Saturday, May 18, 2024

Kala Jadu | Episode 60

اس پتلے کو چپ چاپ شاہ بابا کے مزار کے پیچھے جو بھی ایسی جگہ ہو جہاں کوئی چیز رکھی جاسکے، رکھ کر چلا آ۔ بس اتنا سا کام ہے تیرا اور بات ختم!‘‘
’’پتلا کیسا ہے…؟‘‘
’’اب دیکھ تو نے پھر وہ باتیں شروع کردیں جس سے دماغ خراب ہوجائے۔ بائولے! یہ کام کرکے آ پھر بتائیں گے تجھے کہ پتلا کیسا تھا اور ہم نے ملنگ بابا کو کیا بھینٹ دی ہے۔‘‘ بھوریا چرن کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ میں نے آمادگی کا اظہار کردیا تھا۔ اس کے اشارے پر میں درخت کے عقب میں پہنچ گیا۔ دیکھا تو واقعی لکڑی کا ایک صندوقچہ رکھا ہوا تھا۔ اسے کھولا تو اس میں ربڑ جیسا ایک پتلا رکھا ہوا تھا۔ چہرے کے قریب کرکے دیکھا تو آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ یہ پتلا بالکل بھوریا چرن کی شکل تھا۔ آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹا تھا۔ میں نے چند لمحات سوچا۔ کوئی بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ پتلا لے کر آگے بڑھا تو یوں لگا جیسے پیروں میں کانٹے چبھ رہے ہوں۔ جیسے جیسے مزار اقدس کی جانب بڑھتا چلا جارہا تھا، نجانے کیسی کیسی کیفیتوں کا شکار ہوتا جارہا تھا۔ کوئی آواز نہیں سنائی دی تھی، کوئی احساس نہیں ہوا تھا جو الفاظ کی شکل اختیار کرسکتا لیکن مجھے یہ محسوس ہورہا تھا کہ جیسے کوئی انجانی قوت مجھے اس کام سے باز رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔ تھوڑی دیر تک میں ان کیفیتوں کو برداشت کرتا رہا لیکن پھر بے چینی عروج کو پہنچ گئی تو میں رک گیا۔ میرا دل الٹ رہا تھا اور مسلسل یہ آوازیں آرہی تھیں کہ مجھے آگے نہیں بڑھنا چاہئے۔ یہ ایک ناپاک وجود ہے۔ مزاروں پر تو پھول چڑھائے جاتے ہیں، چادریں چڑھائی جاتی ہیں، عقیدت کے آنسو نچھاور کئے جاتے ہیں۔ یہ بت پرستی ہے۔ کسی انسانی پتلے کو مجھے مزار شریف تک نہیں پہنچانا چاہئے۔ یہ گناہ عظیم ہے۔ میں نے رک کر صندوقچی کھولی اور اس میں رکھے ہوئےپتلے کو دیکھنے لگا۔ تب ہی وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔وہ اپنی ننھی ننھی آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے مجھے دیکھ رہا تھا۔ پھر اس کی غرائی ہوئی باریک سی آواز سنائی دی۔
’’کتے کے پلے! جو میں کہہ رہا ہوں، وہ کر۔ یہاں تک آگیا ہے تو اب بیکار باتوں میں نہ پھنس۔ ابے آگے بڑھ پاپی! کیوں بہکاوے میں آرہا ہے۔‘‘ وہ بول رہا تھا اور میرا دل خوف و دہشت سے کانپ رہا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ بھوریا چرن خود اس پتلے کی شکل میں موجود ہے۔ جب میں درخت کے پیچھے پہنچا تھا اور وہاں سے باہر نکلا تو وہ موجود نہیں تھا۔ یقینی طور پر وہ اس صندوقچی میں یہ شکل اختیار کرگیا تھا۔ میرے دل نے آخری فیصلہ کرلیا اور میں نے صندوقچی کو پوری قوت سے دور پھینک دیا۔ دل ہی دل میں، میں نے فیصلہ کرلیا کہ یہ غلیظ کام میں نہیں کروں گا۔ کسی مزار مقدس کی بے حرمتی کسی مسلمان کے ہاتھوں ممکن نہیں ہے اور میں اللہ کے فضل و کرم سے مسلمان ہوں۔ میرے اس عمل کا کوئی ردعمل تو نہیں ہوا، صندوقچی دور پڑی تھی اور کچھ نظر نہیں آرہا تھا کہ بھوریا چرن کا کیا ہوا۔
میں وہاں سے تیزی سے بھاگا اور بھاگتا رہا۔ نجانے کہاں کہاں، نجانے کب تک!
صبح ہوگئی پھر دوپہر! تب ایک آبادی نظر آئی اور میں اس کی طرف بڑھ گیا۔ آبادی میں داخل ہوگیا۔ یہاں پہنچ کر مجھے معلوم ہوا کہ یہ بھٹنڈہ ہے۔ گھنی آبادی تھی مگر میرا کوئی شناسا نہیں تھا۔ میں کسی ایسے شخص کی تلاش میں تھا جو میری مدد کرسکے مگر بدقسمتی نے میرا دامن نہیں چھوڑا تھا۔ ایک بوڑھا سا آدمی نظر آیا اور میں نے اسے آواز دی۔ وہ رک گیا تھا۔
’’بھائی صاحب! میری مدد کریں۔ میں ایک مجبور مسافر ہوں۔ بھائی صاحب…!‘‘ اس شخص نے ناگواری سے مجھے دیکھا اور پھر چونک سا پڑا۔ وہ مجھے گھور گھور کر دیکھنے لگا تھا۔ اچانک وہ نرم لہجے میں بولا۔
’’کیا بات ہے، کیا پریشانی ہے تجھے؟‘‘
’’مجھے کوئی ٹھکانہ چاہئے ،کچھ پیسے چاہئیں۔ میں اپنے گھر جانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کہاں ہے تیرا گھر…؟‘‘ میں نے اسے اپنے بارے میں مختصر الفاظ میں بتایا لیکن بھوریا چرن کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔ وہ ہمدردی سے سنتا رہا اور پھر نرم لہجے میں بولا۔ ’’آمیرے ساتھ!‘‘ میں اس کے ساتھ چل پڑا لیکن آبادی میں جانے کے بجائے وہ آبادی کے باہر جانے والے راستے پر چل پڑا تھا۔ میں کسی قدر گھبرا گیا۔
