہے، وہ بھی پاگل ہو چکی ہے، من تو چاہتا ہے کہ سسری کو زندہ جلا دوں آگ میں۔ سب کچھ اسی کی وجہ ہوا ہے مگر مہاراج ہمت نہیں پڑتی۔ گووندا کے بعد میرا ایک اور بیٹا میرے ہاتھوں میں دَم توڑ گیا، ایسا پاپی باپ ہوں میں جو مرنا چاہتا ہے مگر موت بھی اسے نظرانداز کر چکی ہے۔ نہیں آتی موت بھی مجھے سمیٹنے، بھگوان کے لیے میری مدد کریں، میری مدد کریں، دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں میرے، تین بیٹوں کو صبر کر چکا ہوں بڑا دل پتھر کر لیا ہے میں نے، مجھے جیون سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ آج مر جائوں تو سارے پاپ کٹ جائیں مگر جیتے جی یہ نہیں دیکھ سکتا کہ ایک ایک کر کے سارے میری آنکھوں کے سامنے ختم ہو جائیں۔ کھانا پینا ختم ہو چکا ہے میرا مہاراج، جب بہت بھوک لگتی ہے تو تھوڑی بہت کوئی چیز کھا لیتا ہوں۔ چھ چھ دن کے فاقے کئے ہیں میں نے، صرف اس خیال سے کہ بھوک اور پیاس سے مر جائوں مگر موت نہیں آتی۔ میری ہی طرح میری دھرم پتنی کا بھی حال ہے حالانکہ وہ تو بے گناہ ہے، اس نے کچھ نہیں کیا مگر مجھ سے زیادہ وہ مر رہی ہے۔ میری مدد کر سکتے ہیں تو اللہ کے نام پر میری مدد کریں۔ آپ مسلمان ہیں اور اللہ کے نام پر اگر آپ سے کوئی مدد مانگی جائے تو سنا ہے مسلمان اپنا سب کچھ لٹا دیتے ہیں سوال کرنے والوں پر… میں سوالی ہوں مہاراج آپ کے بارے میں جو کچھ سنا ہے میں نے اگر بھگوان نے، اگر اللہ نے آپ کو کچھ دیا ہے تو مجھ پر خرچ کر دیں، دُعائیں ہی دے سکوں گا اس کے بدلے اور کچھ نہیں کر سکوں گا مہاراج۔ ساری بستی والے مجھے ناپسند کرتے ہیں اگر آپ حکم دیں کہ میں ان سارے بستی والوں کے سامنے ان کے چرنوں میں گر جائوں تو میں اپنی اَنا توڑنے کے لیے تیار ہوں۔ یہ اَنا مجھے ورثے میں ملی تھی مہاراج مگر میرے ورثے نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا۔‘‘
وہ اس طرح بلک بلک کر رویا کہ میرا دل پانی ہوگیا جو کہانی اس نے سُنائی تھی اس میں اس کے ظلم کی داستان چھپی ہوئی تھی لیکن اب بنسی راج ایک تھکا ہوا انسان تھا۔ ایک ایسا شخص تھا جس سے کوئی انتقام لینا بھی گناہ سمجھے۔ ایسے آدمی کو بھلا میں کیا کہتا، بہت دیر تک وہ روتا رہا اس کا بدن تھر تھر کانپ رہا تھا۔ میں اس کی بے بسی کی حالت کو محسوس کررہا تھا اس نے پھر کہا۔
’’اگر میں بستی والوں کے سامنے دن کی روشنی میں آپ کے پاس آتا تو جوتے مارتے میرے سر پر، اتنی باتیں کرتے وہ کہ مجھ سے سہی نہ جاتیں، اس لیے مہاراج رات کا یہ سمے چنا ہے۔ آپ کو جو تکلیف ہوئی وہ مجھے پتا ہے مگر مجھے جو تکلیف ہے مہاراج ایک ڈوبتا ہوا آدمی ہر اس چیز کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے جو اس کے ہاتھ آ سکے، میں بھی ویسا ہی ہوں۔ آپ کی تکلیف کو میں اپنی تکلیف میں بھول گیا ہوں، مجھے معاف کر دیں میری مدد کریں۔