Kala Jadu | Episode 74

1121
مسعود کا سامنا اتفاقاً کالے جادو کے ماہر بھوریا چرن سے ہوا تو وہ لمحہ گویا اس کیلئے نت نئی مصیبتوں کا آغاز ثابت ہوا۔ بھوریا، مسعود کو اپنا آلۂ کار بنانا چاہتا تھا لیکن مسعود کو کسی قیمت پر شیطان کا ساتھی بننا گوارا نہ تھا۔ یہیں سے بھوریا سے اس کی دشمنی کی ابتداء ہوئی۔ بھوریا نے اپنی شیطانی طاقتوں سے کام لیتے ہوئے مسعود کا جینا اجیرن کردیا لیکن وہ ثابت قدمی کے ساتھ اپنے انکار پر ڈٹا رہا۔ انہی حالات میں مسعود کچھ خاص ہستیوں کی نظر میں آیا اور ان کی مہربانیوں کے نتیجے میں شیطانی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لائق ہوگیا لیکن بھوریا نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔ اسی آنکھ مچولی کے دوران مسعود کی ملاقات ایک بے سہارا اور مظلوم لڑکی ثریا سے ہوئی اور وہ اسے پسند کرنے لگا لیکن حالات نے اسے ثریا سے دور کردیا۔ وہ خدمتِ خلق میں مصروف ہوگیا تھا۔ پھر جب اس کی ملاقات ثریا کے بھائی اکرام سے ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ دونوں بھی بھوریا کے ظلم کا شکار ہوئے تھے، بھوریا نے اکرام کو اپنے جال میں پھنسانے کی خاطر ثریا کی زبان کاٹ ڈالی تھی اور بہن بھائی کو ایک دوسرے سے جدا کردیا تھا۔ مسعود اور اکرام، ثریا کی تلاش میں تھے جسے بھوریا نے نہ جانے کہاں غائب کردیا تھا۔ ثریا کی تلاش کے ساتھ ساتھ مسعود کا خدمتِ خلق مشن بھی جاری تھا لہٰذا اس دوران وہ مختلف حالات و واقعات سے گزرتا ہوا ایک ایسی خانقاہ تک جا پہنچا جسے ایک جعلی پیر بابا چلا رہا تھا۔ لوگ اپنی منتیں مرادیں لے کر اس کے پاس آتے تھے اور وہ ان سے چڑھاوے وصول کرتا تھا۔ وہاں قیام کے دوران پیر بابا نے مسعود اور اکرام کو اپنی کہانی سنائی تو معلوم ہوا کہ وہ زمانے کا ستایا ہوا تھا اور مجبوراً یہ کام انجام دے رہا تھا۔ پھر اچانک پیر بابا کا ذہنی توازن خراب ہوگیا اور مسعود کو وقتی طور پر خانقاہ کا انتظام سنبھالنا پڑا۔ اس دوران اس نے کلامِ الہٰی کے ذریعے لوگوں کی مدد کی اور وہاں آنے والے اچھے برے سائلین کو نمٹاتے ہوئے اسے اندازہ ہوا کہ پیر بابا بظاہر جس کا ذہنی توازن خراب نظر آتا تھا، ایک مجذوب کا درجہ پا چکا تھا۔
(اب آپ آگے پڑھیے)
٭…٭…٭
’’تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’کچھ اکتاہٹ سی محسوس ہورہی ہے۔ ویسے بھی ہم یہاں رک گئے ہیں، کوئی کام نہیں ہو رہا۔‘‘ اکرام نے اس طرح کہا کہ مجھے ہنسی آگئی۔ وہ معصوم نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔
’’ہم کام ہی کیا کرتے ہیں اکرام۔ بس یہاں وہاں۔ ویسے ابھی کچھ دن یہاں گزاریں گے۔ ابھی یہاں سے جانے کا وقت نہیں آیا۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ میں نے بس ایسے ہی پوچھ لیا تھا۔‘‘
رات گزر گئی۔ نہ جانے کب تک نادر حسین کے بارے میں سوچتا رہا تھا اور ان حالات پر غور کرتا رہا تھا۔ نادر حسین بے شک خوش نصیب تھا کہ اس نے اتنا بڑا مقام پالیا تھا۔ دوسرا دن منگل کا تھا۔ آج عرضیاں لکھی جاتی تھیں۔ یہ سلسلہ یونہی چل رہا تھا۔ عرضیاں لکھی جاتیں، حاجت مندوں کی درد بھری آوازیں ہمیں مائیکروفون پر سنائی دیتیں اور ہم انہیں لکھ لیا کرتے، پھر جو کچھ میرے دماغ میں آتا، اس کے مطابق مشورے دے دیا کرتا۔ مشورے جمعرات کو دیئے جاتے تھے۔
معمول کے مطابق ہم تیار ہوکر بیٹھ گئے۔ اکرام بھی کاغذ، قلم لے کر بیٹھا تھا۔ دردمند اپنی اپنی کہانیاں سناتے رہے۔ بعض کہانیاں آنکھیں بھگو دیا کرتی تھیں۔ دعائیں اور دوائیں چل رہی تھیں۔ اچانک مجھے ایک آواز سنائی دی۔
’’دکھیاری ہوں سائیں بابا۔ میری کہانی سنو گے۔ سن لو سائیں بابا! سنو تو اچھا ہے، نہ سنو گے تو سمجھوں گی کہ تم بھی سب کی طرح ہو۔ سب کچھ کھو گیا ہے میرا سائیں بابا… کچھ بھی نہیں بچا ہے۔ شمسہ ہے میرا نام، دو کڑیل بھائی تھے۔ ماں، باپ تھے میرے، ایک ماموں تھے۔ بھرا گھر اجڑ گیا سائیں جی… بھائی بچھڑے۔ ماں باپ جوان بیٹوں کے دکھ میں پاگل ہوگئے۔ دردر پھرے ہم پھر سائیں۔ نحوست میری طرف بڑھی۔ رشتہ آیا۔ میرے ماں باپ اس حالت میں نہیں تھے کہ شادی کریں، منع کردیا انہوں نے۔ وہ لوگ چڑ گئے، مجھے چھین لیا انہوں نے میرے ماں باپ سے… جبری نکاح پڑھایا۔ میرا میاں مجھے لے کر مارا مارا پھرتا رہا۔ دل برا تھا اس کا میری طرف سے۔ کبھی عزت نہیں دی اس نے مجھے، چار چوٹ کی مار مارتا ہے ذرا سی غلطی پر۔ تین بچے ہوگئے ہیں میرے، کوئی سہارا نہیں ہے ان کا جی۔ وہ بری عورتوں کے پھیر میں رہتا ہے سائیں… ماں باپ کا پتا نہیں ہے۔ میرے بھائی نہیں ملتے سائیں جی! میری مشکل دور کردو سائیں، میری منزل مجھے دے دو۔ مر بھی نہیں سکتی سائیں بابا… تین جانیں اکیلی رہ جائیں گی جی۔ کیا کروں ان کا، مشکل حل کردو سائیں جی…‘‘
