Kala Jadu | Episode 73

1250
’’کیوں نہیں۔ برتن ہے آپ کے پاس۔‘‘
’’جی ہاں، مجھے جگہ بتا دیجئے۔ میں لے آئوں گا۔‘‘
’’آپ برتن دے دیں۔‘‘ میں نے کہا اور پھر اکرام کو پانی لینے کے لئے بھیج دیا۔
’’اگر ضرورت ہو تو کچھ دیر تشریف رکھئے۔ بڑا بے بس انسان ہوں میں، دل میں شدید گھٹن ہے۔‘‘ شیخ صاحب نے کہا۔ میں بیٹھ گیا۔
’’آپ کی اہلیہ کو شاید کچھ تکلیف ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’جی ہاں۔ دورے پڑتے ہیں۔ کیا کیا علاج نہ کرا لیا۔ مگر اس کا علاج ڈاکٹروں کے پاس نہیں ہے۔ اس درگاہ کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے۔ شاید یہیں سے ہمیں شفا مل جائے۔‘‘
’’ان دوروں کی کچھ نوعیت پتہ چل سکتی ہے؟‘‘ میں نے کہا۔
’’نوعیت…‘‘ شیخ صاحب کے لہجے میں کچھ گھبراہٹ پیدا ہوگئی۔ اسی وقت پیچھے سے آواز سنائی دی۔
’’سن۔ اگر کچھ بتانا ہے کہ تو سچ سچ بتائیو۔ ورنہ زبان بند رکھیو۔ جھوٹ بولے گا تو اور مصیبت میں پڑ جائے گا۔‘‘ ساری دُنیا کے سامنے جھوٹ بول کر تو گزارہ کر لیا تو نے، اب یہاں بابا کے دربار میں جھوٹ مت بولیو۔ نہیں تو زبان بند رکھ…‘‘
’’یہ کون صاحب ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’میرے والد ہیں مگر ٹھیک کہہ رہے ہیں میاں صاحب۔ ہم نے گناہ کیا ہے۔ سزا تو کاٹنی ہی ہوگی۔‘‘ شیخ صاحب ٹھنڈی سانس لے کر بولے۔ اسی وقت اکرام پانی لے آیا جسے شیخ صاحب کے والد نے لے لیا۔ شیخ صاحب بولے۔ ’’پہلا گناہ گار تو میں ہی ہوں۔ میں نے بے لوث محبت کرنے والوں کی محبت کو ٹھکرا دیا بچپن میں میری والدہ مر گئی تھیں۔ والد صاحب نے مجھے میرے ننھیال سے دُور کرلیا، بارہ سال کے بعد مجھے اپنے ننھیالی خاندان کا پتہ چلا تو میں ان سے ملا۔ محبت کرنے والی بوڑھی نانی، ماموں اور خالہ نے مجھےسینے سے لگا لیا۔ مجھے اپنی اولاد کی طرح چاہا۔ ماموں نے مجھے بیٹوں کی طرح سمجھا۔ نانی نے اپنی اولاد کی نشانی سمجھ کر اپنی چھاتی کھول دی۔ گیارہ سال تک میں ان کے ساتھ رہا اور میریے ماموں زاد بہن بھائی، نانی اور تمام لوگ مجھے اپنا سمجھتے رہے۔ پھر انہوں نے میری شادی کر دی۔ بیوی نے مجھے زندگی کا نیا دور دیا اور سب سے پہلے میں ان پیار کرنے والوں سے دُور ہوگیا۔ میں نے ان سے اجتناب برتا اور انہیں اپنی محبت سے بے دخل کر دیا۔ میں ان سے بس ایک شناسا کی طرح ملنے لگا۔ اپنی بیوی اور اس کے خاندان کو ہی میں نے اپنا سمجھ لیا اور وہ جو میری ماں کی نشانی تھے، دل مسوس کر رہ گئے۔ شاید اسی عمل کا ردّعمل تھا کہ قدرت نے مجھے اولاد سے محروم رکھا۔ بوڑھی نانی میرے لئے اجنبی کی حیثیت رکھتی تھی۔ مجھے کسی سے اُلفت نہ رہی۔ اولاد کی محرومی میرے اور میری بیوی کے لئے بڑا دُکھ تھی۔ علاج معالجے ہوئے، ہر طرح کےجتن ہوئے مگر ہمارے ہاں اولاد نہیں ہوئی۔ پھر ہماری ملاقات کچھ ایسے لوگوں سے ہوئی جو گندے علوم سے واقفیت رکھتے تھے۔ میری بیوی نے ان سے رابطہ قائم کر لیا اور اولاد کےحصول کے لئے کالے جادو کا سہارا لیا۔ کالے جادو کے ایک ماہر نے اسے بتایا کہ اولاد حاصل کرنے کے لئے اسے ایک جان کی قربانی دینی ہوگی۔ ایک گیارہ سالہ بچہ درکار ہوگا جسے قتل کر کے اس پر کالاعلم کرنا ہوگا۔ اس جادوگر نے بچّے حصول کا ذریعہ بتاتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ ایسے کام کرتے ہیں انہیں معاوضہ دے کر کسی بچّے کو اغوا کرایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ میری بیوی نے یہ کام اس شخص کو سونپ دیا اور اغوا کرنے والوں کا معاوضہ ادا کر دیا۔ کچھ عرصے کے بعد کالے علم کے ماہر نے اسے انسانی گوشت کے کچھ ٹکڑے دے کر کہا کہ انہیں مٹی کی ہانڈی چڑھا کر چولہے پر پکاتی رہے اور جب یہ ہانڈی میں راکھ کی شکل اختیار کر جائیں تو ایک مخصوص طریقے سے وہ اس راکھ کو استعمال کرے۔ میری بیوی کالے علم کے اس ماہر کی ہدایات پر عمل کرتی رہی اور پھر… پھر ہم ایک بیٹے کے ماں باپ بن گئے۔ ہماری خوشیوں کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ بچّے کی خوشی میں ہم دیوانے ہوگئے تھے۔ ہم اس کی صورت دیکھ کر جیتے تھے۔ بچہ تین سال کا ہوگیا۔ وہ باتیں کرنے لگا تھا۔ لیکن… نہ جانے کیوں میری بیوی اب کچھ خوفزدہ سی رہنے لگی تھی۔ اس کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑنے لگا تھا۔ کبھی وہ راتوں کو جاگ جاتی تھی۔ وہ سہم سہم کر بچّے سے ہٹ جاتی تھی۔ اکثر وہ خوف بھری نظروں سے بچّے کو دیکھنے لگتی تھی۔ میں نے کئی بار یہ بات محسوس کی اور ایک دن اس سے پوچھ بیٹھا۔
