Saturday, May 18, 2024

Kala Jadu | Episode 52

’’تمہارے سامنے بیاہ کر آئی تھی وہ یہاں؟‘‘میں نے پوچھا۔
’’ہاں مسافر بھیّا سامنے کا گھر ہی تو ہے رتن لال کا۔ بھرا پرا گھر تھا، ہم جی چھوٹے ہی سے تھے، رتن بھیّا سے بچپن ہی سے یاد اللہ تھی۔ بھلا آدمی تھا بے چارہ کام سے کام رکھنے والا، شادی ہوئی تھی اس کی گوناپور میں، بھاگ بھری بیچاری وہیں کی تھی۔ ایک بہت ہی غریب آدمی کی بیٹی جس نے پتہ نہیں کیسے کیسے کر کے اپنی بٹیا کی شادی کری تھی۔ بھاگ بھری رتن لال کے گھر آ گئی۔ رتن لال بے چارہ خود بھی غریب آدمی تھا، بس محنت مزدوری کرتا تھا اور زندگی گزارتا تھا پر ٹھیک ٹھاک زندگی چل رہی تھی۔ ان کے بیٹے ہوئے تھے ایک ایک کر کے تین اور پل بڑھ رہے تھے، بھاگ بھری کوسب ہی اچھا کہتے تھے۔ ہماری اماں تو اسے بہت ہی پسند کرتی تھیں۔ ہماری شادی میں بھی اس نے گھر کے سارے کام کاج کرے تھے بھیّا بہت اچھی تھی وہ۔ اللہ جانے کس کی نظر کھا گئی بے چاری کو۔ بڑا بیٹا کوئی آٹھ سال کا ہوگا، چھوٹا کوئی چار سال کا اور اس سے چھوٹا کوئی تین سال کا… رتن لال کام پر گیا ہوا تھا، تینوں بچّے نکل گئے پوکھر پر اور بھینس کی پیٹھ پر بیٹھ کر پوکھر میں گھس گئے، بس بھیّا وہیں سے کام خراب ہوگیا۔ بھینس پوکھر میں بیٹھ گئی اور بچّے جو اس کی پیٹھ پر بیٹھے ہوئے تھے، پوکھر ہی میں ڈوب مرے۔ وہ تو رمضان گھسیارے نے دُور سے بچوں کو بھینس کی پیٹھ پر بیٹھے دیکھ لیا تھا اور اسے پتہ چل گیا تھا مگر تیرنا وہ بھی نہیں جانتا تھا، دوڑا دوڑا بستی آیا۔ گھر میں خبر دی پھر رتن لال کو بتایا۔ پوری بستی ہی پہنچ گئی تھی پوکھر پر… رتن لال کے تینوں پوت پوکھر میں ڈوب گئے تھے۔ معمولی بات تونہیں تھی، رتن لال پاگل ہوگیا۔ کھٹ سے چھلانگ لگا دی پوکھر میں اور بھیّا پوکھر میں چھ کنویں ہیں، دیکھا تو کسی نے ناہیں البتہ پُرکھوں سے یہی سنتے چلے آئے ہیں کہ بارہ سال کے بعد بھینٹ لیتے ہیں یہ کنویں اور کوئی نہ کوئی ڈوب ہی جاتا ہے۔ بارہ سال پورے ہو چکے تھے، بھینٹ لے لی مگر اس بار تین بچوں کی بھینٹ لی تھی ان کنوئوں نے اور چوتھا رتن لال نیچے گیا تو واپس اُوپر نہ آیا۔ بھلا کس کی مجال تھی کہ پوکھر میں گھس کر رتن لال اور اس کے بچوں کی لاشوں کو تلاش کرتا۔ وہیں کے وہیں دفن ہو کر رہ گئے بے چارے، تین بیٹے اور ایک باپ۔ تم خود سوچ لو مسافر بھیّا، کیا بیتی ہوگی ماں پر؟ اس بیچ بے چارہ تلسی بھی آ چکا تھا۔ تلسی اصل میں بھاگ بھری کا چھوٹا بھیّا تھا۔ جب گوناپور میں اس کے پتا جی مر گئے تو رتن لال خود جا کر تلسیا کو اپنے ساتھ لے آیا اور اپنے بچوں ہی کی طرح پالنے پوسنے لگا اسے… تلسیا یہیں رہتا تھا اور بھاگ بھری کو بس اسی کا سہارا مل گیا تھا۔ تینوں بچّے اور پتی کے مر جانے کے بعد بھلا ہوش و حواس کیسے قائم رکھتی۔ سر پھوڑ لیا اپنا اور اس کے بعد پاگل ہوگئی۔ سر میں چوٹ لگ گئی تھی، بھیّا غریب غرباء کی بستی ہے کون کس کوسہارا دے سکے ہے۔ لوگوں نے کہا اس کا علاج ہو سکتا ہے دماغ ٹھیک ہو جائے گا مگر غریبوں کیلئے تو پیٹ بھرنا ہی مشکل ہو جاتا ہے، دوا دارو کہاں سے کریں۔ بے چارہ تلسیا محنت مزدوری کرتا ہے، بستی بھر کی چاکری کر کے جو چار روٹی کما لے ہے اس سے پاگل بہن کا اور اپنا پیٹ بھرتا تھا۔ سنسار میں اس کا بھی کوئی نہیں ہے، اپنی اس پگلی بہن کے سوا۔ بھاگ بھری پوری بستی میں بھاگتی پھرتی ہے۔ کبھی بچّے اس کا پیچھا کریں تو انہیں پتھر مار دیتی تھی۔ بس اس سے زیادہ اس نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا مگر بھیّا پھر یہ ہوا کہ سب سے پہلا چھوکرا رام لال کا تھا جو بے چارہ ڈائن کا شکار ہوا۔ رات ہی کا وقت تھا۔ مغرب کی اذان ہوئی ہوگی، تیل لینے باہر نکلا تھا کہ غائب ہوگیا۔ بے چارہ رام لال ایک ایک سے پوچھتا پھرا کہ کسی نے اس کے چھورا کو تو نہیں دیکھا۔ کسی نے نہ بتایا۔ صبح کو بھیّا ہریا کے کھیت کی مینڈھ پر رام لال کے چھوکرے کی لاش ملی، ساری چھاتی اُدھیڑ کر رکھ دی تھی کسی نے۔ سب یہی سمجھے کہ بگھرا لگ گیا۔ کبھی کبھی بھیّا بستی کے آس پاس جنگلوں سے بگھرا نکل آوے ہے اور اگر انسانی خون کا لاگو ہو جاوے تو پھر گھروں سے بچّے اُٹھا لے جائے ہے۔ چرواہوں کی بکریوں کو مار ڈالے ہے، بچوں کو لے جا کر کھا پی کر برابر کر دیوے ہے۔ پہرہ دینا پڑے ہے ایسے دنوں میں، چار پانچ بگھرے مارے جا چکے ہیں اس طرح۔ سب لوگ یہی سمجھے کہ بگھرا لگ گیا۔ رام لال کا گھر تو لٹ ہی گیا تھا، راتوں کو پہرے ہونے لگے۔ لوگ لٹھیا لے کر رات بھر اپنے اپنے حساب سے بستی کے چاروں طرف پہرہ دیا کرتے تھے لیکن کوئی ڈیڑھ مہینے کے بعد ہی دُوسرا واقعہ بھی ہوگیا اور اس بار منشی امام دین کا بیٹا بگھرے کے ہاتھ لگا تھا۔ لوگوں نے دیکھا کہ اس کا بھی کلیجہ نکال لیا گیا تھا پھر دھنو نے یہ بتایا کہ یہ کام بگھرے کا نہیں ہے کیونکہ بگھرا کسی گھر میں نہیں گھسا تھا۔ چرواہوں کی بکریوں کو اس نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا، کہیں اس کے پنجوں کے نشان نہیں ملے تھے۔ کہیں نہ کہیں سے تو پتہ چلتا۔ جہاں لاشیں پڑی ہوئی تھیں وہاں پر بھی بگھرے کے پیروں کے نشان نہ ملتے تھے جبکہ پہلے کبھی ایسا ہوا تو جگہ جگہ بگھرے کے پیروں کے نشانات دیکھے گئے پھر جب تیسری لاش ملی تو دھنو نے آخری بات کہہ دی کہ یہ کام کسی ڈائن کا ہے جو بچوں کے کلیجے نکال کر چبا جاتی ہے۔ بھیّا جمال گڑھی والوں کو پہلے کبھی کسی ڈائن کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ خوف پھیل گیا، پوری بستی میں لوگ کام دھندے چھوڑ کر ڈائن کی تلاش میں لگ گئے۔ بھاگ بھری کی طرف تو کسی کا خیال بھی نہیں گیا تھا۔ کسی کو کیا پتہ تھا کہ وہ بھاگ بھری نہیں، بھاگ جلی ہے اور وہ ڈائن بن گئی ہے۔ بستی کی پگلی کہلاتی تھی، کسی نے روٹی دے دی تو کھا لی۔ کسی نے کپڑے پہنا دیئے تو پہن لئے ورنہ اسے اپنا ہوش کدھر تھا۔ بے چارہ تلسیا ہی تھا جو بہن کو سنبھالے سنبھالے پھرتا تھا۔ ادھر چاکری کرتا تھا اُدھر بہن کی تیمارداری۔ پر بھیّا یہ تو بڑی ہی غضب ہوگیا چوتھا بچہ بھی اس کا شکار ہوگیا… اور جمال گڑھی میں ان دنوں بھیّا بس یوں سمجھ لو شام ڈھلی اور سناٹا ہوگیا۔ لوگوں نے گھروں کے دروازے بند کئے، دن میں سونا شروع کر دیا گیا اور راتوں میں جاگنا مگر ڈائن نظر نہیں آئی۔ کیا پتہ تھا کسی کو کہ بھاگ بھری ڈائن ہوگی۔ بے چارے رگھبیر رام کا بیٹا پرکاش بھی رات ہی کو کھویا تھا اور چاروں طرف ڈھونڈ مچی ہوئی تھی۔ سب ڈھنڈیا کر رہے تھے۔ سارے بستی والے لاٹھیاں سنبھالے رات بھر ادھر سے اُدھر پھرتے رہے اور اب صبح کو اس کی لاش مل گئی مگر تم نے بتا دیا بستی والوں کو کہ ڈائن کون ہے۔ ارے بھیّا ہاتھ نہیں لگی وہ جنک رام کے… جنک رام بھی بڑا بکٹ ہے اگر مل جاتی کہیں بھاگ بھری تو لٹھیا مار مار کر جان نکال لیتا اس کی۔ بڑا پریم کرتا تھا اپنے بھتیجے سے… اور رہتا بھی تو رگھبیر رام کے ساتھ ہی تھا۔ رگھبیر رام بے چارے کا بھی اکیلا ہی بیٹا تھا پرکاش، بڑا برا ہوا مگر اب… اب سمجھ میں نہ آوے آگے کیا ہوگا۔ یہ تو پتہ چل گیا کہ بھاگ بھری ڈائن ہوگئی ہے۔ پتہ نہیں کیوں ہم نے تو پہلے کچھ سنا بھی نہیں۔‘‘ میں خاموشی سے یہ کہانی سنتا رہا۔ بڑی دردناک کہانی تھی، ایک لمحے کیلئے یہ احساس بھی دل سے گزرا تھا کہ کہیں میرا یہ انکشاف غلط تو نہیں ہے اور ایک انسان بلکہ دو انسان میرے اس انکشاف کا شکار ہو جائیں گے۔ خدا نہ کرے ایسا ہو۔ خدا کرے جو کچھ میں نے دیکھا ہے وہی سچ نکلے۔ یہاں کسی خبیث رُوح کا معاملہ نہیں تھا بلکہ ایک انسان ہی کا معاملہ تھا، پتہ نہیں اب کیا ہوگا۔ بہرطور بھٹیارے اللہ دین نے یہ کہانی سنائی۔ مجھے خاص
نگاہوں سے دیکھا جا رہا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد اللہ دین واپس آیا اور ایک روپیہ میرے حوالے کر گیا۔ کہنے لگا۔ ’’بھیّا ڈیڑھ روپے روز کا کوٹھا ملا ہے تمہیں، ہم نے اَٹھنّی کی رعایت کر دی ہے۔ اب ایک روپے روز پر تم یہاں رہ سکتے ہو۔ دیکھو بھیّا ہمارے ساتھ بھی تو پیٹ لگا ہوا ہے مجبوری ہے۔ ورنہ تم سے کچھ نہ لیتے۔‘‘
’’نہیں اللہ دین تمہارا شکریہ کہ تم نے رعایت کر دی میرے ساتھ، اب کھانا کھلوا دو۔‘‘
دوپہر کا کھانا جو دال روٹی پر مشتمل تھا، کھا کر فراغت حاصل کی تھی کہ شور شرابہ سنائی دیا۔ باہر نکل آیا دیکھا تو بہت سے لوگ سامنے کے گھر پر جمع تھے۔ یہ تو پتہ چل ہی گیا تھا کہ یہ گھر تلسی یا بستی والے جسے تلسیا کہتے تھے کا ہے۔ شاید بھاگ بھری گھر واپس آئی تھی اور پکڑی گئی تھی، اللہ دین اور زبیدہ بیگم بھی باہر نکل آئیں، پتہ یہ چلا کہ جنک رام اپنے آدمیوں کے ساتھ آیا تھا اور تلسی کو پکڑ کر لے گیا ہے۔
