Kala Jadu | Episode 63

1589
میں نے فوراً مداخلت کی۔ ’’جان علی کی مسجد کا کیا قصّہ ہے؟‘‘
’’میاں پرانی مسجد تھی۔ مول چند کی زمینوں پر تھی سارا کیا دَھرا ان سسرے انگریزوں کا تھا۔ جگہ جگہ فساد کھڑے کر گئے۔ ورنہ وہ زمینیں تو اصل میں جان علی کی تھیں۔ لاولد مر گئے، زمینیں سرکار کی تحویل میں چلی گئیں بعد میں مول چند کے پرکھوں نے انگریزوں کی چاپلوسی کر کے زمینیں اپنے نام کرا لیں۔ مسجد بھی انہیں میں آ گئی۔ وہ تو خیر پہلے ہی مسلمانوں سے دبے ہوئے تھے، مل جل کر رہتے تھے مگر بعد میں ان سسروں کے پر پرزے نکل آئے۔ ریاست علی خان نے کہا تھا کہ وہ مسجد کی مرمت کرانا چاہتے ہیں، مول چند نے صاف منع کر دیا۔ مسجد پر اللہ کا سایہ ہے، سنا ہے کہ مول چند نے کئی بار اسے شہید کرنا چاہا مگر میا مر گئی سسرے کی، وہاں جن رہتے ہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو وہ کبھی کی صفائی کرا چکا ہوتا…؟‘‘
’’یہ مسجد کس طرف ہے۔‘‘ میں نے پوچھا۔
’’یہ کوئی آدھے کوس کا فاصلہ ہوگا۔ کربلا کے پیچھے ہی تو ہے۔‘‘
’’یہاں سے راستہ جاتا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ہاں پیچھے سے نکل کرسیدھے چلے جائو۔ کانسی کاکا کے کھیت آتے ہیں، اس کے بعد مول چند کی حد شروع ہو جاتی ہے۔ مسجد وہیں سے نظر آ جاتی ہے۔‘‘ لوگوں نے یونہی سرسری انداز میں مجھے بتا دیا تھا مگر میں نے پتہ ذہن نشین کر لیا۔
مسلمان اپنے طور پر ہوشیار تھے اور ہندو اپنے طور پر… اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں، میں نے جو کچھ دیکھا تھا اس سے صورت حال کا اندازہ ہو جاتا تھا مگر کرفیو نہیں تھا۔ پولیس بس انتظامی امور پر مستعد تھی۔ دوپہر کو میں نے اکرام سے کہا۔ ’’اکرام، باہر جانے کی ہمت ہے۔‘‘
’’کہاں؟‘‘
’’بس ایسے ہی باہر نکل کر بتائوں گا کہاں جانا ہے۔‘‘
’’آپ چل رہے ہیں تو ٹھیک ہے۔‘‘
’’خاموشی سے نکلنا ہوگا ورنہ یہ لوگ نہیں جانے دیں گے۔‘‘
’’اس میں تو ہم ماہر ہوگئے ہیں مسعود بھیّا۔‘‘ اکرام مسکرا کر بولا۔ دوپہر کے کھانے کےبعد ہم آنکھ بچا کر نکل آئے۔ مکانوں کی آڑ لیتے ہوئے ہم عقبی حصے میں آئے۔ تھوڑا سا میدان تھا پھر کھیت پھیلے ہوئے تھے۔ میدان کو دوڑ لگا کر عبور کیا اور کھیتوں میں داخل ہوگئے۔ پورے پکے ہوئے جوار کے کھیت تھے۔ بالیں پیلی ہو رہی تھیں اور جوار کے بھٹّے لٹکے پڑ رہے تھے۔ ہم چونکہ تیز رفتاری سے ان کے درمیان سے نکل رہے تھے اس لیے جواری ہل رہی تھی۔ آدھا کھیت طے کرلیا تھا کہ اچانک دُور سے آواز سنائی دی۔
’’ارے ہیرا۔ داھو، بھیم جی… دوڑو رے۔ مسلّے گھس آئے، کھیت جلانے آئے ہیں دوڑو رے…!‘‘
’’کہاں… کہاں… کہاں؟‘‘ بہت سی آوازیں اُبھریں اور سچ مچ اس وقت رونگٹے کھڑے ہوگئے۔
’’بھاگو اکرام۔‘‘ میں نے اکرام کی کلائی پکڑی اور ہم بے تحاشہ دوڑنے لگے لیکن ہمارے پیچھے بھی جواری بری طرح ہل رہی تھی اور کئی بلّموں کی تیز انیاں چمک رہی تھیں جن کا فاصلہ کم سے کم ہوتا جا رہا تھا…‘‘
بلّموں کی چمکتی ہوئی انیوں سے اندازہ ہوتا تھا کہ ان کی تعداد دس بارہ سے کم نہیں ہے۔ وہ برق رفتاری سے دوڑ رہے تھے۔ ہم کوئی چال بھی نہیں چل سکتے تھے کیونکہ فاصلہ بہت کم رہ گیا تھا اور وہ ہلتی ہوئی جوار کی بالیوں سے ہماری صحیح سمت کا اندازہ لگا چکے تھے۔ اگر رُک کر رُخ بدلنے کی کوشش کرتے تب بھی جوار ہلتی اور وہ اس طرف مڑ جاتے۔ وہیں کھڑے رہتے تو وہ سر پر پہنچ جاتے اور سوچے سمجھے بغیر ہمیں گود کر رکھ دیتے اس لیے بھاگتے رہنے کے سوا چارہ نہیں تھا اور ہم جی توڑ کربھاگ رہے تھے۔ اچانک کھیتوں کا سلسلہ ختم ہوگیا، سامنے ہی ایک چوڑا نالہ بہہ رہا تھا جو دُوسری سمت کے علاقے کی حدبندی کرتا تھا۔ میں نے اور اکرام نے دوڑتے ہوئے نالہ عبور کیا۔ وہ لوگ بھی آگے آ گئے تھے پھر ان میں سے کسی کی آواز سنائی دی۔