’’تم کچھ عجیب سی نہیں ہوتی جا رہیں۔‘‘
’’کیسی؟‘‘ اس نے کہا۔
’’بظاہر بیمار نہیں ہو… لیکن رنگ پھیکا پڑ گیا ہے۔ چہرہ اُتر گیا ہے، کچھ عجیب سی کیفیت ہو رہی ہے تمہاری۔‘‘
’’کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
’’مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو۔‘‘
’’نہیں… کوئی بات ہی نہیں ہے۔‘‘
’’نہ بتائو وہ دُوسری بات ہے لیکن کچھ ہے ضرور۔‘‘
’’آپ سے کہوں گی تو آپ یقین نہیں کریں گے۔‘‘
’’کوشش کروں گا۔‘‘ میں نے کہا اور وہ کسی سوچ میں ڈوب گئی۔ پھر بولی۔ ’’آپ نے کبھی کوئی خاص بات محسوس کی ہے؟‘‘
’’کس سلسلے میں؟‘‘
’’اپنے بیٹے کے بارے میں۔‘‘
’’کیسی خاص بات؟‘‘
’’دُوسرے بچوں کو آپ دیکھتے ہیں۔ خاص طور سے اس عمر میں بچّے ماں باپ پر جان دیتے ہیں۔ ماں ان کی تمام محبتوں کا محور ہوتی ہے۔ وہ ماں کے سینے سے چمٹ کر سکون پاتے ہیں۔ ماں کی آغوش میں انہیں کائنات مل جاتی ہے لیکن ہمارا بچہ… ہمارا شانی۔‘‘
’’ہاں ۔ آگے کہو…‘‘
’’بات آج کی نہیں ہے۔ تین سال کا ہوگیا ہے وہ… مگر… وہ کبھی میرے سینے سے نہیں چمٹا۔ وہ مجھ سے گھبراتا ہے۔ اب غور کرتی ہوں تو یہ پورے تین سال میری آنکھوں میں گھوم جاتے ہیں۔ جھولے میں وہ پُرسکون رہتا تھا۔ میں گود میں لیتی تھی تو رونے لگتا تھا اور خاموش نہیں ہوتا تھا۔ ایسے تاثرات ہوتے تھے اس کے چہرے پر کہ میں بتا نہیں سکتی۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ مجھ سے نفرت کرتا ہے، مجھ سے اُلجھتا ہے۔ میری گود میں نہیں آنا چاہتا۔ مجھے احساس تو ہوتا تھا لیکن میں توجہ نہیں دیتی تھی۔ غور نہیں کرتی تھی۔ مگر اب۔ اب تو…‘‘ میری بیوی رونے لگی۔
’’عجیب بے وقوف عورت ہو۔ یہ کوئی عقل کی بات ہے۔‘‘ میں نے غصیلے لہجے میں کہا۔
’’آپ نہیں سمجھ سکتے۔ میری کیفیت نہیں سمجھ سکتے۔ رات کو وہ میرے پاس سوتا ہے مگر کبھی مجھ سے لپٹتا نہیں۔ میں اسے کہتی ہوں تو رونے لگتا ہے۔ مجھ سے دُور ہٹ جاتا ہے۔ ایک رات میری آنکھ کھل گئی تو میں نے اسے محبت سے دیکھا مگر… مگر…‘‘
’’مگر کیا؟‘‘
’’وہ جاگ رہا تھا۔ مجھے دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں نفرت کی چنگاریاں سُلگ رہی تھیں۔ وہ شدید نفرت سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ میں نے اسے آواز دی تو اس نے کروٹ بدل لی۔ اور اب اکثر ایسا ہوتا ہے میں راتوں کو اس سے ڈر جاتی ہوں۔‘‘
’’تمہارا دماغ خراب ہے۔ کیا پاگل پن کی باتیں کر رہی ہو۔ اپنے بچّے کے بارے میں تم ایسا سوچ رہی ہو۔‘‘
’’آہ۔ میں کیا کروں، اتنا خود کو سمجھاتی ہوں مگر نہ جانے کیوں یہ سب کچھ دماغ میں آتا رہتا ہے۔ آپ خود دیکھتے ہیں۔ وہ سب سے بولتا ہے، سب سے باتیں کرتا ہے مگر… ہم سے کتنا کم بولتا ہےوہ۔‘‘
’’بس اب اس پاگل پن کے خیال کو دل سے نکال دو۔ بارہ سال کے بعد ہماری مراد پوری ہوئی ہے اور تم…‘‘
وہ خاموش ہوگئی مگر میاں صاحب اس دن سے میں نے بھی اپنے بیٹے کی حرکات نوٹ کرنا شروع کر دیں۔ مجھے احساس ہوا کہ میری بیوی سچ کہتی ہے، شانی ایسا ہی تھا۔ وہ کسی بات پر ہنس رہا ہوتا تو ہمیں دیکھ کر خاموش ہو جاتا۔ وہ یقیناً ہمیں ناپسند کرتا تھا۔ بڑی عجیب بات تھی۔ ناقابل یقین، ناقابل سمجھ۔ اسے اسکول میں داخل کرا دیا گیا۔ وہ بظاہر نارمل تھا، بس ہمارے ساتھ اس کا رویہ ایسا تھا۔ پانچ سال کا ہوگیا وہ۔ میری بیوی بدستور اسی کیفیت کا شکار تھی۔ کوئی ایک سال پہلے کی بات ہے۔ میرے ایک دوست کی بہن کی شادی تھی۔ اندرون ملک کے ایک دیہی علاقے میں رہتے تھے اس کے والدین۔ میرا دوست شہر میں ملازمت کرتا ہے۔ اس نے بہت پیچھے پڑ کر مجھے اور میری بیوی کو بہن کی شادی میں شرکت کے لئے آمادہ کرلیا اور ہم وہاں پہنچ گئے۔ میں نے سوچا تھا کہ اچھا ہے میری بیوی بہل جائے گی۔ ہم وہاں جا کر خوش ہوئے تھے۔ ہمارا بیٹا بھی ہمارے ساتھ تھا۔ وہ وہاں بچوں میں گھل مل گیا تھا۔ شادی کے ہنگامے ہو رہے تھے ایک دن چودہ پندرہ سال کی ایک ہندو لڑکی میرے بیٹے کے ساتھ آ گئی۔ وہ اسے گھر چھوڑنے آئی تھی۔‘‘
’’یہ کون ہے؟‘‘ میں نے اپنے دوست سے پوچھا۔
’’جمناداس کی بیٹی ہے۔ جمنا داس پیچھے رہتے ہیں ہمارے۔‘‘ میرے دوست نے جواب دیا۔
’’بھگوتی ہمارے گھر تھا چاچا۔ آپ کہو تو ہم اسے ساتھ لے جاویں۔ رات کو پہنچا دیں گے۔‘‘ لڑکی نے کہا۔
’’کون بھگوتی؟‘‘ میرے دوست نے حیرت سے پوچھا۔
’’یہ… اور کون۔‘‘ لڑکی بولی۔
’’دماغ خراب ہے تمہارا۔ یہ تو میرا بھتیجا ہے، شانی ہے اس کا نام…‘‘
