Kala Jadu | Episode 77

1482
مسعود چین کی زندگی گزار رہا تھا کہ اس کی ملاقات کالے جادو کے ماہر بھوریا چرن سے ہوئی اور پھر یہ ملاقات گویا اس کے گلے کا ہار بن گئی۔ یہیں سے اس کیلئے مشکلات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا، بھوریا نے اسے اپنا آلۂ کار بننے کی پیشکش کی لیکن جب مسعود نے اسے مسترد کردیا تو وہ اس کا دشمن بن گیا۔ اس نے مسعود پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ ڈالے لیکن مسعود کا انکار، اقرار میں نہ بدل سکا۔ مسعود انہی مشکلات سے نبرد آزما تھا کہ وہ کچھ خاص ہستیوں میں نظر آگیا اور ان کی مہربانیوں کی بدولت اس کی سختیوں میں کمی آنے لگی۔ وہ کالی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لائق ہوگیا تھا لیکن اس نے اپنی زندگی خدمتِ خلق کیلئے وقف کردی تھی۔ اسی دوران اس کی ملاقات ایک مصیبت زدہ لڑکی ثریا سے ہوئی تو وہ اسے پسند کرنے لگا لیکن حالات نے اسے ثریا سے دور ہونے پر مجبور کردیا۔ پھر حالات کا یہی دھارا اسے ثریا کے بھائی اکرام کے روبرو لے آیا تو معلوم ہوا کہ وہ دونوں بہن بھائی بھی بھوریا کی خباثتوں کا شکار ہوئے تھے۔ اس نے اکرام کو اپنا آلۂ کار بنانے کی خاطر ثریا کی زبان کاٹ ڈالی تھی اور پھر دونوں بہن بھائی کو ایک دوسرے سے جدا کردیا تھا۔ مسعود، اکرام کے ہمراہ ثریا کی تلاش میں تھا جسے بھوریا نے نہ جانے کہاں غائب کردیا تھا۔ اسی دوران وہ ایک خانقاہ تک جاپہنچے جسے ایک جعلی پیر بابا چلا رہا تھا۔ یہاں قیام کے دوران جب پیر بابا کا ذہنی توازن خراب ہوا تو خانقاہ کا انتظام مسعود کو سنبھالنا پڑا۔ وہ کلامِ الہیٰ کی مدد سے وہاں آنے والے لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنے لگا تاہم اسے اصل امتحان اس وقت پیش آیا جب اس کی بچھڑی ہوئی بہن شمسہ اپنے ظالم شوہر کے سدھر جانے کی مراد لے کر خانقاہ میں آئی۔ مسعود بہن کے سامنے آنا نہیں چاہتا تھا لیکن اکرام کے زور دینے پر وہ درپردہ اس کی مدد کرنے کیلئے تیار ہوگیا۔ اسی اثناء میں عزت بیگ نامی ایک دولتمند شخص خانقاہ میں اپنی فریاد لے کر آیا، وہ اپنے گھر میں بسنے والے آسیب سے چھٹکارا چاہتا تھا جس نے اس کی اور اس کے گھر والوں کی زندگی عذاب کر رکھی تھی۔ مسعود اس کی مدد کیلئے اس کی حویلی جا پہنچا جہاں اس کا سامنا بھوریا کی پورنی سے ہوا جو عزت بیگ کی بیٹی کے روپ میں وہاں موجود تھی۔ اب مسعود آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کررہا تھا۔
(اب آپ آگے پڑھیے)
٭…٭…٭
پھر خوب رات ہوگئی۔ وقت کا صحیح اندازہ نہیں کر پایا تھا۔ دروازے پر دستک ہوئی تو میں نے چونک کر دیکھا۔ مرزا عزت بیگ ایک ملازم کے ساتھ آیا تھا۔ ملازم نے ہاتھوں میں ٹرے پکڑی ہوئی تھی اور مرزا صاحب ہاتھوں میں پانی کا جگ اور گلاس لئے ہوئے تھے۔ میں جلدی سے اُٹھ کھڑا ہوا۔
’’آپ کیوں زحمت کر رہے ہیں مرزا صاحب؟‘‘
’’رہنے دیجئے شاہ صاحب، شرمندگی کی آخری حد کو پہنچا ہوا ہوں، اگر اس گھر کا ماحول اتنا غیریقینی نہ ہوتا تو کیا ایک معزز مہمان کے ساتھ یکجا بیٹھ کر کھانا نہ کھایا جاتا، مگر کیا کروں، میرے بس کی بات ہی نہیں ہے۔ براہ کرم جو دال دلیہ مہیا کر سکا ہوں، حاضر خدمت ہے، قبول فرمایئے۔ میں شکرگزار ہوں گا…‘‘
’’بہتر ہے رکھ دیجئے۔‘‘ ملازم نے ٹرے سینٹر ٹیبل پر رکھ دی تھی۔ مرزا صاحب بولے۔
’’تو پھر اجازت، میں چلتا ہوں۔ ہاں اگر کسی اور شے کی حاجت ہو تو براہ کرم باہر تشریف لا کر کسی کو آواز دے لیجئے گا۔ اچھا…‘‘ مرزا صاحب نے ملازم کو اشارہ کیا اور باہر نکل گئے۔ میں نے ایک نظر اس خوان پر ڈالی جس پر خوان پوش ڈھکا ہوا تھا۔ جگ کے پانی سے ہاتھ دھوئے اور پھر کھانے کی طرف متوجہ ہوگیا۔ بھوک تو لگ رہی تھی، کھانا بھی کھانا تھا۔ چنانچہ خوان سے خوان پوش ہٹایا۔ بہت ہی عمدہ خوشبو اُٹھ رہی تھی اس قاب سے جس میں سالن تھا۔ برابر میں تین خمیری روٹیاں رکھی ہوئی تھیں، سلاد بھی تھا، سادہ سا کھانا فیرنی کے دو پیالوں کے ساتھ ٹرے میں سجا ہوا تھا۔ ساتھ ہی پلیٹ اور چمچہ بھی رکھا ہوا تھا۔ میں نے سامنے بیٹھ کر بسم اللہ پڑھی اور قاب کا ڈھکن اُٹھا دیا۔ بھنا ہوا گوشت تھا۔ خاصی مقدار میں تھا، لیکن ابھی میں چمچہ ہاتھ میں لے کر سالن نکالنے ہی والا تھا کہ بوٹیوں میں ہلچل سی محسوس ہوئی اور میرا ہاتھ رُک گیا۔ میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے سالن کے اس قاب کو دیکھتا رہا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے بوٹیوں کے نیچے سے کوئی شے پھڑپھڑا کر اُوپر آنا چاہتی ہو… اور پھر میں نے بحالتِ ہوش میں اُلّو کے سر کو سالن میں سے نمودار ہوتے ہوئے دیکھا۔ وہ بار بار پھڑپھڑا رہا تھا اور اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ دُوسرے لمحے اُلّو کا یہ سر قاب سے پھدک کر ٹرے میں آ گرا اور اس کے بعد ٹرے سے نیچے زمین پر۔ اس کے ساتھ چھینٹیں سی بلند ہو رہی تھیں اور یہ چھینٹیں دھبّے لگاتی ہوئی ایک سمت کو جا رہی تھیں۔ پھر اچانک ہی اُلّو کا یہ سر کئی فٹ اُونچا بلند ہوا اور اس کھلی کھڑکی سے باہر نکل گیا جس سے پرندے اور تصویر والا آدمی باہر نکل بھاگا تھا۔ میں پہلے ہی کئی قدم پیچھے ہٹ گیا تھا اور یہ منظر عجیب نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
سر کے غائب ہو جانے کے بعد سکون چھا گیا۔ سالن کی لذیذ ترین خوشبو فضا میں پھیلی ہوئی تھی اور میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ یہ رمز میری سمجھ میں نہیں آ سکا تھا، وہی آسیب وہی انداز… اس حویلی کے مکینوں نے میرا زبردست استقبال کیا تھا۔ کچھ سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا کہ اب کیا کیا جائے۔ یہ منظر دیکھنے کے بعد تو اور بھی لطف آ گیا تھا۔ بھلا اب اس بات کی کیا گنجائش تھی کہ میں ایک لقمہ بھی توڑ سکوں۔ مرزا عزت بیگ کو اگر آواز دے کر اس بارے میں بتاتا تو وہ بے چارہ کیا کرتا۔ سوائے اپنے دُکھوں کا رونا رونے کے، لیکن یہ ساری چیزیں واقعی قابل غور تھیں اور اب میں یہ سوچ رہا تھا کہ مجھے کہاں سے عمل کرنا چاہیے۔ بھوک بے شک لگ رہی تھی لیکن اب اس واقعے کے بعد وہ کافی حد تک کم ہوگئی تھی اور مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ میں کھائے پیئے بغیر گزار سکتا ہوں۔ کام شروع کر دینا چاہیے، مرزا عزت بیگ کو اس سلسلے میں پریشان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
قاب کا ڈھکن واپس اس کی جگہ پر رکھا اور خوان پوش اس پر ڈال دیا۔ ٹرے اسی جگہ رہنے دی تھی اور میں اس سے کچھ فاصلے پر جا بیٹھا تھا۔ اس واقعہ کو بھی میں نے ان واقعات سے ہی منسلک سمجھا تھا جو یہاں چند گھنٹے قیام کے دوران پیش آ چکے تھے۔ پے درپے شرارتیں ہو رہی تھیں اور ان شرارتوں میں بڑی ہیبت ناک کیفیت تھی لیکن میرے لئے نہیں۔
کچھ اندازہ نہیں ہو سکا کہ مرزا عزت بیگ اب دوبارہ میرے پاس آئے گا یا جیسا کہ اس نے مجھے بتایا، وہ بھی دوسرے لوگوں کی مانند اپنی خوابگاہ میں جا چھپے گا۔ درحقیقت اس بھیانک ماحول میں جہاں اتنی سی دیر میں اتنے سارے محیرالعقول واقعات پیش آ چکے تھے۔ ذہنی توازن برقرار رکھنا ایک مشکل کام تھا۔ بڑی بات تھی کہ وہ لوگ ہوش و حواس کے عالم میں یہاں رہ رہے تھے۔ بہت دیر گزر گئی۔ چاروں طرف سنّاٹا چھایا ہوا تھا۔ میں اپنی جگہ سے اُٹھ گیا۔ کھلی کھڑکی بند کی اور پھر دروازے سے باہر نکل آیا۔ حویلی شہر خموشاں بنی ہوئی تھی۔ کہیں زندگی کے آثار نہیں تھے۔ قدموں کی ہلکی سی چاپ بھی بہت زیادہ محسوس ہو رہی تھی۔ سنّاٹے چیخ رہے تھے، دل کی دھمک کنپٹیوں میں محسوس ہو رہی تھی۔ پیچ دَر پیچ راہداریوں اور کمروں کا سلسلہ پھیلا ہوا تھا، بند دروازوں کی قطاریں مدھم روشنی میں نظر آ رہی تھیں۔ میں ان کے درمیان کسی آوارہ رُوح کی مانند بھٹکنے لگا۔ اِدھر سے اُدھر، اُدھر سے اِدھر کسی بھی کمرے میں روشنی نہیں جل رہی تھیں۔ غالباً مرزا عزت بیگ کے اہل خاندان بھی روشنی بجھا کر سونے کے عادی تھے۔ واقعی اس ماحول میں کیا بیت رہی ہوگی ان پر، زندگی یہیں گزار رہے تھے۔ یہ بھی بہت بڑی بات تھی۔ عام دل گردے والوں کا کام نہیں تھا۔ یہ لوگ اگر اس ماحول کے عادی نہ ہوگئے ہوتے تو کلیجہ پھٹ جاتا ان کا یہاں رہ کر، لیکن انسان میں یہی تو سب سے بڑی خوبی ہے کہ وہ وقت سے لڑنا سیکھ لیتا ہے اور حالات کیسے ہی بھیانک کیوں نہ ہوں، بالآخر اسے ان میں گزارنے کی عادت پڑ جاتی ہے۔ کوئی پندرہ سے لے کر بیس منٹ تک میں اس حویلی کے مختلف گوشوں میں چکراتا رہا، ہر لمحہ اس بات کا تھا کہ اب کچھ ہوگا، لیکن کچھ نہیں ہوا تھا۔ پھر میری یہ توقع بھی پوری ہوگئی۔ اچانک ہی میرے عقب میں ایک کمرہ روشن ہوا اور ساتھ ہی سنّاٹے میں دروازہ کھلنے کی آواز کسی بم کے دھماکے ہی کی مانند محسوس ہوئی۔ میں چونک کر پلٹا… دروازے سے روشنی باہر پھوٹ آئی تھی اور اس روشنی میں ایک سایہ اُبھر رہا تھا۔ پھر وہ سایہ باہر نکل آیا۔ مرزا عزت بیگ تھا، دروازے ہی میں رُک کر وہ مجھے دیکھنے لگا اور پھر آہستہ سے بولا۔