’’سنئے بابا جی…!‘‘
’’کیا ہے…؟‘‘
’’کہاں جارہے ہیں آپ؟‘‘
’’مہاوتی کا نام سنا ہے کبھی تو نے؟‘‘
’’نہیں…!‘‘
’’رانی مہاوتی کا نام نہیں سنا…؟‘‘
’’افسوس نہیں!‘‘
’’بہت بڑی سرکار ہے، ان کے پاس لے جارہا ہوں، تیرے سارے دلدر دور ہوجائیں گے۔‘‘
’’مگر میں…!‘‘
’’خاموش رہ۔ تیری تقدیر اچھی ہے کہ مجھے مل گیا۔ رانی تیری ساری پریشانیاں دور کردے گی۔ بڑی مہان، بڑی نرم دل ہے وہ!‘‘ بوڑھے نے کہا۔ میں ایک ٹھنڈی سانس لے کر خاموش ہوگیا تھا۔ پھر وہ مجھے لئے ہوئے ایک عجیب سی جگہ پہنچ گیا۔ یہاں بدنما اور بدصورت پہاڑی ٹیلے بکھرے ہوئے تھے، جنگل سا پھیلا ہوا تھا، سوراخ بھی نظر آرہے تھے۔ یہ پہاڑی غار تھے اور ایک پہاڑی غار کے دہانے سے وہ اندر داخل ہوگیا۔ مجھے بے حد خوف محسوس ہورہا تھا مگر مرتا کیا نہ کرتا، اس کے ساتھ اندر چلا گیا۔ اندر داخل ہوا تو دماغ کو شدید جھٹکا لگا۔ یہ تو ایک عظیم الشان غار تھا۔ جو جگہ باہر سے بس ایک ٹیلہ نظر آتی تھی، وہ اندر سے اتنی کشادہ تھی کہ یقین نہ آئے۔ غار کے بیچوں بیچ طلسم کی دیوی، کالی دیوی کا ایک بھیانک مجسمہ استادہ تھا اور اطراف کا ماحول بے حد خوفناک تھا۔ میں نے گھبرا کر کہا۔ ’’بابا صاحب! یہ کونسی جگہ ہے؟‘‘
’’مکتی کنڈ…!‘‘ بوڑھے نے مسکرا کر کہا۔ اس کی مسکراہٹ میں صاف شیطینت جھلک رہی تھی۔
’’میں یہاں سے جانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کیوں…؟‘‘
’’یہ عجیب سی جگہ ہے، مجھے وحشت ہورہی ہے۔‘‘
’’کالی کنڈ ہے یہ بائولے! یہاں مکتی ملتی ہے۔ ہر پریشانی سے مکتی مل جاتی ہے یہاں! یہ مہاوتی نواس ہے۔‘‘
’’مگر میرا تو تھوڑا سا کام ہے میں… میں یہاں نہیں رک سکتا۔‘‘
’’مہاوتی سے نہیں ملے گا؟‘‘
’’کہاں ہے مہاوتی…؟‘‘
’’وہ ہے رانیوں کی رانی، مہارانی مہاوتی…!‘‘اس نے ایک طرف اشارہ کیا۔ ایک بڑے سے پتھر کے چبوترے پر میں نے ایک عجیب اور خوفناک چیز دیکھی۔ تم نے کالا چیتا دیکھا ہے مسعود بھیا! ایک نگاہ میں مجھے ایسا ہی لگا جیسے کوئی کالا چیتا بیٹھا ہو مگر وہ چیتا نہیں، انسان تھا۔ ایک عورت، کالی بھجنگ۔ لال لال خوفناک آنکھوں والی! جو اس انداز میں پتھر پر بیٹھی ہوئی تھی جیسے بلی بیٹھتی ہے۔ خوف سے میری چیخ نکل گئی۔
’’میں جانا چاہتا ہوں۔‘‘ میں نے وحشت میں کہا اور غار کے دہانے کی طرف چھلانگ لگا دی مگر دہانہ غائب ہوچکا تھا۔وہاں اب سپاٹ پہاڑی دیوار نظر آرہی تھی۔ بوڑھے شیطان کا مکروہ قہقہہ غار میں گونج اٹھا۔ وہ ہنستا ہوا بولا۔ ’’یہ کالی کنڈ ہے بائولے! یہاں لوگ آتے ہیں، جاتے نہیں۔ تو بھی نہیں جائے گا۔‘‘
’’مجھے جانے دو بابا جی! میں بہت مظلوم ہوں، میں پہلے ہی بہت ستایا ہوا ہوں۔‘‘
’’اسی لئے تو میں تجھے مکتی نواس لایا ہوں، یہاں ساری مصیبتوں سے مکتی مل جاتی ہے۔‘‘
اس وقت ایک پائیدار نسوانی آواز سنائی دی۔ ’’کیا بات ہے شمبھو ناتھ…! کون ہے یہ…!‘‘ میری گردن گھوم گئی۔ شاہانہ جھلملاتے ہوئے لباس میں مجھے ایک حسین اور بلند و بالا قامت کی عورت نظر آئی جو صورت سے ہی رانی معلوم ہوتی تھی۔
’’تیرے لئے ایک تحفہ لایا ہوں مہاوتی!‘‘
’’کون ہے یہ…؟‘‘
’’اماوس کی رات کا پائل…! مہا کالی کیلئے تیری بھینٹ!‘‘ بوڑھا مسکراتا ہوا بولا۔ میری نگاہ
اس چبوترے کی طرف اٹھ گئی جہاں وہ کالی بلی بیٹھی ہوئی تھی۔ اب وہاں کچھ نہیں تھا اور چبوترہ خالی پڑا ہوا تھا۔ بوڑھے کی بات میری سمجھ میں بالکل نہیں آئی تھی مگر عورت کی آنکھوں میں عجیب سی چمک نظر آئی۔ وہ بولی۔ ’’ارے ہاں شمبھو جی! کہتے تو ٹھیک ہو… کہاں سے مل گیا یہ…؟‘‘
’’بس! مل گیا۔ ہم نے کھوجا ہے۔‘‘ بوڑھا بولا۔
’’کون ہے یہ…؟‘‘