’’تو ہم کب منع کر رہے ہیں چاچا۔ لے جائیں اسے ساتھ…‘‘ لڑکی بولی۔
’’نہیں… جائو… بھاگ جائو۔‘‘ میرا دوست غصے سے بولا۔
’’جانے دو چاچا۔ ماسی سدھاوتی اسے دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے۔ جانے دو نا۔‘‘ لڑکی ضد کرنے لگی۔
’’نہیں پریما۔ پھر آجائے گا۔ اب تم جائو… جائو شاباش… یہ مہمان ہے، یہاں کے راستے نہیں جانتا۔‘‘
’’مجھے سارے راستے آتے ہیں۔‘‘ شانی نے غصّے سے کہا۔
’’نہیں بیٹے ضد نہیں کرتے۔ جائو لڑکی۔ پھر آ جائے گا یہ تمہارے پاس۔‘‘ میں نے کہا اور لڑکی آزردہ ہو کر واپس چلی گئی۔
’’یہ کیا نام لے رہی تھی اس کا…‘‘ میں نے کہا۔
’’پتہ نہیں کیا قصہ ہے۔ میرے دوست کو گھر میں بلا لیا گیا اس لئے بات ختم ہوگئی۔ میں نے محسوس کیا تھا کہ شانی کا بھی موڈ خراب ہوگیا ہے۔ اس نے کسی سے بات نہیں کی تھی۔ دُوسرا دن شادی کا تھا۔ میں بھی اپنے دوست کے ساتھ تیاریوں میں مصروف تھا۔ بارات آنے والی تھی۔ کوئی چار بجے شام میری بیوی باہر نکل آئی۔ اس نے کہا۔
’’شانی نے کھانا کھایا۔ صبح سے کھیلتا پھررہا ہے۔ کہاں ہے وہ؟‘‘
’’کیا…‘‘ میں اُچھل پڑا۔ میں نے خود اسے صبح سے نہیں دیکھا تھا۔ ’’کیا وہ اندر نہیں ہے؟‘‘
’’صبح سے اندر نہیں آیا۔‘‘
’’ٹھیک ہے آ جائے گا۔ ابھی آتا ہے۔‘‘ میں نے کہا۔ حالانکہ میرا دل خود ہول گیا تھا۔ میں گھبرایا ہوا اپنے دوست کے پاس گیا اور اسے یہ ماجرا سنایا۔ وہ بے چارا خود شامیانے وغیرہ لگوا رہا تھا مگر فوراً میرے ساتھ بھاگا۔
’’فکر مت کرو۔ مل جائے گا۔ سب جانتے ہیں کہ وہ شادی میں آیا ہے، جو اسے دیکھے گا وہ اسے یہاں پہنچا دے گا۔ اوہ آئو ذرا میرے ساتھ، میرے دوست کو جیسے کچھ یاد آ گیا۔ وہ گھوم کر پچھلے علاقے میں آ گیا۔ ایک میدان سا تھا جس کے دُوسرے سرے پر مکانات نظر آ رہے تھے۔ ایک مکان کے سامنے رُک کر میرے دوست نے دروازے کی زنجیر بجائی اور ایک آدمی باہر نکل آیا۔۔‘‘
’’کیا بات ہے بھیّا۔ سب ٹھیک ہے نا… کوئی ضرورت ہے ہماری۔‘‘
’’بس تیار ہو جائیں جمناداس جی۔ بارات ٹھیک وقت پر آ جائے گی۔ وہ کوئی بچہ تو نہیں آیا یہاں۔ کل پریما کے ساتھ تھا۔‘‘
’’بھگ…‘‘ جمناداس کچھ کہتے کہتے رُک گیا۔ میں اور میرا دوست چونک کر اسے دیکھنے لگے۔ وہ جلدی سے بولا۔ ’’پریما کے ساتھ تھا صبح سے۔ سدھاوتی کے پاس بیٹھا ہے۔ میں بلا کر لائوں۔ کس کا چھورا ہے وہ؟‘‘
’’میرا بھتیجا ہے۔‘‘
’’بھگوان کے کھیل نیارے ہوتے ہیں۔ ابھی بلا کر لاتا ہوں۔‘‘ جمناداس آگے بڑھ گیا۔ مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ جمناداس بھی شانی کا نام بھگوتی کہتے کہتے رُک گیا ہے۔ کوئی بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ کوئی تین گھر چھوڑ کر وہ ایک بوسیدہ سے مکان میں داخل ہوگیا اور کوئی تیس سیکنڈ کے بعد ہی شانی کو ساتھ لئے باہر آ گیا۔ اس کے پیچھے پریما بھی تھی اور ان تینوں کے پیچھے ایک عورت باہر نکلی تھی۔ میلی کچیلی ساڑھی میں ملبوس، بال بکھرے ہوئے، چہرے پر وحشت، رنگ پیلا پڑا ہوا۔ میں نے آگے بڑھ کر شانی کا کان پکڑ لیا۔
’’یہ کیا بدتمیزی ہے۔ تم صبح سے غائب ہو۔‘‘ شانی نے ایک نگاہ مجھے دیکھا۔ وہی نفرت بھرا انداز تھا اس کا، منہ سے کچھ نہیں بولا۔ میں اسے ساتھ لئے آگے بڑھا تو وہ دیوانی عورت بھی ہمارے پیچھے چل پڑی۔ جمناداس نے آگے بڑھ کر عورت کا بازو پکڑ لیا۔
’’نہ سدھو نہ، مہمان ہیں، جانے دے اپنے گھر جائیں گے۔‘‘
’’وہ … وہ…‘‘ میلی کچیلی عورت نے اُنگلی شانی کی طرف اُٹھاتے ہوئے کہا۔ اس کے انداز میں بڑی بے بسی، بڑا پیار، بڑی حسرت تھی۔ میں اپنے دوست کے ساتھ شانی کو لئے ہوئے وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ میرا دوست بھی خاموش تھا اور میری سمجھ میں بھی کچھ نہیں آ رہا تھا۔ شانی کو میں نے اپنی بیوی کے پاس پہنچا دیا۔ وہ راستے بھر کچھ نہیں بولا تھا، نہ ضد کی تھی، نہ مچلا تھا لیکن اس کے انداز سے اس نفرت کا اظہار بدستور ہو رہا تھا جو اس کی فطرت کا ایک حصہ نظر آتی تھی۔ بارات کے ہنگامے تھے اور میں کوئی ایسا عمل نہیں کرنا چاہتا تھا جس سے یہاں کسی اور قسم کا احساس پیدا ہو۔ چنانچہ میں نے خاموشی ہی اختیار کئے رکھی۔ جہاں تک ہو سکا اپنے آپ کو بارات کے سلسلے میں ضروری کاموں میں مصروف رکھا، البتہ اپنی بیوی کو میں نے ہدایت کر دی کہ شانی کو اپنی نگرانی میں رکھے اور باہر نہ نکلنے دے لیکن میرا دماغ تجسس سے پھٹا جا رہا تھا۔ کوئی بات جو سمجھ میں آ رہی ہو… بالآخر بارات آ گئی۔ نکاح کا وقت قریب آ گیا۔ یہ لوگ یہاں کے قدیم رہنے والے تھے، ہندو اور مسلمان سب ہی ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ میں شامل ہوتے تھے۔ میں نے جمناداس کو دیکھا، دھوتی اور کرتے میں ملبوس محفل میں موجود تھا اور مہمانوں سے گفتگو کر رہا تھا۔ دفعتاً ہی میرے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ جمناداس سے اس بارے میں بات کی جائے، خاموشی سے معلومات حاصل کروں، ہو سکتا ہے کچھ پتہ چل جائے۔ کرسیاں بچھی ہوئی تھیں۔ سارے کام خوش اسلوبی سے چل رہے تھے۔ چنانچہ میں جمناداس کے پاس جا بیٹھا۔ وہ مجھے پہچان گیا تھا۔ میں نے اس سے کہا۔
