Kala Jadu | Episode 50

274
مسعود کے مصائب کی ابتدا اس وقت ہوئی جب وہ اتفاقاً کالے جادو کے ماہر بھوریا چرن سے جا ٹکرایا۔ بھوریا نے اسے اپنا آلۂ کار بنانا چاہا اور مسعود کے انکار پر اس کا دشمن بن گیا۔ اس نے مسعود کو یکے بعد دیگرے سخت پریشانیوں میں مبتلا کیا لیکن اس کے انکار کو اقرار میں نہ بدل سکا تاہم اس کی پاداش میں بھوریا نے اس کی زندگی اجیرن کردی ۔ انہی حالات میں چند برگزیدہ بندوں سے مسعود کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے نہ صرف اسے بھوریا کے شر سے نجات دلائی بلکہ اسے روحانیت کا فیض بھی بخشا۔ اس روحانیت کی مدد سے وہ خلق خدا کے کام بھی آسکتا تھا لہٰذا اس نے بہت سے لوگوں کے مسائل حل کرنے میں ان کی مدد کی۔ اس دوران بھوریا مسلسل اس کی تاک میں تھا، بالآخر وہ دھوکے سے مسعود پر قابو پانے میں کامیاب ہوگیا۔ بزرگوں سے حاصل شدہ روحانی طاقتوں کا فیض زائل ہوچکا تھا لہٰذا وہ ایک بار پھر بھوریا کی خباثتوں کی زد میں تھا اور آزمائشوں کا ایک اور دور اس کا منتظر تھا۔ کئی جان لیوا آزمائشوں سے گزرنے کے بعد بالآخر اسے ایک بار پھر وہی کراماتی کمبل واپس مل گیا جسے اوڑھتے ہی نگاہوں سے پوشیدہ مناظر اس پر ظاہر ہوجاتے تھے۔ اب وہ نہ صرف اپنی حفاظت کرسکتا تھا بلکہ دوسروں کے کام بھی آسکتا تھا۔ وہ ایک بستی میں پہنچا جہاں اس نے کئی افراد کی مدد کی۔ اس دوران ایک ٹھاکر بھی اپنی بپتا اسے سنانے آپہنچا۔ اس نے ایک غریب شخص کو اپنی بہن سے شادی کرنے کے جرم میں اس کے خاندان سمیت زندہ جلوادیا تھا اور اب خود اس کی اولادیں پراسرار حالات میں ایک ایک کرکے ہلاک ہورہی تھیں۔ اسی لئے وہ مسعود سے مدد کا طلبگار تھا۔ وہ چونکہ اپنی خطائوں پر نادم تھا اس لئے مسعود نے اس کی مدد کرنے کا فیصلہ کرلیا اور رات کو اس کی حویلی کی جانب چل پڑا۔ راستے میں اس کی ملاقات ان افراد کی آتمائوں سے ہوئی جنھیں ٹھاکر نے زندہ جلوا دیا تھا اور جن کا کریا کرم بھی نہیں ہوپایا تھا۔ یہ بے چین روحیں ٹھاکر سے اپنا انتقام لینا چاہتی تھیں۔ مسعود نے فیصلہ کیا کہ ان آتمائوں کو دریا پار ان کے علاقے میں پہنچا کر چتا کے حوالے کردیا جائے کیونکہ انہیں اسی طرح شانتی مل سکتی تھی۔ وہ ٹھاکر کے اہل خانہ کے ہمراہ دریا پار جانے کیلئے کشتی کے ذریعے روانہ ہوا لیکن راستے میں انہی ارواح نے اپنی شرارتیں شروع کردیں۔ نزدیک تھا کہ ان کی کشتی ڈوب جاتی لیکن مسعود نے تدبیر سے کام لیتے ہوئے حالات کو سنبھال لیا اور منزل مقصود پر پہنچ کر سب آتمائوں کو چتا کے حوالے کردیا۔ اس طرح بالآخر ٹھاکر کی گلو خلاصی ہوگئی۔ مسعود نے ٹھاکر سے رخصت لی اور آگے روانہ ہوگیا۔ راستے میں آرام کی خاطر لیٹ کر کمبل اوڑھا تو اسے رانی مہاوتی اور بھوریا کے درمیان جھڑپ کا منظر دکھائی دیا۔ یہ دونوں کالی طاقتوں کے پجاری تھے جنھوں نے اپنی خباثتوں سے بے شمار لوگوں کی زندگیاں اجیرن کررکھی تھیں۔ مسعود ایک بار رانی مہاوتی کے محل میں رہ کر وہاں کے حالات دیکھ چکا تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ رانی کے محل جاکر لوگوں کو اس کے مظالم سے نجات دلائے۔ بالآخر وہ محل تک جا پہنچا جہاں اس کی ملاقات رانی کی باندی سندری سے ہوئی۔ سندری اسے پہچان کر اندر لے گئی۔
(اب آپ آگے پڑھیے)
’’آئیے مہاراج آئیے! ‘‘
میں سندری کے ساتھ محل میں داخل ہو گیا، کچھ دور چلنے کے بعد اچانک اس نے راستہ بدل دیا۔‘‘ ادھر سے آجائیے مہاراج۔ سیدھے جانا ٹھیک نہیں ہے۔ آئیے ادھر سے آجائیے میں ٹھٹکا پھر بڑھ گیا۔ ’’یہ باندیوں کا علاقہ ہے۔ میں یہیں رہتی ہوں۔ جلدی آجائیے کوئی دیکھ نہ لے۔‘‘
’’مگر سندری…!‘‘ میں نے تعجب سے کہا۔
’’اندر چل کر باتیں کریں گے جی۔ وہ سامنے ہی تو میرا ٹھکانہ ہے۔ چھوٹا سا گھر تھا۔ تین کمرے بنے ہوئے تھے۔ اس نے مجھے ایک کمرے میں بٹھادیا۔ اب جی بھر کر باتیں کریں۔‘‘ وہ گہری سانس لے کر بولی۔
’’تم یہاں رہتی ہو؟‘‘
’’زیادہ تو محل میں رہتی ہوں۔ جب چھٹی ہوتی ہے تو یہاں آجاتی ہوں۔ مہادیوی تو ان دنوں یہاں نہیں ہیں۔‘‘
’’کہاں ہیں؟‘‘
’’ پتہ نہیں شاید کالی نواس میں ہوں۔‘‘
’’کالی نواس کہاں ہے سندری؟‘‘
’’سوگند لے لیں مجھے نہیں معلوم۔ بس اس دن اس کے غار کا دروازہ دیکھا تھا۔ اس سے پہلے یا اس کے بعد کبھی نہیں دیکھا۔ وہ دن یاد کرتی ہوں مہاراج تو جان نکل جاتی ہے میری، اگر تم نہ ہوتے تو میرا کیا ہوتا۔
’’سندری مجھے کچھ بتائو گی تم؟‘‘
’’پتہ ہوگا تو ضرور بتائوں گی۔‘‘
’’ وہ سب کیا تھا سندری۔ مہاوتی آخر ہے کیا؟‘‘