’’اندر آ جایئے شاہ صاحب۔ یہ میرا کمرہ ہے، غالباً آپ نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔‘‘ میں خاموشی سے واپس پلٹا اور مرزا عزت بیگ کے قریب پہنچ گیا۔ وہ دروازے سے واپس اندر داخل ہوگیا تھا۔ میں بھی اس کے پیچھے ہی پیچھے کمرے میں داخل ہوا تو عزت بیگ نے جلدی سے پلٹ کر دروازہ بند کر دیا اور اس سے کمر لگا کر کھڑا ہوگیا۔ کمرے میں ننگا فرش تھا، کوئی ایسی چیز نہیں تھی وہاں جو کسی کے بیٹھنے یا آرام کرنے کےلئے ہو۔ دیواریں بھدّی اور بغیر پلاستر کی تھیں، فرش کا پلاستر بھی جگہ جگہ سے اُکھڑا ہوا تھا۔ میں نے متحیّرانہ نگاہوں سے عزت بیگ کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’یہ آپ کا کمرہ ہے مرزا صاحب؟‘‘
’’آپ ہی کا ہے مہاراج۔‘‘ مرزا عزت بیگ کا لہجہ ایک دم بدل گیا اور میں پھر چونک پڑا۔
’’مم… مہاراج۔‘‘
’’پدم پردھائی مہاراج، گیانی ویانی آکاش کے رہنے والے۔‘‘مرزا عزت بیگ نے دونوں ہاتھ جوڑ کر ماتھے سے لگاتے ہوئے کہا۔
’’مرزا صاحب آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔‘‘ میں نے حیرانی سے کہا اور مرزا کے حلق سے ایک بھیانک قہقہہ نکل گیا۔
’’اب بالکل ٹھیک ہے مہاراج پران پردھانی۔‘‘
’’آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘
’’کہہ نہیں رہے مہاراج، سمجھا رہے ہیں آپ کو، حویلی کے بھوت پکڑنے نکلے ہیں۔ مہان پران پردھانی، کیوں یہی بات ہے ناں؟‘‘ میں سہمی ہوئی سی نگاہوں سے مرزا عزت بیگ کو دیکھنے لگا۔ ایک نیا خیال میرے ذہن میں آیا تھا اور مرزا عزت بیگ نے دوبارہ قہقہہ لگایا تھا۔
’’بہت چالاک ہیں آپ مہاراج، بہت بڑے دیوتا ہیں، مہان ہیں، مگر شری شنکھا کے سامنے آ کر آپ نے اچھا نہیں کیا۔ مہمان شنکھا اگر ھنڈولا بن جاتا تو آپ کا کیا جاتا مہاراج، آپ کی چالاکی اسے جگہ جگہ روکتی رہی ہے اور آپ نے اسے اپنا اتنا بڑا دُشمن بنا لیا ہے، حالانکہ شری شنکھا کے داس جیون میں مزے ہی مزے کرتے ہیں۔ پتہ نہیں آپ کیسے انسان ہیں، ایک لکیر پکڑے بیٹھے ہوئے ہیں جس نے آپ کو کچھ نہیں دیا، پری پردھان پرن تھاری مہاراج۔‘‘
’’تت… تم، تم کون ہو؟‘‘ میں نے اب عجیب سے لہجے میں پوچھا۔
’’شری شنکھا کا داس، ان کا ایک معمولی سا سیوک۔‘‘
’’تم عزت بیگ نہیں ہو۔‘‘
’’جو عزت ہمیں چاہیے مہاراج، وہ شری شنکھا کا داس بننے سے حاصل ہوگئی ہے اور کوئی عزت درکار نہیں ہے ہمیں، پرنت آپ کی کم بختی آ گئی، جھوٹی خانقاہ میں رہ کر آپ نے جو جال پھیلا لیا تھا مہاراج آپ کے خیال میں شری شنکھا اس سے بے خبر رہ سکتے تھے، آپ… اپنے دین دھرم کے ساتھ جو ناٹک رچائے ہوئے تھے وہ صرف ناٹک تھے اور وہاں شری شنکھا کا پہنچنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ کھوج تو ہوتی ہی ہے ناں دو دُشمنوں کو ایک دوسرے کی اور شری شنکھا جی آپ کی کھوج میں بھی تھے۔ جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ اب آپ نے ناٹک رچایا ہے اور لوگوں کو جھوٹی تسلیاں دے کر دولت بٹور رہے ہیں تو شری شنکھا کو موقع مل گیا، پہنچ گئے وہ آپ کی اس جھوٹی خانقاہ میں اور وہاں پہنچ کر آپ کے بارے میں معلومات حاصل کرتے رہے۔ پتہ چلا کہ مہاراج کو دولت چاہیے دولت۔ سو انہوں نے ہمیں عزت بیگ بنا کر بھیج دیا۔ آپ کی عزت لوٹنے کو مہاراج اور ہمارا کام تو یہ تھا ہی کہ آپ کو دھوکے سے ادھر لے آئیں۔ سو لے آئے ہم اور اب تو شری شنکھا کو موقع ملا ہے آپ سے سارے حساب کتاب چکانے کا مہاراج، کیا سمجھے، اب تو ساری کہانی آپ کی سمجھ میں آ گئی ہوگی۔ ہم شری شنکھا کے داس ہیں، جے شری شنکھا…‘‘
’’ہوں، تو ناٹک رچایا ہے اس بار بھوریا چرن نے۔‘‘ میں نے ہونٹ بھینچتے ہوئے کہا۔
’’پکا ناٹک مہاراج پکا ناٹک، دراصل یہ دَھن دولت سسری چیز ہی ایسی ہے کہ آدمی کو پھیر میں لاتی ہی رہتی ہے۔ آپ نے بہت بچنا چاہا اس سے مہاراج مگر دیکھ لیجئے دن کے لالچ نے آپ کو نہیں چھوڑا اور اسی کے ہاتھوں مارے گئے آپ۔ ارے ہم نے تو سنا ہے کہ شری شنکھا نے آپ کو سب کچھ دے دیا تھا۔ پورنیاں دے دی تھیں آپ کو، پورنیوں کو آپ سے بڑی شکایت تھی مہاراج، بڑا انیائے کیا آپ نے ان کے ساتھ، ایک پورنی آپ کے سامنے آئی تھی، آپ نے اس کے ساتھ بھی اچھا سلوک نہیں کیا تھا مہاراج، خیر یہ آپ کا اپنا معاملہ ہے، اب یہ بتایئے کہ ہم آپ کے ساتھ کیا سلوک کریں۔‘‘