’’وہ رہے… وہ ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے بلم، نیزوں کی طرح پھینک کر مارے مگر نشانہ درست نہیں لگا سکے تھے۔ کئی بلم ہم سے آگے سنسناتے ہوئے نکل گئے۔ اسی وقت مجھے مسجد کے بوسیدہ گنبد نظر آئے۔ مسجد زیادہ فاصلے پر نہیں تھی اور ہمارا رُخ اس کی جانب تھا۔ اکرام کو کوئی پروا نہیں تھی وہ بس میرا ساتھ دے رہا تھا۔ اب چونکہ کھلا علاقہ تھا اور وہ ہمیں صاف دیکھ رہے تھے چنانچہ انہوں نے بلم پھینک کر مارنے شروع کر دیئے تھے لیکن وہ ہمارے دائیں بائیں سے نکلتے رہے اورہم مسجد کے بڑے دروازے کے قریب پہنچ گئے۔ دروازے کے عین سامنے لکھوری اینٹوں کا ایک ڈھیر پڑا ہوا تھا جسے پھلانگ کرہم اندر گھس گئے اور پھر میں رُک گیا۔ مجھے یہاں آنے کی ہدایت کی گئی تھی اور میں یہاں آ گیا تھا۔ اس کے بعد مجھے کوئی ہدایت نہیں تھی چنانچہ اب میری جدوجہد ختم ہو جاتی تھی اور مزید ہدایت کے بغیر میں کچھ کرنا بھی نہیں چاہتا تھا۔ اگر وہ میری زندگی کے دُشمن ہیں اورمجھے اور اکرام کو ہلاک کر دینا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے اللہ کو یہی منظور ہے تو یہی سہی۔
آوازیں معدوم ہوگئیں۔ وہ رُگ گئے تھے۔ شاید وہ مسجد کے قریب آنے کی ہمت نہیں کر رہے تھے۔ ویسے بھی جان علی کی اس مسجد کے بارے میں روایت تھی کہ یہاں جنّوں کا بسیراہے۔ ممکن ہے اس روایت نے ان کے قدم روک دیئے ہوں۔ اکرام سانس درست کر رہا تھا۔ کئی منٹ گزر گئے تو اس نے باہر جھانک کر دیکھا پھر بولا بھاگ گئے؟
’’ہاں شاید۔‘‘
’’اپنے بلّم بھی چھوڑ گئے، اُٹھا لائوں؟‘‘
’’کیا کرو گے؟‘‘ میں نے مسکرا کر کہا۔
’’مقابلہ کریں گے ان سے، ہو سکتا ہے مشورہ کر رہے ہوں اور دوبارہ لڑنے کی کوشش کریں۔‘‘
’’نہیں آئیں گے۔‘‘ میں نے اعتماد سے کہا۔
’’تب ٹھیک ہے۔‘‘ اکرام نے مجھ سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا اور میں چونک کر اسے دیکھنے لگا۔ اچانک مجھے احساس ہوا کہ اکرام مجھ سے کتنی عقیدت رکھتا ہے۔ میرے ایک جملے نے اسے مطمئن کر دیا تھا۔
’’اب ان کا خیال چھوڑو، آئو ہم اپنا کام کریں۔‘‘ میں نے اکرام کو اشارہ کیا اور وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ مسجد کے بے شمار گوشے گرد آلود تھے۔ جگہ جگہ اینٹوں کے ڈھیر پڑے ہوئے تھے۔ ایک بہت بڑا سا پیپل کا درخت تھا جس کے پتّے بکھرے ہوئے تھے۔ اندر منبر گرد آلود تھا۔ میں نے پتّوں کی سینکیں جمع کرکے جھاڑو بنائی اور سب سے پہلے ہم نے اندرونی حصے کی صفائی شروع کر دی۔ اکرام نے قمیض اُتاری اور منبر صاف کرنے لگا۔ چٹائیوں کی صفیں بے ترتیب پڑی ہوئی تھیں، انہیں جھاڑ کر صاف کیا اور دونوں نے مل کر انہیں ترتیب سے بچھایا۔ غالباً عصر کا وقت ہوگیا تھا، میں نے اکرام سے کہا۔
’’اکرام… پانی کا مسئلہ ہے۔‘‘
’’نہیں مسعود بھیّا، بائیں سمت کنواں ہے ڈول بھی رکھا ہوا ہے۔‘‘
’’اوہو میں نے نہیں دیکھا تھا تب پھر پانی بھرو وضو کریں گے۔ وضو سے فراغت پا کر میں نے صحن مسجد میں ایک بلند جگہ منتخب کی اور اذان دینے کھڑا ہوگیا۔ اذان سے فارغ ہو کر ہم دونوں نے نماز پڑھی اور پھر مغرب تک مسجد کے دُوسرے حصوں کی صفائی میں مصروف رہے۔ جان توڑ کر محنت کر رہے تھے اور پھر مغرب کا وقت ہوگیا۔ اکرام نے ایک لفظ نہیں کہا تھا۔ رات ہوگئی، کوئی آٹھ بجے ہوں گے ہم مسجد کے دالان میں بیٹھے ہوئے بیکراں اندھیرے کو دیکھ رہے تھے کہ اچانک مسجد کے عقبی حصے میں ایک روشنی سی متحرک ہوئی، ساتھ ہی اینٹوں پر کسی کے چلنے کی آواز بھی آئی۔ اکرام جلدی سے کھڑا ہوگیا مگر میں نے پُرسکون لہجے میں کہا۔
’’بیٹھ جائو اکرام… اطمینان سے بیٹھے رہو۔‘‘ روشنی گھوم کر سامنے آ گئی۔ بارہ تیرہ سال کا ایک خوبصورت لڑکا ایک ہاتھ میں لالٹین پکڑے دوسرے ہاتھ میں لوٹا لیے ہمارے سامنے
آ گیا۔ اس نے بڑے اَدب سے ہمیں سلام کیا پھر بولا ہاتھ دھو لیجئے کھانا آ رہا ہے۔
’’شکریہ بیٹے بسم اللہ۔‘‘ میں اپنی جگہ سے اُٹھ گیا۔ میں نے آگے بڑھ کر لوٹا اور لالٹین اس کے ہاتھ سے لے لی۔ بچہ فوراً واپس مڑ گیا تھا۔ لالٹین لے کر میں گھوما تو اکرام پر نگاہ پڑی، پتھرایا ہوا کھڑا تھا۔ ’’یہ لالٹین کسی مناسب جگہ رکھ دو اکرام اور آئو ہاتھ دھو لو۔‘‘
اکرام آگے بڑھ آیا۔ اس کے ہاتھوں میں لرزش محسوس ہوئی تھی لیکن اس نے منہ سے ایک لفظ نہیں کہا۔ بچہ کچھ دیر کے بعد پھر واپس آیا۔ اس کے عقب میں ایک شخص تھا جس نے کھیس اوڑھا ہوا تھا۔ چہرہ تک کھیس میں ڈھکا ہوا تھا بس ہاتھ کھلے ہوئے تھے اور ان کھلے ہوئے ہاتھوں میں وہ بڑی سی ٹرے سنبھالے ہوئے تھا جس میں قابیں ڈھکی رکھی تھیں۔ ایک بڑی پلیٹ میں چار خوشبودار آم رکھے ہوئے تھے۔ ساتھ میں چھری بھی تھی۔ بادیئے میں گرم روٹیاں تھیں۔ لڑکا اپنے ہاتھوں میں جگ اور گلاس تھامے ہوئے تھا۔ اس نے دونوں چیزیں ایک طرف رکھیں، ساتھ لایا ہوا دسترخوان بچھایا اور کھیس والے شخص نے ٹرے اس پر رکھ دی پھر وہ دونوں واپس چلے گئے۔
