Sunday, May 19, 2024

Kala Jadu | Episode 49

مسعود آسان ذرائع سے دولت حاصل کرنے کے لالچ میں کالے جادو کے ماہر بھوریا چرن سے جا ٹکرایا جو اپنے لئے کسی آلۂ کار کی تلاش میں تھا۔ اس نے مسعود کو اپنے شیطانی جال میں پھنسانا چاہا لیکن جب مسعود اس کے چکر میں نہیں آیا تو وہ اس کا دشمن بن گیا۔ اس نے اپنی خباثتوں سے مسعود کی زندگی عذاب کرڈالی۔ یہاں تک وہ گھر بار سے محرومی کے بعد بدحالی کی انتہا کو پہنچ گیا۔ ایسے میں چند برگزیدہ بندوں نے اس کی مدد کی اور بھوریا چرن کے شر سے نجات دلانے کے ساتھ کچھ روحانی قوتیں بھی اسے بخشیں۔ اسے ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنی ان صلاحیتوں کی مدد سے خلق خدا کو فیض پہنچائے۔ مسعود نے اس ہدایت پر پورا پورا عمل کیا اور کئی مصیبت زدہ افراد کی مشکلات حل کرنے میں ان کی مدد کی۔ بھوریا چرن جو مسلسل اس کے تعاقب میں تھا، ایک بار پھر اس پر اپنا دائو چلانے میں کامیاب ہوگیا جس کے نتیجے میں مسعود اپنی ان روحانی صلاحیتوں سے محروم ہوگیا جو بزرگوں کی جانب سے اسے بخشی گئی تھیں۔ بھوریا نے مسعود کو مکمل طور سے اپنے قابو میں کرنے کیلئے سات حسین جادوگرنیاں اور ان کے بیروں کی پوری فوج اس کے پیچھے لگادی۔ مسعود کسی نہ کسی طرح ان سے جان بچاتا پھرر ہا تھا۔ بالآخر طویل جان لیوا آزمائشوں کے بعد اسے ایک بار پھر وہی کراماتی کمبل واپس مل گیا جو ایک بزرگ نے اسے عطا کیا تھا اور جسے اوڑھتے ہی نگاہوں سے پوشیدہ مناظر اس پر عیاں ہوجاتے تھے اور اسی کمبل کی مدد سے وہ دوسرے لوگوں کی مدد بھی کرسکتا تھا۔ وہ ایک بستی میں جا پہنچا جہاں اس نے کئی افراد کی مدد کی۔ اسی دوران ایک اور شخص اپنی بپتا لے کر اس کے پاس آ پہنچا۔ یہ ایک ٹھاکر تھا جو بہت ظالم اور خودسر ہوا کرتا تھا لیکن اب خود اپنے مظالم کا نتیجہ بھگتنے پر مجبور تھا۔ اس نے ایک غریب شخص کو اپنی بہن سے شادی کرنے کے جرم میں اس کے پورے خاندان سمیت جلا کر راکھ کرڈالا تھا لیکن اب اس کی اولادیں ایک ایک کرکے پراسرار طریقے سے ہلاک ہورہی تھیں۔ اسے اپنی خطائوں کا احساس ہوچکا تھا اور وہ مسعود سے مدد کا طلبگار تھا۔ مسعود نے ٹھاکر کی مدد کرنے کا وعدہ کرلیا اور رات کو اس کی حویلی کی جانب چل پڑا۔ حویلی تک پہنچتے پہنچتے اس کے ساتھ کئی پراسرار واقعات پیش آئے تو اس پر انکشاف ہوا کہ جن لوگوں کو ٹھاکر نے زندہ جلوا دیا تھا، ان کی روحیں اپنا انتقام لینے کیلئے بے چین تھیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ انہیں چتا دی جائے۔ مسعود نے فیصلہ کیا کہ ان سب کو دریا پار ان کے علاقے میں پہنچا کر انہیں چتا کے حوالے کردیا جائے۔ اسی طرح ٹھاکر اور اس کے اہل خانہ کی جان ان سے چھوٹ سکتی تھی۔ وہ ٹھاکر اور اس کے گھر والوں کے ہمراہ کشتی میں سوار ہوکر دریا پار جانے کیلئے روانہ ہوا لیکن راستے میں انہی ارواح نے انہیں نقصان پہنچانے کیلئے اپنی شرارتیں شروع کردیں۔
(اب آپ آگے پڑھیے)
٭…٭…٭…٭
میں نے بنسی راج کے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
’’یہ کون ہے؟‘‘ بنسی راج نے خوفزدہ نگاہوں سے مجھے دیکھا اور پھر اس کے منہ سے ڈری ڈری آواز نکلی۔
’’ہیرا…ہیرا۔‘‘
’’میں تمام صورتحال سمجھ گیا تھا۔ ہرناوتی کی ہنسی بھی اب سمجھ میں آ رہی تھی اور یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ کشتی کی برق رفتاری کسی خوفناک حادثے کو جنم دینے والی ہے۔ وہ تو ایک خبیث روح تھی لیکن باقی سب ذی روح تھے اور رفتار پکڑنے والی بے آسرا کشتی کسی بھی لمحے دریا میں الٹ سکتی تھی۔‘‘
میں نے فوراً ہی اپنی جگہ چھوڑی۔ چند قدم آگے بڑھا اور ہیرا کے سامنے پہنچ گیا۔ اس نے بادبان کی طرف سے نظریں ہٹا کر میری طرف دیکھا اور پھر اس کی شرارت سے مسکراتی ہوئی سرخ آنکھوں میں نفرت کی پرچھائیاں دوڑنے لگیں۔ اس نے خونخوار نگاہوں سے مجھے دیکھا اور رخ تبدیل کر لیا۔ اس کے ہونٹوں سے نکلنے والی ہوا اب میرے سینے پر پڑی اور مجھے ایسا ہی محسوس ہوا جیسے کوئی سخت اور موٹی سل میرے سینے پر آ ٹکی ہو اور پوری قوت سے مجھے پیچھے دھکیل رہی ہو۔ یہ ہوا کی طاقت تھی لیکن خدا نے مجھے بھی یہ ہمت عطا کی کہ میں اس شیطانی طاقت کا مقابلہ کر سکوں۔ تیز ہوا بے شک میرے جسم میں سوراخ کئے دے رہی تھی لیکن میرے قدموں کو ایک تل برابر بھی پیچھے نہ ہٹا سکی۔ ہیرا مسلسل کوششیں کرتا رہا۔ تب میں نے سرد لہجے میں کہا۔
’’بس ہیرا رک جائو۔ اس کے بعد تمہارے نقصان کی باری آتی ہے۔‘‘ وہ رک گیا۔ ہوا بند ہوگئی۔ میں نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔
’’جتنا کچھ تم کر چکے ہو ہیرا میرے خیال میں وہ بہت زیادہ ہے اور اب تمہیں یہ سلسلہ ترک کر دینا چاہئے۔‘‘ اس نے خونخوار انداز میں منہ کھولا اور پھر اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