اس بار میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی، میں نے اس سے کہا۔ ’’تمہارا کیا خیال ہے، اب تو میں تمہیں عزت بیگ کے نام سے بھی مخاطب نہیں کر سکتا تو پھر تمہارا کیا خیال ہے۔ شنکھا کے داس بھوریا چرن کو کیا اب کوئی ایسی قوت حاصل ہوگئی ہے میرے خلاف جس سے وہ اپنے مقصد کی تکمیل کر سکے۔‘‘
’’اوش مہاراج اوش، اصل میں شری شنکھا مہاراج کو تو بہت ساری قوتیں ہمیشہ سے حاصل تھیں، پَر آپ بچتے رہے ان سے اپنے دین دھرم کے ہاتھوں۔ سُنا ہے شنکھا مہاراج نے آپ کا گیان دیان بھی پورا کر دیا تھا اور پورن بن گئے تھے آپ، پورنا بن کر آپ نے پورنیوں کو دھوکا دیا اور ان کے جال سے اپنے آپ کو نکال لیا۔ پر مہاراج اس سمے آپ نے جو بھوجن کھایا ہے ناں، وہ ہمارے شنکھا مہاراج ہی کی سوغات تھی۔ اُلّو کا گوشت تھا مہاراج، وہ مردہ اُلّو کا جسے شنکھا مہاراج نے منتر کے ذریعے جیتا کیا تھا، پھر اس کا گوشت پکوا کر آپ کو بھیجا اور ہمیں بنا دیا مرزا عزت بیگ، کیونکہ مرزا عزت بیگ ہی آپ کو وہ بھوجن کھلا سکتا تھا مہاراج جو آپ کے شریر کو ایک بار پھر نشٹ کر دے اور اب آپ نشٹ ہوگئے۔ نشٹ ہوگئے، آپ کا دھرم ایک بار پھر آپ سے چھن گیا چونکہ آپ نے جس اُلّو کا گوشت کھایا ہے وہ بھیروں کے ہاتھوں جگایا گیا تھا۔ ایک مردہ اُلّو، سڑا ہوا گوشت، پر اسے وہ شکتی دے دی گئی تھی کہ وہ آپ کے پورے شریر کو بھشٹ کر دے نجس کر دے اور اس ناپاک شریر سے وہ ساری طاقتیں نکل گئیں مہاراج جن پر آپ پھولتے تھے، جے شری شنکھا، جے شری شنکھا، جے شری شنکھا۔‘‘ وہ عقیدت بھرے لہجے میں بولا اور میری آنکھوں میں خون کی سرخی لہرانے لگی، میں جانتا تھا کہ کیا ہوا ہے۔ ایک بار پھر، ایک بار پھر مجھے سرخروئی حاصل ہوئی تھی۔ میں نے اُلّو کا گوشت نہیں کھایا تھا۔ وہ غلط فہمی کا شکار تھے اور اپنی اسی غلط فہمی میں وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ میرا ایمان مجھ سے چھن چکا ہے لیکن میرے ایمان کا تحفظ کیا گیا تھا ہمیشہ کی طرح اور اس بات پر میرا کلیجہ ہاتھ بھر کا نہ ہو جاتا تو کیا ہوتا۔ میرے سینے میں بے پناہ قوت اُبھر آئی اور میرا ایک زوردار قہقہہ اس کا چہرہ اُتارنے کے لئے کافی ثابت ہوا تھا۔ میں نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ناپاک رُوح کے ناپاک پجاری، اتنی آسانی سے تم لوگوں کو میرے خلاف کامیابی نہیں حاصل ہوگی، کیا سمجھے۔ وہ کتا، وہ تمہارا بھوریا چرن پھر ناکام ہوگیا۔‘‘
’’ناکام ہوگیا…‘‘ وہ بولا۔
’’ہاں۔ جاگا ہوا اُلّو اُڑ گیا۔ کھڑکی سے باہر پرواز کر گیا۔‘‘
’’جھوٹ مت بولو مہاراج۔ تم جھوٹ بول رہے ہو۔ کیا تم نے بھوجن نہیں کیا۔‘‘
’’مجھے میرے اللہ نے بچا لیا۔‘‘
’’کیسے؟‘‘
’’میں نے وہ کھانا ہی نہیں کھایا۔ میرے کھانا شروع کرنے سے پہلے تمہارا بھیروں جاگا اور بھاگ گیا۔‘‘
’’جھوٹ ہے۔ اگر ایسا ہے۔ اگر تم نشٹ نہیں ہوئے ہو تو اپنا کوئی چمتکار دکھائو۔ دکھائو اپنا دھرم چمتکار۔‘‘
’’وہ تو مجھے دکھانا ہے۔ کہاں ہے تمہارا بھوریا چرن۔ آخاہ بھوریا چرن آ گئے تم۔‘‘ میں نے دروازے کی طرف دیکھا۔ مقصد عزت بیگ کو دھوکا دینا تھا۔ جونہی اس نے چونک کر مجھے دیکھا۔ میں نے لپک کر اسے دبوچ لیا۔ میرے ہاتھوں کی اُنگلیاں اس کے حلقوم میں پیوست ہوگئیں۔ میں نے پوری قوت صرف کر دی اور مرزا عزت بیگ کی آنکھیں باہر نکل پڑیں۔ منہ بھیانک انداز میں کھل گیا، زبان بالشت بھر آگے لٹک آئی۔ اس کے ہاتھ پائوں تشنجی انداز میں ہلتے رہے اور پھر آہستہ آہستہ وہ بے جان ہوگیا۔ میرے بدن میں شرارے بھرے ہوئے تھے۔ اس کی موت کا اندازہ لگانے کے بعد میں نے اسے چھوڑ دیا اور وہ پٹ سے زمین پر گر پڑا۔ میں گہری گہری سانسیں لے رہا تھا۔ پھر میں نے حقارت سے اس کے مردہ جسم کو زوردار ٹھوکر رسید کی اور نفرت سے اس پر تھوک کر واپس پلٹا۔ میرا رُخ تبدیل ہوا تھا کہ اچانک میری پنڈلی کسی ہاتھ کے شکنجے میں آ گئی۔ میں بری طرح اوندھے منہ گرا تھا، سنبھلنے بھی نہیں پایا تھا کہ مرزا عزت بیگ پھرتی سے اُٹھ کر میرے اُوپر آ لدا۔