‘‘ اس نے دونوں ہاتھ جوڑے، آنکھوں سے آنسوئوں کا سیلاب بہہ رہا تھا۔ چہرہ حسرت و یاس کی تصویر بنا ہوا تھا۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں اور پھر میں نے آہستہ سے کہا۔ ’’آج کی رات مجھے دو بنسی راج، کل میں تم سے اس بارے میں بات کروں گا۔ میں کسی نہ کسی طرح تمہارے پاس پہنچ جائوں گا، اس وقت تم سے کوئی وعدہ نہیں کر سکتا لیکن کل میں تمہیں بتا سکوں گا کہ میں تمہارے لیے کیا کر سکتا ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے مہاراج دو بیٹے اور دو بیٹیاں رہ گئی ہیں میری۔ بیٹیاں اپنی سسرالوں میں ہیں۔ ان کے بچّے بھی ہوگئے ہیں۔ جیسا کہ ہیرا کہتا ہے کہ میرے سارے پریوار کو میری آنکھوں کے سامنے ختم کر دے گا تو مہاراج بیٹوں کے بعد بیٹیوں کا نمبر آئے گا اور اس کے بعد نواسے نواسیوں کا پتا نہیں کیا کرے گا وہ۔ کیا سب کو مار دے گا؟ مہاراج بڑی اُمید لے کر جا رہا ہوں، بڑی آس لے کر جا رہا ہوں، بڑی آس لے کر جا رہا ہوں۔ دھونی پور والے آپ کا نام لے رہے ہیں۔ میں، میں میں، بھی بڑا سہارا رکھتا ہوں آپ کا مہاراج بڑا سہارا رکھتا ہوں۔‘‘
’’تم جائو بنسی راج بس اب جائو۔‘‘ میں نے کہا اور بنسی راج اسی راستے سے واپس چلا گیا جس راستے سے آیا تھا۔ میرے لیے بڑی مشکلات


گیا تھا وہ، بہرطور مجھے اپنا فرض پورا کرنا تھا۔ میں نے نیند کا خیال ترک کر دیا، پانی تلاش کر کے وضو کیا اور دو زانو بیٹھ گیا۔ میں اپنے لیے رہنمائی چاہتا تھا اور میری رہنمائی ہوگئی۔ میرے دل سے آواز اُبھری کہ گناہ کرنے والا گناہ کر بیٹھتا ہے اس کا حساب کتاب اللہ کے حوالے، انسان کو انسان پر رحم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور اگر کوئی کسی کے ساتھ کچھ کر سکتا ہے تو اسے اس سے گریز نہیں کرنا چاہئے۔ بات اگر صرف بنسی راج کی ہوتی تو بنسی راج ہر سزا کا مستحق تھا اور وہ بھی جو اس کے ساتھ شریک تھے لیکن وہ شریک نہیں تھے جنہیں موت کے گھاٹ اُتارا گیا اور یہ ایک خبیث رُوح کا کارنامہ ہے جو بھٹک گئی ہے اور انتقام کی آگ میں جل رہی ہے اور وہ عورت بھی بے قصور ہے جو ماں ہے۔ باپ نے جرم کیا سزا بس اسی کو ملتی تو مناسب تھا لیکن ماں اس جرم میں شریک نہیں تھی اور جو غم اس کو ہو رہا ہے وہ جاری نہیں رہنا چاہئے۔ یہ روشنی کی رہنمائی تھی لہٰذا مجھے اطمینان نصیب ہوگیا۔ اس کا مطلب ہے کہ میں بنسی راج کی مدد کر سکتا ہوں اور اس کے بعد مجھے مدد کرنے کا طریقہ دریافت کرنا تھا اور میری رہنمائی ہو رہی تھی۔ میں نے اپنے بستر پر لیٹ کر کمبل اپنے چہرے پر ڈھک لیا تھا اور تصورات کی ہوائیں مجھے اُڑا کر نہ جانے کہاں سے کہاں لے گئی تھیں۔
صبح کی نماز کے بعد جب نمازی مسجد سے واپس چلے گئے تو حافظ حمید اللہ صاحب میرے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگے میں نے حمید اللہ صاحب کو بتایا۔