’’آ جائو اکرام…!‘‘ میں نے اسے آواز دی اور اکرام میرے سامنے بیٹھ گیا۔ قاب اُٹھاتے ہی زعفران کی خوشبو پھیل گئی۔ زعفرانی قورمہ اور خمیری نان سے ضیافت کی گئی تھی۔ قورمہ بھی شاید ہرن کے گوشت کا تھا۔ بسم اللہ کہہ کر کھانے میں مصروف ہوگیا۔ اکرام نوالے ٹھیل رہا تھا، مجھے کہنا پڑا۔ ’’لذیذ خوراک سے اجتناب میزبانوں کی دل آزاری کا باعث بنتا ہے، اطمینان سے کھائو۔‘‘ اکرام نے میری بات سمجھی اور جلدی جلدی شروع ہوگیا۔ وہ بری طرح ڈرا ہوا تھا۔ کھانے کے بعد آموں کی باری آئی تو وہ بولے بغیر نہ رہ سکا۔
’’آموں کا موسم تو نہیں ہے مسعود بھائی۔‘‘
’’جو سامنے ہو اسی کا موسم ہے، کھائو۔‘‘ ان الفاظ کیساتھ مجھے ہنسی آ گئی اور میں نے کہا۔ ’’مجھے اُستاد کمال الدین یاد آ گئے تھے۔ اگر واقعی آموں کا موسم ہوتا تو… نہ جانے کیا ہوتا۔‘‘ اکرام میرے الفاظ سے لطف اندوز نہیں ہو سکا تھا۔
کھانے سے فارغ ہو کر عشاء کی نماز پڑھی اور پھر وہیں آرام کرنے لیٹ گئے۔ اکرام نے اس بارے میں کچھ نہیں پوچھا تھا۔ وہ سہما ہوا تھا، اسے سمجھانا ضروری تھا۔ ’’اکرام…!‘‘ میں نے اسے آواز دی۔
’’جی مسعود بھیّا۔‘‘
’’خوف زدہ ہو؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ اس نے صاف گوئی سے جواب دیا۔
’’یہاں کے ماحول سے ان واقعات سے یا باہر کے خطرات سے…؟‘‘
’’یہاں پیش آنے والے واقعات سے، میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔‘‘ اکرام نے سچ بولا۔
’’بڑی عام سی بات ہے اکرام… کائنات کا ہر گوشہ اللہ کی ملکیت ہے۔ انسان بھٹکا ہوا ہے کہ اس کی زمین کو اپنی ملکیت سمجھ لیتا ہے۔ وہ اس کیلئے فساد کرتا ہے۔ خون خرابہ کرتا ہے، چالبازیاں کرتا ہے۔ اسے اپنا قرار دیتا ہے حالانکہ اس کا کچھ نہیں ہے۔ وہ سب کچھ بناتا ہے اور اسے بنانے کیلئے انسانیت کے معیار سے اتنا گر جاتا ہے کہ اسے انسان کہتے ہوئے شرم آئے۔ جنت شدّاد کی داستان لے لو، شدّاد نے کتنے ظلم و ستم کر کے اپنی جنّت بنائی مگر اسے دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ اس نے اللہ کی زمین پر حق جتایا تھا۔ یہی کیفیت ہر ذی رُوح کی ہے، نہ جانے کیا کیا کرتا ہے پھر ساکت ہو جاتا ہے۔ رُوح نکل جاتی ہے، لوگ اسے اُٹھا کر مٹّی کے نیچے دفن کر آتے ہیں۔ کیا رہا اس کے پاس؟ جو کچھ اس نے کیا۔ اس کا سب کچھ کسی دُوسرے کا سب کچھ بن گیا۔ اللہ کی زمین پر اس کی کون کونسی مخلوق رہتی ہے وہی جانتا ہے۔ لاکھوں کیڑے مکوڑے پنکھ پکھیرو نہ جانے کون کون کہاں رہتا ہے۔ یہ اسے ہی سمجھنے دو۔ خود نہ سمجھو، کیا سمجھے؟‘‘
’’جی۔‘‘ وہ کچھ سمجھا، کچھ نہ سمجھا۔
’’سکون سے سو جائو، اللہ بہتر کرے گا۔‘‘ اکرام نے پھر کچھ نہ کہا، کروٹ بدل کر لیٹ گیا۔ میں اس کی سانسوں کا تجزیہ کرتا رہا، وہ پُرسکون تھا۔ کچھ دیر کے بعد میں اُٹھ گیا، ماحول میں کسی آواز کی بازگشت نہیں تھی، گہرا سنّاٹا چھایا ہوا تھا۔ جن لوگوں نے ہمارا تعاقب کیا تھا، وہ مسجد کے پاس آنے کی جرأت نہیں کرسکے تھے اور یہاں سے بھاگ گئے تھے۔ اب کوئی آواز نہیں تھی۔ میں باہر نکل آیا لیکن آگے قدم بڑھا رہا تھا کہ دفعتاً دو سائے نظر آئے جو تیزی سے میرے قریب آ گئے۔
’’السلامُ علیکم۔‘‘ انہوں نے بیک وقت کہا۔ جواب دینے کے بعد میں نے انہیں غور سے دیکھا، باریش مگر نوجوان تھے۔ ان میں سے ایک نے کہا۔
’’کوئی حاجت ہے؟‘‘
’’نماز پڑھنا چاہتا تھا۔‘‘
’’آج اندر ہی پڑھ لیں تو بہتر ہے۔ کل سے آسانی ہوگی، باہر کام ہو رہا ہے۔‘‘
’’کام…؟‘‘
’’ہاں مسجد تعمیر ہو رہی ہے۔ دراصل پہلے اسے آباد کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ اب آبادی ہوئی ہے تو اس کی دُرستگی بھی ضروری ہے۔ صرف آج کی بات ہے صبح تک کام مکمل ہو جائے گا اور ہاں فجر کی اذان آپ اس بلندی پر کھڑے ہو کر دیں وہ جو اس طرف ہے۔‘‘ ایک شخص نے ایک سمت اشارہ کر کے کہا۔
’’بہتر…‘‘ میں نے کہا۔
’’ابھی تک آپ نے جتنی اذانیں کہی ہیں پوری آبادی میں سُنی گئی ہیں اور بے دینوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔‘‘
’’میری اذان دُور دُور تک سُنی گئی ہے؟‘‘