’’یہ تو ناانصافی ہے اللہ دین، جنک رام، تلسی کو کیوں پکڑ کر لے گیا؟‘‘
’’بھیّا خون سوار ہے جنک رام پر بھی، بھتیجا مر گیا ہے۔ کریا کرم کر کے لوٹے تھے کہ بے چارہ تلسیا گھر پر مل گیا، لے گئے اسے پکڑ کے…!‘‘
’’اب وہ کیا کریں گے اس کا…؟‘‘
’’اللہ جانے… تم بیٹھو میں معلوم کر کے آئوں۔‘‘
’’میں بھی چلوں؟‘‘
’’مرضی ہے تمہاری چلنا چاہو تو چلو۔‘‘
’’نا بھیّا مسافر تمہاری بڑی مہربانی ہوگی یہیں پر ٹک جائو۔ میری تو جان نکلی جاوے ہے، ارے کہیں بھاگ بھری میرے ہی گھر میں نہ گھس آئے۔ اللہ میرے کلو کو اپنی امان میں رکھے۔‘‘کلو، اللہ دین اور زبیدہ بیگم کی واحد اولاد تھی۔
وقت گزرتا رہا۔ میں سرائے کے کوٹھے میں آرام کرتے ہوئے یہ سوچتا رہا کہ مجھے جمال گڑھی آنے کی ہدایت کیا اسی سلسلے میں کی گئی ہے اور اگر یہی بات ہے تو میرا کیا عمل ہونا چاہیے۔ یہ تو بالکل ہی الگ سا واقعہ ہوگیا، ایک زندہ عورت انسانی خون کی لاگو ہوگئی تھی۔ میں اس کے خلاف کیا کر سکوں گا۔ کوئی بھوت پریت کا معاملہ تو تھا نہیں، شام کے تقریباً ساڑھے چار بجے ہوں گے کہ باہر سے باتیں کرنے کی آواز سنائی دی اور پھر کسی نے میرے اس کوٹھے یا کمرے کی کنڈی بجائی۔ باہر نکلا تو بیگم اللہ دین کھڑی ہوئی تھیں، چہرے پر خوف کے آثار تھے۔ کہنے لگیں۔ ’’مسافر بھیّا ٹھاکر جی کے آدمی آئے ہیں، تمہیں بلانے کیلئے۔ باہر کھڑے ہوئے ہیں۔‘‘
’’کون ٹھاکر جی…؟‘‘
’’ارے اپنی بستی کے مکھیا ہیں کوہلی رام مہاراج۔‘‘ زبیدہ بیگم نے بتایا۔ میں نے جلدی سے جوتے وغیرہ پہنے باہر نکل آیا۔ دو آدمی کھڑے ہوئے تھے۔ کہنے لگے۔ ’’بھائی صاحب آپ کو ٹھاکر جی نے بلایا ہے۔ بھاگ بھری کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کیلئے۔‘‘
’’اچھا اچھا چلو چل رہا ہوں…‘‘ اللہ دین ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔ واقعی مست مولا آدمی تھا۔ گھر کی کوئی پروا نہیں تھی اسے… زبیدہ بیگم نے میرے باہر نکلتے ہی دروازہ مضبوطی سے بند کر لیا، میں ان دونوں کے ساتھ آگے بڑھتا رہا اور جمال گڑھی کے چھوٹے چھوٹے گھروں کے درمیان سے گزرتا ہوا ایک بڑے سے گھر کے سامنے آ رُکا جو لال رنگ کی اینٹوں سے بنایا گیا تھا اور یقیناً یہی کوہلی رام جی کا گھر تھا۔ بڑے سے گھر کے سامنے جمال گڑھی کے سیکڑوں افراد جمع تھے، ہر ایک اپنی اپنی کہہ رہا تھا۔ دونوں آدمی میرے لیے ان کے درمیان راستہ بنانے لگے اور میں گھر کے سامنے پہنچ گیا، بڑی سی پتھر کی چوکی بنی ہوئی تھی جس پر مکھیا جی بیٹھے ہوئے تھے، صورت ہی سے مغرور آدمی نظر آتے تھے۔ دُوسرے تخت سے نیچے ہی کھڑے ہوئے تھے۔ بائیں طرف ایک مفلوک الحال نوجوان نظر آیا جسے رسّی سے کس دیا گیا تھا۔ اس کا رُخسار نیلا پڑا ہوا تھا، ایک آنکھ بھی نیلی ہو رہی تھی۔ ہونٹ سوجے ہوئے تھے، پیشانی پر خون جما ہوا تھا۔ کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ صاف لگتا تھا کہ اسے بہت مارا گیا ہے۔ میں نے فوراً اندازہ لگا لیا کہ یہ تلسی یا ان لوگوں کی زبان میں تلسیا تھا، قابل رحم اور شریف معلوم ہوتا تھا۔
’’سلام کرو ٹھاکر جی کو۔‘‘ مجھے لانے والوں نے کہا۔ میں نے سرد نظروں سے ان دونوں کو دیکھا پھر ٹھاکر کو جو مجھے دیکھتے ہوئے بائیں مونچھ پر ہاتھ پھیرنے لگا تھا۔
’’ٹھاکر جی… یہ مسافر ہیں۔‘‘ مجھے لانے والے دُوسرے آدمی نے کہا۔
’’کہاں سے آئے ہو…؟‘‘ ٹھاکر نے پوچھا۔
’’بہت دُور سے۔‘‘
’’جگہ کا نام تو ہوگا۔‘‘
’’ہاں ہے مگر بتانا ضروری نہیں ہے۔‘‘
’’ارے… ارے ٹھاکر جی پوچھ رہے ہیں بتائو۔‘‘ انہی دونوں میں سے ایک نے سرگوشی کی۔
’’تم بکواس بند نہیں رکھ سکتے۔‘‘ میں نے غرا کر کہا اور وہ شخص بغلیں جھانکنے لگا۔
’’داروغہ لگے ہو کہیں کے، کوئی نام تو ہوگا تمہارا…‘‘ ٹھاکر نے کہا۔
’’تم نے مجھے میرے بارے میں پوچھنے کیلئے بلایا تھا، ٹھاکر…؟‘‘
’’پوچھ لیا تو کیا برائی ہے۔‘‘
’’بس مسافر ہوں اتنا کافی ہے اصل بات کرو۔‘‘
’’کہاں ٹھہرا ہے یہ؟‘‘ ٹھاکر نے دُوسرے لوگوں سے پوچھا۔
’’اللہ دین کی سرائے میں۔‘‘
’’ہوں، مسلمان ہے۔‘‘ ٹھاکر نے دُوسری مونچھ پر ہاتھ پھیرا۔ ’’کیا دیکھا بھئی تو نے؟‘‘