’’حمید اللہ صاحب رات کو ایک عجیب واقعہ ہوا۔ ٹھاکر بنسی راج دیوار پھلانگ کر میرے پاس پہنچا اور اس نے مجھے اپنی کہانی سنائی۔ شاید آپ کو اس بات کا علم ہو کہ دھونی پور کا ٹھاکر بنسی راج کسی مصیبت میں گرفتار ہے۔‘‘
’’ایسی ویسی مصیبت… کئے کا پھل پا رہا ہے وہ، تین بیٹے ہلاک ہو چکے ہیں اس کے اور بڑی پُراسرار داستانیں سُنائی جا رہی ہیں اس کے سلسلے میں مگر وہ آپ کے پاس مدد کے لیے آیا تھا حیرت کی بات ہے وہ تو ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتا۔‘‘
’’اس کی اَنا ٹوٹ چکی ہے اور اب وہ دھونی پور کے ہر شخص کے سامنے ناک رگڑنے پر تیار ہے۔ میرا خیال ہے حافظ صاحب اس کے باقی بچوں کو زندہ رہنا چاہئے۔ انتقام کا یہ طریقۂ کار مناسب نہیں ہے۔ سزا اگر صرف اسے ملے جس نے گناہ کیا ہو تو زیادہ بہتر ہوتا ہے جو بے گناہ ہوں انہیں کسی اور کے گناہوں کی سزا نہیں ملنی چاہئے۔‘‘ حافظ حمید اللہ صاحب نے مجھے گہری نگاہوں سے دیکھا پھر بولے۔ ’’اگر آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں مسعود میاں صاحب تو ٹھیک ہے اس سلسلے میں میری جو خدمات ہوں گی انہیں سرانجام دینے کے لیے میں حاضر ہوں۔‘‘
میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی میں نے کہا۔ ’’بس آپ کی دُعائیں درکار ہوں گی مجھے اس کے علاوہ اور کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ حافظ حمید اللہ صاحب مسکرا کر خاموش ہوگئے، پھر میں نے ان سے پوچھا۔ ’’ویسے بستی والے بھی بنسی راج سے نفرت کرتے ہوں گے، آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘
’’سب اس سے گھن کھاتے ہیں، وہ بڑا سرکش آدمی رہ چکا ہے اور اس کے ہاتھوں ہمیشہ ہر ایک کو نقصان ہی پہنچا ہے۔ آج بھی اس کے بہت سے کارندے اس کی کنجوسی سے تنگ ہیں، کمبخت کچھ بھی نہیں دیتا کسی کو اور سب کچھ ہڑپ کر لینے کے چکر میں رہتا ہے۔ آپ دیکھ لیں مسعود میاں اگر آپ کا دل گواہی دیتا ہے تو اس کے لیے کام کریں۔‘‘
’’ہو سکتا ہے حمید اللہ صاحب اس سے بہتوں کی بہتری بھی ہو جائے یعنی انہیں کچھ مل جائے جنہیں اس کے ہاتھوں سے کچھ نہیں ملتا۔ وہ تو اپنے آپ کو اتنا مجبور و بے کس ظاہر کر رہا تھا کہ یوں لگتا تھا جیسے اب اسے اپنے دھن دولت سے کوئی دلچسپی ہی نہ ہو۔ بہرحال دیکھے لیتے ہیں اس کی مدد تو کرنا ہی ہوگی، ہاں یہ بتایئے کہ اس تک پہنچنے کا کیا ذریعہ ہو سکتا ہے؟‘‘
’’میں آپ کو اس کی حویلی تک لے جا سکتا ہوں یہ کونسا مشکل کام ہے۔‘‘
’’بس ذرا لوگوں سے چھپ کر جانا چاہتا ہوں تاکہ بلاوجہ شہرت نہ ہو پائے، اس سلسلے میں اس شہرت سے بہت سی رُکاوٹیں درمیان میں آ جائیں گی۔‘‘ میں نے کہا۔
’’اس کے لیے تو میرے خیال میں رات کا وقت ہی مناسب ہوگا، آج کا دن گزار لیجئے عشاء کے بعد نکل جایئے۔ ویسے بھی رات کے ایک حصے میں دھونی پور کی بستی مکمل پُرسکون ہو جاتی ہے اور یہاں راتوں کو کوئی رونق نہیں ہوتی، میں آپ کو وہاں پہنچا دوں گا۔‘‘
(جاری ہے)