’’ہر گھر میں اور جب آپ اس جگہ کھڑے ہو کر اذان کہیں گے تو بستی کے آخری گوشے تک آواز جائے گی، اس کا انتظام کرلیا گیا ہے۔ بس اب اندر جایئے ہماری باری آ گئی ہے۔‘‘ وہ دونوں پھر سلام کر کے وہاں سے آگے بڑھ گئے۔ میں اندر آ گیا اور ایک جگہ منتخب کر کے میں نماز پڑھنے میں مصروف ہوگیا۔ کوئی اضطراب نہیں تھا، کوئی تردّد نہیں تھا۔ دل میں کوئی سوال نہیں تھا۔ سجدے میں ہی نیند آ گئی پھر کسی نے شانہ ہلایا اور ایک آواز سنائی دی۔ ’’اُٹھئے ! فجر کا وقت ہوگیا۔‘‘ ہڑبڑا کر اُٹھ گیا، کوئی موجود نہیں تھا۔ اُجالے نمودار ہوتے محسوس ہوئے تھے۔ باہر نکل آیا، سب کچھ بدلا بدلا محسوس ہو رہا تھا۔ ہر چیز صاف سُتھری، قرینے سے صفیں بچھی ہوئی تھیں۔ نلوں میں پانی آ رہا تھا۔ ایک ایک شے چمک رہی تھی۔ جگہ جگہ روشنیاں نظر آ رہی تھیں۔ ایک لمحے میں بہت کچھ یاد آ گیا۔ خاموشی سے اس بلند جگہ پر پہنچا اور پھر اذان کہنے کیلئے کھڑا ہوگیا۔ اکرام اذان کی آواز سے جاگ گیا اور وضو کیلئے شاید کنویں کی طرف دوڑا لیکن پھر اس کی چیخ اُبھری، دُوسری اور پھر تیسری۔ اس کے بعد وہ میرے قریب آ کھڑا ہوا۔ میں اذان مکمل کر کے نیچے آیا تو وہ ہیجانی لہجے میں بولا۔ ’’مسعود بھائی… یہ دیکھئے… وہ دیکھئے… سب کچھ… سب کچھ بدل گیا وہ دیواریں… وہ مینار… وہ دروازہ… اور یہ ذرا دیکھئے نلوں سے پانی آ رہا ہے۔ مسعود بھیّا وہ صفیں اور … اور… یہ سب کچھ راتوں رات۔‘‘
’’وضو کر لو اکرام… نماز کو دیر ہو جائے گی۔‘‘
’’ایں… ہاں… اوہ…‘‘ اکرام کا لہجہ نڈھال ہو گیا۔ اس کے بعد وہ آہستہ قدموں سے وضو کرنے چل پڑا۔ میں نے اب مسجد کا جائزہ لیا، بالکل مکمل تھی۔ مجھے رات ہی کو بتا دیا گیا تھا اور جن لوگوں نے اس کام کی ذمّہ داری سنبھالی تھی ان کیلئے یہ کچھ مشکل بھی نہیں تھا۔ اکرام کی کیفیت البتہ فطری تھی اسے سنبھالنا تھا، نماز سے فراغت ہوئی دوسری حیرت تیار تھی لیکن میرے لیے نہیں۔ کچھ فاصلے پر برتن رکھے ہوئے تھے۔ چائے دانی سے بھاپ کی خوشبودار لکیر اُٹھ رہی تھی، ایک پلیٹ میں گرم پراٹھے دُوسری میں اصلی گھی سے بنی ترکاری، چائے کیلئے دو پیالے… اکرام خشک ہونٹوں پر زبان پھیر رہا تھا۔
’’ناشتہ کرو اکرام۔‘‘ میں نے پلیٹیں اس کی طرف سرکا کر کہا اور اکرام نے جلدی سے ہاتھ بڑھایا پھر خود ہی خجل ہوگیا۔
’’آپ، آپ لیجئے بھیّا۔‘‘
’’ہاں
ہاں بسم اللہ۔‘‘ پھر میں خاموشی سے ناشتہ کرتا رہا۔ چائے کے پیالے بھی بھر لیے تھے۔ بعد میں ہم نے برتن صاف کر کے ایک جگہ رکھ دیئے اور میں اکرام کو ساتھ لے کر صحن میں آ بیٹھا۔ وہ بالکل خاموش تھا اور اس کے چہرے پر کشمکش تھی۔ ’’اکرام۔‘‘ میں نے اسے پکارا تو وہ اُچھل پڑا۔ ’’رات کو میں نے تمہیں سمجھایا تھا اکرام۔‘‘ میں نے سنجیدگی سے کہا تو اس کے چہرے پر خوف کے آثار پھیل گئے۔ وہ اُوپری سانسیں لینے لگا پھر اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر میرے سامنے کر دیئے۔
’’معافی، معافی چاہتا ہوں مسعود بھائی، معافی چاہتا ہوں، غلطی ہو جاتی ہے معاف کر دیجئے۔‘‘ وہ رُندھی ہوئی آواز میں بولا۔
’’ارے پاگل بے وقوف ہے بالکل۔‘‘
’’بھیّا ناراض نہ ہو جانا مجھ سے واقعی غلطیاں ہو رہی ہیں۔‘‘
اس نے ہاتھ جوڑے جوڑے کہا۔
’’بالکل ناراض نہیں ہوں میں مگر کچھ سمجھانا چاہتا ہوں، غور سے سنو کیا سمجھے؟‘‘
’’جی بھیّا۔‘‘
’’اللہ کی بے شمار مخلوق کے بارے میں تمہیں رات کو بتایا تھا میں نے۔‘‘
’’جی۔‘‘ اس نے گردن ہلائی۔
’’ان میں کچھ ظاہر ہیں کچھ پوشیدہ اور کچھ جو ہم پر ظاہر نہیں ہوتے وہ بھی احکامات خداوندی کی تعمیل کرتے ہیں۔ جو وہ کرتے ہیں انہیں وہ کرنے دو جو ہمیں کرنا ہے وہ ہماری ذمّہ داری ہے۔ یہ مسجد اگر راتوں رات تعمیر ہوگئی تو حیرانی کی بات نہیں ہے۔ تمہیں اللہ نے یہ طاقت بخشی ہے۔ اگر کوئی ہمارا میزبان ہے تو اس کا شکریہ بیشک ادا کر دو، اس پر حیرت نہ کرو۔ اسی طرح اکرام آئندہ بھی بہت سے ایسے مواقع آئیں گے جن پر تمہیں حیرت ہوگی جو بتانے کی باتیں ہوں گی میں تمہیں ضرور بتا دوں گا۔ جہاں خاموش رہوں وہاں مجھے مجبور سمجھنا۔ ہاں جس کام کا تعلق تم سے ہوگا تمہیں اس کی اطلاع ضرور دوں گا۔ میرے ساتھ رہو گے تو بہت سے واقعات بہت سے سانحات سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ان شاء اللہ محفوظ رہو گے۔ خوفزدہ یا فکرمند نہ ہونا اعتماد قائم رکھنا۔‘‘
’’جی مسعود بھیّا!‘‘