’’تم نے پہلے بھی مجھ سے پوچھا تھا۔ ہم باندیاں ہیں مہاراج اسی محل میں پیدا ہوئے، اسی میں جوان ہوئے اور اسی میں مرجائیں گے، پر ہمیں کچھ نہیں معلوم ہوگا۔ جو کہا جاتا ہے کرتے ہیں، تم نے ہم پر دیا کی تھی اس دن، ورنہ نہ جانے کیا ہوتا، ہمیں نہ تو پہلے پتہ تھا نہ اب پتہ ہے۔ مہاوتی جی نے جیسا کہا ویسا کیا۔‘‘ سندری بولی اور پھر اس نے جلدی سے زبان دانتوں میں دبالی اور خوفزدہ نظروں سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولی، میں اس کے اس انداز پر چونک پڑا۔ اور اسے غور سے دیکھنے لگا۔ میرے اس طرح دیکھنے سے وہ اور گھبراگئی۔ بولی، ’’ہم نے کوئی ایسی ویسی بات کہہ دی مہاراج۔‘‘
’’ ہاں سندری میرا خیال ہے تو سچ بول گئی ہے۔ میں زہریلے لہجے میں بولا۔
’’کونسا سا؟‘‘ وہ رو دینے والے لہجے میں بولی۔
’’اس نے سچ ہی کہا ہے مہاراج۔ دوسرا سچ میں آپ کے سامنے کہوں گا۔‘‘ دروازے سے آواز سنائی دی اور میں نے اس طرف دیکھا، دیوان کالی داس کھڑا ہوا تھا۔ اس نے سندری کو اشارہ کیا اور وہ احترام سے واپس نکل گئی۔ کالی داس اندر آگیا تھا۔ اس نے سچ کہا ہے مہاراج، جیسا دیوی نے کہا اس نے ویسا ہی کیا۔ پہلے ہم نے کچھ اور سوچا تھا مگر شمبھو مہاراج نے ایک دم خیال بدل دیا۔ آپ مسعود جی مہاراج ہیں نا۔‘‘
’’تم لوگ مجھے بھول گئے کالی داس؟‘‘
’’بھلا بھول سکتے ہیں۔ آپ بھوریا چند کو بھی جانتے ہیں، شوشنکھاکو۔ سب کچھ جانتے ہیں آپ۔ اس نے کہا تھا آپ آرہے ہیں۔ مہا دیوی نے پہرے لگادیئے، پھر انہوں نے سوچا کہ سندری کے ہاتھوں آپ کو بیہوش کرادیں اور قید کرلیں، مگر ابھی ابھی مہادیوی نے کچھ اور سندیس بھیجا ہے میرے پاس۔‘‘ کالی داس نے کہا۔ میں دلچسپ نظروں سے کالی داس کو دیکھتا رہا، مجھے علم تھا کہ بھوریا چرن اور مہاوتی کے درمیان کیا باتیں ہوئی ہیں۔’’سندیس آپ کے لئے بھی ہے مہاراج۔‘‘ وہ پھر بولا۔
’’بتائو۔‘‘ میں نے کہا۔
’’اٹھیں… میرے ساتھ چلیں یہ پہرے آپ کی وجہ سے لگائے گئے تھے مگر نیا سندیس کچھ اور ہے۔‘‘
’’مہاوتی بہت پریشان معلوم ہوتی ہے شاید۔ چلو اب کہاں چلنا ہے اور وہ خود کہاں چھپی ہے۔‘‘
’’مہا دیوی آپ سے بھینٹ کریں گی۔ اوش کریں گی اور جہاں تک ان کی پریشانی کا تعلق ہے تو آپ کا یہ خیال غلط ہے، وہ پریشان کیوں ہوں گی۔ آپ کو ان کی شکتی کا اندازہ نہیں ہے، جیون بتادیا ہے انہوں نے گیان دھیان میں۔‘‘
میں اس کے ساتھ کمرے سے باہر نکل آیا۔ وہ مجھے پرانی حویلی کی طرف ہی لے جا رہا تھا اور میں جانتا تھا کہ وہاں اس نے اپنی جادونگری بنارکھی ہے لیکن مجھے کوئی خوف نہیں تھا۔ کالی داس کے ساتھ میں پرانی حویلی میں داخل ہوگیا۔ میں نے پرانی حویلی پوری کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اس بار کالی داس مجھے اس کے بالکل عقبی حصے میں لے گیا۔ میں نے اس جگہ کو جادو نگری غلط نہیں کہا تھا۔ ایک ویران اور سنسان برآمدہ تھا جس میں ایک بند دروازہ نظر آرہا
تھا، کالی داس نے وہ بند دروازہ کھولا اور مجھے اندرچلنے کا اشارہ کیا۔ اندر داخل ہوگیا لیکن اندر قدم رکھتے ہی دل و دماغ معطر ہوگئے۔ یہ سچ مچ جادو نگری تھی۔ سبز رنگ کی مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی اور ایک وسیع و عریض باغ نظر آرہا تھا، لیکن سو فیصد مصنوعی باغ تھا۔ انتہائی اونچے درخت جن کی شاخیں اور پتے اوپر جاکر ایک دوسرے میں اس طرح گتھے ہوئے تھے کہ آسمان کا نام و نشان نہیں نظر آتا تھا، گو یا ایک چھت بنی ہوئی تھی اور سب کچھ اس چھت کے نیچے تھا۔ انگوروں کی بیلیں ان میں جھولتے سیاہ اور سبز انگوروں کے خوشے۔ خوش رنگ پھول، چہچہاتی چڑیاں اور دوسرے ننھے پرندے، جگہ جگہ فوارے، بعض جگہوں پر فواروں کے گرد بنی ہوئی بینچوں پر حسین لڑکیاں بیٹھی ہوئی۔ سب میری طرف نگراں، آنکھوں میں شوخی اور لگاوٹ لئے ہوئے، کالی داس میری رہنمائی کرتا ہوا اس باغ میں بنی ایک عمارت کے دروازے پر پہنچ گیا۔ پھر وہ دروازہ کھول کر پیچھے ہٹ گیا اور مجھے اندر جانے کا اشارہ کیا۔’’مہاوتی آپ کا انتظار کر رہی ہیں مہاراج۔‘‘
دروازے سے اندر قدم رکھا۔ سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں۔ یہ کوئی بارہ سیڑھیاں تھیں اور ایک گول سا کمرہ، جس کا فرش سنگ مرمر کا تھا۔ دیواریں بھی سفید پتھر ہی سے بنی ہوئی تھیں۔ درمیان میں ایک سنگھاسن تھا جس پر مہاوتی نیم دراز تھی۔ شمبھو ناتھ اس کے پیچھے کھڑا ہوا تھا۔ ان دونوں کے علاوہ یہاں کوئی نہ تھا۔ میں سیڑھیوں سے نیچے اترا اور مہاوتی نے مجھے دیکھ کر پائوں سکوڑلیے۔ شمبھو ناتھ تھوڑا سا پیچھے ہٹ گیا اور مہاوتی اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔ اس کی آنکھوں میں استقبالیہ تاثرات تھے اور ہونٹوں پر مدھم سی مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔ غالباً وہ میری آمد پر خوشی کا اظہار کرنا چاہتی تھی اور یہ یقینا مفاہمت کی ایک کوشش تھی، میں تھوڑا سا اور قریب پہنچا تو اس نے دونوں ہاتھ سینے پر رکھ کر دلآویز انداز میں گردن جھکائی اور پھر سیدھی ہوکر بولی۔ ’’مہاوتی، مہاراج کا سواگت کرتی ہے۔ آئیے سنگھاسن پر پدھاریے مہاراج، ایک شکتی مان، دوسرے شکتی مان کو جو احترام دے سکتا ہے وہ اس وقت میرے من میں آپ کیلئے ہے۔ پدھاریے مہاراج، مجھے خوشی ہوگی۔‘‘ میں نے آنکھیں بند کرکے گردن ہلاتے ہوئے کہا۔