دل کی حرکت بند ہونے لگی، خون کی روانی رک گئی، سانس تھم گیا۔ یہ دردوکرب میں ڈوبی ہوئی آواز میرے لئے اجنبی نہیں تھی۔ عرصہ ہوگیا تھا، صدیاں بیت گئی تھیں لیکن یہ آواز کیسے بھول سکتا تھا۔ ہر جملہ سسکی تھا، ہر لفظ زخم تھا۔ آہ! شمسہ میری بہن، میری بہن مجھ سے کچھ گز دور تھی۔ وہ مجھے اپنی کہانی سنا رہی تھی۔ وہ مجھے میری کہانی سنا رہی تھی پھر شامی کی آواز ابھری۔
’’چلو بہن… دوسرے کو آنا ہے۔‘‘
’’جاتی ہوں بھیا، جاتی ہوں سائیں۔ بڑی آس لے کر آئی ہوں۔ سائیں، میرے سائیں… سن لو، مجھ پر غور کرلو، کوئی سہارا نہیں ہے۔‘‘
’’چلو بہن، اٹھو جلدی کرو۔‘‘
’’اٹھتی ہوں بھیا، جاتی ہوں سائیں، بڑی آس لے کر آئی ہوں سائیں… جاتی ہوں بھائی، ابھی جاتی ہوں، جمعرات کو آئوں گی سائیں بابا۔ جمعرات کو… ہاں ہاں جاتی ہوں۔‘‘
درد و کرب میں ڈوبی چیخ کو نہیں روک سکا تھا اور اس آواز پر اکرام بری طرح اچھل پڑا تھا۔ ہچکیاں بندھ گئی تھیں میری۔ اکرام سب کچھ چھوڑ کر مجھ سے آ لپٹا تھا۔
’’مسعود بھائی، مسعود بھائی۔ کیا ہوگیا مسعود بھائی۔ کیا بات ہے، ارے یہ کیا حالت ہوگئی مسعود بھائی… مسعود بھائی۔‘‘ اکرام بے چین ہوکر مجھے جھنجھوڑنے لگا لیکن کچھ ایسا بے اختیار ہوا تھا کہ خود پر قابو ہی نہیں رہا تھا۔ اکرام نے پانی پلایا۔ اس کے بعد کوئی عرضی نہ لکھی جاسکی تھی۔ زمین پر لیٹ گیا۔ دل قابو میں نہیں آرہا تھا۔ اکرام اوپر جاکر شامی اور دوسرے لوگوں کو بلا لایا۔ بے وقوف کوئی بھی نہیں تھا، اب سب ہی میری حیثیت سے آشنا ہوچکے تھے۔ جانتے تھے کہ جب سے میں خانقاہ میں داخل ہوا ہوں، کایا ہی پلٹ گئی ہے۔ نقلی خانقاہ اصلی ہوگئی ہے۔ جو آتا ہے یہی کہتا ہوا آتا ہے کہ اس کا کام بن گیا۔ یہاں تک کہ ان کا بڑا بابا بھی میرا معتقد نظر آیا تھا۔ سب کو اس بات کا اندازہ تھا کہ اب خانقاہ میرے ہی دم سے چل رہی ہے اور ان لوگوں کی دال روٹی کا بندوبست ہے۔ چنانچہ سب ہی مجھ سے مانوس ہوگئے تھے، خصوصاً شامی۔ میری یہ حالت دیکھ کر وہ سب سخت پریشان ہوگئے اور طرح طرح کی باتیں کرنے لگے۔ کوئی ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا مشورہ دینے لگا تو کوئی دوائیں تجویز کرنے لگا۔ سب ایک ہی سوال کررہے تھے کہ کیا ہوگیا، اچانک ہی کیا ہوگیا اور اکرام گھبرا گھبرا کر انہیں بتا رہا تھا کہ بس بیٹھے بیٹھے ہی طبیعت بگڑ گئی ہے۔ کوئی ایسی بات تو نہیں ہوئی جو سمجھ میں آسکے۔ سب کی آوازیں میرے کانوں تک پہنچ رہی تھیں۔ مجھے اپنی اس کیفیت پر شرمندگی بھی تھی لیکن کچھ ایسا بے بس ہوا تھا کہ اپنے آپ کو سنبھالنا مشکل ہوا جارہا تھا۔ شمسہ کی درد بھری باتیں کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی مانند اُتر رہی تھیں۔ کیسی بے بسی تھی اس کی آواز میں… میری بہن… آہ میری بہن… اس کے تصور سے آنکھوں سے آنسو ابلتے چلے آرہے تھے۔ روکنا چاہتا تھا ان آنسوئوں کو لیکن کچھ ایسے بے اختیار ہوئے تھے کہ کچھ بھی میرے بس میں نہیں رہا تھا۔ پانی پلایا گیا، سہارے دیئے گئے۔ نہ جانے کیسے کیسے جتن کرکے اپنی حالت پر تھوڑا سا قابو پایا۔ بھرائی ہوئی آواز میں ان لوگوں سے کہا کہ کوئی خاص بات نہیں ہے، بس اندر سے شدید گرمی کی ایک لہر اٹھی ہے اور کچھ نہیں ہے۔ ٹھیک ہوں۔ ہمدرد اور محبت کرنے والے یہ سن کر سہارا دیئے ہوئے زبردستی باہر لائے۔ خانقاہ کے عقبی حصے میں ایک صاف ستھری جگہ مجھے لٹا دیا گیا۔ ہر شخص ہی کسی نہ کسی چیز سے مجھے پنکھا جھل رہا تھا۔ ابھی خانقاہ کے دوسرے حصے میں زائرین موجود تھے۔ چنانچہ یہ عقبی حصہ منتخب کیا گیا تھا۔ میں نے خود پر قابو پانے کی کوششیں شروع کردیں۔ ہر خیال کو ذہن سے مٹا دیا۔ زخم تو دل پر ہمیشہ سے موجود تھے۔ بس ان پر ایک ہلکی سی تہہ چڑھا لی تھی لیکن کھرنڈ نہیں بن پائے تھے۔ زخم درست نہیں ہوئے تھے۔ ایک آواز سے ایک زخم کی جھلی اتر گئی تھی، خون تو بہنا ہی تھا، برسوں سے رکا ہوا تھا۔ بہتا رہا لیکن آخر کب تک… جب خون ہی ختم ہوجائے جسم میں تو کیا بہے گا۔ آنسوئوں کی روانی رک گئی۔ وہ قدرتی تسلی جو آسمانوں سے اترتی ہے، دل پر حاوی ہوگئی۔ سہارا دیا خود کو اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اب ان لوگوں کو سمجھانا بھی ضروری تھا جو بے چین تھے، افسردہ تھے، مضطرب تھے میرے لئے۔ مدھم سے لہجے میں، میں نے ان سے کہا۔
’’بہت معذرت خواہ ہوں آپ سب سے، خواہ مخواہ ایک ذرا سی گرمی سے کیفیت بگڑ گئی تو آپ لوگوں کو پریشان ہونا پڑا۔ بس دل پر ایک بوجھ سا آپڑا تھا۔ نہ جانے کیوں آنکھوں نے آنسو نکل پڑے۔ اب ٹھیک ہوں۔‘‘