’’میری باتیں سمجھ میں آ گئی ہیں؟‘‘
’’جی بالکل آئندہ آپ کو شکایت نہیں ہوگی۔‘‘
’’کوئی بات تم سے متعلق ہوگی تو میں تمہیں ضرور اس سے آگاہ کروں گا۔‘‘ اکرام نارمل ہوگیا۔ دن کے کوئی گیارہ بجے ہوں گے کہ اچانک شور سنائی دیا۔ اس کے ساتھ ہی سامنے کے حصے سے بے شمار آوازیں سنائی دینے لگیں، صاف پتہ چل گیا کہ پتھرائو ہو رہا ہے۔ پتھر دیواروں اور دروازے پر لگ رہے تھے۔ اکرام اُچھل کر کھڑا ہوگیا۔ شور بڑھتا جا رہا تھا۔ میں بھی کھڑا ہوگیا۔ اب مجھے فیصلہ کرنا تھا کہ میں کیا کروں، اندازہ ہوگیا تھا کہ بے شمار مجمع ہے جو مسجد پر پتھرائو کر رہا ہے۔ آن کی آن میں فیصلہ کرلیا۔ خاموشی سے بڑے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ اکرام نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا اور پھر فوراً بند کر لیا۔ اسے میری ہدایات کا خیال آ گیا تھا۔ پتھرائو مسلسل ہو رہا تھا۔ لوگ چیخ رہے تھے۔ میں نے دروازے کے پٹ کھولے اور باہر قدم رکھ دیا۔ لگ بھگ سو ڈیڑھ سو افراد تھے، جیسے ہی دروازہ کھولا ان میں بھگدڑ مچ گئی۔ ان کے ہاتھوں میں پتھر تھے لیکن دروازہ کھلتے ہی وہ پلٹ کر بھاگ اُٹھے اور کافی پیچھے جا کر رُکے۔ یہ شاید یہاں کی روایات کا خوف تھا۔ ان کے درمیان کچھ پولیس والے بھی تھے۔
’’کیا بات ہے؟‘‘ میں نے چیخ کر پوچھا۔ میری آواز کے ساتھ وہ دو قدم اور پیچھے ہٹ گئے۔ کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ’’تم لوگ یہ پتھر کیوں پھینک رہے ہو؟‘‘ لوگ پولیس والوں سے کچھ کہنے لگے، شاید وہ انہیں آگے بڑھنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ مگر پولیس والے بھی انسان تھے۔ کوئی بھی آگے نہ آیا۔ ’’جائو یہاں سے چلے جائو، عبادت گاہوں پر پتھر نہیں پھول پھینکتے ہیں۔‘‘
’’یہ زمین مول چند مہاراج کی ہے۔ مسجد کس نے بنائی ہے؟‘‘
’’کہاں ہے مول چند اسے بلائو۔‘‘
’’ہم اسے توڑ دیں گے، اسے توڑ دو۔ توڑ دو اسے۔‘‘ کسی نے پیچھے سے چیخ کر کہا اور مجمع پھر بپھر گیا، پتھروں کی بارش پھر ہوئی لیکن نتیجہ انہوں نے خود دیکھ لیا۔ پتھر پوری رفتار سے ان کے ہاتھوں سے نکلے، ایک لمحے تیرتے نظر آئے اور غائب ہوگئے۔ جتنے پتھر مجمع کے ہاتھوں میں تھے سب فضا میں ہی غائب ہوگئے۔ میں خاموشی سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ سب ایک دوسرے کے شانے پر سے اُچک اُچک کر پتھر تلاش کر رہے تھے۔ میں نے پُرسکون لہجے میں کہا۔
’’اس کے بعد اگر تم میں سے کسی نے ایک بھی پتھر پھینکا تو وہ پلٹ کر اُسی کے لگے گا، مجھے الزام نہ دینا۔‘‘
’’زمین مول چند بابو کی ہے، ہم یہاں مسجد نہیں رہنے دیں گے۔‘‘ لوگ پھر چیخے۔
’’مسجد یہاں نہ رہی تو مول چند بھی نہ رہے گا یہ یاد رکھنا۔‘‘ میں نے کہا۔ ایک بہادر نے اس کے باوجود بہادری دکھائی، اس نے ایک پتھر پوری قوت سے پھینکا اور پتھر آدھے راستے پر آ کر پلٹ گیا۔ اس کے ساتھ ہی اس شخص کی بھیانک چیخ سنائی دی اور وہ لہولہان ہوگیا۔ میں نے اسے چکرا کر گرتے ہوئے دیکھا۔ لوگ خوف سے چیخے اور پھر بھرّا مار کر دوڑ پڑے۔ اس کے بعد وہ نہیں رُکے تھے۔ میرا کلیجہ ہاتھ بھر کا ہوگیا۔ دل سے شکریہ نکلا تھا کہ میرے لفظوں کی لاج رکھی گئی۔ مجمع میں سب سے آگے بھاگنے والے پولیس مین تھے۔ اب وہاں صرف زخمی شخص پڑا رہ گیا تھا۔ اس کی پیشانی پھٹ گئی تھی میں نے تشویش سے اسے دیکھا پھر اکرام کو آواز دی۔
’’جی بھیّا۔‘‘ وہ پیچھے سے بولا۔
’’آئو۔‘‘ میں نے کہا۔ اکرام کے انداز میں اب خوف نہیں تھا۔ وہ پورے اعتماد سے میرے ساتھ زخمی شخص کے قریب آیا۔ زخمی کا پورا چہرہ خون میں ڈوبا ہوا تھا، تیس پینتیس سال کا شخص تھا۔ سر چکرا رہا تھا اس کا مگر ہوش میں تھا۔ مجھے دیکھتے ہی دہشت سے دونوں ہاتھ سامنے پھیلا کر چیخا۔
’’نا میاں جی نا، ارے مر جائوں گا۔ نا میاں جی تو کا بھگوان کا واسطہ۔ ارے ہمیں نا مارو ارے ہمارے چھوٹے چھوٹے بچہ ہیں۔ ارے نا مارو ہمیں بھگوان کے لیے۔‘‘ وہ دہشت کے عالم میں پیچھے ہٹ رہا تھا۔ اس کے کندھے پر باریک کپڑے کا انگوچھا پڑا ہوا تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر اس کا انگوچھا اُتار لیا، اس کے درمیان سے دو ٹکڑے کئے اور ایک ٹکڑا اکرام کو دے کر کہا۔