’’نہیں مہاوتی، کالے جادو کی یہ تخلیق میرے دین میں حرام ہوتی ہے اور ایسی کسی چیز کو بغیر کسی مجبوری کے چھونا میرے لیے مناسب نہیں ہے، میں ان ناپاک چیزوں کو اپنی کسی آسائش کے لیے استعمال نہیں کرسکتا۔‘‘ مہاوتی کی مسکراہٹ سکڑگئی، لیکن فوراً ہی اس نے ان الفاظ کے ردعمل کو زائل کرتے ہوئے کہا۔ ’’تو پھر بتائیے مسعود جی مہاراج، میں آپ کا سواگت کیسے کروں؟‘‘
’’میں یہاں کھڑا ہوا ہوں مہاوتی، بس اتنا ہی کافی ہے۔‘‘
’’تو پھر یہ تو نہیں ہوسکتا کہ یہ سنگھاسن میرے لیے ہے، اسے بیچ سے ہٹا دینا ہی اچھا ہوگا۔‘‘ اس نے مڑکر انتہائی خوبصورت سنگھاسن کو دیکھا اور دوسرے لمحے وہ میری نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔ مہاوتی پھر میری جانب متوجہ ہوگئی۔ اس نے کہا۔ ’’مسعود جی مہاراج، بہت سی باتیں بڑے سے بڑے گیانی کی سمجھ میں نہیں آتیں، آپ ایک ایسے آدمی کی حیثیت سے میرے سامنے تھے، جس کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی، لیکن آپ کا گیان چیخ چیخ کر مجھے بتارہا تھا کہ آپ عام آدمی نہیں ہیں۔ اب اگر میں آپ سے کوئی بات چھپائوں تو اسے میں اپنی بیوقوفی کے علاوہ اور کیا کہہ سکتی ہوں۔ مسعود جی، مہاراج کو ایک نظر دیکھتے ہی میں نے پہچان لیا تھا کہ وہ پورنا ہیں اور پورنیاں ان کے بس میں ہیں، پورن بھگت ہمارے گیان میں بہت بڑا درجہ رکھتا ہے۔ مہاراج، پر یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی تھی کہ ایک مسلمان کے نام سے ایک کاروباری شخص کا نوکر میرے پاس کیوں آیا ہے۔ ساری باتوں کا اعتراف کر رہی ہوں مہاراج۔ یہ جاننا چاہتی تھی کہ آپ کی اصلیت کیا ہے اور اسی لیے میں نے آپ کو روک لیا تھا، پر نہ تو میں سمجھ سکی نہ میرا بیر کالی داس اور نہ ہی مہاراج شمبھو ناتھ کہ آپ کی اصل کیا ہے اور بات بعد میں سمجھ میں آئی، مہاراج کہ اصل میں آپ ہندو نہیں تھے بلکہ آپ کا گیان وہ تھا جو ہماری سمجھ میں نہیں آسکتا، مگر پھر پورنیا میرا من للچاگیا، کیونکہ میں نے یہ دیکھا تھا کہ پورنیا ہونے کے باوجود آپ نہ تو پورنیوں کو اپنی آغوش میں جگہ دیتے ہیں اور نہ ہی پورن بیروں کو کوئی کام سونپتے ہیں، ہم سب بڑے پریشان رہے آپ کے لیے مہاراج۔ انہونی بات تھی جو کسی طرح سمجھ میں ہی نہیں آتی تھی۔ بھید جاننے کے لیے ہم سارے کے سارے بے چین ہوگئے، مگر کوئی پتہ نہیں چل سکا اور جب ہمارا یہ کام ایسے نہیں ہوا تو شمبھو ناتھ مہاراج نے دوسرے کھیل کھیلنا چاہے۔ اس سے آپ کو تکلیف پہنچی مسعود جی، پر انسان ہوس کا پتلا ہوتا ہے۔ پورنیاں معمولی چیز نہیں ہوتیں اور جسے یہ مل جائیں وہ بڑا شکتی مان بن جاتا ہے، آدھا جیون بھنگ کرنے کے بعد بھی پورنیوں کا حصول ممکن نہیں ہوتا، مہاراج یہ بات میں آپ سے اس لیے کہہ رہی ہوں کہ میں آپ کی بڑی قدر کرتی ہوں، بہت بڑا درجہ ہے آپ کے لیے میرے من میں اور اگر آپ اسے یہ سمجھیں کہ اپنے کئے پر پچھتا رہی ہوں میں کہ وہ نہ کرتی جو میں نے کیا، بلکہ دوسری طرح آپ سے اپنی منوکامنا پوری کراتی، مہاراج آپ نے اپنی خوشی سے وہ گندی پورنیاں جو آپ کے دھرم میں گندی سمجھی جاتی ہیں، میرے حوالے کردیں اور ان کا طریقہ وہی تھا جو میں نے اختیار کیا اور کوئی ایسا کام نہیں ہوسکتا تھا، جس سے پورنیاں مجھے مل جائیں، پرنت مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ خود ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے تھے اور انہیں زبردستی آپ پر سوار کردیا گیا تھا اور جب پورنیوں سے آپ کو چھٹکارا ملا، مہاراج تو آپ نے اپنے گیان کا پاٹ شروع کردیا اور آپ کو وہ ساری چیزیں مل گئیں جو ایک بڑے گیانی کو ملتی ہیں۔ ایک طرح سے تو مہاراج میں نے آپ کے ساتھ دوستی ہی کی اور اگر ایسی بات ہے تو میں چاہتی ہوں کہ اتنا بڑا گیانی، مہاوتی کو دوست کی نگاہ سے دیکھے۔ کیا مہاراج میرے من کی بات سمجھ کر میری دوستی قبول کرلیں گے؟‘‘ میں نے مسکراتی نگاہوں سے مہاوتی کو دیکھا اور پھر آہستہ سے بولا۔
’’مہاوتی، جہاں تک تیری دوستی کا تعلق ہے ظاہر ہے کہ اول تو ہم دونوں کے دین الگ ہیں اور پھر تو، تو اپنے ہی دھرم کی نہیں ہے، ہندو دھرم میں بھی کالے جادو کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ تمہارے دیوی دیوتائوں کا بھی یہ درس نہیں ہے کہ کالی قوتوں کو انسانوں کے خلاف استعمال کرو، میرا تو مسئلہ ہی بالکل مختلف ہے۔ بہر حال میں تجھے کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتا، مگر ایک کام تجھے کرنا ہوگا اور اگر تو یہ کام کردے تو مجھے تجھ سے کوئی دشمنی نہ رہے گی۔‘‘