’’ایسے بچ کر نہیں جائو گے پران پردھائی۔ شنکھا کے بھی جیون مرن کا سوال ہے۔‘‘ اس کی منمناتی آواز سُنائی دی اور اس نے اپنے ہاتھ میری گردن میں ڈال دیئے۔ میں نے پوری قوت صرف کر کے اسے اپنی پیٹھ پر اُٹھا لیا اور پھر کندھے سے گزار کر زمین پر پٹخ دیا۔ جونہی وہ نیچے گرا، میں نے پائوں اُٹھا کر پوری قوت سے اس کے سینے پر مارا۔ اس کی پسلیاں ٹوٹ گئیں اور پھر پائوں اس کے سینے کے خول میں پھنس گیا۔ کالے خون کی پھواریں بلند ہونے لگیں اور میں نے دانت کچکچا کر اپنا پائوں کھینچ لیا اور پیچھے ہٹ گیا۔ وہ ڈکراتا ہوا اوندھا ہوگیا۔ پھر شدید تکلیف کے عالم میں اس کے منہ سے نکلا۔
’’جے اے… اے… شنکھا… جے شنکھا…‘‘ وہ ایک دَم کھڑا ہوگیا۔ اس کی آنکھیں خوفناک ہوگئیں اور چہرے کے نقوش بدلنے لگے۔ ہاتھوں کی اُنگلیوں کے ناخن اچانک لمبے ہونے لگے اور کوئی چھ چھ انچ لمبے ہوگئے۔ اسی طرح دانت بھی دہانے سے باہر نکل آئے۔ اسی وقت مجھے اپنے لباس میں چھپے ہوئے خنجر کا خیال آ گیا اور دُوسرے لمحے میں نے اسے نکال لیا۔ عین اسی وقت وہ مجھ پر جھپٹا۔ اس نے مجھے خنجر نکالتے نہیں دیکھا تھا۔ میں نے خنجر اس کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ اس کی آنکھیں ایک دَم چڑھ گئیں۔ چہرہ بے رونق ہوگیا۔ ہاتھ پائوں لٹک گئے اور پھر وہ نیچے گر پڑا۔ میں خنجر کھینچ کر پیچھے ہٹ گیا اور انتظار کرنے لگا کہ وہ دوبارہ اُٹھے لیکن اب وہ نہیں اُٹھ سکا تھا۔ میں دروازہ کھول کر باہر نکل آیا۔ دل میں طرح طرح کے خیالات آ رہے تھے۔ پھر وہ لڑکی یاد آئی جسے اس ملعون نے ایک پاکیزہ نام سے متعارف کرایا تھا اور اپنی بیٹی بتایا تھا مگر وہ پورنی تھی اور اب تو اس کی تصدیق بھی ہوگئی تھی۔ اس نے مجھے بلایا تھا، سوچا اس سے بھی مل لوں۔ بھوریا چرن کے بارے میں پوچھوں، ہوسکتا ہے اس کا ٹھکانہ معلوم ہو سکے۔ جس سمت کے بارے میں اس نے بتایا تھا، اس طرف چل پڑا اور میں نے اس کمرے میں روشنی دیکھی۔ میں نے خنجر اپنے لباس میں پوشیدہ کر لیا۔ کچھ دیر کے بعد میں اس دروازے پر تھا۔ پھر میں نے آہستہ سے اس پر دستک دی اور پہلی دستک پر ہی دروازہ کھل گیا۔ اسی نے کھولا تھا مگر کم بخت سولہ سنگھار کئے ہوئے تھی۔ اسے شاید بدلے ہوئے حالات کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔ مجھے بڑی چاہ سے اندر آنے کا راستہ دیا اور میں اندر آ گیا۔ تیز روشنی میں وہ شعلۂ جوالا بنی ہوئی تھی۔ اس کی آنکھوں میں بجلیاں تڑپ رہی تھیں۔
’’بالی سی عمر کو کیا روگ لگا بیٹھے۔ یہ سنیاس لینے کی عمر ہے شاہ جی۔‘‘ اس نے لبھانے والے انداز میں کہا۔
’’کیا تم اس حویلی کے آسیبوں سے نجات نہیں چاہتی ہو؟‘‘ میں نے پوچھا اور وہ ہنس پڑی۔
’’آسیب۔ وہ تو ہم خود ہیں۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’سب سے بڑا آسیب انسان کے اپنے من میں چھپا ہوتا ہے۔ اسے مار لو، سارے آسیب مر جائیں گے۔ چھوڑو شاہ جی۔ آئو اپنی بات کریں۔‘‘ وہ مسہری کی طرف بڑھ کر بولی۔ پھر وہ مسہری پر نیم دراز ہوگئی اور چمکدار آنکھوں سے مجھے دیکھنے لگی۔ میں اس کے قریب پہنچ کر جھک گیا۔
’’تو تم پورنی ہو… مجھے بھوریا چرن کے بارے میں بتائو۔ وہ بدبخت کہاں چھپا ہوا ہے۔‘‘ میں نے کہا اور وہ تڑپ گئی۔ اس کا رنگ پھیکا پڑ گیا۔ وہ بھڑک کر بولی۔
’’یہ کیا نام لے دیا تم نے۔ یہ سب تمہیں کیسے معلوم ہوا۔ ہٹو ہٹو یہاں سے۔ میرے مالک، میرے دیوتا کا نام لیا جائے اور میں… ہٹو… اس نے ہاتھوں سے مجھے دھکا دیا اور خود تڑپ کر اُٹھ گئی، غالباً وہ بھاگنا چاہتی تھی لیکن میں نے فوراً ہی اسے پکڑنے کی کوشش کی اور اس کے لمبے لمبے بال میرے ہاتھوں میں آ گئے اور میں نے انہیں مٹھی میں جکڑ لیا۔‘‘
’’ایسے نہیں جاسکے گی تو شیطان کی بچی، مجھے بتا۔ وہ کتا کہاں چھپا ہوا ہے جس نے میری پوری زندگی کو مسلسل روگ بنا دیا ہے۔ جواب دے وہ کہاں ہے۔ میں نے زور سے اسے دھکا دیا اور اس کے حلق سے ایک چیخ نکل گئی۔ مجھ پر بھی دیوانگی طاری ہوگئی تھی۔ ان الفاظ کے ساتھ مجھے بھوریا چرن پوری طرح یاد آ گیا تھا۔ میرے دل میں نفرت کی ایسی شدید لہر اُٹھی تھی کہ میں خاکستر ہوگیا تھا۔ اپنے آپ کو نہ جانے کب سے سلا رکھا تھا میں نے اور صدمے پر صدمہ برداشت کر رہا تھا۔ اس سے زیادہ دلدوز بات اور کیا ہو سکتی تھی کہ میری بہن مجھ سے چند گز کے فاصلے پر تھی اور میں اسے دیکھ بھی نہیں سکتا تھا۔ نہیں چاہیے مجھے ایسی زندگی۔ میں تو ایک دُنیا دار انسان تھا اور میری آرزو صرف اتنی سی تھی کہ میں اس دُنیا میں ایک بہتر زندگی گزار سکوں۔ یہ ملعون بھوریا چرن ہی تھا جس نے مجھے دربدر کر دیا تھا۔ میں نے ایک ہاتھ سے اس کے بال پکڑے ہوئے تھے، دُوسرے ہاتھ سے خنجر نکال لیا تھا، اسے بھی ہلاک کر دینا چاہتا تھا میں۔ ایک جھٹکے سے میں نے اس کا رُخ تبدیل کیا اور اسے اپنے سامنے لانا چاہا لیکن اس نے بدن کی پوری قوت سے اپنے آپ کو اُچھال کر میرے ہاتھوں سے اپنے بال چھڑانے کی کوشش کی اور میں نے دیوانگی کے عالم میں خنجر اس کے بالوں پر ہی پھیر دیا۔ گردن پر وار کرنے کی کوشش کی تھی لیکن بال زد میں آ گئے اور بالوں کا پورا گچھا میری مٹھی میں دبا رہ گیا۔ وہ دھڑام سے زمین پر گری تھی اور اس کےفوراً بعد اُٹھ کھڑی ہوئی تھی لیکن اب میں اسے پتھرایا پتھرایا سا محسوس کر رہا تھا۔ اس کے چہرے پر مردنی چھا گئی تھی اور وہ سہمی ہوئی نگاہوں سے اپنے بالوں کو دیکھ رہی تھی۔ پھر اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر ماتھے سے لگائے اور کہنے لگی۔‘‘
’’پرم پردھانی آزاد ہوگئی ہوں بھوریا چرن کے جال سے اور اب تمہارے چرنوں کی دُھول ہوں، تمہارے چرنوں کی دُھول ہوں میں۔ حکم دو، کیا پوچھنا چاہتے ہو؟‘‘
’’بھوریا چرن کہاں ہے؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’سوار سندھو کا میں سات استھان ہیں اس کے، انہی میں سے کسی میں ہوگا۔ تم ہی سے تو چھپا ہوا ہے۔ ایک بار پھر تمہیں بھشٹ کرنا چاہتا تھا۔ اگر تم بھیروں مچند کھا لیتے تو وہ سیدھا سیدھا مار دیتا تمہیں، اب وہ صرف تمہاری جان کا لاگو ہے۔‘‘
’’تو اسے تلاش کرنے میں میری مدد کر سکتی ہے؟‘‘
’’سات استھان دکھا دوں گی تمہیں مگر اتنا جانتی ہوں کہ وہ مجھے بھسم کر دے گا۔‘‘
’’چل اسے میرے ساتھ تلاش کر۔‘‘ میں نے کہا اور وہ تیار ہوگئی۔ میں نے سب کچھ نظرانداز کر دیا۔ سب کچھ بھول گیا، اب میں مجسم انتقام تھا۔ اچانک ہی میرا دماغ پلٹ گیا تھا۔ پورنی کے ساتھ میں بے حواسی کے عالم میں اس حویلی سے نکل آیا۔ ہم نے پہلا سفر دہلی کا کیا۔ دہلی کے ایک نواحی علاقے میں کالی کا ایک مندر تھا جو ایک ویرانے میں بنا ہوا تھا۔ یہ مندر بھوریا چرن کا استھان تھا لیکن جب ہم شام کے جھٹپٹوں میں اس میں داخل ہوئے تو مندر سے دُھواں اُٹھ رہا تھا۔ کالی کا ایک عظیم الشان بت ٹکڑے ٹکڑے پڑا ہوا تھا۔ چاروں طرف ٹوٹ پھوٹ مچی ہوئی تھی۔ پورنی نے کہا۔
’’اس نے استھان جلا دیا۔ اسے تمہارا پتہ چل گیا۔‘‘
’’دُوسرا ٹھکانہ کہاں ہے؟‘‘
’’متھرا چلنا ہوگا۔‘‘ پورنی نے
کہا۔ ہم دونوں ویران مندر میں کھڑے یہ باتیں کر رہے تھے کہ اچانک آہٹ ہوئی اور میں چونک پڑا۔ ایک پتھریلا مجسمہ تھا جو ایک اندرونی حصے سے نکل آیا تھا۔ مجسمے سے آواز بلند ہوئی جو بھوریا چرن کی تھی۔
’’اتنا آسان نہیں ہے میاں جی مجھے مارنا۔ لاکھوں کی بلی دینا ہوگی مجھے مارنے میں۔ لاکھوں مارے جائیں گے۔ کیا سمجھے۔‘‘
’’خدا اپنے بندوں کی حفاظت کرے گا بھوریا کتّے۔ سامنے آ کر بات کر تو شنکھا ہے۔ مہان شنکھا… سامنے کیوں نہیں آتا۔‘‘
’’آ جاتا پاپی۔ اگر میرا آخری کام ہو جاتا۔‘‘ مجسمے سے آواز اُبھری اور پھر وہ راکھ بن کر ڈھے گیا۔ اب یہاں کچھ بھی نہ تھا۔ پورنی نے سہمے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’اب وہ اپنے کسی استھان پر نہیں ملے گا مہاراج، اسے پتہ چل گیا ہے کہ میں تمہارے قبضے میں ہوں اور وہ اپنے سارے استھان تباہ کر دے گا۔‘‘
’’پھر بھی میں اسے تلاش کروں گا۔ اس کے ساتوں ٹھکانے تباہ ہو جائیں گے تو پھر کہاں پناہ لے گا وہ…؟‘‘
’’میں تو تمہاری داسی ہوں مہاراج، جو حکم دو گے اس پر عمل کروں گی۔‘‘
میں نے سارے خیالات ترک کر دیئے تھے، اب تو بس ایک ہی آرزو تھی بھوریا چرن کو فنا کر دوں اور خود بھی موت کے گھاٹ اُتر جائوں۔ جینا بے مقصد ہوگیا ہے میرا، شمسہ کے لئے دولت کی تلاش میں نکلا تھا۔ وہ بھی نہ کر سکا۔ کس کام کا یہ سب کچھ، جس میں کچھ بھی میرا نہیں ہے، جو کرنا چاہتا ہوں وہ میرے لئے ممکن نہیں۔ کیا فائدہ دُوسروں کو بے وقوف بناتے رہنے سے، سب کچھ فضول ہے۔ نجانے کیا کیا کرتا رہا ہوں، لیکن کوئی بھی صلہ نہیں ملا مجھے… اپنی بہن کو ایک اچھا مستقبل تک نہیں دے سکتا تو مجھے جینے کا کیا فائدہ۔ ہاں اگر بھوریا چرن میرے ہاتھوں موت کے گھاٹ اُتر جائے تو بس اسے ہی اپنے آخری لمحات میں سکون کا درجہ دے سکتا ہوں۔ باقی سب کچھ بے کار ہے، کچھ نہیں ملا مجھے…