’’ان لوگوں نے تمہیں بتا دیا ہوگا۔‘‘ مجھے اس شخص پر غصّہ آ گیا تھا۔
’’تو بتا۔‘‘
’’بس اتنا دیکھا تھا کہ وہ عورت لاش کے پاس بیٹھی تھی۔ مجھے دیکھ کر کھڑی ہوگئی اور چیخ مار کر بھاگی پھر کھیتوں میں جا گھسی بعد میں جنک رام نے اسے وہیں دیکھا تھا۔‘‘
’’وہ لڑکے کا کلیجہ چبا رہی تھی؟‘‘ ٹھاکر نے پوچھا۔
’’یہ میں نے نہیں دیکھا۔ اس کی پیٹھ میری طرف تھی۔‘‘
’’ٹھاکر جی اس کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے تھے۔ منہ پر بھی خون لگا ہوا تھا۔‘‘ جنک رام نے کہا تب میں نے اسے دیکھا۔ وہ بھی مجمع میں موجود تھا۔
’’چلو مان لیا میں نے، بھاگ بھری ڈائن بن گئی ہے مگر تلسی کا اس میں کیا دوش ہے؟‘‘
’’یہ اس کا بھائی ہے۔‘‘ ہیرا بولا۔
’’ارے تو یہ تو نہیں کہتا اس سے کچھ، اس بیچارے کو تم نے کیوں مارا۔‘‘ ٹھاکر بولا۔
’’اس سے کہو ٹھاکر کہ تلاش کر کے لائے اپنی بہن کو، اسے پکڑ کر لائے بستی والوں کے سامنے۔‘‘ جنک رام بولا۔
’’اور تم سب چوڑیاں پہن کر گھروں میں جا گھسو۔‘‘ ٹھاکر آنکھیں نکال کر بولا۔
’’ہمارے دل میں جو چتا سلگ رہی ہے ٹھاکر… تم اسے نہیں دیکھ رہے۔‘‘ جنک رام بولا۔
’’سب کچھ دیکھ رہا ہوں، بہت کچھ خبر ہے مجھے۔ دل کا حال بھی جانتا ہوں مگر یہ اس کی ذمہ داری نہیں ہے۔ تم سب مل کر ڈھونڈو اسے یہ بھی ڈھونڈے گا۔ تمہارے بیچ کچھ نہیں بولے گا، کھولو اسے اور خبردار اس کے بعد کسی نے اسے ہاتھ لگایا، ارے مادھو کھول دے اسے۔‘‘ ایک دُبلا پتلا آدمی تلسیا کے بدن سے رسّی کھولنے لگا۔ ’’اور تم جائو داروغہ جی بس پوچھ لیا ہم نے تم سے۔‘‘ اس بار ٹھاکر نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا پھر اپنے نوکر مادھو سے بولا۔ ’’اسے اندر لے جا ہلدی چونا لگا دے، مار مار کر حلیہ بگاڑ دیا سسرے کا… ابے شکل کیا دیکھ رہا ہے میری لے جا اندر۔‘‘ آخر میں ٹھاکر جی نے کڑک کر مادھو سے کہا اور مادھو تلسی کا ہاتھ پکڑ کر اندر جانے کیلئے مڑ گیا۔ ٹھاکر صاحب دوسروں سے بولے۔
’’جائو بھائیو گھروں کو جائو۔ پہلے بھی برا ہوا تھا، اب بھی برا ہوا ہے مگر بات ایسے کیسے بنے گی۔ گدھے پر بس نہیں چلا گدھیا کے کان اینٹھے۔ اب تو ڈائن کا پتہ بھی چل گیا، بھاگ بھری کو پکڑ لو مگر سنو جو میں کہہ رہا ہوں، میں مکھیا ہوں جمال گڑھی کا، خود فیصلہ مت کر بیٹھنا پولیس بلوا لوں گا، بھاگ بھری مل جائے تو باندھ کر میرے پاس لے آنا سسری کو۔‘‘
لوگ منتشر


ہونے لگے، میں بھی پلٹ پڑا۔ تھوڑی دُور چلا تھا کہ اللہ دین میرے قریب آ گیا۔ ’’خوب آئے بھیّا مسافر تم ہماری جمال گڑھی میں، کھیل ہی نیارے ہوگئے۔‘‘
’’ارے تم اللہ دین کہاں غائب ہوگئے تھے۔‘‘
’’ارے بس مسافر بھیّا بہتیرے کام تھے رگھبیر رام کے بیٹے کے کریا کرم میں شمشان گئے تھے پھر بے چارے تلسیا کی گھڑنت دیکھتے رہے، ٹھاکر کے آدمی نہ پہنچ جاتے تو جنک رام اس کا بھی کریا کرم کرا دیتا۔ بڑا لٹھیت ہے وہ۔‘‘
’’تلسی کو مارنا تو غلط تھا۔‘‘ میں نے اس کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے کہا۔
’’وہ تو ہے پر جنک رام پر تو خون سوار ہے۔‘‘
’’میرے خیال میں بری بات تھی۔ تمہارا یہ مکھیا عجیب نہیں ہے۔ میں تو سمجھ رہا تھا کہ اسی نے تلسی کو پٹوایا ہوگا۔‘‘
’’ارے مسافر بھیّا، تم نے تو اسے دو کوڑی کا کر کے رکھ دیا۔‘‘ اللہ دین نے قہقہہ لگایا۔ ’’منہ دیکھتا رہ گیا تمہارا۔‘‘
’’متعصب آدمی معلوم ہوتا ہے، عجیب سے انداز میں کہہ رہا تھا کہ میں مسلمان ہوں۔‘‘
’’نا مسافر بھیّا نا… آدمی برا نہیں ہے۔ اصل بات بتائوں؟‘‘
’’کیا۔‘‘
’’ذات کا ٹھاکر نہیں ہے، بنا ہوا ہے۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’اہیر ہے ہرنام پور کا، ٹھکرائن گیتا نندی کا من بھایا تھا۔ انہوں نے ماں باپ کی مرضی کے بغیر شادی کرلی ان سے… ہرنام پور کے ٹھاکر سدھا نندی نے دولت جائداد دے کر دُور جمال گڑھی میں پھنکوا دیا۔ یہاں ٹھاکر کہلایا، اپنے آپ مکھیا بن گیا۔ دولت کے آگے کون بولے، سب نے مکھیا مان لیا۔ سوچے ہے سب سلام کریں، سر جھکائیں اور کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
’’اور کوئی سر نہیں جھکائے تو؟‘‘
’’خود جھک جائے ہے۔ سب کو پتہ چل گیا ہے کہ کیسا آدمی ہے، اس لیے لوگ اس کا مان رکھ لیں ہیں۔‘‘
’’دلچسپ بات ہے۔ اب ہوگا کیا؟‘‘