’’مصیبتوں سے نجات مل جائے گی۔ اسے بالکل نجات مل جائے گی۔‘‘ وہ بھی ہنس کر بولی۔ عجیب ماحول تھا۔ وحشت سے دل بند ہوا جارہا تھا، پائوں لرز رہے تھے۔ میں زمین پر بیٹھ گیا۔ دونوں کی ہنسی میرے کانوں میں گونجی تھی اور پھر وہ دونوں غائب ہوگئے۔ آہ مسعود بھیا…! آسمان سے گر کر کھجور میں اٹک گیا تھا۔ باہر جانے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ جب تک بدن میں جان رہی، راستہ تلاش کرتا رہا پھر تھک کر بیٹھ گیا۔ نہ جانے کتنا وقت گزر گیا۔ ایک بار پھر وہ دونوں مجھے نظر آئے۔ کچھ تیاریاں کررہے تھے۔ پھر نہ جانے کیا ہوا، اس نے گردن اٹھا کر دیکھا تو وہاں بھوریا چرن موجود تھا۔ عورت کے اور اس کے درمیان باتیں ہورہی تھیں۔ بھوریا چرن عورت کو بتا رہا تھا کہ میں اس کا مفرور قیدی ہوں۔ پھر وہ مجھے اس غار سے نکال لایا اور میں تیورایا ہوا اس کے ساتھ چل پڑا۔ کہانی بے حد طویل ہے مسعود بھیا! وہ مجھے کئی مزاروں پر لے گیا۔ اس نے مجھے اسی مکروہ عمل پر مجبور کیا۔ اب اس نے ایک اور اذیت دینا شروع کردی تھی مجھے۔ میں کہیں بھی ہوتا، جونہی سورج چھپتا، نہ جانے کہاں سے پیلے رنگ کی بے شمار مکڑیاں آجاتیں اور میرے بدن سے چمٹ جاتیں۔ آہ! ان کے زہریلے ڈنک میرے بدن میں آگ روشن کردیتے۔ وہ مجھے کاٹتیں، میرا خون چوستیں اور میں اذیت سے دیوانہ ہوجاتا۔
بھوریا چرن کہتا۔ ’’سوگند کھا کتے! سوگند کھا میرا کام کردے گا۔‘‘ مگر میرا دل نہیں چاہتا تھا۔ وہ مجھے لئے مارا مارا پھرتا رہا اور ایک دن اس اذیت کے سامنے میں نے سر جھکا دیا۔ میں نے کہا۔ ’’بھوریا چرن! میں تمہارا کام کردوں گا مگر میں کیا کروں۔ میں نے اس وقت مزار پاک کی طرف قدم بڑھائے تھے تو میرا دل الٹنے لگا تھا۔‘‘
’’سوگند کھا لے، سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ اور میں نے قسم کھا لی۔ میں نے اس سے وعدہ کیا کہ اب میں اس کاکام کردوں گا۔
’’ایک مسلمان کا وعدہ ہے یہ…!‘‘ بھوریا چرن نے پوچھا۔
’’ہاں…!‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’پگلے…! بلاوجہ اتنی مصیبت اٹھائی۔‘‘ وہ نرمی سے بولا۔
’’اب بتا میں کیا کروں؟‘‘
’’پہلے اپنے آپ کو ٹھیک کر! دیکھ کتنا کمزور ہوگیا ہے ۔ ایک بار پھر شنکھا تجھے یقین لاتا ہے کہ تجھے مہان بنا دے گا۔ سنسار میں جو خواہش کرے گا، وہ پوری ہوجائے گی۔‘‘
’’میری بہن مل جائے گی مجھے…؟‘‘
’’راج کرے گی وہ راج…! بادشاہوں کی بیٹیوں کی طرح بیاہ کرنا اس کا اور اس کے بعد مسعود بھیا! اس نے میرا حلیہ بدل دیا۔ خوب عیش کرائے مجھے پھر وہ مجھے لے کر یہاں آگیا۔ یہاں مجھے وعدے کے مطابق اس کا منحوس پتلا مزار پاک پر پہنچانا تھا۔ آہ! میں بالکل بے بس تھا اس کے سامنے! وہ خونخوار مکڑیاں مجھ سے میرا حوصلہ، میرا صبر چھین چکی تھیں۔ وہ اتنا خوف زدہ کرچکی تھیں مجھے کہ راتوں کو خوابوں میں ان کے تصور سے میں دہشت زدہ ہوجاتا تھا اور اس کے بعد مجھے نیند نہیں آتی تھی۔ اتنا سہم گیا تھا میں ان مکڑیوں سے اور اس کی ہر بات ماننے پر آمادہ تھا۔ غرض یہ کہ اب میں اس کے کام کیلئے تیار ہوگیا تھا اور اس نے مجھ پر عنایتوں کی بارش کردی تھی۔ پھر یہاں پہنچنے کے بعد اس نے مجھ سے کہا کہ میں تھوڑا آرام کروں۔ عرس ہورہا ہے یہاں ان بزرگ کا اس لئے بہت زیادہ رش رہتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ عرس ختم ہوجائے، زائرین چلے جائیں تو اس کے بعد اپنا کام سرانجام دوں۔‘‘
میں تو اس کی ہر خواہش پر آمادہ ہو ہی گیا تھا چنانچہ اس پر بھی میں نے اعتراض نہ کیا اور وقت گزرتا رہا۔ دل خون کے آنسو رو رہا تھا مگر مجبوریاں دامن گیر تھیں۔ اگر دل میں بھی خیال لاتا کہ اس کی خواہش پر عمل نہیں کروں گا تو مکڑیاں آنکھوں کے سامنے کلبلانے لگتی تھیں۔ اچانک ہی ایک دن بھوریا چرن میرے پاس بڑا سہما سہما سا آیا اور کہنے لگا۔
’’سن رے تجھے ایک اور کام بھی کرنا ہے۔ مجبوری ہوگئی ہے۔ یہ مت سمجھنا کہ میں کام پر کام تیرے ذمے ڈالے جارہا ہوں۔ مجبوری ہوگئی ہے۔‘‘
’’کیا بھوریا چرن!‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’وہ پاپی یہاں بھی آگیا ہے۔ وہ کمینہ یہاں بھی پہنچ گیا ہے اور… اور…! وہ ہمارے راستے ضرور روکے گا۔ ضرور روکے گا وہ ہمارے راستے…!‘‘
’’کون ہے وہ…؟‘‘ میں نے حیرت سے سوال کیا۔ بھوریا چرن کے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے اور میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس جیسا منحوس شیطان کسی سے خوف زدہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس نے جھلا کے کہا۔ ’’ارے وہی پاپی… مسعود… مسعود کا بچہ!‘‘
’’وہ کون ہے؟‘‘ میں نے پھر سوال کیا۔
’’کہہ تو دیا دشمن ہے میرا دشمن نمبر ایک…!‘‘
’’مجھے کیا کام کرنا ہے؟‘‘
’’تو اس کو مار دے گا۔ یہ کام تو کرسکتا ہے۔ مار دے اس کو سمجھا؟ مار دے اسے۔‘‘
’’مگر بھوریا چرن…!‘‘