’’اکرام وہ سامنے کھیت کی مینڈھ کے سہارے سہارے پانی بہہ رہا ہے، اس کپڑے کو اس میں بھگو لائو۔‘‘ اکرام کپڑا لے کر دوڑ گیا۔ زخمی ہراساں نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ ’’میں نے تمہیں سمجھا دیا تھا کہ پتھر مت پھینکنا، تم نہ مانے۔‘‘
’’ارے رام رام، بھول ہوگئی مہاراج بھول ہوگئی بس ایک بار معافی دے دو۔‘‘
’’اطمینان رکھو میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائوں گا۔‘‘ میں نے کہا۔ اکرام نے واپس آنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔ بھیگے ہوئے کپڑے سے میں نے اس کا چہرہ اور زخم صاف کیا۔ پھر اس کے زخم پر کپڑے کی گدی بنا کر رکھی اور کپڑا کس کر باندھ دیا، وہ حیران نظر آ رہا تھا۔ ’’چکر آ رہا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’نہیں مہاراج۔‘‘
’’گھر جا سکتے ہو؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’جائو اور سنو عبادت گاہیں خدا اور تمہارے الفاظ میں بھگوان کا گھر ہوتی ہیں، انہیں نقصان پہنچانا گناہ یا پاپ ہے۔ انسان ہو انسان سے پیار کرو۔ ان نفرتوں میں کچھ نہیں رکھا۔ مسلمان اللہ کا نام لے کر مریں گے، تم بھگوان کو پکار کر مرو گے۔ مرنا دونوں کو ہے پھر آخر یہ جنون کیوں ہے، کیا نام ہے تمہارا؟‘‘
’’رام بھروسے۔‘‘
’’جائو رام بھروسے، احتیاط سے جانا کہیں راستے میں تمہیں کوئی اور جنونی نہ مل جائے۔‘‘ میں نے اسے سہارا دے کر کھڑا کیا۔ وہ لڑکھڑایا پھر سنبھل گیا اور آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا۔ کچھ دُور نکلنے کے بعد اس نے پلٹ کر ہمیں دیکھا، دونوں ہاتھ جوڑ کر ماتھے سے لگائے اور پھر تیزی سے


; بڑھ گیا۔ جب وہ آنکھوں سے اوجھل ہوگیا تو میں نے اکرام کو واپس چلنے کا اشارہ کیا اور ہم دونوں مسجد میں داخل ہوگئے۔ میں نے دروازہ اندر سے بند کرلیا، اس کے بعد اور کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا جو قابل ذکر ہو۔ اکرام کی زبان پر بھی تالا لگا ہوا تھا۔ ہماری ضروریات پوری ہو رہی تھیں مگر میں بے اطمینانی کی سی کیفیت میں مبتلا ہوگیا تھا۔ نہ جانے کیوں ایک اضطراب سا دل میں جاگ اُٹھا تھا۔ شام کو میں نے جھنجھلا کر اکرام سے کہا۔
’’تمہیں کیوں چپ لگ گئی ہے؟‘‘
’’نہیں مسعود بھائی۔‘‘
’’ڈر رہے ہو؟‘‘
’’خدا کی قسم بالکل نہیں، اب تو ڈر کا شائبہ بھی نہیں ہے۔ اللہ نے مجھے آپ کی قربت دے کر بہت بڑا سہارا دیا ہے۔‘‘
’’پھر بھی زیادہ چپ اختیار کرلی ہے تم نے۔‘‘
’’آپ سے جھوٹ نہیں بول سکتا بھیّا، ایک خیال ہے میرے دل میں۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’بھیّا آپ درویش ہیں اتنا دیکھا ہے میں نے کہ اب دیکھنے کے لیے کچھ باقی نہیں ہے۔ آپ اللہ کے حکم سے سب کچھ کر سکتے ہیں، میں اپنی بہن کے لیے تڑپ رہا ہوں۔ میرا دل زخموں سے چور ہے مجھے اس کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ آپ، آپ اپنی روحانی قوتوں سے اسے تلاش کر سکتے ہیں۔ آپ میرے دل کے گھائو بھر سکتے ہیں پھر آپ ایسا کیوں نہیں کرتے بھیّا!‘‘ وہ سسک کر بولا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
میں نے گردن جھکا لی۔ کچھ دیر سوچتا رہا پھر میں نے کہا۔ ’’اکرام تم نے ابھی کہا ہے کہ آپ سب کچھ کر سکتے ہیں اللہ کے حکم سے، یہی کہا ہے نا تم نے؟‘‘
’’ہاں بھیّا۔‘‘
’’اللہ کا حکم ہونے دو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں کچھ نہیں ہوں اکرام، صرف ایک گناہ گار بندہ ہوں اللہ کا۔ جو خود بھی زندگی کے عذاب میں گرفتار ہے جو خود بھی زندگی سے دُور ہے، جو خود بھی اپنا سب کچھ لٹائے بیٹھا ہے۔ اکرام میری امی ہیں میرے ابو ہیں، ایک چھوٹی بہن ہے جسے کچھ لوگوں نے اغواء کرلیا ہے۔ میرا بھائی ہے اور میرے ایک ماموں ہیں محبت کرنے والے مگر سب چھن گئے ہیں مجھ سے، میں انہیں نہیں پا سکتا۔ میں انہیں نہیں تلاش کر سکتا۔ میں اکرام میں اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کر رہا ہوں۔ میں سزا بھگت رہا ہوں۔ بس یہ دُعا مانگتا ہوں کہ میری سزا پوری ہو جائے، مجھے معافی مل جائے اور اور میں اپنوں میں پہنچ جائوں۔ میں طویل سفر پر ہوں اکرام اور اپنی منزل چاہتا ہوں۔ اللہ کے حکم کا منتظر ہوں۔ میری اوقات کچھ نہیں ہے میرے دوست!‘‘ غیراختیاری طور پر میری آواز رُندھ گئی۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اکرام سکتے کے عالم میں مجھے دیکھ رہا تھا۔ میرے خاموش ہونے پر وہ بے اختیار آگے بڑھا اور مجھ سے لپٹ گیا۔ ’’معاف کر دو مسعود بھیّا معاف کر دو میں نے تمہارا دل دُکھا دیا ہے۔ بھیّا مجھے معاف کر دو۔‘‘