’’ارے او میاں جی۔ زیادہ باتیں نہ بنا ہمارے سامنے۔ بڑا مہاتما ہے تو، بڑا علم والا ہے۔ ہم نہ مہاتما ہیں، نہ علم والے، ہم تو مظلوم ہیں، انیائے ہوا ہے ہمارے ساتھ۔ یہ پاپی، یہ ہتھیارا ہمارے پورے خاندان کو ختم کر چکا ہے، ارے تیرا ہمارا کوئی جھگڑا نہیں ہے میاں، بیچ میں مت آ ہمارے، جو سوگند ہم نے کھائی ہے اسے پوری کئے بغیر ہم نہیں رہ سکیں گے، بیچ کا جھگڑا مت نکال میاں جی، بیچ کا جھگڑا مت نکال۔‘‘
تم اس سے انتقام لے چکے ہو۔ تین بیٹے مار دیئے ہیں تم نے اس کے اور کیا کرو گے، بس اتنا کافی ہے اور تم تو اس کے خاندان کے ایک فرد ہو، ہرناوتی سے شادی ہوئی ہے تمہاری، کچھ بھی ہے یہ اپنا خاندان ہے تمہارا، بس اتنا ہی کافی ہے جو تم کر چکے، بس اس کے بعد تم اپنی یہ کارروائیاں بند کر دو۔‘‘
’’ارے جارے جا۔ کارروائیاں بند کر دو۔ ہم اس کے خاندان کے ہیں۔ ایسا ہوتا ہے خاندان والوں کے ساتھ رے، ہمیں بھی تو اس کی طرح اس سنسار میں بھیجا گیا تھا، کون نیچا ہے، کون اونچا ہے، چار پیسے انسان کو اتنا اونچا بنا دیتے ہیں کہ وہ نیچا دیکھ ہی نہیں سکتا، ہم بھی اس کی بہن کو عزت دیتے، ہم بھی عزت سے جی لیتے۔ بیچ میں مت آ میاں، ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔‘‘
’’اور اگر اب تم نے کوئی کارروائی کی تب بھی اچھا نہیں ہو گا ہیرا۔‘‘
’’ٹھیک ہے پھر، ہمیں جو کرنا ہے ہم کر رہے ہیں، یہ لے۔ اس نے پھر بادبان کی جانب رخ کیا۔ کشتی کی رفتار اب بھی بہت تیز تھی اور اسے کوئی سنبھالنے والا نہیں تھا چنانچہ خطرہ ٹلا نہیں تھا۔ اب میرے لئے ضروری تھا کہ میں خود بھی اپنے آپ کو عمل میں لائوں۔ میں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بادبان کی جانب دیکھنے لگا۔ میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی کہ یہ بادبان جل جائے اور دوسرے لمحے بادبان سے شعلے ابھرنے لگے۔ بادبان کسی سوکھے ہوئے کاغذ کی طرح جل اٹھا تھا اور اس میں ایک دم آگ بھڑک اٹھی تھی۔ آگ کے بھڑکتے ہی بادبان کی ساری ہوا نکل گئی اور کشتی کی رفتار سست ہو گئی۔ ہیرا نے میری طرف دیکھا اور پھر خونخوار انداز میں آگے بڑھا۔ میں نے دونوں ہاتھ آگے کر لئے اور آہستہ سے کہا۔ ’’اب تم جل کر راکھ ہو جائو گے ہیرا۔ آگے نہ بڑھنا ورنہ یہی آگ تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گی، سوچ لو ہیرا، جو کچھ نقصان تمہیں پہنچایا جا چکا ہے میں اس میں شریک ہونا نہیں چاہتا لیکن اگر تم نے ان لوگوں کی زندگی خطرے میں ڈالی تو مجبوراً مجھے بھی تمہارے ساتھ بدسلوکی کرنی پڑے گی۔ ہاں اگر تم اپنی شیطانی قوتوں کو میرے خلاف استعمال کرنا چاہو تو کرو اگر ناکام ہو جائو تو میری بات مان لینا اور مجھے جوابی کارروائی کے لئے مجبور مت کرنا۔‘‘
وہ مجھے دیکھتا اور اور پھر دفعتاً اس نے اپنے جلے ہوئے کالے ہاتھ چہرے پر رکھ لئے۔
’’سب مرے کو مارتے ہیں، سب مرے کو مارتے
ہیں، جو ظالم ہوتا ہے اس کے لئے کوئی کچھ نہیں کرتا، کوئی کچھ نہیں کرتا۔‘‘
’’ہیرا مجھے تم سے ہمدردی ہے، مجھے سچ مچ تم سے ہمدردی ہے، جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا میں اسے اچھی نگاہوں سے نہیں دیکھتا لیکن، لیکن اب تم اپنی انتقامی کارروائیوں کا یہ سلسلہ ترک کر دو، تم اپنے آپ کو پرسکون کرو ہیرا، جس دنیا سے تمہارا تعلق ختم ہو چکا ہے اب اس سے یہ تعلق مت رکھو۔‘‘
’’تعلق ختم ہو چکا ہے، چتا تک نہ ملی ہمیں، سارا پریوار جلا دیا ہمارا، چتا تک نہ دی پاپیوں نے…‘‘
’’میں تمہیں چتا دلوا سکتا ہوں ہیرا، میں تمہیں چتا دلوا سکتا ہوں سمجھے۔ یہ کام بنسی راج کو کرنا ہو گا۔ بنسی راج تم اپنے باغ کی طرف جا رہے ہو نا، پہلا کام تمہارا یہ ہو گا کہ ہیرا کے لئے چتا بنائو، اس کی چتا جلائو۔‘‘ بنسی راج نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔
’’میں تیار ہوں مہاراج، سچے من سے تیار ہوں، جو کچھ مجھ سے ہو چکا ہے مجھے اس کا بڑا دکھ ہے ہیرا، میرا دل کبھی خوش نہ ہو سکے گا، میری وجہ سے میرے تین بچے مجھ سے چھن گئے، میں تیار ہوں، ہیرا میں تجھ سے معافی مانگتا ہوں۔‘‘ بنسی راج رونے لگا۔ ہیرا نے کوئی جواب نہیں د یا تھا۔ اس نے پتوار سنبھال لئے۔ کشتی کا رخ تبدیل ہونے لگا۔ آہستہ آہستہ وہ دوسرے کنارے کی طرف جا رہی تھی۔ سب کے جسموں میں کپکپاہٹ تھی۔ ایک بدروح کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ بنسی راج کی دھرم پتنی تھر تھر کانپ رہی تھی اور اس پر نیم غنودگی کی کیفیت طاری تھی۔ ہرناوتی جو کچھ دیر پہلے ہنس رہی تھی، اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور اس کے رخساروں پر دو لکیریں چل رہی تھیں۔
کچھ عجیب سی کیفیت تھی، شیطانی روحوں سے واسطہ پڑ چکا تھا مگر یہ پہلا شیطان تھا جو مظلوم تھا۔ کشتی کنارے جا لگی۔ اصل جگہ سے دور نکل آئی تھی۔ بنسی راج کا سونا باغ دور رہ گیا تھا۔ ہیرا خشکی پر کود گیا۔ میری ہدایت پر وہ لوگ بھی کسی نہ کسی طرح خشکی پر اتر آئے۔ بنسی راج کی دھرم پتنی سے چلا نہیں جا رہا تھا، میں نے کہا۔ ’’اپنا وعدہ پورا کرو بنسی راج۔‘‘
’’ہاں، میں تیار ہوں مگر یہاں … یہاں میں کیا کروں باغ تک جانا ہوگا۔‘‘