’’اس وقت تو آپ سے بات ہی نہ ہو سکی جمناداس جی۔ میرے دوست نے بتایا ہے کہ آپ تو ان لوگوں کے بڑے پرانے پڑوسی ہیں۔‘‘
’’ہاں بھیّا جی… جیون مرن ساتھ ہی رہا ہے ہمارا۔ ایک دوسرے کے دُکھ سکھ میں شریک ہوتے رہے ہیں، بڑے اچھے لوگ ہیں یہ بھی اور پھر بیٹی کی شادی تو یوں سمجھو پوری بستی کی بیٹی کی شادی ہوتی ہے۔ ہمیں تو افسوس ہے کہ ہم نے اس شادی میں کچھ بھی نہیں کیا۔‘‘
’’آپ جیسے اچھے لوگ بڑے خوش نصیبوں کو ملتے ہیں۔ سب لوگ تعریف کر رہے تھے آپ کی جمناداس جی۔‘‘
’’ارے بھیّا ہم کیا اور ہماری اوقات کیا، بس جو خود اچھے ہوتے ہیں وہ دُوسروں کو اچھا کہتے ہیں…‘‘
’’جمناداس جی، پریما آپ کی بیٹی ہے۔ میں نے یہاں سے سلسلہ گفتگو کا آغاز کیا…‘‘
’’آپ ہی کی ہے بھیّا جی…‘‘
’’بڑی اچھی بچی ہے۔ میرا بیٹا تو اس سے بہت زیادہ مانوس ہو گیا ہے۔ ویسے جمنا داس جی میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ آپ نے میرے بیٹے کو بھگوتی کہہ کر کیسے پکارا…؟‘‘ یہ بڑی عجیب بات ہے میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا…‘‘
جمناداس نے عجیب سی نگاہوں سے مجھے دیکھا اور پھر بے ڈھنگے انداز میں ہنسنے لگا…
’’وہ بھیّا جی بس ایک ذرا سا کھیل ہے بھگوان کا، کوئی کیا کر سکتا ہے؟‘‘
’’مجھے اس بارے میں بتائیں گے نہیں جمنا داس جی۔‘‘
’’ارے ہاں ہاں، کاہے ناں۔ وہ دراصل بھیّا جی تمہارا چھورا سدھاوتی کے چھورے بھگوتی داس کی شکل کا ہے، بالکل ویسا بے چاری سدھاوتی ودھوا تھی۔ برسوں سے یہاں رہتی ہے، اس کا پتی کارخانے میں کام کرتا تھا، بھٹی میں گر پڑا اور جیتے جی بھسم ہوگیا۔ ایک ہی چھورا تھا سدھاوتی کا جس کے ساتھ جیون بِتا رہی تھی، گھروں کے کام دھندے کر کے اپنا اور اپنے بیٹے کا پیٹ پال رہی تھی کہ بے چاری کے ساتھ ایک عجیب و غریب حادثہ ہوگیا۔ ویسے بھی بھیّا جی بے چارہ بھگوتی داس ہماری بٹیا پریما کی عمر کا تھا۔ ایک ہی دن پیدا ہوئے تھے وہ اور پریما۔ اور پھر پڑوسی ہونے کے ناتے دونوں نے ساتھ ساتھ جیون شروع کیا اور دونوں ہی ایک دُوسرے سے بڑی محبت کرنے لگے۔ پھر ایک دن ایسا ہوا کہ بھگوتی داس کھیتوں پر گیا ہوا تھا کہ غائب ہوگیا۔ پھر بھیّا وہ ملا نہیں، بے چاری سدھاوتی پاگل ہوگئی اپنے چھورے کے غم میں۔ پولیس میں رپٹ درج کروائی، آدمیوں نے جگہ جگہ اسے تلاش کیا۔ پر بھگوتی داس کہیں نہیں ملا۔ کوئی پانچ چھ سال پرانی بات ہے، بس یوں سمجھ لو کہ اس کے بعد بے چارے بھگوتی کا کچھ پتہ ہی نہ چلا۔ یہ تمہارا چھورا جو ہے نا بھیّا، یہ بالکل بھگوتی کی صورت کا ہے، پریما ہی اسے دیکھ کر پاگل ہوگئی تھی اور بھگوتی بھگوتی کہتی چڑھ دوڑی تھی۔ مگر وہ بھگوتی کہاں، وہ پانچ سال کا ہوگا زیادہ سے زیادہ۔ جبکہ بھگوتی اگر ہوتا تو اب پندرہ سولہ سال کا ہوتا۔ گیارہ سال کی عمر میں غائب ہوا تھا بے چارہ بھگوتی۔ بھگوان جانے کون لے گیا اسے، کہاں چلا گیا۔ یہ ہے بھیّا تمہارے چھورا کو بھگوتی کہنے کی کہانی اور یہ ہے بے چاری سدھاوتی کے پاگل پن کی داستان۔‘‘ جمناداس نے بتایا۔ میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے۔ ایک انوکھا خوف میرے رگ و پے میں جاگزین ہوگیا تھا۔ بارات کے ہنگامے جاری تھے۔ مگر میرا بدن ٹھنڈے ٹھنڈے پسینے چھوڑ رہا تھا۔ پانچ چھ سال پہلے بھگوتی غائب ہوا تھا۔ کالے جادو کے ماہر نے ایک گیارہ سالہ بچّے کے اغوا کی کہانی سنائی تھی، جس کی قربانی دے کر ہمارے ہاں بچّے کی پیدائش ہو سکتی تھی۔ ہم نے اسے رقم ادا کی تھی اور اس نے ہمارا کام کر دیا تھا۔ شانی بھگوتی کی صورت تھا۔ پانچ سال کا ہے وہ۔ چھ سال پہلے بھگوتی اغوا ہوا تھا۔ خدا کی پناہ، خدا کی پناہ۔ واقعات کی کڑیاں ملتی جا رہی تھیں۔ وہ کالے جادو کا کھیل جس کی بناء پر شانی وجود میں آیا، اب اپنا اثر دکھا رہا تھا۔ کالا جادو صرف اتنا ہی نہیں تھا کہ ہمارےہاں اولاد پیدا ہو جائے، اس کے اثرات اب ہم پر نمودار ہو رہے تھے۔ شانی ہمارا اکلوتا بچہ، منتوں مرادوں سے پیدا ہونے والا بھگوتی کی شکل کا تھا۔ میرے خدا میرے خدا، میرا بدن شدید دہشت کا شکار تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ یہ سب کچھ کیا ہے۔ کیا بھگوتی کی رُوح شانی میں حلول کر گئی ہے یا شانی بھگوتی کا نیا رُوپ ہے۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ سب کچھ میرا دل قبول نہیں کرتا تھا۔ لیکن جو کچھ تھا ہمارے سامنے تھا اور میں اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا تھا۔ غرض یہ کہ بارات رخصت ہوئی، مہمان چلے گئے، رسمی طور پر مجھے بھی وداعی میں حصہ لینا پڑا۔ دوست کی بہن کا معاملہ تھا، خود کو الگ کیسے رکھ سکتا تھا۔ دوسرے دن صبح ہی صبح میری بیوی نے واپس چلنے کی رَٹ لگا دی۔ حالانکہ میرا دوست ابھی یہاں کئی دن قیام کرنا چاہتا تھا۔ یہ وعدہ کر کے لایا تھا مجھے کہ میں کئی دن تک اس کے ساتھ رہوں گا۔ شادی کے بعد کے ہنگاموں میں بھی حصہ لوں گا۔ لیکن اب اس کی گنجائش کہاں رہ گئی تھی۔ میرا دل تو خوف و دہشت کا شکار تھا۔ ادھر میری بیوی بھی بری طرح واپس چلنے کی رَٹ لگائے ہوئے تھی۔ سب ہی نے اسے سمجھایا لیکن وہ نہ مانی اور بحالت مجبوری میرے دوست نے بھی اجازت دے دی۔ میں خود بھی وہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا، جو کچھ مجھ پر بیت رہی تھی میرا دل ہی جانتا تھا، پھر ہم اپنے شہر واپس آ گئے۔ شانی ہمارے ساتھ تھا۔ میری بیوی تو اس سے خوفزدہ رہتی ہی تھی۔ لیکن اب میری بھی کیفیت اس سے مختلف نہیں تھی۔ میں چور نگاہوں سے شانی کو دیکھتا تو اس کے چہرے پر ایک عجیب سی گمبھیرتا، ایک عجیب سی نفرت رچی ہوئی پاتا جیسے وہ ہمارے عمل سے شدید نفرت کرتا ہو۔ پھر ایک دن وہاں سے واپسی کے کوئی ایک ہفتے کے بعد کی بات ہے، میری بیوی نے مجھ سے کہا۔
’’ایک بات کہنا چاہتی ہوں میں آپ سے؟‘‘
’’ہاں ہاں کہو۔ کیا بات ہے؟‘‘
’’وہاں۔ جہاں ہم شادی میں گئے تھے، میں نے ایک عجیب بات سنی ہے، آپ کو خدا کا واسطہ اس بات کو مذاق میں نہ ٹالئے۔ میری تو حالت خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے، کچھ کیجئے، کچھ کرنا پڑے گا ہمیں، سمجھ میں نہیں آتا کیا کریں؟‘‘
’’بات کیا ہے؟‘‘
’’وہاں شانی کے بارے میں تبصرے ہو رہے تھے۔ سدھاوتی نامی کوئی عورت رہتی ہے وہاں اس کا بچہ جس کی عمر گیارہ سال تھی، پانچ چھ سال پہلے وہاں سے اغوا ہوگیا تھا۔ اس کا نام بھگوتی تھا اور وہ۔ وہ بالکل شانی کی صورت تھا، بالکل شانی کی صورت۔‘‘ میں آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھتا رہ گیا۔ میرا خیال تھا یہ کہانی میرے ہی ذہن میں محفوظ ہے۔ لیکن عورتیں بھلا کہاں چوکتیں۔ اسے بھی یہ کہانی معلوم ہو چکی تھی۔ تاہم میں نے اس سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
’’گویا اب تم ایک نئی کہانی کا سہارا لے کر مجھے پریشان کروگی۔‘‘ میری بیوی زار و قطار رونے لگی۔ اس نے کہا۔ ’’آپ مجھ سے پریشان ہو گئے ہیں؟‘‘
’’ہاں، ہو گیا ہوں بالکل ہوگیا ہوں۔ پہلے تمہیں بچّے کی خواہش نے دیوانہ کر دیا تھا اور تم سب کچھ کرنے پر آمادہ ہوگئی تھیں اور اب اس نئی کہانی سے تم نہ صرف خود پاگل ہوئی جا رہی ہو بلکہ مجھے بھی پاگل کئے دے رہی ہو۔ مجھے بتائو میں کیا کروں، میں کیا کر سکتا ہوں، مجھے جواب دو۔‘‘
’’خدا کے لئے کچھ کیجئے، اس کالے جادو کے ماہر سے ملئے، اس سے کہئے کہ اب ہم کیا کریں اور یہ سب کیا ہے۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے، ہم تو کالے جادو کے چکر میں پھنس گئے ہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے کالے جادو کے ماہر سے ملوں اور اس کے بعد کوئی نیا جادو کرا کے لے آئو۔ یہی چاہتی ہو نا تم؟‘‘
’’تو پھر کیا ہوگا، شانی ہم سے نفرت کرتا رہے گا ہمارا اکلوتا بچہ، اس کے سوا ہمارا کوئی اور ہے بھی تو نہیں لیکن لیکن، میری بیوی زار و قطار روتی رہی۔ میرے پاس ان آنسوئوں کا کوئی حل نہیں تھا۔
وقت آگے بڑھتا گیا۔ شانی کے انداز میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اب وہ اپنی ماں کے پاس سوتا بھی نہیں تھا۔ اس کی بیزاری اس کی نفرت بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ ایک رات جب ہم اپنے بیڈروم میں سو رہے تھے تو اچانک میری بیوی دہشت بھرے انداز میں چیخ پڑی۔ اس کی بھیانک چیخوں سے مجھے بھی دہشت کا شکار کر دیا۔ شانی اپنے الگ بستر پر سو رہا تھا۔ ان چیخوں نے اسے نہیں جگایا تھا۔ بڑی مشکل سے میری بیوی معتدل ہوئی، خوف بھری نظروں سے شانی کو دیکھ رہی تھی۔‘‘