’’نہیں اکرام معافی کس بات کی، میں نے تو تمہیں اپنی اوقات بتائی ہے تاکہ تم مجھے بے حسی کا مجرم نہ سمجھو۔ تمہاری بہن تمہیں ضرور ملے گی۔ میرا خاندان بھی مجھے ملے گا مگر اس وقت جب اللہ کا حکم ہوگا۔‘‘
’’آئندہ کبھی کچھ نہ کہوں گا بھیّا وعدہ کرتا ہوں۔‘‘
اس کے بعد کیفیت کچھ خوشگوار ہوگئی تھی۔ غالباً دل کا غبار نکل گیا تھا۔ اکرام نے کہا۔ ’’اس کے بعد انہوں نے اُدھر رُخ نہیں کیا۔‘‘
’’مشکل ہی ہے۔‘‘
’’نہ جانے شہر کا کیا حال ہے؟‘‘
’’اللہ بہتر جانے۔‘‘
’’بے گناہ مر رہے ہیں۔‘‘
’’اللہ بہتر سبیل پیدا کرے گا۔‘‘ میں نے کہا۔ رات ہوگئی تھی۔ کوئی گیارہ بجے ہوں۔ گے ہو کا عالم طاری تھا، کسی پرندے کے پھڑپھڑانے کی آواز بھی نہ تھی۔ ہم دونوں آرام کر رہے تھے۔ بہت سی باتیں کی تھیں ہم نے اور اب خاموش تھے۔ دفعتاً مسجد کے بڑے دروازے پر دستک ہوئی اور ہم اُچھل پڑے۔ اکرام اُٹھ کر بیٹھ گیا اور سہمی ہوئی نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔ دستک پھر ہوئی اور میں اُٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
’’میں دیکھتا ہوں۔‘‘ میں نے کہا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا، اکرام بھی میرے پیچھے آ گیا تھا۔ میں نے بڑے اعتماد سے دروازہ کھولا، باہر تاریکی میں دو سائے نظر آ رہے تھے۔
’’کون ہو تم…؟‘‘ میں نے نرمی سے سوال کیا۔ ان کی صورتیں نہیں نظر آ رہی تھیں، ان میں سے ایک نے کچھ کہنا چاہا مگر عجیب سی آواز اس کے منہ سے نکلی۔ میں نے اندازہ لگایا تو احساس ہوا کہ بے انتہا خوف کی وجہ سے اس کے منہ سے الفاظ نہیں نکل پا رہے، وہ حد سے زیادہ ڈرا ہوا تھا۔ میں نے انتہائی نرم لہجے میں کہا۔
’’کیا بات ہے بھائی، کون ہو تم دونوں، کیسے یہاں آنا ہوا؟‘‘ آگے والے آدمی نے دونوں ہاتھ جوڑ دیئے اور تقریباً دوزانو بیٹھتا ہوا بولا۔
’’مم مہاراج… مہاراج آپ کی سیوا میں حاضر ہوئے ہیں، مم مہاراج ہم… ہم… ہم…‘‘
’’ہاں ہاں کہو کیا بات ہے۔ کیا تم ہندو ہو؟‘‘ میں نے سوال کیا، پیچھے والا آدمی تھوڑا سا آگے آیا تو میں نے اس کا چہرہ جانا پہچانا محسوس کیا۔ پیشانی پر بندھی ہوئی سفید پٹّی نے بالآخر مجھے یاد دلا دیا کہ وہ رام بھروسے تھا۔ وہ زخمی جسے میں نے زخم صاف کرنے کے بعد واپس بھیج دیا تھا۔ میرے منہ سے بے اختیار نکلا۔
’’ارے رام بھروسے تم…؟‘‘
’’مم مہاراج میں ہی ہوں۔ میں ہی ہوں۔‘‘ وہ بولا…
’’کیا بات ہے، بات بتائو…؟‘‘
’’یہ … یہ… یہ مول چند مہاراج ہیں۔ مول چند اس باغ کے مالک۔‘‘
’’اوہو اچھا اچھا۔ تو یہ بابو مول چند ہیں، کہئے مول چند مہاراج کیسے آناہوا آپ کا…؟‘‘
’’آپ سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں مالک۔ بھگوان کے لیے میرے اس طرح آنے کو برا نہ سمجھیں، بڑی ہمت کی ہے میں نے اور رام بھروسے نے مجھے یہ ہمت دلائی ہے، مہاراج من کی کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں آپ سے۔ آپ جو بھی ہیں ہمارے دھرم کے نہیں ہیں مگر سارے دھرم ایک ہی ہوتے ہیں۔ زبان کا فرق ہے، ساری اچھی باتیں دھرم ہی سکھاتے ہیں۔ رام بھروسے نے مجھے آپ کے بارے میں بتایا مہاراج تو میری ہمت پڑی۔ صبح کو جو کچھ ہوا ہے بھگوان کی سوگند اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے، میں نے کسی سے نہیں کہا تھا کہ جائو اور مسجد پر پتھرائو کرو۔ وہ سب وہ سب انہی پاپیوں کا کیا دھرا ہے مہاراج۔ آپ مجھے شما کر دیں، میرے من کی کچھ باتیں سن لیں۔ مجھے پورا واقعہ معلوم ہوا ہے پر یہ سب تو جگہ جگہ ہو رہا ہے، میں نے کچھ نہیں کرایا، بس مہاراج سن لیجئے میری۔ بڑا دُکھی ہوں میں۔ بس ایک بار میری ساری بپتا سن لیجئے۔‘‘
’’بیٹھ جائو مول چند، تم بھی بیٹھو رام بھروسے۔‘‘ میں نے کہا اور خود بھی سیڑھی پر بیٹھ گیا، وہ دونوں میرے سامنے بڑے اَدب سے بیٹھ گئے تھے۔ مول چند کہنے لگا…
’’سارے شہر میں یہی سب کچھ ہو رہا ہے مہاراج۔ رام بھروسے میرے پاس آیا۔ میرا ہی آدمی ہے، اس نے سارا واقعہ مجھے بتایا۔ میری ہمت تو نہیں پڑ رہی تھی مگر یہ کہنے لگا کہ کوئی ہرج نہیں ہے مہاراج سے مل لینے میں۔ بڑے اچھے انسان ہیں، انسانوں کی طرح جینے کا درس دیتے ہیں، بس مہاراج اپنا دُکھ لے کر آپ کے پاس آ گیا۔ یہاں جوالاپور میں جو کچھ ہو رہا ہے مہاراج اس کا ایک کارن ہے۔‘‘