’’آپ ہمارے لئے بہت بڑی چیز ہیں مسعود بھائی… خدا کیلئے خود کو سنبھالئے۔ ہم بے خانماں لوگ جو پہلے بہت برے تھے اور اب ہم میں سے ہر ایک یہ بات کہہ سکتا ہے کہ آپ کے آنے کے بعد ہماری کایا پلٹ ہوگئی۔ احمق نہیں ہیں۔ ہم لوگ غور کرتے ہیں، ہم برے راستوں کے راہی تھے۔ یہ خانقاہ دھوکے کا گھر تھی۔ آپ کے آنے کے بعد سب کچھ بدل گیا یہاں تک کہ ہم بھی بدل گئے۔ مسعود بھائی خود کو سنبھالئے خدا کیلئے… آپ ہماری زندگی کا سہارا ہیں۔ آپ کو اگر کوئی نقصان پہنچ گیا تو بے موت مارے جائیں گے ہم سب۔‘‘ میں نے انہیں تسلیاں دی تھیں۔ کہا تھا کہ انسان ہوں اور انسان کی کیفیت کبھی نہ کبھی خراب ہو ہی جاتی ہے۔ بہرطور اس طرح ان لوگوں کی عیادت میں رات ہوگئی تھی۔ زائرین جا چکے تھے اور خانقاہ پر پھر وہی ہُو کا عالم طاری ہوگیا تھا۔ باہر ہی رہا اور ٹھنڈی ہوائوں نے کیفیت کافی بہتر کردی۔ ویسے بھی تمام لوگوں کا ساتھ تھا۔ سوچ کے دروازے عارضی طور پر بند ہوگئے تھے۔ چنانچہ سنبھل گیا۔ قوت ارادی سے بھی کام لیا تھا پھر واپسی کا فیصلہ کیا اور کچھ دیر کے بعد اکرام کے ساتھ تنہا رہ گیا۔ اکرام کے چہرے پر ایک عجیب سی مُردنی چھائی ہوئی تھی۔ اس نے اس کے بعد مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا تھا۔ ظاہر ہے میرے لئے پریشان تھا مگر میں کیا کرتا۔ ایسا ہی ایک موڑ آگیا تھا کہ میری اپنی قوت فیصلہ جواب دے گئی تھی۔ کتنے عرصے کے بعد شمسہ کی آواز سنائی دی تھی۔ محبت کرتا تھا میں اپنی بہن سے، بہت محبت کرتا تھا۔ وہ ابتدائی دور یاد تھا جب ہم سب ساتھ رہتے تھے۔ شمسہ کی شرارتیں، ماموں ریاض کا مجھے ڈانٹنا، ہر چیز مجھے یاد آگئی تھی لیکن… لیکن یہ کیسی قید تھی، یہ کیسی پابندیاں تھیں کہ میں اپنی بہن تک نہیں جاسکتا تھا۔ مجھ سے کہا گیا تھا کہ صبر کروں۔ کیا انسانی قوت برداشت اس حد تک ہوسکتی ہے۔ ذہن بھٹکنے لگا۔ توبہ کی، آنکھیں بند کرلیں۔ سونا چاہتا تھا اور اس میں مجھے ناکامی نہیں ہوئی۔ یہ سہارا مجھے دے دیا گیا تھا اور نیند کے اس سہارے نے رات گزار دی۔ ایسا بے خبر سویا کہ فجر کے وقت ہی آنکھ کھلی تھی۔ وضو کیا، نماز پڑھی۔ اکرام میرے ساتھ تھا اور اسی طرح سنجیدہ سنجیدہ نظر آرہا تھا۔ دل کو کچھ ڈھارس سی ملی تھی لیکن نماز کے بعد اکرام نے پھر پیمانۂ ضبط توڑ دیا۔ اس نے عرضی میرے سامنے کرتے ہوئے کہا۔
’’مسعود بھائی! وہ شمسہ تھی نا آپ کی بہن؟‘‘ اس کی آواز رندھی ہوئی تھی۔
میں نے چونک کر اکرام کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ کہنے لگا۔ ’’بتایئے نا مسعود بھائی! وہ شمسہ ہی تھی نا؟‘‘
’’ہاں…‘‘ میں نے اس سے جھوٹ نہیں بولا۔
’’میں سمجھ نہیں پایا تھا اس وقت لیکن رات کو میں نے بہت غور کیا اور اس کے بعد یہ عرضی پڑھی جو صرف میں نے لکھی تھی، آپ نے نہیں لکھی تھی۔ مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ سب اسی کا ردعمل ہے، جو کچھ آپ مجھے سنا چکے ہیں مسعود بھائی، اس سے میں نے یہ اندازہ لگا لیا کہ وہ ہماری بہن شمسہ تھی۔‘‘ میں نے ایک ٹھنڈی سانس لے کر کہا۔
’’ہاں اکرام! وہی تھی اور میری یہ کیفیت اسی وجہ سے ہوئی تھی۔‘‘
اکرام نے عرضی نکال لی اور کہنے لگا۔ ’’دوبارہ پڑھئے اسے مسعود بھائی، دوبارہ پڑھئے۔‘‘
’’نہیں اکرام، خدا کیلئے۔ میں اسے دوبارہ نہیں پڑھ سکوں گا۔ میں تو اسے لکھ بھی نہیں سکا تھا۔‘‘
’’حقیقتوں سے چشم پوشی ممکن نہیں ہے مسعود بھائی۔ آپ دنیا کے مسائل حل کرتے رہتے ہیں۔ اس وقت اگر آپ اسے اپنی بہن نہ بھی تصور کریں تب بھی آپ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس کی مشکل کا حل تلاش کریں۔ آپ نے سن لیا ہے وہ سب کے دکھوں میں ڈوبی ہوئی ہے اور… اور اس کے بعد بھی اس کی زندگی کو کوئی بہتر راستہ نہیں ملا۔ وہ کہتی ہے کہ اس کا شوہر اسے لے کر مارا مارا پھرتا رہا۔ وہ اس کی عزت نہیں کرتا، مارتا ہے اسے۔ تین بچے ہیں اس کے اور کوئی سہارا نہیں ہے۔ کیا ہم اسے نظرانداز کردیں گے مسعود بھائی؟‘‘
’’خدا کیلئے اکرام، خدا کیلئے اکرام۔‘‘
’’نہیں مسعود بھائی۔ میں نے ہمیشہ آپ کی ہر بات پر سر جھکایا ہے۔ یہاں میں وفاداریوں کا حق نہیں ادا کر رہا بلکہ پہلی بار میرے دل نے آپ سے بغاوت کی ہے۔ میرا دل کہتا ہے کہ شمسہ پوری توجہ کی مستحق ہے۔ ہمیں اس پر خاص توجہ دینا ہوگی۔‘‘
میں نے بے بسی سے اکرام کو دیکھا۔ کیا بتاتا اسے، کیسے کہتا کہ مجھے اجازت نہیں ہے۔ اکرام نے کہا۔
’’وہ جمعرات کو آئے گی مسعود بھائی۔ وہ جمعرات کو آئے گی۔ آپ کو اس سے ملنا ہوگا۔‘‘
’’نہیں اکرام، کیسی باتیں کرتے ہو تم۔‘‘
’’میں ٹھیک کہتا ہوں مسعود بھائی۔ ہم اسے بھرپور سہارا دیں گے۔‘‘
’’اکرام ہماری دنیا ہی بدل جائے گی۔‘‘
’’تو بدل جائے… کیا کرسکتے ہیں، ہم بے بس ہیں، کمزور ہیں۔‘‘