’’اگرمگر کچھ نہیں۔ جو میں نے کہا، وہی کرنا ہے تجھے! مار ڈال اسے۔ لے یہ چھرا لے لے… میں تجھے بتا دوں گا کہ وہ کون ہے۔ رات کو وہ جہاں بھی سوئے، یہ چھرا اس کے سینے میں گھونپ دیجیو اور سن! اگر تو نے یہ کام نہ کیا تو میں… میں تیرا وہ حشر کروں گا کہ تو سوچ بھی نہیں سکتا رے…! دیکھ میں گھبرایا ہوا ہوں، جھلایا ہوا ہوں اور مجبوری میں یہ بات کہہ رہا ہوں تجھ سے! مارنا ہے اسے، ہر قیمت پر مارنا ہے اسے! سمجھا…؟‘‘
’’ٹھیک ہے بھوریا چرن! جب میں ایک گندا کام کرنے پر آمادہ ہوگیا ہوں تو دوسرے گندے کام پر مجھے کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔‘‘
’’ارے کہہ لے جو تیرا من چاہے۔ گندا کہہ لے، اگھور کہہ لے مگر اس کے بعد تجھے جو کچھ مل جائے گا، جیون بھر یاد کرے گا۔‘‘ میں نے افسردگی سے کہا۔
’’ہم جیون کی بات نہیں کرتے بھوریا چرن! ہماری اصل زندگی تو موت کے بعد شروع ہوتی ہے۔ ہمارے مذہب میں یہ چند لمحاتی زندگی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ ہم تو عاقبت کی زندگی کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ یہ زندگی اگر مجھےعیش و عشرت دے بھی دے گی تو ہے ہی کتنی! نہ اپنی مرضی سے آیا، نہ اپنی مرضی سے جائوں گا لیکن اپنی عاقبت خراب کر جائوں گا یہاں رہ کر… خیر اگر تقدیر میں یہی لکھا ہے تو یہی سہی۔‘‘
’’زیادہ عالموں کی سی بات نہ کر! عالموں کا کام عالموں پر چھوڑ دے۔ سنسار میں سب ہی اپنا من پسند جیون گزار رہے ہیں۔ تو بہت مہان بن رہا ہے۔ ارے جو کچھ میں نے کہا ہے، وہی کر اور مسعود بھیا! اسی رات میں نے آپ پر اس چھرے سے حملہ کیا۔ میرے دل میں یہ سب کچھ نہیں تھا۔ میرا دل رو رہا تھا مگر خوف نے مجھے یہ سب کچھ کرنے پر مجبور کردیا اور میں اس گناہ کا مرتکب ہوا مگر ڈرا ہوا تھا، دوسرا وار نہیں کرسکا آپ پر… اور اللہ کے فضل و کرم سے آپ زندہ بچ گئے۔ اس بات پر وہ مجھ سے بہت ناراض ہوا تھا مگر یہ بھی جانتا تھا کہ میرا قصور نہیں ہے پھر اس کے بعد سے وہ مسلسل گھبرایا ہوا ہی رہا۔ کبھی کچھ کہتا تھا، کبھی کچھ! مجھے بھی آپ سے خوف زدہ کرتا رہتا تھا۔ کہتا تھا آپ بہت خطرناک ہیں۔ پھر وہ دوسرا مرحلہ آیا۔ آپ بچ گئے اور وہ اور زیادہ پریشان ہوگیا۔ خود وہ آپ کے قریب نہیں آتا تھا۔ بالآخر اس نے کہا کہ اب میں آپ کا خیال چھوڑ دوں اور اس کا کام کردوں چنانچہ یہ سب کچھ ہوا۔ یہ سب کچھ ہوگیا آہ… یہ میری کہانی ہے مسعود بھائی! یہ میری کہانی ہے۔‘‘
میں خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ وہ مجسم آنسو تھا۔ بہت تھوڑا سا فرق تھا اس کی اور میری داستان میں… ہم دونوں ایک ہی شیطان کے
تھے۔ مجھ سے زیادہ اس کا درد اور کون محسوس کرسکتا تھا۔ کچھ دیر کے بعد میں نے کہا۔ ’’اب تم کیا چاہتے ہو اکرام…؟‘‘
’’کیا بتائوں مسعود بھائی! کیا کہوں۔‘‘
’’تمہاری بہن کا کیا نام تھا؟‘‘
’’ثریا!‘‘ اس نے جواب دیا اور میرے دل میں پھر کسک ہونے لگی۔ میرا خیال درست ہی نکلا تھا۔ ثریا ہی تھی اور اس کتے بھوریا چرن نے اس کی زبان کاٹ دی تھی۔
’’تمہارے دل میں کوئی خیال تو ہوگا اکرام…!‘‘
’’میری کہانی سن لی ہے آپ نے مسعود بھائی! بہن کے سوا اور کیا ہے میری زندگی میں مگر میرا گھر ہی کھو گیا ہے۔‘‘
’’بہن کو تلاش کرنا چاہتے ہو؟‘‘
’’ہاں…!‘‘
’’اس کے بعد کیا کرو گے؟‘‘
’’اللہ جانے مگر کیا وہ مل سکتی ہے؟‘‘
’’اللہ کیلئے کیا مشکل ہے۔‘‘
’’مگر بھوریا چرن…!‘‘
’’وہ کچھ نہیں ہے اکرام! شیطان کو ایک حد تک قوتیں دی گئی ہیں۔ اس سے آگے وہ کچھ نہیں ہے۔ تم اس کی فکر مت کرو۔‘‘
’’آہ…! خدا مجھے اس سے نجات دے دے۔ آہ میری بہن مجھے مل جائے۔ بس، اس کے سوا مجھے کچھ نہیں چاہئے۔‘‘
’’انشاء اللہ ایسا ہوجائے گا۔‘‘
’’مسعود بھیا! ایک بات پوچھوں؟‘‘
’’پوچھو…!‘‘
’’آپ کون ہیں؟‘‘
’’تمہیں میرا نام معلوم ہے؟‘‘
’’وہ تو ہے مگر… کیا آپ اس کے دشمن ہیں؟‘‘
’’ہاں! کائنات میں مجھے صرف اس سے دشمنی ہے اور تم دیکھ لینا اس کا خاتمہ میرے ہی ہاتھوں ہوگا۔‘‘
’’آپ کی اس سے دشمنی کیوں ہوئی؟‘‘
’’وہ کافر ہے، کالے جادو کا ماہر ہے۔ میں اللہ کے فضل سے مسلمان ہوں اور اس کا شیطانی علم ختم کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’آپ عالم ہیں…؟‘‘
’’نہیں اکرام! جسے علم مل جائے، اس سے زیادہ خوش نصیب اس کائنات میں اور کون ہوسکتا ہے۔ بس مجھے کچھ سہارے حاصل ہیں، انہی پر چل رہا ہوں۔‘‘
’’وہ… وہ آپ سے ڈرتا ہے، بہت ڈرتا ہے وہ آپ سے! آپ کے سائے سے بھی بھاگتا ہے مگر اب وہ میری تاک میں رہے گا۔ مجھے نہیں چھوڑے گا وہ…! آپ کب تک مجھے اس سے بچائیں گے؟‘‘