’’یہ جاگ رہا ہے۔ میں قسم کھاتی ہوں یہ جاگ رہا ہے۔ مکر کئے پڑا ہے۔ ابھی ابھی یہ میرے قریب تھا۔ مجھ پر جھکا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں انگاروں کی طرح سُرخ ہو رہی تھیں۔ یہ نفرت بھری نگاہوں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ یہ، یہ مجھے مارے گا۔ یہ مجھے قتل کر دے گا۔‘‘
’’دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا۔ بتائو کیا کروں میں۔ اسے گھر سے نکال دوں۔ اور کیا کروں۔‘‘
’’نہیں نہیں۔ وہ میرا بچہ ہے۔ وہ میری اولاد ہے۔‘‘ میری بیوی سسکیاں بھرنے لگی۔
’’تو پھر میں کیا کروں۔‘‘ میں نے کہا۔ اور میاں صاحب مختصر یہ کہ میری بیوی آہستہ آہستہ ذہنی توازن کھونے لگی۔ اس پر دیوانگی کے دورے پڑنے لگے اور آج یہ اس حال کو پہنچ گئی ہے کہ یہ اپنے بیٹے کو چاہتی بھی ہے اور اس سے دہشت زدہ بھی ہے۔ نہ جانے کیا کیا جتن کئے ہیں میں نے ڈاکٹروں کے پاس، بھلا اس کا کیا علاج ہے۔ میں تو اتنا بدنصیب ہوں کہ کسی کو اصلیت بتا بھی نہیں سکتا۔ کس سے کہوں کہ ایک بچّے کو قتل کر کے، ایک ماں کی گود اُجاڑ کر ہم نے اپنی سُونی گود بھری ہے، اس خانقاہ کی شہرت میں نے سُنی ہے، بڑی دُور سے آس لے کر آیا ہوں۔ خدا کے لئے ہماری مشکل کا حل بتا دیں۔ خدا کے لئے؟‘‘
میں دہشت سے گنگ تھا۔ اکرام پتھر بنا ہوا بیٹھا تھا۔ بڑی بھیانک بڑی دہشت ناک داستان تھی یہ۔
’’بچہ کہاں ہے۔‘‘ میں نے پوچھا۔
’’نانی نانا کے پاس چھوڑ آیا ہوں۔‘‘
’’کیا نام ہے تمہارا؟‘‘
’’شیخ مغیث الدین۔‘‘
’’سب سے پہلے اپنا نام بدل دو۔‘‘ میرے حلق سے غراہٹ نکلی اور وہ نہ سمجھنے والے انداز میں مجھے دیکھنے لگا۔
تن بدن میں آگ سی لگ رہی تھی۔ ساری برائیاں کرلی تھیں کم بختوں نے۔ اپنی ناپاک آرزو کے ہاتھوں نڈھال ہوکر ایمان بیچ دیا تھا اور پھر بہتری کے خواہاں تھے۔ شدید گھن آرہی تھی مجھے ان دونوں سے، وہ مشرک
تھے۔
وہ بولا۔ ’’سمجھا نہیں صاحب۔‘‘
’’تمہیں اس نام کو اپنائے رکھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ اسلامی نام ہے۔ متبرک اور قابل احترام۔‘‘
’’میں مسلمان ہوں۔‘‘ وہ بولا۔
’’شرم نہیں آتی یہ کہتے ہوئے۔ غور نہیں کیا اپنے کالے کرتوتوں پر۔ عورت تو ناقص العقل ہوتی ہے، تم لوگ اسے سنبھال نہیں سکتے۔ اس طرح کٹھ پتلی بن جاتے ہو تم اس کے ہاتھوں۔ اس کائنات کا ہر ذرّہ مالک کائنات کے اشارے سے جنبش کرتا ہے۔ تمہاری تقدیر میں اولاد ہوتی تو تمہیں ضرور ملتی۔ ہوسکتا ہے اس کا وقت مقرر کردیا گیا ہو۔ تم نے اپنی ہوس کے ہاتھوں مغلوب ہوکر اس مردود کا سہارا لیا جسے شیطان کہا جاتا ہے۔ تمہاری عقل نے تمہیں ہوشیار نہ کیا کہ تم شیطنت کی طرف بڑھ رہے ہو۔ تمہیں علم نہیں کہ جادو کفر ہے۔ اس شیطان زادے نے تم سے کہا کہ تمہیں اولاد کے حصول کیلئے ایک انسانی جان کی قربانی دینا ہوگی۔ اس کے بجائے کہ تم اسے سنگسار کردیتے، تم نے اسے اس عمل کا اختیار دیا۔ وہ شیطان زادی اپنی گود بھرنے کے لئے ایک اور ماں کی گود اجاڑنے پر آمادہ ہو گئی اور تم اس کے ہمنوا بنے۔ تم نے اپنی آنکھوں سے اس ماں کو دیکھ لیا جو اولاد کے کھو جانے سے اپنا دماغی توازن کھو بیٹھی۔ قدرت تمہارے کالے کرتوت تمہارے سامنے لائی مگر تم نے غور نہ کیا اور اب تم اس عورت کیلئے بہتری چاہتے ہو۔ خدا کی قسم تم بے دین ہو، تمہارا اس پاک مذہب سے کوئی تعلق نہیں رہا۔‘‘
’’رحم میاں صاحب رحم…‘‘ وہ بولا۔
’’تم مردود ہو، قابل سزا ہو لیکن جزا و سزا کا مالک وہ ہے جس کے ہم بندے ہیں۔ تمہارا فیصلہ وہی کرے گا۔ اب میں تم سے ایک درخواست کرتا ہوں۔‘‘
’’کیا میاں صاحب…؟‘‘
’’یہ جگہ فوراً چھوڑ دو، یہ غیر مسلموں کیلئے نہیں ہے۔ اس سے قبل کہ میں دوسروں کو اس پر آمادہ کروں، تم یہاں سے چلے جائو۔‘‘
’’میں تو بڑی آس لے کر آیا تھا میاں صاحب۔‘‘
’’تمہاری بینائی چھن چکی ہے۔ وہ جنہوں نے تمہیں بے لوث محبت دی، تمہیں تمہارے برے وقت میں اپنایا، تمہارے لئے کچھ نہ رہے اور وہ قابل نفرت عورت جس نے بالآخر تم سے تمہارا ایمان چھین لیا، تمہارے لئے آسمان ہوگئی۔ سنو اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ اگر تمہیں لمحاتی عیش و عشرت مل گئے ہیں تو انہیں دھوکا جانو۔ آنے والا وقت تم پر کٹھن ہے۔ گیارہ سال پورے ہوجانے دو۔ وہی بچہ جس کیلئے تم نے ایمان کھویا، تمہاری موت کا سامان بنے گا۔ اسے تمہارے اعمال کی سزا کیلئے مخصوص کیا گیا ہے۔ جائو اس سے زیادہ تمہارے ساتھ رعایت نہیں کی جائے گی۔‘‘