’’بکو مت، یہ نہیں ہوسکتا۔ عمر بھر کی محنت اکارت جائے گی۔ اکرام یہ نہیں ہوسکتا۔ میں نے تم سے آخری بات کہہ دی ہے۔‘‘ اکرام خاموش ہوگیا۔ اس نے گردن جھکا لی تھی۔ ویسے بھی بہت زیادہ نہیں بولتا تھا مجھ سے۔ میرے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا تھا۔ دن بھر خاموش خاموش رہا۔ معمولات جاری رہے۔ میں جانتا تھا کہ وہ تعاون کرنے والوں میں سے ہے۔ نہ جانے کتنی بار ہوک اٹھی لیکن پھر دل کو مسوس کر خاموش ہوگیا۔ البتہ دوسرے دن میں نے اکرام سے کہا۔
’’وہ شام کو آئے گی اکرام۔ تم اسے تھوڑی سی رقم دے دینا۔ یہ کچھ پیسے ہیں میرے پاس، یہ اس کے حوالے کردینا اور اسے تسلیاں بھی دینا۔ یہ کام تم کرلینا، میں تمہیں اس کی اجازت دیتا ہوں۔‘‘
’’آپ نہیں ملیں گے اس سے مسعود بھائی؟‘‘
’’نہیں… سب کچھ ختم ہوجائے گا اکرام۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ اس کے بعد کیا ہوجائے۔ خدا کیلئے یہ سب کچھ نہ کرنا، مجھے اس کیلئے مجبور مت کرنا۔‘‘ اکرام نے کوئی جواب نہیں دیا۔ خاموش ہوگیا۔ شام ہوئی۔ عرضیاں تیار ہوچکی تھیں یعنی جن جن لوگوں نے اپنی مشکلات کا اظہار کیا تھا، انہیں ان کا حل بتا دیا گیا تھا۔ اکرام کو میں نے ہدایات دے دی تھیں لیکن دل تھا کہ قابو سے باہر ہوا جارہا تھا۔ اکرام، شمسہ سے ملے گا۔ جو کچھ بھی کہے گا وہ اس سے، وہ الگ بات ہے لیکن میں، میں اپنی بہن کا چہرہ بھی نہیں دیکھ سکوں گا۔ آہ! وہ مجھ سے کچھ فاصلے پر موجود ہے۔ کتنے برسوں سے بچھڑی ہوئی ہے۔ کتنے دکھ سے اس نے کہا تھا کہ پورا خاندان منتشر ہوگیا ہے۔ بھائی بچھڑ گئے ہیں، کچھ بھی نہیں رہا ہے اس کے پاس۔ میں جانتا ہوں کہ وہ کچھ فاصلے پر موجود ہے لیکن میں… میں روتا رہا، اندر ہی اندر روتا رہا اور وقت گزر گیا۔ اکرام واپس میرے پاس نہیں آیا تھا۔ انتظار کررہا تھا میں اس کا، آئے۔ مجھے بتائے کہ شمسہ سے کیا بات ہوئی۔ کیا کیا اس نے، کیا کہا اس نے… لیکن اکرام کو ضرورت سے زیادہ دیر ہوگئی۔ وقت اتنا ہوگیا تھا کہ تمام زائرین واپس جا چکے تھے۔ اب ذرا بے چین ہوگیا۔ اکرام واپس کیوں نہیں آیا۔ پھر میں خود بھی باہر نکل آیا۔ شامی اور دوسرے لوگ اپنے معمولات میں مصروف تھے۔ میں نے اکرام کے بارے میں کسی سے پوچھا نہیں۔ بیکار ہی تھا۔ لگ رہا تھا کہ یہاں موجود ہی نہیں ہے۔ کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔ یہ اکرام کو کیا ہوگیا، کہاں چلا گیا وہ۔ ذہن طرح طرح کے خیالات میں ڈوبا رہا۔ ایک گوشے میں بیٹھ کر اکرام کا انتظار کرنے لگا۔ اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ جذباتی ہوگیا ہے۔ کہیں وہ شمسہ کے پیچھے پیچھے ہی نہ نکل گیا ہو۔ ہوسکتا ہے بہرحال انسان ہے لیکن اگر اس نے ایسا کیا ہے تو حد سے تجاوز کرنے والی بات ہے۔ میں نے اس کو اس کی اجازت نہیں دی تھی۔ پھر خود ہی اپنے آپ کو سمجھا بھی لیا۔ اکرام بس میرا ساتھی ہے، محکوم تو نہیں وہ میرا۔ اگر اس نے اپنے طور پر کوئی عمل کیا ہے تو ایسی بری بات بھی نہیں ہے کہ میں اس پر بگڑنے لگوں۔ اپنی مرضی کا مالک ہے وہ۔ کسی بھی لمحے میرے پاس سے جاسکتا ہے۔ ویسے یہ تصور ذرا عجیب سا لگا تھا۔ اب تو اکرام کی کچھ اس طرح عادت ہوگئی تھی کہ اسے اپنے ہی جسم کا ایک حصہ سمجھنے لگا تھا۔ پگلا کہیں کا وہ کام کررہا ہے جو میں نہیں کرسکتا، لیکن اچھا تو ہے، کم ازکم شمسہ کے بارے میں تفصیلات معلوم ہوجائیں گی۔ خدا کرے وہ اس کے پیچھے پیچھے ہی گیا ہو۔ کچھ معلومات حاصل کرکے آئے گا۔ ہوسکتا ہے ماں باپ کا کچھ پتا چل جائے۔ انہی خیالات میں بیٹھا رہا اور میرا اندازہ درست نکلا۔ اکرام واپس آگیا تھا۔ اس نے فوراً ہی مجھے تلاش کرلیا تھا۔ میرے قریب شرمندہ شرمندہ سا پہنچا۔ کہنے لگا۔
’’مجھے یقین تھا مسعود بھیا کہ آپ یہیں موجود ہوں گے، میرا انتظار کررہے ہوں گے۔ آج پہلی بار میں نے خانقاہ سے باہر جاکر اس شہر کو دیکھا ہے۔ یہ تو خاصا بڑا شہر ہے۔ بڑی گھنی آبادی ہے اس کی بھیا۔ میں شمسہ کے پیچھے گیا تھا۔ میں نے اسے تھوڑی سی رقم دے دی تھی جو آپ نے مجھے دی تھی اور میں نے اسے تسلیاں بھی دی تھیں کہ اللہ نے چاہا تو اس کی مشکلات آسان بھی ہوجائیں گی۔ بھیا پھر میں اپنے آپ کو باز نہیں رکھ سکا۔ اس کے پیچھے پیچھے وہاں تک پہنچا جہاں وہ رہتی ہے۔ ایک چھوٹا سا گھر ہے جو حسین خان نامی ایک شخص کا ہے۔ حسین خان، شمسہ کے شوہر کا دوست ہے۔ شمسہ کے شوہر کا نام فیضان ہے۔ فیضان عالم بہت اوباش طبع آدمی ہے، صورت ہی سے برا لگتا ہے اور اس کا دوست بھی کوئی اچھا آدمی نہیں ہے۔ کہیں باہر سے آکر یہاں قیام کیا ہے اور دونوں مل کر کچھ کررہے ہیں۔ شمسہ اکیلی اس گھر میں رہتی ہے کیونکہ اس کے دوست کی بیوی نہیں ہے۔ تین بچے ہیں شمسہ کے۔ دو بیٹے، ایک بیٹی اور مسعود بھیا… شمسہ کا ایک بیٹا جو پانچ سال کا ہے، بالکل آپ کا ہمشکل ہے۔ بالکل آپ جیسا۔‘‘ میں نے دونوں ہاتھ سینے پر رکھ لئے۔ دل بے قابو ہونے لگا تھا۔