’’یہ تو مولا ہی جانے ہے مگر سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ بھاگ بھری پاگل تو ہے مگر… مولا جانے ایسی کیوں ہوگئی۔ چھوڑیں گے نا یہ لوگ اسے۔ سسری بستی سے بھاگ ہی جائے تو اچھا ہے۔‘‘ اللہ دین نے دُکھی لہجے میں کہا۔ سرائے آ گئی تھی۔
’’زبیدہ بہن کھانا پکایا ہے کیا؟‘‘
’’ہاں مونگ کی دال میں پالک ڈالاہے۔ مگر پیسے نہیں دیئے تھے تم نے۔‘‘
’’اری خدا کی بندی۔ اری خدا کی بندی۔ کچھ تو آنکھ کی شرم رکھا کر!‘‘
’’لو گھوڑا گھاس سے یاری کرے تو کھائے کیا۔‘‘
’’بہن ٹھیک کہہ رہی ہیں اللہ دین بھائی۔ آپ نے ویسے ہی میرے ساتھ رعایت کرا دی ہے۔ یہ پیسے بہن!‘‘ میں نے مطلوبہ پیسے دے دیئے بلکہ باقی پیسے بھی دے دیئے اور کہا کہ کل مزید پیسے دوں گا۔ ورنہ یہاں سے چلا جائوں گا۔
رات ہوگئی۔ چاروں طرف سناٹا پھیل گیا۔ باہر مٹی کے تیل کا اسٹریٹ لیمپ روشن تھا جس کی روشنی ایک کھڑکی کے شیشے سے چھن کر آ رہی تھی۔ میں بستر پر لیٹا سوچ رہا تھا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہئے۔ حکم ملا تھا جمال گڑھی جائوں وہاں سے بلاوا ہے۔ آ گیا تھا۔ واقعہ بھی میرے ہمرکاب تھا۔ اس سلسلے میں مجھے کیا کرنا چاہیے۔ نہ جانے کتنا وقت انہی سوچوں میں گزر گیا پھر ذہن نے فیصلہ کیا اور اُٹھ گیا۔ مٹکے میں پانی موجود تھا، لوٹا بھی تھا۔ وضو کر کے فارغ ہی ہوا تھا کہ بری طرح اُچھل پڑا، ’’لینا پکڑنا۔ جانے نہ پائے، پکڑو۔‘‘ کی بھیانک آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔
بے اختیار باہر لپکا اور دروازہ کھول کر نکل آیا۔ دس پندرہ افراد پتھرائو کر رہے تھے، کوئی زمین پر پڑا ہوا تھا۔ غور سے دیکھا تو ایک دلدوز منظر نظر آیا۔ وہی عورت بھاگ بھری، تلسی کے نیچے دبی ہوئی تھی۔ تلسی شاید اسے بچانے کیلئے اس کے اُوپر گر پڑا تھا اور پتھر کھا رہا تھا۔ اس نے اپنا سر دونوں بازوئوں میں چھپا رکھا تھا اور پتھر اس کے بدن پر پڑ رہے تھے۔ پورا جسم تھرا کر رہ گیا۔ بے بسی سے دیکھتا رہا، کیا کرتا۔ اچانک تلسی اُچھل کر دُور جا گرا۔ بھاگ بھری نے اسے اُچھال دیا تھا۔ پھر اس نے بھیانک چیخ ماری، اس کا چہرہ اور سر کے بال خون سے رنگین ہو رہے تھے اور اتنی بھیانک لگ رہی تھی کہ بیان سے باہر ہے۔ اس نے ایک دُوسری منمناتی ہوئی چیخ ماری اور پتھرائو کرنے والوں کی طرف لپکی۔ سارے کے سارے سورما اس طرح پلٹ کر بھاگے کہ ہنسی آ جائے۔ دس بارہ تھے اور بڑھتے جارہے تھے، مگر سب جی چھوڑ بھاگے۔ بھاگ بھری نے دو تین لمبی لمبی چھلانگیں ماریں اور پھرایک طرف مڑ گئی۔ کچھ دیر کے لیے سناٹا چھا گیا۔ میرے پیچھے اللہ دین آ کھڑا ہوا تھا۔
’’کیا ہوگیا، کیا ہوا مسافر بھیّا؟‘‘
’’شاید بھاگ بھری آئی تھی۔‘‘
’’پھر…‘‘
’’لوگوں نے اسے پتھر مارے، جب وہ ان پر دوڑی تو وہ بھی بھاگ گئے اور بھاگ بھری بھی غائب ہوگئی۔‘‘
’’ارے، وہ تلسی ہے اسے کیا ہوگیا۔ تلسی ارے او تلسیا؟‘‘
’’ٹھور مار دئی بھیّا، جان نکال دی ہائے رام۔‘‘ تلسی رونے اور کراہنے لگا اور اللہ دین اس کے پاس پہنچ گیا۔
’’ارے ارے یہ پتھر، کیا انہوں نے پتھر مارے ہیں تجھے بھی؟‘‘ ابھی اللہ دین نے اتنا ہی کہا تھا کہ مارنے والے شور مچاتے ہوئے دوبارہ آ گئے۔ وہ سب غصّے سے پھنکار رہے تھے۔
’’کہاں گئی بھاگ بھری، کہاں چھپا دیا ہے۔‘‘
’’گھر میں گھسی ہے۔ نکال لائو، جائو۔ ہاں نہیں تو مار مار کر ہماری جان نکال دئی۔‘‘ تلسی نے روتے ہوئے کہا۔
’’تو نے اسے بھگایا ہے، تو نے اسے پتھروں سے بچایا ہے۔ نہیں تو آج وہ ماری جاتی۔‘‘ کسی نے کہا۔
’’تو رک کاہے گئے، مار مار پتھر ہماری چورن بنائے دیو، کون روکے ہے تمکا۔‘‘ تلسی بولا۔
’’تو نے مکھیا جی کے سامنے وعدہ کیا تھا کہ تو بھاگ بھری کو پکڑوائے گا۔ بستی کے دُوسرے لوگوں کی طرح مگر تو نے اس کی حفاظت کی۔‘‘ ایک اور شخص نے الزام لگایا۔
’’ارے توہار حفاجت۔ چلو جرا تم لوگ مکھیا کے پاس، ہم اسے بتائیں کہ ہم بھاگ بھری کو دبوچ لیئں کہ وہ لمبی نہ ہو جائے پر ای سب نے ہمکا پتھر مار مار کر ہٹا دین اور اوکا نکلوا دین۔‘‘ تلسی نے بدستور روتے ہوئے کہا۔
اس بات پر سب کو سانپ سونگھ گیا۔ پھر ان میں سے ایک نے آگے بڑھ کر تلسی سے ہمدردی سے کہا۔
’’تو نے اس لیے پکڑا تھا تلسی؟‘‘