’’ہمارے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے میاں صاحب؟‘‘
’’خدا کی لعنت ہو تم پر۔‘‘ میں نے نفرت سے کہا۔
’’سنئے تو سہی میاں صاحب۔‘‘
’’جو کچھ سنا دیا ہے تو نے، اس سے زیادہ نہ سنا۔ تیرے حق میں بہتر ہے۔ اکرام انہیں یہاں سے نکال دو۔‘‘ میں ان کے پاس سے اٹھ کر واپس چل پڑا۔ اکرام نے انہیں وہاں نہ رہنے دیا۔ اسی وقت انہیں خانقاہ سے دور جانا پڑا تھا۔
مجھ پر عجیب سی کیفیت طاری تھی۔ دل لرز رہا تھا اس کہانی پر… کیسے کیسے مردود انسان ہوتے ہیں اس دنیا میں… لاحول ولاقوۃ۔ اکرام میرے پاس آکر بیٹھ گیا۔ ہم دونوں خاموش تھے مگر یہ خاموشی قائم نہ رہ سکی۔ شامی نظر آیا تھا، اس کے ساتھ نادر حسین بھی تھا۔ لباس پہنے ہوئے نہایت بہتر حالت میں۔ ہم دونوں حیرت سے اچھل کر کھڑے ہوگئے۔
’’بڑا بابا ٹھیک ہوگیا مسعود بھائی! ہمارا بڑا بابا ٹھیک ہوگیا۔‘‘ شامی خوشی سے بولا۔
’’واقعی خوشی کی بات ہے۔ نادر حسین کیسے ہو تم؟‘‘
’’میں تو جیسا تھا، ویسا ہی ہوں بس تم لوگوں کی بینائی متاثر ہوگئی ہے۔‘‘ نادر حسین نے جواب دیا۔ میں چونک کر اسے دیکھنے لگا۔ اس کا لہجہ بدلا ہوا تھا تاہم میں نے اس پر تبصرہ نہیں کیا اور شامی سے بولا۔
’’چلو شامی! تمہاری محنت بار آور ہوئی۔ ہاں نادر حسین اب ہم یہاں سے جانا چاہتے ہیں۔ تم نے وعدہ کیا تھا کہ ایک مخصوص وقت گزارنے کے بعد ہمیں اجازت دے دو گے۔‘‘
’’مخصوص وقت گزرا کہاں ہے۔ جلد بازی کیوں کررہے ہو۔ ابھی نہیں… ابھی نہیں۔‘‘ اس نے کہا۔ پھر شامی سے بولا۔ ’’جائو تم آرام کرو، آرام کا وقت ہے۔‘‘
’’جی بڑے بابا۔‘‘ شامی نے کہا۔ پھر مجھے ہلکا سا اشارہ کیا اور وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ مقصد یہ تھا کہ وہ باتیں تو ٹھیک کررہا ہے مگر میں اس کا خیال رکھوں۔ کہیں بھاگ نہ جائے۔ شامی چلا گیا مگر اس نے اور کوئی بات نہیں کی، خاموشی سے گردن جھکا کر بیٹھ گیا۔ مجھے خود ہی کہنا پڑا۔
’’شامی کو بھیج کر تم کوئی خاص بات کہنا چاہتے تھے؟‘‘
’’ہاں! رکو… ابھی یہاں رکو۔ کہیں سے بلاوا تو نہیں آیا ہے؟‘‘
’’کیسا بلاوا…؟‘‘ میں نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھ کر کہا۔
’’بلاوے الگ الگ ہوتے ہیں، کیا سمجھے۔ سارے بلاوے الگ الگ ہوتے ہیں۔ تمہارا کوئی بلاوا نہیں ہے، ابھی رکو، نہ جانے کسے کسے تمہاری ضرورت پڑے۔‘‘
میں خاموشی سے اسے دیکھنے لگا۔ نادر حسین کے بولنے کا یہ انداز نہیں تھا۔ وہ تو میرا بہت احترام کرتا تھا لیکن اس کا یہ انداز بالکل مختلف تھا۔ اس کے بعد اس نے بالکل خاموشی اختیار کرلی۔ وہ رخ بدل کر بیٹھ گیا تھا۔ اکرام نے تھکے تھکے لہجے میں کہا۔
’’آپ بیٹھیں گے مسعود بھائی؟‘‘
’’نہیں۔ چلو آرام کریں۔‘‘ میں نے اٹھتے ہوئے کہا حالانکہ شامی مجھے اشارہ کرکے گیا تھا لیکن میں رات بھر چوکیداری نہیں کرسکتا تھا۔ پھر اب وہ بہتر بھی نظر آرہا تھا۔ چنانچہ میں نے اپنی آرام گاہ کا رخ کیا۔ اکرام نے بھی نادرحسین کے انداز کو محسوس کیا تھا۔ آرام گاہ میں آکر میں نے پُرخیال لہجے میں کہا۔ ’’اگر آپ کہیں مسعود بھائی تو میں شامی کو ہوشیار کر آئوں؟‘‘
’’کس سلسلے میں؟‘‘
’’یہی کہ ہم وہاں سے اٹھ گئے ہیں، اب وہ خود نادر حسین کا خیال رکھے۔ میرے خیال میں وہ ابھی ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’اس کے بات کرنے کا انداز بتاتا ہے وہ آپ سے اس لہجے میں تو بات نہیں کرتا تھا۔‘‘ میں نے اکرام کی بات کا جواب نہیں دیا۔ چنانچہ اکرام بھی خاموش ہوگیا۔ ہم دونوں آرام کرنے لیٹ گئے تھے مگر نیند نہیں آرہی تھی۔ شیخ مغیث اور اس کی بیوی کا خیال بار بار آرہا تھا۔ دونوں بدبختوں سے مجھے شدید کراہت محسوس ہوئی تھی۔ یہ نہ معصومیت تھی، نہ لاپروائی۔ اتنا بڑا کام انہوں نے نہایت آسانی سے کر ڈالا تھا۔ کچھ تو سوچنا چاہئے تھا مگر اندازہ ہوتا تھا کہ شیخ مغیث پہلے ہی ایک بدانسان تھا، اس کے خون میں وفا نہیں تھی۔ وہ شقی القلب تھا ورنہ اپنے محسنوں کے احسان کو کبھی نہ بھولتا جنہوں نے اس کا مستقبل بنایا، انہیں اس نے تسلیم نہ کیا۔ باقی بات رہی اس کی بیوی کی تو یقیناً وہ بدکردار عورت تھی اور اس سے وفا ممکن نہیں تھی۔ جو کچھ میں نے شدید کراہت کے عالم میں کہا تھا، اس پر مجھے کوئی افسوس نہیں تھا۔
رات کافی گزر گئی۔ اکرام بھی کروٹیں بدل رہا تھا۔ میں نے اسے پکار لیا۔ ’’نیند نہیں آرہی؟‘‘
’’ہاں بھیا۔ باہر چلیں؟‘‘
’’میں خود یہی سوچ رہا تھا۔ باہر کھلی فضا ہوگی۔‘‘