’’ہاں ہاں مہاراج کہو، ٹھیک ہے تم مجھے اپنا دوست نہیں بناسکتے، داسی تو بناسکتے ہو، حکم تو دے سکتے ہو مجھے۔‘‘
’’اپنے جادو کو خاک کردے مہاوتی، کیونکہ تیرا یہ جادو انسان دشمنی ہے اور مجھ پر لازم ہے کہ میں انسانوں کو تیرے جادو کے چنگل سے نجات دلائوں جو زندگی کی مصیبتوں کا شکار ہیں اور جنہیں تو نے عذاب میں گرفتار کرلیا ہے، جیسے پتھر کے وہ مجسمے جو جیتے جاگتے نوجوان تھے اور تیری ہوس کی بھینٹ چڑھ گئے، جیسے تیرا شوہر راجہ چندر بھان، سب کو ان کا مقام دے دے اور خود جاکر ایسے ویرانوں میں اپنا مسکن بنالے جہاں انسان نہ ہو، کالی قوت کے کالے شیطانوں کو ویرانوں ہی میں رہنا چاہئے تاکہ انسان ان کے عذاب سے محفوظ رہیں، اگر تو ایسا کرلے گی مہاوتی، تو میں یہاں سے چلا جائوں گا اور میری تیری کوئی ایسی
نہیں رہے گی جس سے میرے ہاتھوں تجھے کوئی نقصان پہنچے۔‘‘ مہاوتی کے چہرے پر رنگ آرہے تھے جارہے تھے، اب اس کی مسکراہٹ کافور ہوگئی تھی اور اس کی آنکھوں میں غصے کے تاثرات نظر آرہے تھے۔اس نے کہا۔ ’’کیا یہ دشمنی نہیں ہے مسعود جی مہاراج؟‘‘
’’کالے جادو سے دشمنی ہے، تیری ذات سے نہیں مہاوتی، مجھے تجھ سے کیا لینا دینا۔‘‘
’’میں چنڈولی ہوں، کالی ماتا کی پجارن اور کالی ماتا نے میرے جیون بھر کی تپسیا میں مجھے یہ شکتی دان دی ہے اور تم کہتے ہو مسعود جی مہاراج کہ میں اس شکتی کو بھسم کردوں، ارے اگر یہ شکتی بھسم ہوجائے گی تو میں کہاں رہوں گی، میں تو بس ایک شکتی ہوں، اس سے آگے کچھ نہیں۔‘‘
’’میرے لیے تیری کالی قوتوں کا خاتمہ ضروری ہے مہاوتی۔‘‘
’’ارے واہ، خواہ مخواہ داروغہ بنے پھر رہے ہو، تم اپنے دھرم کی شکتی آزمائو، میں کبھی تمہارے راستے میں نہیں آئوں گی، مجھے میرے دھرم کی شکتی پر رہنے دو۔‘‘
’’تیرا دھرم کیا ہے مہاوتی؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’جے مہاکالی کلکتہ والی…‘‘
’’جادوگرنی، انسان کو نقصان پہنچانے والی۔‘‘
’’سارے کے سارے تمہارے دھرم کے تو نہیں ہیں۔ تمہیں شہر کا اندیشہ کیوں ہے، مسعود جی مہاراج؟‘‘
’’میرا دین یہی کہتا ہے کہ اپنی طاقت کو بدی کی طاقت کے خلاف استعمال کرنا ضروری ہے اور اگر انسانوں کو کوئی نقصان پہنچ رہا ہے اور تمہیں اللہ نے وہ قوت دی ہے کہ تم نقصان پہنچانے والے کو روک سکو تو تم پر فرض عائد ہوجاتا ہے کہ تم نقصان پہنچانے والے کو نقصان پہنچائو۔‘‘
’’دیکھو مسعود جی مہاراج، بھوریا چرن کو جانتے ہوگے اور کیوں نہ جانتے ہوگے اس نے مجھے تمہارے بارے میں سب کچھ بتادیا ہے، وہ شنکھا ہے، تم اس کی شکتی کا سامنا کیوں نہیں کرتے، ایک چنڈولی کے پیچھے کیوں پڑتے ہو۔ پھر بھی اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارا دھرم، تمہارا گیان سب سے بڑا ہے تو یہ تمہاری بھول ہے۔ میں تم سے ٹکر نہیں لینا چاہتی لیکن جو کچھ تم نے کہا ہے وہ سیدھا سادہ دشمنی کی علامت ہے اور جب دشمنی ہے تو میرے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ میں اپنی دشمنی کا اظہار کروں، دوست نہیں مانتے تو پھر تو دشمنی ہی ہوگی۔‘‘
’’ہاں مہاوتی تو نے ٹھیک کہا۔ میں نے تجھے دوستی کی ایک پیشکش کی کہ اپنی ساری قوتوں کو اپنے ہاتھوں سے فنا کردے، انسان ہو تو انسان کے روپ میں آجا، ایسا نہ کرے گی تو تجھے مٹانا میرا فرض ہے۔‘‘
’’چھوڑو چھوڑو میاں جی، ہم نے بھی جیون بھر چنے نہیں بھونے ہیں، ٹھیک ہے اگر ایسی بات ہے تو تم اپنی شکتی آزماؤ اور ہم اپنی۔‘‘ مہاوتی نے دونوں ہاتھ دونوں سمت پھیلا دیئے اور اچانک ہی ایک حیرن کن واقعہ رونما ہوگیا۔ سنگ مرمر کی سفید دیواروں میں سیکڑوں سوراخ نموار ہوگئے اور ان سوراخوں سے پانی کی تیز دھاریں نیچے گرنے لگیں۔ دروازے کی سیڑھیاں ایک دم غائب ہوگئی تھیں اور اب یہ جگہ سنگ مرمر کے ایک کنویں کی حیثیت رکھتی تھی، جو تقریباً بارہ فٹ گہرا تھا اور پانی ان دیواروں سے اس طرح نکل رہا تھا جیسے کسی دریا کا رخ ان کی جانب موڑ دیا گیا ہو، دیکھتے ہی دیکھتے اس حوض میں پانی بھرنے لگا، میں نے کالے جادو کی قوت کا یہ حیران کن کرشمہ دیکھا۔ ویسے تو زندگی میں نجانے کن کن واقعات کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن یہ سب کچھ اس قدر اچانک ہوا تھا کہ ایک لمحے کے لیے بدن میں جھرجھری سی آگئی۔ پانی ٹخنوں سے گزر کر گھٹنوں، گھٹنوں سے گزر کر رانوں اور پھر کمر تک پہنچ گیا اور دفعتاً ہی میں نے مہاوتی کو ایک مچھلی کی صورت اختیار کرتے ہوئے دیکھا کہ چہرہ تو اس کا اپنا ہی رہا تھا لیکن گردن کے بعد سے اس کا بدن مچھلی کی شکل اختیار کرگیا اور وہ اس پانی میں تیرنے لگی، برق رفتاری سے اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر میرے ارد گرد چکرا رہی تھی، حالانکہ پانی کی طاقتور دھاریں میرے جسم پر پڑ رہی تھیں اور ان کی قوت اتنی تھی کہ میرا بدن بمشکل تمام اپنا توازن قائم کئے ہوئے تھا لیکن چونکہ یہ دھاریں چاروں طرف سے پڑ رہی تھیں، اس لئے میں کسی ایک سمت نہیں لڑھکا تھا، دوسرے شمبھوناتھ نے بھی اپنا روپ بدلا اور سبز رنگ کے ایک چپٹے سے سانپ کی شکل اختیار کرگیا، ایسے سانپ عموماً پانی میں نظر آتے ہیں، ناگوں کا یہ پجاری ناگ بن گیا تھا اور ان دونوں نے اس پانی میں اپنے لیے مقام حاصل کرلیا تھا، لیکن میں ظاہر ہے انسان تھا اور انسانی شکل میں ہی رہ سکتا تھا۔ البتہ ایک تصور دماغ میں ضرور تھا، میرا رب میرا معبود میری مدد ضرور کرے گا۔ میں کالے جادو کا توڑ نہیں جانتا تھا لیکن میرے معبود نے مشکل ترین لمحات میں میری مدد کی تھی اور اس وقت بھی میں اس کی رحمت سے مایوس نہیں تھا، چنانچہ پوری خود اعتمادی سے اپنی جگہ جما رہا۔ کمبل میں نے شانے سے اتار کر سر پر رکھ لیا تھا تاکہ وہ پانی میں بھیگ نہ جائے۔ مہاوتی کے چہرے پر کامیابی کی مسکراہٹ تھی اور بوڑھا شمبھو سانپ کی شکل میں خود کو محفوظ رکھے ہوئے تھا۔ پانی گرنے کی آوازیں سماعت شکن تھیں اور ماحول دھواں دھار ہوتا جا رہا تھا۔ اب وہ میری کمر سے گزر کر شانوں تک اور پھر وہاں سے گردن تک آچکا تھا اور بس کچھ لمحات باقی تھی کہ وہ سر سے اونچا ہوجائے۔ میں نے آنکھیں بند کرلیں اور پانی کی سطح کو بلند ہوتا محسوس کرتا رہا۔
پانی کے تھپیڑے میرے قدم اکھاڑے دے رہے تھے لیکن دل کو کسی خوف کا احساس نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اب مجھے یہ قوت عطا فرما دی تھی کہ ہر خوف میرے دل سے نکل گیا تھا۔ میں جانتا تھا کہ کائنات میں آنکھ کھولنے والے ہر نومولود کے بارے میں ہم کچھ اور کہہ سکتے ہوں یا نہ کہہ سکتے ہوں، یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ بالآخر یہ ایک دن مر جائے گا۔ موت برحق ہے اور اس کا تعین کرنے والا حق ہے اور حق سے انحراف کیسا…! آنکھیں اس لئے بند کرلی تھیں کہ ذہن کسی تدبیر کے جھگڑے میں نہ پڑ جائے اور قدرت سے انحراف نہ ہو۔
اچانک شور تھم گیا اور سناٹے چیخنے لگے۔ آنکھیں پٹ سے کھل گئیں۔ سامنے مہاوتی تھی جو بے چینی سے اچانک رک جانے والے پانی کو دیکھ رہی تھی۔ اس کا مچھلی کا بدن پانی میں جنبش کررہا تھا۔ دفعتاً فرش میں ایک بڑا سوراخ نمودار ہوگیا اور پانی دہشتناک آواز کے ساتھ اس سوراخ میںداخل ہونے لگا۔ مہاوتی نے ایک بھیانک چیخ ماری اور کم ہوتے ہوئے پانی میں ایک سوراخ کی طرف لپکی۔ ایک دم اس کا بدن لمبی چمکدار لکیر کی شکل اختیار کرگیا اور یہ لکیر تڑپ کر ایک سوراخ میں داخل ہوگئی لیکن شمبھو ناتھ جو سانپ کی شکل میں تھا اور پانی میں مزے سے تیرتا پھر رہا تھا، اس جیسی پھرتی نہ دکھا سکا حالانکہ اس کا پتلا بدن زیادہ آسانی سے ان لاتعداد سوراخوں میں سے کسی ایک سوراخ میں داخل ہوسکتا تھا۔ شاید وہ صورتحال نہیں سمجھ سکا تھا۔ پانی اس برق رفتاری سے سوراخ میں غائب ہوا کہ چند لمحوں میں زمین صاف ہوگئی۔ سوراخ چونکہ بلندی پر تھے اس لئے شمبھو ان تک نہ پہنچ سکا۔ وہ بدحواسی کے عالم میں باربار چکنی دیوار پر چڑھنے کی کوشش کرتا رہا مگر ہر بار پھسل کر نیچے گر جاتا۔ پھر آخری کوشش کے طور پر وہ میری طرف لپکا لیکن مجھ تک نہ پہنچ سکا۔ تب میں نے آگے قدم بڑھائے اور جھک کر اسے پھن سے پکڑ لیا۔ شمبھو میری کلائی سے لپٹ گیا تھا۔ میں نے پہلی بار قریب سے اسے دیکھا۔ اس کا چہرہ سانپ کے بدن کی مناسبت سے چھوٹا ضرور ہوگیا تھا لیکن اصل تھا۔ وہ بری طرح خوف زدہ نظر آرہا تھا۔ پھر اس کی باریک سی آواز ابھری۔ ’’جے ہو تیری مہاتما! مجھے چھوڑ دے۔ چھوڑ دے میاں! چھوڑ دے مجھے، میرا کوئی دوش نہیں ہے۔ میں تو سنتھا ہاری ہوں۔ مجھے چھوڑ دے ولی! مجھے چھوڑ
دے۔‘‘
’’ایک ہی مقصد ہے میرا شمبھو ناتھ! مہاوتی کا جادو ختم کردوں۔ اس نے جتنے لوگوں کو اپنے سحر میں گرفتار کیا ہے، انہیں آزادی دلا دوں۔ نہ میری تجھ سے کوئی دشمنی ہے نہ کسی اور سے!‘‘
’’وہ تو چنڈال ہے، کالی دیوی کی سنتھیا! مشکل سے ختم ہوگی۔ پر میں آتما ہوں، مجھے چھوڑ دے !‘‘
’’کہاں بھاگ گئی وہ…؟‘‘
’’میں نہیں جانتا، مجھے نہیں معلوم! ہوسکتا ہے کالی کنڈ چلی گئی ہو۔ اس کا کالا جادو تجھ پر اثر نہیں کرسکا۔ ڈر کر بھاگی ہے تجھ سے! اس کے تو ہزار ٹھکانے ہیں دھرتی پر، تجھ سے نہ بچ سکی تو پاتال میں چلی جائے گی۔ مارے تو ہم گئے! چھوڑ دے ہمیں، چھوڑ دے۔‘‘ شمبھو باریک آواز میں چیختا رہا۔
’’مجھے کالی کنڈ کا راستہ بتا شمبھو! مجھے وہاں لے چل۔‘‘
’’وہ مجھے نہیں چھوڑے گی۔‘‘
’’ادھر میں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔‘‘
’’مر گئے دیوا سنتھ! ہم تو مر گئے۔ ہائے! اب ہم کیا کریں؟‘‘ میں نے اس دروازے کی طرف رخ کیا جس سے گزر کر یہاں آیا تھا۔ باہر کالی داس موجود نہیں تھا۔ ’’کالی داس کہاں گیا؟‘‘