’’چلو…!‘‘ میں نے کہا۔ سب گرتے پڑتے باغ کی طرف چل پڑے۔ ہیرا چند گز تک ہمارے پیچھے چلا پھر غائب ہو گیا۔ میں نے ہی پلٹ کر دیکھا تھا اور مجھے اس کے غائب ہونے کا علم ہوا تھا مگر میں نے کسی سے کچھ نہ کہا۔ باغ واقعی خوبصورت تھا۔ بیچوں بیچ ایک عمارت بنی ہوئی تھی جس میں باغ کا رکھوالا تیجا رہتا تھا۔ تیجا نے حیرانی سے مالکوں کا استقبال کیا۔ اس وقت بنسی راج کو ہیرا کے موجود نہ ہونے کا احساس ہوا تھا۔
’’گیا…؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’تمہیں اس سے غرض نہیں ہونی چاہئے بنسی راج…!‘‘
‘‘اب میں کیا کروں؟‘‘
’’چتا تیار کرائو…‘‘ بنسی نے گردن جھکا دی۔ ہرے بھرے باغ کے ایک گوشے میں لکڑیاں ڈھیر کی جانے لگیں۔ ملازم تیجا کے ساتھ بنسی راج کے دونوں بیٹے اور خود بنسی راج بھی مصروف ہو گئے تھے۔ موٹی اور پتلی لکڑیوں کے انبار کا احاطہ بنا دیا گیا۔ تب میری نگاہ اس درخت کے چوڑے تنے کی طرف اٹھ گئی جس کے قریب وہ سب بیٹھے تھے۔ بوڑھا لاکھو، تین عورتیں، ایک بچہ۔ میں نے بچے کی آواز سنی۔
’’بپو… ارتھی نہیں ہے۔‘‘
’’چپ ہو جا پوت، پاپی کے ہاتھ سے چتا ہی مل جائے تو کافی ہے۔‘‘ عقب سے ہیرا بھی آ کر بیٹھ گیا تھا۔ عورتیں خاموش تھیں، کوئی اجنبی شخص تو اس منظر کو سمجھ بھی نہ پاتا مگر جو شخص بھی ہوتا، وہ ہوش و حواس میں نہیں رہ سکتا تھا۔ بنسی راج کی دھرم پتنی کو اندر عمارت میں بھجوا دیا گیا تھا پھر تیجا نے انہیں دیکھ لیا اور ایک لمحے پہلے میں نے جو سوچا تھا، وہ سامنے آ گیا۔ یقیناً تیجا ان کے بارے میں جانتا ہوگا، اس نے ایک دلخراش چیخ ماری اور لمبی لمبی چھلانگیں لگاتا ہوا وہاں سے بھاگ گیا۔ بنسی راج اور اس کے بیٹوں نے بھی اب انہیں دیکھ لیا تھا اور بری طرح کانپنے لگے تھے۔
’’اپنا کام جاری رکھو بنسی راج، وعدہ پورا نہ ہو سکا تو میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکوں گا۔ بنسی راج پہلے سے زیادہ تیزرفتاری سے کام کرنے لگا تھا مگر اس طرح کہ دہشت سے ان سب کی بری حالت تھی۔ چتا تیار ہو گئی، لکڑیوں کا انبار جمع ہو گیا، بیچ میں جگہ تھی۔
’’چلو چاچا… چلو ماسی چتا تیار ہو گئی۔ سب اندر چلے جائو۔‘‘ ہیرا نے کہا اور درخت کے پیچھے بیٹھے اٹھ گئے، کچھ دیر کے بعد وہ لکڑیوں کے ڈھیر کے اندر پوشیدہ ہو گئے۔ ہیرا نے ہرناوتی کو دیکھا، وہ پتھرائی ہوئی بیٹھی تھی۔ ہیرا نے آہستہ سے اسے آواز دی۔ ’’ہرنا… ہرنا…! مگر ہرناوتی نے اسے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اسی طرح بیٹھی رہی تب ہیرا آہستہ سے بولا۔
’’چلتا ہوں ہرنا دیر ہو رہی ہے، پہلے ہی دیر ہو گئی تھی مگر میں کیا کرتا… ٹھیک ہے بنسی راج۔ سوچا تو یہ تھا کہ جب تک میں روتا رہوں گا تجھے رلاتا رہوں گا مگر میاں جی بیچ میں آ گئے۔ میاں جی منش کو جیتے جی سنسار میں کچھ ملے یا نہ ملے مگر اس سے اس کی چتا بھی چھین لی جائے تو… اچھا چلتا ہوں ہرنا چلتا ہوں، بنسی راج… یہ باغ تیرے بیٹے پورن نے لگایا تھا نا؟‘‘
ہاں…‘‘ بنسی راج نے کہا۔
’’اب یہ تیرا نہیں ہے ہمارا ہے، ان سب کا ہے جو تیرے ہاتھوں مارے گئے، اس کے ایک پیڑ پر اب کوئی پھل نہ لگے گا، کوئی پیڑ ہرا نہ رہے گا، سب سوکھ جائیں گے۔ تو جب بھی نیما سے گزرے گا اسے دیکھے گا اور تجھے اپنا کیا ہوا یاد آ جائے گا۔ دیکھ پتے سوکھنے لگے، شاخیں سلگنے لگیں۔ ساری آتمائیں پہنچ گئی ہیں۔ ہم سب یہاں رہیں گے، منع کر دینا اپنوں کو، کبھی ادھر سے نہ گزریں نہیں تو ہمیں سب کچھ یاد آ جائے گا۔ تیرے پریوار کا کوئی ادھر سے گزرا تو جیتا نہ جائے گا۔‘‘
وہ منظر میں نے بھی دیکھا۔ درخت پتوں سے خالی ہوتے جا رہے تھے، ان کی شاخیں ٹنڈمنڈ ہونے لگی تھیں۔ لمحوں میں ایسا انوکھا اجاڑ کسی نے نہ دیکھا ہو گا۔ ہرا بھرا باغ منٹوں میں سوکھ گیا تھا۔ یہ سب میری آنکھیں دیکھ رہی تھیں۔ میں ان ہولناک ناقابل یقین واقعات کا گواہ ہوں۔ ہیرا نے آخری نظر ہرناوتی پر ڈالی اور پھر چتا کی طرف بڑھ گیا۔
’’اپنا کام کرو بنسی راج… اپنا کام۔‘‘ بنسی راج کپکپاتے قدموں سے آگے بڑھا، جیب سے ماچس نکالی اور سوکھی لکڑیوں میں آگ لگا دی۔ آہستہ آہستہ آگ بھڑکنے لگی اور پھر لکڑیوں کا ڈھیر جہنم بن گیا، شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے۔
’’چلو ونود… چلو راجیش اپنی ماتا جی کو سنبھالو، چلیں یہاں سے مہاراج، ہرنا اٹھو بیٹی!‘‘
’’میں… میں کہاں جائوں گی بھیا جی، یہ میرا سسرال ہے، میکے میں بہت رہ لی اب تو سسرال میں رہنے دو نا بھیا جی، کوئی رکھیل نہیں تھی، میں ہیرا کی پتنی ہوں، اس کے ساتھ پھیرے کئے تھے میں نے، بدائی تو نہ کی تم نے، ستی بھی نہ ہونے دو گے کیا، ارے واہ۔‘‘ وہ اپنی جگہ سے اٹھ گئی۔
’’ہرنا… ہرنا… نہیں… نہیں میری بیٹی…!‘‘
’’جائو جائو بھیا، ماتا پتا ہوتے تو وہ نہ کرتے جو تم نے کیا، وہ جہیز میں آگ نہ دیتے بھیا۔ ہونہہ۔‘‘ اس نے کہا اور چتا کی طرف بڑھ گئی۔
’’ارے…ارے ونود… راجیش۔ پکڑو اسے… ارے… ارے…!‘‘ بنسی راج چیخا…!