’’پہلے بھی تم سے کہہ چکا ہوں اکرام! تحفظ کرنے والی ذات اللہ کی ہے۔ وہی سب کا محافظ ہے۔ ان شاء اللہ وہ تمہیں اس کے شر سے محفوظ رکھے گا۔ وہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ دنیا ایک شیطان کے وجود سے پاک رہے گی۔ نماز پڑھتے ہو؟‘‘
’’نہیں…!‘‘ اس نے شرمندگی سے سر جھکا کر کہا۔ ’’آج سے شروع کردو۔ دن میں پانچ مرتبہ تم اللہ کے حضور حاضری دو گے اور اس شیطان کو اس کا احساس رہے گا پھر وہ تمہارے قریب آنے سے کترائے گا۔‘‘
’’مجھے آپ کی رہنمائی چاہئے۔‘‘
’’اللہ تمہاری رہنمائی کرے۔‘‘ میں نے کہا۔ اس کے بعد میں نے اسے آرام کرنے کے لئے کہا تھا مگر اکرام خوف سے ساری رات نہیں سویا تھا۔ وہاں حمام بنے ہوئے تھے۔ میں نے اسے غسل کرنے کیلئے کہا۔ غسل سے فراغت ہوئی ہی تھی کہ فجر کی اذان ہوئی اور اس کے بعد وہاں موجود نمازی نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے، ہم دونوں بھی صف میں شامل ہوگئے تھے۔ نماز سے فراغت حاصل کرنے کے بعد میں اسے ساتھ لے کر مزار شریف سے باہر آگیا۔ عرس اختتام کو پہنچ رہا تھا، زائرین کی واپسی شروع ہوگئی اور کافی لوگ کم ہوگئے تھے، اس وقت کی نسبت جب میں یہاں آیا تھا۔ میں نے ابھی تک اپنے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ یہاں آنے کا مقصد ایک حد تک میرے علم میں آچکا تھا۔ جو واقعات پیش آئے تھے، ان کے تحت یہی سوچ سکتا تھا کہ مزار پاک کی بے حرمتی سے روکنے کیلئے مجھے یہاں بھیجا گیا ہے لیکن ابھی تک واپسی کا کوئی اشارہ نہیں ہوا تھا اور میرے لئے کسی بھی شکل میں یہ ممکن نہیں تھا کہ میں واپس چل پڑوں۔ جہاں تک ثریا کے تصور کا تعلق تھا تو اس وقت میں اپنی تمام دعائوں میں اس دعا کو اولیت دیتا تھا کہ میرے دل و دماغ سے اس کا تصور مٹ جائے۔ میں تو خود ہوائوں کا مسافر تھا۔ قدم نہ زمین پر تھے اور نہ آسمان پر…! بس خلا میں کٹی ہوئی پتنگ کی مانند ڈول رہا تھا۔ کہیں بھی گر سکتا تھا۔ ذرا سی لغزش ایک بار پھر مجھے پستیوں کے انہی گڑھوں میں دھکیل سکتی تھی جن میں گرنے کی اب سکت باقی نہیں رہی تھی۔ بے چارہ اکرام میری ہی طرح مصیبت کا شکار تھا مگر میں اسے کیا بتاتا کہ میں کیسی کیسی مصیبتوں سے گزر چکا ہوں۔ اسے تو ان کے عشر عشیر کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑا لیکن خدا کا شکر تھا کہ اس نے ہی مجھے یہ قوت بخشی تھی کہ میں اب تک زندگی سے لڑ رہا تھا۔ جیب میں ہاتھ ڈال کر اپنا وظیفہ تلاش کیا تو یہ دیکھ کر آنکھیں حیرت و خوشی سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ آج چار روپے کی جگہ میری جیب سے آٹھ روپے برآمد ہوئے تھے۔ اس احساس سے دل سرشار ہوگیا کہ میرے اقدام کو برا نہیں تصور کیا گیاہے اور ازراہ کرم مجھے اکرام کا وظیفہ بھی عطا کردیا گیا ہے۔ دل بڑھ گیا۔ گویا میرا عمل ناپسندیدہ نہیں رہا ہے۔ ایک جگہ اکرام کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کیا اور ناشتے سے فراغت ہوئی تھی کہ عرس کے خاتمے کا اعلان ہونے لگا۔ سجادہ نشین نے زائرین کو واپسی کی اجازت دے دی تھی اور عرس کی تقریبات مکمل ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس کا مقصد تھا کہ اب میری بھی واپسی ہوجائے۔ اکرام کو ساتھ رہنے کی اجازت ان آٹھ روپے کی موجودگی سے مل گئی تھی چنانچہ اکرام نے ہی مجھ سے سوال کردیا۔
’’مسعود بھائی! اب کیا کریں گے ہم…؟‘‘
’’تم کیا چاہتے ہو؟‘‘
’’جونا پوری جانا چاہتا ہوں مگر آپ کے ساتھ!‘‘
’’ٹھیک ہے، چلتے ہیں۔‘‘ اور اس کے بعد ہم نے جونا پوری کے متعلق معلومات حاصل کیں۔ ایک لاری یہاں سے جونا پوری بھی جاتی تھی۔ تین تین روپے کرایہ تھا۔ میں ڈیڑھ روپیہ خرچ کرچکا تھا ناشتے میں، آٹھ آنے موجود تھے میرے پاس۔ باقی چھ روپے کے ٹکٹ خرید لئے اور ہم لاری میں بیٹھ کر جونا پوری چل پڑے۔ میں تھوڑی سی الجھن کا شکار تھا۔ اصل بات اسے نہیں بتا سکتا تھا۔ غرض یہ کہ جونا پوری پہنچ گئے اور وہ بھی نشاندہی کرتا ہوا اپنے محلے میں جا پہنچا۔ وہاں پہنچنے کے بعد اس کے منہ سے مسرت بھری آواز نکلی۔