’’وہ الگ کہاں ہے مہاوتی سے! وہ تو اس کا تھوک ہے، اس کا گند ہے۔ ساتھ ہی ہوگا اس کے!‘‘ شمبھو نے بتایا۔ میں نے چاروں طرف دیکھا۔ اس خوبصورت ماحول کا شائبہ بھی نہیں تھا جس سے گزر کر میں یہاں پہنچا تھا جبکہ یہ اسی ٹوٹی حویلی کی ایک اجاڑ راہداری تھی جو سخت گندی پڑی تھی۔ درختوں کے پتے، کوڑا کرکٹ اور اس پر دوڑتے ہوئے چوہے…! جو کچھ پہلے دیکھا، وہ فریب نظر تھا۔ یہ اس جگہ کی اصل تھی۔ راہداری کا دوسرا سرا حویلی کے باہر نکلتا تھا۔ میں باہر نکل آیا۔
’’ہاں شمبھو ناتھ…! کدھر چلنا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’سیدھے چلتے رہو مہاراج!‘‘ اس نے رو دینے والے لہجے میں کہا اور میں نے آگے قدم بڑھا دیئے۔ شمبھو میری گرفت میں تھا۔ اس نے گھٹی ہوئی باریک آواز میں کہا۔ ’’مہاراج! میری گردن چھوڑ دیں تو میں انسان کی جون میں آجائوں گا۔ وعدہ کرتاہوں کہ آپ کو کالی نواس میں لے جائوں گا۔‘‘
’’نہیں شمبھو ناتھ! سانپ پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
’’میری گردن تو ڈھیلی کردیں، دم گھٹ کر ہی مر جائوں گا۔‘‘
’’میں جانتاہوں کہ تم ایسے نہیں مرتے۔ میں اس وقت تک تمہیں اسی طرح جکڑے رہوں گا جب تک کالی نواس میرے سامنے نہیں آجائے گا۔‘‘
’’سیدھے ہاتھ مڑ جائو۔‘‘ اس نے مردہ لہجے میں کہا اور میں نے رخ بدل دیا۔ بھٹنڈہ کے بارے میں مجھے معلومات نہیں تھیں لیکن جو کچھ ہورہا تھا، وہ غلط نہیں تھا۔ کچھ جانی پہچانی جگہیں نظر آنے لگیں اور میں انہیں پہچانتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ جگہ آگئی جہاں میں نے خود کو دیکھا تھا۔ سامنے ہی اس غار کا دہانہ نظر آرہا تھا جہاں میں پہلے بھی آچکا تھا۔ اندر داخل ہوا تو گھپ اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ شمبھو نے مردہ آواز میں کہا۔ ’’مہاراج! بچھو۔‘‘ میں ایک دم رک گیا۔ میری آنکھوں نے زمین پر انتہائی ننھی ننھی سرخ چنگاریاں متحرک دیکھیں۔ پھر آنکھیں تاریکی کی عادی ہوئیں تو میں نے دو انچ کے بچھو دیکھے جو اپنا کالا ڈنک اٹھائے میری طرف لپک رہے تھے۔ ننھی سرخ چنگاریوں جیسی ان کی آنکھیں تھیں۔ اتنے قریب آگئے تھے وہ کہ ان سے بچنا مشکل تھا۔ میں نے بادل ناخواستہ کندھے سے کمبل اتار کر ان کی طرف لہرایا۔ اس وقت میرے پاس اس کے سوا اور کوئی چارئہ کار نہیں تھا۔ مقصد یہ تھا کہ ہوا کے جھونکوں سے ڈر کر وہ دور ہٹ جائیں لیکن نتیجہ کچھ اور ہی نکلا۔ ہوا کے جھونکے انہیں چھونے لگے اور وہ ساکت ہوگئے۔ ان کے ڈنک نیچے جھک گئے جو ان کی موت کی علامت تھے۔
’’مر گئے۔‘‘ شمبھو کے منہ سے نکلا۔
’’یہ بچھو پہلے تو نہیں تھے؟‘‘ میں نے کہا۔
’’ہم سے کچھ نہ پوچھو مہاراج! یہ کالے بچھو ہیں۔ پتھر پر ڈنک ماریں تو پانی بن جائے ہے۔‘‘ شمبھو نے کہا۔ میں بچھوئوں کے درمیان سے گزر کر آگے بڑھا تو ایک اور دہانہ نظر آیا جس کے دوسری طرف روشنی تھی۔ یہ وہی دہانہ تھا جس میں، میں نے مہاوتی کو خونخوار بلی کے روپ میں دیکھا تھا۔ جونہی میں نے دہانے سے اندر قدم رکھا، اچانک تیز گڑگڑاہٹ کے ساتھ لاتعداد پتھر نیچے گرے۔ پتھر کیا چٹانیں تھیں جن میں سے کچھ براہ راست میرے جسم پر گری تھیں۔ بس یوں لگا جیسے روئی کے گولے ہوں لیکن یہ گولے نیچے گر کر ریزہ ریزہ ہوگئے اور مٹی کا بادل بلند ہوگیا۔ قدم رک گئے اور میں اس وقت تک ساکت کھڑا رہا جب تک یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگیا۔ اب مجھے اندازہ ہوگیا کہ مہاوتی اندر موجود ہے اور اپنا جادو آزما رہی ہے۔ میں نے ماحول صاف ہونے کے بعد اندر نگاہ ڈالی۔ آگ کی لکیریں کھنچ رہی تھیں۔ سائیں سائیں کی آوازوں کے ساتھ یہ لکیریں ادھر سے ادھر دوڑ ہی تھیں اور ان سے کچھ فاصلے پر کوئی کالی شے نظر آرہی تھی۔ پھر وہ واضح ہوگئی۔ مہاوتی تھی لیکن نہایت بھیانک شکل ہورہی تھی اس کی… کوئلے جیسی سیاہ آنکھیں، گہرے سرخ ہونٹ مڑے ہوئے تھے۔
’’آگیا تو پاپی مسلے…؟ ہار نہیں مانوں گی تجھ سے، ہار نہیں مانوں گی۔ پیس کر رکھ دوں گی۔ کچا چبا جائوں گی، کچا کھا جائوں گی تجھے!‘‘ اس کی زبان باہر نکل آئی۔ ایک فٹ دو فٹ اور پھر تین فٹ! آنکھیں بھیانک انداز میں پھیلنے لگیں، بدن پر بال جھولنے لگے۔ وہ بھیانک بلا کی شکل اختیار کرتی جارہی تھی۔ پھر اس نے اتنی ہولناک چنگھاڑ منہ سے نکالی کہ پورا غار لرز کر رہ گیا۔ اس چنگھاڑ کے ساتھ ہی وہ فضا میں بلند ہوئی اور دوڑتی ہوئی مجھ پر آئی۔ میں نے فوراً درود پاک پڑھنا شروع کردیا۔ وہ چمگادڑ کی طرح مجھ پر سے پرواز کرگئی۔ کچھ دور جاکر وہ پھر پلٹی۔ میں نے رخ بدل کر اس پر پھونک ماری اور یوں لگا جیسے اس کا پرواز کرتا ہوا بدن کسی ٹھوس دیوار سے ٹکرایا ہو۔ دھماکے کے ساتھ چیخ کی آواز سنائی دی اور وہ نیچے گر پڑی لیکن نیچے گر کر وہ لوٹتی ہوئی دور چلی گئی اور اس کا جسم پتھر ہوتا گیا۔ کچھ دور جاکر اس نے کالی ناگن کی شکل اختیار کرلی اور اس کے منہ سے شعلے نکلنے لگے۔ اس نے ایک خوفناک پھنکار ماری اور اچانک میری کلائی سے لپٹے شمبھو ناتھ کے بل کھلنے لگے۔ میرا ورد بدستور جاری تھا۔ شمبھو میری مٹھی میں جکڑا ہوا، اب نکلنے کی جدوجہد کررہا تھا اور مہاوتی مسلسل پھنکاریں مار رہی تھی۔ اچانک میں نے غار کے کونوں کھدروں سے بے شمار پھنکاریں سنیں۔ کالے رنگ کے لاتعداد سانپ بے چینی سے پھنکارتے ہوئے باہر نکلے تھے اور پھر وہ مجھ پر لپکے تھے۔ میں نے ان پر پھونک ماری اور جدھر رخ کرکے میں نے پھونک ماری تھی، وہاں سانپ ساکت ہوگئے۔ ان کے جسم لمبے لمبے ہوگئے تھے لیکن چونکہ سانپ چاروں طرف سے لہراتے ہوئے آرہے تھے اس لئے مجھے چاروں طرف کا خیال رکھنا تھا۔ میں نے شمبھو ناتھ کو دوسرے سانپوں پر اچھالا اور پھر بدستور درود شریف پڑھتے ہوئے کمبل دونوں ہاتھوں میں سنبھال کر لہرانے لگا۔ مہاوتی کی پھنکاریں بھیانک ہوگئیں۔ کمبل لہراتے ہوئے سانپ میری نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ میں نے کچھ دیر یہ عمل جاری رکھا۔ پھر اس کا نتیجہ دیکھنے کیلئے رکا۔ نتیجہ خاطرخواہ تھا۔ تمام سانپ مردہ پڑے تھے۔ ان میں شمبھو ناتھ بھی تھا مگر ایک تبدیلی بھی ہوئی تھی۔ مہاوتی کا ناگن کا روپ بدل گیا تھا۔ اب اس کی جگہ ایک انتہائی بوڑھی چڑیل بیٹھی ہوئی تھی جس کے سر کے بال برف کی طرح سفید اور بکھرے ہوئے تھے۔ چہرے کی جھریاں اتنی تھیں کہ اصل خدوخال چھپ گئے تھے۔ سارے جسم کے کھلے ہوئے حصوں پر نسوں کا جال ابھرا نظر آرہا تھا۔ یقیناً وہ اس کا اصل روپ تھا۔ وہ اس عمر کی عورت تھی اور اس نے کالے جادو کے عمل سے یہ دلکشی اور جوانی حاصل کررکھی تھی۔ اس کا سر دائرے کی شکل میں گھوم رہا تھا، آنکھیں چڑھی
اچانک اس کے منہ سے گہرا گاڑھا سیاہ خون ابل پڑا لیکن اس کا سر بدستور اسی طرح دائرے کی شکل میں گھومتا رہا جس کی وجہ سے خون دور دور تک اچھلنے لگا۔ میں نے کمبل احترام سے سمیٹ لیا مگر درود پاک اسی طرح پڑھتا رہا۔ آہستہ آہستہ مہاوتی کے سر گھومنے کی رفتار تیز ہوگئی۔ اب اس کے منہ سے ایک مسلسل بھیانک آواز بھی بلند ہونے لگی تھی۔ پھر اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی اور اس کا بدن اذیت سے مڑنے تڑنے لگا۔ اس کے بعد وہ ساکت ہوگئی۔ میں آگے بڑھ کر اس کے قریب پہنچ گیا۔ یقیناً وہ مرچکی تھی۔ میں نے گہری سانس لی اور غار میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لینے لگا۔ مردہ سانپ ہوا میں تحلیل ہونے لگے تھے۔ نہ جانے کیا کیا الابلا موجود تھیں، وہ سمٹتی جارہی تھیں اور پھر وہاں خالی غار کے سوا کچھ نہیں رہ گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ مہاوتی اپنے جادو سمیت فنا ہوچکی ہے۔ دل مسرت سے سرشار ہوگیا۔ کسی راہ کا تعین کئے بغیر چل پڑا۔ دل میں آرزو تھی کہ مہاوتی کے محل جائوں۔ سمت درست ہی نکلی۔ تھوڑی دیر کے بعد آبادی نظر آگئی اور آبادی تلاش کرنے کے بعد محل تلاش کرنے میں بھی کوئی دقت نہیں ہوئی لیکن محل سے کچھ فاصلے پر ہی تھا کہ کسی غیر معمولی بات کا احساس ہوگیا۔ اندر بھاگ دوڑ ہورہی تھی، پہریدار مستعد کھڑے ہوئے تھے۔ مجھے باہر ہی روک دیا گیا۔ ’’کہاں جانا ہے؟‘‘
’’اندر بھائی…!‘‘
’’نہیں جاسکتے۔‘‘
’’ضروری کام ہے۔‘‘
’’کہہ تو دیا نہیں جاسکتے۔ مہاراج چندر بھان نے منع کرا دیا ہے۔‘‘
’’کہاں ہیں مہاراج چندر بھان…؟‘‘
’’اندر ہیں اور کہاں ہیں۔‘‘
’’میرا مطلب ہے کہ وہ تو کہیں گئے ہوئے تھے؟‘‘
’’واپس آگئے ہیں۔‘‘
’’تم نے خود دیکھا ہے انہیں…؟‘‘ میں نے بے تابی سے پوچھا۔
’’نہیں تو کیا ہم اندھے ہیں؟‘‘
’’اچھا بھائی! سندری کو تو بلا سکتے ہو؟ میں اس سے دو باتیں کرکے چلا جائوں گا۔‘‘
’’عجیب ڈھیٹ آدمی ہو۔ اس سمے کچھ نہیں ہوسکتا۔‘‘ پہریدار نے آنکھیں بگاڑیں تو میں وہاں سے ہٹ آیا اور کوئی مقصد نہیں تھا۔ میں ان سنگی مجسموں کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ محل سے کچھ فاصلے پر دھونی رمالی… اور وہاں سے جائزہ لیتا رہا۔ افراتفری نظر آرہی تھی۔ پھر کچھ لوگوں کو باہر نکلتے دیکھا۔ نوجوان تھے، تباہ حال تھے، بدحواسی سے باہر نکلے تھے۔ بڑی مشکل سے ان میں سے ایک کو روک سکا۔ ’’سنو بھائی…!‘‘ میں نے روکا اور وہ سہم کر رک گیا۔ ’’کچھ پوچھنا چاہتا ہوں تم سے!‘‘
’’کیا…؟‘‘ اس نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔
’’تم محل سے آرہے ہو؟‘‘
’’ایں…!‘‘ اس نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔ پھر بولا۔ ’’ہاں! وہیں سے آرہا ہوں۔‘‘
’’کیا مہاراجہ چندر بھان محل میں آگئے ہیں؟‘‘
’’اس مہان پرش نے ہی تو ہمیں نجات دلائی ہے۔‘‘ نوجوان بے اختیار بولا۔