وہاں سے چل پڑے۔ شہر دہلی پہنچے تو دہلی جہنم کا نمونہ بنا ہوا تھا۔ چاروں طرف آگ، شعلے، چیخ پکار… معلومات کیں تو پتہ چلا کہ زبردست ہندو مسلم فسادات ہو رہے ہیں۔ پاکستان بن چکا تھا اور ہندوستان کے ہندو مسلمانوں کو اپنے درمیان نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ آٹھ سو سال کی بھڑاس نکال رہے تھے۔ پورے آٹھ سو سال انہوں نے محکوم رہ کر گزارے تھے اور اب وہ اپنے برسوں کے ساتھیوں کو موت کی نیند سلا رہے تھے۔ چاروں طرف ہاہا کار مچی ہوئی تھی۔ بھوریا چرن کے الفاظ مجھے یاد تھے…
’’لاکھوں مارے جائیں گے، لاکھوں مارے جائیں گے اور پورا ہندوستان ہی آگ میں جل رہا تھا۔ مسلمانوں کے قافلے موت کے گھاٹ اُتارے جا رہے تھے۔ متھرا، بندرابن، بنارس، اور نہ جانے کہاں کہاں۔ ساتوں ٹھکانے دیکھ لئے میں نے اور انہیں دیکھتے ہوئے اور بھی نہ جانے کیا کیا دیکھا۔ ہر طرف خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی۔ ہر جگہ موت کا بازار گرم تھا۔ انسان موت سے چھپتے پھر رہے تھے۔ میری محبت بھی جاگ اُٹھی۔ ٹرین کے ایک سفر میں مسلمانوں پر حملہ ہوا تو میں بھی بے قابو ہوگیا۔ سولہ ناپاک ہندو ہلاک کئے میں نے۔ پورنی میری محکوم تھی۔ اس سے کئی کام لئے میں نے۔ مسلمانوں کے ایک قافلے پر ہندوئوں نے حملہ کیا تو میں نے پورنی سے کہا۔‘‘
’’تیرے پاس جادو کی قوت ہے۔ انہیں اندھا کر دے۔‘‘ پورنی نے بے چارگی سے راکھ اُٹھائی اور اس کو حملہ آوروں کی طرف اُڑا دیا۔ وہ اندھے ہوگئے اور اپنے ہتھیاروں کو ایک دُوسرے پر استعمال کرکے خود فنا ہوگئے۔ مسلمانوں کے اس قافلے کو میں نے بحفاظت یہاں سے روانہ کر دیا… لاکھوں مسلمان مریں گے تو اب لاکھوں ہندو بھی مریں گے بھوریا چرن۔ یہ بھی تجھ سے انتقام ہے۔ میں اس کام میں مصروف ہوگیا۔ یہ بھی دل کو سکون بخش رہا تھا۔ اب کسی جگہ کی تخصیص نہیں تھی، جدھر منہ اُٹھتا نکل جاتا۔ ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی مدد کرتا۔ ان پر ظلم کرنے والوں کو چن چن کر ہلاک کرتا۔ اپنی محکوم پورنی سے مدد لیتا۔ انہیں اس کے ذریعہ دولت، اناج اور لباس فراہم کرتا۔ میرے اس خنجر نے بے حساب ہندوئوں کو قتل کیا۔ مظلوم مسلمان مجھے درویش کا سا درجہ دیتے مگر میں خود پر ہنستا تھا۔ میں کیا تھا۔ یہ میں خود ہی جانتا تھا۔
پھر ایک دن شمسہ کا خیال آ گیا اور میں نے رُخ بدل لیا۔ سیکڑوں واقعات سے گزرتا ہوا خانقاہ تک پہنچا۔ لیکن خانقاہ کو دیکھ کر دِل دَھک سے رہ گیا۔ حلق فرط غم سے بند ہوگیا۔ آنکھوں سے آنسو اُبل پڑے۔ خانقاہ مسمار کر دی گئی تھی۔ چاروں طرف جسم بکھرے ہوئے تھے۔ لاشوں کے سڑنے کی بو پھیلی ہوئی تھی۔ آگ کے نشانات نظر آ رہے تھے۔ میں دیوانوں کی طرح چیخ پڑا۔ ’’شمسہ… شمسہ میری بہن… شمسہ… میری بہن… شمسہ میں آگیا ہوں۔ شمسہ میں مسعود ہوں تیرا بھائی۔ تیرا بدنصیب بھائی۔ شمسہ… شمسہ… شمسہ… فیضان، شمسہ…‘‘
خانقاہ کی بلندیاں کس طرح طے کیں۔ مجھے نہیں معلوم، بس میرے حلق سے دلدوز آوازیں نکل رہی تھیں۔ ’’شمسہ! میری بہن… میں آگیا ہوں۔ میں تیرا بھائی مسعود ہوں۔ میری بہن کہاں ہے شمسہ! میں آہ… میں دیوانہ تھا، پاگل ہوگیا تھا میں، شمسہ میں تیرے پاس رہ کر تجھ سے دور رہا۔ اپنے خوف کے ہاتھوں مجبور ہوکر میں تجھ سے دور رہا۔ شمسہ تجھ سے باتیں بھی نہیں کیں میں نے۔ آہ شمسہ… شمسہ۔‘‘ میں زاروقطار روتا ہوا خانقاہ میں پڑی لاشوں میں اپنی بہن کی لاش تلاش کرنے لگا۔ یہ لاشیں یہاں کے لوگوں کی تھیں۔ سب کے سب جانے پہچانے۔
دفعتاً چھٹی حس نے کسی ذی روح کی موجودگی کا احساس دلایا۔ دیوانوں کی طرح چونک کر پلٹا۔ سامنے کھڑی شمسہ کو دیکھا۔ پانی کا گلاس اس کے ہاتھ میں تھا۔ وہ پتھرائی ہوئی کھڑی تھی۔
میں بے قابو ہوکر اس کی طرف جھپٹا۔ پاگلوں کی طرح اس سے لپٹ گیا۔ میرے حلق سے کربناک آوازیں نکل رہی تھیں۔ یہ آوازیں خودبخود الفاظ میں ڈھل کر شمسہ کو میری المناک داستان سنا رہی تھیں۔ میری قوت ارادی کا اس میں کوئی دخل نہیں تھا۔ شمسہ نے مجھے پہچان لیا، سب کچھ جان لیا۔ ایسی بلک بلک کر روئی وہ کہ کلیجہ پانی ہوگیا۔
’’مجھ سے دور کیوں رہا بھیا۔ ہائے مجھ بدنصیب کی قسمت میں یہ روشنی کہاں سے آگئی۔ میں نے تو تاریکیوں ہی کو زندگی سمجھ لیا تھا۔‘‘
طوفان گڑگڑاتا رہا۔ برسوں کی جدائی تھی، دل اتنی آسانی سے کیسے بھرتا۔ بالآخر سکون ہوا۔
’’شمسہ فیضان؟‘‘ میں نے سہمے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