’’مسعود بھیا! وہ ہے… وہ ہے میرا گھر! آہ میں اس شیطان کے چنگل سے آزاد ہوگیا۔ آہ! وہی میرا گھر ہے۔‘‘ وہ دیوانہ وار اپنے گھر کی جانب دوڑنے لگا۔ گھر کے دروازے پر زنجیر لگی ہوئی تھی۔ میں جانتا تھا کہ ثریا اسے اس گھر میں نہیں ملے گی لیکن اس کے احساس کی تکمیل کیلئے میں نے خاموشی ہی اختیار کررکھی تھی۔ زنجیر کھول کر وہ دیوانہ وار اندر گھس گیا اور زور زور سے بہن کو آواز دینے لگا۔ میں دروازے پر ہی کھڑا ہوا تھا۔ کچھ لوگ آگئے اس کی آوازیں سن کر انہی میں سے ایک معمر بزرگ نے اندر داخل ہوکر اسے پکارا۔
’’اکرام… آکرام… آگیا تو کہاں غائب ہوگیا تھا دیوانے…! کہاں چلا گیا تھا بہن کو چھوڑ کر…؟‘‘
’’چچا…! ثریا کہاں ہے؟ ثریا کہاں ہے چچا!‘‘ اکرام نے دیوانہ وار پوچھا اور معمر شخص کی گردن جھک گئی۔ اکرام پھر چیخا۔
’’چچا! میں اسے آپ کے حوالے کرکے گیا تھا، کہاں چلی گئی وہ… کہاں ہے وہ…؟‘‘ معمر شخص نے آہستہ سے کہا۔
’’مجھے افسوس ہے اکرام…! ہم اس کی حفاظت نہ کرسکے۔‘‘
’’کیا کہہ رہے ہیں آپ چچا؟ خدا کیلئے جلدی بتایئے مجھے، کیا ہوا…؟‘‘
’’تو تو واپس ہی نہیں آیا۔ ہم تیرا انتظار کرتے رہے۔ سب لوگ اس کی خبرگیری کرتے تھے مگر ایک صبح جب شبراتن اس کے گھر گئی تو چیختی ہوئی باہر نکل آئی۔ اس نے بتایا کہ ثریا کے منہ سے خون بہہ بہہ کر سینے پر جم چکا ہے۔ اس کے ہاتھوں کی انگلیاں بھی کٹی ہوئی ہیں اور وہ بے ہوش پڑی ہوئی ہے۔ سارے کے سارے دوڑ پڑے۔ اسے اٹھا کر ڈاکٹر کی دکان پر لے گئے۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کی زبان کاٹ دی گئی ہے اور اس کی انگلیوں کو بھی چھری سے کاٹ دیا گیا ہے۔ نجانے کس ظالم نے یہ کام کیا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ یہاں اس کا علاج نہیں ہوسکتا، شہر


جانا پڑے گا اسے! محلے والوں نے آپس میں چندہ کیا اور اسے لے کر شہر چل پڑے۔ شہر کے ایک اسپتال میں اسے داخل کردیا گیا۔ چھ سات دن تک تو شبراتن اس کے ساتھ رہی۔ خیراتی اسپتال تھا۔ ہم نے اسپتال والوں سے بات کی اور اسپتال والوں نے کہا کہ اس کا علاج تو بہت عرصے تک کیا جائے گا۔ بھیا! سچی بات ہے کہ ہم بھی غریب لوگ تھے۔ تو نے تو واپس مڑ کے ہی نہیں دیکھا۔ جب تک ہوسکا، اس کی خبرگیری کرتے رہے۔ آخری بار جب رشید خان شہر جاکر اس کی خبر لینے گئے تو پتا چلا کہ وہ اسپتال میں نہیں ہے، کہیں چلی گئی تھی۔ وہ وہاں سے کسی کے ساتھ چلی گئی تھی۔ کچھ اور پتا نہیں چل سکا بھیا…! بس یہ ہے بیچاری ثریا کی کہانی!‘‘
اکرام پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا۔ ایسا بلک بلک کر رو رہا تھا وہ کہ دیکھنے والوں کی آنکھوں سے بھی آنسو رواں ہورہے تھے۔ بہت سے لوگ سسکیاں لے رہے تھے اور میں خاموش ایک کونے میں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ بعد کی کہانی میرے علم میں تھی اور میں اپنے آپ سے سوال کررہا تھا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہئے۔ میں سوچوں میں گم رہا اور اکرام دل کی بھڑاس نکالتا رہا۔ محلے والے ہمدردی ظاہر کررہے تھے مگر اکرام کو قرار نہیں تھا۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ وہ آرام کریں، میں اکرام کو سنبھال لوں گا۔ ایک ایک کرکے لوگ چلے گئے۔ اکرام سسکتا ہوا بولا۔ ’’اس نے یہی دکھایا تھا مجھے مسعود بھیا! جو کچھ اس نے مجھے دکھایا تھا، وہی سچ تھا۔ آہ میری پیاری بہن… کیا ہوگیا اسے۔ آہ وہ گونگی ہوگئی مسعود بھیا، اب کیا کروں… کیا اب بھی مجھے جینا چاہئے؟‘‘
’’جینا تو ہے تمہیں اکرام!‘‘
’’کس کیلئے جیوں، کیا کروں جی کر…؟‘‘
’’تو کیا خودکشی کرو گے؟‘‘
’’اب تو یہی کرنا چاہئے۔ آہ اب تو…؟‘‘
’’توبہ کرو اکرام! توبہ کرو، خودکشی حرام ہے۔‘‘
’’پھر میں کیا کروں بھیا، بتائو میں کیا کروں؟‘‘
’’ثریا کو تلاش کرنا ہے تمہیں!‘‘
’’کہاں تلاش کروں؟ آہ میں اسے کہاں تلاش کروں؟‘‘
’’صبر کرو اللہ سے روشنی طلب کرو۔ وہ سب کو روشنی دکھاتا ہے۔‘‘ بمشکل میں نے سمجھایا بجھایا۔ محلے والے پرسش احوال کو آرہے تھے۔ کچھ اس کیلئے کھانے پینے کی اشیاء بھی لائے تھے۔ وہ حتیٰ المقدور اس کی دلجوئی کررہے تھے۔ ہم نے تین دن وہاں قیام کیا۔ اکرام باقاعدگی سے نماز پڑھنے لگا تھا، وہ تہجد بھی پڑھنے لگا تھا۔ اکثر اس کی آنکھوں میں آنسو نظر آتے تھے۔ گھنٹوں دعا کیلئے ہاتھ پھیلائے بیٹھا رہتا تھا۔ مجھے علم تھا کہ وہ بہن کی سلامتی کیلئے دعائیں کرتا ہے۔ اسے اس کیفیت میں دیکھ کر میرا سینہ بھی دکھنے لگتا تھا۔ میری بھی بہن تھی، بھائی تھا۔ ماں، باپ تھے، بھرا کنبہ تھا، بھرا گھر تھا لیکن اب کچھ بھی نہیں تھا اور… اور جو کچھ تھا، اس کے بارے میں جاننے کی مجھے اجازت نہیں تھی۔ ان تین دنوں میں مجھے آٹھ روپے روز ملتے رہے تھے۔ کھانے پینے کی اشیاء محلے والے بدستور لا دیتے تھے۔ یہ پیسے جمع ہوگئے۔ میں نے اکرام سے کہا۔