’’تم پتھر کے بت بنے ہوئے تھے نا…؟‘‘ میں نے کہا۔
’’ارے ساری باتیں جانتے ہو تو ہمیں کیوں پریشان کررہے ہو؟‘‘ اس نے کہا اور تیزی سے آگے بڑھ گیا۔ اپنا فرض پورا کرنا چاہتا تھا۔ یہ میری ذمہ داری تھی جس کی ہدایت کی گئی تھی۔ اس کے بعد بھی وہاں دو دن رکا۔ محل کے سامنے ہی بسیرا کیا اور معلومات حاصل کرتا رہا۔ پھر دوسرے دن سندری نظر آگئی۔ محل کے قریب پہنچ کر اسے آواز دی۔ وہ اپنا نام سن کر رک گئی۔ مجھے دیکھا اور فوراً پہچان لیا۔ بولی۔ ’’مہاراج! آپ…؟‘‘
’’سندری! تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’پوچھو…!‘‘
’’چندر بھان محل میں آگئے؟‘‘
’’ہاں! انہوں نے چڑیل مہاوتی کو مار دیا، اس کا جادو توڑ دیا، سارے پتھر کے بت انسان بن کر اپنے گھروں کو چلے گئے۔ اب پرانا محل کھدوا کر پھنکوا دیا جائے گا۔ باغ اجاڑ کر دوسرا لگایا جائے گا۔‘‘
’’خدا کا شکر ہے۔‘‘ میرے منہ سے نکلا۔
’’اور کوئی کام ہے ہم سے مہاراج…؟‘‘
’’نہیں سندری! تمہارا شکریہ!‘‘ میں نے کہا اور سندری آگے بڑھ گئی۔ تصدیق ہوگئی۔ کام ختم ہوگیا۔ اب چندر بھان سے ملنا ضروری نہیں تھا چنانچہ میں نے وہاں سے باہر جانے کی ٹھانی اور بھٹنڈہ سے باہر جانے والے راستے پر پیدل چل پڑا۔ مہاوتی کی جادو نگری میری آنکھوں میں بسی ہوئی تھی۔ جادو کی بھی ایک دنیا ہے۔ ساری چیزوں کا تعلق شیطان سے ہے۔ اس ملعون نے بھی اپنا ایک نظام قائم رکھا ہے۔ متعدد انساوں کو بھٹکا کر انسانیت کو نقصان پہنچاتا ہے اور اس کیلئے اس نے اپنی ضروریات کو شیطانی قوتوں سے آراستہ کیا ہے لیکن ظاہر ہے کلام الہیٰ کی برکت اور اللہ کے بنائے ہوئے قوانین کے سامنے شیطنیت فنا ہوجاتی ہے اور بالآخر انسانیت کو اس سے نجات مل جاتی ہے۔ شیطانی قوتیں حاصل کرنے والے دنیاوی آسائشیں حاصل کرنے کیلئے غلاظت کی آخری حدود کو چھو لیتے ہیں لیکن یہ بھی کوئی زندگی ہے؟ انسان تو فطرتاً بہت نفیس ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ طاقت حصول کی کوششیں اور طاقت کا نشہ اسے فطرت سے بہت دور لاپھینکتا ہے اور وہ اسی میں اپنے آپ کو مکمل سمجھ لیتا ہے۔ پتا نہیں ایسے لوگوں کی اندرونی کیفیات کیا ہوں۔ سوچوں کے دائرے پھیلتے گئے اور میں ماضی میں پہنچ گیا۔ درحقیقت صرف ایک احمقانہ سوچ، صرف ایک غلطی ساری زندگی کا غم بن جاتی ہے۔ میں اگر اپنے والد اور ماموں کی طرح عام انسانوں کی مانند اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتا تو آج زندگی سے اتنا دور نہ ہٹ گیا ہوتا۔ کیاکیا تکلیفیں نہیں اٹھائی تھیں، کیا کیا صدمے نہیں برداشت کئے تھے۔ صرف ایک میری غلطی نے کسے کسے زندہ درگور نہیں کردیا تھا۔ مقصد یہی تھا کہ فطرت کے بنائے ہوئے اصولوں سے ہٹ جائوں اور محنت کئے بغیر دولت حاصل کرلوں۔ یہی جذبہ تو تھا جو مجھے کالا جادو سیکھنے پر مجبور کررہا تھا اس وقت اور کم بخت بھوریا چرن مل گیا تھا۔ محنت کے بغیر جو کچھ بھی حاصل ہوجائے، وہ گندے علوم سے ہی ہوسکتا ہے۔ خیالات کے ہجوم نے احساس ہی نہ ہونے دیا کہ کتنا فاصلہ طے کرلیا ہے اور جب ہوش کی دنیا میں واپس آیا تو چاروں طرف تاریکی پھیل چکی تھی اور مجھے سفر کرتے ہوئے کتنے ہی گھنٹے گزر چکے تھے۔ تاحد نگاہ ویرانی، سناٹا، درخت، جھاڑیاں، پتھر، کچی زمین…!
میں آبادی سے بہت دور نکل آیا تھا لیکن اب اس کا کوئی افسوس بھی نہیں ہوتا تھا۔ ظاہر ہے ایک بے منزل کیلئے ہر جگہ جہاں پائوں تھک جائیں، منزل ہی ہوتی ہے۔ ایک صاف ستھری جگہ دیکھ کر بیٹھ گیا۔ اتنی دیر میں پہل دفعہ تھکن کا احساس ہوا تھا۔ کھانے پینے کیلئے کچھ نہیں تھا۔ اللہ کا شکر ادا کیا۔ کمبل احترام سے سرہانے رکھا اور لیٹ گیا۔
نیند آگئی تھی اور سوتا رہا تھا۔ غالباً اس وقت رات کے چار ساڑھے چار بجے ہوں گے جب آنکھ کھل گئی۔ چونکہ جلدی سو گیا تھا اس لئے نیند پوری ہوگئی۔ وضو کیلئے پانی موجود نہیں تھا اس لئے تیمم کیا اور دوزانو ہوکر یادالہیٰ میں مصروف ہوگیا اور اس کے بعد سورج نکلنے تک اسی طرح مصروف رہا تھا۔ پھر آگے کے سفر کی ٹھانی اور دوبارہ چل پڑا۔ بہت دور نکلنے کے بعد جھاڑیوں میں خربوزے جیسی کوئی چیز نظر آئی۔ یہ خودرو جھاڑیاں تھیں۔ ان میں جو خوشنما پھل لگے ہوئے تھے، انہیں کھایا جاسکتا تھا۔ وہ کیا تھے، کیسے تھے، یہ اللہ جانے لیکن میری شکم سیری کیلئے بہت کافی ثابت ہوئے تھے۔ بس دو پھلوں نے پیاس بھی بجھا دی تھی اور پیٹ کی آگ بھی! سو اس سے زیادہ کچھ نہ لیا۔ جس نے اس ویران سفر میں ان جھاڑیوں میں میرے لئے پھل اگائے تھے، وہ آگے چل کر بھی کہیں سے مجھے رزق عطا کرسکتا تھا۔ چنانچہ اس کی فکر کرنا بے سود تھا۔اس کے بعد شام ڈھلے جب سورج کی نارنجی کرنیں زمین پر ایک عجیب سی اداسی بکھیر رہی تھیں، مجھے ایک ٹوٹا پھوٹا کھنڈر نظر آیا۔
(جاری ہے)