بنسی رام کے دونوں بیٹے ہرناوتی کی طرف لپکے مگر وہ دوڑتی ہوئی آگ کے حصار میں داخل ہوگئی۔ شعلوں کی خوفناک تپش اتنے فاصلے سے جلائے دے رہی تھی۔ ایسی ہولناک آگ میں کسی کے داخل ہوجانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، مگر میں نے یہ منظر بھی دیکھا اور یہ ایسا مرحلہ تھا کہ میں خود بھی کچھ نہیں کرسکا۔ انسانی گوشت کے جلنے کی چراند اٹھی اور معدوم ہوگئی۔ بھڑکتی آگ آن کی آن میں ہرناوتی کو چٹ کرگئی۔
راجیش اور ونود دیکھتے رہ گئے تھے۔ پھر
شعلوں کی تپش سے گھبرا کر پیچھے ہٹ آئے۔ بنسی راج بلک بلک کر رو رہا تھا۔ ’’ہرنا ستی ہوگئی میری ہر نا ستی ہوگئی۔ ہائے رام میری چھوٹی سی بھول نے مجھے کتنوں سے دور کردیا۔ دوش میرا بھی نہیں تھا۔ یہ اونچ نیچ کا فرق مجھے سکھایا گیا تھا۔ بھگوان کے بنائے سارے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ یہ ہم ہی پاپی ہیں جو ان میں فرق کردیتے ہیں۔ میری بہن جل مری مہاراج، میری بہن جل مری۔‘‘ وہ روتا رہا، میں خاموش کھڑا تھا پھر اسے جیسے کچھ خیال آیا اس نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر راجیش اور ونود کو دیکھا۔ انہیں آواز دی۔ دونوں قریب پہنچے تو اس نے لپک کر انہیں اپنے سینے سے بھینچ لیا۔ ’’تم بچ گئے، سن رہی ہے تو ہمارے راجیش اور ونود بچ گئے۔ ہمارے کسم اور شردھا بچ گئیں، ہمارے چار بچے بچ گئے۔ مہاراج آپ نے میرے بچوں کو بچالیا۔‘‘ وہ میرے پیروں پر گرنے لگا تو میں پیچھے ہٹ گیا۔
’’نہیں بنسی راج۔ میرے دین میں یہ حرام ہے۔ ایسا نہ کرو۔‘‘
’’آپ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے مہاراج۔ بہت بڑا احسان کیا ہے۔‘‘
’’میں نے کچھ نہیں کیا۔ جو کچھ کرتا ہے اوپر والا کرتا ہے، وہ کسی کو ذریعہ بنا دیتا ہے۔ تمہارے جتنے بچے دنیا سے چلے گئے انہیں اسی عمر میں جانا تھا۔ ایسے نہ ہوتا تو کچھ اور ہوتا مگر یہ تمہارے لیے سزا تھی۔ ہوسکے تو انسانوں سے محبت کرنا سیکھو بنسی راج۔ اسی میں نجات ہے۔‘‘
’’میں اپنے پاپوں کا پرائشچت کرونگا مہاراج۔ چلئے واپس چلیں، جو ہوا بہت ہوگیا۔ چلئے مہاراج۔‘‘
’’تمہارا کام ہوگیا بنسی راج۔ اب تم کشتی میں بیٹھ کر واپس جائو۔ میری منزل کہیں اور ہے۔‘‘
’’نہیں، نہیں مہاراج۔ اب تو میرے باغ میں پھول کھلے ہیں۔ ہم آپ کی سیوا کریں گے۔ ایسے نہ جانے دیں گے آپ کو مہاراج۔‘‘
’’نہیں بنسی راج بس اب تم جائو۔‘‘ میں نے کہا۔ وہ بہت کچھ کہتا رہا مگر میں تیار نہیں ہوا۔ معصوم لوگوں کی آبادی تھی، یہ واقعہ مشہور ہوگا لوگ اپنے اپنے مسائل لے کر دوڑ پڑیں گے۔ پوجا شروع کردیں گے میری، پہلے ہی اندازہ ہوگیا تھا اور یہ سب کچھ مناسب نہیں تھا۔ بڑی مشکل سے بنسی راج کو راضی کرسکا تھا۔
’’ہم سے کچھ بھی نہ لوگے مہاراج۔‘‘ وہ بولا۔
’’جو کچھ مجھے دینا چاہتے ہو خاموشی سے مولوی حمید اللہ کو دے دینا، ان کی دوجوان بیٹیاں ہیں۔ غریب اور مفلس انسان ہیں۔ ان کی بیٹیوں کی شادی کا بوجھ بانٹ لینا۔ سمجھو مجھے سب کچھ مل جائے گا۔‘‘
’’بھگوان کی سوگند۔ آپ سے وعدہ کرتا ہوں۔ اپنے ہاتھوں سے ان کا بیاہ کروںگا۔ سارا خرچہ اٹھائوں گا ان کا۔‘‘
’’انہیں میرا سلام کہہ دینا۔‘‘ وہ وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ جو کچھ ہوا تھا خوب ہوا تھا۔ بہت سے مناظر حیران کن تھے۔
اچانک ہرا بھراباغ سوکھ گیا تھا۔ کسی درخت پر ایک پتا نظر نہیں آرہا تھا۔ یہ مظلوم روحوں کا انتقام تھا۔ نہ جانے یہ راستہ کس طرف جاتا ہے، کچھ پوچھا نہیں تھا بنسی راج سے مگر کیا فرق پڑتا ہے۔ زمین کی وسعتوں میں کسی بھی جگہ چلا جائوں۔ مجھے جانا ہی کہاں ہے۔ حلق میں ایک گولا سا آپھنسا، کچھ یادیں ذہن میں سرسرائیں مگر مجھے اجتناب کرنا تھا۔ ہدایت نہیں ملی تھی اور خود سوچنا بھی گناہ تھا۔ جلدی جلدی وہاں سے دور نکل آیا۔ جب تک چل سکتا تھا چلتا رہا۔ تھک گیا تو بیٹھ گیا۔ بھوک لگ رہی تھی مگر آس پاس کچھ نہیں تھا۔ ہاتھ اٹھاکر خدا کا شکر ادا کیا۔ عشاء کی نماز پڑھی اور پھر لیٹ گیا۔ فضا میں خنکی سی پھیل گئی تھی جو بڑھتی گئی، کمبل کھول کر اوڑھ لیا۔ آنکھیں بند کرلیں۔ پھر کچھ غنودگی سی طاری ہوگئی۔ اسے نیند نہیں کہا جاسکتا تھا۔ جانا پہچانا سا ماحول نظر آیا۔ غور کرنے لگا کونسی جگہ ہے۔ یاد آگیا یہ وہ جگہ تھی جہاں مجھے لے جایا گیا تھا۔ اور جہاں میں نے مہاوتی کو بلی کو طرح انسانی گوشت چباتے دیکھا تھا۔