’’اکرام! یہاں رکو گے؟ میرے ساتھ چلو گے؟‘‘
’’مجھے اپنے ساتھ رکھو گے مسعود بھیا…؟‘‘
’’ہاں…! اس وقت تک جب تک تمہاری بہن تمہیں مل جائے۔‘‘
’’وہ مل جائے گی مسعود بھیا…؟‘‘
’’ان شاء اللہ!‘‘ میں نے کہا۔ وہ خوش ہوگیا اور بولا۔ ’’آپ کہتے ہیں تو وہ ضرور مجھے مل جائے گی۔‘‘
ہم نے تیاریاں کیں اور اس کے بعد میں نے خورجہ جانے کا فیصلہ کرلیا۔ ثریا، گنگا دھر کے پاس تھی مجھے علم تھا مگر میں نے مصلحتاً اکرام کو اس بارے میں نہیں بتایا تھا۔ خدا کرے وہ محفوظ ہو۔ وقت سے پہلے آس دلا کر اسے ہیجان میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ خورجے کے بارے میں سن کر اکرام نے پوچھا۔ ’’خورجہ کس کام سے جارہے ہیں مسعود بھیا…!‘‘
’’وہاں کچھ کام ہے۔‘‘ میں نے کہا اور وہ خاموش ہوگیا۔ بھوریا چرن کا پھر کوئی نشان نہیں ملا تھا اور مجھے کچھ اطمینان ہوا تھا مگر جانتا تھا کہ وہ زندہ ہے اور وار کرنے سے نہیں چوکے گا۔ میری وجہ سے اسے پھر ناکام ہونا پڑا تھا اور اس ناکامی نے اسے دیوانہ کردیا ہوگا۔ چنانچہ اس سے ہوشیار بھی تھا۔ ہم خورجے پہنچ گئے۔ ایک سرائے میں قیام کیا اور پھر میں نے گنگا دھر جی کے بارے میں معلومات شروع کردیں۔
’’کیا کام کرتے ہیں گنگا دھر جی…؟‘‘
’’یہ تو مجھے نہیں معلوم، ان کی بیٹی رکمنی ڈاکٹر ہے اور بیٹا…!‘‘
’’خورجہ چھوٹی سی جگہ تو نہیں ہے۔ کچھ اتا پتا ہوتا تو…!‘‘ مگر کوئی اتا پتا نہیں تھا میرے پاس! بڑی غلطی ہوگئی تھی۔ ان سے پتہ تو پوچھ لیتا مگر اس وقت احساسات مختلف تھے۔ ان سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا تھا کیونکہ ثریا ان کے پاس تھی اور مجھے سرزنش کی گئی تھی۔ کیا پتا تھا کہ اسے اس طرح تلاش کرنا پڑے گا۔ واقعی خورجہ چھوٹا نہیں تھا۔ ہم گنگا دھرجی کو تلاش کرتے پھرے۔ کہیں سے پتا نہیں چل رہا تھا۔ میری نگاہیں سڑکوں پر چلتے ان لوگوں کا جائزہ لے رہی تھیں مگر نہ دھرما، نہ رام جی…! کوئی بھی نظر نہیں آیا تھا۔ اب کیا کروں… کیا کرنا چاہئے۔
’’کوئی بہت ضروری کام تھا اس سے؟‘‘ اکرام پوچھتا۔
’’ہاں…!‘‘
اس شام خورجے کے ایک تنگ بازار سے گزر رہا تھا کہ کسی نے شانے پر ہاتھ رکھ دیا اور ایک آواز ابھری۔ ’’اماں تم…! تم یہاں کہاں…؟‘‘
چونک کر پیچھے دیکھا اور پہچان لیا۔ کمال الدین پہلوان تھے۔ بابا شاہجہاں کے مزار پر انہوں نے مجھ پر دو احسان کئے تھے۔ ’’اماں! پہچانا ہمیں یا نہیں میاں صاحب…؟ وہ بابا جی کے مزار پر… ایں! یہ تو وہی لونڈا ہے جس نے تم پر وار کئے تھے گدے سے!‘‘ اس بار کمالے پہلوان نے اکرام کو دیکھ کر کہا۔ میں نے کمالے پہلوان کو سلام کیا اور کہا۔ ’’کیوں نہیں پہلوان صاحب! پہچان لیا میں نے۔‘‘
’’اماں! خورجہ کب آئے؟‘‘
’’تین چار دن ہوگئے۔‘‘
’’اور ہمارے پاس نہیں آئے اماں! قسم اللہ کی حد ہوگئی بے مروتی کی اور یہ بات سمجھ میں نہیں آئی پیارے! دشمن کو گلے لگائے لگائے پھر رہے ہو۔‘‘
’’دوستوں کو سب گلے لگاتے ہیں پہلوان صاحب! مزا دشمنوں کو گلے لگانے میں ہے۔‘‘ میں مسکرا کر بولا۔
’’ہائے… ہائے… ہائے! لاکھ روپے کی بات کہہ دی۔ ایمان کی قسم میاں! اللہ والوں کے درجے کو کون پہنچ سکتا ہے۔ ہم نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ پہنچے ہوئے ہو مگر ایک شکایت ہے قسم اللہ کی!‘‘
’’کیا پہلوان صاحب…؟‘‘
’’خورجے آئے اور ہمیں نہ پوچھا کسی سے حالانکہ دعوت دے کر آئے تھے۔‘‘
’’آپ کی بے حد مہربانی ہے۔ ایک کام سے خورجے آیا تھا۔‘‘
’’میاں! سارے کام ہوں گے مولا کے فضل سے۔ چلو ہمارے ساتھ! ایمان کی قسم اب نہیں چھوڑنے کے۔‘‘
’’کمالے پہلوان…!‘‘ میں نے کچھ کہنا چاہا۔
’’نہ… بالکل نہ! جو کہنا ہے گھر چل کر کہنا۔‘‘ وہ کچھ اس طرح پیچھے پڑے کہ ایک نہ چلنے دی۔ مجبوراً ٹھنڈی سانس لے کر خاموش ہوگیا۔ کمالے پہلوان ہم دونوں کو اپنے گھر لے گئے۔ صاحب حیثیت معلوم ہوتے تھے، گھر بھی بڑا تھا، مہمان خانہ الگ تھا۔ اسی سے متصل اکھاڑہ بنا ہوا تھا۔ ایک بڑے سے کمرے میں لے پہنچے۔ ’’یہ تمہاری قیام گاہ ہے میاں صاحب!‘‘
’’ہم آپ کے حکم سے یہاں آگئے ہیں۔ کچھ دیر رک کر چلے جائیں گے۔‘‘