’’فیضان، شامی، اکرام بھیا، بچے تہہ خانے میں موجود ہیں۔ ہندو بیس بار آچکے ہیں۔ خوب تباہی مچائی انہوں نے، سب کو مار دیا۔ ہم تہہ خانوں میں جا چھپے، اس لئے بچ گئے۔ کچھ لوگ بھاگ گئے۔ ہم کئی دن کے بھوکے پیاسے ہیں۔ باہر خطرہ تھا۔ کوئی باہر نہیں آتا۔ بچے پیاس سے تڑپ رہے تھے۔ مجھ سے ان کا بلکنا نہیں دیکھا گیا۔ پانی کی تلاش میں نکل آئی تھی، تمہاری آواز سنی۔‘‘
’’فیضان، شامی، اکرام زندہ ہیں؟‘‘ میں نے مسرور لہجے میں پوچھا۔
’’ہاں!‘‘
’’پانی کہاں ہے؟‘‘
’’وہاں ایک مٹکے میں موجود ہے۔ اسی سے یہ گلاس بھرا ہے۔‘‘
’’آئو مجھے بتائو مٹکا کہاں ہے۔‘‘ میں نے کہا۔ پھر شمسہ کی نشاندہی پر مٹکے کے پاس آیا اور اسے اٹھا کر تہہ خانے میں لے گیا۔ سب کی حالت ابتر تھی۔ پہلے بچوں کو، پھر انہیں پانی پلایا اور ان میں زندگی جھلکنے لگی۔ فیضان یہ سن کر ششدر رہ گیا تھا کہ میں شمسہ کا سگا بھائی ہوں۔ اکرام نے وعدے کا پاس کرتے ہوئے انہیں کچھ نہیں بتایا تھا۔ مختصر الفاظ میں انہوں نے خانقاہ کی تباہی کی داستان سنائی۔ پھر فیضان نے کہا۔
’’اب کیا کریں مسعود بھائی؟‘‘
’’میں کچھ کھانے پینے کا بندوبست کرتا ہوں، اس کے بعد سوچیں گے۔‘‘
’’کہاں جائو گے بھیا؟‘‘ شمسہ نے بے قراری سے پوچھا۔
’’بس، ابھی تھوڑی دیر میں آیا۔‘‘
’’نہیں بھیا! کہیں پھر نہ کھو جائو۔ ابھی تو دل کو یقین بھی نہیں آیا ہے۔‘‘
’’نہیں شمسہ۔ بس ابھی آتا ہوں۔‘‘
’’ہم بھی ساتھ چلیں گے۔‘‘ فیضان بولا۔
’’ہرگز نہیں اکرام! انہیں سنبھالو، مجھے کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘‘ بڑی مشکل سے انہوں نے مجھے باہر آنے کی اجازت دی تھی۔ دیوار کی اوٹ میں ہوکر میں نے پورنی کو آواز دی۔ وہ جاتی ہی کہاں تھی، حاضر ہوگئی۔ ’’پھل درکار ہیں۔ درختوں سے ٹوٹے ہوئے ہوں، جادو کے نہ ہوں۔‘‘
’’لو آگیا سوامی۔‘‘ اس نے گردن جھکا دی اور پھر چشمِ زدن میں پھلوں کا ٹوکرا میرے سامنے لا رکھا۔ اپنے لئے ساری زندگی کالے جادو کا احسان نہیں لیا تھا مگر اب مجبوریاں آڑے آگئی تھیں۔ پھل لے کر تہہ خانے پہنچا تو سب جیسے جی اٹھے۔ طرح طرح کے سوالات کئے گئے مگر خاموشی ہی جواب تھی۔ پوچھنے والے تھک گئے، پھر آگے کے منصوبے زیرغور آئے۔ شمسہ نے حسرت سے کہا۔
’’بھیا! امی، ابو، محمود، ماموں ریاض کا کوئی پتا نہیں چل سکا۔ کہاں ہیں یہ لوگ، صدیاں بیت گئیں انہیں دیکھے ہوئے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’نہیں شمسہ، وہ سہارن پور میں بھی نہیں ہیں۔ میں نے انہیں تلاش کیا ہے۔ نہیں مل سکے البتہ محمود کے بارے میں، میں یہ جانتا ہوں کہ زندہ سلامت ہے۔ اسے میں نے خود ملک سے باہر بھیج دیا تھا۔ اس وقت اس کیلئے یہی ضروری تھا کیونکہ مقامی پولیس اس کی تلاش میں تھی۔ میں نے تو اپنے آپ کو چھپا لیا مگر محمود کو ملک سے باہر نہ بھیجتا تو وہ خطرے میں پڑ جاتا۔‘‘
’’کہاں ہے، یہ نہیں معلوم؟‘‘
’’نہیں شمسہ، کچھ نہیں پتا۔‘‘ فیضان نے کہا۔
’’اس کے سوا ہمارے پاس اور کوئی چارئہ کار نہیں ہے مسعود بھائی کہ ہم بھی پاکستان نکل چلیں۔ سارے ہندوستان میں فسادات کی آگ پھیلی ہوئی ہے، ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ یہاں ہمارے لئے زندگی کا کوئی امکان نہیں ہے۔‘‘ اکرام اور شامی بھی اس بات کے حق میں تھے۔ چنانچہ تیاریاں کی گئیں۔ بھلا تیاریاں کیا تھیں بس جو کچھ ہاتھ لگا، ساتھ لے لیا اور پھر ایک دن آدھی رات کے وقت ہم خانقاہ کی بلندیوں سے نیچے اتر آئے۔ ایک طویل سفر کا آغاز کیا تھا۔ دل کی کیفیت ناقابل بیان تھی۔ نجانے کیا کیا تصورات ذہن میں تھے۔ رات بھر سفر کرکے جب دن کی روشنی ہوئی تو ایک ایسی جگہ ویرانے میں پناہ لی جہاں انسانی نگاہوں سے محفوظ رہ سکیں۔ پھر یہی ہوا۔ راتوں کو سفر کرتے اور دن میں کسی پوشیدہ جگہ کو اپنا لیتے۔ پھر ایک بستی نظر آئی اور یہاں سے ہم نے ایک گاڑی حاصل کی۔ فیضان اچھی ڈرائیونگ کرلیتا تھا۔ خالی گاڑی کس کی تھی، کچھ نہیں معلوم تھا۔ بس اس میں بیٹھ کر کسی ایسی پناہ گاہ کی تلاش میں چل پڑے جہاں سے پاکستان جانے کے راستے دریافت ہوسکیں لیکن گاڑی کا یہ سفر بھی ہم نے رات ہی میں کیا تھا۔ صبح کو البتہ جس سڑک پر ہم جارہے تھے، وہاں ہمیں ایک زبردست خطرہ پیش آگیا۔ کوئی پچاس ساٹھ افراد تھے لاٹھیوں، بھالوں اور تلواروں سے مسلح۔ گاڑی کا راستہ روکے کھڑے ہوئے تھے اور ان میں سب سے آگے بھوریا چرن تھا۔
(آئندہ ہفتے اس دل ہلا دینے والے قصّے کی آخری قسط ملاحظہ فرمایئے)