’’بھیا! وہ بڑی غیر محفوظ ہے۔ اس کا شوہر درحقیقت ایک درندہ صفت آدمی ہے۔ لگتا ہی نہیں ہے کہ وہ شمسہ کو اپنی بیوی سمجھتا ہے۔ اس کا دوست شمسہ کو گندے فقرے کستا ہے لیکن وہ خاموشی سے بیٹھا ہنستا رہتا ہے۔ شمسہ اس گھر کے سارے کام کاج کرتی ہے، اپنے بچوں کو سنبھالتی ہے۔ بہت دکھی ہے وہ بھیا، بہت دکھی ہے۔‘‘
’’تو میں کیا کروں؟‘‘ میرے حلق سے ایک چیخ سی نکل گئی۔
’’نہیں مسعود بھائی! یہ تو کوئی بات ہی نہیں ہوئی کہ آپ کیا کریں۔ بھائی ہیں آپ اس کے۔ ٹھیک ہے آپ کچھ نہیں کرسکتے میں تو کرسکتا ہوں۔‘‘
’’کیا کرو گے مجھے بتائو، کیا کرو گے؟‘‘
’’مجھے اس بات کا جواب چاہئے مسعود بھائی کہ اگر آپ کی بہن آپ کے سامنے آگئی ہے۔ آپ جو کچھ بھی کررہے ہیں، وہ آپ جانتے ہیں لیکن اس بہن سے جو آپ کی سگی بہن ہے اور مصیتوں میں گرفتار ہے، اس سے یہ اجتناب کیسا؟‘‘
’’مجھے اجازت نہیں ہے کیا سمجھے اکرام، مجھے اجازت نہیں ہے۔‘‘
’’میں نہیں سمجھتا بھیا۔ انسانی رشتے اگر اتنی آسانی ہی سے چھین لئے جاتے تو ان رشتوں کا وجود نہیں ہونا چاہئے تھا۔‘‘
’’مجھے میرے گناہوں کی سزا مل رہی ہے۔‘‘ میں نے غرا کر کہا۔
’’سزا آپ کو مل رہی ہے، شمسہ کو تو نہیں ملنی چاہئے؟‘‘
’’اکرام، کیا کہنا چاہتے ہو اکرام۔ کھل کر کہو کیا کہنا چاہتے ہو۔ مجھے بتائو۔‘‘
’’شمسہ سے مل لیجئے، اسے تحفظ دیجئے اور کوئی نہیں ہے اس کا۔ آپ ہیں، میں ہوں۔ میں اسے اس طرح نہیں چھوڑ سکتا۔‘‘
’’تو جائو اس کی خبرگیری کرو، اس کے ساتھ رہو۔‘‘
’’انتہائی غمزدہ ہوں مسعود بھیا، انتہائی غمزدہ ہوں۔ سوچا تھا زندگی کے کسی حصے میں آپ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا، چاہے دنیا اِدھر سے اُدھر ہوجائے۔ مروں گا بھی آپ کے قدموں میں لیکن معاف کیجئے گا مسعود بھائی، آپ سے شدید اختلاف کررہا ہوں یہاں اور اس اختلاف کی بنیاد پر آپ سے علیحدہ ہورہا ہوں۔‘‘
میرا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔ اکرام کے چہرے پر عجیب سے تاثرات تھے۔ اس نے کہا۔
’’آپ ہی کے حوالے سے میں اس سے روشناس ہوا ہوں لیکن ایک ایسی بے بس، ایک ایسی تنہا لڑکی جس کا کوئی سرپرست نہیں۔ جس کے سر پر کوئی سایہ نہیں ہے اور یہ معلوم ہونے کے بعد کہ اس کا ماضی کیا ہے، میرا ضمیر مجھے ملامت کررہا ہے کہ میں اس خانقاہ میں آپ کے ساتھ بیٹھ کر عیش و آرام کی زندگی گزارتا رہوں اور وہ اسی طرح زندگی کے جال میں الجھی ہوئی مصیبتیں اٹھاتی رہے۔ آپ ہی کے حوالے سے مسعود بھیا اس کا بھائی ہوں اور میرا فرض مجھے مجبور کررہا ہے کہ بہن کے سر پر ہاتھ رکھوں۔ جس قابل بھی ہوں میں، اس کی خبرگیری کروں گا۔ دیکھوں گا فیضان اسے کیا نقصان پہنچاتا ہے۔ بس بھیا میرا اور آپ کا ساتھ یہیں تک تھا۔ ہمیشہ آپ کو یاد کرتا رہوں گا لیکن یہ بات بھی آپ یاد رکھئے گا کہ جب آپ کی یاد میرے دل میں آئے گی تو میں سوچوں گا کہ آپ نے اپنی ذات کی بہتری کیلئے رشتوں کو ذبح کردیا ہے۔ میں متفق نہیں ہوں آپ سے بھیا۔‘‘
میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے اکرام کو دیکھ رہا تھا۔ میرے اندر گڑگڑاہٹیں ہورہی تھیں اور میں کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ کیا کروں۔ دل چاہ رہا تھا کہ اکرام کو اٹھا کر زمین پر پٹخ دوں۔ کیوں میری زندگی کو ایک بار پھر تاریکیوں کی جانب دھکیل رہا ہے، کیوں ایسا کررہا ہے وہ… لیکن جو جذبے اس کے سینے میں موجزن ہوگئے تھے، ان سے منحرف تو میں بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ اکرام سنجیدہ چہرہ بنائے کھڑا تھا۔ کہنے لگا۔
’’میری خواہش ہے مسعود بھیا۔ میری خواہش ہے کہ آپ شمسہ سے مل لیں۔ فیضان عالم کا قبلہ درست کریں کہ وہ ایک باعزت زندگی گزارے۔ میں اس کے بعد اور کچھ نہیں چاہوں گا لیکن اگر ہم اس کی طرف سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں تو یہ بہت بڑا گناہ ہوگا۔ آپ اس سے مل لیں، آپ اس سے ضرور مل لیں۔‘‘
’’اگر میں اس سے مل لیا تو… تو۔‘‘
’’ہاں! تو آگے کہئے۔‘‘
’’تو گناہگاروں میں شمار کیا جائوں گا، نافرمان تصور کیا جائوں گا۔‘‘
’’اور اس نافرمانی کی سزا ملے گی آپ کو۔ یہی نا؟‘‘
’’اکرام… اکرام۔ حد سے بڑھ رہے ہو۔‘‘
’’بڑھ رہا ہوں بھیا۔ جب رشتے ہی اتنے بے معنی ہوتے ہیں تو پھر میرا آپ کا کیا رشتہ۔ اپنی سزا سے ڈر رہے ہیں آپ اور وہ سزا جو چار افراد کو مل رہی ہے اور اس سے آگے بہت سے دوسروں کو مل رہی ہے، اس پر کیا کہیں گے؟ آپ جانتے ہیں آپ کا چھوٹا بھائی محمود سمندر پار ہے۔ وہ سب یعنی ماں باپ، ماموں ریاض زندگی کے عذاب میں گرفتار ہیں اور آپ… آپ صرف اپنی ذات کیلئے جی رہے ہیں، ان سب کو بھول کر۔‘‘