’’ارے جائو بس جائو تم لوگ بڑے سورما ہو، مرے کو مارو ہو۔‘‘ لوگ ایک ایک کر کے کھسکنے لگے۔ پھر سناٹا ہوگیا۔ تلسی اب بھی رو رہا تھا، بچوں کی طرح ہیں ہیں کر کے اور نہ جانے کیوں میرا دل کٹ رہا تھا۔ اللہ دین آگے بڑھ کر اس کے پاس پہنچ گیا۔
’’اُٹھ تلسیا۔‘‘ اس نے تلسی کا بازو پکڑ کر اُٹھاتے ہوئے کہا اور وہ اُٹھ گیا۔
’’بڑا مارا ہے ہمکا سب نے دینو بھیّا، صبح سے مار رہے ہیں!‘‘ وہ بدستور روتا ہوا بولا۔
’’آ میرے ساتھ اندر آ جا۔‘‘ اللہ دین اسے سرائے میں لے آیا۔ اندر لا کر بٹھایا اور پھر آواز دی۔ زبیدہ اری کیا گھوڑے بیچ کر سوئی ہے، ایک پیالہ دُودھ لے آ…
’’ہم نا پی ہے دینو بھیّا، جی نہ چاہ رہا بھیّا۔‘‘ تلسی اب بھی اسی طرح رو رہا تھا۔
’’چپ تو ہو جا تلسی، کیا زیادہ چوٹ لگی ہے؟‘‘ اللہ دین نے ہمدردی سے کہا۔
’’ارے ہم چوٹ پر نا رو رہے۔ ہمار من تو بہنیا کے لیے رووے ہے، ماتا کی سوگند دیکھو بھیّا ہمار بہنیا ڈائن نہ ہے۔ ہم اسے جانیں ہیں۔ او سسری تو کھود بھاگ جلی ہے۔ اولاد کے دُکھ کی ماری۔ تم کھود دیکھت رہے ہو بچّے اسے پتھر ماریں ہیں۔ وہ ان سے کچھ کہے ہے کبھی۔‘‘
’’مگر تلسی صبح کو اسے مسافر بھیّا نے دیکھا تھا۔‘‘ اللہ دین بولا۔
’’ارے پگلیا تو ہے ہی، ڈولت ڈولت پھرے ہے۔ شریر پڑا دیکھا ہوگا رگھبیرا کے چھورا کا۔ بیٹھ گئی ہوگی۔ ٹٹولنے لگی ہوگی۔ کھون لگ گیا ہاتھ منہ پر، کسی نے اسے کلیجہ کھاتے ہوئے دیکھا؟
میرا دل دھک سے ہوگیا۔ ایسا ہو سکتا تھا، یہ ممکن تھا۔ یہ انکشاف میں نے کیا تھا۔ بستی والوں کو میرے ذریعہ یہ سب
ہوا تھا، میں پتھرا گیا۔ تلسی کہہ رہا تھا۔ ’’اب اللہ دین بھیّا لاگو ہوگئے ہیں، مار ڈالیں گے ہمار بہنیا کو سب مل کر…‘‘
’’نہیں تلسی۔ ایسا نہیں ہوگا۔‘‘ میرے منہ سے نکلا۔
’’ایسا ہی ہوگا ہمکا پتہ ہے۔‘‘
’’اگر بھاگ بھری نے دیوانگی میں، ان بچوں کو مار کر ان کا کلیجہ نہیں کھا لیا ہے تلسی تو میں وعدہ کرتا ہوں جمال گڑھی والوں کی یہ غلط فہمی دُور کر دوں گا۔ اگر اس نے ایسا کیا ہے تو پھر مجبوری ہے۔‘‘
’’تو یہیں سو جا تلسی اپنے گھر مت جا۔‘‘
’’نا دینو بھیّا گھر جانے دو اگر وہ پھر آ گئی تو۔ دینو بھیّا ہم کوئی اسے پکڑ تھوڑی رہے تھے۔ ہم تو اسے بچا رہے تھے۔ اس پر پڑنے والے پتھر کھا رہے تھے۔ بہنیا ہے ہمار وہ۔ ارے ہم اسے نا مرنے دیں گے اسے۔ چلے بھیّا تمہاری مہربانی۔‘‘ وہ وہاں سے چلا گیا۔
بہت دیر خاموشی رہی۔ پھر میں نے کہا۔ ’’اللہ دین بھائی تمہارا کیا خیال ہے۔ کیا وہ ڈائن ہے۔‘‘
’’مولا جانے۔‘‘ اللہ دین گہری سانس لے کر بولا۔
’’ایک بات بتائو اللہ دین۔‘‘
’’ہوں۔‘‘
’’بستی والے مکھیا کی بات مانتے ہیں؟‘‘
’’بہت، کسی بات پر ٹیڑھا ہو جائے تو سب سیدھے ہو جاتے ہیں۔‘‘
’’میں مکھیا سے ملوں گا۔ اس سے کہوں گا کہ وہ بستی والوں کا جنون ختم کرے۔ ان سے کہے کہ وہ خود کھوج کر رہا ہے۔ پتہ چل گیا کہ بھاگ بھری ہی ڈائن ہے تو وہ خود اسے سزا دے گا۔ اس نے بستی والوں سے یہ بات کہی بھی تھی۔‘‘ میں نے یہ جملے کہے ہی تھے کہ اندر سے زبیدہ کی آواز سنائی دی۔
’’ارے اب اندر آئو گے یا باہر ہی رہو گے۔ میں کب سے بیٹھی ہوں۔‘‘
’’جاگ رہی ہے؟ اچھا مسافر بھیّا آرام کرو۔‘‘ اللہ دین اندر چلا گیا۔ میں اپنے کمرے میں آ گیا۔ باوضو تھا اور اس ہنگامے سے پہلے ایک ارادہ کر کے اُٹھا تھا چنانچہ اس پرعمل کا فیصلہ کرلیا۔ ایک صاف ستھری جگہ منتخب کی اور وہاں دو زانو بیٹھ کر آنکھیں بند کرلیں۔ مجھے درود شریف بخشا گیا تھا۔ یوں تو کلام الٰہی کا ہر زیر زبر پیش مد اور جزم اپنی جگہ آسمان ہے مگر مجھے رہنمائی کے لیے درود پاک عطا کیا گیا تھا، چنانچہ آنکھیں بند کر کے میں نے ورد شروع کر دیا۔ پڑھتا رہا ذہن سو سا گیا مگر ہونٹوں سے درود پاک جاری رہا۔ تب میرے ذہن میں کچھ خاکے اُبھرنے لگے۔ ایک بندر کی شکل اُبھری جو تاج پہنے ہوئے تھا پھر ایک عمارت کا خاکہ اُبھرنے لگا۔ بندر کے قدموں میں کوئی سیاہ سی شے پھڑک رہی تھی، سمجھ میں نہ آ سکا کیا ہے۔ عمارت کے محراب نما دروازے پھر ایک چہرہ۔ پہلے آنکھیں پھر ناک اور ہونٹ پھر پورا چہرہ۔ ایک مکمل چہرہ جو کسی عورت کا تھا۔ اس کے بعد دماغ کو جھٹکا سا لگا اور میں جیسے جاگ گیا۔ میری پیشانی شکن آلود ہوگئی۔ کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ وہ چہرہ یاد تھا، عمارت کے نقوش یاد تھے اور بس۔ دیر تک اس کے بارے میں سوچتا رہا اس کے بعد دوبارہ درود شریف پڑھنا شروع کیا۔ اور وضاحت چاہتا تھا لیکن شاید اس سے زیادہ کچھ نہیں بتایا جانا تھا اس لیے نیند آ گئی اور وہیں لڑھک کر سو گیا۔ نہ جانے کتنا وقت گزرا تھا سوتے ہوئے کہ اچانک ایک بھیانک چیخ سنائی دی اور پھر مسلسل چیخیں اُبھرنے لگیں۔ ایک لمحے تو دماغ سناٹے میں رہا پھر احساس ہوا کہ چیخوں کی آوازیں زبیدہ اور اللہ دین کی ہیں۔ اٹھا اور دوڑتا ہوا کمرے سے باہر نکل آیا۔ زبیدہ ہی تھی اور اس کے منہ سے آوازیں نکل رہی تھیں۔