بالکل وہی جگہ تھی۔ یہاں بھی کالی کا ایک عظم مجمسہ استادہ تھا۔ پھر میں نے مہاوتی کو دیکھا۔ سر پر بجلیوں کی طرح کوندتے ہیروں کا تاج تھا۔ ایک سمت سادھو شمبھو ناتھ تھا، دوسری طرف کالی داس۔ بڑی شان سے چلتی ہوئی کالی کے مجسمے کی طرف جا رہی تھی، اس کے پیچھے بیروں کا مجمع تھا یہ پورنیوں کے بیر تھے۔ کالی کے مجسمے کے قدموں کے پاس کوئی گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھا تھا نہ جانے کون تھا۔ سر گھٹنوں میں ہونے کی وجہ سے چہرہ نہیں نظر آرہا تھا۔ پھر بیر رک گئے، کالی داس اور شمبھو بھی رک گئے۔ مہاوتی آہستہ آہستہ آگے بڑھی اور کالی کے پیروں کے پاس بیٹھے شخص کے سامنے پہنچ گئی۔ عجیب سا کھیل ہو رہا تھا۔ مہاوتی اسے دیکھتی رہی پھر اس کے عقب میں جا کھڑی ہوئی، اس نے مجسمے کے قدموں کو چھوکر ہاتھ ماتھے سے لگائے اور پھر کالی کے ہاتھ میں دبا ہوا خنجر اپنے ہاتھ میں منتقل کرلیا۔ مگر اس وقت بیر چیخنے لگے۔ اس عظیم الشان غار کے بغلی گوشے سے نارنجی رنگ کا ایک غبار اندر داخل ہو رہا تھا جو پہاڑی غار کے ایک سوراخ سے نکل رہا تھا۔ بیر پیچھے ہٹنے لگے اور بہت پیچھے پہنچ گئے، مہاوتی بھی رک کر دیکھنے لگی تھی۔ نارنجی غبار ایک انسانی جسم کی شکل اختیار کرنے لگا اور پھر اس سے جو انسان تشکیل ہوا وہ بھی میرا جانا پہچانا تھا۔ یہ بھوریا چرن تھا، نارنجی رنگ کا جوگیا لبادہ اوڑھے ہوئے، سر پر کوئی چار فٹ اونچا تاج پہنے ہوئے، گردن میں انسانی کھوپڑیوں کی مالا پڑی ہوئی۔ چہرے پر غصے کے آثار تھے۔
’’جے شنکھا۔‘‘ مہاوتی نے خنجر نیچے جھکاتے ہوئے کہا۔ ’’لنگڑی پورنی۔‘‘ بھوریا چرن نے زہریلے لہجے میں کہا اور مہاوتی کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا۔ اس نے بھوریا چرن کو گھورتے ہوئے کہا۔
’’کالی کنڈ میں شنکھا کو عزت دی جا رہی ہے، مگر شنکھا کو بھی کالی نواس کے آداب کا خیال رکھنا چاہئے۔‘‘
’’کالی چنڈولی اپنی سرحدوں کا خود خیال نہیں کر رہی، بہت آگے بڑھ رہی ہے۔‘‘
’’کوئی بھول ہوئی مجھ سے۔‘‘
’’بھول ہی بھول …تو نے شنکھا کی پیٹھ میں خنجر مارے ہیں۔‘‘
’’کیسے؟‘‘
’’کئی طرح سے نرکھنی، تیرا پیڑھ کیا ہے؟‘‘
’’پورنی ہوں۔‘‘
’’شرم نہیں آتی تجھے۔ تونے پورن پاٹھ کیا ہے۔‘‘
’’شنکھا تو بڑا ہے تیری شکتی مہان ہے۔ ہم تیرا مقابلہ نہیں کرسکتے مگر ہمیں ہماری بھول بتا۔‘‘
’’چھ پورنیاں تیری ہیں۔ ساتویں کہاں ہے۔‘‘
’’تو جانتا ہے؟‘‘
’’ ہاں میں جانتاہوں۔ میں نے یہ پورنیاں ایک مسلمان کو دان کی تھیں۔ میرا اس کا پرانا معاملہ تھا۔ میں اس کا دھرم بھرشٹ کرنا چاہتا تھا۔ وہ اپنے دھرم کا سیوک ہے۔ میں نے اس کا خون بدل کر اسے پورنا بنایا اور تو نے وہ خون نچوڑ کر اسے پھر سے پوتر کردیا۔‘‘
’’تو اسے لے گیا تھا شنکھا مجھے یاد ہے۔‘‘
’’کچھ نہ بگاڑ سکا اس کا میں۔ تیری وجہ سے اس کی پوترتا اسے واپس مل گئی۔‘‘
’’کیا وہ بہت بڑا گیانی ہے۔‘‘
’’تھا نہیں، تیری وجہ سے بن گیا ہے۔ ایک پورنی اس نے خود مار دی چھ کو اور مارنا چاہتا تھا مگر برسوں لگ جاتے اسے۔ تو نے اس کا برسوں کا کام لمحوں میں کردیا اور اسے اپنے دھرم کی شکتی مل گئی۔‘‘
’’شنکھا سے بڑی شکتی؟‘‘
’’وہ تو تجھے پتہ چل جائے گا۔‘‘
’’مجھے جو پتہ چلے گا وہ میں دیکھ لوں گی شنکھا۔ مگر تیرے میرے بیچ کوئی بات نہ ہو تو اچھا ہے۔‘‘
’’کالی کنڈ میں جیون بتادے گی کیا۔ باہر نہ آئے گی اس سے۔ شنکھا سے مقابلہ کرے گی۔‘‘
’’بھول کر بھی کہیں سوچ سکتی مگر تو برابر میرا اپمان کر رہا ہے۔ میرے بیر اسے اچھا نہیں سمجھ رہے۔‘‘ مہاوتی نے کہا۔
’’تیرے بیر… میرے بیروں کو دیکھنا ہے۔ نہیں دیکھا تو دیکھ لے۔‘‘ بھوریا چرن نے پیلے کپڑے کی ایک جھولی میں ہاتھ ڈال کر ماش کی مٹی بھر دال نکالی اور اسے زمین پر دے مارا۔ مہاوتی نے زمین پر


ہوئے دال کے دانوں کو دیکھا جو پھولتے جا رہے تھے اور پھر ہر دانے سے پیلے رنگ کی ایک مکڑی نکل آئی۔ پہلے وہ ننھی سی ہوتی پھر ایک دم بڑی ہونے لگتی یہاں تک کہ چھالی کے دانے برابر ہوجاتی۔ دانے دور تک بکھر گئے تھے اور اسی مناسبت سے مکڑیاں اس علاقے میں پھیل گئی تھیں۔ سب سے پہلے شمبھو اور کالی داس اچھل اچھل کر اونچی جگہوں پر چڑھ گئے۔
مہاوتی کے چہرے پر عجیب سے آثار نظر آرہے تھے۔ بھوریا چرن نے اور دال نکالی اور پہلے کے سے انداز میں زمین پر پھینک دی، مکڑیوں کا پورا کھیت اگ گیا، بڑی مکڑیوں نے وہاں موجود ہر چیز چاٹنا شروع کردی تھی۔ پورنیوں کے بیر بدحواس ہونے لگے تھے، وہ بے چینی سے ادھر ادھر دوڑنے لگے، مکڑیاں ان پر بھی چڑھنے لگیں اور وہ ناچ ناچ کر انہیں جھاڑنے لگے، ادھر بکھری ہوئی مکڑیوں نے وہاں صفایا شروع کردیا تھا۔ دفعتاً شمبھو ناتھ چیخا۔
’’شما کردے شنکھا۔ شما کردے دھن پوریا۔ تجھے دیوی کی سوگندھ۔ تجھے پاٹھک دیوتا کا واسطہ شما کردے۔ مہاوتی شما مانگ لے شنکھا سے ہم اس کے آگے کچھ نہ کرسکیں گے۔‘‘
’’میں نے کب ایسی بات کہی شمبھو ناتھ جی، شنکھا مہان ہے اسے کون نہیں مانتا۔‘‘
’’شما مانگ لے شنکھا سے۔ جے جگدمبے جے مہانی۔ شما کردے شنکھا شما کردے۔‘‘ شمبھو چیخا!