سارے بدن میں اینٹھن ہورہی تھی، دماغ میں شدید سنسناہٹ پیدا ہوگئی تھی۔ میں نے آنکھیں بند کرلیں، دانت بھینچ لئے اور اپنے آپ کو ان آوازوں سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ عجیب لمحہ آیا تھا۔ ایک طرف شدید خوف دامن گیر تھا۔ جب بھی کبھی انحراف کی منزل میں داخل ہوا، ایسے ایسے عذابوں سے گزرا کہ زندگی لرز گئی اور اس کے بعد جو کچھ بیتی، وہ ایک الگ داستان تھی۔ میں منحرف نہیں ہونا چاہتا
تھا لیکن اب وہ محبتیں دل پر عجیب سا اثر کررہی تھیں جو فطرت کا ایک حصہ ہوتی ہیں۔ اکرام کے الفاظ نے دیوانگی طاری کردی تھی۔ کیا کروں، کیا نہ کروں، کیا کرنا چاہئے مجھے۔ آہ! کیا کروں۔ میں آنکھیں بھینچے ہوئے بیٹھا رہا۔ اکرام میرے سامنے ساکت تھا۔ گڑگڑاہٹیں آہستہ آہستہ رک گئیں اور مطلع صاف ہوگیا۔ میں مغلوب ہوگیا تھا، بالکل مغلوب ہوگیا تھا۔ واقعی بڑا عجیب و غریب تاثر تھا میرے ذہن پر۔ شمسہ کی کربناک آوازیں ابھر رہی تھیں۔ ’’رحم کرو سائیں، رحم کردو سائیں۔ چار چوٹ کی مار مارتا ہے وہ مجھے۔ تین بچے ہیں میرے، کوئی سہارا نہیں ہے۔ رحم کردو سائیں، رحم کردو۔‘‘
میں ایک دم اٹھ کھڑا ہوا۔ ’’کہاں رہتی ہے شمسہ؟‘‘ میں نے سوال کیا اور اکرام خوشی سے اچھل پڑا۔
’’میں اس کے گھر کا پورا پورا پتہ یاد کرکے آیا ہوں۔ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہاں لے جاسکتا ہوں۔‘‘
’’چلو اکرام۔ چلنا ہے مجھے، جانا ہے مجھے۔ میں شمسہ کے پاس جانا چاہتا ہوں۔ تین بچے ہیں نا اس کے۔ چلو اکرام، چلو ٹھیک ہے۔ یہ بھی تقدیر ہی کا ایک حصہ ہے۔ آزما لوں اپنی تقدیر کو بھی۔ آہ چلو اکرام جلدی چلو۔ کہیں میرے پیروں میں لغزش نہ آجائے۔‘‘
’’چلئے مسعود بھیا۔‘‘ اکرام نے کہا اور میں لڑکھڑاتے قدموں سے اس کے ساتھ چل پڑا۔ ماضی کی تیز و تند ہوائیں ذہن سے گزر رہی تھیں۔ شمسہ کا بچپن یاد آرہا تھا۔ کیا درد ناک لہجے تھا اس کا اس وقت جب وہ اپنی بپتا سنا رہی تھی اور ایک اس کا بچپن تھا۔ شوخی اور شرارت سے بھرپور۔ میرے قدموں میں تیزی آتی جارہی تھی۔ اکرام کو میرے ساتھ ساتھ دوڑنا پڑ رہا تھا۔ ایک طویل فاصلہ تو ہمیں ایسے ہی طے کرنا پڑا کیونکہ آبادی ذرا دور تھی لیکن اس کے بعد اکرام نے مجھ سے آہستہ سے کہا۔
’’رفتار سست کرلیجئے مسعود بھیا۔ اس طرح دوڑ دوڑ کر چلیں گے تو لوگ ہماری جانب متوجہ ہوسکتے ہیں۔‘‘ میں نے بمشکل تمام اپنے آپ پر قابو پایا۔ اکرام پہلی بار اس آبادی میں آیا تھا لیکن شمسہ کے گھر کے پتے کو اس نے پوری طرح ذہن نشین کرلیا تھا اور اب وہ آہستہ آہستہ اسی جانب بڑھ رہا تھا۔ ’’تمہیں پتہ ٹھیک سے یاد ہے نا؟‘‘
’’ہاں! ہم ٹھیک راستے پر جارہے ہیں۔ وہ دیکھئے وہ چبوترہ اور اس پر پیپل کا درخت۔ یہاں شاید ہندو پوجا کرتے ہیں۔ وہ چونے کے نشانات۔‘‘
’’کتنی دور ہے یہاں سے؟‘‘
’’بس، وہ چھوٹا سا میدان عبور کرکے ہم ان گھروں کے سلسلے تک پہنچ جائیں گے۔‘‘
’’جلدی کرو، تمہارے قدموں کی رفتار سست کیوں ہے؟‘‘ میں نے کہا تو اکرام مسکرا دیا۔ اس نے منہ سے کچھ نہیں کہا تھا لیکن میں نے اس کی مسکراہٹ محسوس کرلی تھی۔ ’’آنکھوں میں روشنی کی طرح پیاری تھی وہ مجھے، مگر کیا کرتا، کیا کرتا۔‘‘ میں نے کہا۔ اکرام اب بھی خاموش تھا۔ وہ میرے دل کی کیفیت کیا سمجھتا۔ کیا کیا وسوسے تھے، میرے دل میں کیسے کیسے خوف پنہاں تھے، میں ہی جانتا تھا۔ ملعون بھوریا چرن نے اس سے پہلے بھی تو مجھ پر ایسے کئی وار کئے تھے۔ مختلف شکلیں لایا تھا وہ میرے سامنے۔ کون جانے یہ بھی کوئی دھوکا یا پھر…!
میدان عبور کرلیا۔ مکانات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پھر اکرام ایک مکان کے دروازے پر رک گیا۔
’’یہ ہے۔‘‘ اس نے کہا۔ آگے بھی وہ کچھ بولنا چاہتا تھا لیکن ایک دلدوز نسوانی چیخ نے اس کی آواز بند کردی۔ چیخ کی آواز اندر سے ہی اُبھری تھی۔
ہم دونوں ٹھٹک گئے، چیخ شمسہ کی تھی۔ میں نے مضطرب نگاہوں سے اکرام کو دیکھا۔ اس بار بھی کچھ نہیں بول پایا تھا کہ قدموں کی بھاری آواز سنائی دی۔ کوئی دروازے کے پاس آ گیا تھا۔ پھر نسوانی آواز اُبھری۔
’’بے آبرو نہیں ہوں۔ سمجھا کیا ہے تو نے مجھے۔ دو بھائیوں کی بہن ہوں۔ دو کڑیل بھائیوں کی، تیری اور تیرے بے غیرت دوست کی جاگیر نہیں ہوں۔ ہاں۔‘‘
دُوسری آواز سُنائی دی۔ ’’دروازے کو ہاتھ مت لگائیو۔ سوچ لے تیرے بچّے اندر سو رہے ہیں، تینوں کی گردنیں مار دوں گا۔‘‘ یہ ایک بھاری مردانہ آواز تھی لیکن اس دوران دروازے کی زنجیر نیچے گر چکی تھی۔
’’خدا کے لیے۔ تجھے خدا کا واسطہ۔ ہاتھ جوڑتی ہوں تیرے۔ مان لے میری بات۔‘‘ لجاجت بھری، آنسوئوں میں ڈُوبی آواز اُبھری۔ یہ آواز میری شمسہ کی تھی۔