’’ہو، ہو، ہو۔‘‘ اس کا حلیہ بگڑا ہوا تھا۔ چہرہ خوف کے مارے سرخ ہو رہا تھا۔ آنکھیں پھٹی ہوئی تھیں۔ اس کا ایک ہاتھ کمرے کے دروازے کی طرف اٹھا ہوا تھا اور وہ کچھ کہنا چاہ رہی تھی مگر دہشت نے زبان لڑکھڑا دی تھی۔ چیخوں کی آواز کے سوا کچھ منہ سے نہیں نکل پا رہا تھا۔ اللہ دین بھیّا کی حالت بھی اس سے مختلف نہیں تھی۔ ان دونوں کو سنبھالنا تو مشکل تھا مگر یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ جو کچھ بھی ہے اس کمرے میں ہے جس میں یہ سوتے ہیں چنانچہ اللہ کا نام لے کر کمرے کے کھلے دروازے سے اندر داخل ہوگیا۔ اندر لالٹین ٹمٹما رہی تھی اور اس کی مدھم ملگجی روشنی کمرے کے ماحول کو اور خوفناک بنا رہی تھی۔ بستر پر کلو بے سُدھ پڑا ہوا تھا۔ اچانک میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ دل اُچھل کر حلق میں آ گیا۔ کلو… کلو… ساکت ہے! اتنے شور و شرابے کے باوجود اس کے بدن میں جنبش نہیں ہے۔ تو کیا وہ…؟ مگر یہ سوچ مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ اچانک چوڑے پلنگ کے نیچے سے دو ہاتھ باہر نکلے اور انہوں نے برق رفتاری سے میرے دونوں پائوں پکڑ کر کھینچے۔ میں توازن نہ سنبھال سکا اور دھڑام سے نیچے آ رہا۔ میرے گرتے ہی ایک بھیانک وجود پلنگ کے نیچے سے نکل آیا۔ وہ وحشیانہ انداز میں میرے سینے پر آ چڑھا تھا اور میرے اعضاء بالکل ساکت ہوگئے تھے۔
خوفناک وجود ایک لمحے میرے سینے پر سوار رہا پھر اس نے ایک اور چیخ ماری اور میرے سینے سے اتر کر دروازے کی طرف لپکا اور جھپاک سے باہر نکل گیا۔ اللہ دین دوبارہ چیخا۔ زبیدہ دھڑام سے زمین پر گر پڑی۔ وہ شاید بے ہوش ہوگئی تھی۔ میں سنبھل کر کھڑا ہوگیا۔ اللہ دین خوف زدہ لہجے میں بولا۔ ’’نکل گئی، نکل گئی۔‘‘ میں نے کوئی جواب نہیں دیا اور پہلے اللہ دین کے بیٹے کلو کو دیکھا۔ بغور دیکھنے سے اندازہ ہوگیا کہ بچہ گہری نیند سو رہا ہے اور کوئی بات نہیں ہے۔ اندازے سے میں نے ایک خوفناک وجود کو بھی پہچان لیا تھا۔ وہ بھاگ بھری ہی ہوسکتی تھی۔ اللہ دین ایک طرف بیوی کو سنبھال رہا تھا اور دوسری طرف بیٹے کیلئے فکرمند تھا۔
’’تمہارا بیٹا سو رہا ہے اور بالکل ٹھیک ہے۔‘‘ میں نے اسے بتایا۔
’’ارے زبیدہ، ہوش میں آ…! کلو ٹھیک ہے، اسے کچھ نہیں ہوا۔‘‘ اللہ دین نے اسے اٹھا کر چارپائی پر لٹایا اور میرے پاس آکر کلو کو دیکھنے لگا۔ پھر ہاتھ جوڑ کر بولا۔ ’’مولا تیرا شکر ہے۔‘‘
’’وہ بھاگ بھری تھی…؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ارے ہاں! اس سسری نے تو ناک میں دم ہی کردیا۔ لو یہاں بھی آگھسی۔ اب کیا ہوگا؟ مولا نہ کرے اگر ہم جاگ نہ جاتے تو…!‘‘
’’کیا ہوا تھا…؟‘‘
’بس مسافر بھیا! یہ دھماچوکڑی ہوئی تو دروازہ کھلا رہ گیا۔ ہم سو گئے تھے، کسی کھٹکے سے آنکھ کھلی تو اس بھیڑنی کو دیکھا، کلو پر جھکی ہوئی تھی۔ ہم سمجھے کہ مولا نہ کرے…! مولا تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔‘‘ اللہ دین سجدے کرنے لگا۔
کچھ دیر کے بعد زبیدہ بیگم ہوش میں آگئیں۔ چیخیں مار کر رونے لگیں۔ بڑی مشکل سے انہیں یقین آیا کہ کلو زندہ ہے۔ نہ جانے کیا کیا اول فول بکنے لگیں۔ میں واپس اپنے کمرے میں آگیا تھا۔ رات تقریباً پوری گزر چکی تھی۔ اس کے بعد نیند نہیں آئی۔ نماز سے فراغت پا کر باہر نکل آیا۔ بڑی خوشگوار صبح تھی۔ ننھے منے پرندے چہلیں کررہے تھے۔ اللہ دین بھی میرے پاس آگیا۔ میں نے مسکرا کر اسے دیکھا تو وہ فکرمندی سے بولا۔ ’’بڑی مشکل آگئی مسافر بھیا… اب ہوگا کیا؟‘‘
’’سب ٹھیک ہوجائے گا، فکر مت کرو۔‘‘
’’گھر والی تو بری طرح ڈر گئی ہے۔ بخار آگیا ہے بے چاری کو… ویسے اب تو کچھ گڑبڑ لگے ہی ہے مسافر بھیا!‘‘