’’میاں! بڑی مشہور کہاوت ہے کہ مہمان آئے اپنی مرضی سے ہے، جائے کمالے پہلوان کی مرضی سے ہے۔ ابھی تو تم سے بڑی برکتیں سمیٹنی ہیں میاں صاحب! چھری تلے دم لو۔ تم تو ایسے بھاگ رہے ہو جیسے بجھار پیچھے لگا ہو۔‘‘
’’ہمارا سامان سرائے میں ہے۔‘‘
’’چمن خان آتے ہوں گے، اٹھا لائیں گے۔‘‘
’’سرائے کا مالک دے دے دگا؟‘‘
’’کمالے پہلوان کا نام لیں گے چمن خان، میاں صاحب! آپ کی دعا سے اللہ نے بڑی بنا رکھی ہے۔‘‘ غرض کمالے پہلوان کسی طور آمادہ نہ
ہوئے۔ مجبوراً ہتھیار ڈالنے پڑے۔ جگہ بہت عمدہ تھی۔ کمالے پہلوان سرائے کا نام پوچھ کر نکل گئے۔ اکرام خاموش تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ چائے کے ساتھ واپس آئے لیکن ساتھ میں اتنا کچھ لائے تھے کہ دیکھ کر آنکھیں پھیل گئیں۔ تین سینیاں بھری ہوئی تھیں جن میں مٹھائی، پھل اور نہ جانے کیا کیا تھا۔
’’ارے یہ آپ نے کیا کیا…؟‘‘
’’اماں مولا قسم! ہم نے کچھ نہیں کیا، اللہ نے تمہارے لئے بھجوایا ہے۔وہ ایک لونڈے نے شاگردی کی ہے، بڑے آدمی کا لونڈا ہے، وہی سب کچھ لایا ہے۔ کرم ہے مولا کا…!‘‘ اس کے بعد کمالے پہلوان کا اصرار کہ سب کچھ کھائیں۔ ناک میں دم کردیا۔ نہ کھانے سے ناراض ہونے لگے۔ ناک تک ٹھونسنا پڑا۔ چمن میاں سرائے سے سامان اٹھا لائے۔ بدقسمتی سے رات ہوگئی۔ بدقسمتی سے اس لئے کہ پھر کھانے کا وقت آگیا تھا۔ کمالے پہلوان کھانے کے دیوانے تھے اور کھلانے کے شوقین! ان کا خیال تھا کہ تکلف کررہے ہیں۔ نہ جانے کس طرح پیچھا چھوٹا۔ رات کو نومولود کو اٹھا لائے۔ ’’میاں صاحب! دم کردو، تم اللہ والے ہو۔‘‘
’’میں گناہگار بندہ ہوں کمالے پہلوان! غلط فہمی میں نہ پڑو۔‘‘
’’سب پتا ہے مولا قسم ہمارے کو! جو دشمنوں کو گلے لگا لے، وہ کیا ہوسکتا۔ آہا ہاہا…! کیا لاکھ روپے کی بات کہہ دی ہے تم نے میاں صاحب!‘‘ یہ مرحلہ بھی گزرا اور پھر دوسری صبح ان سے مدعائے دل کہا۔
’’میاں! ہمیں ایک صاحب کی تلاش ہے پہلوان صاحب!‘‘
’’نام بولو۔‘‘
’’گنگا دھر ہے ان کا نام، بیٹے کا نام ماتھر ہے۔‘‘ میں نے بتایا۔
’’سمجھ گئے۔ ویسے ایک بات کہیں میاں صاحب! خورجے میں کوئی پچاس گنگا دھر ہوں گے مگر ہم اس لئے سمجھ گئے کہ بابا جی کے مستانے وہی گنگا دھر ہیں جن کا تم نام لے رہے ہو۔ شاہجہاں کے مزار پر ملے تھے نا…؟‘‘
’’ہاں…!‘‘
’’بس! اسی لئے سمجھ لیا ہم نے۔ کیا کام ہے ان سے…؟‘‘
’’ملنا ہے۔‘‘
’’دوپہر کا کھانا کھا کر چلیں گے۔ ابھی کچھ لونڈوں کو زور کرانا ہے۔‘‘
’’بس! پتہ بتا دیں۔‘‘
’’جلدی ہے کیا؟‘‘
’’ہاں…!‘‘
’’شکور کو بھیج دیں تمہارے ساتھ؟‘‘
’’کون شکور؟‘‘
’’شاگرد ہے اپنا میاں صاحب! سب سے کام کا لونڈا ہے۔ کھٹیا کلی اور کلاجنگ تو ایسی مارتا ہے کہ پلک نہ جھپکے۔‘‘
’’وہ پتہ جانتا ہے؟‘‘
’’سمجھا دیں گے اسے!‘‘
’’عنایت ہوگی آپ کی!‘‘ میں نے عاجزی سے کہا۔ کمالے پہلوان نے اپنے کلاجنگ کے ماہر شاگرد کو بلایا اور بولا۔ ’’شکورے چندا! ذرا میاں صاحب کو گنگا دھر کے گھر لے جا۔ دیکھ، چھپی کی نگلیا دیکھی ہے نا…؟‘‘
’’ہاں استاد!‘‘
’’بس! اس کے پیچھے دھنیا رام کا کوٹھا ہے، برابر کا گھر گنگا دھر جی کا ہے۔‘‘
’’وہ ڈاکٹرنی کے تائو؟‘‘ شکورے نے پوچھا۔
’’بس… بس، وہی۔‘‘ کمالے پہلوان نے کہا اور شکورے تیار ہوگیا۔ میں نے اکرام کو ساتھ لینا مناسب نہیں سمجھا تھا۔
وہ کسی قدر پریشانی سے بولا۔ ’’کتی دیر میں آپ کی واپسی ہوگی مسعود بھائی! اور تو کوئی پریشانی نہیں بس پہلوان صاحب کھلا کھلا کر ہلاک کردیں گے۔ آپ دیکھ رہے ہیں بس رات کو چند گھنٹے مل گئے تھے ورنہ ہر تھوڑی دیر کے بعد کچھ نہ کچھ آرہا ہے۔ ناشتے ہی نے حلیہ خراب کردیا ہے۔‘‘ میں ہنسنے لگا۔ میں نے وعدہ کیا کہ زیادہ دیر نہں لگائوں گا۔ بس دل نے کہا تھا کہ اسے ساتھ نہ لے جائوں، خدا جانے کیا صورتحال پیش آئے۔ ہاں وہاں سے روانہ ہوکر جب کافی دور نکل آیا تو دل کئی بار بری طرح دھڑکا۔ میں نے استغفار پڑھی۔ خود کو سمجھایا، دل کو سمجھایا۔ بیکار ہے اسے دل میں بسانا بیکار ہے۔ میں انسان ہوں ہی کہاں! میں تو بس ایک گناہ ہوں۔ زندگی کی جتنی سانسیں باقی ہیں، بس کفارہ ہیں، صرف کفارہ…! اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ ثریا کے بارے میں گنگا دھر جی کو بتا دوں گا کہ وہ کون ہے۔ بس ضروری باتیں بتا دوں گا۔ تفصیل کی کیا ضرورت ہے۔ کہہ دوں گا کہ اس کا بھائی موجود ہے۔ یہ بھی کہوں گا کہ ان بے چاروں کو کہیں رکھوا دیں بلکہ اس کے لئے کمال الدین پہلوان زیادہ موزوں ہیں۔ (جاری ہے)

Latest Posts

Related POSTS