’’نکل گئی ساری اَکڑ۔ آ جا۔ شاباش۔ اندر آ جا، تیرے بچوں کی زندگی کا سوال ہے۔ یہ زنجیر چڑھا دے۔ کوئی تیری مدد کو نہیں آئے گا۔ تیرے کڑیل بھائی کہیں مزے سے سو رہے ہوں گے۔ آ چل زنجیر چڑھا کر اندر آ جا۔‘‘
میرا پورا بدن لرزنے لگا۔ اکرام کی کیفیت بھی مجھ سے مختلف نہیں تھی۔ اس نے دروازے کو لات ماری اور دروازہ کھل گیا۔ شمسہ کھڑی ہوئی تھی۔ اس سے دو گز کے فاصلے پر ایک لمبا چوڑا آدمی کھڑا ہوا تھا۔ دونوں ہی اُچھل پڑے تھے۔
شمسہ کے حلق سے پھر چیخ نکل گئی۔ وہ دوڑ کر اکرام کے قریب آ گئی۔ ’’بچا لے مجھے میرے بھائی۔ تجھے اللہ کا واسطہ، بچا لے مجھے میرے بھیّا۔ میرے بھائی میرے بچّے اندر ہیں یہ مار دے گا انہیں۔ یہ … انہیں۔‘‘
پیچھے کھڑا شخص آگے بڑھ آیا اور غرائے ہوئے لہجے میں بولا۔ ’’کون ہو تم دونوں، اندر کیسے آئے۔ میں پوچھتا ہوں تم میرے گھر میں کیسے گھسے۔ ڈاکا ڈالنا چاہتے ہو۔ ابھی پولیس کے حوالے کرتا ہوں تمہیں۔‘‘
اکرام نے شمسہ کو پیچھے ہٹایا اور پتھرائے ہوئے انداز میں آگے بڑھا لیکن اس سے پہلے میں نے قدم آگے بڑھا دیئے۔ میں نے ہاتھ سیدھا کر کے اکرام کےسامنے کر دیا اور وہ رُک گیا۔ میں اس بدکار شخص کو گھورتا ہوا اس کےقریب پہنچ گیا۔ اس کے منہ سے بدبو کے بھپکے اُٹھ رہے تھے۔ اکرام نے کہا۔ ’’نہیں مسعود بھائی۔ تم شمسہ بہن کو سنبھالو، میں اسے دیکھتا ہوں۔‘‘ میں نے اکرام کو دوبارہ ہاتھ سے پیچھے دھکیل دیا۔ میری خونی نظریں سامنے کھڑے شخص کو گھور رہی تھیں۔
’’کون ہے تو۔ شوہر ہے اس کا؟‘‘ میں نے سرد لہجے میں پوچھا۔
’’نہیں بھائی، میرے شوہر کا دوست ہے یہ۔ اسے نشہ کرا کے باندھ دیا ہے اس نے زخمی کر دیا ہے اسے۔ اور… اور اب یہ بے عزت کرنا چاہتا ہے۔‘‘ پیچھے سے شمسہ کی آواز اُبھری۔ حالانکہ اکرام نے مجھے مسعود کہہ کر پکارا تھا مگر شمسہ کے تصور میں بھی نہیں آ سکتا تھا کہ یہ میں ہوسکتا ہوں، اس کا اپنا بھائی۔
صورت حال سمجھ میں آ گئی تھی۔ میرا اُٹھا ہاتھ اس شخص کے منہ پر پڑا اور وہ اُچھل کر کوئی پانچ فٹ دُور جا گرا۔ اس کے منہ سے خون کی دھار پھوٹ پڑی تھی۔ میں آگے بڑھا اور میں نے جھک کر اسے گریبان سے پکڑا۔ تھوڑا سا اُٹھا کر میں نے ایک لات اس کے سینے پر رسید کی اور اس کے منہ سے ہائے نکل گئی۔ وہ کہنیوں کے بل پیچھے کھسکنے لگا۔ چیخنے سے گریز کر رہا تھا کیونکہ خود مجرم تھا۔ شاید نہیں چاہتا تھا کہ باہر آواز جائے۔ میں نے اس کی پنڈلی پر ٹھوکر رسید کر دی اور وہ زمین پر لوٹنے لگا۔ کمر سینے اور پنڈلیوں پر لاتعداد ٹھوکروں سے وہ بے ہوش ہوگیا۔ اکرام نے آگے بڑھ کر مجھے پکڑ لیا۔
’’مر جائے گا بدبخت۔ چھوڑ دو بھیّا، بس چھوڑ دو۔ بس بھیّا۔ بس کرو۔ مسعود بھائی رُک جائو۔‘‘ اکرام اس طرح سامنے آیا کہ اب اگر میں اس شخص کو مارتا تو اکرام نشانہ بن جاتا۔ چنانچہ رُکنا پڑا۔
شمسہ خوف سے کانپ رہی تھی۔ بڑی مشکل سے اس نے کہا۔ ’’مظلوم ہوں۔ دُکھیاری ہوں میرے بھائی، تھوڑی سی مدد اور کر دو میرا مرد اندر بندھا پڑا ہے۔ نشے میں تھا، اس نے دھوکا دیا، اسے بھی مارو۔ اسے ذرا ہوش میں لے آئو، اللہ تمہیں اَجر دے گا۔ تم نے ایک بے آسرا کی مدد کی ہے۔ اللہ تمہیں اس کا صلہ دے گا۔ بس تھوڑی سی مدد اور کر دو۔‘‘
بے ہوش شخص کو وہیں چھوڑ کر ہم اندر چل پڑے۔ کمرے میں لالٹین روشن تھی۔ فرش پر ایک شخص بندھا پڑا تھا۔ یہی شمسہ کا شوہر تھا۔ ہم نے اسے سیدھا کیا۔ سر کے بال خون سے چپچپا رہے تھے۔ اس کا مطلب ہے سر زخمی ہے۔ شمسہ کراہتی آواز میں کہہ رہی تھی۔
’’جیسا بھی ہے میرے سر کا سائبان ہے، میرا چھپر ہے، بچوں کا باپ ہے، میرا تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، اللہ تمہیں عزت دے۔ میرے بھائیو۔ سگے بھائی بن کر آئے ہو میرے۔ ہائے تم نے میری آبرو بچا لی۔ اللہ تمہاری بہنوں کی آبرو بچائے۔ میرے بھی بھائی تھے، چھین لئے تقدیر نے، ہائے یہ ہوش میں آ جائے تو اس سے پوچھوں کہ اب کیا کرے گا، نشے کا بھی کوئی رشتہ ہوتا ہے۔ سارے رشتے بھول جاتے ہیں یہ سسرے۔ بھابی بھابی کہہ کر دھوکا دیا اس نے۔ فیضان ارے فیضان، اب تو اُٹھ جائو۔ اب تو جاگ جائو، فیضان۔‘‘
’’ایک کپڑا چاہیے بہن، ان کا سر زخمی ہے۔‘‘ اکرام نے کہا۔ میرے بدن میں اب بھی لرزش تھی۔ شمسہ کی آواز کا کرب۔ اس کی باتیں دل چھید رہی تھیں لیکن صبر کرنا آتا ہے مجھے۔ صبر کرنا جانتا تھا، خود کو سنبھالے ہوئے تھا۔ شمسہ نے اپنی اوڑھنی سے ہی ایک ٹکڑا پھاڑ دیا۔
’’کتنا خون بہہ گیا ہے، زخم گہرا تو نہیں ہے، لوہے کا کڑا مارا تھا سر میں، زیادہ زخم آیا ہے کیا؟‘‘
’’نہیں، فکر مت کرو، بچّے کہاں ہیں؟‘‘