’’پہلے یہ بتائو، بستی کےہندو اس وقت بھی انسانی شکار کی تلاش میں تو نہیں نکلے ہوئے ہیں…؟‘‘
’’یہاں سے جو لوگ واپس گئے ہیں مہاراج، ان کی تو میّا مر گئی ہے، دوبارہ کوئی اِدھر نہیں آئے گا، ویسے اس وقت بستی میں کہیں فساد نہیں ہے، سب اپنے اپنے گھروں میں چھپے بیٹھے ہیں۔‘‘
’’ہوں اب کہو، کیا کہنا چاہتے ہو۔‘‘ میں نے کہا۔
’’کچھ ایسی باتیں بتانا چاہتا ہوں مہاراج جن کے بارے میں مجھے نہیں معلوم کہ آگے چل کر میرے لیے کیسی ہوں، پر یہ جانتا ہوں کہ کچھ نہ کچھ ہوگا ضرور کیونکہ گرج ناتھ سیوک کے ہزاروں کان ہیں۔ ہزاروں آنکھیں ہیں، وہ سب کی تاک میں رہتا ہے۔
کے قبضے میں بڑے بیر ہیں مہاراج اور وہ اپنے بیروں سے ساری بستی کی خبر رکھتا ہے۔ اسے ضرور پتہ ہوگا کہ ہم اس سمے آپ کے پاس آئے ہیں۔‘‘
’’فکر مت کرو۔ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔‘‘ میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
’’آپ مہان ہیں مہاراج۔ یہاں جو کچھ ہوا میں سن چکا ہوں۔ میں نے ہی نہیں پوری بستی نے آپ کی اذان کی آواز سنی ہے۔ لائوڈ اسپیکر کے بغیر، کھلبلی مچ گئی کہ یہ آواز کہاں سے آئی۔ اور اس کے بعد بڑی بڑی باتیں لوگ کر رہے ہیں۔ میرے پاس بھی آئے تھے۔‘‘
’’کیا کہہ رہے ہیں لوگ۔‘‘
’’صبح صبح آئے تھے۔ کہہ رہے تھے کہ ہندو دھرم پر آفت آنے والی ہے۔ کوئی آ گیا ہے اب کیا کریں۔‘‘
’’تم نے کیا کہا مول چند۔‘‘
’’میں کیا کہتا۔ یہی کہا کہ جائو گرج ناتھ کے پاس۔‘‘
’’پھر… وہ گئے…؟‘‘
’’ہاں گئے تھے۔‘‘
’’کیا کہا اس نے… تمہیں پتہ چلا۔‘‘
’’ہاں مہاراج۔ اس سمے تک کسی کو پتہ نہیں تھا کہ آواز کہاں سے آ رہی ہے۔ وہ بولا کہ جائو پتہ لگائو کہ آواز کہاں سے آئی۔ پھر لوگوں نے یہ مسجد دیکھ لی جو راتوں رات بن گئی ہے۔ بات پوری بستی میں پھیل گئی اور مت کے مارے دوڑ پڑے اس پر پتھرائو کرنے مگر اس سے ڈرتے بھی تھے۔‘‘
’’ڈرتے کیوں تھے؟‘‘
’’بس مہاراج، کیا بتائیں۔ بعد میں رام بھروسے نے مجھے پوری بات بتائی، بستی بھر میں شور مچا ہوا ہے کہ مسجد راتوں رات بن گئی۔‘‘
’’یہاں ایک مندر بھی تو راتوں رات بن گیا تھا۔‘‘
’’ہاں مگر اس کے بارے میں تو سب کو معلوم ہے۔‘‘
’’کیا معلوم ہے؟‘‘
’’یہی کہ وہ بھوانی کال کا مندر ہے اور کالے جادو سے بنا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ گرج ناتھ سیوک اگھوری ہے اوتار نہیں۔‘‘
’’لوگ یہ بات جانتے ہیں۔‘‘ میں نے دلچسپی سے پوچھا۔
’’کون نہیں جانتا۔‘‘
’’پھر بھی اس کے احکامات پر عمل کر رہے ہیں۔‘‘
’’بھوت سے کون نا ڈرے ہے مہاراج۔‘‘ بابو مول چند نے بتایا۔
’’مجھے اس کے بارے میں پوری تفصیل بتائو مول چند۔‘‘
’’بتانے کے لیے ہی تو آئے ہیں مہاراج۔ جوالاپور کے آس پاس کی زمینیں ہماری ہیں یا پھر کنور صاحب کی۔ وہ ہیں رئیسوں کے دماغ والے۔ ہمیں انہوں نے کبھی برابر کا نہ مانا۔ اب مہاراج سب ہی بھگوان کا دیا کھاتے ہیں کون کسی کو مانے۔ ہم نے بھی آنکھیں بگاڑ لیں۔ اس سے پہلے کبھی جوالاپور میں ہندو مسلمان نہ لڑتے تھے مگر… کنور صاحب ہندوئوں کو نیچ سمجھتے تھے۔ پہلا جھگڑا انہوں نے کر دیا، تب ہندو بھی کھڑے ہوگئے اور اس کےبعد وہ دوستی ختم ہوگئی جو یہاں مثالی حیثیت رکھتی تھی۔ بات بات پر جھگڑے ہونے لگے۔ سب کے دلوں میں نفرت کا بیج پڑ گیا تھا۔ کنور کی زمینوں پر مندر تھا پرانا۔ ایک بار ہندوئوں نے اسے بنانا چاہا مگر کنور ریاست علی نے منع کر دیا۔ یہ جان علی کی مسجد ہے، ہم سے کہا گیا کہ مسجد بنانے دیں۔ ہم نے بھی منع کر دیا۔ چھوٹی چھوٹی باتیں چل رہی تھیں بڑی بات کبھی نہ ہوئی۔ پھر گرج ناتھ سیوک بستی میں آیا۔‘‘
’’کتنی پرانی بات ہے۔‘‘ میں نے درمیان میں ٹوکا۔ ’’کوئی سوا سال ہوگیا مہاراج…‘‘
’’وہ بستی میں آیا…؟‘‘ میں نے کہا۔
’’ہاں گودردھن کے چبوترے پر اس نے آسن لگایا۔ چھ دن چھ راتیں اُلٹی کیلوں پر بیٹھا رہا۔ نہ کھانا نہ پینا، لوگوں کے تو ٹھٹھ لگ گئے۔ کیا ہندو کیا مسلمان سب اسے دیکھنے جاتے تھے۔ پھر اچانک ساتویں صبح وہ نیچے اُترا۔ اس نے پہلی بات یہی پوچھی کہ سامنے کھڑے لوگوں میں کتنے ہندو کتنے مسلمان ہیں۔(جاری ہے)