’’شما کردے مکڑ… تیرے بیر شکتی مان ہیں۔‘‘ مہاوتی نے کہا اور بھوریا چرن اسے گھورنے لگا۔ پھر اس نے دونوں ہاتھ سیدھے کرکے ادھر ادھر کئے اور مکڑیاں غائب ہوگئیں۔
’’تیرے بیر تیرے اپمان کو اچھا نہیں سمجھ رہے تھے تو کچھ کر کیوںنہ کرسکے مہاوتی۔‘‘ بھوریا چرن نے کہا۔
’’شنکھا گرو ہے۔ جو جانتا ہے وہی جانتا ہے۔‘‘ مہاوتی نے کہا۔
’’بڑا گھمنڈ ہوگیا ہے تجھے۔‘‘
’’شنکھا کے سامنے نہیں۔ ہاں شنکھا کے بل پر ہوسکتا ہے۔‘‘ مہاوتی نے اچانک چولا بدل لیا۔ وہ دلکش انداز میں مسکرانے لگی۔ مکار شنکھا ہنسنے لگا۔ اس نے شمبھو اور کالی داس کو دیکھا اور بولا۔
’’سسری کچوندی ہے نری۔ ایک دم کچوندی۔ چار منتر سیکھ لیے،کالی کھان بن گئی۔ اسے سمجھائو کالی سنتھو ہے۔ کالی سنتھال ہے۔ اس کے انت پاتال سے گہرے ہیں، یہ چار منتر کالی کھان نہیں بنادیتے، جیون بھر کالی پاٹھ کرے گی تھوڑا رہے گا۔ پگلی چنڈولی تریا چرتر دکھا رہی ہے شنکھا کو۔ مسکراکر لبھا رہی ہے۔ اسے جس نے سات اپسرائیں دان کردیں ایک انجانے کو۔ وہ اپسرائیں جو مہاراج اندر کی سبھا میں ستاروں کی طرح جگمگاتی ہیں، ہونہہ لنگڑی پورنی۔‘‘
’’شنکھا مہان ہے۔‘‘ مہاوتی سنبھل کر بولی۔
’’تو نے اس مسُلے کو اس کی دھرم شکتی دیدی جو ہم نے بڑی مشکل سے چھینی تھی اور اب وہ گیانی بن گیا ہے۔ اس کے ہاتھوں ہماری پیڑھ کو جو نقصان پہنچے گا اس کا ذمہ کون لے گا؟‘‘
’’مجھے پتہ نہیں تھا مہاراج۔ کیا وہ ایسا کرسکتا ہے۔‘‘
’’لال تلیا کا ماگھ مار دیا اس نے۔ ایک کرودہی پریوار کو بھسم کردیا، اگنی میں، ورنہ وہ سنسار میں خوب کام کرتے۔ یہ سب تیری وجہ سے ہوا۔‘‘
’’تم اسے کتوں کی طرح گھسیٹتے لے گئے تھے مہاراج، مارکیوں نہ دیا تم نے اسے؟‘‘
’’توماردینا چنڈولی۔ آئے گا وہ تیرے پاس بھولے گا نہیں تجھے۔‘‘ بھوریا چرن طنزیہ لہجے میں بولا۔ پھر کالی کے قدموں میں بیٹھے نوجوان سے بولا۔ ’’تیرا کیاخیال ہے اے چھورا۔ ہوش ٹھکانے آئے تیرے۔ اٹھ کھڑا ہو۔‘‘ وہ شخص جو گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھا تھا اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ متوحش نظروں سے ادھر ادھر دیکھتا رہا تھا پھراس کے چہرے پر وحشت ابھر آئی۔
’’میں کہاں ہوں؟‘‘ اس نے خوفزدہ لہجے میں کہا۔
’’ ابھی تو اسی سنسار میں ہے۔ ہم کچھ دیر نہ آتے تو چنڈولی کے پیٹ میں ہوتا۔ اب کیا کہتا ہے؟‘‘
’’یہ… یہ سب کیا ہے۔ اوہ مہاوتی مہارانی جی۔‘‘
’’اسے اسے کیوں جگادیا مہاراج۔ یہ کالی دان ہے۔ میں اسے کالی کو بھینٹ دے رہی ہوں۔‘‘ مہاوتی نے بے چینی سے کہا۔
’’تیرا ستیاناس ہو۔ سارے کام وہ کر رہی ہے جو میرے نقصان کے ہوں۔‘‘
’’ سمجھی نہیں مہاراج؟‘‘ اسے کالی بھینٹ دینے دو۔ یہ میرے کام کا ہے۔‘‘ مہاوتی بولی۔
’’تجھ سے پہلے یہ میرے کام کا تھا، سمجھی۔ یہ اماوس کی رات پیدا ہوا ہے اور پائل ہے۔‘‘
’’یہی میرے نکھٹ کو دور کرسکتا ہے۔ میں نے اسے بڑی مشکل سے پایا ہے مہاراج۔‘‘ مہاوتی عاجزی سے بولی۔
’’کچوندی ہے نری کچوندی، حرامخور۔ اری بائولی میرے پاس سے بھاگا ہوا ہے اور یہ چھپتا پھر رہا تھا کمینہ کہیں کا۔ جانتی ہے وہ جو ایک بیکار سا لڑکا تھا اور میں نے اسے اس کی مرضی سے پیر پھاگن کے مزار پر بھیجنا چاہا اور وہ نہ گیا اس وقت سے میرا شکار ہے، مگر میری ضد نے اسے گیانی بنادیا۔ وہی لڑکا جو تیرے پاس سے میں لے گیا تھا۔ اگر سسرا مجھے پیر پھگنوا دوار پہنچادیتا تو کھنڈولہ بن گیا تھا میں، سنترا کے سترہویں گیان کو جانتی ہے، نام بھی نہ سنا ہوگا تو نے تو چنڈولی۔ ہم پابند ہوتے ہیں شنکھا کی حد سے نکل کر کھنڈولہ بننے کے لئے۔ سنترا کے سترہویں پاٹھ کے اور اس میں پہلا آدمی ہی ہوتا ہے جو آخری آدمی ہوتا ہے اور اس کے بعد اگر کام نہ ہو تو شنکھا شکتی بھی چلی جاتی ہے۔ بڑا پیچھا کیا ہم نے اس سسرے کا اور ہماری ہی وجہ سے وہ اپنا دھرم گیانی بن گیا، بڑی مشکل سے ہم نے اس کا توڑ نکالا اور یہ چھوکروا تلاش کیا، جو اماوس کا پائل ہے، مگر یہ سسرے مسلمان چھوکرے، پتہ نہیں ان کے کان میں کیا بھردیا جاتا ہے، کبھی کام کے نہیں نکلتے۔ یہ بھاگ آیا اور چھپتا چھپاتا تیرے پاس پہنچ گیا مگر سسرا آکاش سے گرا کھجور میں اٹکا۔ تیرے ہی پاس مرنا تھا اسے، تلاش کرتے ہوئے یہاں آئے ہیں، جو کچھ تجھے بتایا ہے ہم نے کان کھول کر سن لے وہ سسرا تیرے ہاتھ لگے تو جس طرح بھی ہوسکے اس سے اس کا گیان چھین لینا، اس میں تیری نجات ہے، آئے گا وہ تیرے پاس… ضرور آئے گا۔ میں اسے لے جا رہا ہوں، یہ میرے کام کا ہے۔‘‘ مہاوتی سخت بے چین نظر آنے لگی، اس نے خونی نگاہوں سے اپنے بیروں کو دیکھا، پھر بے بسی سے شمبھو اور کالی داس کو… سب نے گردنیں جھکالی تھیں۔