’’دُوسرے کمرے میں ہیں، وہیں سو رہی تھی میں۔ ان دونوں کے لڑنے کی آواز سن کر اِدھر آئی۔ دیکھا تو فیضان زخمی ہوگیا تھا۔ یہ اسے باندھ چکا تھا اور پھر… اور پھر… خدا تمہیں خوش رکھے، تمہاری بہنوں کی آبرو بچائے۔‘‘
فیضان کو بستر پر لٹانے کے بعد میں نے اکرام سے کہا۔ ’’اسے بھی اندر گھسیٹ لائو، دیکھو مر تو نہیں گیا۔ فیضان ہوش میں آ جائے تو اس سےپوچھیں گے کہ اب وہ کیا چاہتا ہے۔‘‘
’’آپ بھی آیئے بھیّا، آیئے۔‘‘ اکرام نے کچھ اس طرح کہا کہ میں اس کے ساتھ باہر نکل آیا۔ ’’کچھ بات بھی کرنی تھی آپ سے۔‘‘
’’کہو۔‘‘ میری آواز حلق میں گھٹ رہی تھی۔
’’شکر ہے نشے میں ہونے کی وجہ سے یہ زیادہ چیخا چلّایا نہیں۔ اس طرح باہر والے متوجہ نہیں ہو سکے۔ ہمیں سوچنے کا وقت مل گیا ہے۔ اس مردود کو باندھ کر ڈالے دیتے ہیں اور پھر فیصلہ کرتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ ویسے آپ نے کمال ضبط کا ثبوت دیا ہے۔ بہت اچھا کیا ہے آپ نے۔‘‘
’’میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا ہے اکرام۔ میرا وجود، چکنار چور ہوگیا ہے۔‘‘ میں نے رُندھی ہوئی آواز میں کہا۔
’’کیا میں نہیں جانتا۔ لیکن مسعود بھائی، شمسہ بہن آپ کو بالکل نہیں پہچانیں۔‘‘
’’میرے گھر والے مجھے زندہ نہیں سمجھتے اکرام۔ شمسہ کو تو میری زندگی کے بارے میں کچھ بھی نہیں معلوم۔ ماموں ریاض نے مجھے بدنصیب شمسہ کی کہانی سنائی تھی، اس وقت وہ اس ظالم شخص کے چنگل میں پھنس چکی تھی۔‘‘
’’میرے خیال میں ایسا نہیں ہے۔‘‘ اکرام بولا۔
’’کیوں۔ یہ اندازہ کیسے ہوا؟‘‘
’’اس نے کئی بار اپنے بھائیوں کا ذکر کیا ہے۔‘‘
’’اللہ جانے۔‘‘ میں نے بے چارگی سے کہا۔
’’مگر وہ آپ کو بالکل نہیں پہچان سکی۔ اس کی وجہ بھی میری سمجھ میں آ رہی ہے۔ وہ شاید ذہنی دبائو کا شکار ہے۔ میں نے آپ کو مسعود بھائی اور اسے شمسہ بہن کہہ کر پکارا ہے۔ مگر وہ اس بات پر بھی نہیں چونکی کہ میں نے اس کا نام کیسے لے لیا۔‘‘
’’ہاں۔ شاید تمہارا خیال درست ہے۔‘‘
’’عارضی طور پر میرے دل میں ایک خیال آیا تھا بھیّا۔‘‘
’’بتائو اکرام۔ میرا دماغ تو مائوف ہے، بتائو کیا کروں؟‘‘
’’شمسہ بہن، اس دوران خود آپ کو پہچان لیں تو دُوسری بات ہے، آپ خود انہیں کچھ نہ بتائیں۔ ہو سکتا ہے ان پر کچھ جذباتی اثرات مرتب ہو جائیں۔ اب ان حالات میں انہیں یہاں چھوڑنا تو مناسب نہیں ہوگا۔ ہم انہیں خانقاہ لئے چلتے ہیں، وہاں اطمینان سے سوچیں گے کہ اب کیا کریں۔‘‘
’’جیسا تم مناسب سمجھو اکرام۔‘‘
’’آپ کو اختلاف تو نہیں ہے۔‘‘
’’نہیں۔ اب مجھے کسی بات سے اختلاف نہیں ہے۔‘‘ میں نے کہا اور اکرام مطمئن ہوگیا۔ اس کےبعد میں سارے کام کئے تھے۔ اس منحوس شخص کو باندھ کر ڈال دیا گیا جس نے دوستی کا بھرم کھویا تھا۔ شمسہ کا شوہر بھی آہستہ آہستہ ہوش میں آ رہا تھا۔ اس کا نشہ تو ویسے ہی اُتر چکا تھا۔ ہوش میں آ کر اس نے وحشت زدہ نظروں سے ماحول کو دیکھا۔ پھر اُٹھ کر بیٹھ گیا۔
’’کہاں۔ کہاں گیا وہ؟‘‘
’’سب ٹھیک ہے فیضان۔ ہوش کرو، سب ٹھیک ہے۔ اللہ نےمدد بھیج دی فیضان۔ میرے بھائیوں نے مجھے بچا لیا۔ ہائے فیضان تم نے تو مجھے کہیں کا نہ رکھا تھا۔ میں کہتی تھی کہ یہ اچھا آدمی نہیں ہے، اس پر بھروسا نہ کرو۔ مگر نہ مانے تم۔ ہائے فیضان مجھے اللہ نے بچا لیا۔‘‘ شمسہ روتے ہوئے بولی۔
’’بچّے… بچّے۔‘‘ فیضان گھٹے گھٹے لہجے میں بولا۔ ’’اللہ کا کرم ہے، سو رہے ہیں۔ ایک نظر دیکھ آئوں انہیں۔ بھیّا ابھی آئی۔‘‘ شمسہ کمرے کے دروازے سے نکل گئی۔ فیضان نے لالٹین کی روشنی میں ماحول کو دیکھا، پھر اس کی نظر اپنے دوست پر پڑی اور وہ اُچھل کر کھڑا ہوگیا۔ چند قدم آگے بڑھ کر اس کے قریب پہنچا، اسے دیکھتا رہا۔ پھر ہماری طرف دیکھ کر کہا۔ ’’اسے کیا ہوا؟‘‘
’’مارا ہے ہم نے۔‘‘ اکرام بولا۔
’’مر گیا؟‘‘
’’نہیں زندہ ہے۔‘‘
’’کم اصل ہے، ایسے کہاں مرے گا۔‘‘ فیضان نے کہا اور اسے ایک ٹھوکر رسید کر دی۔ پھر وہ ہماری طرف مڑ کر بولا۔ ’’تمہارا شکریہ ادا کرنا بیکار ہے۔ شکریہ کوئی عزت دار کسی عزت دار کے احسان کا ادا کرتا ہے۔ مجھ جیسے بے غیرت آدمی نے اگر تمہارا شکریہ ادا کر بھی دیا تو اس لفظ کی بھی توہین ہوگی۔ وہ داغدار ہو جاتی تو اور مشکلات میں ڈُوب جاتی، میں ہی اسے نہ جینے دیتا۔ اتنا ہی ذلیل انسان ہوں میں۔‘‘
اکرام نے حیران نظروں سے مجھے دیکھا۔ میں خاموش رہا تھا۔ چند لمحات کے بعد فیضان نے کہا۔ ’’مگر تم دونوں رحمت کے فرشتے بن کر اس وقت یہاں کیسے آئے اور تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ …‘‘
’’ہم اِدھر سے گزر رہے تھے کہ ہمیں بہن کے چیخنے کی آواز سنائی دی ۔وہ دروازہ کھول کر باہر بھاگنا چاہتی تھی۔ ہم نے اس شخص کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا کہ اگر باہر نکلی تو وہ بچوں کو گردن دبا کر مار دے گا۔ بس ہم اندر گھس آئے۔‘‘
(جاری ہے)