’’کیا…؟‘‘
’’بھاگ بھری ڈائن بن ہی گئی۔ بال بال بچ گیا ہمارا کلو!‘‘ اللہ دین نے کہا۔ میرے پاس کہنے کیلئے کچھ نہیں تھا، کیا کہتا۔ کوئی فیصلہ کن بات کہنا مشکل ہی تھا۔
’’چائے بنا لیں، ناشتے میں کیا کھائو گے؟‘‘
’’جو بھی مل جائے۔‘‘ میں نے کہا اور اللہ دین چلا گیا۔ میں خیالات میں کھو گیا۔ وہ چہرہ اور وہ عمارت یاد تھی جسے مراقبے کے عالم میں دیکھا تھا۔ ہدایت کی گئی تھی کہ اب خود پر بھروسہ کروں۔ کمبل واپس لے لیا گیا تھا۔ امتحان تھا مگر دل کو یقین تھا کہ امتحان میں پورا اتارنے والی بھی وہی ذات باری ہے جس نے اس امتحان کا


کیا ہے۔ خیالوں میں جیب میں ہاتھ چلا گیا۔ کوئی مانوس شے نظر آئی، نکال کر دیکھا تو چار روپے تھے ۔یہ تائید غیبی تھی۔ مجھے اس اعتماد پر یقین دلایا گیا تھا جو میرے دل میں تھا۔ میرا وظیفہ مجھے عطا کردیا گیا تھا۔ بڑی تقویت ملی۔ دل کو اور اطمینان ہوگیا کہ جو کچھ ہوگا، بہتر ہوگا۔ چائے پیتے ہوئے تین روپے اللہ دین کو دے دیئے۔ وہ بولا۔ ’’شرمندہ کررہے ہو مسافر بھیا! مگر اتنے کاہے کو…؟‘‘
’’بس حساب رکھنا، کل پھر دوں گا۔‘‘ اللہ دین نے شرمندگی سے سر جھکا لیا تھا۔ کوئی نو بجے ہوں گے کہ تلسی کراہتا ہوا آگیا۔
’’بخار چڑھ گیا ہے سسرا… بھیا دینو، ایک اٹھنی ادھار دے دو گے؟‘‘
’’ہاں… ہاں! کیوں نہیں، یہ لو۔‘‘ اللہ دین نے جیب سے اٹھنی نکال لی۔
’’یہ روپیہ بھی لے تو تلسی! فالتو پڑا ہے میری جیب میں۔‘‘ میں نے جیب سے روپیہ نکال کر تلسی کو دیا جو اس نے بڑی مشکل سے لیا تھا۔ گیارہ بجے کے قریب میں بستی گھومنے نکل گیا۔ آبادی بہت چھوٹی تھی۔ ایک مسجد بھی بنی ہوئی تھی مگر نہایت شکستہ حالت میں، کوئی دیکھ بھال کرنے والا بھی نہیں نظر آیا۔ اندر داخل ہوگیا، صفائی ستھرائی کی۔ اذان بھی نہیں ہوئی، میں نے خود اذان دی لیکن ایک بھی نمازی نہ آیا۔ نماز سے فارغ ہوکر گھومنے نکل گیا۔ کھیتوں اور جنگلوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ ہاں! کافی دور نکل آنے کے بعد ایک مٹھ نظر آیا۔ اس کے عقب میں ایک سیاہ رنگت عمارت بھی نظر آئی تھی۔ قدم اسی جانب اٹھ گئے۔ عمارت کے اطراف میں انسانی قد سے اونچی جھاڑیاں نظر آرہی تھیں۔ ان کے درمیان پیلی سی پگڈنڈی بھی پھیلی ہوئی تھی جو اسی عمارت تک جاتی تھی۔ میں اسی پگڈنڈی پر آگے بڑھتا رہا۔ راستے میں کئی جگہ سانپوں کی سرسراہٹ بھی سنائی دی تھی۔ یقیناً ان جھاڑیوں میں سانپ موجود تھے۔ ویرانے میں بنی ہوئی یہ عمارت بڑی عجیب نظر آرہی تھی لیکن میرے لئے بہت دلچسپی کا باعث تھی۔ چنانچہ میں آگے بڑھتا ہوا اس کے دروازے پر پہنچ گیا اور پھر اچانک ہی میرے دماغ کو ایک جھٹکا سا لگا۔ عالم استغراق میں جو عمارت میں نے دیکھی تھی، اس وقت یقیناً وہی میری نگاہوں کے سامنے تھی۔ کم ازکم اس سلسلے میں مجھے اپنی یادداشت پر بھروسہ تھا۔ میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اس کا مقصد ہے کہ جو نشاندہی کی گئی تھی، وہ بالکل مکمل تھی اور یقینی طور پر مجھے یہاں سے کوئی رہنمائی ملے گی۔ وہی محرابیں، وہی انداز… آگے بڑھتا ہوا اس بڑے سے ٹھنڈے ہال میں پہنچ گیا جو نیم تاریک تھا، روشن دانوں سے جھلکنے والی کچھ روشنی نے ماحول کو تھوڑا سا منور کردیا تھا ورنہ شاید نظر بھی نہ آتا۔ درمیان میں ہنومان کا بت استادہ تھا۔ ہاتھ میں گرز لئے، ہنومان کا بت بہت خوفناک نظر آرہا تھا اور اس سنسان ماحول میں یوں لگ رہا تھا جیسے ابھی بت اپنی جگہ سے آگے بڑھے گا اور مجھ پر حملہ کردے گا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں غیر معمولی چمک دیکھی حالانکہ پتھر کا تراشا ہوا بت تھا لیکن آنکھیں جاندار معلوم ہوتی تھیں۔ میں ان آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتا رہا لیکن بت میں کوئی جنبش نہیں ہوئی تھی۔ یہ صرف تنہائی اور ماحول کا دیا ہوا ایک تصور تھا البتہ یہ بات میں اچھی طرح جانتا تھا کہ میری رہنمائی بے مقصد نہ کی گئی ہوگی۔ آگے بڑھ کر بت کے بالکل قریب پہنچ گیا۔ ہلکی ہلکی سرسراہٹوں سے یوں محسوس ہوا تھا جیسے آس پاس کہیں کوئی موجود ہے لیکن نظر کوئی بھی نہیں آرہا تھا۔ میں نے بت کے قدموں میں دیکھا اور دوزانو بیٹھ کر دیکھنے لگا۔ (جاری ہے)

Latest Posts

Related POSTS