بے بس نوجوان جس کی عمر انیس بیس سال سے زیادہ نہ ہوگی، سہمی ہوئی نظروں سے اس سارے ماحول کو دیکھ رہا تھا۔ جب بھوریا چرن نے اس کا ہاتھ پکڑا تو وہ دہشت زدہ لہجے میں بولا۔
’’نہیں… نہیں میں نہیں جائوں گا… نہیں جائوں گا، میں اس خبیث روح کے ساتھ۔‘‘
’’بھوریا چرن نے اس کے بازو کو ایک زوردار جھٹکا دیا۔‘‘
’’گیڈر کی اولاد، بھاگ کر شہر ہی میں آیا نہ، اتنی جلدی مرنے کی کیوں سوچے ہے، ہم نہ آتے تو اس نے خنجر تو اٹھاہی لیا تھا، گردن کاٹ کر بلی دیتی تیری اور اس کے بعد ماس کھاجاتی۔ گیا تھا بیٹا اس سنسار سے، اری اوچنڈول، ہم جھوٹ بولے ہیں کیا!‘‘
مہاوتی تند نگاہوں سے بھوریا چرن کو دیکھ رہی تھی۔ نوجوان لڑکا سہمے سہمے انداز میں بھوریا چرن کے ساتھ آگے بڑھ گیا اور اس کے بعد اچانک ہی جیسے آنکھ کھلی گئی۔ میں نے آہستہ سے کمبل چہرے سے ہٹایا اور آنکھیں پھار پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔
وہی ماحول تھا، وہی جگہ تھی جہاں میں تھک کر آرام کرنے لیٹ گیا تھا، آسمان پر بادلوں کے ٹکڑے گردش کر رہے تھے۔ اور تاریک رات تاحد نظر پھیلی ہوئی تھی، دل پر ایک عجیب سی بے چینی طاری ہوگئی، سوچ کی وسعتیں بڑھ گئیں، مجھے میری دوسری منزل کا احساس دلایا گیا تھا مجھے میرے آئندہ قدم کی نشاندہی کی گئی تھی۔ وہ سب مختلف انداز سے میرے کانوں تک پہنچا تھا جو مجھے سوچنا چاہئے تھا۔ ایک منصب عطا کیا گیا تھا، مجھے ایک ذمہ داری دی گئی تھی، اور بتایا گیا تھا کہ اپنی زندگی کو کس انداز سے آگے لے جانا ہے، جو قوتیں عطا کی گئی ہیں
انہیں کہاں استعمال کرنا ہے، کون کون سے فرائض جو پورے کرنے ہیں، نجانے کیوں راجہ چندر بھان کو بھول گیا تھا، نجانے کیوں مہاوتی کے باغ میں جگہ جگہ نصب وہ بے شمار مجسمے ذہن سے نکل گئے تھے جو مہاوتی کے کالے جادو کا شکار تھے، ان سب کی مدد تو مجھ پر قرض تھی اور مجھے خود ہی ان کے بارے میں سوچنا چاہئے تھا۔ ساری تھکن دور ہوگئی، یا دور نہ ہوئی تھی تو فرض کے احساس نے چستی عطا کردی تھی، رکنا نہیں چاہئے بلکہ فرض کی ادائیگی کے لیے چلتے رہنا ضروری ہے، کچھ سوچے سمجھے بغیر، کوئی تعین کئے بغیر اپنی جگہ سے اٹھ کر آگے بڑھ گیا۔ انسانی آبادیوں کی تلاش تھی۔ رہنمائی کے لئے کوئی ذی روح درکار تھا اور اب اس وقت تک نہ رکنا تھا جب تک نشان منزل نہ مل جائے، آسمان پر تیرتے ہوئے کالے بادلوں کے ٹکڑے آپس میں جڑگئے اور گھٹا ٹوپ تاریکیاں چھا گئیں۔ پھر کچھ ننھی ننھی بوندوں نے پیشانی، آنکھ اور ناک پر اپنی موجودگی کا احساس دلاکر خوف زدہ کرنا چاہا لیکن جو احسان کیا گیا تھا مجھ پر اس کا فرض یہی تھا کہ سب کچھ بھول جائوں، چلتا رہوں، بارش شروع ہوگئی۔ تیز ہوا کے ساتھ آئی تھی اور موسم بہت سرد ہوگیا تھا۔ ہوا کے تھپیڑے بھیگے بدن میں سوراخ کر رہے تھے مگر وہ بدن کسی اور کا تھا میرا کیا تھا جو میں سوچتا۔ میرا ذہن تو اس جگہ کے بارے میں سوچ رہا تھا جہاں مہاوتی رہتی تھی، سب کچھ یاد آرہا تھا۔ چندر بھان، وہ بولتے مجسمے جو مظلومیت کا نشان تھے، انہیں اس جادوگرنی سے نجات دلانی تھی۔ وہ عورت کالے جادو کی لٹیا، غلیظ روحوں کی ملکہ، کالی دیوی کی پجارن تھی اور اپنے جادو کی قوتیں بڑھانا چاہتی تھی۔ بھوریا چرن ملعون نے جو ناپاک خون میرے جسم میں داخل کردیا تھا، مہاوتی کے ذریعے مجھے اس سے نجات مل گئی تھی۔ پورنیاں اس کے قبضے میں چلی گئی تھیں اور میں آزاد ہوگیا تھا۔ صحیح معنوں میں اب بھوریا چرن کے زوال کا آغاز ہوا تھا، مگر وہ نوجوان لڑکا کون تھا جسے وہ عورت پکڑلائی تھی اور بھوریا چرن… جسے اپنے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ آہ کیا وہ لڑکا مسلمان ہے۔ کیا اب اس کے ذریعہ وہ پیر پھاگن کے مزار مقدس کو ناپاک کرنا چاہتا ہے۔ نہیں یہ نہیں ہونا چاہئے۔ ایسا نہیں ہوگا کسی قیمت پر نہیں ہوگا۔ دیکھوں گا تجھے مردود بھوریا چرن۔ میرے دانت بھنچ گئے۔
’’آپ نے مجھ سے کچھ کہا؟‘‘ کسی نے مجھے مخاطب کیا اور میں چونک پڑا۔ میں نے اسے دیکھا اور پھر حیرانی سے چاروں طرف دیکھا۔ پوری آبادی تھی بڑے بڑے مکانات نظر آرہے تھے، دن نکل چکا تھا، نجانے کب رات ختم ہوئی، نجانے کب بارش بند ہوئی، کچھ اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔
’’نہیں بھائی میںنے تو کچھ نہیں کہا۔‘‘ میں بولا، وہ شخص عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھنے لگا پھر بولا۔ ’’کچھ کہا تھا آپ نے۔‘‘
’’خود سے باتیں کر رہا تھا۔‘‘
’’آپ کے کپڑے بری طرح بھیگے ہوئے ہیں، کہیں پانی میں گر پڑے تھے؟‘‘
’’ایں… یہاں بارش نہیں ہوئی۔‘‘
’’بارش! اس موسم میں؟ یہ بارشوں کا موسم کہاں ہے۔‘‘
’’ایں… ہاں… شاید۔‘‘ میں نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا۔ مجھے واقعی کوئی اندازہ نہیں تھا لیکن بارش ہوئی تھی میرے بھیگے ہوئے کپڑے اس کا ثبوت تھے۔ اس شخص کے چہرے پر ایسے آثار نظر آئے جیسے وہ مجھے خبط الحواس سمجھ رہا ہو۔ وہ جانے لگا تو میں نے اسے روک کر کہا۔’’سنو بھائی! یہ کونسا شہر ہے بتاسکتے ہو؟‘‘
’’ہمیں نہیں معلوم۔‘‘ اس نے جواب دیا اور وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ مجھے پریشانی نہیں تھی پتہ چل ہی جائے گا۔ دیر تک آبادی میں چلتا رہا کپڑے بدن پر ہی سوکھ گئے تھے۔ ایک مسلمان نان بائی کی دکان نظر آئی تو اس میں داخل ہوگیا۔ ناوقت پہنچا تھا اس لئے گاہک نہیں تھے۔ نانبائی سے کھانا طلب کیا تو اس نے گردن ہلادی۔
’’کتنی روٹیاں لگادوں میاں صاحب؟‘‘
’’دوکافی ہوں گی۔‘‘ میں نے کہا۔ نانبائی نے پہلے تندور میں دو روٹیاں پکائیں پھر سالن وغیرہ نکال کر دے دیا۔ ’’ میاں بھٹنڈہ یہاں سے کتنی دور ہے؟‘‘
’’کوئی ستر کوس دور ہوگا میاں صاحب۔ کیوں پوچھ رہے ہو۔‘‘
’’جانا ہے وہاں۔‘‘
’’کب جا رہے ہو۔‘‘
’’بس جلدی، ہوسکتا ہے آج ہی چلا جائوں۔‘‘
’’پرون پور میں ہی رہتے ہو۔‘‘
’’نہیں باہر سے آیا ہوں۔‘‘
’’میاں صاحب میرا ایک رقعہ لے جائو گے وہاں، میری بیٹی وہیں بیاہی ہے اس کے میاں کو دے دینا۔‘‘
’’آپ دے دیجئے، دیدوں گا۔‘‘
’’تم روٹی کھائو، لڑکی سے کہہ دوں ذرا لکھ دے گی۔ تم ہاتھ کے ہاتھ دے دوگے۔ ڈاک سے تو کئی دن لگ جاتے ہیں۔ نانبائی اندر چلا گیا اور دو منٹ کے بعد واپس آگیا اب وہ بڑی خوش اخلاقی سے پیش آرہا تھا۔ اپنے خاندانی معاملات بتاتا رہا کہنے لگا۔ ’’میرا بڑا بھائی شروع سے وہیں رہتا ہے اسی کے لونڈے سے بیاہ ہوا ہے میری بیٹی تھا۔‘‘
’’آپ بھی جاتے رہتے ہوں گے وہاں تو؟‘‘
’’لو گھر آنگن ہے ہمارا تو۔ دوچار مہینے میں چکر لگ جاتا ہے۔‘‘ وہ ہنس کر بولا۔
’’راجہ چندر بھان ہوتے تھے وہاں۔‘‘
’’ہاں رہتے تھے۔ میاں ان راجوں مہاراجوں کی کیا پوچھو ہو۔ بس عیاشیوں میں سب کچھ کھوبیٹھے۔ چندر بھان نے تو حد ہی کردی۔ ایک ڈائن گھر میں ڈال لی ہے۔ بڑی کہانیاں سنی ہیں اس کی تو۔ سارا بھٹنڈا خوف سے کانپے ہے ان کے نام سے۔‘‘ نانبائی بہت سے انکشافات کرتا رہا۔ پھر اس نے مجھے رقعہ دے دیا۔ کھانے کے پیسے اس نے بڑی مشکل سے لیے ، مجھے مکمل رہنمائی حاصل ہوگئی۔ پرون پور سے ریل میں بیٹھا اور بھٹنڈا پہنچ گیا، مہاوتی کا شہر آگیا تھا۔ نانبائی کا گھر تلاش کرتا ہوا وہاں پہنچ گیا۔ عارضی ٹھکانہ درکار تھا جو ان پر اخلاق لوگوں کے پاس مل گیا، بس ایک خط لایا تھا مگر اتنی مہمان نوازی کی انہوں نے کہ شرمندہ ہوگیا۔ رات انہی کے ہاں گزاری، اور پھر رات کو حسب ہدایت درود شریف پڑھ کر کمبل اوڑھ لیا۔مہاوتی کا محل دیکھا۔ باغ کے مجسموں کو دیکھا۔ مہاوتی محل میں نہیں نظر آئی، کالی داس موجود تھا۔ محل پر خاموشی طاری تھی۔ اس جگہ پر غور کیا جہاں مہاوتی نے کالی نواس بنارکھا تھا۔ مگر اس کا پتہ نہیں چل سکا، البتہ ذہن نے کہا۔ ہر کام سہل نہیں ہوتا جستجو اور عمل قائم نہ رہے تو وجود ناکارہ ہوجاتا ہے، عمل لازم ہے جواب ملا تھا ،گرہ میں باندھ لیا اور اس کے بعد عمل کے بارے میں سوچنے لگا۔ آغاز محل ہی سے کرنا تھا۔ دوسرے دن حلیہ درست کیا اور میزبانوں سے اجازت لے کر چل پڑا۔ کچھ دیر کے بعد محل کے دروازے پر تھا۔ دربانوں نے کڑی نظروں سے دیکھا تو میں نے کہا۔ ’’دیوان کالی داس سے ملنا۔‘‘
’’کیا کام ہے؟‘‘
’’بہت ضروری کام ہے۔ تم انہیں خبر کردو۔‘‘
’’ہمیں ہدایت ہے کہ محل میں کسی نئے آدمی کو نہ آنے دیں۔ خبر کرنا بیکار ہے۔‘‘
’’مگر مجھے بہت ضروری کام ہے۔‘‘
’’شما کردو بھائی ہم وہ کرسکتے ہیں جو ہم سے کہا گیا ہے۔‘‘ دربانوں سے یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ سندری نظر آگئی۔ سامنے سے گزر رہی تھی مجھے دیکھ کر رک گئی اور پھر جلدی سے میرے پاس آئی۔
’’آپ مہاراج آپ…؟‘‘
’’سندری یہ مجھے اندر آنے سے منع کر رہے ہیں۔‘‘
’’’ارے نا سکھی رام جی آنے دیں انہیں یہ تو مہاویدی کے خاص آدمی ہیں۔‘‘ سندری نے کہا۔
(جاری ہے)

Latest Posts

Related POSTS