ہم دونوں باہر نکل آئے۔ عبادت سے بہتر اور کیا مشغلہ ہوسکتا تھا۔ وضو کیا اور آگے بڑھ گئے۔ تبھی نادر حسین نظر آیا۔ جہاں چھوڑ گئے تھے، وہیں گردن جھکائے بیٹھا تھا۔ اسے مخاطب کرنے کو دل نہ چاہا۔ ہم اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گئے۔ اس کی پشت ہماری طرف تھی۔ میں نے اس کی طرف سے ذہن ہٹا لیا اور آنکھیں بند کرلیں، پھر میں نے درود شریف کا ورد کیا۔ ابھی پہلی بار درود شریف ختم کیا تھا کہ دفعتاً نادر حسین کی آواز سنائی دی۔ وہ چیخ مار کر کھڑا ہوگیا۔ میں اور اکرام چونک کر اسے دیکھنے لگے۔
’’احمق ہو تم… دیوانے ہوگئے ہو، بالکل پاگل ہوگئے ہو۔‘‘ وہ بپھرے ہوئے لہجے میں بولا۔
’’کیا ہوا نادر حسین؟‘‘ میں نے تعجب سے پوچھا۔
’’پاک کلمات کسی کی پشت پر نہیں پڑھے جاتے، آئندہ خیال رکھنا۔‘‘ اس نے کہا اور میری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ میں کچھ بولا بھی نہیں تھا کہ اس نے کہا۔ ’’بلاوا آگیا ہے میرا۔ جب تک تمہارا بلاوا نہ آئے، یہاں سے نہ جانا۔ ایک حاجت مند کی حاجت روائی ضروری ہے۔ حق…‘‘ اس نے زور سے نعرہ لگایا اور اچانک اس کے لباس میں آگ لگ گئی۔ مجھے اور اکرام کو نہیں معلوم تھا کہ شامی کچھ لوگوں کے ساتھ خفیہ طور پر اس کی نگرانی کررہا ہے۔ ابھی ہم دونوں ششدر کھڑے غور کررہے تھے کیا کریں کہ عقب سے شامی کے چیخنے کی آواز ابھری اور وہ دو تین افراد کے ساتھ دوڑ پڑا۔
’’آگ… آگ… پانی… پانی۔‘‘ وہ ناچتا ہوا بولا مگر اتنی دیر میں نادر حسین کا لباس خاکستر ہوگیا تھا۔ اس نے دوسرا نعرہ لگایا اور اس کے ساتھ خانقاہ کی بلندیوں سے نیچے چھلانگ لگا دی۔ شامی کے حلق سے دلخراش آواز نکلی۔
’’بڑے بابا…‘‘ وہ دیوانہ وار بھاگتا ہوا کنارے تک آگیا۔ میں اور اکرام نے بھی اس کی تقلید کی تھی اور پھر سکڑ کر رہ گئے تھے حالانکہ جتنی بلندی سے وہ نیچے کودا تھا، اس کے ہاتھ، پائوں ٹوٹ جانے چاہئے تھے لیکن نیچے وہ تاروں کی چھائوں میں بے تکان دوڑتا نظر آرہا تھا۔ لباس سے عاری، ہر تکلیف سے بے نیاز۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔ میرے بدن میں شدید سنسنی دوڑ رہی تھی۔
’’اس پر پھر دورہ پڑ گیا مسعود بھائی۔ آہ! اب کیا ہوگا؟ وہ پھر ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔‘‘ شامی نے افسوس بھرے لہجے میں کہا اور میں چونک کر اسے دیکھنے لگا۔
’’نہیں شامی! وہ ٹھیک ہے۔‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔
’’ٹھیک ہے؟‘‘ شامی سسکی سی لے کر بولا۔
’’ہاں! ہم سب سے زیادہ ہوشمند۔‘‘
’’نہ جانے تم کیا کہہ رہے ہو۔‘‘ شامی جھلا کر بولا اور میں شامی کو تسلیاں دینے لگا۔
’’جو کچھ میں کہہ رہا ہوں، وہی درست ہے شامی۔ اب وہ اس جھوٹی خانقاہ کا بزرگ نہیں ہے۔‘‘
’’اب کیا ہوگا مسعود بھائی۔ ہمیں پھر اس کے پیچھے نکلنا ہوگا۔ نہ جانے کہاں سے کہاں نکل جائے وہ۔ ہمیں بتائو اب کیا کریں۔‘‘
’’جو کچھ کرو گے، بیکار ہوگا۔ ویسے تم اپنی مرضی کے مالک ہو۔ آئو اکرام۔‘‘ میں نے کہا اور اکرام کو ساتھ لے کر اپنی آرام گاہ میں آگیا۔ خانقاہ میں جتنے لوگ تھے، سب وہیں جمع ہوگئے تھے۔
’’سچ مچ شدید ذہنی دبائو کا شکار ہوں مسعود بھائی۔ برداشت نہیں ہو رہا ورنہ آپ سے نہیں کہتا۔‘‘ اکرام بے بسی سے بولا۔
’’کیا بات ہے اکرام؟‘‘
’’نادر حسین کو کیا ہوگیا؟‘‘
’’وہ جو مصرع ہے نا کہ خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھئے احوال، وہ صادق آگیا ہے۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’عہدہ مل گیا ہے اسے، مجذوب ہوگیا ہے۔ ویسے بھی اکرام، تمہیں یاد ہوگا وہ ڈاکو تھا۔ جعلی خانقاہ میں وہ لوگوں کو جھوٹے دلاسے دیتا تھا لیکن خود کو پیر کہلوانے سے لرزتا تھا۔ خود کو دنیا کا بدترین انسان سمجھتا تھا۔ اسے اپنے گناہوں کا شدید احساس تھا۔ اللہ کو اس کی کوئی ادا بھائی، اسے بہت بڑا مقام مل گیا۔‘‘
’’سبحان اللہ… تو یہ بات ہے۔‘‘
’’ایک آدھ بار شبہ ہوا تھا، یقین نہیں کرسکا تھا۔‘‘
’’پھر یہ اندازہ کیسے ہوا؟‘‘
’’اس کی پشت ہماری طرف تھی۔ میں نے درود شریف پڑھ لیا تھا۔ وہ تڑپ گیا۔ کلام الہٰی کی بے حرمتی برداشت نہیں کرسکا۔ اب واقعی وہ اس خانقاہ کا انسان نہیں ہے۔‘‘
اکرام خاموش ہوگیا۔ ہم دونوں ہی تاثر میں ڈوبے ہوئے تھے۔ میں نادر حسین کی خوش بختی پر رشک کررہا تھا۔ بہرحال یہ رمز تھے جو انسانی عقل کے دائرے میں نہیں آتے۔ کچھ دیر کے بعد اکرام نے کہا۔
’’یہاں رکو گے مسعود بھائی؟‘‘
(جاری ہے)